Showing posts with label فوج. Show all posts
Showing posts with label فوج. Show all posts

Wednesday, October 17, 2012

لٹل ریڈ رائڈنگ ہڈ گرل

فرض کریں کہ انصار عباسی صاحب دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہے ہیں کہ راستے میں رک کر ایک ٹھیلے والے سے پھل لے کر اپنی گاڑی کی طرف واپس پلٹتے ہیں لیکن اسی اثناء میں ٹھیلے پہ لگا بم پھٹ جاتا ہے اور انصار عباسی سمیت بیس لوگ لقمہ ء اجل بن جاتے ہیں۔ لوگ افسوس کریں گے کہ انصار عباسی صاحب لا علمی میں کس طرح مارے گئے۔
اب یہی واقعہ ایک اور طرح سے پیش آتا ہے۔ انصار عباسی ساحب جس گروہ پہ تنقید کرتے ہیں اسکی طرف سے انہیں قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں وہ گاڑی میں جا رہے ہیں ۔ ٹھیلے والے کے پاس رک کر پھل خرید ہورہے ہوتے ہیں کہ ایک موٹر سائیکل پاس آ کر رکتی ہے اس پہ سوار افراد ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ انصار عباسی ہیں اور انکو گولی کا نشانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں اگلے دن انکو دھمکی دینے والی تنظیم اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے۔
کیا ان دو واقعات پہ رد عمل ایک جیسا ہوگا؟
جی نہیں۔ پہلے واقعے میں پاکستان کے سیکیوریٹی کے حالات اور انکی وجوہات ڈسکس ہونگیں۔  دوسرے واقعے کو پاکستانی جرنلزم پہ اندوہناک وار کہا جائے گا۔ اور ہر شخص جو انکا نظریاتی طور پہ کتنا ہی مخالف ہو اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ جرنلسٹ کی حیثیئت سے انکا قتل ایک سانحے سے کم نہیں۔ یہ آزاد  صحافت پہ حملہ ہے۔
دھیرج رکھیں، انصار عباسی صاحب ابھی زندہ ہیں۔ خدا انہیں طویل عمر دے۔
بس یہیں سے ملالہ کا ملال شروع ہوتا ہے۔
ملالہ کی کہانی سن کر لٹل ریڈ رائڈنگ ہڈ گرل  کی کہانی یاد آتی ہے جسے اسکی ماں باسکٹ میں کھانے کی اشیاء دے کر بیمار نانی کے پاس جنگل کے اس طرف بھیجتی ہے اور راستے میں اسے ایک بھیڑیا مل جاتا ہے۔
ملالہ ، ملال یہ نہیں ہے کہ تمہیں کس نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ نہ ہی یہ ملال ہے  کہ اسلام کا نام لینے والوں نے یہ دعوی کیا کہ انہوں نے تمہیں گولی ماری۔ بہت عرصہ ہوا لوگ مر رہے ہیں اور ہم یہ دعوے سن رہے ہیں۔ نہ ہی یہ ملال ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ چونکہ تم نے شریعت کے خلاف جا کر کام کیا اس لئے تم اس سزا کی حقدار ہو۔ شرعی معاملات کو نافذ کرنے کے لئے اب ہمارے یہاں ٹھیلے پہ سبزی بیچنے والا بھی بے قرار ہے یہ جانے بغیر کہ شریعت کس چڑیا کا نام ہے۔  نہ ہی مجھے اس بات کا ملال ہے کہ طالبان نے کہا کہ کیا ہوا تم بچ گئ وہ دوبارہ تمہیں مارنے کی کوشش کریں گے۔ ہم دیکھ چکے کہ وہ اپنی بات میں کتنے اٹل ہیں۔ 
 میں تمہیں اتنا ہی جانتی ہوں جتنا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔ یہاں بہت سارے لوگ معاشرے کی تباہ ہوتی اقدار کے بارے میں فکر مند ہیں مجھے تمہارے بارے میں جان کر کیا کرنا۔ وہاں وادی ء سوات میں بے شمار لڑکیاں ہونگیں جو اپنی تعلیم پہ فکر مند ہونگیں۔ جنہیں اپنے ساتھ یہ دوسرے درجے کا سلوک پسند نہیں ہوگا۔ بس یہ کہ تم ان لڑکیوں کے لئے ایک علامت بن گئیں۔ زیادہ تر لوگ تو اس علامت کو درپیش خطرے سے صدمے میں آئے۔ 
 در حقیقت میں تم سے زیادہ تمہارے والدین کی بہادری کی قائل ہوں۔ آخر تمہارے والدین نے تمہیں گیارہ سال کی عمر میں اس قسم کی مضامین لکھنے کی اجازت کیوں دی جس میں تم لڑکیوں کی تعلیم کی بات کرو وہ بھی ایسے علاقے میں، اس عہد میں جب کہ صرف اس فتوی کے آنے کی دیر تھی کہ بحیثیئت عورت پیدا ہونا ایک غیر شرعی عمل ہے۔ آخر انہوں نے تمہیں وہ سبق کیوں نہیں پڑھایا جو ہمارے یہاں اس وقت خواتین کو پڑھایا جانا پسند کیا جاتا ہے؟  
لیکن پھر بھی مجھے ایک ملال سا ہے۔ اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ نہیں جنہوں نے تمہیں گولی ماری بلکہ وہ لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد سامنے آتے ہیں۔
لوگوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ طالبان نے یہ نہیں کیا امریکہ نے کیا ہے فوج نے کیا ہے۔ لیکن اس کے اگلے ہی لمحے وہ کہتے ہیں کہ کیا آپکو معلوم ہے کہ ملالہ  کی فیورٹ شخصیت اوبامہ ہے، یا یہ کہ کیا آپ نے ملالہ کے مضامین پڑھے ہیں؟ انہیں پڑھے بغیر آپ ملالہ کو مظلوم کیوں سمجھتی ہیں؟  ڈرون حملوں میں  بچے مارے جاتے ہیں آپ اسکی مذمت نہیں کرتیں تو ہم ملالہ کی مذمت کیوں کریں؟ پاکستان میں ایک نہیں لاکھوں ملالائیں ہیں ہم صرف اسکی مذمت کیوں کریں؟ وہ ہمارے یہاں کی ایک اور مختاران مائ ہے۔  ہم کیوں نہ کہیں کہ عافیہ صدیقی اور جامعہ حفصہ کی لڑکیوں سے اگر آپکو ہمدردی نہیں تو ہمیں بھی ملالہ سے ہمدردی نہیں؟
آخر ملالہ نے ایسا کون سا کام کیا ہے جس پہ اسکی اتنی شہرت ہے؟  ہمارے یہاں تو ایسی لاکھوں ذہین لڑکیاں ہیں۔ عین اسی وقت دوسرا سوال پوچھتے ہیں کہ وہ جو مضامین اس نے لکھے ہیں اس عمر کا بچہ تو لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس عمر میں بچے نہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں اور نہ اتنا سوچتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ دراصل اس کے ساتھ جو ہوا اس کے اصل ذمے دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسکی باتوں پہ اس کی حوصلہ افزائ کی۔
یہیں پہ دل ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ یہ تک کھوج کر نکال لاتے ہیں کہ کیا ہم جانتے ہیں کہ ملالہ کے دیندار دادا نے ملالہ کے سیکولر نظریات رکھنے والے والد کو اسکے کفر کی وجہ سے نوجوانی میں گھر سے باہر نکال دیا تھا۔
ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں، جو کہتے ہیں کہ طالبان تو وجود ہی نہیں رکھتے یہ تو امریکیوں کا پھیلایا ہوا وہم ہے۔  لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پھر آپ طالبان کی مذمت کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں تو پھر ایک آئیں بائیں شائیں۔
اس وقت ایک چودہ سالہ لڑکی برطانیہ کے کسی ہسپتال میں ہوش و خرد سے نا آشنا کسی بستر پہ مشینوں کے سہارے پڑی ہے۔ وہ اگر ایک طویل علاج کے بعد زندگی کی طرف لوٹ بھی آئے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کس حد تک تندرست ہوگی۔
لیکن میرے جیسے دلوں میں یہ خیال کروٹیں لے رہا ہے کہ بستر پہ پڑا وہ وجود ایک چودہ سالہ لڑکی کا ہے یا چونسٹھ سال کے ملک کا ہے۔ 
  

Saturday, September 22, 2012

کیا واقعی؟

اب کچھ بھی لکھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ رسول اللہ پہ بنائے جانے والی فلم کے متعلق میرا کیا خیال ہے۔
 ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں کسی بھی قسم کا فضول مواد نیٹ پہ ڈالنا کسی بھی شخص کے لئے کوئ مشکل کام نہیں۔ اسکی مثال وہ فحش مواد ہے جو خود مغربی معاشرے کے لئے ایک مصیبت سے کم نہیں۔
ہمارے یہاں اس فلم کے اوپر غم غصے کا ہونا بجا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسلام  کے پیغمبر، کوئ تصوراتی شخصیت نہیں ہیں۔ انکی یہی خوبی جہاں ایک مسلمان کے لئے بے حد کشش کا باعث بنتی ہے وہاں نہ ماننے والوں کے لئے تنازعوں کا کھڑا کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔
میرے نزدیک یہ فلم  آزادی ء اظہار رائے کے ضمن میں نہیں آتی بلکہ اسکا تعلق ہیٹ میٹیریئل یعنی نفرت انگیز مواد سے ہے۔  سو اس سلسلے میں مسلمانوں کا یہ مطالبہ اپنی جگہ درست ہے کہ اسے نیٹ پہ سے ہٹایا جائے کیونکہ یہ مسلم دنیا سے نفرت کا اظہار کرتی ہے۔ اور جب تک اسے نیٹ پہ سے نہیں ہٹایا جائے گا۔ مسلم دنیا یہ تسلیم کرنے میں حق بجانب رہے گی کہ یہ نفرت انگیز مواد ، مسلم دنیا کو مشتعل کرنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔
مسلم دنیا  اس سلسلے میں کیا کر سکتی ہے؟
یہ ایک اہم سوال ہے۔ ایک اجتماعی حل تو یہ ہے  کہ تمام مسلم ممالک کو اس سلسلے میں متحد ہو کر کسی ایسے بین الاقوامی قانون کے لئے کوشش کرنی چاہئیے جس سے اس قسم کے نفرت انگیز مواد کا پھیلاءو ممکن نہ رہے۔ 
لیکن اس سے پہلے ہمیں بحیثیئت پاکستانی خود سے بھی پوچھنا چاہئِے کہ کیا ہم دوسرے مذاہب کی تکریم کرتے ہیں۔ کیا ہم دوسرے انسانوں کو یہ آزادی دیتے ہیں کہ وہ اپنے مذہب پہ جیسے دل چاہے عمل کریں۔
کل میری نظر ایک مضمون پہ سے گذری جو کسی مغربی لکھاری کا لکھا ہوا تھا اور انہوں نے اس میں بے شمار چیزیں گنوائیں جو مسلمان ، غیر مسلموں کے لئے کہتے ہیں اور جو نفرت انگیز مواد میں شامل ہونا چاہئیے۔ جب ہم دل آزاری کے اس مرحلے سے بغیر کسی قباحت کے گذر جاتے ہیں تو اپنی باری میں پہ ہم کیوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے رسول کی تکریم ہو تو ہمیں اپنے اعمال کی بھی نگہداشت کرنی چاہئیے۔

ON CHRISTIANS Hasan Rahimpur Azghadi of the Iranian Supreme Council for Cultural Revolution: Christianity is “a reeking corpse, on which you have to constantly pour eau de cologne and perfume, and wash it in order to keep it clean.”http://www.memritv.org/clip/en/1528.htm — July 20, 2007.

Sheik Al-Khatib al-Baghdadi: It is permissible to spill the blood of the Iraqi Christians — and a duty to wage jihad against them.http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/0/5200.htm — April 14, 2011.

Abd al-Aziz Fawzan al-Fawzan, a Saudi professor of Islamic law, calls for “positive hatred” of Christians. Al-Majd TV (Saudi Arabia),http://www.memritv.org/clip/en/992.htm — Dec. 16, 2005.

ON SHIITES The Egyptian Cleric Muhammad Hussein Yaaqub: “Muslim Brotherhood Presidential Candidate Mohamed Morsi told me that the Shiites are more dangerous to Islam than the Jews.” www.memritv.org/clip/en/3466.htm — June 13, 2012.

The Egyptian Cleric Mazen al-Sirsawi: “If Allah had not created the Shiites as human beings, they would have been donkeys.” http://www.memritv.org/clip/en/3101.htm — Aug. 7, 2011.

The Sipah-e-Sahaba Pakistan video series: “The Shiite is a Nasl [Race/Offspring] of Jews.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6208.htm — March 21, 2012.

ON JEWS Article on the Muslim Brotherhood’s Web site praises jihad against America and the Jews: “The Descendants of Apes and Pigs.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6656.htm — Sept. 7, 2012.

The Pakistani cleric Muhammad Raza Saqib Mustafai: “When the Jews are wiped out, the world would be purified and the sun of peace would rise on the entire world.”http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6557.htm — Aug. 1, 2012.

Dr. Ismail Ali Muhammad, a senior Al-Azhar scholar: The Jews, “a source of evil and harm in all human societies.” http://www.memri.org/report/en/0/0/0/0/0/51/6086.htm— Feb. 14, 2012.

ON SUFIS A shrine venerating a Sufi Muslim saint in Libya has been partly destroyed, the latest in a series of attacks blamed on ultraconservative Salafi Islamists.http://www.bbc.co.uk/news/world-africa-19380083 — Aug. 26, 2012.


عوام کی مذہب کے نام پہ  سلطان راہی بننے کی لگن دیکھتے ہوئے سیاستداں بھی اس سے کم فائدہ نہیں اٹھاتے۔ کیونکہ مذہب کا نام لے کر کسی کو قتل کر دیں یا کسی کی زمین چھین لیں یا کسی کو قید کرا دیں یہ کوئ مشکل کام نہیں۔ معاشرہ بھی اسے برا نہیں سمجھتا۔ جو اس چکر میں پھنستا ہے اسکی جاں بخشی اس ملک کی سرحدوں کے باہر ہی ممکن ہو پاتی ہے۔ سو وہ لوگ جو آجکل خواب میں بھی اپنے ہاتھ میں تلوار اور سامنے گستاخ کا سر دیکھتے ہیں انکو بلور صاحب نے پیغام دیا ہے کہ گستاخ فلم بنانے والے کے سر کی قیمت انہوں نے رکھ دی ہے۔ جسے ہو شوق جائے کرے شکار اسے۔ اس طرح صوبہ ء سرحد میں موجود طالبان کو انہوں نے ایک سخت چیلینج دیا ہے۔ دیکھتے ہیں طالبان  کیا زیادہ سخت سزا اس گستاخ کے لئے رکھتے ہیں۔ بلور صاحب سے معذرت کے ساتھ کیا یہ پیغام تشدد، شدت پسندی اور نفرت انگیز جذبات کو ہوا دینے والا نہیں ہے۔
ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ مغربی ممالک میں کئ دہائیوں سے بسنے والے لوگوں کی زندگی کیا ان مغربی لوگوں نے اجیرن کی ہوئ ہے۔ کیا وہ انکے سامنے انکے نبی کی توہین کرتے ہیں۔ مجھے آج تک کوئ ایک شخص مغرب میں ایسا نہیں ملا جس نے مجھ سے میرا مذہب پوچھا ہو یا میرا مذہب جاننے کے بعد کوئ توہین آمیز ریمارک دیا ہو۔
کسی بھی ایسے گستاخ کے سر کی قیمت رکھ کر یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں پاگلوں کی کمی نہیں۔ کیا سلمان رشدی کے سر کی قیمت رکھنے کے بعد لوگوں نے مرنے کے ڈر سے گستاخی کرنے کی جراءت نہیں کی؟
مجھے یقین ہے کہ یہ اس سلسلے کا آخری واقعہ نہیں ہوگا جیسا کہ مجھے کارٹونز والے معاملے میں بھی یقین تھا کہ یہ سلسلہ ایسے نہیں رکے گا۔
  اب ہم پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ کل ہمارے یہاں یوم عشق رسول  ایسے منایا گیا کہ لوٹ مار کے واقعات کے ساتھ چھبیس افراد اپنی جان سے گئے۔ یہ وہ بے گناہ ہیں جنہیں کوئ شہید بھی نہیں کہتا۔ مذہبی رجحان رکھنے والے لوگوں نے اس پہ مذمت سے زیادہ اس پہ مذمت کی کہ میڈیا نے پر امن ریلیوں کی کوریج کے بجائے ہنگامے کی کوریج زیادہ کی۔ مجھے جس چیز پہ انتہائ افسوس رہا وہ یہ کہ سوائے فضل الرحمن صاحب کے کسی اور مذہبی تنظیم نے جاں کے زیاں پہ اپنے افسوس کا اظہار نہیں کیا۔ حتی کہ سوشل میڈیا پہ موجود دائیں بازو کا پروپیگینڈہ کرنے والوں کی اکثریت اس وقت ایسے خاموش ہوئ جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ جیسے یہ واقعہ پاکستان میں نہیں مریخ پہ پیش آیا ہو، جیسے مرنے والے ہمارے ہم مذہب اور ہم وطن نہیں بلکہ کسی جنگل میں شیر اور ہاتھی کے درمیان لڑی جانے والی جنگ میں کچلی ہوئ گھاس تھے۔
آخر یہ کیسے ہوا کہ اتنے لوگ ہلاک ہو گئے؟
ایک اسٹیٹس میری نظر سے فیس بک پہ گذرا۔ جس میں لکھنے والے نے لکھا کہ ریلیاں انتہائ پر امن تھی۔ ان میں ہر طرح کے لوگ شامل تھے لیکن معاملہ ان جگہوں پہ خراب ہوا جہاں افغان مہاجرین نے ریلیوں میں شرکت کی۔ یہ افغان توڑ پھوڑ اور ہلاکتوں میں شامل تھے۔ اسکے ساتھ ہی اسلام آباد کے ہنگامے کی تصویر تھی۔
تب مجھے یاد آیا کہ بے نظیر کے مرنے پہ کراچی میں ملیر کے علاقے میں سب سے زیادہ ہنگامہ ہوا۔ لوگوں نے کہا کہ انکے گھروں میں گھس کر نہ صرف لوٹ مار کی گئ بلکہ خواتین کو اٹھا لیا گیا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا ذمہ دار افغان مہاجرین کو بتایا۔
ادھر کراچی میں میری آج ایک صاحب سے بات ہوئ جو حافظ قرآن ہیں اور لیاری کے علاقے میں رہتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ وہ عینی گواہ ہیں کہ کل صدر کے علاقے میں جو لوٹ مار اور جلاءو گھیراءو ہوا وہ لیاری کے امن کمیٹی والوں کا کیا دھرا ہے۔  چند سال پہلے بھی کراچی پیپر مارکیٹ میں آگ لگانے کا ذمہ دار امن کمیٹی کو بتایا گیا تھا۔ حتی کہ اس وقت کی جانے والی لوٹ مار کا سامان بعد میں لیاری کے ایک گودام سے بر آمد بھی کیا گیا۔ یہ پیپر مارکیٹ صدر کے ساتھ ہی ہے۔
 میں نے حیران ہو کر ان صاحب سے پوچھا، لیکن میڈیا اس سلسلے میں کچھ نہیں بتا رہا اور امن کمیٹی والوں کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق؟
کہنے لگے، امن کمیتی کی خبریں میڈیا نہیں دے سکتا۔ مزید یہ کہ  یہ سب ایجنسیز یعنی پاکستانی فوج کے ایماء پہ ہوا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام مذہب کے نام پہ بڑھکوں اور قتل و غارت گری سے بھرپور ڈرامہ دیکھ کر اپنا خون گرم رکھے۔ کیونکہ وہ ایک طرف عوام کو مذہب کے نام پہ طیش میں لاتے ہیں اور دوسری طرف امریکہ بہادر کو جتاتے ہیں دیکھا، ہم نے کتنی مصیبتیں جھیل کر آپکو اپنے علاقے میں تحفظ دیا ہوا ہے۔ اور آپ ہمارے لئے کیا کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف فوج بلکہ حکومت کے بھی پو بارہ ہیں۔
سوسائٹی میں وہ جن لوگوں کو استعمال کر سکتے ہیں انہوں نے کیا، ایک طرف افغان ذرائع انکے قابو میں  دوسری طرف کراچی میں جو قوتیں انکے قابو میں ہیں ان سے بھی حتی الامکان کام لیا ہے۔ مذہبی جماعتیں جہاد کے نام پہ انکے قابو میں ایسے آتی ہیں جیسے تر نوالہ۔
مجھے تو انکی بات پہ شبہ ہی تھا یہ تو آئے دن کا معمول ہے کہ جب کچھ سمجھ نہیں آتا تو کہہ دیتے ہیں کہ اس میں ایجنسیز شامل ہیں۔  لیکن آج صبح جب میں نے کیانی صاحب کا یہ بیان ٹی وی پہ سنا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے تو میں نے سوچا کہ جہاد اور جنگ میں معمولی سا فرق ہے وہ چاہتے تو اوبامہ کی طرح لفظ جنگ استعمال کر سکتے تھے۔ لیکن در حقیقت اس میں اتنا ہی فرق ہے جتنا خدا حافظ اور اللہ حافظ میں ہے۔ عوام کو کتنی آسانی سے سمجھ میں آیا کہ اللہ حافظ سے ہی اللہ ہمیں حفاظت دے گا۔ کیونکہ مسلمانوں کے خدا کا نام اللہ ہے۔ خدا تو ہر کس و ناکس کا ہو سکتا ہے۔ ہر کسی کا خدا خاص امت کا خدا کیسے ہو سکتا ہے۔ کیانی صاحب نے بڑا ناپ تول کر بولا۔
یہ پاک فوج ہے جس نے مذہبی شدت پسندی کا بیج بویا، اسکی آبیاری کی، اسے تناور بنایا، اسکے سائے میں بیٹھ کر اپنے لئے گلشن بنائے اور اب بھی اسکا کردار شفافیت سے محروم ہے۔ 
کیا واقعی؟ پاکستانی فوج  اب تک اس نشے کا شکار ہے کہ وہ بوتل کے جن کو جب چاہے گی اندر کر لے گی اور جب چاہے گی باہر کر لے گی۔ وہ جب چاہے گی مولوی صاحب کی خدمات حاصل کرے گی اور جب چاہے گی مولوی صاحب کو ایک طرف کر دے گی۔ کیا مولوی صاحب اتنے ہی بے وقوف ہیں؟

Friday, September 30, 2011

وہ دیکھو

کبھی کبھی موضوعات میں قرعہ اندازی کرنی پڑتی ہے۔ آج تین موضوع ذہن میں تھے۔ لیکن فال آل پارٹیز کانفرنس کے نام نکلی۔ ایک شاعر نے کہا تھا کہ اسکا چہرہ ہے کہ حافظ کی بیاض، ایسے چہرے سے کوئ فال نکالی جائے۔  سو جس کانفرنس میں ہماری پیاری وزیر خارجہ حنا ربانی کھر موجود ہوں۔ اسی سے کوئ فال نکالنی چاہئیے تھی۔  سب منتظر بھی رہے۔ سنتے ہیں کہ چھ گھنٹے سے زائد کا ٹائم لگا اس فال کو نکالنے میں۔
اسکی وجہ باخبر ذرائع کے مطابق یہ تھی کہ تقریباً ساٹھ رکنی اس کانفرنس میں جب بھی کوئ فال نکالی جاتی۔ اس پہ مندوبین کا متفق ہونا مشکل ہوتا۔ اس میں ہمارے فارسی شاعرحافظ صاحب یا حنا ربانی کھر کا کوئ قصور نہیں، نہ ہی شرکاء کا۔ اصل میں خستہ حال بیاض کا پرنٹ صحیح نہ تھا۔ جیسے ہی صفحہ پلٹو،ٹوٹنے لگتا۔ ارادہ انہیں جہنم رسید کرنے کا، صفحہ دیوان کا۔ اس لئے یہ دقّت پیدا ہوئ۔
اب جو فال نکلی ہے اسکا مطلب بھی لوگ ایکدوسرے سے پوچھتے پھر رہے ہیں۔ حافظ صاحب تو آکر بتانے سے رہے۔ یہ الگ بات کہ کوئ روحانی شخصیت ان سے یہ راز اگلوا لے۔  مردوں کو بلانے کے روحانی طریقے بھی ہوتے ہیں جس میں وہ خاموشی سے اٹھ آتے ہیں ہمیشہ گڑا مردہ کھود کر نہیں نکالتے۔ شرط یہ ہوتی ہے کہ مردے کو واپس بھیجنے کا وظیفہ بھی آنا چاہئیے۔ توقع ہے کہ یا تو ہمارے امریکی مہربان یہ وظیفہ جانتے ہونگے یا پھر ہمارے سالار۔ واپس کس کا مردہ جائے گا، وہی جو آیا تھا۔ آپ سمجھے حافظ صاحب کا، نہیں انکا صرف دیوان کام کا ہے۔
حافظ صاحب کو مرے ہوئے سات سو سال ہو رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ انہیں اپنا دیوان اب یاد بھی ہوگا کہ نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ یہ سن کر ہی بھونچکا رہ جائیں کہ حسین چہروں کو چھوڑ کر لوگ انکے دیوان سے یہ کام لیتے ہیں۔ حافظ صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں رکتی ہوں، ہم دراصل آل پارٹیز کانفرنس پہ بات کر رہے تھے۔ یہ حافظ صاحب خدا جانے کیوں آگئے۔
قوم کو اس کانفرنس سے بڑی امیدیں تھیں۔ خود ہم بھی کچن کی چھریاں تیز کر کے بیٹھے تھے۔ جبکہ ادھر لاکھوں سیلاب زدگان کہہ رہے تھے کہ ان چھریوں کی میخیں بنوا لو جن میں ہمارے خیمے گڑ جائیں گے۔ لیکن ہم نے کہا نہیں۔ ہم اس موقع پہ فوج کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ اور سارا دن اقبال اور فیض کو حفظ کرتے رہے۔ جنگ کے دنوں میں قوم کے عظیم سپوت سامنے آتے ہیں اور امن کے دنوں میں بدترین۔ اگر عظیم بننے کا ایک موقعہ ہاتھ لگ رہا ہے تو بہتی گنگا میں ہاتھ کیوں نہ ڈالیں۔
ادھر  دائیں بازو والے بھی نعرہ ء تکبیر کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے۔ مرگ انبوہ جشنے دارد۔ سنا ہے پرنٹنگ پریس میں کفار سے جنگ کے نعرے تک پرنٹ ہو چکے تھے کہ اس دفعہ تو ہوا ہی ہوا۔ ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق۔


لیکن کانفرنس ختم ہو گئ۔ اب سب ایکدوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کانفرنس کی متفقہ قرارداد کا مطلب کیا ہے؟ آیا اس سے امریکہ خوفزدہ ہوگا یا نہیں۔  اپنا اپنا ہوتا  ہے۔ کیا طالبان کو منایا جارہا ہے یا امریکہ کو۔  یہ کیا بات ہوئ، کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ۔ اگر امریکہ سے جنگ نہ کی تو پھر کیا جیا۔ خوشحال پاکستانی کیسے جنگ لڑنے کی ہمت کر سکتے ہیں، فوج کو بس اتنا ہی ڈرامہ مقصود تھا، اب ڈالرز صراط مستقیم پہ چلیں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔
کوئ میری رائے جاننا چاہتا ہے۔ غالب کہہ گئے ہیں کہ آپ بے بہرہ ہے جو معتقد میر نہیں۔ اور میر کی تقلید میں یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔ شعر کی تشریح سے پہلے سارے استعارے سمجھنا ضروری ہیں۔ اس میں باغ سے غالباً امریکہ  مراد ہے اور گل سے کون ہے۔ یہ مجھے نہیں معلوم۔ یوں تشریح کا سبق تو بند ہوا۔
  گھر کے ایک  پرانے کیسٹ پلیئر سے بچ رہ جانے والی واحد کیسٹ بر آمد ہوئ۔ لگا کر دیکھا تو بج بھی رہی تھی۔ رفیع کے گانے ہیں۔ ایک پرانا گانا بھی ہے۔ کچھ گانے جب بھی بجتے ہیں انکی آب و تاب میں کمی نہیں آتی۔ تال ایسا میل کرتا ہے کہ ہر زمانے کے لئے زندہ، ہر نسل کے لئے کار آمد۔ بعض سیاسی گانے بھی یہی تاثیر رکھتے ہیں۔ جب بجتے ہیں نئ امید اور پرانے نتائج لاتے ہیں۔ یہ گانا انکی نذر جو اعلان جنگ کے منتظر رہے۔


 

Wednesday, May 25, 2011

شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں

اسی طرح رات کو ٹی وی چلا کر کسی بلاگ پہ تبصرہ لکھ رہی تھی کہ اطلاع ملی  شاہراہ فیصل پہ دھماکہ ہو گیا۔ آدھ گھنٹے بعد معلوم ہوا کہ پی این ایس مہران میں بارہ ، پندرہ دہشت گرد گھس گئے۔ س سے آگے اب ایک دنیا واقف ہے کہ کیا ہوا؟
وہ بارہ پندرہ دہشت گرد جو ایک وقت میں بیس بائیس ہو گئے تھے محض تین نکلے باقی کے سب بھاگ گئے۔ انکی تعداد دو سے لیکر آٹھ تک ہے۔ اربوں روپے مالیت کے قیمتی جہاز تباہ ہوئے۔ دس فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ 
ایک طبقہ خوش ہے کہ  فوج نے پاکستانی عوام کو جس طرح تیس سال پہلے بے وقوف بنا کر ایک جنگ میں دھکیلا، ملک کی ثقافت اور مستقبل کو  داءو پہ لگایا آج اسے خود مزہ چکھنے کو ملا۔ دوسرا طبقہ خوش ہے کہ جس طرح ہمارے مجاہدین کے خلاف مہم چلائ گئ ، انہیں شہید کیا گیا، نتیجے میں اچھا تھپڑ پڑا۔ ایک اور طبقہ خوش ہے کہ کیونکہ لگتا ہے بالآخر ہمیں امریکہ سے دو بدو لڑنے کا موقع ملے گا۔ آہا، کندن بننے کے دن آنے والے ہیں۔ کندن بننے کے بعد یقیناً اقوام عالم میں ہم سونے کے بھاءو تولے جائیں گے۔
یہاں ہمارے کچھ ساتھی ایسے ہیں جو دو سال پہلے اس خیال کے شدید مخالفین میں سے تھے کہ کراچی میں طالبان اپنی جڑیں پھیلا رہے ہیں۔ آج وہ سب خاموش ہیں۔ یہاں ہمارے کچھ ساتھی ایسے بھی ہیں جنہیں پنجابی طالبان کی اصطلاح پہ کف آنے لگتا تھا۔ آج وکی لیکس کہہ رہی ہیں کہ پنجاب میں طالبان کو جمانے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے۔ آج وہ بھی  خاموش ہیں۔
ایسے ہر واقعے کے بعد ٹی وی پہ مبصرین کی ایک بڑی فوج دستیاب ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی ایک ٹاک شو میں ، فوج کے ایک اعلی ریٹائرڈ افسر اتنے جذباتی ہوئے، فرمانے لگے پاکستان کی حفاظت دو قوتیں کر رہی تھیں۔ پھر کچھ سوچ کر انہوں نے اس میں ایک اور قوت کا اضافہ کیا ۔ یہ قوتیں فوج، پٹھان اورخدا ہیں۔  اندازہ ہے کہ آخر میں شامل ہونے والی قوت خدا کی ہوگی۔ لیکن پچھلے دس سال میں فوج اور پٹھان کو لڑا دیا گیا اور اس طرح ملک کے دفاع کو کمزور کر دیا گیا۔ 
چلیں فوج تو پاکستانی انسٹی ٹیوشنز میں شامل ہے۔ لیکن کسی قوم کو جاہل اور معاشی طور پہ کمزور رکھ کر۔ ملک میں بسنے والی دیگر قوموں سے الگ کر کے دین و ملت کی حفاظت پہ معمور کر دینا، کہاں تک درست ہے؟
اگر ہم اس بات کو  من وعن تسلیم کر لیں کہ دہشت گردی کی اس فضا کی ساری جڑ امریکہ ہے۔  تب بھی یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس میں جو لوگ حصہ لیتے ہیں اور استعمال ہوتے ہیں وہ ہمارے ہی لوگ ہیں۔ کیا امریکہ میں ہونے والی کسی دہشت گردی میں کوئ امریکی شامل ہوتا ہے۔ حتی کہ ممبئ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے میں بھی پاکستانی یہاں سے وہاں پہنچے۔ لیکن افسوس، ہمارے یہاں دہشت گردی کے ہر واقعے کوانجام دینے والا ایک پاکستانی ہی ہوتا ہے۔ اسکے باوجود کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں امریکی موجود ہیں یہ فریضہ سر انجام دینے کے لئے انہیں پاکستانی مل جاتے ہیں۔ آج تک کسی خود کش حملے میں کوئ امریکی نہیں پھٹا نہ ہی کوئ انڈین۔
یہ لوگ کیوں ان لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔ اسکی دو واضح بنیادی وجوہات ہیں۔ تعلیم کی کمی اور بے روزگاری۔ اسکی تیسری سب سے اہم وجہ ہمارے شمالی علاقہ جات کے عوام کو اس فریب میں مبتلا رکھنا کہ وہ بہادر اور جنگجو ہیں۔ ان پہ دین اور ملک کی کڑی ذمہ داری ہے۔  اس خوبی کے بعد انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، وہ بہادر ہیں بچے کے کان میں اذان سے پہلے گولی کی آواز جاتی ہے۔
کیا ایک قوم بننے کے عمل کے لئے یہی نظریات کارآمد ہوتے ہیں؟ یہ بات ہمیں آدھا پاکستان گنوانے کے بعد بھی سمجھ نہِیں آسکی۔ بنگالیوں کو انکی جسامت اور مذہب کے بارے میں  کے طعنے دینے والے ان سے شکست کھا گئے۔
آزاد علاقوں کے پشتونوں کو ایک پر فریب احساس برتری میں مبتلا کر دیا گیا۔ اور اپنی اس آزادی میں وہ کسی قانون کے پابند نہیں رہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ آزادی کے بعد انہیں پاکستان کی دیگر اقوام کے ساتھ مین اسٹریم میں لانے کی کوششیں غیر محسوس طریقے سے شروع کی جاتیں۔ تاکہ تبدیلی کا عمل آہستگی سے شروع ہو جاتا۔ لیکن کسی نے اس صورت کو تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔  البتہ انکی اس حالت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ اس طرح کے انہیں  کوئ دور رس  فائدہ نہیں پہنچا۔  حتی کہ جنت تک پہنچے اور پہنچانے کے لئے بھی یہی راستہ استعمال کیا گیا۔
انکی اس آزاد حیثت کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے جنگجو وہاں پہنچ کر اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسلحہ کا آزادنہ استعمال ، آزادنہ تیاری، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اگر اس میں کوئ کمی تھی تو وہ عوامی پذیرائ کی۔ وہ ماشااللہ سے پچھلے تیس سالوں کی شبانہ روز محنتوں سے انہیں ایسی ملی کہ ، تیس سال کی داستان تو ایک طرف، پچھلے دس سالوں میں پینتیس ہزار عام پاکستانیوں کے انکے ہاتھوں ختم ہونے کے باوجود ختم نہ ہوئ۔
وہ کہتے ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کروا رہا ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ امریکہ لیبیا میں تو القاعدہ کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے دوسرے ملک میں کیسے اسکے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر ایک ملک میں وہ اسکی مدد کر رہا ہے تو دوسرے ملک میں القاعدہ کے رہنما اس کے دشمن ہونگے۔
آج سے تیس سال پہلے فوج نے امریکہ کا ساتھ دینے کے لئے جہاد کا فلسفہ پھیلایا، اور جہادی کاروبار میں خوب پھلی پھولی، آج سے پندرہ سال پہلے فوج کی سرپرستی میں، امریکہ کی آشیرباد سے طالبان کو افغانستان میں داخل کیا گیا، آج سے دس سال پہلے فوج کی مرضی سے پاکستان امریکہ کی مدد کر کے جنگ کے کاروبار میں شامل ہوا۔ دراصل ہماری فوج اور امریکہ ایک دوسرے کے حلقہ ء اثر میں تین دہائیوں سے چلے آرہے ہیں۔ کس لئے ایک اپنے رسوخ کے لئے دوسرا ڈالرز کے لئے۔ 
اس لئے جب جنرل کیانی نے کہا کہ خوشحالی کے لئے عزت و وقار پہ سودانہیں کریں گے تو مجھے یہ سوچنا پڑا کہ انکا مخاطب فوج کے اعلی عہدے دار ہیں۔ عوام کے پاس نہ خوشحالی ہے نہ عزت اور نہ وقار۔
آج مرنے والا بھی شہید ہے مارنے والا بھی شہید ہے۔ پی این ایس مہران ، کراچی کے واقعے میں  دس شہید فوج کے اور تین شہید دہشت گردوں کے۔ عام پاکستانی  کنفیوز ہے۔ اسے خودکش حملہ آور کا کاز انتہائ نیک لگتا ہے۔ مرنے والوں کا بھی کوئ قصور نہیں۔ یوں شہیدوں کا قافلہ نہ تھمتا ہے نہ رکتا ہے۔

اس سارے واقعے کے بعد جس چیز سے مجھے شدید تکلیف پہنچی وہ لیفٹیننٹ یاسر عباس کی والدہ کی حکومت سے یہ درخواست کہ انکے شہید بیٹے کو نشان حیدر دیا جائے۔
یہ صحیح ہے کہ نوجوان اکلوتے بیٹے کی موت والدین کے لئے ایک بڑا سانحہ ہوتی ہے۔ لیکن ایک ایسے واقعے میں جس میں مزید نو لوگ شہید ہوئے ہیں جد وجہد کرتے ہوئےآخر وہ بھی تو کسی کے بیٹے ہیں۔ یاسر عباس شہید کا خاندان فوج کے اعلی افسران کے لوگوں پہ مشتمل ہے۔ انہیں معلوم ہوگا کہ اس راستے میں یہ کڑے امتحان آتے ہیں۔ پھر ایسی کم بات کیوں کی؟ مجھے نجانے کیوں یقین سا ہے کہ انکی والدہ کو کسی اور نے یہ درخواست کرنے کے لئے کہا ہے۔ ایک ماں کا دل اتنا چھوٹا اور خود غرض نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف اپنے بیٹے کے بارے میں سوچے۔
ابھی اس واقعے کی انکوئری نہیں ہوئ۔ ہم تک جو میڈیا کے ذریعے اطلاعات پہنچی ہیں۔ اگر ان سب کو درست تسلیم کیا جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ اس میں فوج کے اعلی افسران کی کوتاہی شامل نہیں، اس واقعے کا باعث انکی کوتاہ اندیشی  اور نکما پن نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم سمجھ رہے ہیں اسکے بر عکس انہوں نے  دہشت گردوں کو ناکام کر دیا۔ اور انہیں لعنت ملامت کرنے کے بجائے انکا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے۔  اسکے بعد بھی اگر نشان حیدر کا مستحق کوئ شخص نظر آتا ہے تو ایک کرنل کا بیٹا یاسر عباس شہید نہیں بلکہ وہ رینجراہلکار خلیل ہے جس نے یہ جان کر بھی کہ دہشت گرد کے ہاتھوں میں گرینیڈ موجود ہیں اسے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا۔
کیا ہم اسکی اس قربانی اور جوانمردی سے اس لئے گریز کریں کہ وہ اعلی  دولت مند خاندان سے تعلق نہیں رکھتا اور اپنی حیثیت میں کم رینک پہ تھا۔
شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں۔ مگر اسے اب رکنا چاہئیے، شہادت سے پہلے مقام بصیرت پہ۔