Showing posts with label خواتین. Show all posts
Showing posts with label خواتین. Show all posts

Wednesday, October 17, 2012

لٹل ریڈ رائڈنگ ہڈ گرل

فرض کریں کہ انصار عباسی صاحب دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہے ہیں کہ راستے میں رک کر ایک ٹھیلے والے سے پھل لے کر اپنی گاڑی کی طرف واپس پلٹتے ہیں لیکن اسی اثناء میں ٹھیلے پہ لگا بم پھٹ جاتا ہے اور انصار عباسی سمیت بیس لوگ لقمہ ء اجل بن جاتے ہیں۔ لوگ افسوس کریں گے کہ انصار عباسی صاحب لا علمی میں کس طرح مارے گئے۔
اب یہی واقعہ ایک اور طرح سے پیش آتا ہے۔ انصار عباسی ساحب جس گروہ پہ تنقید کرتے ہیں اسکی طرف سے انہیں قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں وہ گاڑی میں جا رہے ہیں ۔ ٹھیلے والے کے پاس رک کر پھل خرید ہورہے ہوتے ہیں کہ ایک موٹر سائیکل پاس آ کر رکتی ہے اس پہ سوار افراد ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ انصار عباسی ہیں اور انکو گولی کا نشانہ بنا کر فرار ہوجاتے ہیں اگلے دن انکو دھمکی دینے والی تنظیم اس واقعے کی ذمہ داری قبول کر لیتی ہے۔
کیا ان دو واقعات پہ رد عمل ایک جیسا ہوگا؟
جی نہیں۔ پہلے واقعے میں پاکستان کے سیکیوریٹی کے حالات اور انکی وجوہات ڈسکس ہونگیں۔  دوسرے واقعے کو پاکستانی جرنلزم پہ اندوہناک وار کہا جائے گا۔ اور ہر شخص جو انکا نظریاتی طور پہ کتنا ہی مخالف ہو اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ جرنلسٹ کی حیثیئت سے انکا قتل ایک سانحے سے کم نہیں۔ یہ آزاد  صحافت پہ حملہ ہے۔
دھیرج رکھیں، انصار عباسی صاحب ابھی زندہ ہیں۔ خدا انہیں طویل عمر دے۔
بس یہیں سے ملالہ کا ملال شروع ہوتا ہے۔
ملالہ کی کہانی سن کر لٹل ریڈ رائڈنگ ہڈ گرل  کی کہانی یاد آتی ہے جسے اسکی ماں باسکٹ میں کھانے کی اشیاء دے کر بیمار نانی کے پاس جنگل کے اس طرف بھیجتی ہے اور راستے میں اسے ایک بھیڑیا مل جاتا ہے۔
ملالہ ، ملال یہ نہیں ہے کہ تمہیں کس نے ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ نہ ہی یہ ملال ہے  کہ اسلام کا نام لینے والوں نے یہ دعوی کیا کہ انہوں نے تمہیں گولی ماری۔ بہت عرصہ ہوا لوگ مر رہے ہیں اور ہم یہ دعوے سن رہے ہیں۔ نہ ہی یہ ملال ہے کہ انہوں نے یہ کہا کہ چونکہ تم نے شریعت کے خلاف جا کر کام کیا اس لئے تم اس سزا کی حقدار ہو۔ شرعی معاملات کو نافذ کرنے کے لئے اب ہمارے یہاں ٹھیلے پہ سبزی بیچنے والا بھی بے قرار ہے یہ جانے بغیر کہ شریعت کس چڑیا کا نام ہے۔  نہ ہی مجھے اس بات کا ملال ہے کہ طالبان نے کہا کہ کیا ہوا تم بچ گئ وہ دوبارہ تمہیں مارنے کی کوشش کریں گے۔ ہم دیکھ چکے کہ وہ اپنی بات میں کتنے اٹل ہیں۔ 
 میں تمہیں اتنا ہی جانتی ہوں جتنا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔ یہاں بہت سارے لوگ معاشرے کی تباہ ہوتی اقدار کے بارے میں فکر مند ہیں مجھے تمہارے بارے میں جان کر کیا کرنا۔ وہاں وادی ء سوات میں بے شمار لڑکیاں ہونگیں جو اپنی تعلیم پہ فکر مند ہونگیں۔ جنہیں اپنے ساتھ یہ دوسرے درجے کا سلوک پسند نہیں ہوگا۔ بس یہ کہ تم ان لڑکیوں کے لئے ایک علامت بن گئیں۔ زیادہ تر لوگ تو اس علامت کو درپیش خطرے سے صدمے میں آئے۔ 
 در حقیقت میں تم سے زیادہ تمہارے والدین کی بہادری کی قائل ہوں۔ آخر تمہارے والدین نے تمہیں گیارہ سال کی عمر میں اس قسم کی مضامین لکھنے کی اجازت کیوں دی جس میں تم لڑکیوں کی تعلیم کی بات کرو وہ بھی ایسے علاقے میں، اس عہد میں جب کہ صرف اس فتوی کے آنے کی دیر تھی کہ بحیثیئت عورت پیدا ہونا ایک غیر شرعی عمل ہے۔ آخر انہوں نے تمہیں وہ سبق کیوں نہیں پڑھایا جو ہمارے یہاں اس وقت خواتین کو پڑھایا جانا پسند کیا جاتا ہے؟  
لیکن پھر بھی مجھے ایک ملال سا ہے۔ اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ نہیں جنہوں نے تمہیں گولی ماری بلکہ وہ لوگ ہیں جو اس واقعے کے بعد سامنے آتے ہیں۔
لوگوں کا ایک گروہ کہتا ہے کہ طالبان نے یہ نہیں کیا امریکہ نے کیا ہے فوج نے کیا ہے۔ لیکن اس کے اگلے ہی لمحے وہ کہتے ہیں کہ کیا آپکو معلوم ہے کہ ملالہ  کی فیورٹ شخصیت اوبامہ ہے، یا یہ کہ کیا آپ نے ملالہ کے مضامین پڑھے ہیں؟ انہیں پڑھے بغیر آپ ملالہ کو مظلوم کیوں سمجھتی ہیں؟  ڈرون حملوں میں  بچے مارے جاتے ہیں آپ اسکی مذمت نہیں کرتیں تو ہم ملالہ کی مذمت کیوں کریں؟ پاکستان میں ایک نہیں لاکھوں ملالائیں ہیں ہم صرف اسکی مذمت کیوں کریں؟ وہ ہمارے یہاں کی ایک اور مختاران مائ ہے۔  ہم کیوں نہ کہیں کہ عافیہ صدیقی اور جامعہ حفصہ کی لڑکیوں سے اگر آپکو ہمدردی نہیں تو ہمیں بھی ملالہ سے ہمدردی نہیں؟
آخر ملالہ نے ایسا کون سا کام کیا ہے جس پہ اسکی اتنی شہرت ہے؟  ہمارے یہاں تو ایسی لاکھوں ذہین لڑکیاں ہیں۔ عین اسی وقت دوسرا سوال پوچھتے ہیں کہ وہ جو مضامین اس نے لکھے ہیں اس عمر کا بچہ تو لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس عمر میں بچے نہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں اور نہ اتنا سوچتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ دراصل اس کے ساتھ جو ہوا اس کے اصل ذمے دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسکی باتوں پہ اس کی حوصلہ افزائ کی۔
یہیں پہ دل ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ یہ تک کھوج کر نکال لاتے ہیں کہ کیا ہم جانتے ہیں کہ ملالہ کے دیندار دادا نے ملالہ کے سیکولر نظریات رکھنے والے والد کو اسکے کفر کی وجہ سے نوجوانی میں گھر سے باہر نکال دیا تھا۔
ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں، جو کہتے ہیں کہ طالبان تو وجود ہی نہیں رکھتے یہ تو امریکیوں کا پھیلایا ہوا وہم ہے۔  لیکن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ پھر آپ طالبان کی مذمت کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں تو پھر ایک آئیں بائیں شائیں۔
اس وقت ایک چودہ سالہ لڑکی برطانیہ کے کسی ہسپتال میں ہوش و خرد سے نا آشنا کسی بستر پہ مشینوں کے سہارے پڑی ہے۔ وہ اگر ایک طویل علاج کے بعد زندگی کی طرف لوٹ بھی آئے تو یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کس حد تک تندرست ہوگی۔
لیکن میرے جیسے دلوں میں یہ خیال کروٹیں لے رہا ہے کہ بستر پہ پڑا وہ وجود ایک چودہ سالہ لڑکی کا ہے یا چونسٹھ سال کے ملک کا ہے۔ 
  

Monday, September 3, 2012

چار ستمبر، یوم حجاب

ایک ساٹھ سالہ خاتون انتہائ غصے میں بتا رہی تھیں کہ وہ کسی مجبوری کی بناء پہ بس سے سفر کر رہی تھیں۔ بس والا اتنی تیز بس چلا رہا تھا اور مسافروں کو اتارنے کے لئے بھی بس آہستہ کرتا لیکن روک نہیں رہا تھا۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اس سے کہا دیکھ بھال کر چلاءو۔ کیونکہ کچھ سال پہلے وہ چلتی بس سے گر کر اپنا ہاتھ تڑوا بیٹھی تھیں۔  اس پٹھان ڈرائیور نے انکی نصیحت پہ عمل کرنے کے بجائے ان سے کہا دوپٹہ سر سے اوڑھ کر بیٹھو۔ طیش میں انہوں نے بس ڈرائیور کو کہا  کہ تو کیا میرا باپ لگتا ہے۔ تیرا قصور نہیں، تیری ماں کا قصور ہے نہ اس نے اپنی عزت کرائ ہو گی نہ تجھے اسکی تربیت دی کہ تو کسی اور عورت کی عزت کرے۔ شاید اور کچھ بھی کہا ہوگا۔ خیر اسی وقت اس سے بس رکوائ اور اتر گئیں۔
یہاں ڈرائیور کی لسانی شناخت بتانی ضروری ہو گئ کہ اگر اردو اسپیکنگ ہوتا تو غصے میں کہتا' جاءو جاءو، ایسی نوابی ہے تو بس کے بجائے ٹیکسی سے سفر کیا کرو'۔ یہ ابھی ایک ہفتے پہلے کراچی میں پیش آنے والا واقعہ ہے۔
مجھے اس وقت کیوں یاد آیا؟
ابھی تفصیل سے بتاتی ہوں۔  چند دن پہلے میں ایک دفعہ پھر گوادر گئ تقریباً دس مہینے بعد۔ اس دفعہ مجھے ماحول میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوئ۔ اول تو ہری پگڑی والے لوگ دیکھے جو کہ موٹر سائکلوں پہ پھر رہے تھے۔ یہ تو میں پچھلی ایک پوسٹ میں بتا چکی ہوں کہ یہ جو گوادر کی دیواروں پہ مذہبی اجتماعات کی دعوتیں لکھی نظر آرہی ہیں۔ یہ کسی نئ سمت کا اشارہ کر رہی ہیں جو یقیناً مکران کے ماحول کو تبدیل کرے گا۔ اور اس دفعہ یہ تبدیلی واضح نظر آرہی تھی۔
کیونکہ پھر میرے ساتھ دو واقعات ہوئے۔
پہلا واقعہ دلچسپ ہے۔ ہوا کچھ یوں  کہ جس جگہ ہم رہائش پذیر تھے وہ جگہ سمندر سے چند قدم کے فاصلے پہ تھی۔
ساتھ ہی ایک پہاڑ ہے۔ میں جب بھی یہاں جاتی تھی تو اس پہاڑ کے ساتھ سمندر کنارے ضرور تنہا بیٹھتی کہ ایک دم مراقبے کا مزہ آجاتا۔ یوں معلوم ہوتا کہ میں زمین پہ نہیں بلکہ کائینات کے کسی لامتناہی نکتے سے زمین کو دیکھ رہی ہوں۔ پھر یہاں سے پتھرلیے فوسلز جمع کرتی اور گھر واپس آجاتی۔ گوادر میں یہ میری سب سے اہم اور بڑی عیاشی ہوتی۔ اسکے لئے میں ساڑھے سات سو کلومیٹر کا پر مشقت سفر کر کے یہاں آتی ہوں۔ اب یہ مشغلہ میری بیٹی کو بھی پسند آتا ہے۔
اس دن میرے ساتھ میری بچی، پالتو کتا اور مقامی بچے درجن بھر موجود تھے۔ ہم جلوس کی شکل میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ اگرچہ میری خواہش تو یہ تھی کہ یہ بچے ساتھ میں نہ ہوتے تاکہ تھوڑی دیر اپنے مراقبے کا مزہ لیتی۔  لیکن بہر حال بچے بہت زیادہ مشتاق تھے ساتھ چلنے کے۔ شاید اسکی ایک وجہ کتے کا ہمارے ساتھ ہونا بھی تھا۔ کتا بھی خوش تھا۔ بار بار تھوڑی دور تک دوڑ کر جاتا۔ اپنے پیشاب کی بو چھوڑتا اور پھر خوشی سے اچھلتا کودتا واپس آتا۔ پیشاب کی بو سے اسکے حصے کی زمین میں اضافہ جو ہو رہا تھا۔
راستے میں ایک صاحب نے قریب سے گذرتے ہوئے موٹر سائیکل روکی اور کہنے لگے۔ آپ اس طرح اکیلے نہ پھریں آجکل سیکیوریٹی کا مسئلہ ہے۔ میں نے اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا میں صرف پہاڑ کے ساتھ جا کر سامنے والی جگہ پر جا کر واپس آجاءونگی۔ نہ بستی کی طرف جاءونگی اور نہ یہاں سے زیادہ دور۔ مجھے بھی اس بات کا احساس ہے۔  وہ خاموش ہو کر واپس پلٹ  گیا۔
ابھی چند ہی گز طے کئے ہونگے کہ ایک صاحب موٹر سائیکل پہ آئے انکے پیچھے ایک گن بردار شخص بیٹھا ہوا تھا۔ میں ٹھٹھک کر رک گئ۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جا رہی ہیں۔ میں نے انگلی کے اشارے سے بتایا کہ بس وہاں تک جا رہی ہوں۔ پھرمزید سوالات کے جواب دینے سے پہلے میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے۔  پتہ چلا کہ وہ پولیس سے تعلق رکھتا ہے۔ کس کے ساتھ آئ ہیں، کس جگہ رہ  رہی ہیں قسم کے سوالات کے بعد اس نے کہا کہ ہمیں اطلاع ملی کہ ایک انگریز عورت ادھر اکیلے پھر رہی ہے۔ مجھے ہلکی سی ہنسی آئ۔ آپ نے دیکھ لیا میں انگریز نہیں ہوں۔ ہاں وہ اس نے آپکے حلئے کو دیکھ کر کہا ہوگا۔ حلئے سے شاید اس کی مراد پیروں کے جاگرز اور سر کی ٹوپی ہوگی۔ دراصل یہ پسماندہ علاقہ ہے یہاں اس حلئے کو ہی انگریز سمجھ لیتے ہیں۔  بات یہ ہے کہ سیکوریٹی کا مسئلہ ہے آپ زیادہ دور تک نہ جائیں۔ میں نے اسے تسلی دی۔ میں بس سامنے ہی سے پتھرلے کر واپس آجاءونگی۔ یہاں کراچی میں پڑھنے لکھنے والے بچوں کو تحفے میں مجھے یہ پتھر دینا پسند ہیں۔
پھراس جگہ پہنچ کر ان بچوں کے ساتھ چند منٹ رک کر پتھر ڈھونڈھے اور جلدی ہی واپسی کا راستہ لیا کیونکہ میں نے دیکھا کہ وہ دونوں ایک چٹان پہ بیٹھے ہم لوگوں کی نگرانی کر رہے تھے۔ ایسے میں میرے دل دھڑکا بھی کم ہوگا اور انکی ڈیوٹی بھی ختم ہوگی۔
اگلے دن گھر کے سامنے ساحل پہ بچی کے ساتھ چلی گئ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ماضی میں یعنی تین چار سال پہلے میں ایک ڈیڑھ میل تک تنہا چہل قدمی کر چکی ہوں۔ مقامی لوگوں سے گپ شپ کی اور کبھی کوئ مسئلہ نہیں ہوا۔ اس دن جب میں اپنی بچی اور محلے کے دیگر بلوچی بچوں کے ساتھ اپنے گھر واپس آنے لگی تو ایک موٹر سائیکل قریب سے گذری جس پہ دو افراد بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے موٹر سائیکل کو آہستہ کیا۔ میں کچھ ہوشیار ہوئ۔ پھر ان میں سے ایک نے نفرت بھری نظر مجھ پہ ڈال کر کہا جاءو جا کر کچھ پہنو۔
قارئین کی تسلی کے لئے میں اس وقت تیراکی کے مغربی لباس میں نہیں تھی۔ بلکہ پاکستانی سوتی شلوار قمیض پوری آستین کا پہنے ہوئے تھی اور دھوپ سے بچنے کے لئے ڈھائ گز کے سوتی دوپٹے کو سر سے لپیٹ کر منہ بھی اطراف سے ڈھکا ہوا تھا۔ سو میں نے حیرانی سے انکی طرف دیکھا اور پھر غور کیا کہ وہ کچھ کیا ہو سکتا ہے جو میں پہنوں۔ سمجھ آیا کہ برقعہ قسم کی چیز ہی اب اس کے بعد بچ جاتی ہے۔
  دس سال سے یہاں آرہی ہوں اور اتنے لمبے عرصے کے تجربے کے بعد میں اس علاقے کو کافی بہتر سمجھتی تھی۔ مقامی لوگ مچھیرے ہیں جو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ وہ خود کیسے بھی رہیں دوسروں کے کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ حتی کہ عین اس وقت جب کراچی میں کسی ہوٹل میں بیٹھ کر سر عام شراب نہیں پی جا سکتی تھی یہاں ایسی کوئ منادی نہ تھی۔  اس وقت میں ساحل پہ تنہا بیٹھ کر گھنٹوں سمندر کی آتی جاتی لہریں دیکھا کرتی تھی۔ کراچی  کی مٹی سے جنم لینے کے باعث سمندر کی محبت میرے اندر ہمیشہ مءوجزن رہی ہے۔
 یہ وہ وقت تھا جب  یہاں کوئ مدرسہ  نہ تھا۔ پھر کوسٹل ہائ وے کی تعمیر کے ساتھ ہی زمین کے ایک بڑے رقبے پہ ایک بڑا مدرسہ وجود میں آگیا۔ اور اب جیسے جیسے یہاں مذہبی ماحول کو شہہ مل رہی ہے ویسے ویسے یہ شدت پسندی ماحول کا حصہ بن رہی ہے۔ معاشرے کے کمزور طبقات ہمیشہ شدت پسندی کا پہلا نشانہ ہوتے ہیں۔ تاکہ دوسرے لوگ ان سے سبق سیکھیں۔ خواتین اس لئے سب سے پہلا نشانہ بنتی ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ گوادر میں یہ مذہبی شدت پسندی کون متعارف کرا رہا ہے؟ کیا بلوچستان کے مسائل کا حل مذہبی شدت پسندی کو ہوا دینے میں ڈھونڈھاجا رہا ہے؟
حیرت ہوتی ہے کہ گوادر میں ایک اچھا ہسپتال موجود نہیں ہے۔ اسکی وجہ سے عورتوں کو کس قدر مصائب کا سامنا ہے اسکا اندازہ اس عورت سے لگائیں جس نے بتایا کہ ابھی چند مہینے پہلے اسکی بچی پیدائیش کے دوران مر گئ۔ کوئ ماہر ڈاکٹر نہ تھا کہ وہ زندہ پیدا ہو پاتی۔ کسی ماہر ڈاکٹر کے موجود نہ ہونے سے وہ لیبر میں اتنا زیادہ عرصہ رہی کہ  اسے فسچولا ہو گیا۔ شوہر بھائ کے پاس چھوڑ گیا وہاں سے وہ کراچی کے جناح ہسپتال پہنچی جہاں ایک مہینہ علاج میں ناکامی کے بعد اسے کراچی کے مضافات میں واقع، کوہی گوٹھ کے فسچولا  ہسپتال بھیجا گیا وہاں وہ تین مہینے رہی اسکے تین آپریشن ہوئے  اور ابھی بھی بالکل تندرست نہیں ڈاکٹر نے اسے تین مہینے بعد پھر بلایا ہے۔
حیرانی ہوتی ہے ناں کے جس شہر میں عورتیں محفوظ طریقے سے بچہ نہ پیدا کر سکیں وہاں عورتوں کو پردے کی تبلیغ کرنے والے پیدا کئے جائیں۔ ایک بڑا مدرسہ بنانے والے تو موجود ہوں لیکن ہسپتال کا کوئ انتظام نہ ہو۔ یہی نہیں یہاں کوئ ڈھنگ کا اسکول موجود نہیں ہے۔ لیکن کوسٹل ہائ وے پہ جاتے ہوئے سنسان پہاڑوں پر خوبصورت ٹائلز کی بنی ہوئ بڑی مساجد نظر آئیں گی جو کہ پچھلے دو سالوں میں عرب بھائیوں کی فیاضی سے تعمیر ہوئ ہیں۔ اتنے سنسان علاقوں میں ان مساجد کا کیا کام؟
 ایک صاحب کا کہنا ہے کہ عرب اسکول کی تعمیر کے لئے پیسے خرچ نہیں کرتے وہ مسجدیں اور مدرسے بناتے ہیں بہت زیادہ فیاضی اگر کبھی دکھائ تو شاید ہسپتال بنا دیں لیکن اسکول، نو وے۔
عرب ہمارے ملک میں اسکے علاوہ کس چیز پہ پیسہ خرچ کرتے ہیں؟
اس کا اندازہ اس خبر سے ہوگا کہ ایک عرب شیخ ایک بلوچ کو پیسے دے رہے ہیں کہ وہ سو بچوں کو پیدا کرنے کا ریکارڈ قائم کر کے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام ڈال لے۔ اس سلسلے میں وہ بلوچ تیئیس شادیاں کر چکا ہے اسکے ترانوے بچے پیدا ہو چکے ہیں۔ ہر تھوڑے دنوں بعد ایک بیوی کو طلاق دے کر ایک اور شادی کر لیتا ہے۔ طلاق یافتہ بیوی کو وہ عرب پیسہ دیتا ہے کہ وہ اپنی باقی زندگی عسرت میں نہ گذارے۔
  اس بلوچ کو یہ یاد نہیں کہ اسکا کون سا بچہ کس بیوی سے ہے اسکے لئے اسے اپنی ڈائری دیکھنی پڑتی ہے۔ اور نہ اسے یہ معلوم ہوگا کہ اسکا کوئ بچہ پڑھتا لکھتا بھی ہے یا نہیں۔ یہ شخص پہلے فوج میں رہ چکا ہے اور ٹانگ سے معذور ہونے کے بعد وہاں سے نکل آیا۔ ہو سکتا ہے آپ میں سے کچھ کو اس سے کراہیئت آئے اور کچھ ہنس دیں ۔ لیکن ایک دفعہ پھر یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ مسلمان مرد ، اپنی عورتوں کو کیا سمجھتے ہیں؟
خیر ہم موضوع کی طرف واپس پلٹتے ہیں۔ کراچی میں آجکل جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چار ستمبر کو یوم حجاب منانے کی تیاریاں زور شور سے جاری ہیں۔ شہر میں ہر جگہ خواتین کو حجاب کی تلقین کے بینرز ملیں گے۔ یہی نہیں روزنامہ جنگ کے اس  دفعہ کے اتوار میگزین میں بھی، میں نے دیکھا کہ یوم حجاب کے حوالے سے چار مضامین موجود ہیں۔ گوادر میں میرے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آپ پڑھ چکے۔ ملک ہی نہیں باقی دنیا میں بھی مسلمان مردوں کی شدت پسندی کو ہوا دینے والی یہ مذہبی جماعتیں ہیں اور کوئ نہیں۔ شاید اسی لئے بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں پہ پابندی لگا دی گئ ہے کہ وہ اپنے نام کے ساتھ کوئ مذہبی نام استعمال نہیں کریں گی۔
اس بات کو خآطر میں لائے بغیر کہ ہمارے ملک میں عورتوں کی حالت کتنی دگرگوں ہیں۔ جماعت اسلامی کے زیر اہتمام منائے جانے والے اس طرح کے یوم مجھے تو مردوں کو مزید شدت پسندی کی ترغیب دیتے ہوئے ہی لگتے ہیں۔ جس وقت وہ یہ پیغام دیتے ہیں کہ حجاب عورت کی عزت کا ضامن ہے اس وت وہ مردوں کو بین السطور یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ اگر کوئ عورت بے حجاب ہے تو اسکی عزت پہ حملہ کوئ بری بات نہیں۔ اسکے ساتھ یہی ہوگا، کیونکہ مذہب اسکے بارے میں یہ پیشن گوئ کر چکا ہو۔ چاہے مذہب نے اس بات کو نکتہ بھی نہ بنایا ہو۔
بالکل ایسے ہی وہ انفوگرافکس جس میں مردوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کس لباس میں دیکھنا پسند کریں گے۔ اور انتخاب میں شدید برقعے سے لیکر جینز ٹی شرٹ میں ملبوس خواتین دکھا دی جاتی ہیں۔ ایسے جیسے بازار میں آپ مختلف برانڈز کے کیچپ دیکھ رہے ہوں۔ پھر انہیں غیرت کے طعنے دے کر کہا جاتا ہے کہ دراصل تمہاری بیوی کو کس قدر حجاب میں ہونا چاہئیے۔ چاہے وہ اسکی اہلیت نہ رکھتے ہوں کہ اپنے خاندان کے معاشی مسائل حل کر سکیں لیکن ان میں یہ اہلیت ضرور پیدا کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لباس پہ غضب کی نظر رکھیں۔  
جماعت اسلامی سمیت، ہر مذہب کا ڈھنڈورہ پیٹنے والی جماعت سے ایک ہی سوال ہے کہ وہ کبھی خواتین کے حالات میں بہتری کے لئے بھی کچھ کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا مردوں کو خواتین کے نام پہ ہی غیرت دلاتے رہیں گے۔  معاشرے کو خواتین کے لئے مزید غیر محفوظ بنانے کے فول پروف انتظامات کرتے رہیں گے۔ یہ ملک جو پہلے ہی مسائلستان بنا ہوا ہے کیا اسکے مسائل میں وہ مثبت طریقے سے کوئ کمی لا سکتے ہیں۔ کیونکہ فلسفہ ء جہاد سے لے کر مرد و خواتین کی جہالت تک ہر ایک میں  وہ برابر کے حصے دار ہیں۔ 
آخری اہم سوال لوگوں کو خدا کے قہر اور عذاب سے ڈرانے والے کیا خود خدا کے عذاب اور قہر سے ڈرتے ہیں؟
 کیونکہ انکی پھیلائ ہوئ شدت پسندی کی وجہ سے جتنی انسانی جانیں جاتی ہیں اسکے ذمہ دار وہ ہوتے ہیں۔ جب کسی عورت پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے، جب کوئ عورت کاروکاری کا شکار ہوتی ہے، جب کسی عورت کو اس لئے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ انکے متعارف کرائے گئے فلسفہ ء حجاب پہ یقین نہیں رکھتی۔ ہر  ہر صورت میں وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور ہونگے۔  خدا کے عذاب سے بچنے کے لئے وہ خود کیا کریں گے؟ کیونکہ جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ 

Saturday, September 1, 2012

جیت کس کی ہوگی؟

یہ میرا آنرز کا پہلا سال تھا۔ عمر یہی کوئ سترہ سال۔ میں نے اپنا پریکٹیکل ختم کیا اور سامان دھو کر رکھنے لگی۔ اس دن ہم نے رنگ بنانے کا بنیادی طریقہ سیکھا تھا۔ اسکی دلچسپ بات یہ تھی کہ تیزابی پانی میں یہ گلابی رنگ دیتا تو اساسی پانی میں یہ اورنج رنگ کے ساتھ سبز چمک دیتا۔ جو بڑی خوبصورت معلوم ہوتی۔ اسکی ٹیسٹ ٹیوب کو میں نے خوب رگڑا۔ لیکن اس مرکب کا ایک چھوٹا سا غیر محسوس ٹکڑا تہہ میں ایسا چپک گیا تھا کہ نکلنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔  اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے اس ٹیسٹ ٹیوب کو سکھا کر اوپر سے کاغذ کے ایک گولے سے بند کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
گھر پہنچتے ہی چھوٹی بہن نے خوشی کا نعرہ مارا۔ اسکی عمر یہی کوئ چار پانچ تھی۔ اور وہ ہر روز اپنی سائینس کی ٹیچر کے فرمودات سنایا کرتی تھیں اورروز کے حساب سے حاصل ہونے والی اپنی  معلومات کو فوری طور پہ شیئر کرنا فرض عین سمجھتی تھیں کہ اس سے ہم سب کے منہ کھلے رہ جاتے۔ ہماری اس بے مثل ایکٹنگ سے وہ اپنے آپکو ایک علامہ سے کم نہیں سمجھتی تھیں۔ لیکن آجکا دن ان کی علمیت ہی کیا انکے مشاہدات  پہ بھاری تھا۔ کیونکہ اس سازش میں قدرت ہی نہیں انکی ہر دلعزیز ہمشیرہ بھی شامل تھیں۔ ہر دلعزیز اس لئے کہ زیادہ اچھی اداکاری کرتی تھیں۔
میں نے کھانے وغیرہ سے جب فراغت پائ تو انہیں بتایا کہ آج میرے پاس ایک جادو ہے انکے لئے۔  بیگ سے ٹیسٹ ٹیوب نکالی۔ ایک پیالے میں صابن کا پانی یعنی اساسی محلول تیار کیا اور اس بظاہر خالی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال دیا۔ انکے تجسس بھرے چہرے پہ ایک گہری سنجیدگی ابھری اور وہ میرے جادو کے سامنے چت ہو گئیں۔ اس خالی ٹیسٹ ٹیوب میں اب اورنج رنگ کا محلول موجود تھا جس میں سبز دلکش چمک موجود تھی۔
تو جناب، مجھے بچپن سے ولی بننے کا بہت شوق تھا۔ لوگوں کے دلوں کے راز جان لوں، جائے نماز کے نیچے سے پیسے بر آمد کر لوں، جو خواب دیکھوں سچ ثابت ہو، جسے جو دعا دوں وہ پوری ہوجائے۔ کائینات کے ہر علم سے آگاہ ہوجاءوں۔ اس کوشش میں اولیاء اکرام کی سوانح حیات پڑھیں۔ تاکہ انکے تجربات سے مستفید ہوں۔ 
تھوڑے بڑے ہونے پہ پتہ چلا کہ صرف تقوی وغیرہ سے کام نہیں چلے گا۔ وظیفوں کا گھوٹا بھی لگانا پڑے گا۔ لیجئِے جناب اب ہر روز کئ ہزار دفعہ درود شریف تو خدا جانے کتنی دفعہ اور اسماء کا ورد بھی شامل ہو گیا۔ ادھر چکی کی مشقت بھی جاری تھی۔ یعنی دنیاوی حقیر علوم , سائینس وغیرہ سے بھی نجات ممکن نہ تھی کہ  اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کو روانہ ہوتے، فیس بھرتے، امتحان دیتے۔
 یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری سائینس کی کتابوں میں پہلا سبق ان مسلمان سائینسدانوں کا شامل ہوا جنہوں نے سائینس کی دنیا پہ وہ عظیم احسانات کئے جس سے اب کئ ہزار سالوں کے لئے ہماری آنے والی نسلوں پہ سے یہ فرض ہٹ گیا۔
ایک طرف اولیاء اکرام کی سحر ناک ہستیاں ، لیکن انکے وظائف کے ساتھ یہ مسئلہ کہ جسے بخشیں بس اسی کو سمجھ میں آوے اور کرے تو ٹھینگا پاوے بلکہ وظائف کا اثر الٹا ہونے کی صورت میں دماغ میں خلل بھی ہو جاوے اور موکل اور جن ایسا قابو پاوے کہ کسی کو کچھ سمجھ میں نہ آوے۔ دل تو اس خبر سے بھی پگھلا جاتا کہ  خدا کے کلام کی برکت پانے کے لئے، ملک کا حکمراں تک ڈنڈا کھانے کو آوے۔
دوسری طرف سائینس کی کرشمہ سازیاں، تھوڑی بہت تربیت پاویں ، کوشش کرتے جاویں اور ایک دن ایسا آوے کہ خود بھی کوئ وظیفہ ، یعنی فارمولا، نظریہ یا ایجاد  بنانے کے قابل ہو جاویں۔ لیکن حکمران ایسا سامان کر جاویں کہ اسے حاصل کرنے میں ہم خون کے آنسو بہاتے جاویں اور ہرگز نہ حاصل کر پاویں۔
اگرچہ لوگوں نے بڑا زور دیا کہ ہمارا مذہبی تصوف بڑے بڑے کمالات دکھا سکتا ہے۔ اسکے بعد دنیا کو کسی علم کو حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جناب ادھر تو لفظ 'سکنا' کے بجائے 'موجود' تھا۔ ادھر بے یقینی اور ادھر آنکھوں دیکھا یقین۔ ادھر جتنا سر مارو اسرار ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ، ہر چھوٹے سے قدم کے بعد حلق سے نکلنے والے مشکل الفاظ کی بھر مار، ادھر جتنا آگے بڑھو اتنا ہی اسرار کی دنیا کھل کر سامنے چلی آرہی ہے۔ ادھر ہر نعرہ ء تعجب کے بعد سبحان اللہ نکلتا ہے ادھر سبحان اللہ کہنے کے بعد نعرہ ء مستجاب۔
یہی نہیں آنکھوں دیکھی یہ کہ ہمارا تصوف ہی کیا دنیا کے ہر مذہب میں ایسے اسرار موجود۔ دنیا کے ہر مذہب میں خدا سے اپنی مرضِی کے کام کروانے کے وظائف حاضر۔ جیت کس کی ہونی تھی؟ میں بھی اپنی ہمشیرہ کی طرح سائِنس کے سامنے چت ہو گئ۔ فرق یہ تھا کہ وہ لا علمی میں ہوئ اور میں علم کے ساتھ اور علم کے ساتھ ہونا افضل ہے۔
آج بھی اعمال وظائف کی کتاب سرہانے دھری ہے۔ سوچتی ہوں اسکا حشر حضرت سلمان کی لاٹھی والا نہ ہوجائے۔ آخری دفعہ  آزمائیشی طور پہ محبوب کو قابو کرنا چاہا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا بنا کر چھوڑتا۔ اس سراب سے یوں نکل آئے جیسے بارش کے بعد سورج نکلتا ہے۔ زیادہ واضح ، چمکدار اور گرم۔ ہم قصور انکا سمجھتے تھے  اپنا نکل آیا۔ محبوب اپنے طور پہ سمجھتے ہونگے کہ وہ تاریک راہوں میں مارے گئے لیکن حقیقت میں یہ روشنی کی مار تھی۔
 وظائف کی اس دنیا کے اسیر اتنے ہیں کہ ایک  سے بات شروع کریں دو چار سو اور نکل آئیں گے۔
  مجھے یاد ہے ان دنوں لانڈھی کے علاقے میں خاصے حالات کشیدہ تھے۔ مجھے اپنی ایک عزیزہ کے ساتھ زندگی میں پہلی دفعہ  اس طرف ضروری کام سے جانا پڑا۔ باتوں کا سلسلہ روکنے کے لئے میں نے کہا بس اب چلتے ہیں حالات خراب ہیں، میں اس علاقے سے مناسب طور پہ واقف بھی نہیں اور ہم دو خواتین کو گاڑی خود لے کر جانی ہے۔ اندھیرا ہوجائے گا تو مشکل ہوگی۔ صاحب خانہ کہنے لگے کہ بھئ گھبرانے کی کیا بات ہے آیۃ الکرسی پڑھ کر دم کر لینا۔ میں تو روز صبح آیۃ الکرسی کا دم کر کے نکلتا ہوں آج تک کسی اچکے نے میرے اوپر ہاتھ نہیں ڈالا۔
 معاملات نازک تھے ورنہ کہتی کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ہوگی جو آیۃ الکرسی پڑھ کر گھر سے نہیں نکلتی اور آج تک کسی نے ان پہ ہاتھ نہیں ڈالا۔ اگر حفاظت محض آیۃ الکرسی کے پڑھنے سے ہوجاتی تو سزا اور قانون وجود نہ رکھتے اور قاضی صاحب کسی کھاتے میں ہوتے ۔ ایسے میں جو لٹتا تو صاف پتہ چل جاتا کہ یہ ہے وہ ناہنجار جو آیۃ الکرسی نہیں پڑھتا۔ اسی کو درے جڑے جاتے۔ یوں ٹارگٹ کلرز اور طالبان کو منہ چڑا کر بھاگ جاتے۔ ادھر فوجیوں کی سخت تربیت کی ضرورت نہ رہتی بلکہ فوج ہی کی ضرورت نہ رہتی۔ سرحد پہ لائین سے لوگ تسبیح لے کر بیٹھ جاتے اور آیۃ الکرسی پڑھا کرتے۔
ابھی دو سال پہلے مولانا صاحبان نے شہر میں ایک پمفلٹ بٹوایا کہ ملک میں بد امنی اور بے سکونی کی بنیادی وجہ آوارہ عورتیں ہیں۔ ایک تو انکا سد باب کیا جائے دوسرا یہ کہ سورہ والشمس اتنی ہزار دفعہ لوگ گروہ بنا کر پڑھیں۔ ان دنوں ہم جہاں جاتے پتہ چلتا کہ والشّمس کا ورد ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی آوارہ عورتیں جیت گئیں یعنی ملک اسی طرح بد امنی کا شکار رہا۔
چونکہ آجکل وظائف کا فیشن ہے اس لئے ہر مسئلے کا حل ایک وظیفہ ہے جو ہر کسی کو معلوم ہے۔ جس طرح لوگ پہلے بیمار کو طبی مشورے مفت دیتے تھے اب لوگ مفت وظیفہ بتاتے ہیں۔ یہاں اسی سال کا بوڑھا انسان ہسپتال میں ہو یا خاتون بچے کی ڈلیوری کے سلسلے میں ہسپتال میں، گھر میں یا سلام کا ورد شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد بوڑھآ آدمی مر جاتا ہے۔ یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ انکی تو عمر ہی مرنے کی تھی۔   اور خاتون نارمل ڈلیوری کے بعد گھر میں موجود، جس روح کا آنا ہوتا ہے آکر رہتی ہے، ہم کہتے ہیں۔


مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے کا سوال بعد میں اٹھتا ہے مرنے کے بعد بھی وظائف کی ایک بھرمار رہتی ہے۔ کسی شخص کی موت کا اعلان ہوتے ہیں سات دفعہ سورہ بقرہ لازمی، اکتالیس دفعہ سورہ یسین، پھر خدا جانے کتنی بار سورہ ء ملک، پھر کئ لاکھ بار کلمہء طیب کا ورد، پھر پچیس ہزار بار قل شریف۔ کس واسطے کہ مرنے والے کی مغفرت ہو اور قبر میں آرام سے رہے۔ چاہے مرنے والا خدا پہ مناسب یقین بھی نہ رکھتا ہو۔ لیکن اس سامان کے بغیر اسکی رخصتی ممکن نہیں۔ یوں وہ لوگ جو دیار غیر میں رہتے ہیں اور وہیں دفن ہوتے ہیں یا وہ جن کا خاندان چھوٹا ہے انکے شدید خسارے میں رہنے کے امکان زیادہ ہیں۔ 
 صفر کا مہینہ آتا ہے تو سورہ مزمل کا وظیفہ، سارے سال کی بیماریوں اور مصائب سے چھٹکارا۔ لیکن پھر بھی احتجاج کے دوائیں مہنگی ہو رہی ہیں، ڈاکٹر لا پرواہ۔ حکومت ناکارہ، مصائب کا کوئ شمار نہیں۔
رجب سے رمضان تک جو وظائف ہیں انکا فوکس گناہوں سے نجات پانا ہے اعمال سے نہیں بلکہ وظائف سے۔ اگرچہ رمضان کے گیارہویں، بارہویں روزے پہ لڑکیوں کے رشتے کرانے کا وظیفہ بھی آتا ہے۔ پھر بھی والدین کو رشتے کرانے والے اداروں کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ لڑکیوں کو سنگھار کر کے چائے لے کر مہمانوں کے سامنے جانا پڑتا ہے اور میٹرک کس سن میں کیا تھا، بتانا پڑتا ہے۔
 شب براءت میں گناہوں کی بخشش کا وظیفہ، لمبی حیات کا وظیفہ، آفات و بلیات کو دفع کرنے کا وظیفہ، قبر کے عذاب سے نجات کا وظیفہ۔ ان سارے وظائف کی وجہ سے گناہوں کے کرنے کا حوصلہ ہے کہ بڑھا جاتا ہے اور مرنے کا خوف دل سے جاتا رہتا ہے۔
  یہی نہیں یا علیم پڑھیں علم حاصل کریں، کراچی گرامر اسکول، ماما پارسی، آئ بی اے یا فاسٹ پہ لعنت بھیجیں۔
 یا اول پڑھیں اور اولاد نرینہ حاصل کریں، سورہ ء واقعہ پڑھیں رزق حاصل کریں، جنت حاصل کرنے کے وظائف بے شمار، خدا کو راضی کرنے کے بھی اتنے ہی وظائف۔ اس سے بھی دل کی تسلی نہیں ہوتی یا یہ کہ آپکا فطری رجحان ریاضی یا شماریات کی جانب ہے تو وہ وظائف اختیار کریں جن میں ثواب کی گنتی بتائ گئ ہے مثلاً تین دفعہ سورہ ء اخلاص پڑھیں سال بھر کے قرآن کی تلاوت کا ثواب۔ باقی کا قرآن کیوں نازل کیا گیا، یہ معمہ حل طلب۔ فلاں دن کا روزہ رکھ لیں سال بھر کے روزوں کا ثواب۔ فلاں مہینے کا عمرہ کر لیں، حج کا ثواب۔ لیجئِے اس مہینے لوگ جوق درجوق عمرے کے لئے جا رہے ہیں۔ سعودیوں کے مزے، زائد آمدنی عمرے کے بہانے ہو رہی ہے۔


میں تو اللہ پاک بے نیاز کا شکر ادا کرتی ہوں۔ بر وقت ولی بننے کا ارادہ موقوف کر دیا۔ ورنہ وظائف کی سیچوریشن کے اس زمانے میں مقابلہ کرنا بڑا مشکل ہوجاتا۔ ہم تو اسی میں خوش، سنگ مر مر پہ تیزابی پانی ڈالو تو کاربن ڈائ آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ بچوں، جار کو الٹا کر کے اسے جمع کرو کیونکہ یہ ہوا سے بھاری ہوتی ہے۔
بچے یہ سیکھنے کے لئے کوچنگ سینٹرز کے باہر ہزاروں روپے دے کر ہزاروں کی تعداد میں کھڑے ہیں جبکہ ماں باپ کسی وظیفے کی تسبیح لئے کھڑے ہیں کہ انکا بچہ اے ون گریڈ میں کامیاب ہو اور میڈیکل یا انجینیئرنگ میں داخلہ ہوجائے۔ قارِئین اکرام، اندازہ کریں جیت کس کی ہوگی؟
۔

Monday, August 27, 2012

مسیار نکاح

اپنے پہلے شوہر کے انتقال کے فوراً بعد وہ سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ گذار کر پاکستان واپس آگئیں۔ جب گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ انکی دوسری شادی کو بھی پانچ چھ سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن انکے شوہر انکے ساتھ نہیں رہتے بلکہ اپنی پہلی مرحوم بیوی کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتے ہیں اور وہ اپنے پہلے شوہر کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہیں تو مجھے نہایت اچنبھا ہوا۔
 یہ کیسا میاں بیوی کا تعلق ہے؟ میں نے بالکل پاکستانی ذہن سے سوچا۔ ایک تو یہی بات قابل اعتراض ہے کہ پچاس سال سے اوپر کی خاتون دوسری شادی کرے وہ بھی وہ جسکے پانچ بچے ہوں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہو۔  اور دونوں ساتھ بھی نہ رہیں۔ کیونکہ اگرہمارے  یہاں کوئ خاتون دوسری شادی کرتی ہے تو بنیادی مقصد تحفظ اور پیسہ ہوتا ہے۔
لیکن گھر واپس آ کر میں نے سوچا، کیا شادی محض معاشرتی تحفظ اور معاشی حالات کو مستحکم رکھنے کے لئے کی جاتی ہے؟
 اسکے چند دنوں بعد ایک محفل میں ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی تھیں کہ کسی نے تذکرہ چھیڑ دیا کہ یہ جو سنّی، شیعوں کو متعہ نکاح پہ اتنا برا بھلا کہتے ہیں  یہ اپنے سنّی مسیار نکاح کی بابت کیوں نہیں بات کرتے۔ ایک دفعہ پھر میں نے ہونّق ہو کر پوچھا کہ یہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے؟
 جواب ملا یہ بھی متعہ سے ملتی جلتی چیز ہوتی ہے آپ جا کر نیٹ پہ دیکھ لیں یا اپنے کسی اسکالر سے پوچھیں۔ تس پہ کسی اور نے بتایا کہ ایک صاحب نے کئ اسلامی مدرسوں کو مسیار نکاح کی بابت لکھا کہ انہیں معلومات بہم پہنچائ جائیں لیکن انہیں کہیں سے جواب نہیں ملا۔ اس لئے وہ نہیں جانتے کہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ سنّی نکاح کی ایک قسم ہے جو کچھ شیعہ متعہ نکاح سے مشابہت رکھتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس سارے کے بعد میں نے رات گھر واپس آکر نیٹ گردی کی۔ جناب، تو یہ اسلامی نکاح کی ایک قسم ہے۔
 تمام تر مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آئ کہ مسیار نکاح اسلام میں حلال ہے۔ نہ صرف مسلمان آپس میں بلکہ اہل کتاب سے بھی کر سکتے ہیں۔ یہ عام نکاح سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟ یہ متعہ نکاح سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟
نکاح مسیار، ایسا اسلامی معاہدہء نکاح ہے جس میں ایک خاتون اپنی مرضی سے اپنے بہت سارے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ مثلاً شوہر کے ساتھ رہنا، اگر اسکی ایک سے زائد بیویاں ہیں تو اوقات کی برابر تقسیم، نان نفقہ یعنی شوہر اسے گذر بسر کے لئے کوئ خرچہ نہیں دے گا اگرچہ کہ اسے بھی دونوں فریقین کی مرضی سے معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ رہائش مہیا کرے گا۔ 
 مہر کی رقم فریقین کی مرضی سے طے کی جاتی ہے۔ مہر اسلامی نکاح میں وہ رقم ہے جو لڑکی کو ادا کی جاتی ہے چاہے نکاح کے وقت یا نکاح کے بعد کسی بھی وقت لڑکی کے طلب کرنے پہ۔
یعنی عورت، اپنے والدین کے گھر یا اپنے ذاتی گھر میں رہتی ہے۔ شوہر اس سے ملنے کے لئے جاتا ہے جیسا وقت دونوں فریقین چاہیں منتخب کریں۔
شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پہ عورت پالتی ہے۔ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آیا ان بچوں کا باپ کی وراثت پہ حق ہوتا ہے یا نہیں۔
 نکاح کے بعد بیوی اگر ان سب چیزوں کے لئے دعوی کرے تو اسکا دعوی صحیح ہوگا۔ اب اسکا انحصار شوہر پہ ہے کہ وہ اسے نتیجے میں یہ تمام اشیاء دے یا طلاق دے کر چھٹی پائے۔
اس ضمن میں اسلامی علماء کے درمیان اختلاف ہے کچھ اسے اخلاقی طور پہ اچھا نہیں سمجھتے اگرچہ حلال سمجھتے ہیں۔ الالبانی کے نزدیک یہ نکاح اسلامی روح سے متصادم ہے اس لئے ناجائز ہے۔ اسلامی شادی کی روح یہ بیان کی جاتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایکدوسرے سے روحانی خوشی حاصل کریں۔  اگرچہ عملی سطح پہ ہم دیکھتے ہیں کہ محبت کی شادی ہمارے یہاں ایک لعنت سے کم نہیں اور ہم بنیادی طور پہ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلامی شادی کا مقصد ایک مرد کی جنسی ضروریات کا حلال طریقے سے پورا ہونا ہے اور عورت محض جنس کا ایک ذریعہ ہے۔ 
 الالبانی کے نزدیک اسکے نتیجے میں ایک خاندان تشکیل نہیں پاتا اور نہ ہی عورت کو تحفظ مل پاتا ہے اور نہ ہی بچے ایک مستحکم خاندان سے آگاہ ہو پاتے ہیں۔ 
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ شادیاں طلاق پہ ختم ہوتی ہیں کیونکہ مرد عام طور پہ یہ شادی اپنی جنسی ضرورت کے لئے کرتا ہے۔
متعہ اور مسیار نکاح میں صرف ایک فرق نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ متعہ ایک مقررہ مدت کے لئے کیا جاتا ہے مدت کے اختتام پہ معاہدے کی تجدید کی جا سکتی ہے۔
 اب فقہے سے ہٹ کر ہم دیکھنا چاہیں گے مسیار نکاح کی ضرورت کیسے وجود میں آئ۔ آج کے زمانے میں یہ عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور مصر میں عام ہے۔ جہاں امیر مرد وقت گذاری کے لئے یہ شادیاں کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ بتائ جاتی ہے کہ یہاں عام اسلامی نکاح کے لئے مرد پہ بہت زیادہ معاشی دباءو ہوتا ہے۔
وہ عورتیں جنکی  شادی اس وجہ سے نہیں ہو پارہی ہو کہ کوئ مرد انکی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں مثلاً  بوڑھی یا بیوہ عورتیں یا وہ عورتیں جن پہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہ سب مسیار نکاح سے مستفید ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ اس بات کے امکان زیادہ ہیں کہ یہ مردوں کی زیادہ جنسی آزادی کا باعث بنیں گی اور معاشرے میں خآندانی استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔
یہ عین ممکن ہے کہ یہ نکاح اسلام سے پہلے بھی رائج ہو۔ اسلامی قوانین کی اکثریت عرب کے قبائلی معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کو اصطلاحی طور پہ تبدیل کیا گیا ہے۔ 
 پاکستان، ہندوستان کے بر عکس عرب میں شادی کے بعد بیوی کو الگ گھر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مشترکہ خاندانی نظام ہندءووں کے زرعی معاشرے کی وجہ سے آیا جسکا عرب میں کوئ خاص تصور نہیں۔ اگر کوئ پاکستانی، مشترکہ خاندانی نظام کو بہتر سمجھتا ہے تو اسے جان لینا چاہئیے کہ یہ عرب میں نہیں ہوتا۔ اس لئے اسلامی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔
چونکہ اس نکاح کا بنیادی مقصد صرف جنسی ضرورت کو پورا کرنا ہی نظر آتا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جنس کی بڑی اہمیت ہے اور اسے بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ یوں عام اسلامی نکاح کے ساتھ اس قسم کے نکاح کی بھی گنجائش رکھی گئ ہے۔   یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عرب معاشرہ جنس کے معاملے میں اتنا ہی کھلا ہے جتنا کہ مغربی معاشرہ جس کی بے حیائ پہ ہم ہر وقت لعن طعن کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عرب میں یہ باہر گلیوں میں نظر نہِں آتا۔ لیکن گھروں میں یہ اس سے کہیں زیادہ شدید حالت میں موجود ہے۔
قرآن پڑھتے ہوئے بھی میں اکثر سوچتی ہوں کہ جب ایک چھ سال کا عرب بچہ اسے پڑھتا ہوگا تو کیا وہ اسکے معنی نہیں سمجھتا ہوگا قرآن ایک ایسی کتاب جس میں جنس اور شادی کے معاملات کو کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اسکے ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ جب بھی ہمارے یہاں یہ مسئلہ سر اٹھاتا ہے کہ ہائ اسکول یا کالج کی سطح پہ بچوں کو جنس سے آگہی دینا ضروری ہے تو سب سے زیادہ مذہبی حلقے اسکے خلاف شور مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟
آخر ایسا کیوں ہے کہ ویسے تو ہمارے یہاں عرب معاشرتی اقدار کو اسلامی معاشرتی اقدار کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ عرب ثقافت کو اسلامی ثقافت کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔  لیکن جب ان اقدار کی باری آتی ہے جو عرب کے ایک کھلے معاشرے کو پیش کرتے ہیں تو ہم صم بکم ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت ہم عرب معاشرے کو پاکستانی معاشرے سے الگ کیوں سمجھتے ہیں؟

Wednesday, July 18, 2012

سوشل میڈیا: چیلوں کا میلہ

تصور کریں کہ ایک شخص جو کہ اس ملک کے کسی مضافاتی علاقے میں رہا ہو جہاں زندگی کی اشد ضرورت کی اشیاء بھی نایاب ہوں۔ جس نے کبھی کسی فائیو اسٹار ہوٹل کی شکل نہ دیکھی ہو، کبھی سگریٹ پیتی عورت سے بہ نفس نفیس ملاقات نہ کی ہو، کبھی ایک عورت کو ایک مرد سے معانقہ کرتے نہ دیکھا ہو بلکہ کسی عورت کا گھر سے باہر نکلنا ہی شدت سے برا سمجھتا ہو۔ اسے آپ اچانک ایسی تقریب میں پہنچا دیں جہاں اسکی دنیا کی یہ ساری قباحتیں موجود ہوں، جن کا اس نے زندگی میں تصور تک نہ کیا ہو۔
  مزے کی بات یہ ہے کہ تقریب کا نام تو سوشل میڈیا میلہ ہو جو پاکستان کے حوالے سے ہو۔ لیکن اس میں صرف وہ لوگ چھائے ہوں۔  جو اس ملک کے عام آدمی کی زبان نہیں بولتے۔ اسکے مسائل سے صرف اتنی دلچسپی رکھتے ہیں کہ اسے کسی اور جگہ استعمال کر کے اپنی دولت اور شہرت میں اضافہ کیا جا سکے۔ کیا یہ بے حسی، سفاکی اور خود غرضی کا دوسرا نام نہیں۔
سوشل میڈیا میلہ کے نام سے یہ تقریب کراچی میں  منعقد ہوئ۔ جس میں ایک اطلاع کے مطابق شہر کے اشرافیہ اور امریکی سفارتخانے کے عہدے داروں نے شرکت کی۔ میں اس میں نہیں گئ مجھے اس طبقے کے رنگ ڈھنگ معلوم ہیں۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ عام طور پہ یہ تقریبات اشرافیہ کے بیرون ملک  عہدے داروں سے تعلقات کو بڑھانے کے لئے منعقد ہوتی ہیں۔ اس میں تالیاں بجانے کا کام میں کیوں کروں؟ اس لئے اس ترغیب کے باوجود کہ اس میں اردو زبان کے حوالے سے بھی کوئ سیشن رکھاجائے گا میں نہیں گئ۔ 
مجھے اس چیز سے، اس منافقت سے بڑی تکلیف ہوتی ہے کہ جس سوشل میڈیا کو تبدیلی کا اہم ذریعہ سمجھا جا رہا ہے اسکے کرتا دھرتا انگریزی کے علاوہ کسی زبان کو اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کیوں کوئ موئثر کردار ادا کرنے سے قاصر ہے اس لئے کہ یہ سوشل نہیں ہے۔ ایک گیند مخصوص حلقوں میں گھومتی رہتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا۔
حالانکہ ہمارے یہ کرتا دھرتا اتنے وسائل رکھتے ہیں کہ چاہتے تو گوگل کو اردو سپورٹ کے لئے مجبور کروالیتے آخیر گوگل فارسی، عربی حتی کہ تیلگو زبان تک کو سپورٹ کرتا ہے۔ 
یہی نہیں یہ سارے کرتا دھرتا در حقیقت دل سے یہ چاہتے ہی نہیں کہ ایک عام آدمی کو درپیش مسائل حل ہو جائیں یا وہ اسکے حل میں اپنا حصہ ڈال سکیں حالانکہ ان میں سے ہر ایک اتنی اہلیت اور وسائل رکھتا ہے کہ یہاں تبدیلی کا سیلاب آجائے۔ لیکن ایسی تبدیلی کا کیا فائدہ کہ ان میں اور عام آدمی میں برسوں کی محنت سے ٹہرایا ہوا فرق کم ہو جائے۔
 یہ اشرافیہ جن میں ہمارے دانشور بھی شامل ہیں، فکشن لکھنے والے بھی شامل ہیں اور اپنے لکھے پہ دنیا سے انعامات لینے والے بھی شامل ہیں، دستاویزی فلمیں بنانے والے بھی شامل ہیں، این جی اوز سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں۔
یہ سب لوگ، اسی عام آدمی کی وجہ سے اپنی زندگیوں میں رنگینی حاصل کرتے ہیں۔ اگر انہیں ہم اپنی زندگی کے دکھ نہ سنائیں تو یہ کون سا فکشن لکھیں گے۔ اگر ہم اپنے مسائل کو حل کرنے کی قوت حاصل کر پائیں تو یہ انہیں دور کرنے کے لئے کہاں سے غیر ملکی امداد حاصل کریں گے۔ ہم اور ہماری تکلیفیں انکے لئے خوش قسمتی کے دروازے کھول دیتی ہیں لیکن اس کے باوجود جب یہ ہمارے سامنے کبھی اتفاقاً آکر کھڑے ہوتے ہیں تو یہ کیوں اس بات کی علامت بنے رہتے ہیں کہ یہ ہم میں سے نہیں۔ البتہ یہ ہمارے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ضرور ہیں۔ کتنے عظیم لوگ ہیں جو ہم بے چاروں کو شعور دینا چاہتے ہیں، ہمیں ایک آسان زندگی دینا چاہتے ہیں، ہمیں بنیادی انسانی حقوق دلوانا چاہتے ہیں لیکن ان کا ہم سے کوئ تعلق نہیں ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں یہ ان کا ہم پہ اور اس معاشرے پہ احسان ہے۔
ایسی تقریبات میں جان بوجھ کر پیدا کیا جانے والا طبقاتی فرق مجھے انتہائ مکروہ لگتا ہے۔ مجھے ذاتی طور پہ نہ بغیر آستین کے کپڑوں سےخار ہے۔ اگر میرا رنگ خوب سفید ہوتا تو شاید میں بھی کبھی کبھار پہن لیتی۔ نہ ہی مجھے خواتین کا سگریٹ پینا عجیب لگتا ہے دیہاتی عورتیں بھی پیتی ہیں، حتی کہ میں ان عورتوں اور مردوں کو بھی نظر انداز کر دیتی ہوں جو ایکدوسرے کو خوش آمدید کہنے کے لئے معانقہ کرتے ہیں۔ یہاں دیہاتوں میں عورت اور مرد مصافحہ کرتے ہیں۔
لیکن مجھے اس چیز پہ حیرت ہوتی ہے کہ اسی معاشرے میں جہاں ایک انتہا یہ ہوتی ہے کہ عورت دس گز کے برقعے میں بھی باہر نہیں نکل سکتی وہاں دوسری انتہا یہ ہوتی ہے کہ خواتین سگریٹ ہاتھ میں دبائے، کھلے ڈلے کپڑے پہنے کسی مرد سے گلے مل رہی ہوتی ہیں۔ خواتین کے اس انداز پہ بھی مجھے اعتراض نہیں۔ ایک شخص اپنے لئے جو چاہے پسند کرے۔ اپنی ذاتی زندگی جیسے چاہے گذارے۔  لیکن طرہ یہ ہوتا ہے کہ یہ خواتین اس ملک کی پسی ہوئ خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہیں۔ ایک عام آدمی لازماً یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ہماری عورت جب دس گز کے برقعے سے باہر نکلے گی تو یہ عورت بن جائے گی۔ یہ عورت جو اسکے نزدیک بے حیاء عورت ہے۔ اس سے انکے کاز کو کوئ فائدہ نہیں پہنچتا۔ سوائے اسکے کہ انکا یہ لباس طبقاتی فرق کو قائم رکھنے میں معاون ہوتا ہے وہ کسی بھی مثبت مقصد کے لئے ایک رول ماڈل نہیں بنتیں۔ ایک ایسا رول ماڈل جسے دیکھ کر ایک کمزور عورت یہ سوچے کہ اگر میں کوشش کروں تو ایسی عورت بن سکتی ہوں، ایسی زبردست صلاحیتوں والی عورت۔ البتہ یہ کہ وہ اپنے سر کا اسکارف اور کس کے باندھ لیتی ہے۔
اس جگہ پہ آ کر ہمیں اپنی سرحد متعین کرنی پڑے گی۔ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک کی عورتیں تعلیم حاصل کریں، معاشی استحکام حاصل کریں، اپنی زندگی پہ اپنا اختیار حاصل کریں، اپنے فیصلے خود کرنے کی قوت حاصل کریں۔ صحت حاصل کریں، بچے کتنے پیدا کریں گی یہ حق حاصل کریں، یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ سگریٹ۔ پیئیں، شراب پیئیں، کم کپڑے پہنیں، مردوں کے برابر اس طرح ہوں کہ انکے گال چومیں یا گلے لگیں۔
اسی طرح کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس ملک میں معیاری اور بنیادی تعلیم سب کا حق ہو یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ چونکہ ہم بہتر معاشی حالت رکھتے ہیں اس لئے ہمارے بچے تو معیاری تعلیم حاصل کر لیں لیکن جو نہیں کر سکتے ہیں ہم انکا مذاق اڑائیں۔ حالانکہ انکا نہ کر پانا اس فرسودہ نظام کی وجہ سے ہے جسکی وجہ سے ہم مضبوط اور وہ کمزور ہیں۔ ہم خود ہی اس ملک میں کئ طرح کے تعلیمی طبقات بنائیں۔ کسی کواردو میڈیئم گورنمنٹ کے ناکارہ اسکول دیں کسی کو انگلش میڈیئم اعلی اسکول عنایت کریں۔ اور پھر اردو میڈیئم کو حقارت سے دیکھیں اور ان سے دور خود صرف اس لئے اڑے اڑے پھریں کہ انگلش بول سکتے ہیں لکھ سکتے ہیں چاہے اسکے علاوہ ککھ نہ جانتے ہوں۔
اسی طرح بحیثیئت ایک لبرل پاکستانی کیا ہم اس ملک میں اس بات کی آزادی کے خواہشمند ہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے مذہب پہ آزادی سے عمل کر سکے، بلا تفریق، مذہب، جنس، زبان، اور نسل کے ہم میں سے ہر ایک کو تعلیم کا اور صحت کا حق حاصل ہو، ہم میں سے ہر ایک کے  پاس با عزت روزگار ہو، ملک کا قانون ہر ایک شہری کو برابر کی نظر سے دیکھے اور اس کے فیصلوں پہ عمل در آمد ہو، ہر شہری کی جان ، مال اور عزت محفوظ ہو۔ ہم دنیا میں دہشت گرد ملک کے طور پہ نہ پہچانے جائیں، ہمارے لوگ خود کو بموں سے نہ اڑائیں ہم بات بے بات جان لینے اور جان دینے پہ نہ تیار رہیں۔ ہمارے یہاں درجنوں لوگ روزانہ بے گناہ تاریک راہوں میں نہ جان گنوائیں۔ ہماری عورتوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی نہ ہو۔ ایک عورت کو باہر نکلنے ، چلنے پھرنے زندگی برتنے کی آزادی ہو۔ یا ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں بس شراب پینے کی آزادی ہو۔
ہمارے اس طبقے کو جو انگریزی بولتا ہے سمجھتا ہے اور انگریزی میں اظہار کرنا پسند کرتا ہے اورمزید یہ کہ اپنے آپکو دانشور سمجھتا ہے، سمجھتا ہے کہ مسائل کی وجوہات اور صحیح حل اسے معلوم ہیں۔ اسے یہ بھی تو طے کرنا چاہئیے کہ آخر انکا کاز درحقیقت ہے کیا۔ 
اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے ملک میں تبدیلی کا ڈھول پیٹنے والے سوچیں کہ دراصل وہ  کیا چاہتے ہیں؟ 
بہرحال انکے چاہنے سے الگ، سوشل میڈیا کسی کے اشاروں پہ نہیں چل سکتا۔ یہ عام آدمی سے چلتا ہے اور اگر کوئ اسے اپنے اشاروں پہ چلانا چاہتا ہے تو اسے عوامی بننا پڑے گا۔ یہی دیوار کا لکھا ہے۔
 

Monday, May 21, 2012

مائ ڈیئر مولانا صاحب

میں پارلر میں موجود تھی جب وہاں پہ کام کرنے والی ایک خاتون کا فون بجا۔ فون پہ بات کر کے اس نے بند کیا اور اپنی دوست کو بتایا کہ شہر کے فلاں حصے میں جہاں اس کا گھر ہے ہنگامہ ہو گیا ہے اور ان کے شوہرآفس نہیں جا سکتے اس لئے آج چھٹی کر کے گھر میں رہیں گے۔
اب کس نے کیا یہ ہنگامہ؟  کسی نے  پوچھا۔ کراچی میں ہنگامے روز کے معمولات میں شامل ہیں۔
 ہماری  طرف کون کرے گا یہی ملّے۔  اس عورت  نے ایک کراہیت سے جواب دیا۔
 ہنگامے کراچی میں اور لوگ بھی کرتے ہیں کراہیت مولانا صاحب کے حصے میں کیوں آئ؟

آخر خواتین ملّاءوں سے اتنا کیوں چڑتی ہیں؟

اس کے لئے دماغ پہ زور ڈالنے کی قطعی ضرورت نہیں۔ ایک گھر میں بچے فاقوں سے گذر رہے ہوں، شوہر کی آمدنی گھر کے اخراجات پورے کرنے کے قابل نہ ہو اور ان حالات میں اگر کوئ عورت یہ سوچے کہ وہ گھر سے باہر نکل کر کچھ پیسے محنت کر کے کما لے تو اس خیال سے ہی مولانا صاحب کا دین اسی وقت خطرے میں پڑ جائے گا۔  انکے خیال میں ایک عورت ایک حرم سے بس دوسرے حرم کا ہی سفر کر سکتی ہے یہی اس کا مقدر ہے۔ اور وہ فوراً فتوی دیں گے کہ نیک عورت وہ ہے جو گھر کے اندر بند رہے  سوائے مرض الموت کے اسے گھر سے نکلنے کی ضرورت نہیں۔
جو تھوڑے سے بہتر ہونگے وہ فتوی دیں گے کہ باہر نکلنے کے لئے برقعہ پہننا ضروری ہے لیکن یاد رہے روزی روزگار کی ذمہ داری اسلام نے عورت پہ نہیں ڈالی۔ 
کیوں مولانا صاحب میں کیوں برقعہ پہنوں؟
  چالیس ڈگری سینٹی گریڈ پہ برقعے کے تصور سے مجھے اپنا آپ برا لگتا ہے، مولانا صاحب سے نفرت ہو جاتی ہے اور خدا سے بیر۔ جو انتہائ قدرت رکھنے کے باوجود اتنا بے بس تھا کہ مجھے آزادی سے کھلی فضا میں سانس لینے کے لائق نہیں بنا سکا۔ اگر اسے مجھےکپڑوں کے باوجود کوکون کی طرح برقعہ میں ہی لپیٹ کر رکھنا منظور تھا تو اسے کم سے کم میرا جسمانی نظام ہی اسکے مطابق بنانا چاہئیے تھا۔ وہ قادر مطلق ہے پھر اسے آزمائش کے سارے سخت مرحلوں سے مجھے ہی کیوں گذارنا مقصود تھا اور ان سخت مراحل کے باوجود مزے کی زندگی دنیاوی اور دنیا کے بعد مردوں کے حصے میں۔ خدا کس قدر امتیازی سلوک رکھتا ہے اپنی مخلوقات میں۔
اسلام پہ قائم رہنے کے لئے میں سوچتی ہوں کہ ایسا عقل سے عاری خدا مولانا صاحب کو ہی مبارک ہو۔  مجھے اکیسویں صدی میں ایک جینیئس خدا چاہئیے۔ ساتھ ہی مجھے خیال آتا ہے کہ مولانا صاحب کے بند دماغ سے اپنے خدا کو کیوں دیکھوں۔ میرے خدا کو میرے شایان شاں ہونا چاہئیے۔ اگر میں زمین ہوں تو اسے آسمان ہونا چاہئیے میں جتنی  زبردست ہوں اسے مہا زبردست ہونا چاہئیے۔
اچھا اب آگے بتاتی ہوں کہ دنیا کے واقعات کیسے پیش آتے ہیں۔ جن سے مولانا صاحب کا خدا لا علم معلوم ہوتا ہے۔
 فرض کریں کہ کوئ عورت سات بچوں کی ماں ہے اور اسکے شوہر کا انتقال ہوجاتا ہے۔ لیکن مولانا صاحب کے دین کے مطابق ایک نیک عورت ہے یعنی تمام زندگی گھر سے باہر قدم نہیں رکھا تو صحیح اسلامی حل یہ ہوگا کہ عدت ختم ہونے پہ ایک اور شوہر کرے۔ اس شوہر سے بھی اس کے پانچ بچے ہو جاتے ہیں لیکن وہ شوہر ، پہلے شوہر کے بچوں کو نہ اپنے ساتھ رکھنے کو تیار ہے اور نہ ہی انکی کسی بھی قسم کی ذمہ داری لینے کو تیار ہے۔ اسلامی تعلیمات میں سوتیلا باپ انکا ذمہ دار ہے بھی نہیں۔  ان بچوں کے رشتے دار بھی اس قابل نہیں کہ انہیں سپورٹ کر سکیں۔ ان میں سے جو بچیاں ہیں چاہے وہ چھ برس کی ہوں انکی تو فوراً شادی کر دینی چاہئیے کیونکہ اسلامی تعلیمات کی جو روشنی مولانا صاحب کے طفیل ملتی ہے اس میں ایک عورت کی پیدائش کا مقصد شادی اور بچوں کی پیدائیش کے سوا کچھ نہیں ہے۔
 اب عورت جھلا کر مولانا صاحب سے پوچھ سکتی ہے کہ  آخر ساری زندگی گھر کی چہار دیواری میں بند رہنے اور مسلسل بچے پیدا کرنے کے بعد میرے ہی حصے میں دوزخ کیوں زیادہ آئے گی۔ مولانا صاحب فرمائیں گے بد بخت تیری اسی زبان درازی کی وجہ سے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دوسرا شوہر چند سالوں بعد ایک دن ناراض ہو کر تین دفعہ طلاق کہتا ہے اور اب اس گھر میں اس عورت کے لئے کوئ جگہ نہیں۔ اسکے حصے میں خوش قسمتی سے معمولی سی مہر کی رقم آجائے تو اسے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہئیے۔  اسکے علاوہ کچھ نہیں۔ 
اب ان پانچ بچوں کاکیا ہوگا؟
 ایک دفعہ پھر مولانا صحاب کی اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جو بچیاں ہیں انکی فی الفور شادی کر دی جائے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ چھ سال کی لڑکی کی پچاس سال کے مرد سے کر دیں۔ آپ جانتے ہیں پھر اسلامی تاریخ بیان کی جائے گی جو دراصل عرب ثقافت اور تاریخ ہوگی۔ وہ بھی ڈیڑھ ہزار سالہ پرانی۔
اب یہ عورت تیسرا شوہر تلاش کرے گی۔ لیکن جو کام وہ نہیں کر سکتی، وہ یہ کہ خود کام کرے پیسے کمائے اور اپنے بچوں کے مستقبل کو زیادہ محفوظ بنائے تاکہ یہ سب بچے اسکے قریب رہیں اور بہتر اور کار آمد انسان بنیں۔  
کیوں؟
کیونکہ مولانا صاحب کے قائم کردہ معاشرے میں وہ ایک جانور کی طرح نہ کوئ قابلیت رکھتی ہے نہ ہنر،  نہ مرتبہ۔ مولانا صاحب اگر اسے کبھی مثال کے لئے پیش بھی کرتے ہیں تو کھلے ہوئے گوشت کی صورت یا بغیر ریپر کی  وہ ٹافی جس پہ مکھیاں بھنبھنا رہی ہو۔ اس سے زیادہ دیکھنے اور سوچنے کی سکت مولانا صاحب میں نہیں ہے۔ وہ اگر چاہے بھی تو کیا کرے گی۔ مولانا صاحب سے بغاوت کرے گی تو زیادہ سے زیادہ بغیر مذہبی تعلقات کے اپنے آپکو فروخت کے لئے پیش کرے گی۔ ایک بے ہنر اور ان پڑھ عورت اسکے علاوہ کیا کرے گی۔
واضح کر دوں کہ فرض کرنے کے علاوہ یہ ایک سچا واقعہ ہے۔
اس صورت حال پہ مولانا صاحب یا انکے چیلوں کو ذرا شرم نہیں آئے گی۔  دنیا تو ہے ہی آزمائش کی جگہ۔ وہ ایک اور فتوی جاری کرتے وقت فرما دیں گے۔ یہ ہم نہیں جانتے کہ یہ آزمائش واقعی خدا کی طرف سے ہے یا مولانا صاحب کی طرف سے۔ وہ کہتے ہیں قرآن یہ کہتا ہے اور حدیث یہ کہتی ہے۔ ہم تو یہ جانتے ہیں مولانا صاحب کہ عہد نبوی میں صحابہ متع کرتے تھے اور عورتیں غربت کی وجہ اناج کے ایک پیالے پہ متع کرتی تھیں۔ یہ نکاح چند دن یا چند مہینے رہتا اور پھر ختم ہوجاتا۔ متع کرنے والی یہ عورتیں نکاح سے پہلے مردوں کو دیکھتیں اور ان سےپورا معاملہ طے کرتیں۔ یقین نہ ہو تو سیرت النبی میں یہ واقعہ پڑھ لیجئیے۔
آج بھی اسلام میں متع کے بارے میں دو مخلف فرقے موجود ہیں ۔ سنیوں کے نزدیک جائز نہیں شیعوں کے نزدیک جائز ہے۔ آج شیعوں کے ایران میں جسم فروشی کی صنعت کو متع کی وجہ سے تحفظ حاصل ہے۔ لیکن آج کے ایران میں خواتین بغیر اسکارف کے نہیں رہ سکتیں۔ ہے نا، مذاق۔
نیک عورت  کے پیمانے بھی کتنے مختلف ہیں۔ وہ اس تصویر سے واضح ہیں۔

 اس تصویر سے  پتہ چلتا ہے کہ سب سے نیک مسلمان عورت وہ ہوگی جو مافوق الفطرت مخلوق کی طرح کسی کو نظر نہیں آئے گی۔ اس سے ہم مندرجہ ذیل نتائج اخذ کرتے ہیں۔
 نیک عورت وہ ہے جس کی نہ آواز سنائ دے اور جو اپنے گھر میں ایسے بند رہے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہو کہ وہ پیدا بھی ہوئ تھی ایسے گھروں سے شادی کارڈ ملے گا تو اس پہ دلہن کا نام موجود نہیں ہوگا۔ یعنی یہ عورتیں عہد نبوی کی عورتوں بلکہ رسول کی بیویوں سے بھی زیادہ نیک ہوئیں۔ اگر نیکی کے اس ورژن کی مزید تفصیل میں گھسا جائے تو سب سے نیک عورت وہ ہوئ جسے خدا دنیا میں جانے کی نوید دے مگر وہ دنیا میں آنے سے انکار کر دے یعنی پیدا ہونے سے انکاری ہوجائے۔
نیکی کا اگلا ہلکا معیار یہ ہے کہ برقعہ پہن کر گھر سے نکل سکتی ہے وہ بھی محرم کے ساتھ لیکن جسم کا کوئ حصہ نظر نہ آئے۔ ہاتھوں میں دستانے، پیروں میں موزے اور آنکھوں پہ نقاب  میں جالیاں۔ سوچتی ہوں عہد نبوی میں رفع حاجت کے لئے جنگل میں جانا پڑتا تھا۔ اس وقت گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہوتے تھے۔ خواتین پہلے سے برقعہ پہن کر بیٹھ جاتی ہونگیں یا فوری ضرورت پیش آجائے تو برقعے کی طرف بھاگتی ہونگیں۔ پیٹ خراب ہونے کی صورت میں مقام ضرورت پہ ایک خیمہ گاڑ دیا جاتا ہو گا۔
نیکی کا اگلا معیارچہرہ ،  ہتھیلی اور پیر کھلے رہ سکتے ہیں۔ مردوں سے ضرورت کے لئے بات کی جا سکتی ہے فیس بک پہ تبلیغی چیٹنگ شاید کی جا سکتی ہے کیونکہ جادو صرف آواز میں ہوتا ہے تحریر میں نہیں۔ اور مذہبی گفتگو کے وقت تو شیطان کوسوں دور رہتا ہے۔ حالانکہ جدید تحقیق کہتی ہے کہ خواتین کی تحریر میں بھی راغب ہوجانے والے مردوں کے لئے جادو ہوتا ہے۔  اس لئے بعض خواتین کو دیکھتی ہوں کہ برقعہ پہن کر کلائیوں پہ موزے کی طرح کے ٹائیٹس پہن لیتی ہیں کیوں کہ اگر کسی وجہ سے برقعہ کھسک جائے تو کلائ نہ نظر آ سکے یہ ستر میں شامل ہے۔
عہد نبوی میں جبکہ کپڑا ہی بمشکل ملتا تھا وہ بھی عام لوگ نہیں خرید پاتے تھے اس وجہ سے نبوت سے پہلے غریب لوگ حرم کا طواف ننگے ہو کرکرتے تھے۔  خیر، جب عرب میں کپاس نہیں پیدا ہوتی تھِی تو یہ ٹائیٹس کیسے بنائ جاتی ہونگیں؟
چاہے گھٹنوں تک اسکرٹ پہنیں، شراب پیئیں یا ایک کے بعد ایک  طلاق اور شادیاں کرتی رہیں لیکن سر پہ اسکارف ضرور ہونا چاہئیے۔ عورت کے بال میں جادو ہے۔ بال نہیں نظر آنا چاہئیے۔ اس پہ تو صرف ایک ہی خیال آتا ہے کہ کوئ عورت اگر ساری زندگی گنجا رہنے کا فیصلہ کر لے تو کیا اسکارف کی پابندی اس پہ سے ہٹ جائے گی۔ کیا گنجی عورت بال والی عورت سے زیادہ نیک ہوگی ؟ کیا ایک گنجی عورت، ایک مسلمان عورت کی علامت نہیں بن سکتی؟ کیا خدا عورت کو گنجا نہیں پیدا کر سکتا تھا؟



قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا کے تمام ممالک  میں اگر خواتین کی حالت کا موازنہ کیا جائے تو اسلامی ممالک کی خواتین سب سے زیادہ بد حال نکلیں گی معاشی اور سماجی حساب سے۔  معیشت کے لئے وہ اپنے شوہر یا باپ کی محتاج ہوتی ہیں۔ شوہر علاج کرانے سے انکار کر دے تو معمولی بیماری میں بھی جان دے سکتی ہے۔ اگر شوہر نکال باہر کرے یا باپ کا سایہ نہ رہے تو یہ عورت دربدر ہوجاتی ہے لیکن اپنے آپ کو بچا نہیں سکتی۔  معاشی اور سماجی دباءو ایسا ہے کہ اپنی صحت کے بارے میں نہیں سوچ سکتی ۔ کیا یہ توقع کی جانی چاہئیے کہ یہ عورت اپنے گھر میں بیٹھ کر بچوں کی بہترین تربیت کرے گی  ایک لا علم عورت جس طرح کی تربیت کر سکتی ہے وہ ویسی ہی کر پاتی ہے سو آبادی میں نکمے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کی غلط تربیت کا الزام بھی اسی پہ ڈالا جاتا ہے۔
 دیکھا جائے تو شاید آئ کیو کی سطح پہ بھی مسلمان عورت دنیا کی دیگر عورتوں میں سب سے زیادہ پسماندہ ہوگی کیونکہ آئ کیو محض خدا کی دین نہیں ماحول اور دماغی صلاحیتوں کو استعمال کرنے سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ جبکہ سب سے بہتر مسلمان عورت وہ ہوتی ہے جو اپنی عقل ہرگز استعمال نہ کرے۔ 
 کہتے ہیں کہ پردہ ایک عورت کو محفوظ کرتا ہے اس کا مذاق پاکستان ہی میں وہ ثقافتیں اڑاتی ہیں جہاں خواتین سب سے زیادہ پردے میں رہتی ہیں اور جہاں سب سے زیادہ جرائم خواتین کے خلاف ہوتے ہیں۔

ادھرپردے کے لئے ایسی مہم چلی ہوئ ہے کہ لوگ ہر آڑی ترچھی دلیل لانے کو بے قرار۔ جیسے ہر عورت اگر حجاب پہن لے تو بس سارے مسائل حل۔ دنیا ایک دم جنت کا نمونہ بن جائے گی۔ ہر مولوی  لڑکا چند حسین آنکھوں پہ عشقیہ اشعار لکھ کر ایک خوبصرت لڑکی کو پس منظر میں رکھ کر ایک تصویر بناتا ہے اور اسے اپنے اسٹیٹس پہ ڈالتا ہے اور اسکے بعد اگلے اسٹیٹس میں مسلمان بہنوں کو اس قسم کے پغام دیتا ہے۔

  نوبل پرائز ملنے پہ کسی نے توکل کرمان کو جھوٹے منہ بھی نہ پوچھا ہمارے ملک میں لیکن ہلیری کلنٹن سے ایوارڈ وصول کرتے وقت جب توکل کرمان نے حجاب پہ فخر کیا تو ماشاء اللہ کی صداءووں کے ساتھ انکی تصویر سوشل میڈیا پہ موجود تھی۔

حالانکہ اس سے پہلے یہ ماشاء اللہ ان حسین خواتین کی تصاویر کے ساتھ ہوتا جو میک اپ سے مزین چہرے پہ خوبصورت ریشم کا اسکارف باندھے ہوتیں۔ یعنی بس اسکارف  یا دوپٹہ سر پہ ہونا چاہئیے اسکے بعد مولوی لڑکوں کا دل پھینکنا بالکل جائز اور اسلامی ہوتا ہے۔ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ لوگ دین کو کس قدر سطحی طور پہ سمجھتے ہیں۔



 اب اس تفصیل سے گذرنے کے بعد یہ تو یقین ہو جاتا ہے کہ مولانا صاحب بھی جدید ٹییکنالوجی کے دلدادہ ہیں۔  فیس بک پہ اپنی ہم خیال، با حجاب خواتین کے اسٹیٹس پہ ہی جزاک اللہ، ماشاء اللہ نہیں کہتے بلکہ انکی فرینڈز کی لسٹ میں بے شمار نامحرم خواتین کی بے حجاب  تصاویر اور نام محض یاد دہانی کے لئے ہوتے ہیں کہ انکو راہ راست پہ لانا ہے۔ اس طرح آپ صرف انکے فرینڈز کی لسٹ دیکھ کر ہی انکی زندگی کے اعلی مقاصد نہ صرف گن سکتے ہیں بلکہ یوم آخرت میں انکو حاصل ہونے والی نیکیوں کو بھی آڈٹ کر سکتے ہیں اس کو کہتے ہیں چپڑی وہ بھی دو دو۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ایسا معاشرہ ممکن ہے جہاں عورت اور مرد دو ایک دم الگ دنیاءووں کے باسی ہوں ایسے کہ وہ ایک دوسرے سے کوئ کمیونیکیشن نہ کر سکیں سوائے اپنے محرموں کے؟
 یہاں کراچی میں ایک مینا بازار ہے جہاں خواتین دوکاندار اور خواتین ہی خریدار ہوتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کے اس بازار میں زیادہ تر خواتین کے زیر جامہ فروخت ہوتے ہیں۔ اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ یہ زیر جامے  مرد سیلز مین انہیں سپلائ کرتے ہیں اور وہ اپنی دوکان پہ بیٹھےان سے کاروباری ڈیل کرتی ہیں۔ ایک کلف لگے ہوئے کپڑے پہن کر بنے ٹھنے مولانا صاحب کو وہاں خواتین سے دوکان کا کرایہ وصول کرتے دیکھا۔ جو ان خواتین سے حسب مرتبہ مذاق بھی کرتے جا رہے تھے۔ 
اسکی داستان الگ ہے کہ ان زیر جاموں کو کون مرد سیتے ہیں۔ یعنی مولانا صاحب کے حرم کی خواتین بھی مردوں کے ہاتھ کے سلے ہوئے زیر جامہ پہنتی ہیں۔ اس لئے کہ خواتین  ماہر کاریگر اس مقصد کے لئے اتنی تعداد میں دستیاب نہیں ہیں۔ پھر کس حجاب کا پروپیگینڈہ ہوتا ہے، کس حیاء کے نعرے بلند ہوتے ہیں اور کون سے پردے کا اہتمام ہوتا ہے۔
  
تو مولانا صاحب،کیا آپ نے کبھی محسوس کیا کہ پاکستانی عورتوں کی اکثریت کیوں آپ سے نفرت کرتی ہیں اس لئے نہیں کہ آپ ٹام کروز کی طرح اسمارٹ نہیں یا رانجھے کی طرح بانسری نہیں بجا سکتے یا ہٹلر کی طرح دنیا پہ چھا جانا چاہتے ہیں  اس لئے بھی نہیں کہ آپ انہیں کھلے بازءووں والی قمیض نہیں پہننے دیتے یا آپ انہیں اپنی مرضی کا مرد منتخب نہیں کرنے دیتے، مرضی کی شادی نہیں کرنے دیتے  یا آپ انہیں تعلیم نہیں حاصل کرنے دیتے یا پھر آپ انہیں پیسہ کما کر خوشحال نہیں ہونے دیتے۔
 صرف اس لئے مائ ڈیئر مولانا صاحب کہ آپ انکے کے ہر سنگین سے سنگین مسئلے سے نظر چرا کر ان کے نظر آنے والے بال اور گوشت پہ نظر گاڑے بیٹھے رہتے ہیں۔ جیسے وہ بس بال اور گوشت کا مجموعہ ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ آپکی ساری تبلیغ، خدا اور قیامت کے سارے ڈراوے، دوزخ کی آگ اور عذاب کے تمام اعلانات کے باوجود آپکو اشتہاروں میں کھلے گلے پہنے عورتیں نظر آتی ہیں ، اسکول بم سےاڑا دینے کے باوجود آپکو تعلیمی اداروں میں زیادہ سے زیادہ عورتیں نظر آتی ہیں، گھر میں رکے رہنے اور محرم کو ساتھ رکھنے کی ہمہ وقت تلقین کے باوجودعورتیں اکیلے ایک ملک سے دوسرے ملک ، ہوائ جہاز کے سفر کر رہی ہیں۔ عورتیں گاڑیاں چلا رہی ہیں، عورتیں جہاز اڑا رہی ہیں، عورتیں شیمپو کے اشتہاروں میں اپنے جادو بھرے بال اڑارہی ہیں، عورتیں ڈیٹنگ کر رہی ہیں، عورتیں اپنے سینیٹری پیڈز بیچ رہی ہیں وہ بھی ٹی وی پہ۔ 
کیا یہ سب مرتد ہو چکی ہیں یا یہ سب آپکے خلاف بغاوت ہے یا خدا کے خلاف بغاوت ہے؟ کیا جدید طرز زندگی کو تسلیم کئے بغیر آپ انہیں اپنے خدائ فتووں سے روک سکتے ہیں؟ یااااااااااااااا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا عورتوں کا خدا کوئ اور ہے اور آپکا کوئ اور؟

Tuesday, March 20, 2012

صداقت کی وراثت

جن سے مل کر زندگی سے محبت ہو جائے وہ لوگ آپ نے دیکھے نہ ہوں مگر ایسے بھی ہیں۔ ڈاکٹر شیر شاہ کا شمار انہی لوگوں میں کیا جا سکتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں وراثتی رہ نماء سیاست کے نام پہ لوگوں کو قتل کرتے ہوں اور اپنے مفاد کے لئے ہر ظلم روا رکھتے ہوں۔ جہاں حکمرانی کے نام پہ اپنی  اور اپنی نسلوں کی عیاشی کے سامان کئے جاتے ہوں۔ جہاں غریب کی غربت کو بیچ کر اپنے لئے خزانے جمع کئے جاتے ہوں۔ جہاں اشرافیہ کا طبقہ دولت اور شہرت دونوں ہی اپنے حلقے میں بانٹتا پھرتا ہو اور معاشرے کے کمزور طبقے کے حصے میں ترس اور حقارت کے سوا کچھ نہ آتا ہو۔ وہاں ان جیسے لوگوں کا موجود ہونا ایک معجزہ لگتا ہے۔
آخر ایسے انسان ایک خود غرض معاشرے کے کینوس پہ کس طرح نمودار ہوجاتے ہیں۔ اسکا بڑا کریڈٹ اس بات کو جاتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے سامنے کون سی زندگی پیش کرتے ہیں۔اور اسے پیش کرتے وقت وہ عملی طور پہ اسکی صداقت پہ خود کتنا پورا اترتے ہیں۔
مجھے انکی شخصیت، پاکستانی خواتین کے لئے انکی گراں مایہ خدمات اور ان سے دردمندی رکھنے کی وجہ سے ہی نہیں پسند بلکہ یہ بھی پسند ہے کہ ہمہ وقت حالت کام میں رہنے کے باوجود انکی زندہ دلی اپنی جگہ رہتی ہے۔  ایک گائناکولوجسٹ کے طور پہ وہ اپنی بے لوث خدمات کے لئے کئ بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن انکا اصل ایوارڈ وہ خواتین ہیں جنہیں انہوں نے زندہ درگور ہونے سے بچا لیا۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا ایک مضمون مجھے ایک دوست کی توسط سے ملا۔ یہ مضمون ڈان اخبار میں چھپ چکا ہے۔ اسکا اردو ترجمہ یہاں حاضر ہے۔ ڈاکٹر شیرشاہ کا یہ مضمون انکے والد صاحب کے حوالے سے ہے۔











اسکین شدہ صفحات کو بہتر طور پہ دیکھنے کے لئے ان پہ کلک کیجئِے۔


Wednesday, March 14, 2012

آپکی ہمدردی میں

مرد جب اپنے دکھ کی داستان سنانا شروع کرتا ہے تو وہ کسی ایک عورت کے متعلق نہیں ہوتی۔ بلکہ اس میں کئ عورتیں شامل ہوتی ہیں۔ سر فہرست اماں، بہنیں اور وہ یعنی بیگم۔  اس لئے کہا جاتا ہے کہ ناکام مرد کے پیچھے کئ خواتین ہوتی ہیں۔ ویسے یہ ایک پروپیگینڈہ ہے۔ اسکی صداقت کا اندازہ دنیا میں کامیاب مردوں کی تعداد سے لگایا جا سکتا ہے۔
خوفزدہ نہ ہوں یہ پوری تحریر مردوں کی ہمدردی میں لکھی گئ ہے۔
:)
کچھ لسانی ماہرین کا کہنا ہے کہ بیگم دراصل بے غم کی استعمال شدہ شکل ہے۔ لیکن ارتقاء  سے انحراف کرتے ہوئے، بیگم کے بھی غم ہوتے ہیں۔ بیگم کے غم مردوں کے متعلق نہیں بلکہ مردوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں سے متعلق ہوتے ہیں یا پھر لان کے پرنٹس۔
وہ پوچھتے ہیں کہ اندرون خانہ مردوں پہ ظلم ہوتے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئیے۔ دو مرغوں اور ایک مرغی کو ایک دڑبے میں بند کر کے ایک طرف رکھ دیں اور پھر جب اس میں دھماچوکڑی ہو تو کہیں کہ  مرغوں نے بڑا پریشان کیا ہوا  ہے۔ نہ جناب یہ شکایت درست نہیں۔
لیکن پھر بھی ہم اصل وجہ سے صرف نظر کرتے ہوئے جو کہ ہمارا قومی خاصہ ہے۔ اس سلسلے میں مختلف مردوں کے آزمائے ہوئے گُر بتاتے ہیں۔
اگرایک مرد نے ابتدائ زندگی میں ہی اپنی صلاحیتیں استعمال کر کے دولت کا ایک انبار جمع کر لیا تھا یاوہ منہ میں سونے ، چاندی کا چمچ لے کر پیدا ہوا توہر دروازہ اس کے لئے کھلتا جائے گا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ دولت سے سکون نہیں خریدا جا سکتا۔ وہ ابھی جان لیں گے کہ انکا زندگی کا عملی تجربہ کتنا کم ہے۔
پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے مصداق،  بیگم کے اکاءونٹ میں فروری میں ایک خطیر رقم جمع کرادے اور خموشی سے اپنے کاموں میں لگ جائے۔ اب دیکھئیے کہ یہ وظیفہ کیسےاسے بے غم کرتا ہے۔
فروری کے مہینے سے نئ لان کے نمائش کے اشتہار آنا شروع ہوتے ہیں جو امید ہے کہ اپریل کے وسط تک جاری رہیں گے۔ بیگم اس دوران اس میں مصروف رہیں گی ۔ نمائیش سے کپڑے خرید کر درزی کو پہنچانا، اور انکے لئے میچنگ کی لیس خریدنا پھر درزی سے اسکے ڈیزائین پہ سیر حاصل بحث کرنا، اس سرگرمی کے بعد اتنا سرور رہے گا کہ اگر کوئ لڑنے پہ آمادہ ہو تو بھی اسکے منہ لگنے کو دل نہ چاہے گا۔ پہلا نشہ، پہلا خمار۔ نیا پیار ہے نیا انتظار، کیا کر لوں میں اپنا حال اے دل بے قرار۔  جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے صرف اس لئے کہ جب تک کپڑے بن کر آئیں ہم شگفتہ نظر آئیں۔ آخر لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں۔ 
اپریل کے درمیان میں نئ سرگرمی شروع ہوگی۔  درزی کے پاس سے کپڑے بن کر آئیں گے، پھر پہن کر انکی فٹنگ چیک ہوگی، اس دوران  سب کی بلا درزی کے سر پڑی رہے گی۔  کس کو فکر کے وہ سارا دن کس حرافہ کے ساتھ رہے۔
مئ کا مہینہ ان کپڑوں کی نمائیش کے لئے مختلف پارٹیز میں گذرے گا، ساتھ ہی ساتھ پارلر والوں کی بھی آمدنی میں اضافہ رہے گا۔ جون کے مہینے میں ساون کے کپڑوں کی تیاری ہو گی جولائ میں افطار پارٹیز اور عید کے کپڑوں کی تیاری۔ ستمبر میں مڈ سمر کے پرنٹ آجائیں گے۔ خزاں بہت چھوٹا سا مہینہ ہوتا ہے اس لئے اس دوران ہی سردیوں کے گرم کپڑوں کی تیاری شروع ہو گی۔ دسمبر، جنوری آجکل شادیوں کے لئے انتہائ مناسب خیال کئ جاتے ہیں اور جناب ایک بار پھر فروری آ گیا۔ پچھلے سال کے تجربے کے بعد اسے معلوم ہونا چاہئِے  کہ اب کیا کرنا ہے۔
بیگم جب بھی نئے کپڑے پہن کر سامنے آئیں تو شاندار کہنا نہ بھولیں، وقتاً فوقتاً معلوم کرتے رہیں کہ آج نیا جوڑا کیوں نہیں پہنا۔ بیگم کو زیادہ مصروف رکھنا ہو تو درزی یا پارلر والوں کے کاموں میں نقص نکال دیں اور انہیں درزی یا پارلر تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیں۔ اگرسونے پہ سہاگا چاہتے ہیں تو جون جولائ کی چھٹیوں کے لئے بیوی اور اماں کو باہر بھیج دیں مگر خیال رکھیں کہ دونوں مختلف مقامات پہ جائیں۔
اگر آپ مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں تو اصل مصیبت آپکے لئے ہے۔ یہاں آکر ہم مردوں کو تین جماعتوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ عقل مند روائیتی مرد، بے وقوف روائیتی مرد اور غیر روائیتی مرد۔
عقل مند روائیتی مرد کمپیوٹر پہ مصروف رہتا ہے۔ چاہے وہ فیس بک پہ چیٹنگ ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن شکل ایسی بنا کر رکھیں گے کہ کوئ اہم پروجیکٹ چل رہا ہے۔  اگر یہ پروجیکٹ بر وقت مکمل نہ ہوا تو گھر والوں کو آٹے دال کا بھاءو پتہ چل جائے گا۔ لہذا بیوی کو یہ شکایت نہیں رہتی کہ اماں کے پاس زیادہ وقت گذارتے ہیں، بہنوں کی فکر میں مرے جاتے ہیں اور نہ اماں بہنوں  کو یہ شکوہ رہتا ہے کہ شادی کے بعد ایک دم بیوی کا غلام ہو گیا ہے۔ ہم تو سوچ بھی نہ سکتے تھے یہ ایسا نکلے گا۔ شادی سے پہلے تو یوں ہوا کرتا تھا۔ یہ سب چالاکیاں بیوی کی سکھائ ہوئ ہیں۔ ایک کمپیوٹر ہزار بلائیں ٹالتا ہے۔
بے وقوف روائیتی مرد تعداد میں سب سے زیادہ ہوتے ہیں یہ سمجھتے ہیں کہ بس واقعی میں کائینات کی لگامیں انکے ہاتھ میں ہیں اور اگر کوئ چیز انکے قابو میں نہیں آئ تو اس سے انکی مردانگی کو بھاری نقصان پہنچے گا۔ نتیجتاً انکی کمزوری یعنی مردانگی کو ہر فریق نشانہ بنائے رکھتا ہے اور انکا ہر دن روز عذاب بنا رہتا ہے۔ یہ اپنی روائیت پسندی چھوڑ نہیں سکتے اس لئے اس حالت میں صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یونہی تمام ہوتی ہے۔ مرتے وقت بھی فکر رہتی ہے کہ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے۔ لیکن پھر بھی انکے لئے حوروں کی تسلی ایک قوی امید ہوتی ہے بیگم کو کبھِ کبھی اسکی دھمکی بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں مگر بیگم کا رد عمل ایسا ہی ہوتا ہے کہ ہونہہ جا کر تو دکھاءو، دوسرے ہی دن بھاگ جائے گی اس سے تو دوزخ ہی بھلا۔ ان میں سے جو زیادہ چھوٹے دل ہوتے ہیں وہ بہتر حوروں والا راستہ لیتے ہیں۔
غیر روائیتی مرد کو ان سب باتوں کی کیا فکر۔ وہ اور انکی بیگم ایک ساتھ صبح گھر سے نکلتے ہیں۔ بچوں کو اسکول چھوڑتے ہوئے اپنے اپنے آفس کو روانگی۔ اب سارا دن گھر میں امّاں کا راج۔ شام کو بیگم کی اماں کے گھر سے بچوں کو لیتے ہوئے گھر پہنچے۔ یہاں آ کر خاتون خانہ بچوں کو نہلانے دھلانے، ہوم ورک کرانے اور رات کے کھانے کے چکروں میں ایسا الجھیں گی کہ انہیں پتہ ہی نہیں چلے گا کہ شوہر صاحب کتنی دیر اماں کے پاس بیٹھے رہے۔ اماں کو بھی یک گونہ تسلی رہتی ہے کہ بیٹے کی آمدنی بیگم کے نخرے اٹھانے میں خرچ نہیں ہو رہی۔
آخیر میں بچ جاتے ہیں غریب مرد۔  یہ فساد اور جھگڑے تو انکی زندگی کی رونق اور تفریح ہیں۔ زندگی کی تلخی کو مزید تلخیوں سے ملاتے ہیں اور یہ اکثر ان مردوں کے بارے میں سوچ کر حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیسے مرد ہیں جو لڑے بغیر یا کسی لڑائ میں پڑے بغیر اپنی زندگی گذارتے ہیں۔ یہ جینا بھی کوئ جینا ہے للّو۔ ڈو نہ کیا تو پھر کیا جیا۔

Tuesday, March 13, 2012

کہنے دیں

نبیلہ نے صرف  سسٹم سے بغاوت نہیں کی اور نہ ہی صرف یہ کیا کہ محسن پہ تیزاب پھینک کراس کے چھکے اڑا دئیے۔ بلکہ اس  البیلی نار نے مجھے بھی میرے متوقع موضوع سے ہٹا دیا۔
کیا نبیلہ نے کوئ برا کام کیا؟
جناب، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ خربوزے نے خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پہلے خربوزے نے کبھی یہ خیال ہی نہیں کیا تھا کہ دوسرا خربوزہ بھی اسے دیکھ کر رنگ پکڑے گا اور وہ بھی وہی والا جو اسکا ہے۔ خربوزے نے یہ خیال کیوں نہیں کیا۔ یہ ہم اور آپ کیا جانیں۔ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو بکرے نے ماری ہے بکری کو سینگ تو بکری بھی مارے گی بکرے کو سینگ۔ 
یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس قسم کے واقعات میں مرد مجرم شاید ہی گرفت میں آتے ہوں۔ لیکن نبیلہ دھر لی گئ۔ کوئ بات نہیں نبیلہ پہلی دفعہ ناتجربے کاری میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ تم سے پہلے کسی عورت نے یہ کیا بھی تو نہیں تھا۔ اس لئے تمہاری معلومات بھی نہیں ہونگیں۔ آہستہ آہستہ تم بھی سیکھ جاءوگی کہ صحیح وار کہاں سے کرنا چاہئیے ایسے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
 اور پھر جس نظام میں تم ہو وہاں تمہاری ہمت پہ داد دینے والے کم اور برا بھلا کہنے والے زیادہ ہونگے۔  مرد مجرموں کو خفت کے اس مرحلے سے نہیں گذرنا پڑتا۔ انکے لئے تو یہ ایک اعزاز ہوتا ہے کہ کسی ایسی عورت کا دماغ درست کر دیا جو ان  پہ توجہ نہیں دے رہی تھی۔
یہ تو میں تسلیم کرتی ہوں کہ اس ملک میں پنجاب کی مٹیار سے زیادہ با ہمت اور جراءت مند کوئ اور عورت نہیں۔ اس لئے ہیر اور سوہنی دونوں کردار یہیں تخلیق ہوئے۔
اندازہ ہے کہ نبیلہ اس وقت کسی تھانے میں چھترول کھا رہی ہوگی، خاندان والے اسے کوسنے دے رہے ہونگے۔  خاندان کی عزت خاک میں مل گئ ہوگی۔
 یقین ہے کہ اس میں دو چیزوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایک ٹیکنالوجی اور دوسرا معاشرے کی حد سے بڑھی ہوئ منافقت اور حقائق سے مسلسل فرار۔ یہ نہیں معلوم کہ  معاشرے کے تارو بود کی  حفاظت کرنے والے کس کو  عاق کریں گے۔
لیکن ہمیں یہ تو کہنے دیں کہ  رانجھن، رانجھن کردی، میں آپے رانجھن ہو گئ۔ جاننا صرف یہ ہے کہ جب ہیر ، رانجھا ہو گئ تو رانجھے پہ کیا گذری؟

Wednesday, March 7, 2012

آبگینوں کے خواب

کل ساری دنیا میں خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ نہیں معلوم کہ تاریخ کے کس مقام پہ خواتین کا درجہ اس درجے پہ آگیا جہاں انکے  حقوق کے لئے تحاریک چلانے کا سلسلہ شروع ہوا۔
پاکستان میں ایک سال نہیں صرف ایک ماہ کے واقعات کا جائزہ لیجئیے۔ 
کراچی میں پچھلے ایک ماہ میں ایک لڑکی  اجتماعی زنا بالجبر کا شکار ہوئ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ بے پردہ پھرتی ہوگی نامناسب کپڑے پہنتی ہوگی اس لئے یہ کسی مرد کا حق بن گیا کہ اسے اس طرح بے عزت کرے۔ لیکن اسی ایک مہینے میں تقریباً تین بچیوں کو جنکی عمریں  پانچ سے چھ سال کی تھیں زنا بالجبر کا نشانہ بنایا گیا۔ اس جملے میں زنا بالجبر کا لفظ زائد ہے۔ اس عمر کی بچی کو نہ یہ معلوم ہوگا کہ اسکے ساتھ جو بربریت ہوئ ہے اسے کیا کہا جاتا ہے نہ یہ کہ اسکے ساتھ یہ کیوں کیا گیا ہے اور نہ ہی اغواء کے وقت اسے معلوم ہوگا کہ اس پہ اب کیا ستم ٹوٹ سکتا ہے۔
 کیا شہر میں کوئ آواز اٹھی؟
 نہیں  اس پہ آواز اٹھانے کا وقت نہیں۔ ابھی عافیہ ڈے تو منا لیں۔
اسی ایک مہینے میں مظفر گڑھ میں ایک خاتون کو بازار میں برہنہ کر کے پھرایا گیا۔ کیا کسی نے احتجاج کیا کہ یہ بے حیائ بند کرو۔ کیا یہ بے حیائ نہیں کہلاتی؟
جی نہیں یہ ان سب علاقوں کے رسم و رواج ہیں۔ جھگڑوں میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔ نزلہ تو گرتا ہی کمزور عضو پہ ہے۔
اسی ملک میں ایک ماہ میں تقریباً چھ خواتین پہ تیزاب پھینکا گیا۔ یہ سب کسی مرد کی انتقامی کارروائ کا نشانہ بنیں۔ کیا کوئ مجرم گرفتار ہوا؟ کیا کسی کو سزا ملی؟
 نہیں یہ سب نہیں ہو سکا۔ کیونکہ مجرم یہ قبیہہ فعل کرنے کے بعد پردہ ء غیب میں چلے گئے۔ 
کیا کسی نے اس پہ احتجاج کیا؟
 نہیں۔ 
کیا اس پہ احتجاج کی ضرورت ہے؟
 نہیں ، یہ خواتین ہی کا قصور ہوتا ہے کہ ان پہ تیزاب پھینکا جاتا ہے۔ اگر وہ اس طرح رہیں، اگر وہ یہ کریں، اگر وہ اس طرح کپڑے پہنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر اس موضوع پہ بنائ گئ فلم کو ایوارڈ مل جائے تو فلم بنانے والی خاتون صرف اس لئے سی آئ اے کی ایجنٹ قرار پائے کہ اس نے ایسا موضوع کیوں اٹھایا جس سے پاکستان بدنام ہوتا ہے۔ حالانکہ اسے ایجنٹ قرار دینے کی دیگر وجوہات نکالی جا سکتی ہوں۔  لوگ جلدی جلدی اپنا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کریں گے شرمین عبید کو ایوارڈ پاکستان کے منہ پہ ایک طمانچہ۔
 اور کل میں نے خبر سنی کہ ایک خاتون پہ تیزاب پھینک دیا گیا چوبیس گھنٹے گذرنے کے بعد بھی ہمارے کسی نوجوان کا کوئ بیان نہیں۔ یہ تیزابی طمانچے پاکستان کے منہ پہ کون مار رہا ہے؟ تیزاب بنانے والے، پھینکنے والے ان پہ فلم بنانے والے یا خواتین؟
یہ تیزاب پھینکنے والے مرد اپنے خاندانوں کے ساتھ اس زمین پہ موجود ہوتے ہیں ، رہتے ہیں، شادیاں کرتے ہیں انکے بچے ہوتے ہیں۔ اسی طرح زمین پہ پیر مار کر سینہ تان کر چلتے ہیں لیکن کسی شخص کو انکے گریبان پکڑنے کی ہمت نہیں ہوتی حتی کہ انکے گھر والے تک انہیں کسی وعظ یا نصیحت کرنے کی جراءت نہیں رکھتے یا شاید وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کسی نصیحت کی ضرورت ہی نہیں۔
اسی مہینے کا واقعہ ہے کہ اقلیتی ہندو لڑکی کو جبراً مسلمان کر کے اسکی ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرا دی جاتی ہے وہ ہندو لڑکی رنکل کماری سے سید فریال شاہ بن جاتی ہے۔ انٹر نیٹ پہ مبارکباد کی ویڈیوز چل جاتی ہیں۔ اگر ملک میں کوئ فکر کی آواز اٹھتی ہے تو یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغربی میڈیا اسے پاکستان کا امیج بگاڑنے کے لئے استعمال کرے۔


دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی لڑکیوں کی پسند کی شادی پہ انہیں کاری قرار دے کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو مایا خان کو شہہ دیتے ہیں کہ پارکوں میں ملنے والے جوڑوں کو ہراساں کریں۔ ہم پارکس میں یہ بے حیائ نہیں پھیلنے دیں گے۔  لیکن جب معاملہ ایک اقلیتی لڑکی کا آتا ہے تو ساری اخلاقیات کا دیوالہ نکل جاتا ہے اور اسکی جگہ ایک مست نعرہ، نعرہ ء تکبیر آجاتا ہے۔ ایک ہندو لڑکی کو مسلمان کر کے ایک مسلمان لڑکے سے شادی کرادی اس ثواب میں جتنے لوگ شامل ہوجائیں کم ہیں۔ اس لئے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کو ہر دل بے قرار۔ ہندءووں کی ایک لڑکی کو عقد نکاح میں لے آنا ہندوستان فتح کرنے سے کم نہیں۔ بابری مسجد کا بدلہ لے لیا۔ 
یہ نہیں معلوم کہ عورت کو بیوی بنا لینا یا اس سے جنسی تعلق  قائم کر لینا، مرد کی فتح کیوں قرار پاتا ہے جبکہ وہ عورت اس فاتح سے دل سے نفرت کرتی ہو۔
۔
۔
۔
کیا آپکو معلوم ہے کہ اگر ایک عورت خوشبو لگا کر باہر نکلتی ہے تو جنت کی خوشبو اسے لاکھوں میل دور تک نہیں ملتی، کیا آپ جانتے ہیں کہ اپنی بچیوں کو حیا عادی بنانے کے لئے انہیں بچپن سے  پردے کی عادت ڈال دینی چاہئیے، کیا آپکو معلوم ہے کہ با اختیار عورت رکھنے والے معاشرے ناسور بن جاتے ہیں۔ کیا آپکو معلوم ہے کہ میراتھن ریس میں عورتوں کا دوڑنا بے حیائ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز عورت کی برداشت اور اپنے آپکو جھکا لینے میں ہے۔
 یہ ساری معلومات مجھے نیٹ کی دنیا میں آجکے نوجوان مردوں کی گفتگو کے نتیجے میں ملتی ہیں باقی جو اوپر خبریں میں نے لکھی ہیں وہ اخبار سے ہی مل پاتی ہیں اس پہ ہمارے نوجوان کچھ لکھنا پسند نہیں کرتے۔  اس سے پاکستان کا امیج خراب ہوتا ہے وہ انتہائ دور اندیش ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ سب سی آئ اے والے کراتے ہیں۔ وہ سی آئ اے کی کسی ایسی سازش کا شکار ہونے والے نہیں ہیں۔
شرمین عبید کا کہنا ہے کہ اپنے خوابوں کو مت چھوڑیں۔ میں اشرافیہ سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کی ایسی باتوں میں نہیں آتی۔ کل اگر میں کسی  مشکل میں پھنس جاءوں تو یہ صاحبہ تواس پہ دستاویزی فلم بنا کر اپنی شہرت کھری کر لیں گی۔ انکے تعلقات کی پہنچ پہنچ کہاں تک ہوگی۔ یہ فلم تو کسی غیر ملکی چینل پہ اپنی قیمت وصول کرے گی۔ میرے ہم وطن تو وہ دستاویزی فلم دیکھ تک نہیں پائیں گے۔ اور وہ حسین کپڑوں میں کیوٹ شکل کے ساتھ ایک اور ایوارڈ وصول کرنے کے لئے چھم سے اسٹیج پہ موجود ہونگیں۔ گوروں کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ کیا تیزاب سے جھلسنے والی عورت اور یہ عورت ایک ہی ملک کی باسی ہیں۔  وہ اس معمے میں ہی پھنس کر رہ جائیں گے کہ اگر ایسا ہے تو یہ کیونکر ممکن ہے۔ جبکہ یہاں ہم وطن مجھ پہ گذرے ہر ستم کو سی آئ اے کی سازش بنا کر معاملہ ہوا کر دیں گے۔
اس لئے میں اپنے خوابوں کو آبگینوں کی طرح سنبھالے اپنے ہم وطنوں سے ہی پوچھتی ہوں منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے؟

Monday, February 27, 2012

ایک شہر، تین اجتماعات

ابھی تقدس سے باہر کے لئے لکھی گئ ایک تحریر کے حوالہ جات کو ایک آخری نظر سے دیکھنا چاہ رہی تھی کہ اس اتوار کے ندیم ایف پراچہ کے مضمون پہ نظر پڑ گئ۔ مضمون مزے کا تھا۔ 
گذشتہ دنوں کراچی میں چند دلچسپ اجتماعات ہوئے۔ ایک  کراچی لٹریچر فیسٹیول،  اسکے متوازی چلنے والا دوسرا دفاع پاکستان کا اجتماع اور تیسرا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے خواتین کے لئے کیا گیا پہلا اجتماع۔
کراچی لٹریچر فیسٹیول کے بارے میں کیا کہوں، کراچی کے سب سے پوش علاقے ڈیفینس ہاءوسنگ سوسائیٹی کے بھی ایک دور افتادہ  کونے میں منعقدہ کسی تقریب کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اسکے منعقد کرنے میں یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ کہیں غلطی سے بھی کوئ ایرا غیرا نتھو خیرا ایسا اس میں  نہ آجائے جس کا ہائ کلاس سے کوئ تعلق نہ ہو، اردو لکھنے پڑھنےوالے اس سے جتنا دور رہیں اتنا اچھا ہے ، ایسا نہ ہو کہ عام لوگوں کو اس سے کوئ انسپیریشن حاصل ہو جائے یا یہ کہیں واقعی پاکستان میں لٹریچر کو عام نہ کر ڈالے۔ اور صورت حال کچھ ایسی بنی رہتی ہے  کہ ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں۔ وہ تو تقریب کے احوال اردو میں اتنی تفصیل سے نہیں پہنچ پاتے اس لئے لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتا کہ اس بہانے کیسے کیسے غیر ملکی ایجنٹ ہمارے یہاں گھوم پھر کر چلے جاتے ہیں۔
دوسرا اجتماع دفاع پاکستان والوں کا تھا۔  
مقام تھا اسکا قائد اعظم کا مزار۔ خدا جانے کیوں چونسٹھ سال کے بعد قائد اعظم کے سر پہ سب سوار ہونے کو تیار ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سب کیا دھرا انہی کا تھا اس لئے مر کر بھی چین نہیں پا سکتے۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ بہت پاءوں پھیلا کر سو لئے کنج مزار میں۔  ایک کے بعد ایک اجتماع وہیں ہو رہا ہے۔ اب انہیں بھی لگ پتہ گیا ہوگا  بالکل براہ راست کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔
دفاع پاکستان کے متعلق میرا خیال تھا کہ جماعۃ الدعوۃ والے کر رہے ہیں۔ جی وہی جماعت جس پہ حکومت کی طرف سے پابندی ہے۔ پھر شہر میں لگے اشتہاروں سے پتہ چلا کہ جماعت اسلامی والے بھی شامل ہیں۔ پھر معلوم ہوا کہ شیخ رشید جیسی سیاسی ہستی  اور اعجاز الحق بھی تشریف لا رہے ہیں۔
اوہ تو یہ آئ ایس آئ والوں کا جلوہ ہے۔ میں نے ہی نہیں بیشتر دیگر لوگوں نے بھی یہی خیال کیا۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہم میں کوئ غیر معمولی ذہانت پائ جاتی ہے۔ بلکہ آپ نے اس سکھ کا لطیفہ تو سنا ہوگا جو ایک الماری پہ فدا ہو گیا تھا۔ لیکن دوکاندار اسے دینے کو تیار نہیں تھا کہ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ پھر اسکے بعد وہ کئ دفعہ ہندو ، عیسائ اور مسلمان کے بھیس بدل کر اسکے پاس پہنچا۔ لیکن ہر دفعہ اس نے ایک ہی جواب دیا۔ ہم سکھوں کو نہیں دیتے۔ 'او تجھے پتہ کیسے لگ جاتا ہے کہ میں سکھ ہوں'۔ سکھ نے عاجز آکر پوچھا۔ 'تم ہر دفعہ فریج کو الماری کہتے ہو'۔ دوکاندار نے عجز سے جواب دیا۔
دفاع پاکستان میں ہونا کیا تھا وہی پاکستان کے دشمنوں کی آنکھیں پھوڑ دینے کا دعوی، جبکہ یہاں ابھی ہمیں ہی کچھ نظر نہیں آرہا۔ تاریخ سے گن گن کر ان واقعات کے حوالے جن سے خون میں ویسا ہی ابال پیدا ہو جیسا باسی کڑھی میں پیدا ہوتا ہے۔  اور پھر انتقام در انتقام سے انکی بینڈ بجانے کا تہیہ۔ اللہ جانتا ہے کہ مجھے نہیں معلوم ، یہاں بینڈ سے کیا مراد ہے۔
اس اجتماع میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، اسکی وجہ یہ تھی کہ لٹریچر فیسٹیول والوں کے مقابلے میں دفاع پاکستان والوں کو اپنے پیغام کے عام ہونے کا کوئ خوف نہ تھا۔ حالانکہ انکا پیغام سنا ہے کہ حرف بحرف نفرت کا پیغام تھا۔ لیکن اسے سننے کے لئے لوگ ون ڈی، ٹو کے اور ڈبلیو گیارہ جیسی بسوں سے بآسانی پہنچ سکتے تھے۔ حتی کہ جو اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے وہ بھی اس جگہ سے اسے سنے بغیر نہیں گذر سکتے تھے۔ تقریریں کرنے والے اور سننے والے انگریزی نہیں اردو میں رواں تھے۔ کیونکہ انکی دل سے خواہش تھی کہ وہ جس جذبے سے بول رہے ہیں وہ جذبہ انکے سامعین کے رگ و ریشے میں اتر جائے اور جب جلسہ ختم ہو تو یہاں موجود ہر شخص ایک مرد مجاہد ہو۔ موسیقی سے اجتناب کیا گیا اور صرف اپنی بغلیں اور دوسروں کی اینٹ سے اینٹ بجانے پہ ہی اکتفا کیا گیا۔ 
سب سے اہم بات یہ تھی کہ جلسے کی پوری کارروائ میں ایک بھی خاتون موجود نہ تھی۔ دفاع جیسا اہم موضوع خواتین کی سمجھ میں کیا خاک آئے گا۔ انہیں تو اپنے دفاع کے لئے بھی بچاءو بچاءو کا نعرہ بلند کرنا پڑتا ہے۔ پھر اللہ کا کوئ بندہ انکا دفاع کرتا ہے یہ الگ بات کے اللہ ہی کا ایک اور بندہ انہیں مورچہ بند ہونے پہ مجبور کرتا ہے۔ یوں اگر خواتین کے دفاع کی بات ہو رہی ہو تو بھی کہانی آخیر میں دو مردوں کے درمیان جنگ کی صورت بن جاتی ہے۔
قسمت کی یہ ستم ظریفی کراچی جیسے ظالم شہر میں ہی نظر آسکتی ہے کہ کہاں تو ایک مقام پہ خون کی ندیاں بہائ جا رہی تھیں کہاں اسی مقام پہ ایک ہفتے بعد بھنگڑے ڈالے جا رہے تھے۔  میں تو بھنگڑے جیسا محتاط لفظ استعمال کر رہی ہوں لیکن لوگوں کے خیال میں اس کے لئے درست لفظ مجرا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے آج تک پتہ نہیں چل سکا کہ مرد اگر مجرا کر رہے تو بھی کبھی وہ محفل سماع جیسا نیک نام حاصل کرتا ہے، کبھی جدید موسیقی جیسے راک اینڈ رول کہلاتا ہے  یا کبھی شغل اور لوک ڈانس  وغیرہ کہلاتا ہے مثلاً خٹک ڈانس، بھنگڑا۔ اً لیکن خواتین اگر شغلاً بھی ہاتھ پیر ، کولہے ہلا لیں مثلاً لڈی بھی ڈال لیں تو اسے مجرے جیسا پُر شوق نام کیوں دیا جاتا ہے؟
اچھا بہر حال ناقدین کی نظر میں خواتین کا مجرا کرایا گیا ۔ کچھ لوگوں کو یہ اعتراض ہے کہ وہ بھی ننگے سر۔ یعنی اگر سر پہ دوپٹہ ہوتا تو اتنا مکروہ نہ ہوتا۔
بہر حال جلسہ کیوں کہ خواتین سے متعلق تھا اس لئے جو رنگینی اس میں نہ ہوتی وہ کم ہوتی کہ وجود زن سے ہے تصویر کائینات میں رنگ۔ دفاع پاکستان کے خون کے دھبے دھونے کے لئے یا یہ کہ منتظمین نے دفاع پاکستان والوں کے سینے پہ مونگ دلنے کے لئے خواتین کو اسی مقام پہ چوڑیاں بیچیں، پہنائیں اور مہندیاں بھی لگوائیں۔
پونے دو کروڑ کی آبادی رکھنے والے شہر کی خواتین کی توجہ حاصل کرنا ایک  نئے رجحان یا تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی پارٹیاں اس بات پہ متفق ہوتی ہوں کہ  ملک کے بعض حصوں میں خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیا جائے گا۔ اس میں مسلم لیگ سے لے کر پی ٹی آئ والے بلکہ اے این پی بھی شامل ہوتی ہے۔ وہاں خواتین کی بحیثیت ووٹر آءو بھگت ہونا اانکے لئے خاصہ پر جوش ہے۔
خواتین کے مسائل کے حوالے سے اگرچہ کچھ زیادہ نہیں کہا گیا۔  جلسہ کراچی میں ہوا تھا اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ملازمت پیشہ ہے جو مختلف صنعتوں میں نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ گھریلو صنعتیں بھی چلا رہی ہیں۔ انکے مسائل بھی اسی حساب سے ہیں۔  بہر حال ہم اس آواز میں شامل ہیں  کہ خواتین پہ تیزاب پھینکنے والوں کے لئے سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے۔
اچھا تو ان تین اجتماعات کے بعد میں کیا سوچ رہی ہوں؟ بس یہ کہ خواتین اور مرد وں کے دلوں تک پہنچنے کے لئے کتنے مختلف راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ کیا کسی ایک سیاسی پارٹی کے لئے یہ دونوں راستے بیک وقت اختیار کرنا ممکن ہے؟

Friday, January 27, 2012

سن یاس یا مینو پاز

اب اسے تغیر کہیں یا یہ کہ جس طرح کائینات میں ہر چیز اپنے انجام کی طرف کی بڑھتی ہوئ محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح انسان کا جسم بھی توڑ پھوڑ اور تبدیلی کا شکار ہوتا ہے ٹھیک اس دن سے جب وہ جنم لیتا ہے۔
خواتین میں یہ عمل خاصہ واضح ہوتا ہے۔ اور بلوغت کے بعد  انکی طبعی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک وہ جب وہ تولیدی لحاظ سے سرگرم ہوتی ہیں یعنی بچے پیدا کر سکتی ہیں اور دوسرا حصہ وہ ہوتا ہے جب وہ اس دور سے گذر جاتی ہیں اورایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔
بلوغت میں داخل ہونے کے بعد جسم میں ہارمون اس طرح پیدا ہوتے ہیں کہ ماہانہ نظام باقاعدہ رہے ۔ ہر مہینے کچھ تعداد میں انڈے پیدا ہوں۔ اگر وہ بار آور ہو جائیں تو عورت ماں بننے کے مرحلے میں داخل ہو جائے ۔ جسکے دوران ہارمون اس ترتیب میں آجاتے ہیں کہ بچے کی نمو سے لے کر اسکے دودھ پلانے تک کا مرحلہ بحسن و خوبی طے ہو جائے۔
خواتین میں انڈوں کی یہ تعداد انکی پیدائیش کے وقت تمام عمر کے لئے مخصوص ہوتی ہے۔ جب رحم میں انڈے ختم ہو جاتے ہیں تو جسم کو اشارہ ملتا ہے کہ اب ہارمون کا مخصوص کھیل بھی ختم ہوا۔ یہ مرحلہ سن یاس یا مینو پاز کہلاتا ہے۔
خواتین کی اکثریت مینو پاز تک پہنچنے سے پہلے اسکی علامتوں سے گذرتی ہے۔ لیکن بعض خواتین اس سے اچانک دوچار ہو جاتی ہیں۔ اور انہیں یہ سمجھ میں آتا ہے کہ وہ حاملہ ہو گئیں ہیں اس لئے ماہانہ نظام منقطع ہو گیا ہے لیکن چند مہینوں میں پتہ چل جاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔
خواتین میں ماہانہ نظام ختم ہونے کی ایک اوسط عمر پینتالیس سے ساٹھ سال ہے۔ اسکی علامتیں پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً ماہانہ نظام کا بے قاعدہ ہونا، خون ضائع ہونے کی زیادتی, بعض اوقات لوتھڑوں کا خارج ہونا، خون بہت دنوں تک خارج ہوتے رہنا، بہت زیادہ گرمی لگنا، جلد کا خراب ہونا۔
عمر کے علاوہ وہ خواتین جنکی بچہ دانی آپریشن کے نتیجے میں الگ کر دی گئ ہو وہ بھی تیزی سے سنیاس کا شکار ہوتی ہیں چاہے یہ عمل کتنی ہی نوجوانی کے عالم میں کیا گیا ہو۔ کم عمر خواتین میں سنیاس کی وجوہات مزید ہو سکتی ہیں مثلاً اینڈو میٹریوسس، بچہ دانی میں رسولیاں ہونا یا تولیدی اعضاء کا کینسر، زیادہ وزن رکھنے والی خواتین، سگریٹ نوش خواتین، کیمو تھراپی سے گذرنے والی خواتین، بیمار خواتین ، وہ جنکے خاندان میں یہ سلسلہ موجود ہو ، تھائرائید غدود میں خرابی، ذیابیطس میلائٹس، یا خود دفاعی رد عمل۔ خواتین کی اکثریت میں وجہ  نامعلوم  ہوتی ہے۔
جڑواں خواتین بھی سن یاس کا کم عمری میں شکار ہو جاتی ہیں لیکن انہیں اپنی ساتھی خاتون کی اووریز کا کچھ حصہ ٹرانسپلانٹ کر کے اووریز کی کارکردگی کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔
سن یاس کے بعد یا اس سے گذرتے وقت بعض خواتین شدید علامات سے گذرتی ہیں۔ مثلاً ہاٹ فلیشز ہونا یعنی جسم میں کہیں کہیں آگ سی محسوس ہونا، پیروں میں رینگن محسوس ہونا، بہت زیادہ پسینہ آنا بالخصوص رات کے وقت، بعض کو ٹھنڈے پسینے آتے ہیں، کمزوری یا تھکن کا شکار ہونا۔ نیند نہ آنا، یاد داشت کا متائثر ہونا، شوہر سے جسمانی تعلق سے اجتناب برتنا۔
 ان سب علامتوں سے زیادہ نقصان پہنچانے والی چیز ایسٹروجن کے ختم ہوجانے کی وجہ سے آسٹیو پوریسس کے بڑھنے کا امکان ہے۔
سن یاس کے فوراً بعد ہڈیوں کے کمزور ہونے کی شرح تیزی سے بڑھ جاتی ہے جبکہ میٹا بولزم کی رفتار آہستہ ہوجانے کی وجہ سے وزن میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور خاص طور پہ پیٹ بڑھ جاتا ہے۔
ادھر آہستہ آہستہ مثانہ بھی کمزور ہونے لگتا ہے اور یوں ذرا سے دباءو پہ پیشاب کے قطرے خارج ہوجاتے ہیں یا پھر مثانے پہ قابو نہ ہونے کی وجہ سے بار بار حاجت محسوس ہوتی ہے۔
ایک اہم تبدیلی کسی خاتون کے مزاج میں آتی ہے اور سن یاس کے ابتدائ زمانے میں شدید ڈپریشن ہو سکتا ہے۔ خواتین کو لگتا ہے کہ اب چونکہ وہ بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں رہیں اس لئے انکی نسوانیت ختم ہو گئ ہے۔ وہ ایک ناکارہ وجود بن گئ ہیں۔ اب وہ کسی کام کی نہیں رہیں اور محض ایک  کچرا بن گئ ہیں۔ ان معاشروں میں جہاں عمر رسیدگی کو حقارت سے دیکھا جاتا ہے اور  جوان افراد ، درمیانی عمر کے افراد کو اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں وہاں خواتین میں یہ ڈپریشن زیادہ ہوتا ہے۔
سن یاس کیوں لاحق ہوتا ہے اسکی طبعی وجوہات ہم نے بتا دیں۔ یہ کیوں ضروری ہے اسکی وجہ ارتقائ سائینسدانوں کے نزدیک انسانی معاشرے کی مضبوطی کی بنیاد ہے۔ تاکہ ایک نسل دوسری نسل کے آگے بڑھنے میں مددگار ہو اور اس طرح انسانی آبادی بھی قابو میں رہے اور یہ کہ مضبوط انسانی نسل مضبوط انسانی جسم کے ساتھ آئے۔
یعنی قدرت  کے نزدیک عورت صرف بچے پیدا کرنے کی مشین نہیں ہے اور عمر کے ایک حصے میں وہ اسے فرصت دیتی ہے تاکہ وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی کھل کر حصہ لے سکے۔ اسی طرح عورت اور مرد کا ساتھ رہنا صرف جسمانی تعلق کے لئے نہیں ہوتا بلکہ قدرت اسکے علاوہ بھی انسان سے کچھ چاہتی ہے۔
 ایسا نہیں ہوتا کہ عورت سن یاس میں داخل ہونے کے بعد فوراً بعد ختم ہو جائے  اگر وہ اپنی صحت کا خیال رکھے تو اسکے بعد بھی نصف صدی کی زندگی گذار سکتی ہے۔
اس لئے وہ خواتین جو سمجھتی ہیں کہ وہ سن یاس میں داخل ہو چکی ہیں انہیں فوراً اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئیے۔ تاکہ وہ اس بات کی تصدیق کر سکے کہ ایسا ہوا ہے۔
وہ خواتین جو اپنی چالیسویں سالگرہ منا رہی ہیں انہیں احتیاطاً آسٹیو پوریسس سے بچاءو کے لئے طبی امداد لینا شروع کر دینا چاہئیے۔ ویسے بھی خواتین کو ابتدائ عمر سے ہی کیلشیئم والی غذاءووں کو زیادہ استعمال کرنا چاہئیے۔ اپنی بچیوں پہ توجہ دیں اور انکی غذا میں کیلشیئم اور فولاد کی مقدار کا دھیان کریں۔ تاکہ وہ مستقبل میں نہ صرف صحت مند ماں بنیں بلکہ اپنا بڑھاپا بیماریوں اور معذوری سے محفوظ گذاریں۔
مینوپاز کے دوران جب ہاٹ فلیشز زیادہ ہوتے ہیں اپنی غذا پہ دھیان دینا چاہئیے۔ ایسی اشیاء زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے گریز کریں جن میں اینٹی ایسٹروجن مرکبات پائے جاتے ہیں۔ مثلاً چائے، سبز چائے، اخروٹ، بروکلی، اور ایسی اشیاء زیادہ استعمال کریں جن میں ایسٹروجن ہوتے ہیں۔ زیادہ ایسٹروجن کے لئے گوشت، انڈے، دودھ، دہی، ، السی کے بیج یا اسکا پاءوڈر، ،گاجریں اور ٹماٹر وغیرہ استعمال کریں۔ السی کے بیج مسلسل کئ مہینوں تک استعمال نہ کریں بلکہ وقفہ دیں۔  اسکا پاءڈر ایک چائے کے چمچ سے زیادہ روزانہ نہ لیں۔  گرم جگہوں پہ نہ رہیں۔ ہلکے ڈھیلے سوتی کپڑے پہنیں۔
ایسا نہ کریں کہ کوئ چیز بالکل ترک کر دیں۔ مثلاً اخروٹ کھانا بالکل ہی چھوڑ دیں۔ اخروٹ کھائیں تو تھوڑی گاجریں  بھی کھالیں یا دودھ بھی پی لیں اس طرح غذا متوازن رہے گی۔
اس طرح اس عمر میں متوازن غذا کا ذرا مختلف تصور اپنے لئے سیٹ کریں۔
وہ خواتین جو پیشاب خارج ہونے کے عارضے میں مبتلا ہیں وہ ایک آسان سی ورزش کر سکتی ہیں جو کیگل ورزش کہلاتی ہے اور  ہر عمر کی خواتین حتی کہ حاملہ خواتین کے لئے بھی کار آمد ہے۔ اور بہت آسان ہے۔ اسے کرنے کے لئے ایک خاتون کو اپنے پیٹ کے نچلے حصے کے عضلات کو سمجھنا ہوگا۔
پیشاب کرتے ہوئے اگر بیچ میں ایکدم روکنا ہو تو جو عضلات کھینچے جاتے ہیں۔ انہیں فالتو وقت میں کھینچنے کی مشق کریں۔ یہ ایسی مشق ہے جووہ کسی بھی کام کو کرتے ہوئے کر سکتی ہیں چاہے پڑھ رہی ہوں یا ٹی وی دیکھ رہی ہوں۔ شروع میں کم تعداد میں کریں مثلاً ایک وقت میں پانچ دفعہ ان عضلات کو کھینچیں اور چھوڑ دیں۔ پھر آہستہ آہستہ تعداد بڑھاتی جائیں۔  
سن یاس کے بعد بھی ایک خوشحال زندگی گذاری جاتی ہے فرق یہ ہے کہ اسکے بعد حاملہ ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے دنیا کے بیشتر حصوں میں خواتین سنیاس کو اپنے لئے آزادی کی علامت سمجھتی ہیں۔
وہ خواتین جو کم عمری میں سن یاس کا شکار ہو جاتی ہیں ان میں آسٹیو پوریسس کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ ایسٹروجن کی کمی کی وجہ سے زیادہ کم عمری میں ہڈیاں کمزور ہونے لگ جائیں گی۔ اس صورت میں ممکن ہے کہ آپکا ڈاکٹر آپکو ہارمون تھراپی کا مشورہ دے۔ یہ طریقہ ء علاج ایک زمانے میں کافی رائج ہوا۔ پھر مختلف نتائج کی بناء پہ روک دیا گیا آجکل پھر سے تجویز کیا جانے لگا ہے۔ اس وقت یہ ہارمونز مختلف طرح کی شکلوں اور منبع کے موجود ہیں۔ ان میں سے کون سا ایک خاتون کے لئے مناسب ہے اسکا فیصلہ ایک ڈاکٹر ہی کر سکتا ہے۔
جو خواتین اس طریقہ ء علاج کو لے رہی ہیں انہیں اپنی غذا کا دھیان رکھنا چاہئیے۔  ہارمون سپلیمنٹ کے ساتھ وٹامن بی کمپلیکس والی غذاءووں کا باقاعدہ استعمال کریں اور آسٹیو پوریسس کی دواءووں اور کیلشیئم والی غذاءووں کا بھی خیال رکھیں۔ آسٹیو پوریسس کے بارے میں جاننے کے لئے یہاں دیکھئیے۔
ہر تھوڑے عرصے بعد اپنے کچھ ٹیسٹ ضرور کرواتی رہیں۔ مثلاً چھاتی کے کینسر کے لئے میمو گرافی کیونکہ سنیاس کے بعد چھاتی کے کینسر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، اسی طرح پیڑو یا بچہ دانی کے کینسر کو معلوم کرنے کے لئے پیپ اسمیئر ٹیسٹ اور پیلوک الٹرا ساءونڈ چاہئیے ہوتے ہیں۔ اگر ہارمون تھراپی لے رہی ہوں تو یہ ٹیسٹ کروانا اور بھی ضروری ہوتا ہے۔ تاکہ ہارمونز کا کوئ بھی ضمنی اثر فوراً علم میں آجائے۔
سن یاس کے بعد خواتین میں دل کے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ مختلف ہارمونز کی وجہ سے جو تحفظ حاصل تھا وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اس لئے دل کے امراض کے بنیادی ٹیسٹس بھی ایک خاتون کے لئے ضروری ہو جاتے ہیں۔
ہڈیوں کو بہتر بنانے کے لئے ورزش اور چہل قدمی ضروری ہے۔ روزانہ تیس منٹ کی چہل قدمی ہڈیوں اور عضلات کے لئے آب حیات ہے۔ ورزش کے لئے وزن اٹھانے والی ورزشوں کو ترجیح دیں جس سے اعضاء میں کھنچاءو پیدا ہو۔ اگر کوئ خاتون دل کے کسی عارضے میں ، یا کسی اور بیماری میں مبتلا ہیں تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئ ورزش شروع نہ کریں۔
خِواتین کے لئے ورزش کے حوالے سے ایک علیحدہ تحریر لکھنے کا ارادہ ہے۔ اس وقت تک انتظار کریں۔

Thursday, October 13, 2011

حجاب، جزاک اللہ

جب ہم نے کینیڈا کےحسین شہر کیوبک سٹی میں سیاحوں کی رہنمائ کرنے والے ادارے سے معلوم کیا کہ  شہر میں جاری میلے کی کیا نوعیت ہے اور ہمیں کیا کرنا چاہئیے تو اس نے بتایا کہ میلہ شہر کے پرانے حصے میں ہو رہا ہے۔ کیوبک سٹی کی مشہور آبشار پہ آج رات سالانہ آتشبازی کا خوبصورت مظاہرہ ہونے والا ہے لیکن گاڑی پارک کرنے کے لئے آپکو وہاں کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ پہلے پہنچنا ہوگا۔ اسکے علاوہ پرانے شہر میں آج ایک سرکس بھی ہو رہا ہے ہر سال ہوتا ہے اور یہ نہ صرف مفت ہوتا ہے بلکہ بہت شاندار۔
ہم نے آتشبازی پہ سرکس کو ترجیح دی، اسکی وجہ پھر کسی تحریر میں۔ ہم وقت سے آدھ گھنٹہ پہلے وہاں موجود تھے۔ لوگوں کا ایک جم غفیر۔ جہاں تک نظر اٹھائیں لوگ نظر آرہے تھے۔ اسکا انتظام ایک فلائ اوور کے نیچے کیا گیا تھا۔ ہر عمر کے عورت مرد اور بچے موجود۔
میں ایک پاکستانی خاتون دھڑکتے دل کے ساتھ وہاں موجود کہ یا الہی کہاں پھنس گئے۔ عورتوں کے لئے کوئ الگ انتظام نہیں۔ سب لوگ کھڑے ہیں، بیٹھنے کی بھی جگہ نہیں۔
مگر پھر غور کیا، میرے اردگرد کوئ بھی عورت ہراساں نہیں تھی۔ ہر طرح کی سیاح عورتیں، مقامی فرانسیسی نسل کی حسین عورتیں، مختصر ترین کپڑوں میں اوراٹھارہویں صدی کے طویل عریض کپڑوں میں۔ سب خوش، بے فکر۔ پھر میرا دل کیوں دھڑک رہا تھا کہ ابھی کوئ چلتے چلتے ہاتھ نہ مار دے، چٹکی نہ لے لے، کوئ فحش بات کہتا ہوا نہ گذر جائے اور نہیں تو یہ ہی نہ کہہ ڈالے کہ دوپٹہ سر سے اوڑھو۔
شو شروع ہونے سے پہلے گھپ اندھیرا کر دیا گیا اب صرف سرکس والوں کی روشنیاں دائرے میں گھوم رہی تھیں۔ لیکن سب لوگ اب بھی مطمئن، میرے علاوہ کوئ بھی بے چین نہ تھا۔ اوہ خدا، اندھیرا، اتنے مرد و عورت ایک جگہ پہ۔ آخر یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ ایک گھنٹے بعد یہ واقعی شاندار سرکس ختم ہوا۔ سوائے جانوروں کی پرفارمنس کے اس میں سب کچھ تھا اور پرفارمرز کی شاندار پرفارمنس وہ بھی مفت۔ کوئ نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا کوئ عورت کسی مرد کو ڈانٹتی پھٹکارتی نظر نہ آئ اور نہ خواتین نےخود بخود اپنا ایک الگ گروہ قائم کیا۔ ہلکی سی روشنی ہوئ۔
اب یقیناً نکلتے ہوئے دھکے لگیں گے۔ یا اللہ اب کیا ہوگا۔ اس ہجوم میں تو میرے ساتھی بھی نجانے کہاں گم ہو گئے، میرے ہمراہ نہیں۔ میں ہجوم کے ساتھ اپنی بچی کے اسٹرولر کو آہستہ آہستہ دھکا دیتی، محتاط انداز میں باہر روڈ پہ نکل آئ۔ درحقیقت کچھ بھی نہ ہوا۔ کوئ عورت گھبرائ ہوئ، سراسمیہ نہ تھی۔ دس منٹ بعد وہ جگہ ایسے صاف تھی جیسے یہاں کچھ  ہوا ہی نہ تھا۔ لیکن شاید خوف پاکستانی عورت کے اندر گوندھ دیا جاتا ہے۔
اسکے کچھ عرصے بعد میں پاکستان روانہ ہوئ۔ جہاز میں میری پڑوسی خاتون ، اپنے تین بچوں  اور شوہر کے ساتھ پشاور جا رہی تھیں۔ لگ بھگ پینتالیس کی پر کشش خاتون۔ ریشم کے نفیس کپڑوں اور گلے میں شیفون کا دوپٹہ ڈالے ہوئے۔ سفیدی مائل ہاتھوں پہ عنابی نیل پالش لگی ہوئ۔ بال تراشے ہوئے۔ کینیڈا میں گذشتہ دس سال سے مقیم، روزانہ اپنے بچوں کو خود ہائ وے کی پندرہ منٹ ڈرائیو کر کے اسکول پہنچانے والی خاتون۔ وہ تین سال بعد اپنی بیمار والدہ کو دیکھنے جا رہی تھیں۔  انہیں ایک دن اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں رکنا تھا اور پھر وہاں سے پشاور روانگی تھی۔
پائلٹ نے اعلان کیا کہ آئیندہ دس منٹ میں ہم اسلام آباد ائیر پورٹ پہ اترنے والے ہیں۔ انہوں نے اپنا ہینڈ بیگ کھولا شیفون کا دوپٹہ لپیٹ کر اس میں رکھا اور ایک بڑی سی چادر نکال  کر اسے اچھی طرح اپنے گرد لپیٹ لیا۔
کفار کے مردوں کے درمیان گلے میں دوپٹہ ڈال کر پھرنے والی خاتون نے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک بڑی سی چادر نکال لی۔  حالانکہ ہمارے ملک میں سرکاری طور پہ اسکی کوئ پابندی نہیں۔ اور اسلام آباد ملک کا دارالخلافہ بھی ایسی کوئ ثقافت نہیں رکھتا۔
میں کراچی ایئر پورٹ پہ اترتی ہوں۔  میں نوٹ کرتی ہوں کہ اکثرمردوں کی نظریں خواتین کا بڑی دور تک تعاقب کرتی ہیں۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ اسکارف لئے ہوئے ہیں یا جینز شرٹ میں ہیں۔ میری بچی بھاگ کر اپنے باپ سے لپٹ جاتی ہیں۔ میرے شوہر مجھ سے ہاتھ ملاتے ہیں اور میرا ماتھا چومتے ہیں۔ لوگ اس منظر میں بھی بڑی دلچسپی لیتے ہیں۔ میں ہمیشہ اس پہ خجل ہو جاتی ہوں۔ حالانکہ وہ اسی طرح اپنی ماں اور بہنوں کا بھی استقبال کرتے ہیں۔ کیونکہ انکی زندگی کا بیشتر حصہ پاکستان سے باہر گذرا ہے۔
شہر میں داخل ہوتی ہوں۔  روڈ پہ بڑے بڑے بینرز لہرا رہے ہیں۔ عالمی یوم حجاب، چار ستمبر۔ اسکے چند دن بعد جب ملک میں عافیہ ڈے منایا جا رہا تھا۔ کراچی سے محض چند سومیل کے فاصلے پہ لاکھوں افراد سیلاب کے پانی میں گھرے ہوئے تھے۔ سیلاب جس نے انکی عورتوں کو گھر کی چار دیواری سے باہر لا کھڑا کیا تھا۔ کھلے آسمان کے نیچے پانی سے پناہ تلاش کرتی عورتیں، اپنی بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے پاکستانی عوام سے حجاب کی نہیں کھانے کی طلبگار ہیں۔ یاد رہے یہ وہ ملک ہے جہاں پچھلے سال بھی سیلاب آیا تھا اور اگلے سال بھی آنے کی توقع ہے۔ اب وہی عالمی یوم حجاب منانے والے عوام سے اس آفت کے شکار لوگوں کے لئے صدقہ خیرات مانگ رہے تھے۔ انہوں نے پچھلے سال بھی مانگا اور امید ہے اگلے سال بھی مانگیں گے۔
ادھر نیٹ کی دنیا میں مختلف فورمز پہ مرد حضرات اس بات پہ اتنے متفکر نہیں کہ آخر سیلاب جیسی قدرتی آفات سے لڑنے کے لئے بھیک مانگنے، لوگوں کو بھیک کا عادی بنانے  اور بھیک بانٹنے کے بجائے کوئ باوقار منصوبہ بندی کی جائے۔ مردوں کی ایک بڑی تعداد جن ویڈیوز اور تصویروں کو ایکدوسرے سے شیئر کررہی ہے، پسندیدگی کے لئے کلک کر رہی ہے، جزاک اللہ کے نعرے بلند کر رہی ہے وہ خواتین کے حجاب کے متعلق ہے۔ مردوں کا یہ جوش و خروش دیکھ کر حیرانی بھی ہوتی ہے، ہنسی بھی آتی ہے اور تشویش بھی ہوتی ہے۔ کہتے ہیں جب روم جل رہا تھا تو نیرو بیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔


 

ایک ایسی ہی ویڈیو پہ جس میں یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئ تھی کہ جینز اور شرٹ میں ملبوس خواتین کی مرد عزت نہیں کرتے بلکہ اسکارف اور عبایہ پہننے والی خواتین کی عزت کرتے ہیں اور اس طرح حجاب کرنے والی خواتین مردانہ دسترس سے محفوظ ہوتی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ مغربی معاشرے میں جہاں خواتین مختصر ترین کپڑوں میں پھر رہی ہوتی ہیں  وہاں کے مرد ایسی نظریں جمائے نہیں بیٹھے ہوتے ہیں جیسی ہمارے یہاں اچھے خاصے کپڑے پہنے ہوئے خاتون پہ بیٹھے ہوتے ہیں۔ جواب ملتا ہے اس لئے کہ وہاں  مرد اتنی پھیلی ہوئ فحاشی کی وجہ سے اسکے عادی ہو گئے ہیں۔ میں نے وہاں یہ جواب دینے سے گریز کیا کہ پھر کیا حرج ہے کہ یہاں  بھی مردوں کو عادی بنانے کے لئے فحاشی پھیلا دی جائے۔ تاکہ وہ کچھ دوسرے مسائل پہ بھی یکسو ہو کر توجہ کر سکیں۔
خواتین کی بے حیائ اور حجاب کے ان نعروں پہ تقاریر لکھنے والے مرد حضرات اکثر سب کے سب مغرب کی عورت کی تصویریں دیتے ہیں اور انکے معاشرے کا رونا روتے ہیں مگر یہی مرد حضرات اپنے ملک کی عورت کی تصاویر دیکھنے سے محروم رہتے ہیں۔ اور مسلسل اس عالم تبلیغ میں یوں لگتا ہے کہ پاکستان میں دنیا کی بے حیا ترین خواتین پائ جاتی ہیں اور دنیا کے سب سے زیادہ غیرت مند مرد۔ ایک ناقابل یقین، مگر کلنگ کامبینیشن۔
یہ سب چیزیں تو اب روز کے قصے ہیں۔ مجھے کچھ عرصہ پہلے ایک جرمن سے اپنی گفگتو یاد آتی ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب میں دنیا کے حقائق سے ناآشنا ایک ٹین ایجر ہی تھی اور میں نے اس سے بڑے فخر سے کہا تھا ہمارے یہاں عورت کو عزت حاصل کرنے کے لئے اپنی صلاحیت اور علم کا زور نہیں دکھانا ہوتا اسے عزت ملتی ہے کیونکہ وہ ایک عورت ہے۔ مجھے لگا تھا کہ اس نے حیرانی سے میری بات سنی۔ مگر اب احساس ہوتا ہے اس نے سوچا ہوگا، اونہہ کنوئیں کے مینڈک۔
حقیقت یہ ہے کہ اس پاکستان میں عورت کو صرف دوپٹے، اسکارف اور عبایہ کی وجہ سے عزت ملتی ہے۔ اگر ایک عورت رات کو محفل شراب میں مصروف رہے لیکن صبح اپنے سر پہ دوپٹہ جما کر نکلے تو اس سے زیادہ قابل عزت عورت کوئ اور نہیں وہ بھی نہیں  جو آپکے بچوں کا علاج کرتی ہو، انہیں تعلیم دیتی ہو آپکے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہو بس دوپٹہ سر پہ نہ لیتی ہو۔ یہی وجہ ہے ہماری پارلیمنٹ میں موجود خواتین ارکان کی اکثریت ملکی مسائل پہ کام کرنے کے بجائے ہمہ وقت اپنے دوپٹے صحیح  کرتی نظر آتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب پنجاب کی ایک تعلیمی درسگاہ میں نقاب پوش مرد لوہے کے  سرئیے لے کر اندر گھس جاتے ہیں تو قابل تشویش بات ان مردوں کا اندر گھس کر ان بچیوں کو ہراساں کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس خبر پہ پنجاب کے رہنے مرد کا یہ تبصرہ ہوتا ہے کہ کیا ہوا اگر کچھ مردوں نے بے حیائ روکنے کے لئے یہ حرکت کر ڈالی۔
ویسے یہ بھی بڑا عجیب مشاہدہ ہے کہ خواتین کے حجاب کے سلسلے میں جس صوبے کے لوگ سب سے زیادہ چست نظر آتے ہیں وہ پاکستان کا صوبہ  پنجاب ہے۔
آئیے آج میں آپکو حقیقی پاکستانی خواتین کی تصویریں بھی دکھاتی ہوں۔ جنہیں دیکھنے سے حجاب کی مہم میں پیش پیش افراد شاید محروم ہیں۔ انہیں دیکھیئے اور بتائیے کہ کیا اس ملک کی عورت کو عالمی یوم حجاب کی ضرورت ہے۔ کیا اسے یہ چاہئیے کہ فرزند زمین حجاب کی ویڈیوز کو شیئر کریں ، فارورڈ کریں اور ان پہ جزاک اللہ کہیں۔