Thursday, March 4, 2010

دوستی ایسا ناطہ

رابعہ، ایک پندرہ سول سال کی لڑکی ہے۔ ڈیڑھ سال پہلےوہ میرے گھر میں جب آئ تو مشعل ڈیڑھ سال کی تھی۔  اور  یہ وہ وقت تھا جب مشعل کو میری توجہ ہمہ وقت چاہئیے ہوتی تھی۔ اور اکثر جب میں کھانا بنا رہی ہوتی تھی تو مصالحہ بھونتے بھونتے مجھے ایک زوردار چیخ پہ بھاگ کر یہ دیکھنے جانا پڑتا کہ کیا ہوا ہے اور ادھر وہ مصالحہ جل بھن کر ختم ہوجاتا ۔ ایک طرف ٹی سی ایس والا ڈور بیل بجا کر گھر ہلا رہا ہوتا، دوسری طرف فون بج رہا ہوتا اور تیسری طرف میں مشعل کو پکڑدھکڑ کر نہلانے میں مصروف ہوتی۔ گھر کے بزرگان کیساتھ صحت کے علیحدہ مسائل۔ طے ہوا کہ گھر میں صبح سے شام تک کے لئیےکسی مددگار کو رکھ لیا جائے۔ تاکہ ہر وقت کی افراتفری کچھ قابو میں آئے۔
رابعہ کی طبیعت میں کافی بچپنا ہے اور مشعل  سماجی تعلقات بنانے کے فن سے واقف ،  سو دو دیوانوں کی جلد ہی خوب گذرنے لگی۔ جس میں ہم گھر والے کبھی کبھی رقیب کا کردار ادا کرتے تھے۔  مجھے یہ خدشہ بھی لاحق کہ کہیں مشعل اسکے چکر میں نخریلی نہ ہو جائیں۔  اس لئیے اسے نہ صرف مشعل کا کوئ بھی کام کرنے کی منادی تھی بلکہ مشعل کو مکھن لگانے سے بھی باز رکھا جاتا جیسے گود میں اٹھا کر پھرنا۔
رابعہ کو زیادہ کام تو ہوتا نہ تھا اور دونوں دوستیں اکثر ساتھ بیٹھ کر کارٹّونز دیکھتیں اور مختلف کھیل کھیلا کرتیں۔ مشعل اسکے ساتھ اپنی ہر چیز شیئر کرتی چاہے وہ کھلونے ہوں یا چاکلیٹ یا کوئ اچھی بری خبر۔ کھانے کی کوئ بھی چیز رابعہ کو دئیے بغیر مشعل نہیں لے سکتی تھی، چاہے وہ ڈانٹ ہی کیوں نہ ہو۔
یوں بھی ہوتا کہ میں مشعل کی مرضی کیخلاف کوئ کام رابعہ کو کرنے کو کہتی اور وہ رضامندی کے لئے مشعل کی طرف دیکھتی۔ ایسے وقتوں میں مجھے رابعہ کو یہ یاد دلانا پڑتا کہ یہ میں ہوں جس نے پہلے دن اسکو ملازمت پہ رکھنے سے پہلے اسکا انٹرویو کیا تھا۔ لیکن اسکی یاد داشت مشعل سے زیادہ بہتر نہ تھی۔
کچھ عرصے میں گھر میں یہ کسی کے لئیے ممکن نہ رہا کہ وہ مشعل کے سامنے رابعہ کو اسکی کسی بھی غلطی پہ سرزنش کرے۔ کیونکہ وہ اسکے سامنے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر دیوار چین بن جاتی۔ 'لابیہ میری دوست ہے اسے مت ڈانٹیں'۔ یہ خواب کہ میں اب مشعل کے ساتھ زیادہ آرام سے وقت گذاروں گی خواب ہی رہا۔ البتہ اب  مصالحہ بھونتے ہوئے نہیں جلتا تھا۔کیونکہ ان دونوں کا انہماک دیکھ کر میں اسکے حصے کے بھی کام کرتی رہتی۔ کبھی کبھی اسکی ان لاپرواہیوں کی وجہ سے جو وہ مشعل کے بہانے سے کرتی غصہ بھی آتا، مگررانی کی چہیتی کو کیا کہیں۔ 
پھر ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے دن کے کھانے کے لئیےپلاءو بنایا اسے دم پہ چھوڑ کر رابعہ کو اسکی نگرانی پہ معمور کیا  کہ پانچ منٹ میں چولہا بند کر دینا اور گھڑی کی طرف اشارہ کر کے یہ بھی بتا دیا کہ پانچ منٹ کب ہونگے۔ اور خود واش روم کی صفائ پہ لگ گئ۔    جلنے کی  تیز بو پہ باورچی خانے میں گئ تو کھانا اتنا جل چکا تھآ کہ قابل کھا نہیںرہا۔ دیکھا تو مشعل اور رابعہ ٹی وی پہ کارٹون دیکھ رہی تھیں۔
میں نے رابعہ کو کچن میں بلا کر ڈانٹنے کے لئیے ابھی منہ کھولا ہی تھا کہ انکی گاڈ فیری موقع کی ننزاکت کو دیکھتے ہوئے فوراً  نازل ہو گئیں اور حسب عادت اسکے آگے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دئیے۔ میں نے رابعہ پہ گرجنے سے پہلے ایک دھاڑ مشعل کو دینا ضروری سمجھا۔ متوقع طور پہ  وہ روتی ہوئ منظر سے روانہ ہو گئیں کہ ایسا لہجہ انکے ساتھ شاید ہی رکھا گیا ہو۔
تھوڑی دیر بعد، یہ طے کر کے کہ اب کیا کھایا جائے گا۔ میں جا کر لاءونج میں بیٹھی تھی کہ مشعل میرے پاس آگئ ۔'اماں، میں رو رہی ہوں'۔ میں نےتجاہل عارفانہ سے  پوچھا 'کیوں کیا ہوا؟'۔  جواب ملا 'آپ نے مجھے ڈانٹا تھا۔ اس لئیے رو رہی ہوں'۔ میں نے انکی طرف دیکھا اور آنیوالی مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔'سوری بیٹا، لیکن رابعہ نے غلطی کی تھی۔ اس وقت آپکو نہیں بولنا چاہئیے تھا'۔ پھر میں نے انکو اپنے سے قریب کر لیا۔ انہوں نے سسکتے ہوئے  مزید کہا' اماں، آپ نے رابعہ کو بھی ڈانٹا تھا'۔ یعنی مجھے رابعہ  سے بھی سوری کہنا چاہئیے۔ میں نےیکدم اپنی بیٹی کو حیرانی سے دیکھا۔محض  ڈھائ سال کی عمر میں اسے معلوم تھا کہ
دوست کسی کی زندگی میں اس وقت آتا ہے جب کوئ ساتھ نہیں ہوتا۔

20 comments:

  1. بچوں کے سیکھنے کا عمل اور احساسات اتنے سریع نہ ہوں تو ہم بار حیران کیونکر ہوں۔

    ReplyDelete
  2. دوستی ،محبت ، شجاعت وغیرہ شاید اب ماضی کی باتیں بن کر رہ گئی ہیں یا ان معصوم بچوں میں ان کی ایک جھلک نظر آتی ہے ۔ میری نانی دوران گفتگو بتا رہی تھیں کہ نصف صدی پہلے میرے فلاں بزرگ نے دو مربعہ اراضی اپنے فلاں دوست کو مفت دے دی تھی ۔ مفت ؟ مجھے یقین نہیں آیا
    ہاں ۔ وہ سچے زمانے تھے بیٹے ۔ ان وقتوں دوست اور اس کی محبت کو فوقیت دی جاتی تھی۔ اشیاء کو محض آنے جانے والی اشیاء سمجھا جاتا تھا

    ReplyDelete
  3. میری آنکھوں کے سامنے تو معصوم سی صورت آ ری ہے اور وہ بھی روتی ہوئی آپی آپ نے اچھا نہیں کیا مشعل کے ساتھ

    ReplyDelete
  4. ماں تو کہتے ہی اسے ہیں جس میں ہمدردی، خیر خواہی، ایثار نصیحت و برداشت اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہو۔

    ReplyDelete
  5. خرم۔تمام والدین پہ ایسا مرحلہ آتا ہے کہ وہ چاہے سونے کا نوالہ کھلائیں دیکھنا شیر کی نظر سے پڑتا ہے۔ کچھ عرصے میں میری بات سمجھ میں اچھی طرح سمجھ میں آجائیگی۔ ستمبر کوئ زیادہ دور نہیں۔ اور اسکے بعد ، آجکل وقت بڑی تیزی سے گذر جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  6. دوست کسی کی زندگی میں اس وقت آتا ہے جب کوئ ساتھ نہیں ہوتا!
    اس حساب سے تو آپ میری سب سے اچھی دوست ہوئیں کیونکہ آپ اس وقت سامنے آئیں جب بلاگنگ کی دنیا میں میرا کوئی دوست نہیں تھا اور وہ بے شمار باتیں جو میں کہنا چاہتا تھا لیکن جھجھک یا کہنے کا ڈھنگ نہ آنے کی وجہ سے کہہ نہ پاتا تھا آپنے کہہ کر میرے دل کا بوجھ ہلکا کیا!
    :)

    ReplyDelete
  7. آپ نے اچھا کیا کہ مثالوں کے ساتھ کوٹنے اور ٹوکنے کا فرق سمجھا دیا!
    انیقہ :)
    خرم کو آجکل ایسی باتوں کی سخت ضرورت بھی ہے تاکہ وہ اس ڈپریشن سے باہر آسکے!

    ReplyDelete
  8. چودہ پندرہ سال کی بچہ کو ملازمت پر رکھنا
    کیا چائلڈ لیبر کے زمرے میں نہیں آجاتا

    ReplyDelete
  9. جعفر، میں اس سوال کی منتظر تھی۔ دیر میں آیا۔ اس طرح کے دکھاوے کے قوانین بنا تو دئیے جاتے ہیں مگر انکی وجوہات کو ختم نہیں کیا جاتا۔
    اسکی وجہ تو غربت ہے، لوگوں کے لئیے ذراِئع روزگار کا نہ ہونا ہے۔
    چھوٹے بچے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ چوریاں کرتے ہیں حتی کہ لوگوں کی جنسی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ صرف اس لئیے کہ کچھ پیسے مل جائیں۔ اس سے بہتر تو یہی ہے کہ انہیں کام سکھایا جائے۔
    اس ساری افسوسناک صورت حال سے ہٹ کر رابعہ میرے پاس جو کام کرتی ہے وہ میں اپنی سگی امں کے ساتھ دس گیارہ سال کی عمر میں کیا کرتی تھی۔ اس معاملے میں میری امان کافی سخت تھیں اور پڑھائ کی بھی رعایت نہیں دیتی تھیں۔ بقول انکے پڑھتا تو انسان اپنے لئیے ہے اپنا علم کسی کو دے تھوڑی دیتا ہے۔۔ ہم سب اسکے حقوق پورے طور پہ ادا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے حصے کے کام اپنی مرضی اور حساب سے کرتی ہے۔ خوش، مگن رہتی ہے۔ کوئ اسے کبھی جھڑکتا تک نہیں۔ میں نے تو اسے پڑھانے کی بھی کوشش کی لیکن اسکا دل نہیں لگا۔ سب کتابیں کاپیاں اس نے کھو دیں۔ اپنے اطراف کی بے رحم دنیا کے مقابلے میں وہ میرے پاس سکون سے ہے۔ اسکے گھر والون کو اطمینان ہے کہ وہ اس گھر میں محفوظ ہے۔
    اگر وہ کام نہ کرے تو اسکے گھر کا خرچہ کون چلائے گا۔ اور کیا بھیک دینے سے بہتر نہیں کہ انہیں کام کر کے عزت سے جینا سکھایا جائے۔

    ReplyDelete
  10. رابعہ کے تو مزے ہو گئے ٹی وی ديکھنے کی تنخواہ

    ReplyDelete
  11. ہممم۔۔۔ وجوہات پہ جانے سے تو بات بہت لمبی ہوجائے گی

    ReplyDelete
  12. یہ جان کر خوشی ہوئی کہ لوگ چائلڈ لیبر کے حوالے سے سوچ رہے ہیں مگر یہ سوچ نعیم قریشی ایڈوکیٹ کے حوالے سے کہیں نظر نہ آئی نہ کسی بلاگ پر اور نہ کسی تبصرے میں؟ اوہ اچھا وہ نعیم قریشی نہ تو کراچی میں رہتا تھا اور نہ ہی ایم کیو ایم کا رکن تھا!

    ReplyDelete
  13. عبداللہ،
    تم نے ایم کیو ایم کا نام لکھ کر سب پینڈوں کو جگا دئیا ھے

    ReplyDelete
  14. پینڈوں کو نھی گوندل گَند کو جگا دیاھے،، :ہا ہا ہا ہا ہا

    ReplyDelete
  15. اسماء، ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف ٹی وی ہی دیکھتی ہے۔ کام کے معاملے میں جو بات اس سے پہلے دن ہوئ تھی وہ سب کرتی ہے۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں ان سب کاموں کا اس نے ایک ضابطہ بنا لیا ہے۔ اور اس طرح دن کے کھناے کے بعد وہ زیادہ تر فارغ ہوتی ہے۔۔ ٹی وی دیکھنا اس عمر کے افراد کی پسندیدہ تفریح ہوتی ہے۔ اب اس وقت داد جی اور رابعہ ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ مشعل کو فلو ہے اسے میں نے دوا دیکر سلا دیا ہے۔ دراصل اسکا بنیادی مقصد تو دوسراہٹ تھا۔ جو کہ تنہا ہو جانے کی صورت میں مجھے چاہئیے ہوتی تھی اور وہ بھِی ایک چھوٹی بچی کے ساتھ ہونے کی وجہ سے۔ رابعہ طبیعتاً ایک اچھی بچی ہے۔

    ReplyDelete
  16. یہ پوسٹ دیر سے دیکھی ۔ لیکن پہلے یہ بتاتی چلوں کہ عنیقہ ناز کی تحریر اور انداز بیان اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ قاری ایک نظر نہیں ڈال سکتا ۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا ایک دو بار دیکھا ضرور لیکن تبصرہ آرام سے کرنے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی دیری ہوگئی ۔ عنیقہ آپ نے اپنی پیاری بیٹی اور رابعہ کی دوستی کی اتنی خوبصورت تصویر کشی کی ہے ۔ کہ مجھے اپنے بیٹے کے لیے جو لڑکا رکھا تھا وہ یاد آگیا ۔ لیکن میرے ساتھ تھوڑا الگ رہا ۔ جو بچہ میں نے اپنے ولی عہد کےکے لیے رکھا تھا وہ میرے بیٹے سے تقریبا 15 سال بڑا تھا ۔ جبکہ میرا بیٹا کوئی 4 سال کا ہو گا ۔ لیکن انکی دوستی کی وجہ سے وہ لڑکا میرے کام دوڑ دوڑ کر کرتا ۔ جب میں اپنے بیٹے کو ڈانٹی تو وہ لڑکا آگے دیوار بن جاتا کہ نہیں باجی مجھے مار لیں لیکن وی عہد کو کچھ نہ کہیں ۔ بچپن کی دوستی بے لوث ہوتی ہے کسی قسم کی کوئی غرض نہیں ۔ معصوم معصوم سی خواہشات ایک دوسرے کے کام کرنا ۔ ایک دوسرے کے ساتھ کیھلنا کاش کہ ہم بڑے بھی بچوں سے کچھ سیکھ سکتے

    ReplyDelete

آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ