Wednesday, March 31, 2010

واہ شعیب ملک ، آہ ثانیہ مرزا

تین دن سے دیکھ رہی ہوں کہ پاکستانی نوجوان لڑکے ایکدم ہائپر ہوگئے ہیں۔ بلکہ صحیح معنوں میں کملے، دیوانے اور بملے نظر آرہے ہیں۔  روزانہ شام کو گھر کے اندر آتی ہوئ گیندوں کو انٹر کام کے ذریعے واپس کرتے ہوئے آج میں نے سوچا ذرا کچھ سن گن لینے کی کوشش تو کروں۔
کیا ہوا بھئ۔ یہ کس دنیا میں گم ہیں آپ لوگ۔ پتہ چلا کہ ثانیہ مرزا کی منگنی پاکستانی کرکٹر شعیب ملک سے ہو گئ ہے۔ سنا تھا کہ محبت اندھی ہوتی ہے لیکن یہ پوری قوم با جماعت اس مرض میں کیسے مبتلا ہو گئ۔ اب ہم تو سمجھتے تھے کہ محبت کے لئے کچھ خاص دل مخصوص ہوتے ہیں۔ مگر یہ نہیں معلوم تھا کہ محبت کی وباء کچھ ایسے پھیلے گی کہ شادی وہ کرنے ادھرجا رہے ہون گے اور دل لاکھوں کے ادھر دھڑک رہے ہہونگے۔
ہندءووں کے یہاں ایک ذات پانڈءووں کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پانڈو پانچ بھائ تھے۔ راجہ کی بیٹی کے لئے سوئمبر رچایا جا رہا تھآ۔ یہ پانچوں بھائ بھی وہاں پہنچ گئے۔ ان میں سے ایک  کا نام ارجن تھا، جو بہترین نشانے باز تھا۔ مقابلے میں ایک گھومتی ہوئ مچھلی کا عکس دیکھ کر اسکی آنکھ پہ نشانہ لگانا تھا۔ ارجن وہ مقابلہ جیتا۔ دلہن کو لیکر جب گھر لوٹے تو گھر کی دہلیز پہ قدم رکھتے ہی ایک بھائ نے خوشی سے نعرہ لگایا 'دیکھو ماں، ہم کیا جیت کر لائے' اسے ذرا وحید مراد کے انداز میں پڑھئے گا۔ ماں نے 'چیز' دیکھے بغیر وہیں سے جواب دیا۔ جو بھی لائے ہو، آپس میں مل بانٹ کر استعمال کرنا۔ پانڈءووں کی اپنی ماں سے فرمانبرداری ضرب المثل تھی۔ چنانچہ اس دن سے وہ خاتون پانچوں بھائیوں کی بیوی بن کر رہنے لگی۔
 اب اپنے نوجوان 'بھائیوں' کی خوشی کی وجہ سے انجان اپنی نوجوان  کنواری بہنوں کی طرف دیکھتی ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہم میں کیا کمی ہے جو اس موئ ثانیہ مرزا پہ جا کر نظر ٹہری۔ ہمارے لئے تو یہ راگ الاپتے الاپتے گلا نہیں دکھتا کہ دوپٹہ سر سے پہنو، گھر کی چار دیواری میں رہو، خبردار جو کسی نامحرم سے بات کی۔ اب اس  حیدرآبادی چلتر باز لڑکی کو جو ابھی کچھ دن پہلے ہی اپنی ایک منگنی توڑ چکی ہے۔ کیسے بھنگڑے ڈال کر لا رہے ہیں۔ ٹینس کی اسٹار ہے۔ اسے کیوں نہیں کہتے کہ اییسے کپڑے پہنتی ہے، دوپٹہ تو ندارد کپڑے ہی پورے پہن لے تو بات ہے۔ آخر ہمارے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ہمیں گھروں میں بند کر کے صرف ٹی وی چینل اور شاپنگ کے کھیل میں الجھا کر رکھا ہوا ہے، ہمیں بھی ٹینس کھیلنا پسند ہے۔ ہمیں بھی شعیب ملک پسند ہے۔  اور جب شادی کی باری آتی ہے تو غیروں میں جا کر فخر سے ان لڑکیوں کو لے آتے ہیں۔ کبھی اس بہانے سے کبھی اس بہانے سے۔ انڈیا سے نفرت ہے مگر انڈین لڑکیوں سے محبت۔ منافق، دھوکے باز۔
سمجھتے ہیں ثانیہ یہاں آکر سیالکوٹ میں بیٹھ کر کھانے پکائے گی اور بھینس کو چارہ ڈالے گی۔ یہاں میں لقمہ دیتی ہون، نہیں وہ یہ بھی کہے گی' ہاہائے شعیب، یہ تمہارا پاکستان کیسا ہے'۔ اسے زرا ٹھیٹھ پنجابی انداز میں لہرا کر پڑھئیے گا
تو اے میرے پیارے نوجوانوں یہ بات میں نہیں کہہ رہی۔ یہ تو ایک دل جلی کی بات ہے۔ مجھے تو اچھی طرح معلوم ہے دل آنے کی بات ہے جب جو لگ جائے پیارا۔یہ الگ بات کے دل آنے کی رفتار دل دھڑکنے کی رفتار سے مل جائے تو حادثہ ایکدم بھی ہوجاتا ہے۔ یہ تو سہراب مرزا سے پوچھیں۔ لعنت بھیجیں اس سہراب پہ، خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کچھ کہیں سے جیت کر تولا رہا ہے۔ اگر ثانیہ نہ کر دیتی تو ہم کس کو منہ دکھاتے۔ اور قوم میں مزید کرکٹ کھیلنے کی چنگاری کیسے بھڑکتی۔   شعیب کے اس فیصلے سے انکی دور اندیشی جھلکتی ہے۔ مجھے یقین ہے اس سے ملک میں کرکٹ کے کھیل کو مزید فروغ ملے گا۔
چونکہ پنجاب میں قاف کو کاف کے برابر ہی سمجھا اور بولا جاتا ہے تو ہمیں یہ اندیشہ نہیں رہیگا کہ شعیب حیدر آبادیوں کی طرح قاف کو خ بولنے لگیں گے ۔ امید ہے کہ قورمہ، کورمہ ہی رہیگا خورمہ نہیں بنے گا۔ اگرچہ کہ ہمیشہ ایسائچ نہیں ہوتا لیکن امید پہ دنیا قائم ہے۔ البتہ حیدرآبادی کھٹے کھانے شوق سے کھاتے ہیں تو کیا خبر سیالکوٹ میں اب املی کے باغات لگ جائیں۔ اور سیالکوٹی لڑکیاں یہ گانا گائیں کہ


کھٹے لیموں کھٹے،  کبھی تو میٹھے ہونگے

چھوٹے سیاں چھوٹے،  کبھی تو بڑے ہونگے



پیارے شعیب دیکھو کہیں بیوی کے غلام نہ بن جانا کو ہم سبکی زمانے بھر میں تھو تھو ہو جائے۔ اے کاش کسی کو صحیح وقت پہ ہوش آجائے اور وہ بر وقت شعیب کو بیوی کو پہلے دن سے قابو میں رکھنے کے گر بتا دے۔ ہمارا لڑکا تو ایسا سیدھا ہے کہ کوئ بھی انڈین حیدر آبادی لڑکی اسے الو بنا لیتی ہے۔ 
پیاری بہنوں ایک کے بعد ایک اس قسم کے واقعات سے گذرنے کے بعد اب آپکو اندازہ ہو جانا چاہئیے کہ یہ کبوتر کس چھجے پہ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ سو تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر لو ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو۔
 

Monday, March 29, 2010

بچوں کے لئے ایک تحفہ


پچھلا سارا ہفتہ میں نے ایک چھوٹی سی فلم کی تیاری میں گذارا۔

اسکے لئیے میں نے پہلے فوٹو شاپ کے بنیادی اسباق سیکھے۔ غلطیاں کیں۔ پھر ان غلطیوں کو بار بار صحیح کیا۔

لیکن بالآخر اب وہ چیز مل گئ۔ جو مجھے یقین ہے کہ آپکے بچوں کواردو حروف تہجی کم وقت میں آسانی سے سیکھنے میں مدد دے گی۔ روزانہ نہیں تو ایکدن چھوڑ کر یہ ویڈیو انہیں دکھائیں۔ وقت ملے تو انکے ساتھ دہرائیں۔ اور آپ دیکھیں گے کچھ دنوں میں انہیں بآسانی الف سے لیکر ی تک تمام حروف یاد ہو جائیں گے۔۔ اور ہاں اس پہ اپنی رائے دینا نہ بھولئیے گا۔

Thursday, March 25, 2010

ٹیکنا لوجی اور اجنتا کے غار

آخر کیسے پتہ چلتا ہے کہ آج اتوار ہے اور چھٹی ہے۔ اسکول بسوں کی آوازیں نہیں ہوتیں۔ صبح سے ڈور بیل بار بار نہیں بجتی۔کوئ خواب درمیان سے نہیں ٹوٹتا۔ لیکن ایک اہم علامت بچپن سے  اس دن کے اخبار سے پتہ چلتی تھی۔ جس میں میگزین ہوتا تھا۔  جو صبح پہلے جاگتا تھا اخبار سب سے پہلے اسکے حصے میں آجاتا تھا۔ شاید میری سحر خیزی کی عادت میں یہ چیز بھی شامل ہو۔  میں سب سے پہلے اخبار پڑھ کرختم کرنا چاہتی تھی۔ اب تو اخبار والا اتنی دیر سے اخبار دیکر جاتا ہے کہ میں انٹر نیٹ پہ ایک تفصیلی چکر لگا لیتی ہوں۔
اس اتوار کو ہم سب نے اس تجویز پہ غور کیا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ اخبارات کو بند کر دیا جائے۔ ہمارے ہر روز آنیوالے اخبارات کی تعداد اب سے کچھ عرصے پہلے تک  تین اخباراورچھٹی والے دن کو خاص رعایت دیتے ہوئے دو انگریزی کے اور دو اردو کے اخبار تھے۔ پھر یوں ہوا کہ اتنے چینل آتے ہیں پل پل کی خبر تو ان سے ہی مل جاتی ہے۔تو روز کا ایک اخبار مقرر ہوا اور چھٹی والے دن تین۔ 
لیکن اب کچھ لوگ سوچتے ہیں کہ اخبار کی چھٹی کر دینی چاہئیے کیونکہ جب ہر کسی کہ پاس اسکا اپنا کمپیوٹر ہے اور وہ الیکٹرونک اخبار پڑھ سکتا ہے تو اسکی کیا ضرورت ہے۔ میں اس تجویز کے حامیوں میں سے نہیں ہوں۔ اس طرح سے اس معاملے میں انتہائ قدامت پسند ہوں۔
میرا موقف یہ ہے کہ اخبار اپنی جسمانی حیثیت میں جب موجود ہوتا ہے تو ایک اخلاقی دباءو رہتا ہے کہ ایک نظر ہی سہی پڑھ لینا چاہئیے۔ دوسرا یہ کہ دن میں کسی بھی وقت کسی بھی جگہ پڑھ سکتے ہیں حتی کہ کسی قطار میں انتظار کرتے ہوئے یا چلتی گاڑی میں بھی پڑھ سکتے ہیں اور تھک جائیں تو تکئے کے نیچے دبا کر وہیں کچھ دیر کے لئے آنکھین موند لیں۔ گرمی ہو تو ہلا کر پنکھا بنا لیں، برسات میں مکھیاں اڑا لیں، کسی بات پہ سب سے چھپ کر مسکرانا ہو تو اخبار منہ کے آگے کر لیں، اور کچھ نہیں تو کباڑئے سے ہر مہینے الجھنے کا آسان بہانہ،  ماچس ختم ہو گئ تو ایک چولہے سے دوسرے تک آگ لیجانے کا آسان طریقہ، کسی کو پیار سے چپت لگا نے کا دل ہو لیکن محرمیت آڑے آتی ہو تو اخبار سے جھاڑ دیں، کیا یہ رومانیت الیکٹرنک اخبار کیساتھ میسر ہے؟
 کچھ انہی وجوہات کی بناء پہ مجھے ڈیجیٹل کیمرے انتہائ ناپسند ہیں۔ پہلے کیمروں میں رول ہوا کرتے تھے۔ ایک اخلاقی دباءو رہتا تھا کہ انکو ڈیویلپ کروا لیا جائے ورنہ خراب ہو جائیں گے۔ پھر انکو البم میں سجایا جاتا اور پھر سب لوگوں کو یہ دکھائے جاتے اور ان پہ سیر حاصل گفگتو ہوتی۔ ہائے کیا زمانہ تھا۔ کسی کی تصویر پسند آئ تو اڑالی اور پھر مدتوں پہلو میں دبا کر دیکھتے رہنا اور ان سے باتیں کرنا ۔اسی لئے تو یہ گانا بنا کہ جو بات تجھ میں ہے تیری تصویر میں نہیں۔ تصویر میں نہیں۔
اب ڈیجیٹل کیمرے کی وجہ سے تصویریں کمپیوٹر میں ہی پڑی رہ جاتی ہیں۔ اس وقت میرے پاس پانچ سو کے قریب تصاویر ہیں جنکے بارے میں ہر تھوڑے دن بعد سوچتی ہوں کہ ان کو بیٹھ کر چھانوں اور کسی چیز میں محفوظ کر کے تصاویر نکلوا لوں۔ تاکہ کسی البم میں سج جائیں لیکن وہی بات آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔
ان تصویروں کی تعداد بڑھے چلی جارہی ہے۔ اور یقیناً کچھ عرصے بعد انکو بنوانا جیب پہ خاصہ بھاری پڑیگا۔ لیکن ایک عجیب نا مکمل سا اطمینان رہتا ہے کہ کمپیوٹر میں تو ہیں۔ جب چاہیں گے جا کر بنوا لیں گے۔
سوچتی ہوں خدانخواستہ اگر کسی وجہ سے یہ دنیا اس وقت  کسی بھی وجہ سے ایکدم ختم ہو جائے تو بچ رہنے والے اس حساب سے کتنے غریب ہونگے انکے پاس کچھ بھی نہ ہوگا جس سے وہ اپنا ماضی دوبارہ نکال سکیں۔ جیسے اجنتا کے غار اور الف لیلی کی کہانیاں۔


اجنتا کے غاروں میں زمانہ قبل از مسیح کی بنی ہوئ یہ تصویر، اب تک موجود ہے)۔)

پاکستان ، امریکہ اور استواری ء تعلقات

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات ہمیشہ ایک معمے کی صورت رہے ہیں۔ اور عالم یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں۔ لیکن کبھی بھی حالات اس طرح کے نہیں ہو پاتے کہ تمہیں اپنوں سے کب فرصت، ہم اپنے غم سے کب خالی۔ چلو بس ہو چکا ملنا نہ تم خالی نہ ہم خالی۔ 
البتہ عوام کا ایک طبقہ جو یہ سمجھتا ہے کہ ہمارے تمام مسائل کی جڑ امریکہ کا ہمارے اندر مصروف رہنا ہے وہ کہتے ہیں کہ
خیر اس موقع پہ میں عوام کا تذکرہ کر کے آپکے منہ کا ذائقہ خراب نہیں کرنا چاہتی۔ آخر وہ خوامخواہ ہوتے ہی  کیوں ہیں۔
چلیں پھر خواص کی باتیں کریں۔ ماضی ء قریب میں موجودہ صدر صاحب کے سارا پالن سے ہاتھ ملالینے اور معانقے کرنے کی خواہش  کا اظہار کرنے
پہ ان لوگوں نے وہ ہلہ بولا کہ کچھ تاریخی شاہکار وجود میں آگئے۔

یہ دیکھئے یہ ہے انکے دشمنوں کے تخیل کی پرواز۔ گھٹیا حرکت۔ ایسے ہی کسی موقع پہ شاید چڑ کر غالب نے کہا کہ خواہش کو احمقون نے پرستش دیا قرار۔ کیا پوجتا ہوں اس بت بیداد گر کو میں۔ میری ہمدردیاں اپنے محبوب صدر کے ساتھ رہیں۔

آج ہم سبکی محبوب امریکن وزیر ہلیری کلینٹن نے اعلی سطح کی امریکن اور پاکستانی اسٹریٹجک میٹنگ کے بعد اسے نئے تعلقات کی استواری کا نیا دن قرار دیاہے۔ نئے تعلقات کی استواری کے اس نئے دن پہ  آپ سب کے تخیل کی بلند پرواز کے لئیے یہ تصویر حاضر ہے۔


نہیں معلوم شاہ محمود قریشی  نے کیا سوچا۔ ہم اگر شاعر ہوتے تو کہتے کہ
اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر
بے پئیے بھی تیرا چہرہ تھا گلستاں جاناں

Tuesday, March 23, 2010

اقتدار کی جنگ

میں اور میری بیٹی جب بھی غسلخانے کا رخ کرتے ہیں تو میری صاحبزادی بہت اچھلتی کودتی اندر جاتی ہیں۔ نہانے اور پھر اس بہانے پانی بہانے کی خوشی انکے روئیں روئیں سے ٹپکتی ہیں۔ لیکن ہم دونوں کو اندر گئے کچھ ہی لمحے گذرتے ہیں کہ ایک افراتفری اور ہڑبونگ کی آوازیں بلند ہوتی ہیں۔ باہر والوں کو یوں لگتا ہے کہ اندر ایک شیر اور ہاتھی کو بند کر دیا گیا ہے۔
ایک دن میری رشتے دار خاتون نے اسکی وجہ پوچھنے کی ہمت کر ڈالی۔ انہوں نے سوچا کہ ویسے تو یہ مارتی پیٹتی  دکھائ نہیں دیتیں لیکن غسلخانے میں ضرور  جا کر دن بھر کے چماٹ رسید کرتی ہونگی۔ آخر مہمانوں کے سامنے بھرم بھی تو رکھنا ہوتا ہے۔ 
تو انہوں نے اپنے لہجے میں ایک تجاہل عارفانہ پیدا کرتے ہوئے کہا۔ یہ تم دونوں آخر اندر کیا کرتی ہو کہ پورا گھر ہل جاتا ہے۔ میں نے انہیں انتہائ تحمل سے جواب دیا۔ کچھ ایسا خاص نہیں کرتے۔ اقتدار کی جنگ میں اتنا شور شرابہ تو ہوتا ہی ہے۔ ایکدم سنجیدہ ہوئیں اور کہنے لگیں کیا مطلب غسل خانے کے اندر کونسی اقتدار کی جنگ ہو سکتی ہے۔ میں نے  ان سے کہا کہ اگر عقابی روح سینوں میں بیدار ہو تو غسل خانے کے اندر کیا مردہ خانے کے اندر بھی شور شرابہ ہو سکتا ہے۔
کہنے لگیں، چلو اچھا اب باتیں نہ بناءو۔ میں تو بالکل دہل کر رہ جاتی ہوں۔ تم دونوں اندر اتنا چنگھاڑتی ہو۔ آخر غسل خانے میں کس چیز پہ جھگڑا ہوتا ہے۔ میں انکی طرف مڑی اور کہا آپکو یقین نہیں آرہا یہ اقتدار کی جنگ ہوتی ہے۔ جب ہم نہانے کے لئے اندر داخل ہوتے ہیں تو آپکو پتہ ہے سب سے اہم چیز پانی ہوتا ہے۔ وہ اللہ کا شکر ہے کہ ابھی تک وافر مقدار میں دستیاب ہے۔ دوسری اہم چیز اسکا منبع ہے۔ چونکہ لیڈ پوزیشن میری ہے تو ہینڈ شاور میرے ہاتھ میں ہوتا ہے  یہ صورتحال میری صاحبزادی کے حق میں نہیں جاتی کیونکہ اس طرح وہ اسے حسب منشاء استعمال نہیں کر پاتیں۔ وہ اسکے لئے جنگ کرتی ہیں اور میں اسے ہر قیمت پہ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہوں اس طرح میری رٹ قائم ہوتی ہے۔   اگر ایسا نہ ہو تو پورا ٹینک پانی خرچ ہونے کے بعد ہمارے غسل خانے کی ہر چیز غسل کر لے گی سوائے انکے کیونکہ اس عمل کے دوران انہیں خود نہانے کی فرصت نہیں ملے گی۔ تو یہ اقتدار کی جنگ اس پورے عمل کے دوران چلتی ہے اور پچھلے دو سال چار مہینے سے ایسے ہی چل رہی ہے۔ پہلے میں خود  بھی ساری بھیگ جاتی تھی اب میں نے اپنے بچاءو کے طریقے ڈھونڈھ لئے ہیں۔
ارے تم لوگوں سے تو اب ایک بچہ قابو میں نہیں آتا۔ ہم سے پوچھودس دس بچے پیدا کئے اور اکیلے پالے پوسے-------------------------۔  سوچتی ہوں کہ اگر ماضی کی روایات کو جاری رکھتے ہوئے دو ہینڈ شاور ایکدن اپنی بیٹی کی پیٹھ پہ رسید کر دوں تو معاملہ اسی دن نبٹ ہو جائے گا۔ لیکن یہ تو بادشاہت کے زمانے کا طریقہ ہے۔ کیا جمہوری دور میں ایسا ممکن ہے۔ 
میں وہاں سے فوراً اٹھتی ہوں، اس سے پہلے کہ میری بیٹی پانی میں شرابور، میرے بستر پہ چڑھ کر اچھل کود مچائیں اور مجھے انکو کپڑے پہانے کے لئیے  بیڈ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک منتیں سماجتیں کرنی پڑیں صورتحال میرے قابو میں رہنی چاہئیے۔ آپکو معلوم ہے اقتدار کی اس جنگ میں وقت کی بھی بڑی اہمیت ہے۔