Sunday, January 9, 2011

ایک کتاب اور کچھ اقتباسات

ایک سو اڑتیس سالہ پرانی کتاب کا ایک اردو ترجمہ ہاتھ لگا۔  ایک سو اٹھاَئیس صفحات پہ مبنی  بالشت بھر کی اس کتاب کا انگریزی نام ہے۔
Pilgrimage to the Caaba  and Charing Cross

اسکا نام اردو میں روداد سفر حج اور زیارت لندن رکھا گیا ہے۔ یہ کتاب انگریزی سے اردو میں ترجمہ ہوئ۔ کتاب کے مصنف حافظ احمد احسن صاحب ہیں اور اسکا اردو ترجمہ جناب مصطفی علی مارہروی نے کیا۔ کتاب کی اشاعت لندن کی ڈبلیو ایچ ایلن اینڈ کمپنی نے کی۔اردو ترجمہ، ورثہ والوں نے شائع کیا ہے۔
 مصنف ٹونک ریاست کے نواب کے معتمد و معاون تھے۔ قتل کے ایک مقد مے میں پھنسا کر نواب صاحب کو ریاست کی حکمرانی سے محروم کیا گیا۔ جلا وطن ہوئے۔ بعد ازاں انگریز حکومت سے اجازت حاصل کر کے حج کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ نواب صاحب تو وطن لوٹ آئے لیکن مصنف حج کے بعد لندن  کے لئے روانہ ہوئے۔ تاکہ اپنے نواب صاحب پہ ہونےوالے ظلم کے خلاف توجہ انگریز حکومت کوتوجہ دلا سکیں۔ کتاب کاشروع کا حصہ اس سازش کے متعلق ہے جس کے ذریعے نواب صاحب کو ریاست سے محروم کیا گیا۔ مقدموں میں پھنسانا اور قانون سے اپنی مرضی کے فوائد حاصل کرنا، طاقت کے کھیل میں ایسی سازشیں ہمیشہ بروئے کاررہی ہیں۔
اٹھارہ سو ستّتر میں یہ سفراختیار کیا گیا۔ کتاب میں سے کچھ دلچسپ اقتباسات حاضر ہیں۔

سمندر کے عجائبات کا حال کانوں میں پڑا ہوا تھا۔ میرے دل و دماغ ان سے اتنے متائثر ہو چکے تھے کہ باوجود اپنی تکلیف کے جنکا نقشہ کھینچنے کی کوشش بے کار ہے۔ میں مسلسل اپنے چاروں طرف دیکھتا رہا کہ شاید سمندر کے دیوزاد اور عجیب و غریب شکل و صورت کی چیزیں نظر آجائیں۔ مجھے یقین دلایا گیا تھا کہ سمندر ایسی چیزوں سے آباد ہیں۔ مگر مجھے پردار مچھلیوں کے علاوہ کوئ عجیب چیز نظر نہیں آئ۔ یہ مچھلیاں اسی عرض البلد میں پائ جاتی ہیں اور ٹکریاں بنا کر سمندر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتی دکھائ دیتی ہیں۔ انکی پرواز عام طور پہ سے بیس فٹ کے قریب ہوتی ہے۔ میں نے  ایک ایسی زندہ چیز بھی دیکھی جو سمندر میںپورے کھلے ہوئے گلاب کے پھول کی مانند ہوتی ہے۔ مگر جب نکالی گئ تو سفید رنگ کی نیم شفاف گودے دار چیز تھی۔ 

فوج ایک ترک افسر کے زیر کمان ہے جو مکہ کا پاشا کہلاتا ہے۔ انتظامی اور عدالتی امور شریف مکہ کے ہاتھ میں ہیں۔ شریف، سلطان ترکی کے مقرر کردہ مکہ کے والی اور حاکم ہیں۔ ان کا نام عبداللہ ہے۔ انتہائ مہذب، شائیستہ اور وجیہہ آدمی ہیں۔ عرب کے تمام بدو انکا احترام کرتے ہیں۔ اور انکے حکم کے سامنے سر جھکاتے ہیں اپنا سردار اور مذہبی پیشوا سمجھتے ہیں۔ اس وجہ سے ان کو عرب کا والی کہا جا سکتا ہے۔
مکہ کو پانی ایک نہر سے ملتا ہے۔ یہ نہر بغداد کے مشہور خلیفہ ہارون رشید کی بیوی زبیدہ نے بنوائ تھی۔ انہی کے نام موسوم ہے۔ یہاں کے آدمی ریشمی اور اونی بھڑکدار کپڑے پہننے کے شوقین ہیں۔ کپڑا فرانس اور انگلستان  سے آتا ہے۔ مگر یہاں کے نا واقف لوگ قسطنطنیہ کا سمجھتے ہیں۔ کپڑے پر ملک اور کارخانہ کے نام کے باوجود انہیں یقین نہیں آتا کہ دوسرے ملکوں کا بنا ہوا ہے۔
اور قارئین اسکے ساتھ ہی لائیٹ چلی گئ۔ باقی اقتباسات بعد میں۔

جاری ہے۔ 

Thursday, January 6, 2011

جمہور یا جانور

دوپہر کا وقت تھا۔ میں بازار میں تھی۔ ایک پتھارے والے کے پاس ایک من پسند لیس دیکھ کر رک گئ۔ بھاءو تاءو کرنے کے بعد جب میں نے اپنا پرس کھولا تو اس میں ہزار کا نوٹ تھا۔  لیس پچھتر روپے کی بن رہی تھی جبکہ اسکے پاس ہزار کا کھلا نہیں تھا۔ چھان پھٹکنے پہ ایک پچاس روپے کا نوٹ برآمد ہوا۔ میں نے وہ دوکاندار کو دیا کہ زر ضمانت کے طور پہ رکھے میں واپسی میں باقی پیسے دیکر لیس لے لونگی۔
واپسی میں دیکھا تو اسکا پتھارا ایک چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ پڑوس کے دوکاندار سے پوچھا کہنے لگا نماز پڑھنے گیا ہے ابھی دس منٹ میں آجائے گا۔ تب اچانک میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنے ارد گرد نظر ڈالی۔ تمام دوکاندار اپنے اپنے گاہکوں کے ساتھ مصروف تھے۔ جن کے پاس نہیں تھے وہ چیزیں قرینے سے رکھ رہے تھے۔ یہ دوکانیں کپروں کی بھی تھیں، زیورات کی بھی اور پھل اور سبزی والوں کی بھی۔ اس عوامی ہجوم میں ہر ثقافتی گرو سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ مہاجر، پٹھآن، پنجابی، افغانی۔
اور پھر اسی تسلسل میں مجھے رات ٹی وی پہ آنے والا ایک پروگرام یاد آگیا۔ جس  کے میزبان حامد میر، اور مہمانوں میں ہارون رشید اور انصار عباسی شامل تھے۔ اور ہمارے دونوں مدبر صحافیوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اٹھانوے فی صد افراد شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں اور جو لوگ جمہور کی رائے کا احترام نہیں کرتے انہیں ایسے ہی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا یعنی اگر وہ گورنر ہے تب بھی اسکا اپنے محافظ کے ہاتھوں مارا جانا قابل صدمہ نہیں۔
اس وقت میں نے اپنے اس بازار کے تمام لوگوں کو دیکھا جو بازار کے بیچوں بیچ واقع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بجائے اپنے اپنے کاروبار میں مصروف تھے۔ نماز دین کا سب سے اہم رکن اسکی ادائیگی سے جان چرانے والے ملک میں شرعی قوانین کا نفاذ چاہتے ہیں۔ شاید لوگ صحیح کہتے ہیں اٹھانوے فی صد شماریات کے نتائج موقعے پہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ جیسی ضروت ویسے نتائج۔
جمہور کون ہے؟ تھری پیس سوٹ میںملبوس نک سک سے ایک دم درست، زندگی کی تمام سہولتوں کو استعمال کرنے والے، ہر ممکنہ وسیلے کے نزدیک،  بغیر ریش اور باریش افراد جو میڈیا کی لائم لائٹ میں رہنے کے چسکے سے آشنا ہیں یا روزانہ کی بنیاد پہ کپڑا بیچنے والا، سبزی بیچنے والا ، کینو بیچنے والا۔
امریکہ میں ایک سروے کے مطابق ، کم از کم بیس فی صد امریکی افراد اس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ صدر باراک حسین اوبامہ مسلمان ہیں۔ جبکہ ہم پاکستانی جانتے ہیں کہ اوبامہ ہر اتوار کو چرچ اپنی ہفتے وارعیسائ عبادت کے لئے جاتے ہیں۔ اور در حقیقت وہ مسلمان نہیں بلکہ عیسائ ہیں البتہ انکے والد مسلمان تھے۔
میں نے ایک امریکی شہریت کے حامل پاکستانی سے پوچھآ، لیکن اتنے زیادہ امریکی اتنا غلط کیوں سوچتے ہیں جبکہ وہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ  امریکیوں کی بڑی تعداد سنجیدہ چیزیں نہیں پڑھتی بلکہ ریئلیٹی ٹی وی جیسے پروگرامز کی اسیر ہے۔ ایک امریکی گھر میں ہر وقت ٹی وی چلتا ہے۔  جو لوگ اس سے کوئ خبر حاص کرنا چاہتے ہیں وہ بھی نہیں حاصل کر پاتے کیونکہ میڈیا کی ترجیح لوگوں کو درست  خبریں دینا نہیں، انہیں ٹُن رکھنا ہے۔ ہمم، اسی لئے تو امریکی حیران ہوتے ہیں کہ لوگ ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں۔
پاکستانی میڈیا بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں۔ اور جب ہم میڈیا پہ نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ایک اور چیز کا داراک ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اردو میڈیا اور انگریزی میڈیا بالکل دو الگ قوموں کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ جنگ اخبار تھا جس میں، میں نے سب سے پہلے ایک کالم نگار کے کالم میں یہ بات پڑھی کہ اب جبکہ دنیا جان گئ ہے کہ پاکستان میں آنے والا زلزلہ اور سیلاب امریکہ کے ہارپ کی وجہ سے آئے ہیں۔ امریکہ کو پاکستان سے معافی مانگنی چاہئیے۔
میں انگریزی اخبار بھی پڑھتی ہوں۔ جب  جنگ جیسے موءقر اردو اخبار میں اس چیز کا باعث ہارپ کو قرار دیا جا رہا تھا۔ اس وقت انگریزی اخبار ڈان میں ملک کے مایہ ناز دو سائینس کے عالموں ڈاکٹر عطاء الرحمن اور ڈاکٹر ہود بھائ کے درمیان اس بات پہ زوردار بحث چل رہی تھی کہ ہارپ ایک ہوّے کے سوا کچھ نہیں۔
حیرت تو ہوتی ہے کہ ان دو عالموں نے کسی اردو اخبار کو اس پہ بحث کرنے کے لئے اپنا میدان نہیں چنا۔
یہی نہیں، اگر ہم اتوار کے دن کا جنگ  اور ڈان میگزین اٹھائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردو اخبارات کس قدر کم معیار کے مضامین لکھتے ہیں اور انکی ہمیشہ ایک خاص سمت ہوتی ہے۔ 
یہی اردو اخبار، اس شدت پسندی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جو پاکستان کو دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ آخر یہ صحافی کیا کریں ۔ ان کی کیا پیشہ ورانہ تربیت ہے یہ کتنی ریسرچ کرتے ہیں ان میں سے کتنوں نے اپنے آپکو بیرونی دنیا کے علم سے جوڑا ہوا ہے۔ کتنے ایسے ہیں جو بیرونی مواد کو ترجمہ کر کے اردو میں لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ کرایسس انگریزی صحافیوں کے ساتھ بھی ہے لیکن انہیں انگریزی مواد کو کٹ اینڈ پیسٹ کرنے کی آسانی حاصل ہے۔
ادھر انگریزی اخبار کا فوکس ہمارے ایلیٹس یعنی طبقہ ء اشرافیہ ہے۔ اگر ڈان میں ان دو سائینسدانوں کے درمیان بحث ہوئ تو اس سے ہمارا اردو داں طبقہ انجان ہے۔ انگریزی زبان جاننے کا ایک فائدہ ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں اس وقت جتنا علم کا دھماکا آیا ہوا ہے وہ سب انگریزی میں دستیاب ہے۔ وہ چاہے ادب ہو یا سیاست یا سائینس۔
اردو داں طبقے کی اکثریت تو بم دھماکے کی ہی اصطلاح سے واقف ہے اور ان  تک وہی پہنچ پاتا ہے جو اردو میڈیا انہیں فراہم کر سکتا ہے۔ اردو میڈیا کو عوامی تبدیلی یا ترقی سے دلچسپی نہیں۔ انہیں سینسیشن چاہئیے۔ چاہے وہ مذہب کے نام پہ ملے۔
کتنے ٹی وی اینکر ایسے ہیں جو جدید معلومات یا ریسرچ سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔ شاید کوئ نہیں۔ جب ادھر ادھر کی چیزیں ہی اٹھانی ہوں تو آسانی سے جو ملے گا وہی حاضر ہوگا۔ اور اردو میں آسانی سے مذہب سے متعلق کتابیں ہی دستیاب ہیں چاہے وہ درست نکتہ ء نظر سے لکھی گئ ہوں یا غیر درست۔
ایلییٹس یا طبقہ ء اشرافیہ نہیں چاہتے کہ عام آدمی ان جیسا معیارزندگی رکھے یا ان جیسی معلومات ہی رکھ لے۔ وہ اس بات پہ ہنس سکتے ہیں کہ پاکستانی کتنے بے وقوف ہیں کہ زلزلے کو ہارپ کا لایا ہوا سمجھتے ہیں لیکن وہ اس قوم کو اردو میں ہارپ کے متعلق بتانے کی جدو جہد میں نہیں پڑیں گے۔
قوم اردو سمجھتی ہے اسے اردو میں جو مواد اور ذہن مل رہا ہے وہ اسی کے مطابق سوچتی ہے۔ اردو میں زیادہ تر مذہبی لٹریچر دستیاب ہے۔ کوئ ایک معیاری سائینس کی کتاب نہیں۔ پاکستان میں گذشتہ دس سالوں میں اردو ادب میں کوئ معیاری ناول یا ادیب سامنے نہیں آیا۔ ہمارے آج کے نوجوان کو بھی اشفاق احمد کو ہی پڑھنا پڑ رہا ہے۔ فیس بک پہ دھڑا دھڑ اشفاق احمد کے اقتباسات دستیاب ہیں۔
آجکے عہد میں کون اردو ادب لکھے گا۔ شاید کوئ نہیں۔ کیونکہ معاشرہ جب اظہار کے خوف سے گذر رہا ہو اور لوگ ایک دوسرے کو زبان درازی سے رکنے کی تلقین کر رہے ہوں تو اس صورت میں کس میں جراءت ہوگی کہ حقیقت لکھے فکشن کی صورت میںُُ۔ انگریزی داں طبقے کی عوامیت اتنی کم ہے کہ وہ پاکستان سے متعلق پُر اثر ادب شاید ہی لکھ پائے۔ اشرافیہ، بس نوم چومسکی، ڈکنس اور دستوووسکی اور دیگر فلسفہ ء حیات کو پڑھ کر اپنے ڈرائینگ رومز کی ڈسکشنز کو مزےدار بناتے ہیں۔
تو جب ایک شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے۔ اور ملک میں جس طبقے کو یعنی عدلیہ کو عدل اور انصاف پھیلانے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے وہ اس قاتل پہ پھول نچھاور کرتے ہیں تو ہمیں کیوں حیرت ہوتی ہے۔
جب ملک میں طبقاتی تعلیمی نظام چلے گا تو نتیجہ وہی ہوگا جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔اردو میڈیا کہتا ہے کہ جب جمہور کی بات کے خلاف کام ہوگا تو کسی کا قتل ہونا کوئ ایسی بری بات نہیں۔ کیونکہ جمہور ہم ہیں اس لئے ہم جو کہہ رہے ہیں وہ صحیح ہے۔ انگریزی میڈیا اپنے ڈرائینگ روم میں دنگ بیٹھا ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟
ادھر میں  پتھارے والے کے مسجد سے واپس آنے کے انتظار میں بازار میں ادھر اُدھر گھوم کر جن  کو دیکھ رہی ہوں، یہ کون ہیں جمہور یا جانور؟

Tuesday, January 4, 2011

جگسا پزل

کچھ لوگ دسمبر اور جنوری کی درمیانی رات کو سال بھر کا جوش نکال کر ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔ اب سارا سال بھنگ ملے یا چرس، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہو یا پیٹرول کی قیمت اور بجلی کی قیمت میں کانٹے کا مقابلہ چل پڑے، انکے لئے سب برابر ہے۔ لیکن کچھ لوگ ہرروز کچھ نیا کے چکر میں  نئےسال کی قرار داد بناتے اور پھر سارا سال اس قرارداد کا تعاقب کرتے نظر آتے ہیں۔میں نے بھی کچھ قراردایں بنانے کی کوشش کی مگر آخر میں اللہ مالک ہے کہہ کر اپنی بیٹی کے ساتھ جگسا پزل بنانے بیٹھ گئ۔
جب اپنے غم سے یوں فراغت ہو گئ تو دوسروں کے خیال بھی دل میں آئے، اپنے ایک دوست سے پوچھا کہ ہمارے محبوب صدر نے کیا قرارداد بنائ اپنے لئے۔ کہنے لگے آپکو معلوم نہیں نجومیوں نے اس سال انکی دوسری شادی کی پیشن گوئ کی ہے۔ تو اب انکے پاس ایک نہیں کئ قراردادیں ہونگیں۔  اچھا خدا مسبّب الاسباب ہے  یعنی اس سال اس بہانے ہم خوشی کے شادیانے بجائیں گے۔
ادھررحمان ملک کے بارے میں تو شرطیہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ سورہ اخلاص سمیت چاروں قل ،سورہ فاتحہ، آیۃ الکرسی اور دعائے قنوت   کے حفظ کے کریش کورس پہ لگ جائیں گے۔ مبادا گیلانی صاحب اسی طرح سال کے اخیر میں دستیاب رہے تو کیبنٹ کے اجلاس میں ایکدوسرے کی پھبتی اڑانے کے لئے وہ نشانے پہ نہ آ سکیں۔
لیکن لگتا یوں ہے کہ 'قدرت' کو  گیلانی صاحب کے ہاتھوں انکی یہ توہین پسند نہیں آئ۔ اور صورت حال کچھ اس طرح سامنے آئ کہ گیلانی صاحب کو اخلاص چھوڑ کرجل تو جلال تو آئ بلا کو ٹال تو کی تسبیح گھمانا پڑ رہی ہے۔
سال کے شروع میں پٹرولیئم مصنوعات پہ یکدم نو فیصدی کا اضافہ ،عوام کو اشارہ ہے کہ باقی سال سورہ یس حفظ کر لیں موت کی سختی کم کرتی ہے۔
مذہبی جماعتیں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ گاتے ہوئے توہین رسالت کے قانون کے زیر زبر پیش کی حفاظت میں لگی رہیں گی یہ انکی بڑی امید اور سہارا ہے۔ اور اگلے کئ سالوں کے لئے 'اہم ملکی معاملات' پہ انکی گرفت مضبوط رکھے گا۔
نواز شریف جمہوریت کی  ریل کو ڈی ریل ہونے سے بچانے میں مصروف رہیں گے انہیں ڈی ساخت پسند نہیں بلکہ اپنے چہرے کی طرح گول' او ' ساخت چاہئیے تاکہ  جمہوریت کی ریل ایک دائرے میں گھومتی رہے ۔
طالبان خاتون کے کامیاب خود کش حملے کے بعد پاکستان میں مردوں کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے وہ لوگ جو اپنی کم جہیز لانے والی بہوءووں سے نالاں ہیں اور چولہے وغیرہ پھٹنے کا انتظار کرتے ہیں یا وہ لوگ جو اپنی بیٹیوں کو ونی کرنے یا کاروکاری کرنے کے چکر میں رہتے ہیں یا جائداد کے بٹوارے میں پڑنے کے بجائے قرآن سے شادی کروا دیتے ہیں۔  اب طالبان کے مراکز کے آگے لائن بنا کر کھڑے ہونگے۔ لوگوں کے ہجوم میں خواتین کا پھٹنا، بالکل مناسب ہوگا۔ کیونکہ اسکے بعد اعضاء میں وہ تناسب نہیں رہتا جن سے ہارمونز کا کھیل شروع ہو سکے۔
ادھر ایم کیو ایم ، حکومت سے اپنے  نعرہ ء علیحدگی پہ  رقص بسمل  کرے گی ۔   حکومت سے علیحدہ ہونے کے بعد امید ہے کہ انہیں ریہرسل کا زیادہ وقت ملے گا۔ یہ بھی امکان ہے ک ایک پیس کے رد و بدل ، اور کچھ  معلوم و نا معلوم لوگوں کے مقامات بعد از حیات طے کرنے کے بعد حکومت دوبارہ انہیں اپنے اتحادیوں میں شامل کر لے۔
مولانا فضل الرحمن کے متعلق لوگوں نے اڑائ ہے کہ انکی صدر صاحب سے ڈیل ہو گئ ہے۔ وہ وزارت عظمی مانگ رہے تھے۔ بالآخر عظمی پہ معاملہ ٹہر گیا۔
وزارت میں سے عظمی کے نکل جانے کے بعد گیلانی صاحب کیا کریں گے؟  سن رہے ہیں کہ پچھلے ہفتے کا سارا کھڑاگ انہیں لائن حاضر کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یعنی ذوالفقار مرزا کے سندھ میں ایم کیو ایم مخالف بیانات کا سلسلہ زرداری صاحب کی وفاداری سے جا کر مل رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجومیوں نے غلطی سے دوسری تبدیلی کو دوسری شادی سمجھ لیا ۔ واللہ اعلم۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ ایک زرداری سب پہ بھاری۔
جگسا پزل بھی بناتے بناتے آتا ہے۔ اب آپکی باری ہے۔

Saturday, January 1, 2011

زمانے کی ہوا

لیجئیے ایک اور سال ہاتھ ہلا کر ، دامن جھاڑ کر رخصت ہو گیا۔ میں نے جب جاتے سمے اسکی انگلیوں کو چھونا چاہا تو یونہی رخ موڑے موڑے کہنے لگا۔

تو ہے گر مجھ سے خفا  خود سے خفا ہوں میں بھی
مجھ کو پہچان، کہ تیری ہی ادا ہوں میں بھی

یہاں کس کو اتنی فرصت کہ ایسی پہیلیوں میں پڑے۔
ایک کہانی کار نے ڈرامہ لکھ کر پروڈیسر کے حوالے کیا۔ انہوں نے ایک نظر اس پہ ڈالی اور گویا ہوئے۔ بہت خوب، بہت زبردست، بس ڈرامے کے انجام میں اگر ہیروئین کی موت پنکھے سے لٹک کر خود کشی کرنے کے بجائے پستول کی گولی سے دیکھائ جائے تو بہتر ہوگا۔ جو حکم آپکا، کہانی کار نے عاجزی کا اظہار کیا، مگر اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ پرڈیوسر نے انہیں دیکھا اور شان بے نیازی سے کہا، گولی کی آواز سے لوگ جاگ جائیں گے اور پتہ چل جائے گا کہ ڈرامہ ختم ہو گیا ہے۔
   یوں فضا میں ڈزا ڈز گولیوں کی آواز آئ اور پرانا  سال جلدی سے یہ کہتا ہوا اڑن چھو ہوا۔

ثبت ہوں دست خموشی پہ حنا کی صورت
نا شنیدہ ہی سہی ، تیرا کہا ہوں میں بھی

اس پہ گولیوں کی بوچھار تڑا تڑ۔ نہ دست خموشی ہوگا نہ یہ بک بک۔ سال نو نے جنم لیا۔ تاریخ بدل گئ اور کیا ہوا؟ حالات کے آئینے میں وہی عکس ہیں اور ارد گرد وہی حالات۔ میں پلٹ کر آخری سانس لیتے دست خموشی سے دریافت کرتی ہوں، اس جمود سے زندگی گذارنے کا کیا فائدہ جسے گولیوں کی آواز سے توڑنا پڑے۔ لیکن سب کیلینڈر کے نئے سال کو خوش آمدید کہنے میں مصروف ہیں۔ 
میں جب جذبہ ء خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے کو اس نئے سال سے ہاتھ ملانا چاہتی ہوں تو فرماتا ہے کہ
جانے کس راہ چلوں، کون سے رخ مڑ جاءوں
مجھ سے مت مل ، کہ زمانے کی ہوا ہوں میں بھی
یہ تو اس نے چیلینج کردیا۔ کیا کروں سال کہن کا نوحہ بنوں یا زمانے کی ہوا؟ 

Tuesday, December 28, 2010

کراچی، کتابوں کا میلہ

کراچی میں ایکسپو سینٹر میں کتابوں کا میلہ جاری ہے۔ وقت  کو کھینچ تان کر اتنا کیا کہ اس میں سے آج وہاں جانے کا وقت نکال ہی لیا۔ ہم دو خواتین چاہتے تھے کہ بچوں کو ایسی جگہوں پہ ضرور جانا چاہئیے۔
ادھر میری بیٹی کو تو باغیوں کا سرغنہ بننے کا شوق ہے اُدھر باقی چار بچے کل ہی سات سمندر پار سے ایک لمبا سفر طے کر کے یہاں پہنچے۔ ابھی سفری تھکن اور جیٹ لیگ سے باہر بھی نہیں نکلے کہ ہم انہیں ساتھ لے گئے۔
یوں میں ایک اسٹال پہ، میری ساتھی خاتون دوسرے اسٹال پہ، میری بیٹی صاحبہ اپنی ہم عمر بچی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے بڑوں کی سرپرستی سے آزاد رہ کر میلہ دیکھنے کی خواہش مند۔ باقی بچے نیم حالت نیند اور تھکن میں۔
اب یہ خاصہ چیلینجنگ کام بن گیا تھا کہ کتابیں بھی دیکھتے جائیں اور بچوں کی حدود بھی متعین کرتے جائیں۔
ایک وقت مشعل نے کہیں سے ایک کتاب لا کر ہاتھ میں تھما دی کہ وہ انہیں لینا ہے کیونکہ اس میں بہت بیوٹی فل اسٹیکرز ہیں اور ایک مر میڈ کی تصویر بھی موجود ہے۔ یہ کتاب ٹیچرز کے لئے تھی، یا بڑے بچوں کے لئے۔ پھر ایک بحث و مباحثے کے بعد ان سے لیکر واپس رکھنے لگے تو سوال پیدا ہوا کہ اسے کہاں رکھا جائے۔ چاروں طرف اسٹالز تھے اور اب انہیں یہ یاد نہیں تھا کہ کہاں سے اٹھائ ہے۔ خیر جناب، اس طرح کے حالات سے گذرنے کے بعد ہم نے سوچا کہ جلدی جلدی ایک نظر ڈال کر نکل چلیں۔
  اس دفعہ ایک بات جو میں نے محسوس کی کہ اردو کتابوں کا خاصہ بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ ان میں روائیتی اردو ناول یا فکشن کی کتابیں یا اسلامی کتابیں ہی نہیں تھیں بلکہ بچوں کے لئے اردو میں بڑی کتابیں موجود تھیں کہانیوں سے لے کر عام معلوماتی اور سائینسی کتابیں بھی۔ شاید پچھلے کچھ عرصے میں ان کتابوں کی اشاعت میں اضافہ ہوا ہے۔ یوں انگریزی کتابیں اتنی نہیں تھیں جتنی کہ پہلے نظر آتی تھیں۔ کتابوں پہ رعایت کچھ خاص نہیں اس سے زیادہ تو اردو بازار میں مل جاتی ہے۔
اس بھاگ دوڑ میں، میں نے بھی یونہی کچھ کتابیں لے لیں۔ ان میں ایک کتاب شاہ بلیغ الدین کی روشنی ہے۔ دوسری تہذیبی نرگسیت، حالانکہ میں اسے نیٹ پہ پڑھ چکی ہوں مگر مصنف کو کاپی رائیٹ کا حق دیتے ہوئے خریدی۔ اس سے یقیناً راشد کامران صاحب کو خوشی ہوگی۔
شہرزاد پبلشر پہ تمام ادبی کتابوں پہ  پچاس فی صد رعایت تھی۔ وہاں سے خالد جاوید کا ایک ناول  'تفریح کی ایک دوپہر' لیا نجانے کیوں مجھے اسکا عنوان دلچسپ لگا۔ ایک مجموعہ کشمیری کہانیوں کا لیا جو حمرہ خلیق نے بیان کی ہیں۔ لیکن وہاں مجھے ایک کتاب اور ملی، جو اپنے عنوان سے بہت دلچسپ لگی اسکا نام ہے نوجوان ناول نگار کے نام خط۔
مشعل کے لئے میں نے پچھلے مہینے کافی ساری کتابیں لیں بلکہ اس دفعہ انکی سالگرہ پہ انکے کلاس فیلوز کو تحفے میں ایک ایک کتاب دی۔ لیکن  فیروز سنز پہ بچوں کی کہانیوں کا  خزانہ موجود تھا۔  ہر کتاب تیس روپے کی اور ان پہ کچھ رعایت بھی۔  سو، کچھ کتابیں انکے لئے پھر لیں لیکن اس بار،  یہ سب اردو میں تھیں۔
گھر آکر سب سے پہلے کتاب 'نوجوان ناول نگار کے نام خط' نکال کر سرسری سی دیکھی۔
 یہ ایک کتاب کا ترجمہ ہے۔ جس میں ناول نگاری کے اجزائے ترکیبی بیان کئے گئے ہیں۔ ابتدائیے میں مترجم لکھتے ہیں کہ
یہ اجزائے ترکیبی یا رموز، علی الترتیب یہ ہیں، اسلوب، راوی اور بیانیہ مکان، زمان یا وقت، حقیقت کی سطحیں، انتقالات اور کیفی زقندیں، چینی ڈبے یا روسی گڑیاں، پوشیدہ حقیقت اور کم یونی کیٹنگ وے سلز۔ 
آخر میں وہ نوجوان کو نصیحت کرتا ہے کہ
میرے  عزیز دوست، میں جو کہنے کی کوشش کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ تم نے ہر وہ چیز جو میرے خطوں میں ناول کی وضع کے بارے میں پڑھی ہے اسے بھول جاءو، بس کمر باندھ کر بیٹھ جاءو اور لکھنا شروع کردو۔