میں ثریا کو نہیں جانتی۔وہ یہیں کہیں رہتی ہوگی۔
میں نے سنا ہے وہ ملک کے کسی دورافتادہ علاقے سے اپنے گھر والوں کے ساتھ یہاں آئ تھی۔ پھر اسکا باپ ایک ایکسیڈنٹ میں مر گیا۔ اور وہ اپنے دو چھوٹے بھائیوں اور ماں کے ساتھ زندگی جھیلنے لگی۔ اسکی ماں نے کپڑے سی کر اپنا گھر چلانے کی کوشش کی لیکن کچھ عرصے میں پتہ چلا کہ اسے کالا موتیا ہوگیا ہے اور اب وہ بہت کم دیکھ پاتی تھی۔
ثریا نے ایک مدرسہ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ یہاں اسے قرآن حفظ کرنے کی سہولت بھی حاصل تھی اور پڑھانے کی وجہ سے کچھ تنخواہ اور دن کا کھانا بھی۔ لیکن اسکے اوقات بہت سخت تھے۔ وہ فجر سے پہلے ہی اٹھ کھڑی ہوتی اور جب شام ڈھلے منی بس میں ڈیڑھ گھنٹے کا سفر طے کرنے کو سوار ہوتی تو کبھی کبھی شدت تھکن اور نیند سے اسکی آنکھیں بالکل بند ہو جاتیں۔ نیند تو سولی پہ بھی آجاتی ہے۔
پر اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ سولی کی نیند، اس پہ آنیوالی موت کے مقابلے میں کتنی بھیانک ہوتی۔ یہ اسے اس دن پتہ چلا جب اسکی آنکھ کھلی تو وہ ایک بیابان علاقے میں گاڑی کے ڈرائیور اور کنڈیکٹر کے ساتھ موجود تھی۔ بہت رو دھو کر جب وہ گھر واپس لوٹی تو بھی اسے اندازہ نہ تھا کہ اب اسے کتنی مدت تک جاگنا ہوگا۔ اسکا صحیح اندازہ اسے اس دن ہوا جب اپنی ماں کے بےحد اصرار پہ کہ وہ ڈاکٹر کے پاس جائے آخر اتنے دنوں سے اسکی طبیعت کیوں صحیح نہیں ہے۔ وہ محلے کی ڈاکٹر کے پاس چلی گئ۔
لیڈی ڈاکٹر کی تشخیص پہ وہ بالکل ہکا بکا رہ گئ۔ اسکی عمر تو صرف سترہ سال تھی اور اسکا تو کوئ قصور بھی نہ تھا۔ مگر بیالوجیکل سائنس ان تمام حقائق سے نا واقف تھی۔
آخر اس لیڈی ڈاکٹر نے اسکی قابل ترس حالت کو دیکھتے ہوئے اسے ایک سینئیر ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔ حالات اس مرحلے پہ تھے جہاں وہ جونئیر ڈاکٹر کچھ نہ کر سکتی تھی۔
بلکہ کوئ ذمہ دار ڈاکٹر کچھ نہ کر سکتا تھا۔ ڈاکٹر نے سب دیکھا بھالا۔ اسے تسلی دی اس تکلیف دہ اطلاع کے ساتھ۔ اس نئ آنے والی زندگی کو روکا نہیں جا سکتا البتہ وہ اسکی مزید مشکل آسان کر سکتی ہے۔ اس طرح کہ اسے آنیوالی زندگی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور اس آنیوالے بچے کو بھی زندگی کا حق حاصل رہے۔
چند مہینوں بعد ثریا کی ماں کو ایک ہسپتال سے فون آیا کہ کہ وہ فوراً پہنچے اسکی بیٹی کی حالت درست نہیں۔ ہسپتال پہنچنے پہ ڈاکٹر نے اسے خاصہ ڈانٹا کہ اس نے اپنی بیٹی پہ کوئ توجہ نہ کی۔ اسکی بیٹی کے پیٹ میں خطرناک رسولی ہو گئ تھی۔ وہ آج سڑک کے کنارے بیہوش ملی۔ اور بروقت آپریشن کر کے اسے بچا لیا گیا ہے۔
میں ثریا کو نہیں جانتی، اس لئے مجھے اس ساری کہانی سے کوئ خاص دلچسپی نہیں۔
وقت کی کسی اکائ میں ہونے والے اس واقعے سے پہلے یا بعد میں میری ایک دوست کا فون آیا کہ انہوں نے ایک بچہ گود لے لیا ہے۔
میں انکے ساتھ انکے گھر میں موجود ہوں۔ بچے کے موجودہ والدین خوش نظر آرہے ہیں۔ انہیں بے اولادی کا عرصہ گذارتے ہوئے پانچ سال ہو گئے تھے وہاں کچھ رشتے دار بھی ہیں۔ کسی نے کہا کہ بڑا نیکی کا کام کیا ہے آپ نے ۔ وہ دونوں حیران ہوئے۔ ارے ہم نے کیا نیکی کا کام کیا ہے۔ یہ تواس بچے کی مہربانی ہے جس نے ہمیں مکمل کر دیا۔۔ یہ تو خدا کا تحفہ ہے۔ انکی سرشار آوازآئ۔
وہیں ایک اور صاحب بھی بیٹھے ہیں وہ اپنی داڑھی پہ ہاتھ پھیرتے ہیں اور کہتے ہیں بھئ بچہ آپ نے گود لے لیا بہت اچھا کیا لیکن شرعی حکم یہ ہے کہ بچے کے باپ کا نام تبدیل نہیں ہونا چاہئیے۔ تو اس بچے کے باپ کا نام معلوم کر کے اسکے ساتھ وہی نام لگانا'۔
سب لوگ خاموش ہوجاتے ہیں۔ اس خاموشی کو اس بچے کے موجودہ باپ نے توڑا۔ ' نہ مجھے اس سے غرض اور نہ ہی اس ادارے کی یہ پالیسی ہے۔ جہاں سے یہ بچہ ہماری دنیا میں آیا ہے'۔'بھئ ہم نے تو تمہیں خدا کا حکم بتا دیا۔ اب تمہاری مرضی'۔ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔
میں نے اپنی موجودگی کو زائد جان کر اپنی دوست کی گود میں دنیا و مافیہا سے بے خبر نرم کمبل میں لپٹے اس بچے کی بندھی مٹھیوں میں شگون کے پیسے رکھے اور والدین کو مبارکباد دیکر نکل آئ۔ ہم میں سےکتنے لوگ اس اختیار کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں کہ ہم معلوم باپ کے گھر پیدا ہونگے یا نامعلوم باپ کے گھر۔
گاڑی سگنل پہ رکی تو وہاں بیٹھے بچوں کے غول میں سے ایک گیارہ بارہ برس کی بچی میرے منع کرنے کے باوجود تیزی سے گاڑی کا شیشہ صاف کرنے لگی۔
میں نے اسے دیکھا۔ اورمجھے لگا میں ثریا کو جانتی ہوں۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)