Showing posts with label آمریت. Show all posts
Showing posts with label آمریت. Show all posts

Friday, January 28, 2011

انقلاب اے انقلاب

تیونس سے بھڑکنے والی آگ کے شعلے مصر تک جا پہنچے۔  تیونس کے صدر زین العابدین بن علی نے مشتعل عوام سے بھاگ کر سعودی عرب میں پناہ لی۔ فرانس نے انہیں پناہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔  ادھر مصر میں ہزاروں لوگوں نے حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاج میں حصہ لیکر ناراضگی کا جمعہ منایا۔ یوں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ہجوم سے نبرد آزما صدر حسنی مبارک نے کرفیو کا نفاذ کر دیا۔
لوگوں کو اس احتجاج کے لئے جمع کرنے میں جدید ٹیکنالوجی نے بڑا حصہ لیا۔ پچھلے دو دنوں میں انٹر نیٹ سرگرمی مصر میں اتنی زیادہ رہی کہ حکومت نے انٹرنیٹ پہ پابندی لگا دی۔ اس سے پہلے سے متائثرکاروباری حلقے کو سخت نقصان پہنچا۔

  دونوں ملکوں میں جو قدر مشترک ہے وہ آمریت کا ایک طویل عرصے تک اقتدار پہ قابض رہنا اور اسے قائم رکھنے کے لئے اپنی قوم کو ہر طرح کے دباءو میں رکھنا،  بد ترین معاشی حالات اور ایک ہی ملک کے اندر مختلف طبقات کے اندر غیر متوازن فرق۔ عوام کو جاہل رکھا جا سکتا ہے مگر بھوکا نہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ عمل یمن اور اردن میں بھی دوہرائے جانے کا امکان ہے اور جلد یا بدیر سعودی عرب بھی اسکی لپیٹ میں آئے گا۔  یوں عرب دنیا ایک بڑی تبدیلی سے دوچار ہونے جا رہی ہے۔  طویل شخصی حکومتوں کے عادی نظام کس نئ سمت میں جائیں گے یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ان انقلابات کو دیکھ کر پاکستان میں کچھ لوگوں نے یہ امید لگائ ہے کہ شاید ہم بھی ایسے ہی کسی انقلاب کی طرف گامزن  ہونے والے ہوں۔ لیکن کیا عوام کسی انقلاب کی طرف جانے کو تیار ہیں۔  آئیے دیکھتے ہیں یہ ویڈیو۔