Saturday, August 29, 2009
9 comments:
آپ اپنے تبصرے انگریزی میں بھی لکھ سکتے ہیں۔
جس طرح بلاگر کا تبصرہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، اسی طرح تبصرہ نگار کا بھی بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اس لئے اپنے خیال کا اظہار کریں تاکہ ہم تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھ سکیں۔
اطمینان رکھیں اگر آپکے تبصرے میں فحش الفاظ یعنی دیسی گالیاں استعمال نہیں کی گئ ہیں تو یہ تبصرہ ضرور شائع ہوگا۔ تبصرہ نہ آنے کی وجہ کوئ ٹیکنیکل خرابی ہوگی۔ وہی تبصرہ دوبارہ بھیجنے کی کوشش کریں۔
شکریہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
واؤ۔۔اتنی بڑی مچھلی۔
ReplyDeleteبہت اچھی تصویریں ہیں۔
داداجان ڈیشنگ، بیٹی جان کیوٹ، ابا جان اسمارٹ، مگر اپ کہاں ہیں؟
ReplyDeleteتصویری کہانی مزیدار ہے :)
ReplyDeleteشکریہ ماوراء۔
ReplyDeleteعبداللہ، میں وہ کام کر رہی ہوں جسکا عکس آپ کو نظر آیا۔ اسکے علاوہ میں نے بھی ایک چھوٹی مچھلی پکڑی۔ جو باقی مچھلیوں کے لئے بہتر چارہ ثابت ہوئ۔ یہ ایک مزیدار دن تھا۔
واہ جی واہ آؤٹنگ
ReplyDeleteکھانا شانا کہاں پکایا جا رہا ہے
مطلب اس مچھی کا تیا پانچہ کہاں کیا؟
اسکی تو کوئی تصویر نظر نی آری
ماشاءاللہ۔ آپ کی بچی بہت پیاری ہے ۔ خاصکر جس تصویر میں وہ گودی میں لیٹی کمال معصومیت سے سو رہی ہے وہ تصویر بہت پیاری تصویر ہے۔ صرف ایک بات ان تصوریوں میں اچھی نہیں ۔ آپ نے تصاویر بناتے وقت پس منظر میں نظر آنے والی جابجا بکھری ئی ہوئی گندگی کو ذہن میں نہیں رکھا۔ کیا ہم لوگ آبادیوں کے باہر ویرانوں میں بھی ویسے ہی گندگی پھیلانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے؟
ReplyDeleteبہر حال ۔ اللہ تعالیٰ اس ننھی سی گڑیا کی خوشیاں یونہی سلامت رکھے۔ آمین
ڈفر اس وقت ذہن میں نہیں تھا کہ یہ اس طرح بھی کبھی کام آ سکتی ہیں۔ ویسے گھر جا کر فرائ کر لی تھیں۔
ReplyDeleteشکریہ جاوید صاحب، حالانکہ گوادر ک۸ی آبادی بہت کم ہے۔ یہ جگہ جہاں ہم پہنچے یہ بھی کوئ آسان جگہ نہ تھی۔ مگر پھر بھی لوگوں نے اسے گندہ کیا ہوا تھا۔ صفائ کا ہمارے یہاں کوئ تصور نہیں۔ ورنہ اگر صرف اتنی احتیاط کر لی جائے کہ اپنا کچرہ اپنے ساتھ واپس لے آئیں تو یہ جگہیں بہت حد تک صاف رہ سکتی ہیں۔
تصویر کہانی اچھی لگی۔
ReplyDeleteماشاء اللہ بٹیا بہت پیاری ہیں۔ اللہ کریم ہمیشہ اپنی رحمتوں کے حصار میں رکھے انہیں۔ تصویر کہانی خوب بیان کی آپ نے۔
ReplyDelete