Showing posts with label Karachi. Show all posts
Showing posts with label Karachi. Show all posts

Friday, March 11, 2011

ایک سونامی چاہئیے

اطلاع  ملی کہ جاپان میں شدید زلزلے کے ساتھ سونامی آگئ۔  نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت متعدد مقامات شدید نقصان سے دوچار۔ پاکستان میں کچھ لوگ کف افسوس مل رہے ہونگے کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ یہ سب کچھ ہمارے یہاں ہوتا۔  قدرتی آفات کے نام پہ ہمارے یہاں کچھ لوگوں کی رال ٹپکنے لگ جاتی ہے۔ امداد جو ملتی ہے۔
خیر، اس وقت تو میں یہ خبر پڑھ کر سر دھن رہی ہوں کہ  وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا آج سب سندھ اسمبلی میں داخل ہوئے تو ان کا ڈیسکیں بجا کر گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔  اسکی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لئَ کوئ موءثر قدم اٹھا ڈالا تھا، یہ انکا سر درد نہیں۔ اسکی وجہ یہ بھی نہیں تھی کہ وہ موجودہ عہد حکومت کے دوران ہونے والے کراچی میں سنگین واقعات مثلاً پچھلے سال محرم میں ہونے والی دہشت گردی اور لوٹ مار،  کے مجرمین کو وصل جہنم کر آئے تھے اور نہ ہی اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ بحیثیت وزیر داخلہ سندھ میں جرائم کی سرکوبی کرنے میں کامیاب رہے اور کراچی سمیت پورے سندھ میں انہوں نے جرائم پیشہ لوگوں لو اپنے انجام تک پہنچادیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے کراچی میں پچھلے تین سالوں میں نہ صرف  ڈکیتیوں سے لے کر اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
تو پھر انکی پذیرائ کی وجہ کیا ہے؟  اسکی وجہ یہ ہے کہ لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کو پیپلز پارٹی کی حفاظت کی چادر اوڑھائ۔ یہ یقیناً سندھ میں پیپلز پارٹی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یوں ، پچھلے سال شیر شاہ میں ہونے والے قتل و غارت گری کے مجرموں کو پہلے امن کمیٹی کا تحفظ دیا گیا  اور پھر پیٹھ تھپک کر شاباش دے دی گئ۔ اور اس عمل کو پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل رہی۔ انکا کہنا کہے کہ اس طرح وہ لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو مین اسٹریم میں لا رہے ہیں۔ مرنے والے جائیں جہنم میں۔ ویسے بھی انکی اکثریت اردو بولنے والوں سے تعلق رکھتی ہے۔ انکی پرواہ اگر کسی کو کرنی چاہئیے تو وہ ایم کیو ایم ہے۔ پیپلز پارٹی کیوں کرے۔ سب کو اپنے تعصب کی جنگ لڑنی ہے۔
اپنی ایک عوامی تقریر میں وہ فرماتے ہیں کہ
یہ بات بھی کوئ ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کراچی میں اغواء برائےتاوان اور لوٹ مار کی وارداتیں اب صوبائ حکومت کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ اغواء برائے تاوان اور ڈاکے، فیوڈل سسٹم کے کرتا دھرتاءوں کا نشان امتیاز رہے ہیں۔ اور اب شاید ایم کیو ایم سے متائثر ہو کر انہوں نے بھتے کو بھی اپنے منشور میں شامل کر لیا ہے۔ ایم کیو ایم اپنے اس امیج کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے تو پیپلز پارٹی نے اسے حاصل کر لیا۔   
اس روئیے کے بعد پاکستانی معاشرے کے مختلف لوگ خدا جانے کس منہ سے یہ بات کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم تعصب کی سیاست کرتی ہے فاشسٹ ہے۔ اور ہم نہیں ہیں۔ یہاں سب ایک حمام میں ننگے ہیں۔
ہماری حکمراں جماعت کے حصے میں یہ کارنامہ بھی آیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف انہوں نے سندھ میں ہڑتال کال کی اور اسے کامیاب بنانے کے لئے ایکدن میں نو سے زائد افراد مارے گئے۔ شہر میں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ اور انتہائ دلچسپی کی بات یہ کہ ہمارے محبوب صدر کے گھر بلاول ہاءس کے سامنے ہی ایک بس کو جلایا گیا۔ یہ بات تو ہمارے قارئین کو ضرور پتہ ہوگی کہ صدر صاحب، پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین ہیں۔ یوں جیالوں کی آزادی، عدلیہ کی آزادی پہ سبقت لے گئ۔
یہ بات ہمارے علم میں نہیں کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہڑتال کی 'دانشمندانہ، جیالی اور جوسی تجویز' پہ ملکی کال دینے کے بجائے کراچی کو کیوں چنا گیا؟
 خیر، ملکی سیاست پہ ایک ہلکی سی نظر سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ پاکستان میں آزاد غنڈوں کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ہر غنڈہ ، بدمعاش شخص کام پہ لگا ہوا ہے۔ کسی نہ کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے وابستہ ہے۔ مذہبی جماعتوں نے انہیں مجاہد کا نام دیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے کارکنوں کا۔
میری عزیز دوست نے اپنے جواں العمر بھائ اور  چار چھوٹی بچیوں کے باپ کے ایسے ہی قتل پہ  آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ جو لوگ سیاسی غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔ انکے لئے انصاف کی داد رسی کس سے چاہیں؟
میرے پاس اس کا جواب نہیں۔ میں تو خوداپنے ملک میں کسی سیاسی سونامی کی منتظر ہوں۔

Saturday, April 24, 2010

کون لوگ ہو تسی

آسٹریلیا پہلی دنیا سے تعلق رکھنے والا ملک ، پاکستان کے مقابلے میں تقریباً سات گنا زیادہ رقبہ رکھتا ہے۔ پاکستان کی آبادی اس وقت تقریباً سترہ کروڑ ہے اور آسٹریلیا کی آبادی تقریباً بائیس ملین یعنی دو کروڑ ہے۔ آسٹریلیا کی فی کس سالانہ آمدنی تقریباً انتالیس ہزار  ڈالر بنتی ہے۔ اور پاکستان کی فی کس سالانہ آمدنی ایک ہزار ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ 
اب آپ سوچیں گے کہ اس وقت مجھے آسٹریلیا کیوں مل گیا ہے پاکستان سے مقابلے کے لئے۔ اسکی دو وجوہات ہیں ایک تو میں ابھی کچھ ہی مہینے پہلے وہاں ایک قلیل مدتی قیام کے لئے موجود تھی۔ اس سے  کچھ سال پہلے بھی میں وہاں ذرا زیادہ عرصے کے لئےرہ چکی ہوں اور اسکی دوسری بڑی وجہ لوڈ شیڈنگ سے نبٹنے کے لئے نئے حکومتی منصوبے کا اعلان ہے۔
ان دونوں میں ایک بات مشترک ہے۔ آسٹریلیا میں تمام صنعتی ادارے شام کو پانچ بجے بند ہو جاتے ہیں جس میں بازار بھی شامل ہیں۔ اور تمام کھانے پینے کی جگہیں شام کو سات بجے بند ہوجاتی ہیں۔ سوائے کچھ مخصوص جگہوں کے جن میں کھانے پینے کی کچھ جگہیں اور کچھ اور مثتنشیات شامل ہیں جو کہ رات کو دس بجے تک کھلی رہتی ہیں۔ شام کو سات بجے تمام سرگرمیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ بازاروں کے اس طرح سر شام بند ہونے سے وہ لوگ جو آفسز میں کام کرتے ہیں انہیں مسئلہ ہو سکتا ہے اسکے لئے ہفتے میں ایکدن ایسا ہےجسے شاپنگ نائٹ کہتے ہیں اس دن بازارزیادہ سے زیادہ نو  بجے رات تک کھلے رہتے ہیں۔ تمام مارکیٹس صبح سات بجے کھل جاتی ہیں۔ اور یہ بالکل ممکن ہے کہ آپ اپنے بچے کو اسکول چھوڑتے ہوئے واپسی میں خریداری کرتے  ہوئے آجائیں۔
کم و بیش یہی حال میں نے تھائ لینڈ میں دیکھا۔ تمام بازار سات بجے بند۔ شام ساڑھے چھ بجے سے شاپنگ مالز میں اعلان رخصت کی سیٹیاں بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ حتی کہ پہلے دن میرے ساتھیوں کے اس چیزکو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے ہمیں تقریباً رات کو بھوکا رہنا پڑا،محض ڈبل روٹی سے کس کا بھلا ہوتا اور اتنی رات کو سوائے کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے جو ہماری جگہ سے خاصہ دور تھا کہیں سے حلال کھانا  تو دور حرام بھی ملنے کا کوئ امکان نہ تھا۔ تمام مارکٹ صبح آٹھ بجے کھل جاتی ہیں۔
اب پاکستان آئیے، کراچی میں مارکیٹ دن کے ایک بجے کھلنا شروع ہوتی ہے جو رات کو گیارہ بارہ بجے تک بند ہوتی ہے۔ گویا عملی طور پہ دن آدھے دن کے بعد شروع ہوتا ہے کہ کاروباری طبقہ اس وقت سو کر اٹھتا ہے۔ پھر رات کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے کہ رات تو اپنی ہوتی ہے۔
اب سے چند مہینے پہلے، جب تک شادی کے اوقات کی پابندی مقرر نہ ہوئ تھی۔ عالم یہ تھا کہ خواتین دس بجے رات کو درزی کے پاس کھڑی کپڑوں کا انتظار کرتی تھیں کہ یہ کپڑے پہن کر تیار ہو کر انہیں بارہ بجے کسی شادی میں پہنچنا ہوتا تھا اور اس شادی کا کھانا رات کو دو بجے کھایا جاتا تھا۔اور اس شادی کی تقریب کا اختتام صبح چار بجے ہوتا تھا۔
ترقی یافتہ ممالک تو اپنی بجلی بچانے کے اتنے سخت قوانین بنا کر ان پہ عمل کر ہے ہیں۔ لیکن ہم جیسے غریب ممالک میں کیا ہوتا ہے۔  پاکستانی حکومت کے اس اعلان کے بعد کے کاروبار رات کو آٹھ بجے بند کر دیا جائے تاجروں نے اسکی عدم تعمیل کا اعلان کیا ہے۔ ایک طرف ہم بجلی کی کمی کا رونا رو رہے ہیں ہمارے کارخانوں میں، ہسپتالوں میں، اسکولوں میں بجلی نہیں ہے۔ اور دوسری طرف ہم بطور حکمران یا بطور عوام اپنی کاہلی، نکمے پن اور عیاشی سے بھی نجات نہیں پانا چاہتے ہیں۔ کون لوگ ہو تسی؟

Thursday, March 4, 2010

رقیب سے

بارے کچھ اپنی تعلیمی قابلیت کا تذکرہ ہو جائے کہ اس سے اردو بلاگنگ کی دنیا میں کچھ لوگوں کو 'کچھ کچھ' ہوتا ہے۔ اور عالم یہ ہو گیا ہے کہ
ذکر میری پی ایچ ڈی کا، اور پھر بیاں انکا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
تو ان سب رقیبوں کو نئے راستے دیتی ہوں۔ دل کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ تبدیلی لاتے رہنا چاہئیے کہ یہ دل مانگے مور۔  اسکی وجہ یہ ہے کہ سب کے پاس جو اطلاعات ہیں وہ خاصی ادھوری ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ میری پی ایچ ڈی کو اپنے لئیے ایک تازیانہ سمجھتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ کارنامہ میں نے بلاگنگ کی دنیا میں آنے سے پہلے کیا تھآ اس لئے اس میں میرا قصور اتنا نہیں جتنا کہ لوگوں کی نیت میں فتور ہے۔
میں نے بیچلرز آنرز، کراچی یونیورسٹی سے کیا اور پھر وہیں سے نامیاتی کیمیاء میں ماسٹرز کیا۔ اور ابھی ہمارے ماسٹرز کا آخری سمسٹر ختم بھی نہ ہوا تھآ کہ یونیورسٹی میں واقع تھرڈ ورلڈ کے سینٹر آف ایکسیلینس کے اینٹرنس ٹیسٹ اور انٹرویو میں جا پہنچے۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ دونوں مرحلوں سے بخیر و عافیت گذر گئے۔ اور بس ماسٹرز کے آخری پیپر کے بعد تمام تر مخالفتوں اور نا مساعد زمینی حالات  کے باجود ریسرچ شروع کر دی۔
پی ایچ ڈی کا مطلب ہے ڈاکٹر آف فلاسفی۔ اگر آپ اسکی تمام شرائط کو پورا کریں تو یہ محض ایک کاغذ کی ڈگری نہیں ہوتی بلکہ یہ آپکے روئیے، نظریات اور زندگی کی طرف دیکھنے کی صلاحیتوں میں واضح تبدیلیاں لے آتی ہے۔ اگر میں ماسٹرز کرنے کے بعد اس راہ پہ قدم نہ رکھتی تو آج کی نسبت بہت مختلف ہوتی۔ اسکی وجہ ریسرچ کے مطالبات ہیں۔۔ 
 چونکہ دراصل پی ایچ ڈی فلسفے کی طرف لیجاتی ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا کو عقل کی عینک سے دیکھنے کا نام ہے۔ اسکا بنیادی مقصد کسی انسان میں آزاد سوچ کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ماسٹرز تک کی سطح پہ ہم ایک کورس پہ عمل کرتے ہیں اسی میں سے ہمارا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پہ اس بات کی تربیت ہوتی ہے کہ ہم اپنے طور پہ مسائل پہ قابو پانے اور انکے حل کی طرف اپنی صلاحیتیں خود سے استعمال کرنے کے قابل ہوں اور اس سے بھی ایک قدم آگے کہ ہم مسائل کے پیدا ہونے سے قبل یہ کامیاب اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں کہ آنیوالے مسائل یہ ہونگے۔ انگریزی میں اسے ویژن کا پیدا ہونا کہتے ہیں۔ ویژن کا اردو ترجمہ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت  کر سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب اس طرح کی اسناد نہیں ہوتی تھیں لوگ اپنے تجربے، مشاہدے اور علم سے یہ قوت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ ایک مشکل بات ہوتی تھی کہ ہر شخص اپنے محدود ذرائع کی وجہ سے صحیح بات تک پہنچنے کے قابل نہ ہو پاتا تھا۔ وقت کے ساتھ آسانیاں آئیں، یونیورسٹیز کی صورت میں ان تمام طریق ہائے کو ایک جگہ کر دیا گیا۔ اور سکھانے کے طریقے نکالے گئے اور یوں اب اہل طلب کے لئے مشکلات پہلے سے کم ہیں۔
لیکن سیکھنے کا عمل اتنا ہی وقت لیتا ہے جتنا آج سے ہزار سال پہلے لیتا تھا۔ اب زندگی اس لئے مشکل ہو گئ کہ مجھے اپنے کسی تحقیقی مضمون پہ تحقیق کرتے وقت گذشتہ ہزار سال میں جو کچھ ہوا اسے بھِی نظر میں رکھنا پڑتا ہے ۔ جبکہ آج سے ہزرا سال پہلے کسی شخص کی الجھنیں یہ نہیں کچھ اور تھیں۔
 اب سائینسی سطح پہ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ریسرچ پروجیکٹ تیار کرنا ہوتا ہے، اس میں ایک سپر وائزر یہ مدد کر سکتا ہے کہ وہ مختلف موضوعات بتا دے جسکے تحت اس ادارے میں سہولیات موجود ہوں اور وہ خود بھی اسے کرانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس پروجیکٹ پہ کام کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اب تک کی ریکارڈڈ تاریخ میں اس پہ کس نوعیت کا کام ہوا ہے۔ اس ساری تاریخ کو مختلف جرنلز سے کھنگالا جاتا ہے اور اس مِں ذرا سی غلطی یا صرف نظر کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں آپکا کام نقل کہلائے گا اور کوئ بھی اچھا ادارہ اس پہ یہ سند نہیں دیگا۔
 دوسرے مرحلے پہ اس تمام پروجیکٹ کو تجرباتی سطح پہ کر کے ایسے نتیجے نکالنے ہوتے ہیں جو آپ سے پہلے کبھی کسی نے نہ نکالے ہوں، آپکا نتیجہ بالکل نیا نکور ہونا چاہئیے۔ تیسرے مرحلے پہ آپ ان تمام نتائج کو جو آپ نے اخذ کئے ہوتے ہیں انکے لئیے دلیلیں تلاش کرنی ہوتی ہیں اور ان پہ جو کام پہلے کیا گیا تھا۔ چاہے وہ سو سال پہلے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ اپنی دلیلی کو ان تمام نتائج کی رو سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اچھا، یہ تمام کام تو چلتا رہتا ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ کورسز ہوتے ہیں اور انکے امتحانات بھی جنہیں پاس کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ نظریات طور پہ بھی اپنے میدان کے علاوہ بھی باقی چیزوں کی معلومات رہے۔ وہ تمام نتائج جو آپ نے انپے تجربات کے دوران حاصل کئے انہیں چھوٹے چھوٹے تحقیقی مضامین کی شکل میں شائع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ان مضامین کو تحقیقی مقالہ کہتے ہیں۔ ان مقالوں میں  کسی نئ معلومات کو بیان کیا جاتا ہے، اسکے ثبوت اور اس پہ موجود حقائق کی داستان دی جاتی ہے۔ کسی بھی سائینسی جریدے میں چھپنے سے پہلے انکا تفصیلی مطالعہ ریفریز کرتے ہیں۔ جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا تھا۔ وہاں کی شرط غیر ملکی سائینسی جریدے تھے۔ انکے ریفریز بھی غیر ملکی ہوتے ہیں ایک پی ایچ ڈی کے لئیے کم سے کم شائع ہونے والےتحقیقی مقالوں کی تعداد مقرر ہوتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی ساتھ، ہر پی ایچ ڈی کرنے والے کو اپنی تمام تربیت کے دوران سیمینارز کی ایک مخصوص تعداد دینی ہوتی ہے۔  جس میں تمام فیکلٹی اور ادارے کے تمام طالب علم اور اگر باہر سے کوئ مہمان سائنسداں موجود ہو سب شریک ہوتے ہیں اور ہر ایک سوال کرنے کا حق رکھتا ہے جسکا تشفی جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ ہر سیمینار کی طوالت ایک گھنٹہ ہوتی ہے۔ اسکی تیاری کسی طرح ایک تحقیقی مقالے سے کم نہیں ہوتی البتہ اس میں آپکی کوئ نئ تحقیق نہیں بلکہ پرانے کام کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔ پرانے کام سے میری مراد  وہ کام ہے جو تحریری سطح پہ  دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔
اسکے علاوہ گروپ میٹنگز اور گروپ ڈسکشنز ہر ہفتے ہوتے ہیں، کانفرنسز میں شرکت اور ورکشاپس میں تربیت بھی شامل ہیں۔ اگر ہم باہر کے کسی سائنسداں کے ساتھ مل کر کسی پروجیکٹ پہ کام کر رہے ہوں تو اسے بھی رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ اور اپنے روزانہ کے کام کی رپورٹ بھی تیار کرنا ہوتی ہے۔
پی ایچ ڈی کے آخری مرحلے میں ایک پینل کے سامنے آپ نے جو کچھ دوران پی ایچ ڈی کیا اسکا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ اسکا ایک اور اہم مرحلہ، اپنے تمام نتائج اس پہ گفتگو، اسکی پچھلی تاریخ اور اسے تیار کرنے کے لئیے جتنے بھی حوالے آپ نے استعمال کئیے، جنکی تعداد کءی سو تک جا پہنچتی ہے سب اس تھیسس میں جمع کرنے ہوتے ہیں۔  جس پہ سند ملتی ہے۔
یہ تھیسس ، اس ادارے سے جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا وہاں سے پاکستان سے باہر کسی بھی کیمسٹری کے اعلی ادارے میں کام کرنے والے  دو مختلف تحقیق دانوں کو بھیجا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تحریر اس قابل ہے کہ اس کو پی ایچ ڈی کی سند دی جا سکے۔
 تو محترم قارئین، چاول کے دانے پہ تحریر لکھنے والا یقیناً بہت بڑا آرٹسٹ ہے، میرے کمپیوٹر کے ہارڈ وئیر پہ کام کرنے والا اپنے کام کا بے حد ماہر ہے، حتی کہ وہ میکینک جس  سے میں اپنی گاڑی صحیح کراتی ہوں وہ اس سلسلے میں مجھ سے کہیں زیادہ بہتر معلومات رکھتا ہے، شیف ذاکر مجھ سے اچھا کھانا پکاتے ہونگے، طاہرہ سید، مجھ سے اچھا گا تی ہیں ۔ ریما مجھ سے کہیں بہتر ڈانس کر سکتی ہیں۔  ایشوریا رائے مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن ان سب نے وہ نہیں کیا جو میں نے کیا ہے۔ 
مزے کی بات یہ ہے کہ میں تو کسی پہ اپنا علم جتاتی بھی نہیں نہ کسی بھی شخص کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کرتی ہوں کہ اسکی تعلیمی استطاعت کیا ہے۔ آج تک میں نے کسی کے بلاگ پہ اسکا پروفائل نہیں چیک کیا۔ میں تو لوگوں کو انکے لکھے ہوئے سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔  اب کسی کا اس بات پہ اپنا دل جلانے کا کیا فائدہ۔ کیا فائدہ کہ آپ ہر وقت اس چیز پہ اپنی انگلیاں تھکاتے رہیں کہ دراصل پی ایچ ڈی کی کوئ اہمیت نہیں اور اس چیز کی اہمیت ہے اور اس چیز کی ہے۔ اس سے صرف ایک بات مجھے پتہ چلتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کو اپنے اوپر اعتماد نہیں۔  ایسا کہنے والا مجھے اس ٹین ایجر بچے کی طرح لگتا ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا سے ہر صورت بغاوت کرنا چاہتا ہے۔ بغیر اپنی صلاحیتوں کو آزمائے۔
آپ میری بیان کی ہوئ کسی چیز میں غلطی نکالنا چاہتے ہیں بصد شوق۔ مگر میری پی ایچ ڈی پہ تبرہ بھیجنے سے آپکے الفاظ کی اہمیت میں کوئ اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ میری کسی دی ہوئ معلومات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو کسی مستند لکھنے والے کا حوالہ دیجئیے اور پھر اپنی بات کریں۔ میری پی ایچ ڈی کی تربیت مجھ سے یہی کہتی ہے۔ کسی سنی سنائ بات پہ یقین نہ کریں جب تک اسے ایسے تجربے کی کسوٹی پہ پرکھ نہ لیں جوکوئ دوسرا کرے تو اسے بھی وہی نتیجہ ملے جو آپکو ملا ہے۔ یا اگر ایسا نہ کر سکیں تو کسی مستند ذریعے سے اسکی تصدیق نہ کر لیں۔ اور یہ مستند ذریعہ لکھے ہوئے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس لئیے ہم اپنی مذہبی کتاب کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اب اعتماد سے بات کرنی ہے تو یہی طریقہ لگانا ہوگا۔ ورنہ دوسری صورت یہی ہوگی کہ آپ کسی کی علمی قابلیت کے بارے میں جان لیں گے تو اپنی سطح بلند کرنے کے بجائے اس میں خامیاں نکالتے رہیں گے۔ جو لوگ اپنی عمر گذار چکے انہیں چھوڑ کر باقی سب  تو ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں ہر لحظہ کچھ نئے کی امنگ سے بھرا رہنا چاہئیے۔ پھر یہ رویہ کیوں؟
میری باتوں پہ آپکا عمل کرنا بالکل ضروری نہیں۔ کیونکہ آپ  کہہ  سکتے ہیں کہ  آپکی بات پہ کیوں عمل کیا جائے آپ تو کتاب لئیے گھڑے میں بٹھی ہیں اور لوگ بالائ چاٹ چاٹ کرایک گھڑے سے نکل کر دوسرے میں جا چکے ہیں۔

Wednesday, February 10, 2010

دہشت گردی بمقابلہ دانشوری

اگرچہ مشتاق احمد یوسفی کے دوست عبد القدوس کی طرح میں بھی جھیل سیف الملوک کی چڑھائیاں کسی ٹٹو کی پیٹھ پہ چڑھ کر طے کرنے کے بجائے پا پیادہ ہی طے کرنا پسند کروں کہ کسی دوسرے کی غلطی کے بجائے اپنی غلطی سے مرنا بدرجہا بہتر ہے ۔  مگر کبھی کبھی اقبال کے فرمودات پہ بھی عمل کرنے کو دل چاہتا ہے۔ یعنی اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل۔ لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔
تو ایکدن جبکہ ایک اپائنٹمنٹ پر پہنچنے میں خاصہ کم ٹائم رہ گیا تھا  میں نے  باقی لوگوں سےفارغ بیٹھے ڈرائیور کو مصروف کرنے کے لئیے گاڑی چلانے کی ذمہ داری اسے دیدی۔ وہ حسب معمول تیز لین میں گاڑی اڑا رہے تھے کہ طارق روڈ کے پل پہ پہنچ کر میں نے انہیں یاد دلایا کہ  میں انہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں کہ ہمیں پل پہ ہمیں الٹے ہاتھ پہ مڑنا ہے تو سگنل پہ دو لائنوں کو کاٹ کر نکلنے سے بہتر ہے کہ درمیانی لائن میں چلا جائے یا پھر پہلی لین میں آجایا جائے۔ جیسے ہی جملے کا فل اسٹاپ آیا۔ اس نے زندگی میں پہلی بار تابعداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے عین اسی لمحے آگے پیچھے دیکھے بغیر لین تبدیل کی اورساتھ ہی ایک ہلکی سی ٹکر کی آواز آئ۔ گاڑی رکی اور اب وہ آگے والی گاڑی سے ٹکرا کر کچھ ترچھی حالت میں اس طرح کھڑی تھی کہ دو لینز بلاک ہو گئیں۔ ٹکر اتنی ہلکی تھی کہ بظاہر سب ٹھیک لگ رہا تھا۔ اور میں نے سوچا کہ دونوں ڈرائیورکچھ منہ ماری کے بعد چل پڑیں گے۔ لیکن سب ٹھیک نہ تھا۔
آگے والی گاڑی کا دروازہ کھلا اس میں سے ڈرائیور نکلا اور آکر ہمارے ڈرائیور کے پاس کھڑا ہو گیا۔ یہ صاحب پہلے ہی اپنا دروازہ کھول کر خوش آمدید کہنے کے منتظر تھے۔ لیکن یہ کیا ہوا اس ڈرائیور نے گاڑی میں ہاتھ ڈالا اور اگنیشن میں سے چابی نکال  کر قبضے میں کرلی۔ میں نے پیچھے بیٹھے یہ سارا تماشہ دیکھا اور سر پکڑ لیا کہ لاٹھی تو گئ اب بھینس کا کیا ہوگا۔ دونوں ڈرائیورز کے درمیان الزام تراشی جاری تھی۔ لیکن ظاہر سی بات تھی کہ غلطی ہمارے ڈرائیور کی ہی تھی۔ وہ اکثر ایسا ہی کرتا تھا۔ میں نے سوچا اب اسے بھگتنے دو۔
 بات اس نکتے پہ پہنچی کہ پانچ ہزار دینا ہونگے۔ اب یہ صاحب منہ پھاڑے کھڑے تھے کہ کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے کس بات کے پانچ ہزار۔  کچھ دنوں پہلے اسے وارننگ دی گئ تھی کہ روڈ پہ بے احتیاطی دکھانے کی صورت میں خرچہ اسکے ذمے ہوگا۔اس موقع پہ آگے والی کار کا دروازہ ایکبار پھر کھلا اور ایک تقریباً ساٹھ پینسٹھ سال کے صاحب تھری پیس سوٹ میں بر آمد ہوئے اور آتے ہی ڈرائیور سے کہنے لگے کہ گاڑی کے کاغذات میرے حوالے کرو ورنہ پانچ ہزار دو۔ اس موقع پہ فلم میں ان خاتون نے  اپنی مداخلت ضروری سمجھتے ہوئے مس بنکاک کی طرح اینٹری دینے کی کوشش کی۔ اور وہ گاڑی سے اتر کر آگے والے ڈرائیور کے پاس پہنچیں اور اسکے ہاتھ میں لٹکی چابی پہ زور لگاتے ہوئے کہا۔' فوراً چابی واپس دو ورنہ'۔ اسکے بعد انہوں نے بغیر سوچے سمجھے کہا 'ورنہ میں قریبی پولیس اسٹیشن پہ جا کر اطلاع کرتی ہوں کہ میری گاڑی چوری کر رہے تھے تم'۔ ڈرائیور اور ان صاحب نے غضبناک ہو کر ان بالشت بھر کی خاتون کو دیکھا۔ 'ہاں چلیں کہاں جانا ہے۔ اب تو بات دس ہزار تک جائیے گی'۔ اپنے تئیں انہوں نے انکو مزید خوفزدہ کربے کی کوشش کی۔ یا اللہ، کیا مصیبت ہے۔ کیسے اس سے جان چھٹے گی۔ پل پر اور اسکے پیچھے تک ٹریفک جام ہوچکا تھا۔ اور مسئلہ حل ہونے کی کوئ صورت نظر نہ آرہی تھی کہ خاتون کے پاس ایک بائک آکر رکی۔ اس پر سے ایک چوبیس پچیس سالہ  مضبوط جثّے  اور درمیانے قد کے شخص نے چھلانگ لگائ۔ اور قریب پہنچتے ہی ڈرائیور کو چیخ کرحکم دیا کہ چابی ان خاتون کو دو۔ اتنی دیر سے تم سے کہہ رہی ہیں۔ سنتے نہیں ہو تم کیا۔ اتنی دیر سے سارا ٹریفک روک رکھا ہے۔ اسکا تحکمانہ انداز دیکھ کر وہ ابھی شش وپنج ہی میں تھا کہ اس نے ایک تھپڑ اسکو رسید کیا۔ اگلے ہی لمحے چابی میرے ہاتھ میں تھی۔ دوسرا تھپڑ پڑا تو ڈرائیور گاڑی کے اندر۔ سوٹ میں ملبوس صاحب ہکلائے 'یہ کیا ہو رہا اس گاڑی نے میری گاڑی کو ٹکر ماری تھی'۔ 'کچھ نہیں ہوا انکل، اب جا کر اپنی گاڑی میں بیٹھیں۔ آپکی گاڑی بالکل صحیح ہے۔ روڈ پہ ایسا ہوتا ہی رہتا ہے '۔ وہ گھگھیائے ہوئے اپنی گاڑی میں جا بیٹھے۔ میرا ڈرائیور اپنی جگہ سنبھال چکا تھا۔ اس غیبی مددگار نے مجھے دیکھا، مسکراتی آنکھوں سے آگے چلنے کا اشارہ کیا اور یہ جا وہ جا۔
کیا  دہشت گردی کو دانشوری نہیں، دہشت گردی ہی شکست دے سکتی ہے؟

Tuesday, January 12, 2010

کیا لیاری کراچی کا حصہ ہے؟

میری اس  لڑکی سے ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا۔ یونہی نو دس مہینے پہلے مجھے خیال آیا کہ میں اپنے مضمون  پر اگر لوگوں کو ٹیوشن دینے لگون اور اپنی فیس  اسوقت چلنے والی فیس کے مقابلے میں آدھی رکھوں تو اس سے مجھے اور پڑھنے والے دونوں کو دلچسپی ہوگی۔ میں نے اخبار میں اشتہار دے دیا۔ اسکے نتیجے میں میرے پاس پانچ فون آئے۔ ان میں سے چار لوگوں کی خواہش تھی کہ انہیں گھر پہ پڑھایا جائے۔ جسے میں نے منع کر دیا
لیکن ایک فون مجھے لیاری سے ایک لڑکی کا آیا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھی۔ وہ بی ایس سی کی طالبہ تھی۔ مجھے حیرانی ہوئ۔ 'مگر آپ تو میرے گھر سے خاصی دور رہتی ہیں اور ہفتے میں تین دن آنا بھی آپکے لئیے بہت مشکل ہوگا'۔  یہ سن کر اس نے مجھ سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اس سے ایکدفعہ مل کر اسے جو مشکلات پیش آرہی ہیں وہ دیکھ لوں اور انکے لئیے اسے کچھ ٹپس دیدوں۔۔ اسکی یہ لگن دیکھ کر میں نے اسے اگلے دن بلالیا۔
 وقت مقررہ پہ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ آگئ۔ اس نے برقعہ پہنا ہوا تھا۔ اسکے والد صاحب اپنی عمر کی پانچویں دھائ میں تھے اور نیوی مرچنٹ کی نوکری کرتے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ بیٹھے رہے۔ ہم دونوں جب اس ساری ڈسکشن سے فارغ ہو گئے  تو میں ان سے بات کی۔
انہیں میرے گھر پہنچنے کے لئیے دو بسیں اور ایک ٹیکسی لینی پڑی تھی اور انکے مبلغ دو  سو روپے خرچ ہوئے تھے۔ وہ سات بہنیں اور ایک بھائ تھے۔ میں نے جب ان سے انکے علاقے کے حالات جاننے چاہے تو اس سوال پہ اس آدمی کا چہرہ بالکل بجھ گیا۔ آپکو کیا بتاءووں۔ میرا ایک بیٹا ہے اور وہ جب گھر سے پڑھنے کے لئیے نکلتا ہے تو جب تک واپس نہیں آجاتا ہم پریشان رہتے ہیں۔ ہمارا پورا علاقہ غنڈوں اور بدمعاشوں کا علاقہ ہے۔ ہمارا نوجوان لوگ زیادہ تر نشہ کرتا ہے یا ہنگامہ۔ آپ کبھی ہمارا علاقہ آکر دیکھو۔ انسانوں کی رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ ابھی آپ دیکھو میری بیٹی کو پڑھنے کا اتنا شوق ہے لیکن ہمارے علاقے میں کوئ اچھا پڑھنے کی جگہ نہیں ہے یہ جہاں جاتا ہے وہاں کتنی مشکل سے جاتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں  کیا ہم اسی طرح جانوروں کی طرح زندگی گذارتا رہیگا۔
اب آپ اردو اسپیکنگ والوں کی پارٹی ہے۔ لوگ کہتا ہے وہ بدمعاشی کرتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں وہ اپنے شہر اور اپنے لوگوں کی بھلائ کے لئیے کچھ تو کرتا ہے۔ ہمارے علاقے سے ہر دفعہ ایک پارٹی آتی ہے مگر آپ وہاں جا کر دیکھیں۔ ہمارا بچہ لوگ کیا کرتا ہے۔ ہم لوگوں کا کیا بنے گا۔ یہ حکومت جب سے آیا ہے اس نے تو تھانہ بانٹ لیا ہے۔ ہمارے لیاری میں کوئ پولیس نہیں ہے صرف غنڈوں کا راج ہے۔ کوئ دن نہیں ہوتا کہ ان بدمعاشوں کی آپس میں جنگ نہ ہوتی ہو۔ ہم تو اپنے گھر کے صحن میں نہیں کھڑے ہو سکتے۔
جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ان تمام مشوروں کی فیس کیا ہوگی جو میں نے اس دوران انہیں دئیے۔ میں نے ان سے کہا کہ اسکی کوئ فیس نہیں ہے۔ میں نے بغیر کسی تیاری کے سرسری طور پہ کچھ چیزیں بتادی ہیں۔ اسکی کیا فیس ہو سکتی ہے۔ میں اگر باقاعدہ پڑھاتی تو کچھ فیس ہوتی۔ مگر وہ پھر بھی بصد اصرار کچھ پیسے میز پہ رکھ گئے۔ جب وہ نکنلے لگے تو وہ لڑکی مجھ سے کہنے لگی کہ باجی آپکا علاقہ مجھے بہت اچھا لگا۔ میں بالکل شرمندہ ہو گئ۔ معلوم نہیں کیوں۔
یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے جب کراچی کے کسی علاقے کے تعلیمی اوسط کا اندازہ لگانا ہوتا تو یونیورسٹی سے وہاں کے لئیے چلنے والے بسز سے لگاتے جو پوائنٹس کہلاتی تھیں۔ کراچی کے تمام علاقوں جن میں لانڈھی، کورنگی، عزیز آباد اور اورنگی ٹاءون بھی شامل ہیں انکے لئیے باقاعدگی سے پوائنٹس لگتے تھے مگر ان میں کبھی لیاری کے لئے بس نہ دیکھی۔
آج جب میں نے ایک بلاگ پہ نبیل گبول صاحب کا بیان دیکھا کہ لیاری میں کیوں آپریشن ہوتا ہے لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں کیوں نہیں ہوتا۔ تو ان سے صرف ایک سوال پوچھنے کو دل چاہا کہ پچھلےتیس پینتیس سالوں میں لیاری والوں نے شاید پیلپز پارٹی کے علاوہ کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ کیا انہوں نے سوچا کہ لیاری میں ایک بھی اچھا اسکول اور کالج نہیں جسیا کہ لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں ہیں، وہاں چھوٹے بچوں اور عورتوں میں کیوں منشیات کا استعمال زیادہ ہے۔  شہر بھر میں کیوں جوا  سب سے زیادہ وہاں کھیلا جاتا ہے۔
لیاری کے مختلف محلے وہاں کے ڈکیتوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جو ایک دو نہیں کئ ہیں۔  ایسا کوئ عمل لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں نہیں ہوتا۔۔ میں ان علاقوں میں اکیلے گاڑی میں بے دھڑک گھومتی ہوں لیکن میں لیاری میں اس طرح پھرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
پچھلے کئ سالوں میں شہر کے باقی علاقے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ لیاری اب تک اتنا پسماندہ کیوں ہے۔ کیوں کراچی یونیورسٹی والوں کو لیاری کے لئیے کبھی ایک بس چلانے کی نوبت نہ آئ۔ کیوں یونیورسٹی میں اتنا لمبا عرصہ گذارنے کے باوجود میری کبھی ایسے طالب علم سے ملاقات نہ ہوئ جو لیاری سے تعلق رکھتا ہو۔  کیوں لیاری کراچی کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔کیا نبیل گبول صاحب اس بات کا جواب دیں گے۔ کیا ابو سعد کبھی اس چیز کے بارے میں لکھیں گے کہ لیاری کیوں کراچی کا حصہ نہیں لگتا۔ اور کراچی کی رونقوں کے غم میں گھلنے والے جانتے بھی ہیں کہ لیاری بھی کراچی میں واقع ہے۔

Thursday, September 24, 2009

میں، وہ اور قومی ترانہ

تم مخاطب بھی ہو, قریب بھی ہو
تم کو دیکھوں کہ تم سے بات کروں
شاید آپ بھی اس الجھن سے گذرے ہوں۔ مجھے کچھ دنوں پہلے اس صورتحال سے پھر گذرنے کا اتفاق ہوا۔ ٹی وی کے ایک معروف، خوش شکل میزبان کی ایک محفل میں مجھے بھی کسی کے اصرار پر شرکت کرنی پڑی۔ اگرچہ کہ یہ خاصی پیشہ ورانہ نوعیت کی ملاقات تھی۔ اور اسکے بارے میں بجا کہا جا سکتا ہے کہ اسقدر بھیڑ میں ہوتی ہے ملاقات کہاں۔ لیکن تین گھنٹے انکے ساتھ گذارنے کی سعادت سے یہ دل ابھی تک ہلکورے لیتا ہے۔
محفل کے آغاز میں انہوں نے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اردو نہیں آتی۔ اسے انکا دل چاہتا ہے کہ اپنے پیروں سے کچل دیں۔ انہوں نے شدت جذبات میں انہیں پیروں سے کچل کر دکھایا بھی۔ یہ الگ بات کہ پیروں تلے کوئ تصوراتی مخلوق کچلی گئ۔ ہم تو ویسے ہی گنگ بیٹھے تھے مزید رعب میں آگئے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں۔ مختلف لوگوں نے اسکے مختلف جواب دئیے۔  ان جوابات سے آپ آگاہ ہی ہونگے۔
 تھوڑی دیر میں جب  حالت یہ ہوئ کہ چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال ،  تو میں نے ان سے کہا کہ یہ سوالنامہ جو ابھی انہوں نے وہاں پر موجود شرکاء  کو تقسیم کیا ہے۔ یہ سارا کا سارا انگریزی میں کیوں ہے۔ جبکہ اس جگہ پر مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ جن میں سے کچھ بہتر طور پر انگریزی سے واقف بھی نہیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک ادائے بے نیازی سے ہلایا اور جواب ملا، 'اردو ٹائپنگ بہت مشکل ہوتی ہے۔ بڑا چکر ہوتا ہے بس اسی لئیے سوالنامے میں اردو ترجمہ نہیں رکھا گیا'۔
خیر صاحب، محفل زیادہ تر انگریزی کمیونیکیشن کے بعد اپنے اختتام کے قریب پہنچی اور انہوں نے بر سبیل تذکرہ بتایا کہ لوگوں کو اپنا قومی ترانہ تک تو یاد نہیں ہوتا۔ میری قسمت کہ میں پھر بول اٹھی۔ 'یہ ہے بھی ذرا مشکل'۔ تس پر وہ آکر میرے سامنے کھڑے ہو گئے، اور آستینیں اوپر چڑھالیں۔کوٹ کے اندر ایک ہاتھ کمر پہ ٹکایا۔ اور اتنے ظالمانہ انداز میں مجھ پہلے سے گھائل شخص کو کہنے لگے کہ کیا مشکل ہے۔ اب میں  گھگھیائ۔' اردو میں نہیں ہے'۔ اس پر انکی پیاری پیشانی پر لا محدود بل پڑ گئے۔ ارے آپ ، اب یہ کہیں گی کہ یہ فارسی میں ہے۔ اور پھر ایسے انداز میں جس سے جھلک رہا تھا کہ تف ہے آپ پر۔ وہ میرے قریب جھک گئے اور ایک ایک کر کے ترانے کے سارے مصرعے پڑھ ڈالے۔ ہر مصرعے کے اختتام پر پوچھتے کہ سمجھ آیا کہ کیا کہا۔ میں بچہ جمورا کی طرح سر ہلا دیتی۔ پورا ترانہ ختم کرنے کے بعد فتحیاب انداز میں سیدھے ہوئے  دونوں ہاتھ جھاڑے اور فرمایا۔۔ کہاں ہے مشکل اور کہاں ہے فارسی۔ 
صورت حال کچھ ایسی ہو چلی تھی کہ
صرف اسی شوق میں کی تجھ سے ہزاروں باتیں
میں تیرا حسن، تیرے حسن بیاں تک دیکھوں
 اپنی قسمت پہ رشک آیا اور لمبی زبان کو دل ہی دل میں تھپتھپایا۔ اتنی لمبی گفتگو اور صرف مجھ سے۔ ایکبار پھر اس سحر سے باہر نکلی اور منمنانے کی کوشش کی کہ میرے جمعدار، مالی، ڈرائیور، ماسی کسی کو بھی سمجھ نہیں آتا۔ دل میں سوچا اسی بہانے ان لوگوں کو بھی شاید پذیرائ ملے۔ جواب ملا 'انکی یہ زبان نہیں ہے'۔ اب کیا کہتی،  یہی تو میں کہہ رہی تھی۔
کبھی آپ کو یہ لگا کہ جن کی شکل اچھی ہو انکی فارسی بھی کتنی آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔

سوالات؛
اس محاورے کا مطلب بتائیں، ہاتھ کنگن کو آر سی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا۔
اس شعر کا پہلا مصرعہ بتائیں، جس نے ڈالی بری نظر ڈالی۔

عملی مشق؛
صرف اس دوکان سے خریداری کریں، جس کے سیلز مین کو پورا قومی ترانہ یاد ہو۔ بعد ازاں ایک فہرست تیار کریں کہ آپکی خریداری پہ اس سے کیا فرق پڑا۔

Wednesday, September 16, 2009

میں، فیاض اور اسکا ابا

ساڑھے چار بج رہے تھے اور میں انتہائ تندہی سے اپنا کام نبٹاتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ مجھے چھ بجے کچن سے نکل جانا چاہئیے تاکہ فیاض اسے صاف کر لے اور ڈرائنگ روم سیٹ کر لے اسطرح میں رات آنیوالے مہمانوں کے لئے فریش ہو جاءووں گی۔ ابھی سوچوں کو فل اسٹاپ بھی نہ لگا تھا کہ فیاض آکھڑا ہوا ۔ میں نے کہا فیاض ڈائننگ روم کی اچھی سی ڈسٹنگ------لیکن میرا جملہ مکمل ہونے سے پہلے وہ بول اٹھا۔ 'باجی مجھے ابھی فوراً جانا ہے'۔ کیا؟ کیوں؟ میرا منہ پہلے غصے سے چوکور اور پھر گول ہو گیا۔ 'یہ سب کام کون کریگا؟' میں نے چھری غصے میں اور تیزی سے چلاتے ہوئے اس کے آگے کاموں کی لسٹ دہرانی چاہی۔ 'باجی، میرا بھائ بھاگ گیا ہے۔' اوہ کتنا بڑا ہے وہ'۔ 'جی مجھ سے دو سال بڑا ہے'۔ اتنا بڑا شخص کہیں بھاگتا ہے۔ تمہیں کیسے پتہ وہ بھاگ گیا ہے'۔ میں نے کچر کچر کھیرے کاٹے۔' وہ میری بھابھی بھی ساتھ بھاگ گئ ہے'۔ ہائیں، اب میں نے اس میں سنجیدگی دکھائ۔ 'وہ تمہارے کون سے بھائ کی بیوی تھی'۔ ؛جی اسی کی بیوی تھی'۔  یہ تو کلاسک بھاگنے کی کہانیوں سے بالکل مختلف ہے۔ میرا دماغ بالکل سنسنا گیا۔ 'اپنی بیوی کے ساتھ بھی کوئ بھاگتا ہے۔ میرا مطلب ہے اسے بھاگنا نہیں کہتے۔  وہ الگ رہنا چاہ رہے ہونگے'۔ 'جی، میرا بھائ کراچی میں رہتا ہے اور وہ اپنی بیوی کو ساتھ میں رکھنا چاہ رہا تھا۔میرا ابا اسے منع کر رہا تھا'۔ 'تو تمہیں اپنے ابا کو سمجھانا چاہئیے'۔' نہیں باجی ہمارے یہاں ایسےہی ہوتا ہے۔ وہ بے وقوف اسکو لیکر کہیں چلا گیا ہے'۔؛ تو اب تم کیوں انکی خوشی میں روڑے اٹکا رہے ہو۔ جاءو جاکر اپنا کام کرو'۔ 'نہیں، ابا کا فون آیا تھا وہ کل کراچی پہنچ رہا ہے۔ اس نے مجھے ان کا پتہ لگا کر انکے ساتھ رہنے کو کہا ہے۔ تاکہ وہ کہیں اور نہ چلے جائیں'۔'تمہیں یقین ہے وہ کراچی میں ہونگے'۔ 'جی مجھے معلوم ہے وہ کہاں ہونگے'۔ 'ارے اپنے ابا سے کہدو مجھے نہیں معلوم وہ کہاں ہیں'۔ 'نہیں ابا کو پتہ چلا تو وہ سمجھے گا میں ان سے ملا ہوا ہوں'۔ یہ کہہ کر وہ الف لیلی کی کہانیوں کے ہیرو کی طرح ابا کی بھیجی ہوئ سپاری پر روانہ  ہوگیا۔
میں اپنے آگے ٹماٹروں اور کھیروں کے ڈھیر دیکھ کر اسکے بھائ کو برا بھلا کہنے لگی۔ کم بخت آج کا دن ملا تھا۔ اسے بھاگنے کے لئیے۔ بدبخت اب ایسی جگہ چھپا ہے کہ اسے ڈھونڈ بھی لیا جائےگا۔
یہ الگ کہانی ہے کہ کسطرح اس ظالم نے بھائ کی بیوی کو واپس پشاور لیجانے کا سلسلہ کامیابی سے سر کیا اور بھائ کو کراچی میں چھوڑ دیا۔ لیکن اسکے بھائ جیسے بے وقوفوں کے ساتھ مجھے کیا کسی کو بھی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ فیاض کامران مسکراہٹ سجائے واپس آگیا۔
اسکے ایک ہفتے بعد میں ایکدن ٹانگیں پسارے بقراط ثانی بننے کی سرگرمیوں میں مصروف تھی کہ اچانک احساس ہوا کہ فیاض کہیں پاس سے بولا۔ سر اٹھایا تو فیاض سامنے کھڑا تھا۔ فوراً پسارے کو سمیٹا۔ 'اب کیاہوا؟' 'باجی، صاحب سے کہیں، وہ میری تنخواہ بڑھا دیں'۔ 'ابھی تو تمہارا پہلا مہینہ بھی پورا نہیں ہوا اور تم نے سب کاموں کی ذمہ داری بھی پورے طور پر اٹھانی شروع نہیں کی ۔ کس سلسلے میں تمہاری تنخواہ بڑھا دیں'۔ میں نے بقراطی ذریعہ ء علم پر آنکھیں جمائے پوچھا۔ 'باجی میں شادی کرنا چاہ رہا ہوں'۔ 'کس سے؟'۔' اپنی پھوپھی کی بیٹی سے'۔' وہ کہاں رہتی ہے؟'۔ 'جی یہیں کراچی میں'۔ 'تمہارے گھر والے راضی ہیں'۔ 'جی سب ، میری پھوپھی بھی راضی ہے'۔ وہ تابڑتوڑ سوالات سے عاجز آ کر شایدبےزار ہو کر بولا۔ میں نے سر چشمہ ءبقراطی دانش کو ایک طرف رکھا۔ اور دیو جانس کلبی کی بےنیازی کو دوسری طرف کہ اس طرح موجودہ زمینی حقائق صحیح طور پر سامنے آسکیں گے۔ اور ایسا کرتے ہی ایک خیال آسمانی بجلی کی تیزی سے کوندا اور فیاض کے متوقع نشیمن پر دھائیں کر کے گرا۔ 'تم تو پہلے دن کہہ رہے تھے کہ تمہاری شادی ہوگئ ہے'۔ 'جی باجی۔ مگر میری وہ بیوی تو پشاور میں رہتی ہے'۔
اگرچہ میری اس بات کا بعد میں مذاق اڑایا گیا کہ ایک نوکر کو دوسری شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر نوکری سے برخواست کر دیا گیا۔ یقیناً کچھ رجعت پسند مسلمان اس پر خفا ہونگے، لبرل مسلمان شادیانے بجائیں گے۔ حقوق نسواں والے میری پیٹھ ٹھونکنے کو بےتاب ہونگے۔ حقوق انسانی والے اس میں کچھ گھمبیر مسئلے تلاش کر لیں گے۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے اسے پشاور کے خلاف سازش سمجھیں گے۔ مردوں کو مظلوم سمجھنے والے اسے ان کی جنس پر ایک نیا حملہ قرار دیں گے۔ خود فیاض کو میری شکل سے نفرت ہو گئ ہوگی۔ لیکن کوئ بتائے کہ قصور کس کا تھا۔
۔
۔
۔
۔
۔
 
مقصد؛
اس تحریر کا مقصد جاننے کے لئیے آپکو خلاء میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے لئے نہیں چھوڑا جا رہا ہے۔ بلکہ قرعہ اندازی کے ذریعے میں نے تین اشارے چن لئیے ہیں۔ اشارے یہ ہیں۔ شادی، پشاور، کراچی۔
سوالات؛
مرفی کے قانون کی تعریف کریں۔ اس تحریر میں مرفی کا قانون کہاں کہاں لگایا جا سکتا ہے؟
بقراطی محبت کیا ہوتی ہے؟
کیا بچپن میں بچوں کے ساتھ چھپن چھپائ کھیلنے سے، بڑے ہونے پر ان میں مناسب جگہ چھپنے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے؟ دلیل سے واضح کریں۔
اس تحریر کو رجعت پسندوں کے مطابق اسلامی بنانے کے لئے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کرنی چاہئیں؟ یا باالفاظ دیگر اس میں کن مقامات کو آپ انتہا پسند آزاد مسلمانوں کی تربیت کا نتیجہ سمجھتے ہیں؟
اس تحریر میں کن نکات کو آپ خواتین کی بے پرواہی کا نتیجہ سمجھتے ہیں؟ سماجی اور نظریاتی دونوں اگر موجود ہیں تو انہیں بیان کریں۔
کیا خواتین کو بقراطی فلسفہ پڑھنے کی اجازت ہونی چاہئیے؟ یا انکے لئیے اسٹار پلس اور شیف ذاکر کی خدمات سے ہی استفادہ حاصل کرتے رہنا چاہئیے؟ یہ سوال لازمی نہیں ہے۔

عملی سوال؛
ایک پول منعقد کرا کے اس بات کا جائزہ لیں کہ دوسری شادی اور بے روزگاری کے درمیان کیا واقعی کوئ تعلق ہے۔  
نوٹ؛ بیشتر تحاریر کی طرح اس میں بھی ہو سکتا ہے کہ کرداروں کے نام تبدیل کر دئیے گئے ہوں۔ اس لئے براہ مہربانی ان مندرجات کو میرے اوپر انکم ٹیکس لگانے کی مد میں استعمال نہ کیا جائے۔

Saturday, August 8, 2009

میری ہم جولیاں

آرٹس کونسل کراچی میں، میں بھی ان بے تحا شہ تالیاں بجانے والی ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین میں شامل تھی جب مدیحہ گوہر کا ڈرامہ بری اپنے اختتام پر پہنچا۔
کہانی کے کئ زنانہ کرداروں میں جو کہ جیل میں اپنے مقدمات کے فیصلے کا انتظار کر رہی تھیں ایک کردار جمیلہ کا تھا۔ سولہ سال کی عمر میں ایک ساٹھ سال کے بیمار بڈھے سےسوہنی جمیلہ کی شادی، یہی سوچ کر کی گئ تھی کہ وہ اپنے شوہر کے اپنے سے بڑے بچوں کی اور بیمار شوہر کی خدمت کرے گی۔ لیکن وہ اس گاءوں کے ایک نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو کر اپنے شوہر اور اسکے بچوں کے ہاتھوں اچھی طرح پٹنے کے بعد اس رات کلہاڑی لیکر اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ اور اپنے شوہر کو للکار کے اٹھاتی ہے۔ یہاں سے ڈرامہ اپنے کلائمیکس میں داخل ہوتا ہے۔ وہ اپنی کلہاڑی لہراتی ہوئ اسکے سینے پر مارتی ہے اور کہتی ہے، 'جا میں نے تجھے طلاق دی'۔ اسی طرح تین کلہاڑیوں کے وار کے ساتھ تین طلاقیں اس مرد کے حصے میں آتی ہیں۔ سوہنی سی جمیلہ کو پھانسی ہوجاتی ہے۔ لیکن جمیلہ کا کردار معاشرتی نا انصافیوں کے خلاف اٹھنے والی ایک مضبوط آواز ہے اور وہ جہاں کہیں بھی ہے، میں اسکے ساتھ ہوں۔
اب سے کچھ عرصے پہلے ٹی وی پر ایک بسکٹ کا اشتہار آتا تھا۔ جس میں ایک لڑکی جو غالباً کسی ہوسٹل میں رہ رہی ہوتی ہے اپنی ماں سے بسکٹ کھاتے ہوئے فون پر باتیں کر رہی ہوتی تھی۔ اور وہ بسکٹ کھانے میں اتنی مگن ہوتی ہے کہ جب اسکی ماں کہتی ہیں کہ ہم نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے تو جواب میں وہ کہتی ہے۔'سپر'۔ یہ بسکٹ کا نام ہے۔ اس وقت فون رکھنے کے بعد وہ لڑکی سوچتی ہے یہ تو کوئ غیر معمولی بات ہوئ۔ پھر بھی بسکٹ کی لذت جیت جاتی ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ ایک برانڈ کے بسکٹ کے ساتھ زندگی نہیں گذاری جاتی۔ اور زندگی میں اچھے بسکٹوں کے علاوہ بہت سارے تلخ حقائق ہیں جنہیں بسکٹوں کے سہارے نہیں اڑایا جا سکتا۔
یونیورسٹی میں میری وہ دوستیں جو ہوسٹل میں رہا کرتی تھیں۔ جب کبھی ہم لوگوں کی زبانی یہ بات سنتیں کہ ہمارے دو ہم جماعتوں یا جاننے کی آپس میں پسند کی شادی ہو رہی ہے تو ذرا اترا کر کہتیں۔ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہوتا۔ بھئ ہمارے یہاں تو کسی دن اماں یا ابا کا فون آئیگا کہ اگلے ہفتے تمہاری شادی ہو رہی ہے۔ آجاءو۔ بس ہم جائیں گے اور شادی ہو جائے گی۔ میں نے انکے غرور کو کبھی تحسین سے نہیں دیکھا۔ میرا خیال ہے یہ فیوڈل روایات ہیں اور ان پر فخر کرنا اس نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
میں ابھی دو دن پہلے تک یہی سمجھتی رہی کہ گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والے اس فرسودہ روائتی نظام کی پیدا وار ہیں۔ لیکن بھلا ہو ہمارے ایک ساتھی بلاگر کا انہوں نے میرے جیسے لوگوں کے علم میں اضافہ فرمایا اور انکشاف کیا کہ یہ وبا ان علاقوں میں ہوتی ہے جہاں ٹیوب ویل نہیں ہوتے ہیں اور ان سے منسلکہ کمرے۔ جہاں جہاں یہ سہولت بہم میسر ہے وہاں وہاں گھروں سے بھاگنے کی زحمت کوئ نہیں کرتا۔ اے کاش، جب آدم اور حوا کو زمین پر نا فرمان کہہ کر بھیجا گیا تھا تو ایک ٹیوب ویل بھی بھیج دیا جاتا اس سے ہابیل قابیل کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچ جاتے اور ہمیں بھی اس وقت اس مسئلے کا سامنا نہ ہوتا۔ یعنی ہمارے نوجوان گھروں سے بھاگ کر شادیاں نہ کرتے۔ صرف اسی انکشاف پر انکی انگلیاں نہیں رکتیں۔ بلکہ وہ روائت پسندوں کی اس بات کو دہراتے ہیں کہ عورتیں تو ہوتی ہیں ریا کار، اور جیسے ہی انہیں موقع ملتا ہے وہ اپنی تخلیق میں موجود برائیوں کو سامنے لے آتی ہیں۔ مختصراً یہ کہ عورت کی تخلیق بس برائ کے خمیر سے اٹھائ گئ ہے۔ خیر، یہ وہ چیز ہے جو انہوں نے اپنی زندگی کے سفر میں مختلف مراحل سے گذر کر سیکھی ہو گی۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ انکے چاہنے والوں میں چند ایک کے علاوہ سب انکے عظیم خیالات کو سراہتے ہیں۔ ان میں سے بھی چند کو صرف یہ اعتراض ہے کہ بات کہنے کا انداز مناسب نہیں۔ اس غضب کی بات کو ذرا مناسب الفاظ میں کہا جاتا تو----------۔
اول تو میں ان سے یہ پوچھنا چاہونگی ہمارے صدر صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے جب وہ اپنی مرحومہ بیگم کی تصویر گلے میں لٹکائے بیرون ملک امداد کی درخواست کرتے نظر آتے ہیں۔ اور پھر نیو یارک کے ایک فلیٹ کے قصے-----ریاکاری کی مثالیں اگر آپ ڈھونڈنے نکلیں تو شاید آپکی صنف کا کوئ مقابلہ نہ کرسکے۔ جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عورت تھی جس کی وجہ سے ہم جنت سے نکلے تو نا انصافی کا پہلا بیج وہاں بویا جاتا ہے۔اس سے ملتے جلتے تمام بیانات یہودیوں اور عیسائیوں کے ذرائع سے حاصل کر کے ہماری تفسیروں میں ڈالے گئے ہیں۔تاکہ پدری نظام کو سپورٹ ملتی رہے۔ ہماری مذہبی کتاب میں اس بہکانے کے متعلق کوئ ہلکا سا اشارہ بھی موجود نہیں۔البتہ رسول للہ جب پہلی وحی کے بعد جب کسی کو اس میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک خاتون ہی ہوتی ہیں۔
آپکے نظام میں یہ معاشرتی کمزوریاں ابھی سے نہیں آئ ہیں۔ بلکہ یہ اس وقت بھی موجود تھیں جب سوہنی کچے گھڑے پر دریا تیر کر پہنچ رہی تھی، جب ہیر رانجھے کی بانسری سن رہی تھی اور جب صاحباں اپنے مرزا کے ساتھ بھاگنے کے تیار کھڑی تھی۔ ان کہانیوں کا دلچسپ عنصر یہ ہے کہ یہ سب شادی شدہ خواتین کہی جاتی ہیں۔ انہیں گھڑے ہوئے قصے کہا جا سکتا ہے لیکن ایسے قصے اس دور کے مزاج اور سوچ کو ظاہر کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت تھا کہ ٹیوب ویل وجود میں نہیں آیا تھا شاید اسی لئے ان برائیوں کو اپنے پیر جمانے کے موقع مل گیا۔
میرا تعلق اس شہر سے ہے جسے ایک عورت مائ کولاچی کے نام سے بسایا گیا۔ اپنے ساتھی بلاگر کی معلومات میں ، میں بھی کچھ اضافہ کرنا چاہونگی کہ اسی زمین سے ماروی اور سسی جیسی عورتوں نے جنم لیا۔ شاید آپکے علم میں ہو کہ ماروی ایک سال تک اپنے شوہر سے الگ بادشاہ کے محل میں رہی مگر اس نے اس محل میں رہنے سے انکار کر کے اپنے شوہر کے ساتھ رہنے پر ترجیح دی۔ اسکے بیحد اصرار پر جب وہ واپس آئ تو بعض روایات کے تحت اسے اپنی پاکیزگی ثابت کرنے کے لئے ایک آزمائسشی امتحان سے گذرنا پڑا۔ جبکہ سسی اپنے محبوب شوہر سے ملنے کی کٹھنائیوں سے گذرتے ہوئے مر گئ۔ دنیا کی تاریخ اور ادب جو کہ بیشتر مردوں نے لکھا ہے اس میں بھی ایماندار اور غیر جانبدار مردوں کے لکھے ہوئے الفاظ عورتوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اگر عورت صرف ریاکاری اور جسمانی تعلق کے لئے ہر کام کر گذرنے والی مخلوق کا نام ہوتا تو آج اقبال فاطمہ بنت عبداللہ پر نظم نہ لکھتے۔ یہی نہیں فاضل قلمکارجب چالیس سالہ مردوں کےحیات کے گوشوں پر سے پردے اٹھاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خود کسقدر فیوڈل نظام کی سوچوں کے زیر اثر ہیں۔
ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ اسی ڈیڑھ کروڑ سے زائد آبادی والے کراچی میں یہ واقعات بہت کم سننے میں آتے ہیں۔ جبکہ یہاں ٹیوب ویل بھی نہیں ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ روزانہ لاکھوں مرد اور عورت صبح اپنے گھروں کو چھوڑتے ہیں اور نو دس گھنٹے گذار کر اپنے گھروں کو واپس پہنچتے ہیں۔ اچھی خاصی خواتین کے شوہر شہر یا ملک سے باہر رہتے ہیں۔ نو جوان لڑکیاں بلا کھٹکے ادھر ادھر بازاروں، تعلیمی اداروں، ملازمتی مقامات اور تفریح کے لئے اپنے مرد رشتے داروں کے تحفظی ساتھ کے بغیر آتی جاتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر اپنے والدین کی مرضی سے شادی کرتی ہیں اور شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت ایک مطمئن زندگی گذارتی ہے۔ یہاں اگر آنر کلنگ کے واقعات سنائ بھی دیتے ہیں تو انکا تعلق شاید ہی یہاں بسنے والی اکثریتی طبقے سے ہو۔ اب یہاں ٹیوب ویل نہ ہونے کے باوجود ایسا کیوں ہے۔ اسپر کوئ کچھ روشنی ڈالنا پسندکرے گا۔ یا ابھی آپ اسی قسم کا کوئ چٹخارے دار بلاگ پڑھ رہے ہیں۔


ڈرامہ بری
آنر کلنگ-۱
آنر کلنگ-۲
مرکزی خیال ماخوذ

Thursday, August 6, 2009

قصہ ایک دودھ والے کا

ِ
پہلے تو میں آپ کو اطمینان دلادوں کہ اس قصے کا دودھ والوں کی ملاوٹ سے کوئ تعلق نہیں۔ نہ ہی آپ مجھے اس قسم کے جملے لکھ کر بھیجنے میں اپنا وقت ضائع کریں کہ باجی، دودھ والوں سے کہیں کہ وہ کوٹری کے اسطرف والی نہر سے پانی ملایا کریں۔ وہاں پلا مچھلی بھی آتی ہے۔ اور اکثر مینڈک نکلنے کے بجائے کبھی کبھی مچھلی بھی نکل آئے تو کیا حرج ہے۔ تو ان باجی کادودھ والوں تک ایسی کوئ فرمائش پہنچانے کا ارادہ نہیں۔ بعد میں وہ پلا مچھلی کی قیمت بھی دودھ میں شامل کر دیں گے تو یہ سب لوگ کہیں گے کہ ہم دودھ والوں سے کمیشن کھارہے ہیں۔
جیسا کے عنوان سے ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک دودھ والے کا قصہ ہے اور انکی باقی کمیونٹی سے اسکا کوئ تعلق نہِں۔ مزید یہ کہ اگر آپ کو دودھ والے اور طوطے کےدرمیان ہونےوالی گفتگو سن کر بڑی ہنسی آتی ہے تو میں معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہونگی کہ پوسٹ کے لمبا ہوجانے کے ڈر سے اسے یہاں پھرنہیں لکھا جا سکتا۔ آج آپ کچھ نئ باتوں پر ہنسنے کی کوشش کریں۔ زیادہ کمزور دل احباب کا دل بھر آئے تو رو بھی سکتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ بھی واضح کردوں کہ میں روشن خیال ہونے کے باعث صرف ڈسپوزیبل ٹشو پیپر استعمال کرتی ہوں اور اس نازک موقع پر جیسا کہ روایت ہے آپ کو کوئ بھی رومال عطا کرنے سے قاصر ہوں۔ ویسے بھی مجھے معلوم ہے کہ آپ اس سے صرف آنسو نہیں صاف کریں گے بلکہ سڑکیاں بھی ماریں گے۔کیا کہا، مگرمچھ کے آنسو بہانے میں ناک سڑکتی نہیں ہے۔ میں اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتی۔ کیونکہ اس ساری بحث سے پہلے ہی اس قصے کا حسن ختم ہو رہا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کوئ محکمہ ء تحفظ حسن و جمالیات بھی ہونا چاہئیے۔
وہ کراچی کی ایک حسین جولائ کی سہ پہر تھی۔ کراچی میں جولائ ہمیشہ حسین ہوتا ہے اس وقت بھی جب جولائ نہیں ہوتا تھا۔ خیر، موسم کی دلداری کے لئیے میں نے سوچا کہ کچھ دوستوں سے ملا جائے۔قرعہ ءفال ایک ایسی دوست کے نام نکلا جن کی دو بہینیں اور تھیں۔ اتنی ساری لڑکیاں ہونگیں۔ ادھر کی غیبت، ادھر کے تبصرے، کچھ نئ خبرِیں، کچھ پرانی خبریں تازہ بگھار کے ساتھ، خوب چیں پیں ہوگی کتنا مزہ آئے گا۔ میں نے تصور میں ایسے ہی معصوم سپنے سجائے۔ نہیں معلوم تھا کہ ایک دودھ والا ان سب سپنوں کو روندنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اب وہاں پہنچتی ہوں تو کیا دیکھتی ہوں ۔ ساری قوم جیسےایک عالم خواب میں ہے۔سب سے پہلے سب سے چھوٹی والی داخل ہوئیں۔ بنّا کہہ رہی ہیں آج انکی باری ہے۔ اور میں بتا دوں میں تیار ہوں اور اب میرے علاوہ کوئ دودھ لینے نہیں جائے گا۔ مجھے ذرا جھٹکا لگا۔ دل میں اپنے گھر والوں کو برا بھلا کہا۔ ایک ہمارا گھر ہے، بیچارا بیل بجا بجا کر تنگ آجاتا ہے ہر
شخص جو کام کر رہا ہوتا ہے اسی میں مصروف رہتا ہے زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ ابھی دو دن
پہلے وہ دھمکی دے چکا تھا کہ اگر اب دوسری بیل پر کوئ نہ آیا ےتو وہ قیامت تک اپنی شکل نہیں دکھائے گا۔ اتنی بھیڑ میں کسے انکی شکل دیکھنے سے دلچسپی ہوگی۔ کسی گل محمد نے یہ دھمکی بھی اڑادی۔

چلیں، اتنی دیر میں بنّا بھی لال پیل ہوتی آگئیں۔ چھوٹے ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم دوسروں کی باری نہ آنے دو۔ میری دوست نے دونوں کو دیکھا اور دانت پیسے۔ اور بڑے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ہر دفعہ میں قربانی کا بکرا بنی رہوں۔ میں ہکا بکا ایک کے بعد ایک کی صورت دیکھتی ہوں۔ ہم بھی اپنے گھر میں اسی طرح ہر تھوڑے دن بعد حقوق کی جنگ لڑتے ہیں۔ لیکن اس سے بالکل الٹ مقصد کے لئے۔ 'میں جاتی ہوں ہر دفعہ دودھ لینے کے لئے'۔ 'تین دن سے تو میں لے رہی ہوں۔ آپ نے روز ازل ہی یہ فریضہ انجام دیا ہوگا'۔ 'یہ آپ کس روز ازل کی بات کر رہی ہیں۔ ابھی پچھلے پورے ہفتے یہ میں تھا جو خدمت کرتا رہا ہوں'۔ اس قسم کے سارے ڈائیلاگ ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگے۔
بیساختہ منہ سے نکلا تم لوگ کتنے عظیم ہو اور ایک ہم ہیں خودغرض، ایکدوسرے کو طعنوں سے مار ڈالنے والے، ذرا جو ہمارے اندر مل بانٹ کر کام کرنے کی عادت ہو۔ یا احساس ذمہ داری۔ آخر ہم ایسے کیوں ہیں۔ چندا میری دوست ایک ادا سے بولیں، تمھارا دودھ والا کیا اتنا گلفام ہے جتنا ہمارا ہے۔ کیا اسے دیکھ کر آپ کے چہرے پر اتنی رونق آجاتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔اور جس کے بعد غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ
لو، ہم مریض عشق کے بیماردار ہیں
اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
میرا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا اگر انہوں نے توجہ نہ دلائ ہوتی کہ کہ جولائ اتنا حسین ہوتا ہے کہ مکھیاں بھی بڑی سیلانی ہوجاتی ہیں، کچرے کے ڈھیر اور ہمارے منہ میں خاص فرق روا نہیں رکھتیں۔بنّا نے چندا سے کہا کہ آج وہ کھڑکی سے دیکھ لیں کیونکہ آج کے دن بنّا کے حق پر کوئ ڈاکا نہیں ڈال سکتا۔ چندا کو شدید غصہ آیا، کھڑکی سے کیا نظر آتا ہے 'پیٹھ۔' ۔ اور وہ غصے میں بھری کچن میں چلی گئیں غصہ خالی کر کے کچھ کھانا بھرنے کے لئے۔ بعض لوگ کچھ کھا کر غم غلط کرتے ہیں بالخصوص وہ جو دوسروں کو کچھ ایسا کھلانے کی سکت نہیں رکھتے مثلاً مار، جوتے، ڈانٹ۔ بیل بجی، بنّا دروازے پر دودھ کی بالٹی پکڑے تیار کھڑی تھیں۔ 'آج اس نے پیلا کرتا پہنا ہوا ہے'۔ انہوں نےدروازے میں موجود سوراخ سے جھانکتے ہوئے سرگوشی کی اور دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھول دیا۔ چھوٹی نے اپنا سوجا ہوا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا۔میں کھڑکی پر جا کر کھڑی ہوگئ، یہاں سے منگھوپیر کی پہاڑیوں پر آباد گھروں کی روشنیاں بہت اچھی لگتی ہیں۔ لیکن دن کے وقت کہاں یہ منظر نظر آسکتا ہے۔ویسے چندا ٹھیک کہہ رہی تھی کھڑکی سے تو اسکی صرف پیٹھ نظر آتی ہے۔ ایک بات اور، جولائ کے حسین مہینے میں پیلا رنگ اتنا برا نہیں لگتا۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ محکمہء تحفظ حسن و جمالیات بھی ہونا چاہئیے۔ پھر خیال آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا

Sunday, July 19, 2009

چھم چھم کا غم


بات شروع ہوئ تھی گھنگھور گھٹاءوں سے بیچ میں برئ پراٹھے اور آم آئَے۔ ابھی بھی عذاب نہیں آئے۔ ہم اپنی قسمت پہ اترائے۔ سوچا کہ خدا ہم ناہنجاروں سے کچھ زیادہ ناراض نہیں۔ رحمت بھی ہے اور نعمت بھی۔ اپنے آپ کو بنی اسرائیل سے افضل جانا۔
پھر نیرہ نور نے بڑا ساتھ دیا اور ہم کافی دیر انکی آواز میں بولتے امیرخسرو کو سنا کئے،
جھولا کنے ڈالا رے ہمریاں
دو سکھی جھولیں، دو ہی جھلائیں
دو سکھی جھولیں ، دوہی جھلائیں
چاروں مل گئیاں، بھول بھلیاں
جھولا کنے ڈالا رے ہمریاں
پھر برآمدے میں بیٹھے مشتاق یوسفی کے مضمون کراچی کی بارش کے جملوں کو یاد کرتے رہے۔ پھر اسکےبعد------------------چراغوں میں روشنی نہ رہی۔
غرور کا سر نیچا، اندھیرا جب حد سے آگے بڑھا تو تسلی دی کہ یہ تو لوڈشڈنگ ہے ابھی کچھ دیر میں باری آنے پر ہماری قسمت کا ستارہ چمکے گا۔ اور یہ رو سیاہی جس میں اپنی قسمت اور دوسروں کی تدبیر کا بھی دخل ہے، دور ہوگی لیکن ہمارے گھر میں موجود بجلی بابا نے کہا رات بغیر بجلی کے گذارنے کے لئے تیار ہو جائیں۔ کیونکہ جنریٹر کام نہیں کر رہا ہے۔ آپ کے منہ میں خاک۔ ابھی تو ساون کے کے اتنے گیت باقی ہیں۔ لیکن مرفی کا قانون ہمارے اوپر مسکرا رہا تھا۔ساری رات میں جہاں آئنسٹائن کے نظریہ ء اضافت کے پر پیچ گوشے کھلے وہاں یہ اندازہ ہوا کہ بجلی کے نہ ہونے سے کتنا وقت نکل آتا ہے۔
کہاں وقت ہے کہ دوڑا جاتا ہےاور ہماری اور اسکی رفتار میں دوستانہ تعلقات پیداہونے سے قبل ہی لمحہ ء فراق آجاتا ہے اور کہاں رات ایک پہاڑ کی طرح سامنے کھڑی ہے۔ایک ایک جھینگر، اور مینڈک کے ٹرانے کا فرق پتہ چل گیا۔ سات جھینگر اور دو مینڈکوں کے سروں کے درمیان اڑوس پڑوس کی آوازیں کہ یہ کس گھر سے آرہی ہیں۔ درمیان میں اپنے گھر کی آوازیں نفی کرتی جاتی ہوں۔ مگر رات اسی طرح پل پل گذر رہی ہے۔ تھوڑی دیر میں اتنی مہارت حاصل ہو جاتی ہے کہ باہر برسنے والی بارش کا اندازہ کر سکوں کہ اتنی دیر میں کتنے ملی میٹر برس چکی ہے اور ابھی کتنی باقی ہے۔ اتنا علم حاصل ہو جانے کے بعد بھی محکمہ ء بجلی کی تسلی نہ ہوئ۔ وہ ہمیں علم کے ثریا کے بام عروج پہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر انہیں گالیاں دینے کے بجائے ہم اسی طرح صبر و تحمل سے علم کے حصول میں لگے رہیں تو کچھ دنوں میں مسلمان دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیں گے۔
اب اندازہ ہوا کہ یہ کم بخت ویلیئم گلبرٹ نے ۱۵۵۰ میں بجلی دریافت کر کے مسلمانوں کے خلاف سازش کی بنیاد رکھی۔ اگر وہ یہ نہ دریافت کرتا تو آج ہم کتنے آگے ہوتے۔ ان ناہنجار سوچوں کا بھی کوئ فائدہ نہیں۔ ایڈیسن کے ایجاد کئے ہوئے بلب اسی طرح بجھے ہوئے ہیں۔ ڈرائیو وے میں بلی کے بچے کو کھانا چاہئیے یہ پتہ نہیں کہاں سے تین دن پہلے آگیا ہے۔ اسکی میاءوں پر غور کرتی ہوں۔ مگر پہلو سے آواز آتی ہے اماں پنکھا کیوں نہیں چل رہا۔ میں اس آواز کو ویلئم گلبرٹ کے بارے میں بتانا چاہتی ہوں، لیکن رک جاتی ہوں۔ جھینگر، مینڈک، بلی، پڑوسی، بارش کی چھم چھم ۔، اور دور تک چھائے اندھیرے میں ایک نا معقول شخص کا نام کیوں لیا جائے جس نے ہمیں ترقی کی راہ سے بھٹکا دیا اور فحاشی، بے غیرتی اور بے حیائ کے رستے پہ روانہ کردیا۔ میں اسے تسلی دیتی ہوں۔ پنکھا سو رہا ہے تھک گیا ہے۔
صبح ہو گئ، دوپہر، سہ پہر اور اب رات ہونے کو ہے۔ سوچتی ہون یہ اتنی بیکلی کیوں ہے، وہ مجھے بھول گیا ہو جیسے۔کیا ایک اور رات فطرت کے قریب رہنے کا موقع ملے گا۔ وہی جھینگر، مینڈک اور بلی، پڑوسی---------
ادھر ادھر فون کرتی ہوں۔ کچھ لوگوں کی لائٹ آگئ ہے۔ سسٹم آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔ نئ توقع باندھتی ہوں۔۔
اماں پنکھا اٹھ گیا، لائٹ آگئ۔ ایک باریک آواز نے اطلاع دی۔ ویسے بھی مجھے اندازہ ہوگیا تھا۔ وہ ساری آوازیں گم جو ہو گئ تھیں۔ جھینگر ، مینڈک، بلی، پڑوسی اور ہاں بارش کی چھم چھم بھی۔ کیا مصیبت ہوتی ہے یہ بارش بھی۔ میں پھر نیرہ نور کو سنتی ہوں۔

ہاں یاد مجھے تم کرلینا، آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئ در پیش جو مشکل آجائے
اے جذبہ ء دل گر میں چاہوں، ہر چیز مقابل آجائے

نوٹ؛ چونکہ یہ واقعہ کراچی میں پیش آیا ہے اس لئے اس شہر کا نام لیا گیا ہے۔ دوسرے شہروں کے رہنے والے کسی بھی قسم کے احساس محرومی کا شکار نہ ہوں۔ میں نے کسی بھی قسم کا تعصب برتنے کی کوشش نہیں کی ہے۔

ریفرنس؛
ویلیئم گلبرٹ