Wednesday, September 16, 2009

میں، فیاض اور اسکا ابا

ساڑھے چار بج رہے تھے اور میں انتہائ تندہی سے اپنا کام نبٹاتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ مجھے چھ بجے کچن سے نکل جانا چاہئیے تاکہ فیاض اسے صاف کر لے اور ڈرائنگ روم سیٹ کر لے اسطرح میں رات آنیوالے مہمانوں کے لئے فریش ہو جاءووں گی۔ ابھی سوچوں کو فل اسٹاپ بھی نہ لگا تھا کہ فیاض آکھڑا ہوا ۔ میں نے کہا فیاض ڈائننگ روم کی اچھی سی ڈسٹنگ------لیکن میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے وہ بول اٹھا۔ 'باجی مجھے ابھی فوراً جانا ہے'۔ کیا؟ کیوں؟ میرا منہ پہلے غصے سے چوکور اور پھر گول ہو گیا۔ 'یہ سب کام کون کریگا؟' میں نے چھری غصے میں اور تیزی سے چلاتے ہوئے اس کے آگے کاموں کی لسٹ دہرانی چاہی۔ 'باجی، میرا بھائ بھاگ گیا ہے۔' اوہ کتنا بڑا ہے وہ'۔ 'جی مجھ سے دو سال بڑا ہے'۔ اتنا بڑا شخص کہیں بھاگتا ہے۔ تمہیں کیسے پتہ وہ بھاگ گیا ہے'۔ میں نے کچر کچر کھیرے کاٹے۔' وہ میری بھابھی بھی ساتھ بھاگ گئ ہے'۔ ہائیں، اب میں نے اس میں سنجیدگی دکھائ۔ 'وہ تمہارے کون سے بھائ کی بیوی تھی'۔ ؛جی اسی کی بیوی تھی'۔  یہ تو کلاسک بھاگنے کی کہانیوں سے بالکل مختلف ہے۔ میرا دماغ بالکل سنسنا گیا۔ 'اپنی بیوی کے ساتھ بھی کوئ بھاگتا ہے۔ میرا مطلب ہے اسے بھاگنا نہیں کہتے۔  وہ الگ رہنا چاہ رہے ہونگے'۔ 'جی، میرا بھائ کراچی میں رہتا ہے اور وہ اپنی بیوی کو ساتھ میں رکھنا چاہ رہا تھا۔میرا ابا اسے منع کر رہا تھا'۔ 'تو تمہیں اپنے ابا کو سمجھانا چاہئیے'۔' نہیں باجی ہمارے یہاں ایسےہی ہوتا ہے۔ وہ بے وقوف اسکو لیکر کہیں چلا گیا ہے'۔؛ تو اب تم کیوں انکی خوشی میں روڑے اٹکا رہے ہو۔ جاءو جاکر اپنا کام کرو'۔ 'نہیں، ابا کا فون آیا تھا وہ کل کراچی پہنچ رہا ہے۔ اس نے مجھے ان کا پتہ لگا کر انکے ساتھ رہنے کو کہا ہے۔ تاکہ وہ کہیں اور نہ چلے جائیں'۔'تمہیں یقین ہے وہ کراچی میں ہونگے'۔ 'جی مجھے معلوم ہے وہ کہاں ہونگے'۔ 'ارے اپنے ابا سے کہدو مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں'۔ 'نہیں ابا کو پتہ چلا تو وہ سمجھے گا میں ان سے ملا ہوا ہوں'۔ یہ کہہ کر وہ الف لیلی کی کہانیوں کے ہیرو کی طرح ابا کی بھیجی ہوئ سپاری پر روانہ  ہوگیا۔
میں اپنے آگے ٹماٹروں اور کھیروں کے ڈھیر دیکھ کر اسکے بھائ کو برا بھلا کہنے لگی۔ کم بخت آج کا دن ملا تھا۔ اسے بھاگنے کے لئیے۔ بدبخت اب ایسی جگہ چھپا ہے کہ اسے ڈھونڈ بھی لیا جائےگا۔
یہ الگ کہانی ہے کہ کسطرح اس ظالم نے بھائ کی بیوی کو واپس پشاور لیجانے کا سلسلہ کامیابی سے سر کیا اور بھائ کو کراچی میں چھوڑ دیا۔ لیکن اسکے بھائ جیسے بے وقوفوں کے ساتھ مجھے کیا کسی کو بھی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ فیاض کامران مسکراہٹ سجائے واپس آگیا۔
اسکے ایک ہفتے بعد میں ایکدن ٹانگیں پسارے بقراط ثانی بننے کی سرگرمیوں میں مصروف تھی کہ اچانک احساس ہوا کہ فیاض کہیں پاس سے بولا۔ سر اٹھایا تو فیاض سامنے کھڑا تھا۔ فوراً پسارے کو سمیٹا۔ 'اب کیاہوا؟' 'باجی، صاحب سے کہیں، وہ میری تنخواہ بڑھا دیں'۔ 'ابھی تو تمہارا پہلا مہینہ بھی پورا نہیں ہوا اور تم نے سب کاموں کی ذمہ داری بھی پورے طور پر اٹھانی شروع نہیں کی ۔ کس سلسلے میں تمہاری تنخواہ بڑھا دیں'۔ میں نے بقراطی ذریعہ ء علم پر آنکھیں جمائے پوچھا۔ 'باجی میں شادی کرنا چاہ رہا ہوں'۔ 'کس سے؟'۔' اپنی پھوپھی کی بیٹی سے'۔' وہ کہاں رہتی ہے؟'۔ 'جی یہیں کراچی میں'۔ 'تمہارے گھر والے راضی ہیں'۔ 'جی سب ، میری پھوپھی بھی راضی ہے'۔ وہ تابڑتوڑ سوالات سے عاجز آ کر شایدبےزار ہو کر بولا۔ میں نے سر چشمہ ءبقراطی دانش کو ایک طرف رکھا۔ اور دیو جانس کلبی کی بےنیازی کو دوسری طرف کہ اس طرح موجودہ زمینی حقائق صحیح طور پر سامنے آسکیں گے۔ اور ایسا کرتے ہی ایک خیال آسمانی بجلی کی تیزی سے کوندا اور فیاض کے متوقع نشیمن پر دھائیں کر کے گرا۔ 'تم تو پہلے دن کہہ رہے تھے کہ تمہاری شادی ہوگئ ہے'۔ 'جی باجی۔ مگر میری وہ بیوی تو پشاور میں رہتی ہے'۔
اگرچہ میری اس بات کا بعد میں مذاق اڑایا گیا کہ ایک نوکر کو دوسری شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر نوکری سے برخواست کر دیا گیا۔ یقیناً کچھ رجعت پسند مسلمان اس پر خفا ہونگے، لبرل مسلمان شادیانے بجائیں گے۔ حقوق نسواں والے میری پیٹھ ٹھونکنے کو بےتاب ہونگے۔ حقوق انسانی والے اس میں کچھ گھمبیر مسئلے تلاش کر لیں گے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے اسے پشاور کے خلاف سازش سمجھیں گے۔ مردوں کو مظلوم سمجھنے والے اسے ان کی جنس پر ایک نیا حملہ قرار دیں گے۔ خود فیاض کو میری شکل سے نفرت ہو گئ ہوگی۔ لیکن کوئ بتائے کہ قصور کس کا تھا۔
۔
۔
۔
۔
۔
 
مقصد؛
اس تحریر کا مقصد جاننے کے لئیے آپکو خلاء میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے لئے نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔ بلکہ قرعہ اندازی کے ذریعے میں نے تین اشارے چن لئیے ہیں۔ اشارے یہ ہیں۔ شادی، پشاور، کراچی۔
سوالات؛
مرفی کے قانون کی تعریف کریں۔ اس تحریر میں مرفی کا قانون کہاں کہاں لگایا جا سکتا ہے؟
بقراطی محبت کیا ہوتی ہے؟
کیا بچپن میں بچوں کے ساتھ چھپن چھپائ کھیلنے سے، بڑے ہونے پر ان میں مناسب جگہ چھپنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے؟ دلیل سے واضح کریں۔
اس تحریر کو رجعت پسندوں کے مطابق اسلامی بنانے کے لئے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی چاہئیں؟ یا باالفاظ دیگر اس میں کن مقامات کو آپ انتہا پسند آزاد مسلمانوں کی تربیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں؟
اس تحریر میں کن نکات کو آپ خواتین کی بے پرواہی کا نتیجہ سمجھتے ہیں؟ سماجی اور نظریاتی دونوں اگر موجود ہیں تو انہیں بیان کریں۔
کیا خواتین کو بقراطی فلسفہ پڑھنے کی اجازت ہونی چاہئیے؟ یا انکے لئیے اسٹار پلس اور شیف ذاکر کی خدمات سے ہی استفادہ حاصل کرتے رہنا چاہئیے؟ یہ سوال لازمی نہیں ہے۔

عملی سوال؛
ایک پول منعقد کرا کے اس بات کا جائزہ لیں کہ دوسری شادی اور بے روزگاری کے درمیان کیا واقعی کوئ تعلق ہے۔  
نوٹ؛ بیشتر تحاریر کی طرح اس میں بھی ہو سکتا ہے کہ کرداروں کے نام تبدیل کر دئیے گئے ہوں۔ اس لئے براہ مہربانی ان مندرجات کو میرے اوپر انکم ٹیکس لگانے کی مد میں استعمال نہ کیا جائے۔

22 comments:

  1. جوابات:

    مرفی کا قانون وہ قانون ہے جس میں غلط کام کو روکا نہیں جا سکتا۔ اس ساری ہی تحریر پر مرفی کا قانون لگایا جا سکتا ھے۔ کیوں کہ آپ یہ تحریر لکھ کر ہی رہیں۔

    بقراطی محبت کے بارے میں عاشق حضرات ہی روشنی ڈال سکتے ہیں، میرا اس معاملے میں کوئی تجربہ نہیں۔

    بچپن میں چھپن چھپائی کھیلنے سے چھپنے کی صلاحیت بڑے ہو کر اور بھی نکھر جاتی ہے۔ دلیل دینے سے تبصرہ دائرہ اخلاق سے باہر ہو جائے گا۔

    آپ جو مرضی تبدیلی کر لیں اس تحریر میں، رجعت پسند کبھی راضی نہ ہوں گے آپ سے۔

    میں تمام نکات کو ہی خواتین کی بے پرواہی کا نتیجہ سمجھتا ہوں کیوں کہ خواتین ہوتی ہی بے پرواہ ہیں۔

    آخری سوال چونکہ لازمی نہیں لہٰذا اس کا جواب بھی دینے کی ضرورت نہیں مجھے۔

    ReplyDelete
  2. اسماء پيرس والاSeptember 16, 2009 at 10:06 PM

    اچھا کيا جو فارغ کر ديا اللہ کی شان ايک شادی ملازمت سے پہلے اور ايک ماہ کی ملازمت کے بعد دوسری اور پھر دونوں طرف نئے مہمانوں کی آمد پر تو باجی اور صاحب کو لگ پتہ جانا تھا ميرے ابو بھی پٹھانوں کے ابو سے بہت تنگ تھے بتاتے تھے کہ سب دوستوں نے ميانوالی ميں اپنی فيملی ساتھ رکھی ہوئی تھيں سوائے ايک پٹھان دوست کے جسکا ابا اسکی بيوی کو ساتھ رہنے کی اجازت نہيں ديتا تھا بيچارہ اپنے ابے سے بڑا تنگ تھا ميں نے چونکہ پٹھان سے شادی کی ہے تو ايک بات انکے متعلق تجربے سے بالکل درست ثابت ہوئی کہ يہ دنيا کے جس کونے ميں بھی پہنچ جائيں انکے ماں باپ بہن بھائی کبھی انکو آذاد نہيں ہونے دينے جبکہ ہمارے ہاں شادی کے بعد لڑکا جو مرضی کرے اسکی ذاتی زندگی ميں دخل اندازی نہيں کی جاتی (ُآپ سے انسپائيريشن لے کر ايسا لکھنے کی ہمت کر رہی ہوں وگرنہ تو آپ جانتی ہی ہيں ۔ ۔ ۔ ) اور مجھ سے پوچھيں تو سارا قصور بڑے بھائی کا ہے وہ خود اپنے حقوق کے ليے کيوں نہ لڑا اور ماں باپ کی پاليسياں ايسی ہی ہوتی ہيں من پسند بچے کے ليے جو جائز دوسروں کے ليے حرام؛ خير ابھی تک اسکی شادی ہو چکی ہو گی اور خير سے دو دو بچوں کا ہر سال ابا بنے والا ہو گا آپ دل پر نہ ليں کتابيں سائيڈ پر رکھيں ٹی وی کھوليں ساس بہو والا ڈرامہ ديکھيں اور فريش ہو جائيں

    ReplyDelete
  3. سارے سوالات کا جواب دینا تو ممکن نہیں ویسے بھی ہم ایم سی کیوز کے شیدائ ہیں اور روشنی ڈالنے والے سوالات سے چھیڑ چھاڑ بڑی مہنگی پڑتی ہے۔

    جہاں تک رجعت پسندی کا سوال ہے تو اس میں کم از کم یہ تفریق رکھنی ہوگی کہ مذہبی طور پر رجعت پسندی جتنی بھی شدید ہو وہ فیاض کے کردار کی حمایت نہیں کرسکتی کیونکہ اپنی فیملی کے حقوق ادا کرنا انسان کا کام ہے انسان کے ابے کا نہیں اور اس میں مذہبی طور پر انتہائی دائیں‌ سے انتہائی بائیں جانب تک دو رائے نہیں اور آج کل کے معاشی اور معاشرتی حالات میں نا معلوم کون دوسری شادی کی شرائط پوری کرپاتا ہے ۔ اب رہا سوال سماجی رجعت پسندوں‌کا تو ان کی کوئی ایک تعریف نہیں؛ عین ممکن ہے کہ جو چیز پہاڑوں پر روشن خیالی ہو وہ ساحلی علاقوں میں رجعت پسندی سمجھی جائے تو اس پر اس مخصوص‌ سماج والے خود ہی کچھ روشنی ڈالیں گے۔

    ReplyDelete
  4. جس دن آپ کم لفظوں میں‌اپنی بات بیان کرنی لگیں‌ گی
    اس سال ادب کا نوبل انعام آپ کو ہی ملے گا

    ReplyDelete
  5. جعفر اور ڈفر ميں ايک قدر مشترک ہے دونوں خواتين سے بہت جيلس ہوتے ہيں

    ReplyDelete
  6. سعد، آپ تو یقیناً اپنے استادوں کے لاڈلے شاگعد رہے ہونگے۔ کتنی تمیز سے جوابات دئیے ہیں۔ شاباش۔
    راشد صاحب جیسا کہ اسماء کے بیان سے بھی آپکو اندازہ ہوا ہوگا کہ یہ وہاں کی ثقافت کا حصہ ہے۔ تو میرا خیال ہے کہ اسے ایک شخص کے کردار کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ کافی ساری اخلاقی برائیاں معاشرتی دباءوکی وجہ سے بھی جنم لیتی ہیں۔ آپ نے بجا فرمایا، سماجی رجعت پسندوں کی کوئ ایک تعریف ممکن نہیں۔ اور اگر باہر والے اس پر روشنی ڈالیں تو اندر والوں کو اتنا پسند نہیں آتا۔
    جعفر افسوس کی بات یہ ہے کہ اب تک ادب کا نوبل پرائز جن لوگوں کو ملا ہے وہ طویل بیان لکھنے والے ہیں۔ اسکی ایک مثال گبرئیل مارکیس مارسیا کی تنہائ کی سو سال ہیں اور ٹالسٹائ کی جنگ اور امن کا تو شاید کوئ ہمسر نہیں۔ اس کتاب میں پانچ سو کردار ہیں۔ جنکے لئیے مصنف نے باقاعدہ ریسرچ کی۔ ایجاز اور اختصار بہت محدود چیزوں کے لئیے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مستند ناقدین آجکل کے لکھنے والوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ چار صفحے لکھنے کے بعد جان نکل جاتی ہے ان سے کوئ ناول کیسے لکھا جائیگا۔یہ تو ڈھنگ کی شارٹ اسٹوری لکھ لیں تو بہت ہے۔ ویسے مختصر ترین لفظوں میں یہ کہانی ایسے بنتی ہے کہ ایک مرد نے اپنی مالکن سے دوسری شادی کے لئیے تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کیا اور انہوں نے اسے نوکری سے نکال دیا۔
    دنیا کی ایک اور مختصر ترین کہانی مجھے یاد آرہی ہے۔ ایک شخص نے دوسر سے پوچھا۔ کیا تم بھوتوں پہ یقین رکھتے ہو۔ اس نے جواب دیا نہیں۔ پہلا شخص دھواں بن کر غائب ہو گیا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس کہانی کو کوئ نوبل پرائز نہیں ملا۔
    اسماء، میں اپنی رائے محفوظ رکھتی ہوں۔
    :)

    ReplyDelete
  7. آپ نے تو جی بڑے مشکل سے سوالات کردئے هیں اور سوال بھی میری نظر میں ایسے هی هیں ، جیسے که اپنے جنرل ضیا صاحب نے ریفرینڈم میں کیے تھے
    سوال گندم جواپ چناـ
    بات یه هے که اس کہانی میں ساری بات یه هے که ابا جی لوگ نهیں چاھتے که کماؤ گدھے بھاگ جائیں ، اس کے لیے ان کی بیوی اباجی کے پاس رهنی چاھیے تاکه کمائی کی وصولی کو یقینی بنایا جاسکے
    اور اگر مرد کی ضرورت اگر زیادھ تنگ کرتی هے تو جی وھاں بھی کچھ کرلو !!ـ لیکن جی گھر والی بیوی هی اصلی کھر والی ہے کا پیروپیگینڈا بھی جاری رکھنا ابا جی لوگوں کا کام هے که کہیں دوسری والی کماؤ گدھے کا دل ناں موھ لے ـ
    اور اس طرح کے خاندانوں میں یه هوتا هے که چاچے اور بھتیجے ایک هی دن پیدا هورهے هوتے هیں ـ
    لڑکا کوتیت میں کام کرها که کمائی کرکے بہنوں کی شادی کرنی هے
    اور اباجی ان کی ذمه داریاں بڑھانے کے لیے پاکستان میں اور بہنیں پیدا کررهے هوتے هیں ـ
    پاک ابا جی لوگوں پر بہت کچھ لکھا جسکتا ہے
    اور جو میں اج لکھ رها هوں آپ ایسی تحاریر انے والے سالوں میں اور لوگوں کے قلم سے بھی دیکھیں گی
    ابھی پاک بچے ناپاک ملکوںمیں پوری طرح ناپاک نهیں هوئے هیں ناں جی جیسے هی ناپاک هوتے جائیں گے پاک اباجی کی پاکیزگی کے رونے رویا کریں گے ـ
    آپ کو صرف حقوق نسواں کا پڑا هوتا ہے هم حقوق پتراں کابھی سوچتے هیں ـ

    ReplyDelete
  8. یہاں میں یہ واضح کر دوں کہ جنگ اور امن کو کوئ نوبل پرائز نہیں ملا کیونکہ یہ اسکے اجراء سے کوئ سو سال پہلے لکھی گئ تھی۔ البتہ اسے دنیا کی سو اہم کتابوں میں شامل سمجھا جاتا ہے۔ مزید یہ کہنا تھا کہ میری کہانی کا مختصر ورژن تعریف کے لحاظ سے اخبار کی خبر میں آئیگا۔ جبکہ یہ تو ایک پوسٹ ہے۔
    اس جملے کو اس طرح پڑھا جائے۔
    اب تک ادب کے زیادہ تر نوبل پرائز----------۔

    ReplyDelete
  9. دوسری شادی کی خواہش پر نوکری سے نکال دینا سمجھ نہیں آیا۔ وہ تو اس کا ذاتی معاملہ نہ تھا؟ خیر جی اسے رکھنا یا نکالنا آپ کا ذاتی معاملہ تھا۔ ساہنوں کیہہ۔ باقی والدین اولاد کے استحصال کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اسی لئے تو آج پاکستان کی یہ حالت ہے کہ ہم اپنے بنیادی یونٹ یعنی گھر میں بھی افراد کو ان کے حقوق نہیں دیتے تو معاشرہ انصاف پرور کیسے بن جائے؟

    ReplyDelete
  10. خاور صاحب، یہ شاید ٹالسٹائ نے کہا تھا کہ تمام خوشحال خاندانوں کی کہانیاں ایک جیس ہوتی ہیں اور ناکام دکھی گھرانوں کی الگ الگ۔ تیسری دنیا کے غریب ممالک میں ان الگ الگ کہانیوں کی کمی نہیں۔
    ہم نے یہ نظام تشکیل دیا ہے اور ہم اسے بہتر تبدیلیوں سے واقف کرانے کے بجائے اسکی پیدا ہوئ خامیوں کو فخر سے سینے سے لگا کر پھرتے ہیں۔ اور اسے سہارا دینے کے لئیے مختلف جذباتی نظریات بھی گھڑ لیتے ہیں۔
    آپ یہ نہ سوچا کریں کہ میں صرف حقوق نسواں کا سوچتی ہوں۔ میں خود چیزیں بھگت چکی ہوں اس لئے لکھتی ہوں۔ خاتون ہوں اس لئے خواتین کے بارے میں زیادہ لکھتی ہوں۔ ایک عورت ہونے کے ناطے سمجھتی ہوں کہ دوسری عورت کیا سوچ سکتی ہے اور کیا سہتی ہے وہ لکھتی ہوں۔ حالانکہ میں پاکستان کی ان خواتین سے تعلق رکھتی ہوں جنہیں خاصی آزادی اور آسانیاں میسر ہیں۔ لیکن پھر بھی یہاں عورت ہونا آسان نہیں۔ اگر ٹیکسی والے کو گاڑی چلاتے ہوئے اپنے سے آگے نکلنے کا راستہ نہیں دیتی تو وہ بھی اپنی گاڑی کی کھڑکی سے منہ نکال کر ایک گالی دیتا ہے اور کہتا ہے تم عورت ہو کر گھر میں کیوں نہیں بیٹھتا۔

    ReplyDelete
  11. خاور چچا بالکل درست کہتے ہيں آپ ؛ ميں تو ابھی سے ساتھ ہوں آپکے ايسا لکھنے ميں ؛ اخبار جنگ اور جہاں وغيرہ ميں ماؤں باپوں کے بارے ميں جو قصيدے لکھے ہوتے ہيں بندی سے تو ان کی پہلی لائن بھی نہيں پڑھی جاتي،

    ReplyDelete
  12. خرم صاحب، یہ تو اس ہمہ جہتی تصویر کا ایک رخ تھا۔ اسی پس منظر میں اور بھی چیزِیں ہیں۔ مثلاً میں زیادہ تر حالات میں بالکل تنہا ہو جاتی ہوں تو ایک ایسے شخص کے ساتھ رہنا اپنے لئے محفوظ نہیں سمجھتی جسے شادیاں کرنے کا شوق ہو۔
    اسماء آپ اور باقی لوگ بھی، آپکا اٹھایا ہوا نکتہ حقیقت سے خاصہ قریب ہے۔میں اکثر مضامین پڑھتی ہوں بس یونہی سرسری طور پر۔ جن میں موجودہ نسل کو بہت زیادہ نافرمانبردار کہہ کر انہیں انکی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاتا ہے۔ شاید ہی کبھی لوگ والدین کی کوتاہیوں، انا پرستی اور انکے اپنی اولادوں کے استحصال کے متعلق لکھتے ہوں۔
    جہاں غربت، تعلیم کی کمی۔ اور عرصہ ء دراز سے فیوڈل طرز فکر کا مسلط ہونا اسکی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ وہاں پاکستان کا بدلتا ہوا معاشرتی نظام بھی ایک وجہ ہے۔ اس بدلتے ہوئے سماجی ڈھانچے کو ہم بالکل پرانی اقدار پر نہیں چلا سکتے۔ اس میں اتنی لچک ہونی چاہئیے کہ یہ آنیوالی تبدیلیوں کو بغیر کسی دھچکے کے اپنے اندر سمو سکے۔ بالکل ایسے ہی جیسے پل یا فلائ اوورز بناتے وقت یہ خیال رکھنا پڑتا ہے کہ شدیدی گرمی یا سردی میں اسکے بنیادی ڈھانچے میں کتنے انچ تک پھیلنے یا سکیڑنے کی گنجائش چھوڑنی چاہئیے۔ اگ ایسا نہ ہو تو یہ پل زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتے۔ تو آپکا کیا خیال ہے میری اس بات کا حقیقی منظر سے کوئ تعلق ہے یا نہیں۔

    ReplyDelete
  13. یہ تو چلیں دور یعنی پختونخواہ کی کوڑی ہے۔ یہاں کراچی میں میں نے کئی گھرانے دیکھے ہیں جہاں والدین بیٹے کی شادی محض اس لیے نہیں کراتے کہ انہیں یہ خطرہ ہوتا ہے کہ شادی کے بعد وہ بیٹے کی کمائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔ بس اسی وجہ سے وہ 35 سال کی عمر تک شادی سے محروم رکھے جاتے ہیں اور جب یہ امکان رہ جاتا ہے کہ اب مزید عمر گزری تو کوئی رشتہ نہ ملے گا، تب بیچارے کو خواہ مخواہ بیاہ دیا ہے۔ 40 سال کی عمر میں وہ اپنے ننھے منے بچوں کو سنبھالتا رہتا ہے۔

    ReplyDelete
  14. تزئین، تبصرے کا شکریہ۔
    ابو شامل، صرف یہی نہیں بلکہ شادی کے بعد زیادہ تر جھگڑے بھی اسی خطرے کے پیش نظر ہوتے ہیں۔
    منیر نیازی سے معذرت کے ساتھ،

    ایک اور خطرے کا سامنا تھا مجھے

    میں ایک خطرے کے پار نکلا تو میں نے دیکھا

    ReplyDelete
  15. بی بی! لگتا ہے آپکو اپنی کیمونٹی کے علاوہ اور کیمونٹی میں بھی صرف وہ لوگ جو آپ کی طرح سوچتے ہوں انکے علاوہ باقیوں میں پٹھانوں سے سب سے زیادہ خار ہے۔

    جسطرح کسی بھی کیمونٹی میں اچھے برُے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح پٹھانوں میں بھی اچھے برے۔ بہت ذیادہ سنجھدار اور بہت ذیادہ بے وقوف بھی پائے جاتے ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ کی تحریر میں پٹھان غلظ لوگ ہیں۔ کیونکہ ٹیکسی چلانے والے نے آپ کو پشتو لہجے میں گالی دی۔ آپکا نوکر بھی پٹھان تھا۔ غالبا اسے پہلے بھی آپ کہین پٹھانوں کو رگید چکی ہیں۔

    آپ ذرا تصور کریں ایک پٹھان انٹرنیٹ پہ مفت کا ایک بلاگ قائم کرے ۔ اس پہ فارغ وقت اردو بولنے والے یا کراچی کے اردو بولنے والوں کا ٹھٹھا اڑائے ۔ سبھی کے لظیف سنائے۔ تو آپ کے جذبات کیسے ہونگے۔

    آپ کو کس کس سے خار نہیں ۔؟ آپ اس سے پہلے اپنے بلاگ کے موضوع گند گند پہ دیہاتیوں کو گندہ ثابت کر چکی ہیں۔

    بی بی ! یہ اللہ کا کرم ہی ہو تو یہ سب آسانیاں میسر آتی ہیں جنکا آپ اپنے پاس ہونے کو جائز اور دوسروں کے پاس نہ ہونے پہ ان میں میین میخ نکالتی ہیں۔ آج اگر پاکستان میں دیہاتیوں کو صفائی کے طریقے بقول آپ کے نہیں آتے۔ یا پٹھان "آپکے کراچی" میں روزی روٹی محنت اور مشقت سے کماتے ہیں۔ تو اسمیں قصور پاکستان کی اس ایلیٹ کلاس طبقے کا ہے جو پاکستان کے وسائل پہ سانپ بن کر بیٹھا ہے ۔ نہ کہ پاکستان کی محروم اکثریت کا نہ انکی مجبور خواتین کا جن کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے۔ جو رمضان جیسے مقدس مہینے میں قدرے کم قیمت پہ آٹا خریدتے ہوئے اپنی عزتِ نفس اور جانوں کا چڑھاوا اس کلاس کو دے رہا ہے جو انکے وسائل پہ ڈاکہ ڈالے ہوئے پارسا بنے انکا ٹھٹھا اڑاتے ہیں۔

    آپ ضرور کہیں گی کہ اسمیں میرا کیا قصور ۔؟ بس اسمیں کسی کا قصور نہیں تو پھر پاکستان کے غریب کیوں خوار ہیں اور وہ طبقہ جو انکے بارے میں انکا جینا مرنا مقرر کرتا ہے وہ کیوں نہائت آسان زندگی گزار رہا ہے؟

    غریب اس لئیے غریب انپڑھ اور نا سمجھ ہیں کہ پاکستان میں آپ اور مجھ جیسے لوگ ان وسائل کو صرف اپنے مصرف میں لاتے ہیں۔ جن وسائل پہ پوری قوم کا حق بنتا ہے۔ ان وسائل کی خرد برد پہ دوسروں سے قدرے ممتاز لوگ پھر اس پہ اینڈتے ہیں۔ اتراتے ہیں۔
    اسلام اور رجعت پسندی وغیرہ وغیرہ کا آپکے نوکر اور آپ کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں بنتا ۔ اس بارے میں بھی ارشاد فرما دیں ۔ کہ آپ روانی میں یوں لکھ گئیں ہیں یا اسلام میں رجعت پاسندی تلاش کرنے اور گھر سے بھاگنے والے نوکروں کا تعلق اور انکے سماجی یا علاقائی کلچر کو اسلام سے جوڑ کر اسلام کو رجعت پسند قرار دینے کی آپ کے نزدیک کوئی خاص وجہ تھی۔

    آخر میں عرض کرونگا کہ مجھے علم ہے آپ کو میری بہت سی باتیں ناگوار گزریں گی ۔ مگر ایک تبصرہ نگار ہونے کے ناطے میرایہ حق بنتا ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ آپکا اہل علم میں شمار ہونے کی وجہ سےہمیں آپ سے بہت مختلف سوچ کی توقع ہے۔ جس میں آپ پٹھان پنجابی بلوچی سندھی مہاجر کشمیری سب کے لئیے لکھیں۔ اگر نہیں تو براہِ کرم خاص کسی ایک کیمونٹی کو مت رگیدیں۔ ورنہ میرے لئیے آپکی تعریف کردینا چنداں مشکل نہیں تھا۔ مگر میری نظر میں یہ کام منافقت ہوتا۔

    میری دعا ہے کہ اللہ کرے آپ اپنی ضد سے مبرا ہو کر سب کے لئیے لکھیں۔

    میری طرف سے آپ کو اور آپکے تمام قارئین کو عید مبارک ہو۔

    ReplyDelete
  16. آپکے ذریں خیالات کو کسی بھی تبصرہ نگار نے سپورٹ نہیں کیا۔ یہ شاید میری دہشت کا اثر ہے کہ ان سب نے اسے چھیڑنے سے گریز کیا۔
    اب آپکی بہادری کو ہلال جرءات پیدا کرتے ہوئے میں یہ کہنا چاہونگی کہ کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ آپ میرے نام کے ساتھ کسی قسم کا سابقہ اور لاحقہ نہ لگائیں۔ اسی آسانی کے لئے میں یہ سارے آپشن اس تحریر میں ڈال دئیے تھے کہ کوئ انکو ڈھونڈنے کے تکلف میں اپنا وقت ضائع نہ کریں اور اپنے ادھر ادھر کے مشاہدات شیئر کرنے میں دلچسپی لے۔
    تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ غریبوں کے مسائل صرف غریب لکھیں اور وہ بھی صرف انکے عہد کے غریب اگر کسی شخص کا غربت کا کوئ سابقہ تجربہ ہے تو وہ اسے بیان نہ کرے۔ غریبوں کے یہ مسائل صرف غریبوں کی بستی میں غریبوں کے درمیان ڈسکس ہونے چاہئیں اگر انکو انکا شعور ہو تو۔ اگر وہ آگاہ نہیں ہیں تو یہ انکے لئیے، پالیسی بنانے والوں کے لئیے، اور دیگر کچھ بھی کرنے والوں کے لئیے ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ کیونکہ آگہی بذات خود ایک زحمت ہے۔ اگر انہیں آگہی ہو جائے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہوگا۔
    اسی طرح کسی بھی واقعے کو صرف اس طرح سنایا جائے کہ ایک تھا انسان۔ لیکن پھر اس پر انسانوں کو اعتراض ہونے لگے گا کہ انسان ایک نہیں کئ ہوتے ہیں اور انسانوں کے علاوہ اس کرہ ارض پہ دیگر مخلوقات ہیں جنہوں نے زمین پر مشکلات پیدا کی ہوئ ہیں۔ اسکے نتیجے میں ایک وقت ایسا آئے گا کہ انسان صرف ماءونٹ ایورسٹ یا انٹارکٹکا کے گلیشیئرز کے بارے میں لکھا کریں گے۔ اور خود جانور بننے کی ارتقائ مرحلوں سے گذرنے لگیں گے۔
    کیا آپ اپنے گھر والوں کو جب اپنی زندگی کا کوئ قصہ سناتے ہیں تو اس میں سے اس طرح کی ساری باتیں ھذف کر دیتے ہیں۔ اگر آپ میری کمیونٹی کے متعلق اسی طرح کے سچ اس لئے لکھنا چاہتے ہیں کہ اس سے ہماری وہ خامیاں سامنے آئیں تو کسی کو بھی اعتراض نہ ہوگا ۔ لیکن جب ہماری کمیونٹی کی بات آئے گی تو آپکے ذخیرہ ء الفاظ صرف ایک شخصکے تذکرے میں خاہلی ہوجائیں گے۔ اس لئے کہ آپ میری کمیونٹی کے باقی لوگوں سے نہیں ملے اور نہ انہیں جاننے سے آپکو کوئ دلچسپی ہے۔
    مجھے ہر شخص سے دلچسپی ہے اور میں ان پر اپنا فالتو نہیں قیمتی وقت لگاتی ہوں۔ میرا یہ وقت جس میں ، میں آپکو یہ لائینیں لکھ رہی ہوں آپکے کاروباری دوروں سے زیادہ قیمتی ہے۔۔
    میں شاید پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ بلاگ لکھنا میرا وقت گذاری اور شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہے۔ وقت کی میرے پاس کمی ہے اور شہرت کی خواہش نہیں۔ میں اپنے ارد گرد جو کچھ دیکھتی ہوں اور اسکے لئے جو رائے رکھتی ہوں اس پہ لکھنا چاہتی ہوں۔میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ءجننا چاہتی ہوں اس لئیے لکھتی ہوں۔ میرے لکھنے کی ترجیحات خاصی الگ ہیں لیکن چونکہ ابھی آپ ایک مخصوص سوچ سے باہر نہیں نکل پائے ہیں اور ابھی آپ کو مختلدف سوچوں کے حامل لوگوں کی عادت نہیں ہے۔ اس لئے آپ سوچتے ہیں کہ اگر کسی تحریر میں پٹھانوں کا تذکرہ ہے تو وہ پٹھانون کے خلاف ہے۔ میری پٹھانوں کے خلاف صرف ایک تحریر ہے جس میں ، میں انکے علیگڑھ کالونی پر حملے کی مذمت کرتی ہوں اور کرتی رہونگی۔ اسکے علاوہ قومیت میرا مسئلہ کبھی نہیں رہی۔ ناننصافی جڑیں اگر قومیت کے ساتھ جڑی ہ۰وں تو انہیں بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کینسر کے پھوڑے کو ڈھک کر رکھنے سے اسکی بدصورتی نہ نظر آئے لیکن اسکا مہلک ہونا بڑھ جاتا ہے۔
    گند کے متعلق آپکا ارشاد ہے کہ میں نے اسے غریبوں سے جوڑ دیا ہے۔ غربت اسکی ایک بنیادی وجہ ہے۔ غربت کم آگاہ ہونے سے جڑی ہوئ ہے۔ میری ساس کچھ عرصے گلگت کے ایک اسکول میں پڑھاتی رہیں وہ بتاتی ہیں کہ انکے اسکول میں جو کہ اس علاقے کا بہترین اسکول تھا۔ روزانہ کموڈ پتھروں سے بھرا ملتا۔ وجہ بچے صفائ کے لئے مٹی کے ڈھیلے یا پتھر استعمال کرتے تھے اور انہیں پانے سے صفائ کی عادت نہیں تھی۔

    ReplyDelete
  17. ایک امیر اور ان پڑھ شخص طور طریقے سیکھ لیتا ہے لیکن ایک غریب شخص چونکہ ان چیزوں کی معلومات نہیں رکھتا اس لئے وہ نہیں سیکھ پاتا۔ ہمارے ملک کی ستر فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔کیا ہماری حکومت کے لئے یہ ضروری نہیں کہ انہیں واش روم کی ٹریننگ دینے کے لئے مختلف اشتہارات بنائے اور میڈیا میں مہم چلائے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ وہ اپنی مدد آپکے تحت کسطرح زیادہ صاف اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ صرف انہیں اس چیز کا احساس دلاتے رہنا کہ وہ غریب ہیں ، اس سارے مسئلے کا حل نہیں۔ آپکا اپنے طور پر سوچنا کہ میں امیر ہوں اس لئے مجھے ان مسئلوں پر نہیں لکھنا چاہئیے، اسے میں آپکا ایک اور ظلم قرار دونگی۔
    مجھے آپکی یا کسی کی بھی تعریف کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ میری تجاویز یا میری کسی بھی سوچ کا ڈائرہ کسی ایسے شخص تک جاپہنچے جو کچھ کر سکتا ہو تو وہ ضرور کر پائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ میرے پیچھے آنیوالے میرے جونیئر ساتھی بیشتر چیزوں سے آگاہ نہ ہو ں تو انہیں آگاہی ملے۔ اور ایک بات تو لازمی ہے کہ مختلف خیال رکھنے والے لوگوں کو برداشت کرنے کی عادت پڑے۔
    میں جاوید گوندل نہیں ہوںھ۔ میری پیدائش کے وقت سے مجھ پر جو وقت خرچ ہوا ہے اسکے نتیجے میں ، میں عنیقی ناز بن گئ ہون یہ بات جاوید گوندل کو تسلیم کرنی چاہئیے۔

    ReplyDelete
  18. :)
    اسے اس طرح پڑھا جائے' میں عنیقہ ناز بن گئ ہوں،'

    ReplyDelete
  19. بی بی !

    آپکی وضاحت جان کر خوشی ہوئی۔ ورنہ ہم تو سمجھے تھے کہ آپ کے نزدیک پٹھان جاہلیت سے اور غریب گندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اور نیک اور معتبر طبقہ صرف وہی ہے جس سے پاکستان کی ایلٹ کلاس تعلق رکھتی ہے۔

    اللہ آپ کو خوش رکھے۔ اور عید مبارک ہو

    ReplyDelete
  20. اس کا ایک حل تو یہ ہے کہ چار شادیوں پر تو قدغن ہو تاہم سولہ محبتوں پر کوئی روک ٹوک نہ ہو۔

    ReplyDelete
  21. محسن حجازی صاحب اگر چہ یہ اس پوسٹ کا موضوع تو نہیں مگر دلچسپ بات ضرور ہے۔ ہمم ، تو آپ سمجھتے ہیں کہ چار شادیوں کے بعد سولہ محبتیں کرنے کا دل نہیں چاہے گا۔ کچھ اسلامی ممالک میں چار نکاح کے بعد بھی ایک حرم سرا ہوتا ہے۔ جس میں موجود کنیزوں کی تعداد کا کوئ حساب نہیں ہوتا۔
    شاہجہاں کے زمانے میں انکے حرم سرا میں آگ لگ گئ تھی۔ بیشتر کو بچا لینے کے باوجود کہا جاتا ہے کہ اس میں اسی خواتین مر گئ تھیں۔
    ویسے کنیزیں محبت کے دفتر میں داخل ہوتی ہیں یا نہیں یہ الگ بحث طلب موضوع ہے۔ تو پھر چھیڑیں یہ موضوع بھی۔

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ