Showing posts with label بارش. Show all posts
Showing posts with label بارش. Show all posts

Wednesday, September 14, 2011

میں مر گئیاں

کراچی جغرافیائ لحاظ سے صحرا کا حصہ ہے۔  سمندر کی قربت اور شہر بننے کے عمل نے اسکی صحرائ حالت کو خاصی حد تک چھپا دیا مگر موسم میں ایک ثبات ہے جو اسکے اس پس منظر کی چغلی کھاتا ہے۔ یہاں ایک ہی موسم غالب رہتا ہے اور وہ ہے گرمی کا۔ بقول یوسفی کراچی میں اگر تینتیس ڈگری درجہ ء حرارت جون میں ہو تو گرمی اور اگر یہی ٹمپریچر دسمبر میں ہو تو سردی۔
اس لئے کراچی میں نہ محکمہ ء موسمیات پہ کسی کی توجہ ہوتی ہے اور نہ کسی موسم کی خاص تیاری۔ بس کیلینڈر دیکھ کر ہم سوچتے ہیں کہ اب کون سا موسم منانا چاہئیے۔ سو لان کے کپڑے پہن کر اخروٹ، چلغوزے اور مونگ پھلیاں صرف اس لئے کھانے پڑتے ہیں کہ دسمبر شروع ہو چکا ہے۔
اسی طرح آسمان پہ اگر بادل کی چار ٹکڑیاں  اکٹھا ہو جائیں تو فوراً بیسن میں پانی ملا لیتے ہیں اور کڑہائ چولہے پہ چڑھ جاتی ہے۔ مبادا تیز ہوا کے چلنے سے بادل بکھر جائیں۔ اور یہ مناسب موقع ہاتھ سے نکل جائے۔
اس لئے کسی کو حیرت نہیں ہونا چاہئیے کہ اس شاعری کے تخلیق کار کا تعلق بھی کراچی سے ہے جس نے لکھا وہ میرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں۔ اس لحاظ سے کراچی والے خوش نصیب ہیں کہ امریکہ کے بعد انہیں بعض معاملات میں نصیب کی کارفرمائ بھی نظر آتی ہے۔
شاید اس کی وجہ بہادر شاہ ظفر سے متائثر ہونا ہو انہوں نے بھی اپنی جلا وطنی کی واضح وجہ کمپنی نہیں نصیب پہ ڈالی۔ کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لئے، دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں۔ ہم کراچی والوں نے اس دو گز زمین کا بھی حل ڈھونڈھ نکالا ہے۔ اور سوا گز کی بوری اچھی طرح اسکا متبادل ثابت ہوئی ہے۔ ایک جلا وطنی کا خرچہ بچتا ہے جس سے زر مبادلہ محفوظ رہتا ہے دوسرا بوری کی شکل میں مقامی اشیاء کی کھپت میں اضافہ ہونے سے معیشت مستحکم ہونے کے امکان بڑھ جاتے ہیں۔
صحرائ خطے سے تعلق کی وجہ سے کراچی والوں کو بارش سے وہی والہانہ لگاءو ہوتا ہے جو صحرا کے رہنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ سردی کی نسبت ساون ہمارے یہاں ہر دو چار سال میں حاضری دے دیتا ہے۔  بس اتنی کہ بعض موقع پرست کہتے رہ جاتے ہیں کہ اے ابر کرم آج اتنا برس، اتنا برس کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ موقع پرست دوکان پہ بیٹھا سوداگر بھی ہوتا ہے اور وہ بھی جنکی سوداگری حسن و عشق کے معاملات میں ہوتی ہے یعنی دل دے دے دل لے کر۔ 
لیکن جیسا کہ ہماری حکومتوں کا انداز رہا ہے وہی لڑکیوں کی مشرقی ماءووں والا، وہ ہماری خوشیوں کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہیں دیتیں۔ اگلے گھر جائیں گی تو گذارا کیسے ہوگا سختیوں کی عادت ہونی چاہئیے۔ اس کے لئے ان  کی منصوبہ بندی ہمیشہ تیار ہوتی ہے  ایسے ہی حکومت کی بھی ہوتی ہے یعنی نہیں ہوتی۔


ہم سوچیں کہ بارش میں ذرا فلاں رشتے دار کے یہاں محفل جما لی جائے وہاں وہ بھی ہونگے یا ہونگیں تو گھر سے باہر نکلتے ہی سڑکوں پہ حکومت اور قدرت کے گٹھ جوڑ سے اتنا پانی ہوتا ہے جتنا کہ چناب میں سوہنی کے کچے گھڑے پہ تیرتے وقت تھا۔ ہم تاریخ سے عبرت پکڑتے ہوئے فوراً واپس ہو لیتے ہیں آخر گاڑی کی محبت بھی کوئ چیز ہے۔ وا حسرتا، ہم ان سے فون پہ عشق بگھارنے کی کوشش کر لیں گے۔ گھر آکر پتہ چلتا ہے فون میں ڈائل ٹون نہیں وہ مر چکا ہے۔
ہم سوچتے ہیں کہ کوئ بات نہیں اے محبت زندہ باد ، موبائل فون کے سستے پیکیج آخر کس دن کام آئیں گے۔ معلوم ہوتا ہے لائن پہ اتنا رش ہے کہ  بات نہیں ہو سکتی۔ اتنی دیر میں اطلاع ملتی ہے کہ گھر کے باہر بجلی کا تار گر پڑا ہے یا فلاں کی بیرونی دیوار گر پڑی ہے یا فلاں درخت زمین پہ آرہا۔ دل چاہتا ہے کہ ٹی وی پہ شہر کی خیر خبر معلوم کر لیں کیبل والے کا تار ٹوٹ چکا ہے، فون لائین میں خرابی کی وجہ سے انٹر نیٹ نہیں چل سکتا۔ اسکے بعد؟
یہ ایک اہم سوال ہے اسکے بعد؟ یہ چاہتے ہو ساکنان شہر عشق میں رہو بسو، نہ راس آ سکی تمہیں وہاں کی آب و ہوا تو پھر۔ اوروں کا نہیں پتہ ہم بیٹھے چھوٹی پرچیوں پہ لکھ رہے ہیں قاف قاف آسمان صاف۔ ہماری ساس صاحبہ کا کہنا ہے کہ ادھر بھوپال میں جہاں انکا بچپن گذرا، جب بارش تھمنے کا نام نہیں لیتی تھی تو وہاں لوگ یہ پرچیاں لکھ کر درختوں پہ ٹانگ دیتے تھے۔ 
آہ صحرائ محبت، کہاں تو ریت کے بگولے دیوانہ وار اٹھتے ہیں اور باریک باریک ذرے نشتر کی طرح روح  کو اس طرح چھلنی کر ڈالتے ہیں کہ سب ملیا میٹ۔ اس عالم میں سوائے یہ کہنے کے اور کچھ باقی نہیں رہتا ، تیرے عشق نچایا کر کے تھیّا تھیّا، چھیتی آویں وے طبیبا نئیں تے میں مر گئیاں اور کہاں پانی کے چند چھینٹے پڑے  یہ ریت ایسی بیٹھتی ہیں , اس میں وہ گل و گلزارپھوٹ پڑتے ہیں جو وہم و گمان میں نہیں ہوتے۔ آہ صحرائ محبت، آہوئے بے اختیار۔ لیکن ایک بات مجھے سمجھ نہیں آتی یہ جس جگہ کوئ بس نہیں چلتا وہاں تعویذ ٹوٹکے کیسے کام کر جاتے ہیں۔ خیر، یہ میری آخری پرچی ہے قاف قاف آسمان صاف۔ اب دیکھئیے ,  آسمان کیسے صاف ہوگا۔

 

Thursday, July 29, 2010

اسلام آباد فضائ حادثہ

آج کے دن تک آپ میں سے بیشتر لوگ یہ اندوہناک خبر سن چکے ہونگے کہ ائیر بلو کے جہاز کے کریش ہونے کی وجہ سے اس پہ سوار تمام ایک سو باون لوگ ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ لوگ جو اپنے مستقبل کے منصوبے بناتے ہوئے اپنے پیاروں کو خدا حافظ کہہ کر گئے۔ پھر کبھی  لوٹ کر نہ  آئیں گے۔
میں نے پورے دن میں تین دفعہ ٹی وی دیکھنے کی کوشش کی۔ اور ہر دفعہ پانچ منٹ بعد بند کر دیا۔ اس طرح اندوہناک عالم میں مرنے والوں کے خاندانوں کا غم اپنا ہی لگ رہا  ہے مگر میں اس خبر کی خریدار نہیں بننا چاہتی۔ 
جہاز پہاڑ کی چوٹی سے ٹکرایا اور پاش پاش ہو گیا۔ اس پہاڑی علاقے میں لوگوں کی باقیات بکھر گئیں جہاں عام طریقے سے پہنچنا مشکل تھا۔ مددگاروں کو اس جگہ تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ بنانا پڑا کہ پہلے سے کوئ راستہ اس پہاڑی پیچیدہ علاقے میں موجود نہ تھا۔ بارش کی وجہ سے پھسلن شدید تھی اورمدد کا پہنچنا مزید مشکل ہو گیا۔
 میڈیا کے وارے نیارے ہو گئے۔ بہت دنوں بعد ایسی خبر ملی جس میں لوگوں کی دلچسپی ہوتی کہ باقی خبروں کہ ہم عادی ہو گئے ہیں۔وارے نیارے کیوں؟  ایک منہ چرانے والی حقیقت یہ بھی ہے کہ عام لوگوں کو ایسے منظر اپنی طرف کھینچ کر رکھتے ہیں جس میں لوگ رو رہے ہوں، تڑپ رہے ہوں، بے بس نظر آرہے ہوں۔
اگر کاروباری نظر سے دیکھا جائے تو بہت دنوں بعد کسی خود کش حملے کے بجائے کسی اور ذریعے سے اتنے بہت سے لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ سو میڈیا نے حسب کاروبار اس پہ سارا دن خرچ کر دیا۔ ایک ہی فوٹیج کو بار بار دکھانا، بربادی اور اندوہناکی کو اس جگہ سے دکھانا جہاں سے وہ زیادہ ہولناک لگیں۔ غمزدہ خاندانوں کے گھر پہنچ کر انکے رشتے داروں سے تاءثرات لینے کی کوشش میں سبقت حاصل کرنے میں لگے رہنا۔ حالانکہ ابھی تو انہوں نے مرنے والے کو دیکھا بھی نہیں ہوگا اور شاید ابھی تو وہ یقین کرنے کے مراحل سے گذر رہے ہونگے کہ ایسا ہوا بھی ہے۔ لاشیں نہیں دکھا سکتے تو کیا  شناختی کارڈ تودکھا سکتے ہیں۔ چینلز کے درمیان شناختی کارڈ کی تعداد کا مقابلہ۔
 اس افراتفری میں کسی مددگار کے منہ سے جو نکلا اسے خبر بنا کر نشر کر دیا۔ ایک چینل پہ دی جانے والی خبر کہ ایک خاتون زندہ بچ  گئیں غلط ثابت ہوئ۔ کسی چینل نے فوراً ہی یہ قیاس ظاہر کیا کہ طیارہ نو فلائ زون میں اڑ رہا تھا۔ یعنی حادثہ راکٹ کے لگنے سے بھی ہو سکتا ہے۔ یہ خبر بھی غلط نکلی کیونکہ  جہاز رن وے پہ جگہ نہ ہونے کے باعث فضا میں چکر کاٹ رہا تھا۔  ویسے بھی ایئر پورٹ سے اتنے قریب نو فلائ زون کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ دونوں خبریں تو میں نے دیکھیں۔
ایک بلاگ پہ یہ قیاس تک ظاہر کیا گیا کہ جعلی ڈگریوں کے سلسلے سے توجہ ہٹانے کے لئے شاید یہ حادثہ کیا گیا۔ حادثے ساری دنیا میں ہوتے ہیں اصل بات یہ معلوم کرنا ہوتی ہے کہ  اس میں انسانی لا پرواہی تھی یا کوئ ٹیکنیکل خرابی۔ 
 ایسے حادثوں کے فوراً بعد جن اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس میں مدد کا فوری طور پہ جائے حادثہ تک پہنچنا  اور جہاز میں موجود لوگوں کے بارے میں آگاہ ہونا۔ تاکہ انکے رشتے داراور دوستوں  کومعلوم ہو کہ متعلقہ شخص جہاز میں تھا یا نہیں۔
اس سلسلے میں میڈیا کو کچھ باتوں کا پابند ہونا چاہئیے۔ مثلاً مرنے والوں کی تعداد کا جب تک تصدیق نہ ہوجائے اپنے طور پہ اعلان نہ کریں۔ ایک شدید زخمی بے ہوش شخص اور مردہ جسم کے درمیان ایک اخباری رپورٹر دور سے دیکھ کر کیسے رائے دے سکتا ہے۔ یہ تو ایک ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے۔ اپنی سنسنی خیز خبروں کو کم از کم ایک دن کے لئے تو معطل رکھیں تاکہ وہ جو اس اندوہناک حادثے سے گذرے ہیں وہ اس چیز کو تسلیم کرنے کے قابل ہو سکیں۔ ہم لاکھ کہیں کہ انکا غم ہمارا غم ہے یہ محض الفاظ ہی رہیں گے کہ جو اس سے گذرتا ہے وہی جانتا ہے اور صبر بھی آتے آتے ہی آتا ہے۔ اس قسم کی خبروں کے دوہرانے کی تعداد اور انکے درمیان وقفے کو بھی مقرر کیا جانا چاہئیے۔ ایک ہی فوٹیج، ایک ہی رپورٹ کو اتنی دفعہ دکھایا جاتا ہے کہ سنجیدہ ترین بات کی بھی اہمیت نہیں رہتی۔ یوں ایک اندوہناک حادثہ بھی زندگی کا روزمرہ بن جاتا ہے۔
اسکے علاوہ ایک ہی خبر کو مرکز توجہ بنا لینا کہاں تک درست ہے۔
 پشاور میں  بارشوں  اورسیلابی ریلوں میں کل سے اب تک ایک سو دس سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مگر اس سے آگے ہم نہیں جانتے کہ یہ کون لوگ ہیں انکے اہل خانہ پہ کیا گذری۔ ایسا کیا ہوا کہ اتنے لوگ سیلابی ریلے کا شکار ہوئے۔ کیا سیلابی ریلے سے بچاءو کی کوئ صورت ہے عوام اپنے آپکو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور کیسے اپنے پیاروں کو بچا سکتے ہیں۔  پچھلے ہفتے بلوچستان میں سیلابی ریلوں میں پچاس سے زیادہ افراد مر گئے،متعدد لا پتہ ہو گئے اور ہزاروں بے گھر۔ بچ جانے والےلوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ آخر اس میں انسانی زندگی کا نقصان بھی تو نقصان ہے اور اتنا ہی ہولناک ہے۔ میڈیا کسی خبر کو ترجیحات دینے میں کیا چیزیں سامنے رکھتا ہے؟
کل ہی کے دن کراچی میں ایک گھر کے گر جانے کی وجہ سے ایک ہی خاندان کےسات لوگ جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں مر گئے۔ معلوم نہیں کہ اس طرح کے دھچکے سے گذرنے کے بعد باقی بچ جانے والے لوگ کس حالت میں ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ وہ لوگ اب تک اس مخدوش عمارت میں کیسے رہ رہے تھے ۔ اس حادثے سے کیسے بچا جا سکتا تھا۔ معلومات زیرو۔  ہر سال بارش میں ایک ایسی خبر ضرور آتی ہے۔ جس سے مناسب اقدامت کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔  اسی طرح کراچی میں حالیہ بارشوں میں دو افراد بجلی کا کرنٹ لگنے سے مر گئے۔ ہر موسم برسات میں ایسا بھی ضرور ہوتا ہے۔
یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ میڈیا کن لوگوں کے مرنے کو اہمیت دیتا ہے اور کن لوگوں کے اہل خانہ کے پیچھے بھاگنے سے انکی قیمت صحیح سے وصول ہوتی ہے؟
لوگ میڈیا کو بے حس قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ ہم سب کا مجموعی رویہ ہے۔ میڈیا یہ سب چیزیں جنہیں بیچ رہا ہے وہ ہم ہیں۔ ہم ہیں اسکے خریدار۔