ویسے تو ہمارے یہاں انسان کو انسان تسلیم کیا جائے یہی کچھ کم نہیں کہ اس پر انسانی حقوق کا واویلہ بھی مچا دیا جاتا ہے خود ایسے انسان نما انسان بھی حیران ہوتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہیں اور انکے بھی حقوق ہیں۔ باقی ہر رویہ روا رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس حقوق کی جنگ نے شاید ہر چیز میں بگاڑ ڈالا ہوا ہے۔
دنیا کے زیادہ ترغریب اور سماجی ناانصافی کے شکار معاشروں کی طرح ہمارے یہاں بھی خواتین کے ساتھ بد ترین مظالم کئے جاتے ہیں اور اس میں ایک شرمناک حرکت جو ہر تھڑے عرصے بعد تواتر سے کی جاتی ہے انہیں برہنہ سر بازار پھرانا، ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کے با عصمت ہونے کی نشانی انکے جسم کا کپڑوں سے زیادہ سے زیادہ ڈھکا ہونا سمجھا جاتا ہے وہاں سزاکے طور پر اسی عورت کو نہ صرف تن پر موجود کسی بھی کپڑے سے محروم کر دیا جاتا ہے بلکہ انہیں لوگوں کے سامنے سر بازار تماشہ بنایا جاتا ہے۔
ریاستی قوانین ایسی تمام عورتوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہتے ہیں ، وہ عدلیہ جسے آزاد کرانے کے دعویداروں کے گلے خشک اور آنکھیں بند ہو چکی ہیں اب وہ عام شخص کیو انصاف دلانے سے معذور ہے۔ ان سب عناصر کو ابھی ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے سے فرصت نہیں۔
مذہبی جماعتیں جن کے حامی دن رات خواتین کے حجاب کے متعلق بول بول کر اور لکھ لکھ کر تھکتے نہیں۔ وہ اس بات پہ کڑھتے رہتے ہیں کہ یہاں کچھ خواتین کیوں انکے بنائے ہوئے ضابطوں
کے مطابق زندگی نہیں گذارتیں۔ وہ بھی اسے کسی قسم کی زیادتی سمجھنے سے قاصر رہیں گے کیونکہ یہ واقعہ ان عورتوں کے ساتھ پیش آیا جنہیں جسم فروشی کے کاروبار سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
کے مطابق زندگی نہیں گذارتیں۔ وہ بھی اسے کسی قسم کی زیادتی سمجھنے سے قاصر رہیں گے کیونکہ یہ واقعہ ان عورتوں کے ساتھ پیش آیا جنہیں جسم فروشی کے کاروبار سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
اگر چہ کہ جسم فروشی کا عمل کبھی بھی یکطرفہ نہیں ہوتا لیکن مرد تو ہم جانتے ہیں کہ ترغیب دینے میں آجاتے ہیں اس لئیے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قصور کس کا ہوتا ہے اور ایسی ذلیل کر دینے والی سزائیں کس کے حصے میں آنی چاہئیں۔
ہمارے باقی کے نظام کے پاس مسائل کا انبار ہے انہیں اسے مزید بڑھانے سے فرصت نہیں اور عوام اپنی آفات میں مبتلا ہیں۔ اب ان عورتوں کی دادرسی کون کریگا۔ ان جسم فروش عورتوں کے کیا کوئ انصاف کےحقوق نہیں ہوتے۔یہ بے حیائ کے واقعات آخر کب تک اسی طرح بار بار ہوتے رہیں گے۔ اسکا جواب سادہ ہے اور وہ یہ کہ جب تک اسکے مجرموں کو قابل عبرت سزا نہیں ملتی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ یا پھر اس معاشرے کو ان عورتوں کے اندر انتقام اور بدلے کی آگ بھڑکنے کا انتظار کرنا چاہئیے۔
میرے اور ساتھی بلاگر بھی اس پر لکھ چکے ہیں میں انکے رابطے یہاں دے رہی ہوں۔ قلم کی زکوات اسی طرح ادا کی جا سکتی ہے کہ ان لوگوں کے لئے بھی لکھا جائے جنکا کوئ پرسان حال نہیں۔ ہم انکی زندگی آسان نہیں کر سکتے لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم دوبارہ ان واقعات کے رونما ہونے میں رکاوٹ بن جائیں۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)