بارے کچھ اپنی تعلیمی قابلیت کا تذکرہ ہو جائے کہ اس سے اردو بلاگنگ کی دنیا میں کچھ لوگوں کو 'کچھ کچھ' ہوتا ہے۔ اور عالم یہ ہو گیا ہے کہ
ذکر میری پی ایچ ڈی کا، اور پھر بیاں انکا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
تو ان سب رقیبوں کو نئے راستے دیتی ہوں۔ دل کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ تبدیلی لاتے رہنا چاہئیے کہ یہ دل مانگے مور۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ سب کے پاس جو اطلاعات ہیں وہ خاصی ادھوری ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ میری پی ایچ ڈی کو اپنے لئیے ایک تازیانہ سمجھتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ کارنامہ میں نے بلاگنگ کی دنیا میں آنے سے پہلے کیا تھآ اس لئے اس میں میرا قصور اتنا نہیں جتنا کہ لوگوں کی نیت میں فتور ہے۔
میں نے بیچلرز آنرز، کراچی یونیورسٹی سے کیا اور پھر وہیں سے نامیاتی کیمیاء میں ماسٹرز کیا۔ اور ابھی ہمارے ماسٹرز کا آخری سمسٹر ختم بھی نہ ہوا تھآ کہ یونیورسٹی میں واقع تھرڈ ورلڈ کے سینٹر آف ایکسیلینس کے اینٹرنس ٹیسٹ اور انٹرویو میں جا پہنچے۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ دونوں مرحلوں سے بخیر و عافیت گذر گئے۔ اور بس ماسٹرز کے آخری پیپر کے بعد تمام تر مخالفتوں اور نا مساعد زمینی حالات کے باجود ریسرچ شروع کر دی۔
پی ایچ ڈی کا مطلب ہے ڈاکٹر آف فلاسفی۔ اگر آپ اسکی تمام شرائط کو پورا کریں تو یہ محض ایک کاغذ کی ڈگری نہیں ہوتی بلکہ یہ آپکے روئیے، نظریات اور زندگی کی طرف دیکھنے کی صلاحیتوں میں واضح تبدیلیاں لے آتی ہے۔ اگر میں ماسٹرز کرنے کے بعد اس راہ پہ قدم نہ رکھتی تو آج کی نسبت بہت مختلف ہوتی۔ اسکی وجہ ریسرچ کے مطالبات ہیں۔۔
چونکہ دراصل پی ایچ ڈی فلسفے کی طرف لیجاتی ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا کو عقل کی عینک سے دیکھنے کا نام ہے۔ اسکا بنیادی مقصد کسی انسان میں آزاد سوچ کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ماسٹرز تک کی سطح پہ ہم ایک کورس پہ عمل کرتے ہیں اسی میں سے ہمارا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پہ اس بات کی تربیت ہوتی ہے کہ ہم اپنے طور پہ مسائل پہ قابو پانے اور انکے حل کی طرف اپنی صلاحیتیں خود سے استعمال کرنے کے قابل ہوں اور اس سے بھی ایک قدم آگے کہ ہم مسائل کے پیدا ہونے سے قبل یہ کامیاب اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں کہ آنیوالے مسائل یہ ہونگے۔ انگریزی میں اسے ویژن کا پیدا ہونا کہتے ہیں۔ ویژن کا اردو ترجمہ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت کر سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب اس طرح کی اسناد نہیں ہوتی تھیں لوگ اپنے تجربے، مشاہدے اور علم سے یہ قوت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ ایک مشکل بات ہوتی تھی کہ ہر شخص اپنے محدود ذرائع کی وجہ سے صحیح بات تک پہنچنے کے قابل نہ ہو پاتا تھا۔ وقت کے ساتھ آسانیاں آئیں، یونیورسٹیز کی صورت میں ان تمام طریق ہائے کو ایک جگہ کر دیا گیا۔ اور سکھانے کے طریقے نکالے گئے اور یوں اب اہل طلب کے لئے مشکلات پہلے سے کم ہیں۔
لیکن سیکھنے کا عمل اتنا ہی وقت لیتا ہے جتنا آج سے ہزار سال پہلے لیتا تھا۔ اب زندگی اس لئے مشکل ہو گئ کہ مجھے اپنے کسی تحقیقی مضمون پہ تحقیق کرتے وقت گذشتہ ہزار سال میں جو کچھ ہوا اسے بھِی نظر میں رکھنا پڑتا ہے ۔ جبکہ آج سے ہزرا سال پہلے کسی شخص کی الجھنیں یہ نہیں کچھ اور تھیں۔
اب سائینسی سطح پہ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ریسرچ پروجیکٹ تیار کرنا ہوتا ہے، اس میں ایک سپر وائزر یہ مدد کر سکتا ہے کہ وہ مختلف موضوعات بتا دے جسکے تحت اس ادارے میں سہولیات موجود ہوں اور وہ خود بھی اسے کرانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس پروجیکٹ پہ کام کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اب تک کی ریکارڈڈ تاریخ میں اس پہ کس نوعیت کا کام ہوا ہے۔ اس ساری تاریخ کو مختلف جرنلز سے کھنگالا جاتا ہے اور اس مِں ذرا سی غلطی یا صرف نظر کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں آپکا کام نقل کہلائے گا اور کوئ بھی اچھا ادارہ اس پہ یہ سند نہیں دیگا۔
دوسرے مرحلے پہ اس تمام پروجیکٹ کو تجرباتی سطح پہ کر کے ایسے نتیجے نکالنے ہوتے ہیں جو آپ سے پہلے کبھی کسی نے نہ نکالے ہوں، آپکا نتیجہ بالکل نیا نکور ہونا چاہئیے۔ تیسرے مرحلے پہ آپ ان تمام نتائج کو جو آپ نے اخذ کئے ہوتے ہیں انکے لئیے دلیلیں تلاش کرنی ہوتی ہیں اور ان پہ جو کام پہلے کیا گیا تھا۔ چاہے وہ سو سال پہلے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ اپنی دلیلی کو ان تمام نتائج کی رو سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اچھا، یہ تمام کام تو چلتا رہتا ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ کورسز ہوتے ہیں اور انکے امتحانات بھی جنہیں پاس کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ نظریات طور پہ بھی اپنے میدان کے علاوہ بھی باقی چیزوں کی معلومات رہے۔ وہ تمام نتائج جو آپ نے انپے تجربات کے دوران حاصل کئے انہیں چھوٹے چھوٹے تحقیقی مضامین کی شکل میں شائع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ان مضامین کو تحقیقی مقالہ کہتے ہیں۔ ان مقالوں میں کسی نئ معلومات کو بیان کیا جاتا ہے، اسکے ثبوت اور اس پہ موجود حقائق کی داستان دی جاتی ہے۔ کسی بھی سائینسی جریدے میں چھپنے سے پہلے انکا تفصیلی مطالعہ ریفریز کرتے ہیں۔ جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا تھا۔ وہاں کی شرط غیر ملکی سائینسی جریدے تھے۔ انکے ریفریز بھی غیر ملکی ہوتے ہیں ایک پی ایچ ڈی کے لئیے کم سے کم شائع ہونے والےتحقیقی مقالوں کی تعداد مقرر ہوتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی ساتھ، ہر پی ایچ ڈی کرنے والے کو اپنی تمام تربیت کے دوران سیمینارز کی ایک مخصوص تعداد دینی ہوتی ہے۔ جس میں تمام فیکلٹی اور ادارے کے تمام طالب علم اور اگر باہر سے کوئ مہمان سائنسداں موجود ہو سب شریک ہوتے ہیں اور ہر ایک سوال کرنے کا حق رکھتا ہے جسکا تشفی جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ ہر سیمینار کی طوالت ایک گھنٹہ ہوتی ہے۔ اسکی تیاری کسی طرح ایک تحقیقی مقالے سے کم نہیں ہوتی البتہ اس میں آپکی کوئ نئ تحقیق نہیں بلکہ پرانے کام کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔ پرانے کام سے میری مراد وہ کام ہے جو تحریری سطح پہ دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔
اسکے علاوہ گروپ میٹنگز اور گروپ ڈسکشنز ہر ہفتے ہوتے ہیں، کانفرنسز میں شرکت اور ورکشاپس میں تربیت بھی شامل ہیں۔ اگر ہم باہر کے کسی سائنسداں کے ساتھ مل کر کسی پروجیکٹ پہ کام کر رہے ہوں تو اسے بھی رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ اور اپنے روزانہ کے کام کی رپورٹ بھی تیار کرنا ہوتی ہے۔
پی ایچ ڈی کے آخری مرحلے میں ایک پینل کے سامنے آپ نے جو کچھ دوران پی ایچ ڈی کیا اسکا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ اسکا ایک اور اہم مرحلہ، اپنے تمام نتائج اس پہ گفتگو، اسکی پچھلی تاریخ اور اسے تیار کرنے کے لئیے جتنے بھی حوالے آپ نے استعمال کئیے، جنکی تعداد کءی سو تک جا پہنچتی ہے سب اس تھیسس میں جمع کرنے ہوتے ہیں۔ جس پہ سند ملتی ہے۔
یہ تھیسس ، اس ادارے سے جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا وہاں سے پاکستان سے باہر کسی بھی کیمسٹری کے اعلی ادارے میں کام کرنے والے دو مختلف تحقیق دانوں کو بھیجا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تحریر اس قابل ہے کہ اس کو پی ایچ ڈی کی سند دی جا سکے۔
تو محترم قارئین، چاول کے دانے پہ تحریر لکھنے والا یقیناً بہت بڑا آرٹسٹ ہے، میرے کمپیوٹر کے ہارڈ وئیر پہ کام کرنے والا اپنے کام کا بے حد ماہر ہے، حتی کہ وہ میکینک جس سے میں اپنی گاڑی صحیح کراتی ہوں وہ اس سلسلے میں مجھ سے کہیں زیادہ بہتر معلومات رکھتا ہے، شیف ذاکر مجھ سے اچھا کھانا پکاتے ہونگے، طاہرہ سید، مجھ سے اچھا گا تی ہیں ۔ ریما مجھ سے کہیں بہتر ڈانس کر سکتی ہیں۔ ایشوریا رائے مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن ان سب نے وہ نہیں کیا جو میں نے کیا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ میں تو کسی پہ اپنا علم جتاتی بھی نہیں نہ کسی بھی شخص کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کرتی ہوں کہ اسکی تعلیمی استطاعت کیا ہے۔ آج تک میں نے کسی کے بلاگ پہ اسکا پروفائل نہیں چیک کیا۔ میں تو لوگوں کو انکے لکھے ہوئے سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اب کسی کا اس بات پہ اپنا دل جلانے کا کیا فائدہ۔ کیا فائدہ کہ آپ ہر وقت اس چیز پہ اپنی انگلیاں تھکاتے رہیں کہ دراصل پی ایچ ڈی کی کوئ اہمیت نہیں اور اس چیز کی اہمیت ہے اور اس چیز کی ہے۔ اس سے صرف ایک بات مجھے پتہ چلتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کو اپنے اوپر اعتماد نہیں۔ ایسا کہنے والا مجھے اس ٹین ایجر بچے کی طرح لگتا ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا سے ہر صورت بغاوت کرنا چاہتا ہے۔ بغیر اپنی صلاحیتوں کو آزمائے۔
آپ میری بیان کی ہوئ کسی چیز میں غلطی نکالنا چاہتے ہیں بصد شوق۔ مگر میری پی ایچ ڈی پہ تبرہ بھیجنے سے آپکے الفاظ کی اہمیت میں کوئ اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ میری کسی دی ہوئ معلومات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو کسی مستند لکھنے والے کا حوالہ دیجئیے اور پھر اپنی بات کریں۔ میری پی ایچ ڈی کی تربیت مجھ سے یہی کہتی ہے۔ کسی سنی سنائ بات پہ یقین نہ کریں جب تک اسے ایسے تجربے کی کسوٹی پہ پرکھ نہ لیں جوکوئ دوسرا کرے تو اسے بھی وہی نتیجہ ملے جو آپکو ملا ہے۔ یا اگر ایسا نہ کر سکیں تو کسی مستند ذریعے سے اسکی تصدیق نہ کر لیں۔ اور یہ مستند ذریعہ لکھے ہوئے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس لئیے ہم اپنی مذہبی کتاب کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اب اعتماد سے بات کرنی ہے تو یہی طریقہ لگانا ہوگا۔ ورنہ دوسری صورت یہی ہوگی کہ آپ کسی کی علمی قابلیت کے بارے میں جان لیں گے تو اپنی سطح بلند کرنے کے بجائے اس میں خامیاں نکالتے رہیں گے۔ جو لوگ اپنی عمر گذار چکے انہیں چھوڑ کر باقی سب تو ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں ہر لحظہ کچھ نئے کی امنگ سے بھرا رہنا چاہئیے۔ پھر یہ رویہ کیوں؟
میری باتوں پہ آپکا عمل کرنا بالکل ضروری نہیں۔ کیونکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپکی بات پہ کیوں عمل کیا جائے آپ تو کتاب لئیے گھڑے میں بٹھی ہیں اور لوگ بالائ چاٹ چاٹ کرایک گھڑے سے نکل کر دوسرے میں جا چکے ہیں۔