Showing posts with label ایٹم بم. Show all posts
Showing posts with label ایٹم بم. Show all posts

Friday, August 3, 2012

سائینس کا بحران

پاکستان میں کوئ سیاسی یا معاشرتی انقلاب آئے یا نہ آئے، سائینسی انقلاب دستک دے چکا ہے۔  ایک کے بعد ایک نوجوان سائینسداں اور انکی ایجادیں ایسے سامنے آرہی ہیں جیسے  بغیر دانت والے منہ سے پان کی پیک نکلتی ہے۔ ایک ایجاد  ابھی ابھی سامنے آئ ہے۔ ملاحظہ کریں۔ 
   اس حیرت ناک ایجاد کے ساتھ ہی ایک اور نوجوان سائینسدان کے خیالات سننے کو ملے۔ جسے ہمارے ایک فیس بک کے ساتھی  نے شیئر کیا۔ جس سے ہم بیک وقت رنجیدہ بھی ہوتے ہیں اور تفریح بھی لیتے ہیں۔ اگر مذہب میں عامر لیاقت ایک نئ علامت ہیں تو سائینس میں بھی عامر لیاقتوں کی کمی نہیں ہے۔  دل کو ایک اندیشہ سا لگا ہوا ہے کہ ہو نا ہو یہ وینا ملک کو استغفار سے روکنے کا نتیجہ ہے کہ سائینس کا دجال ہمارے یہاں نازل ہو گیا۔ آئیے یہ ویڈیوز باری باری دیکھتے ہیں۔
پہلی ویڈیو میں ہمارے بوٹنسٹ بارش لانے کا ایک نسخہ بتا رہے ہیں اور اینکر خاتون اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ بادل آجانے کے بعد اگر خواتین گھروں میں جھاڑو پھیریں تو بارش برس کر رہتی ہے۔ تو سنئیے کہ بارش کس طرح جھاڑو دینے سےلائ جا سکتی ہے۔


ہمارے نوجوان بوٹنسٹ یہیں پہ بس نہیں کرتے بلکہ اپنے تفکر پہ نیوٹن کے کشش ثقل کے قانون کو بھی نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ ہیں جناب، یہ بھی کوئ سمجھ میں آنے والی بات ہوئ کہ  ایک ہزار کلو گرام کا جسم اور ایک کلوگرام کا جسم ایک ہی رفتار سے زمین پہ گرے۔ نیوٹن کے اس قانون کو اب تک کیسے لوگ صحیح تسلیم کرتے آرہے ہیں؟ آئینسٹائین نے ایسوں کے لئےکہا تھا کہ
“A clever person solves a problem. A wise person avoids it.”
ایک چالاک شخص ایک مسئلے کو حل کرتا ہے لیکن عقل مند اس سے دور رہنا پسند کرتا ہے۔



جس طرح سلاد کی سیزننگ چاہئیے ہوتی ہے اس طرح ہمارے یہاں اب کوئ بھی چیز مذہب کی سیزننگ کے بغیر نہیں ہو سکتی اسکا نمونہ ہمارے یہی بوٹنسٹ پیش کرتے ہیں اور اپنے خیالات میں برکت کے لئے آخیر میں ایک مذہبی تائثر بھی جمع کرتے ہیں۔


 
اہم سوال یہ ہے کہ اب اس وقت جبکہ بجلی کا بحران اپنے عروج پہ ہے۔ پاکستانیوں کی توجہ سائینس کی طرف کیوں مبذول ہو گئ ہے؟ سائینس کا بحران پیدا کیا گیا ہے یا یہ مکافات عمل ہے ؟ سائینس نے انتقام لیا ہے؟
یا کیا انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ سائینس ہی انکے مسائل کو حل کر سکتی ہے۔ شاید وہ آئیسٹائین کے ایک اور مقولے پہ عمل کرنا چاہتے ہیں جس میں اس نے کہا کہ اگر آپ اپنے بچوں کو ذہین بنانا چاہتے ہیں تو انہیں پریوں کی کہانیاں سنائیں اور اگر اور زیادہ بنانا چاہتے ہیں تو اور زیادہ کہانیاں سنائیں۔
“If you want your children to be intelligent, read them fairy tales. If you want them to be more intelligent, read them more fairy tales.
اور سائینس انکے لئے پریوں کی کہانیوں سے کم نہیں۔ ایک تضادات سے بھرپور تعلیمی نظام رکھنے کے بعد تو سائینس پریوں ہی کی کہانی لگتی ہے۔ جس میں پری ہاتھ میں جادو کی چھڑی لئے ہوتی اور خبیث جادوگرنی جھاڑو پہ گھومتی پھرتی ہے۔ یہ جھاڑو آج نجانے کیوں بار بار ذکر میں داخل ہو رہی ہے۔ شاید جھاڑو واقعی بارش کا شگن ہو۔ یہاں تو سائینسداں یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو شاید قحط سالی کا سامنا کرنا پڑے۔
کچھ لوگوں کے خیال میں عوامی سطح پہ اس قدر زیادہ محرومی کا احساس بڑھ چکا ہے کہ لوگ ہر اس تماشہ دکھانے والے کے گرد جمع ہو جاتے ہیں جس سے انہیں ذرا بھی توقع ہوتی ہے کہ وہ انکا مسیحا بن سکتا ہے۔ یہ بھی ایک عبرت کا مقام ہے کہ ہم ہر تماشہ دکھانے والے کو پذیرائ دینے کو تیار ہیں۔ یعنی
تیرے انتظار میں کس کس سے پیار میں نے کیا
پانی سے چلنے والی کار کے قصے میں آغا وقار ہی کا نام نہیں آتا بلکہ عبدالقدیر خان صاحب بھی میڈیا میں کچھ زیادہ مثبت انداز سے سامنے نہیں آ سکے۔ ایک متوقع مسیحا نے دوسرے تسلیم شدہ مسیحا کو ٹھکانے لگانے کا بند و بست کر ڈالا۔
 عبد القدیر خان صاحب کا نام اگر چہ کہ سدرۃ المنتہی کا درجہ رکھتا ہے جس سے آگے جانے کی جراءت پرویز مشرف نے ہی کی۔ لیکن اب ان کا سحر بھی ٹوٹتا دکھائ دیتا ہے۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا۔ اس وقت خان صاحب کا نام پیچھے ڈال کر ڈاکٹر ثمر مبارک کا نام اخبارات کی زینت بن گیا تھا۔ نواز شریف نے ڈاکٹر ثمر مبارک کو مبارک باد دی۔ نوے کی دہائ میں جب ایسا ہوا تو کراچی کے عوام کی اکثریت نے اسے نواز شریف کی کراچی سے تعلق رکھنے والے اس سائینسدان سے لسانی عصبیت کو وجہ جانا۔
اس وقت کچھ دوستوں نے دبے لفظوں میں کہا کہ دراصل خان صاحب اتنے نیک نہیں جتنے جانے جاتے ہیں اور نہ ہی اتنے بڑے سائینسداں۔ جو لوگ انکے قریب رہتے ہیں وہ انکی شخصی سطحیت کے واقعات سناتے ہیں۔ لیکن اسے انکے خلاف بنی جانے والی سازشوں کا جال سمجھا گیا۔
پھر اسکے کافی عرصے بعد مجھے ایک بلاگ کا لنک ملا۔ جس میں اے کیو خان پہ خاصہ عجیب الزام لگایا گیا تھا۔ سالوں پہلے بھیجے گئے اس لنک کو مجھے تلاش کرنا پڑا۔ اس وقت تو میں نے اسے ہونہہ کہہ کر ایک طرف ڈال دیا تھا۔ یہ ہے اسکا لنک۔ ان لوگوں کے لئے جن کے لئے ڈاکٹر عبد القدیر خان ایک انسپیریشن کی حیثیئت رکھتے ہیں۔ ان سے بے حد معذرت۔
 خیر آئیسٹائین ایک اور مزے کی بات کہتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دنیا جیسی ہم بناتے ہیں ہمارے تخیل کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اسے اپنے خیالات کو تبدیل کئے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔  
The world as we have created it is a process of our thinking. It cannot be changed without changing our thinking.”
میں سوچ رہی تھی کہ اگر ہم یہ سوچ لیں کہ ہمیں تبدیل ہونا ہے، ہمیں اپنی دنیا تبدیل کرنی ہے تو ہم تبدیلی کا آغاز کس نکتے سے کریں گے؟

Friday, March 23, 2012

پاکستان؟

آج جب گھر سے نکلی تو ٹی وی پہ قومی ترانے چل رہے تھے۔ فیس بک پہ لوگ تیئیس مارچ جیسے قومی دن پہ اپنے  جذبات سے فضا کو پرجوش بنائے ہوئے تھے۔  گھر سے باہر نکل کر بس جمعہ بازار تک گئ ، سبزیاں لینے اور یہ طلسم ٹوٹ گیا۔
ہوا یوں کہ جب میں نے امرود والے کے اس دعوے کے رد میں کہ اس نے بقول اسکے بہترین امرود رکھے ہیں۔ ایک بھی داغ دار نہیں ہوگا۔ ایک کے بعد ایک چار داغدار امرود نکال کر واپس رکھے تو بازار ان نعروں کی آواز سے گونج اٹھا جو سڑک سے آرہی تھیں۔ دوکاندار کی داغدار زبان رک گئ اور اسکی توجہ روڈ پہ ہو گئ۔ میں نے بھی مڑ کر دیکھا  بلا کسی خوف کے کہ کوہ قاف میں تو موجود نہیں ہوں۔ ایک کے بعد کئ منی بسیں گذریں جن پہ لوگوں کا ہجوم جئے سندھ نیشنلسٹ پارٹی کے جھنڈے لئے بیٹھا وہ نعرے لگا رہا تھا جنکے مطلب  اور معنی سے وہ خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہے تھے۔ یہ گاڑیاں شہر کے اس حصے کی طرف سے آرہی تھِں جہاں سندھی بلوچ گوٹھ ہیں۔ یہ وہ عوام ہے جو پیچھے پلٹ کر دیکھ نہیں سکتی۔ اس لئے نہیں کہ پتھر کی بن جائے گی اس لئے کہ اسے پیچھے دیکھنا ہی نہیں آتا۔ دیکھنا تو اسے آگے بھی نہیں آتا۔ جو انکے جدی پشتی رہ نما دکھا دیں وہی دِکھنے لگتا ہے۔
گھر آکر شہر کے حالات جاننے کا تجسس ہوا کہ ایک دوست سے ملنے کا وعدہ تھا۔ معلوم ہوا کہ  سندھ کی آزادی کا مطالبہ رکھنے والی اس ریلی کے شرکاء کی وجہ سے شاہراہ فیصل پہ بد ترین ٹریفک جام ہے۔ اور اس رکے ہوئے ٹریفک میں مسلح افراد نے لوٹ مار شروع کی ہوئ ہے۔
یہ جئے سندھ کی اس سلسلے میں پہلی ریلی نہیں تھی۔ ابھی چار دن پہلے بھی میں انکی ایسی ہی ریلی میں پھنسی اور جہاں جانے کا ارادہ تھا اسے ترک کے واپس آگئ۔
میں نے اپنا گھر سے نکلنے کا خیال منسوخ کیا۔ اور سوچنے لگی کہ ایک طرف بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد جنگ سردار لندن، فرانس اور امریکہ میں بیٹھ کر لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پختون خواہ میں انتہا پسندوں نے تحریک چلائ ہوئ ہے کہ انکے علاقے کی علاقہ غیر والی حیثیت بحال کر کے اسے حکومت  پاکستان کے رائج قوانین سے نہ صرف نجات دی جائے بلکہ باقی کے ملک میں بھی انکی مرضی کا نظام حکومت لایا جائے۔ جسے وہ شرعی حکومت کا نام دیتے ہیں۔ ادھر خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کی شہہ پہ اچانک جئے سندھ والوں کو سندھ کی آزادی کے نعرے پہ دوبارہ کھڑا کر کے کراچی میں اودھم مچانے کی اجازت دے دی گئ ہے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں کسی خفیہ ہاتھ نے کراچی کی دیواروں پہ مہاجر صوبے کا مطالبہ بھی لکھنے کی کوشش کی۔  ادھر پنجاب  میں جنوبی پنجاب باقی پنجاب سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ ادھر باقی پنجاب نئے سرے سے مسلمان ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اب ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے۔ یہ ملک یہاں کی بنیادی اقوام کو چاہئیے یا نہیں؟
مجھ سے ایک بزرگ نے دریافت کیا کہ یوم پاکستان کیوں منایا جاتا ہے؟ میں نے مطالعہ پاکستان میں برسوں پڑھے ہوئے جواب کو طوطے کی طرح دوہرا دیا۔ اس دن دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ پاکستان بنانے کا مطالبہ ایک قرارداد کی صورت میں مسلمانوں کی طرف سے متفقہ طور پہ پیش کیا گیا تھا۔ پھر پاکستان کا پہلا آئین بھی اسی دن پیش ہوا۔
انہوں نے دریافت کیا لیکن جس دن بنگلہ دیش بنا۔ نہ صرف اس قرارداد سے تعلق رکھنے والا  پاکستان اس دن ختم ہو گیا تھا بلکہ واقعی اگر کوئ دو قومی نظریہ تھا تو وہ بھی اس دن غلط ثابت ہوا۔  رہا آئین تو اس  پہلے کے بعد کئ آئین آئے۔ یہ آئین جسکی بگڑی ہوئ شکل اب موجود ہے۔ جو بھٹو نے بنایا۔ اسے قوم کو دینے کے بعد چوبیس گھنٹوں میں اس میں پہلی ترمیم ہوئ، جو بھٹو ہی نے کی تھی مخالفین کو دبانے کے لئے۔ اس لئے ان دونوں وجوہات کی بناء پہ تو اب اس دن کو بالکل نہیں منانا چاہئیے۔ کیوں مناتے ہو تم لوگ یہ دن؟
کیوں مناتے ہیں ہم یہ دن، کیا اس لئے کہ قومی ترانوں کو گانے کی پریکٹس ہو سکے یا اس لئے کہ اپنی منافقت کی ہم مزید مشق کر سکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اگلی نسلوں میں اپنی پوری آب و تاب سے منتقل نہ ہو سکے؟
ملک کی سیاسی حالات کی ابتری کا اندازہ لگانے کے لئے مزید اشارے دیکھیں۔ گیلانی صاحب عدالت کے زور دینے پہ بھی سوئس حکومت کو خط لکھنے کے لئے تیار نہیں۔ انکے بقول وہ صدر صاحب کی پیٹھ میں چھرا نہیں مار سکتے۔ یہ نہ کر کے وہ  پاکستان کے سینے میں چھرا مار رہے ہیں اسکا انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں بلکہ پرواہ بھی نہیں۔
 اعتزاز احسن جو ججوں کی بحالی تحریک میں آگے آگے ہو رہے تھے۔ جسکی وجہ اب یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ بس مشرف کے لکھے کو مٹانا چاہتے تھے۔ اس کیس میں انہوں نے بھی اپنے ضمیر کی شاید صحیح قیمت وصول کر لی ہے۔ کہتے ہیں عدالت کو گیلانی صاحب کے گدی نشیں ہونے کا تو خیال کرنا چاہئیے۔
یہی نہیں، ادھر برہمداغ بگتی کے اوپر سے سارے مقدمات واپس۔ کیوں جناب؟ اس لئے کہ بلوچستان کہیں پاکستان سے الگ نہ ہوجائے۔ پھر پاکستان کے  یہ چھوٹے چھوٹے لوگ کیوں سزائیں بھگتتے ہیں اس لئے کہ وہ کسی نواب خاندان سے نہیں۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ پولیس اور عدالت کا نظام ہی ختم کر کے اس عذاب سے جان چھڑائیں۔
طالبان سے مذاکرات کر کے انکے مطالبات پہ غور ہونا چاہئیے۔ وہ کس لئے؟ کیونکہ ملک میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ جنونیوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے جائیں۔
ادھر کل زرداری صاحب  کو تاحیات صدر منتخب کیا جائے گا۔ وہ کیوں بھئ؟ کیونکہ اگر وہ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے تو جئے سندھ والے تو سندھ کو پاکستان سے الگ کر کے لے جائیں گے۔ 
یہ پاکستان کیا کاغذ پہ ایک نقشے کا نام ہے؟ 
پاکستان کیا کسی قرارداد کا نام ہے؟
پاکستان کیا کسی نظرئیے کا نام ہے؟
پاکستان کیا ایک کرکٹ ٹیم کا نام ہے؟
حقیقت کچھ یوں نظر آتی ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کو، سرداروں کو، جاگیرداروں کو، نوابوں کو اگر اسکے چھوٹے چھوٹے حصے بنا کر  وہاں کا والی وارث بنادیا جائے تو نہ صرف یہ اسے اپنی خوش قسمتی جانیں گے بلکہ انکے زیر سایہ آنے والے عوام بھی اس نشے میں کئ نسلیں زمین پہ رینگ کر گذار لیں گے۔
آخر ہم یوم پاکستان کیوں مناتے ہیں؟ جبکہ ہم پاکستان پہ یقین نہیں رکھتے۔
جب ہم الگ ہو جائیں گے تو کس حصے کا نام پاکستان ہوگا اور کیا وہاں یوم پاکستان منایا جائے گا؟
اور  اب آخری سوال وہ کیا چیز ہے جو پاکستان کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے؟ دائیں بازو والے شاید ایک دفعہ پھر اسکاجواب مذہب دیں لیکن میرے خیال میں شاید ایٹم بم۔ کیونکہ الگ ہوتے ہوئے  ان قوتوں کو یہ بھی تو سوچنا پڑے گا کہ آخر ایٹم بم کس کے حصے میں جائے گا۔ 

Sunday, May 24, 2009

خبردار ہم ایک ایٹمی قوت ہیں

اپنے بچپن میں میں ہم ایک کھیل کھیلتے تھے جس میں ہم بچے ایک تخت پہ چڑھ کر بیٹھ جاتے اور ایک فرضیہ بھوت کو تخت کے نیچے محسوس کرتے اور زور زور سے چیختے تھے ایک فرض کئے ہوئے خوف کے زیر اثر۔چیخنے کے بعد بڑا مزہ آتا۔ اور ہر تھوڑی دیر بعد یہ سیشن ہوتا۔ میری نانی کے گھر میں ایک کونے میں پڑا ہوا تخت بس اسی مقصد کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ اسے اڈرینالن ہائپ کہتے ہیں۔ ایک سنسنی سے گذرنا اور پھر اس سے لطف اندوز ہونا کیونکہ کافی دیر تک خون رگوں میں پارہ بن کر بھڑکتا اور دوڑتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں،

پلٹنا جھپٹنا، جھپٹ کر پلٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

لیکن بات پلٹنے جھپٹنے سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے۔ اب میدانوں میں شمشیر کے کمال دکھا نے والے شمشیر زن نہیں رہےبلکہ کسی لیبارٹری میں ایک میز پہ جھکا وہ خود غرض شخص ہے جو طاقت کے کھیل میں شامل فریقین کے اڈرینالن ہائپ سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ کیوں اسے بھی تو ناموری کا شوق ہے۔ بد نام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا۔ لاکھوں انسانوں کو بیک جنبش انگلی اس صفحہء ہستی سے مٹا دینا اب ہوا کتنا آسان۔ ایٹم بم کی بدولت۔ اب ہمیں کس کا شکریہ ادا کرنا چاہئیے۔اڈرینالن ہائپ کے شکار حکمرانوں اور انہیں شہہ دینے والی قوتوں کا۔ فوجی ھتھیاروں کی سپلائ کرنے والی صنعتوں کا۔ یا انسانیت کے دشمنوں کاجو انسان نامی مخلوق کو اس دنیا سے مٹانے کی کوششوں میں رات دن مصروف ہیں اور اسی تندہی سے مصنوعی طریقوں انسان پیدا کرنے کی کوششوں میں بھی۔

آئنسٹائن کے نظریہء اضافت کو استعمال کرکے امریکہ نے ایک پروجیکٹ کی بنیاد رکھی۔ جس کا نام رکھا گیا۔ پروجیکٹ مین ہیٹٹن۔اس پروجیکٹ کو جناب آءنسٹائن کی تائید حاصل تھی۔ اس پروجیکٹ میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور یورپ کے طبعیات دان، انجینیئرز اور حساب دان شامل تھے۔ اسکے نتیجے میں بننے والے پہلے ایٹم بم کو دی گڈگت کا نام دیا گیا۔ ۱۹۳۹ ء میں بم بنانے کے کام کا آغاز ہوا۔ اور ۱۹۴۵ میں اسمیں کامیابی حاصل ہوئ۔ اس وقت ان چھ سالوں ،میں اسپروجیکٹ پردو بلین ڈالر کا خرچہ آیا۔ پہلا دھماکہ ا۱۹۴۵ کی جولائ میں میں نیو میکسیکو میں امریکہ صاحب بہادر نے کیا۔

پروجیکٹ مین ہیٹن کے نگراں رابرٹ اوپنار نے پہلے دھماکے کے بعد سر خوشی کے عالم میں کہا۔

'I am become death, the destroyers of world.
'اب میں موت ہوں، دنیاءووں کو نیست ونابود کرنے والا۔

اور اگلے دو دھماکے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی میں بالترتیب چھ اور نو اگست کو کئے گئے۔انسانی تاریخ میں یہ ایک گھناءونے دن کے طور پہ یاد رکھا جائے گا۔ لاکھوں انسان ، زندہ انسان چشم زدن میں صفحہء ہستی سے نابود ہو گئے۔اور جو بچ گئے وہ نشان عبرت بن گئے ان کی ان نسلوں نے بھی اسے بھگتا جو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوئ تھیں۔ دھماکے کے فوراً بعد ہیروشیما میں بم گرنے کے مرکز سے لیکر ڈھائ میل کے علاقے میں ہر جلنے والی چیز جل کر ختم ہو گئ۔ آپ کو پتہ تو ہوگا کہ انسان بھی آگ سے مامون نہیں۔ باقی بچ جانے والے لوگ ایٹم بم سے نکلنے والی تابکار شعاعوں کے شکار ہوئے اور مختلف لاعلاج قسم کے امراض میں مبتلا ہوئے۔ ان کی آنے والی نسلوں میں خون کا کینسر عام تھا۔ اور آج بھی وہ مکمل طور پر اس سے چھٹکارا نہیں پاسکے۔ یہ عذاب خدا نے ان پہ نہیں اتارا تھا۔ یہ بہت سارے انسانوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ قدرت نے تو بس ہمیں اشارہ دیا کہایٹم بم کی تابکار شعاعیں اگر ہمارے دشمن کی نہیں تو ہماری بھی نہیں ہیں۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں جاپان نے دس اگست ۱۹۴۵ کو ہتھیار ڈال دئیے۔ یوں دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا۔ جاپانیوں نے بعد میں ایٹم بم تیار کرنے کی کوشش نہیں کی انہوں نے اپنی تعلیم اور ہنر مندی میں اضافہ کیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ خود امریکہ کے اندر امریکی مصنوعات کے بجائے جاپانی مصنوعات کو ترجیح دی جانے لگی۔یوں آج جاپانی دنیاکی سب سے محنتی قوم ہے۔



پاکستان نے۲۸ اور ۳۰ مئ ۱۹۹۸ میں پانچ ایٹمی دھماکے کئے۔ یہ دھماکے ان دھماکو ں کے جواب میں کئے گئے جو انڈیا نے اسی مہینے کی گیارہ اور تیرہ تاریخ کو کئے گئےتھے۔خیال تھا کہ اس طرح دونوں ملکوں کے درمیان تناءو کم ہوگا اور دونوں ممالک اپنے دفاعی بجٹ کو کم کر کے اپنے عوام کی بہتری کے لئے کچھ کام کریں گے۔ اب تک تو ایسا ہونے کے کوئ آثار نہیں۔
انڈیا اس سے پہلے بھی ۱۹۷۴ میں اپنا پہلا ایٹمی دھماکہ کر چکا تھا۔ اگر آپ ہنسنا چاہیں تو اس پروجیکٹ کا نام بھی سن لیجئے اس کا نام تھا 'مسکراتا ہوا بدھا۔' یہ کسی بڈھے یا بدھ کے نام پر نہیں۔ بلکہ گوتم بدھ کے نام پہ تھا۔ جنہوں نے راج پاٹ چھورا اور نروان حاصل کرنے کے جنگلوں کا رخ کیا۔ اورایک لمبا عرصہ کی تپسیا کے بعد یہ عقدہ کھولا کہ انسان ہر جاندار سے محبت کرنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔

خیر اس قسم کے مذاق ہمارے پڑوسی اکثر کرتے رہتے ہیں۔ ان پہ کیا دل جلانا۔ دل تو اس بات پہ جلائیے کہ ان پانچ ٹیسٹوں پہ جو پاکستان نے کئے قریباً ۱۰۰ملین ڈالر کا خرچہ آیا۔ یقیناً انڈیا کا بھی اتنا ہی خرچ ہوا ہوگا۔ پاکستان اپنے بجٹ کا ایک چوتھائ حصہ دفاع پہ خرچ کرتا ہے یہی حال انڈیا کا بھی ہے۔ دونوں ملکوں کی کل آبادی ساری دنیا کی آآبادی کا پانچواں حصہ ہے اور دونوں ملکوں کے غریبوں کی کل تعداد دنیا بھر کے غریب لوگوں کا چھٹا حصہ ہے۔آنڈیا میں کل آبادی کا ۲۰فی صد حصہ غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہا ہے۔ پاکستانابھی غربت کے اس اسکیل پہ تو نہیں پہنچا مگر خودکشی کرنے والوں کی شرح میں اضافہ ہے جو گھریلو مسائل سے تنگ آکر خودکشی کرتے ہیں۔ معاشرے کےاندر بڑھتی ہوئَ شدت پسندی کا رحجان بھی پیسے کی غیر منصفانہ تقسیم کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ بھوکے کو تو چاند سورج بھی روٹیاں نظر آتے ہیں۔اور جب یہ صحیح طریقے سے حاصل نہ ہو تو محبت اور جنگ کی طرح اس کے حصول میں بھی ہر چیز جائز ہو جاتی ہے۔

جنگ میں، ایکدوسرے کو مار ڈالنے کا جذبہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ ہابیل اور قابیل کی تاریخ۔ ایک زمانے میں جنگیں اپنی بقاء، جذبہء انتقام یا حکمرانی کے دائرے کو بڑھانے کے لئے استعمال ہوتی تھیں۔ فی زمانہ اپنا ابنایا ہوا اسلحہ بیچنے کے لئے بھی جنگیں کرائ جاتی ہیں یا ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں جن میں متعلقہ فریق احساس خوف کا شکار ہو کر ان لوگوں سے ان کی شرائط پہ اسلحہ خریدنے کے لئے مجبور ہو۔ نتیجتاً مختلف ممالک کے اندر شورشیں برپا کی جاتی ہیں ۔ پھر شورش برپا کرنے والے کو بھی اسلحہ ملتا ہے اور ان کو روکنے والوں کو بھی۔ یوں اسلحے کے بازار میں کساد مندی نہیں پیدا ہو پاتی۔

دنیا بھر کے جی ڈی پی کا دو فیصد حصہ اسلحے کی تیاری پہ خرچ ہوتا ہے۔ اس کے بڑے سپلائرز میں امریکہ، روس ، برطانیہ، جرمنی اور چین شامل ہیں۔ امریکہ چھتیس فیصد اسلھہ سپلائ کرتا ہے۔ سوچیں ذرا اگر آج دنیا بھر کے انسان تہیا کرلیں کہ وہ جنگ میں شامل ہونے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح کو ترجیح دیں گے تو ان ممالک کو کتنا نقصان ہو۔اس لئےفوج، معاشیات اور سیاست کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے عوام ہوتے ہیں۔وہ اس کا اسلحہ ہوتے ہیںاور بلڈنگ میٹیریل بھی، اسکو تعمیر کرنے والے بھی اور اسے ختم کرنے والے بھی۔ اگر کسی ملک کے لوگ ایک اکائ بن کر نہیں سوچتے تو کوئ ایٹم بم انہیں جوڑ کر نہیں رکھ سکتا۔اپنے پڑوسی انڈیا کی ہمیں تعریف کرنی چاہئیے کہ وہ ہم سے زیادہ مخلص ہو کر اپنے ملک کے لئے سوچتے ہیں اور اس پہ فخر کرتے ہیں۔ کہنے کو ہماری زبانیں اسلام کا نام لیتےنہیں
تھکتیں۔

لیکن جب بھی ہمارے یہاں کوئ شورش برپا ہوتی ہے اس میں ہمارے ہی مسلمان بھائ ان سے پیسہ اور اسلحہ
لیکر ہماری جڑیں کاٹتے ہیں۔ دو فریقین ایکدوسرے پہ اللہ اکبر کہ کر حملہ آور ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے ہیں۔آفریں ہے ہماری منافقت پہ۔

اس وقت دنیا میں کم از کم نو ممالک کے پاس یہ مہلک ہتھیار موجود ہے۔ایٹم بم اس توانائ سے حاصل کیا جاتا ہے جو ایٹم کے مرکز کو جوڑ کر رکھتی ہے۔ ہم مرکز توڑتے ہیں اور یہ توانائ ہمیں مل جاتی ہے۔ اس توانائ کا حصول دیگر بہت ساری ماحولیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میںپیدا ہونے والے تابکارفضلے کو اسی دنیا میں جمع کرتے ہیں جس میں آپ اور میں رہتے ہیں اور اپنے بچوں کے لئے خواب بنتے ہیں۔ اگر دنیا میں اتنی ہی تیزی سے ایٹمی تابکاری پھیلتی رہی تو وہ دن دور نہیں جب یہ آلودہ دنیا انسانوں کے رہنے کے قابل نہ رہے گی۔ ہم تو اس وقت نہ ہونگے لیکن آنے والی انسانی نسل ہم سب سے شدید نفرت کریگی۔

خیر ہمیں اس سے کیا، ہمارے گذر جانے کے بعد کوئ ہم سے نفرت کرے یا محبت۔
اس وقت ایک بس کا شعر یاد آرہا ہے
قتل کرنا ہے تو نظروں سے کر تلوار میں کیا رکھا ہے
سفر کرنا ہے تو ون ڈی سے کر ، کار میں کیا رکھا ہے
ہائے یہ سادہ دل بس والے اور میں، یہ میری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو۔

ریفرنس؛
ایٹم بم کی ایجاد

پہلا ایٹمی دھماکہ

پاکستانی فوج