مجھے لغات پڑھنے کا شوق ہے۔ اکثر اوقات اس پر ہنس دیتے ہیں احباب۔ لغت کوئ پڑھنے کی چیز ہے۔ یہ تو صرف اس وقت استعمال کرتے ہیں جب کسی لفظ کا مطلب نہ سمجھ میں آرہا ہو۔ لیکن میرے لئے لغت چہار اطراف پھیلی کائنات کی طرح ہے۔ میں اسے بہت دیرتک پڑھ کر بھی بور نہیں ہوتی۔
لفظ پڑھنا تو میری عادت ہے
تیرا چہرہ کتاب سا کیوں ہے
میں اس میں اتنی ترمیم چاہتی ہوں کہ تیرا چہرہ لغات سا کیوں ہے۔ ابھی ابھی مجھے یہ جان کر خوشی ہوئ کہ لاطینی امریکہ کے نوبل انعام یافتہ ادیب گبرئیل گارسیا مارقیس بھی ہر صبح اٹھ کر لغت کےدو تین صفحے پڑھتے تھے۔ یقین آگیا کہ دنیا کے عظیم دماغ ایک طرح سوچتے ہیں۔ اسی یقین پر میں بلاشبہ اگلے تیس سال آرام سے لکھ سکتی ہوں۔
اور آج اس یقین کا پہلا دن ہے۔
گبرئیل گارسیا نے یونیورسٹی میں قانون اور صحافت میں تعلیم حاصل کی۔ صحافی کی حیثیت سے خاصہ کام کیا۔ لیکن انکی وجہ ء شہرت انکی وہ تحریریں بنیں جن کا تعلق فکشن سے ہے۔ تنہائ کے سو سال اور ہیضے کے دنوں میں محبت انکے دو مشہور ناول ہیں۔ جس میں سے انکے ناول تنہائ کے سو سال کو نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ اس ناول کے اردو میں تراجم ہو چکے ہیں۔ناقدین کی نظر میں زینت حسام کا کیا گیا ترجمہ اصل سے زیادہ قریب ہے۔ اتفاق سے مجھے ان میں سے کوئ ترجمہ پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا۔ میں نے اسکا انگریزی ترجمہ پڑھا ہے۔
انکے کام سے قطع نظر میں اس وقت ان سے منسوب ایک ایسی نظم پیش کرنا چاہ رہی تھی جو انکے نام سےلاطینی امریکہ کے اخباروں میں چھپی۔ بعد میں یہ بات ثابت ہوئ کہ یہ کسی غیر معروف ادیب کی نظم ہے۔ مارقیس نے اسکے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ نظم کا عنوان ہے۔
کٹھ پتلا
اگر ایک لمحے کے لئے خدا یہ بھول جائے کہ میں کپڑے اور گودڑ کی گڑیا ہوں اور مجھے زندگی کی ایک رمق دے دے تو شاید میں وہ سب نہ کہہ سکوں جو میں سوچتا ہوں، مگر میں جو کہتا ہوں یقیناً سوچ کر کہوں گا۔
میں چیزوں کی قدر اس لئے نہیں کرونگا کہ انکی قیمت کیا ہے، بلکہ اس لئے کہ ان کے معنی کیا ہیں۔
میں کم سوءونگا، خواب زیادہ دیکھوں گا۔ مجھے معلوم ہےکہ ہم ایک منٹ کے لئے بھی آنکھیں بند کرتے ہیں تو روشنی کے ساٹھ سیکنڈ سے محروم ہوجاتے ہیں۔
میں سنوں گا جب دوسرے بولیں گے اور میں عمدہ چوکلیٹ آئس کریم کا کس طرح مزہ لوں گا۔
اگر خدا مجھے زندگی کی ایک رمق بخش دے تو میں سادہ کپڑے پہنوں گا، اپنے آپ کو سورج کے سامنے ڈھیر کر دوں گا، صرف اپنے بدن کو نہیں روح کو بھی کشادہ کروں گا۔
میرے خدا، اگر میرا دل ہوتا تو میں برف پر اپنی نفرت تحریر کر کے سورج نکلنے کا انتظار کرتا۔
وان گاف کے خواب کے ساتھ میں ستاروں پر بینڈیٹی کی ایک نظم مصور کر دیتا اور سیراٹ کا گیت چاند کے لئے رومانی نغمہ ہوتا۔
اپنے آنسوءوں سے میں گلابوں کو پانی دیتا، انکے کانٹوں کا درد محسوس کرتا اور انکی پنکھڑیوں کے مجسم بوسے------میرے خدا اگر میرے پاس زندگی کی بس ایک رمق ہوتی---۔
میں کوئ دن ایسا نہ جانے دیتا جس میں ان لوگوں سے جن سے مجھے محبت ہے، یہ نہ کہتا کہ مجھے ان سے محبت ہے۔
میں ہر عورت اور مرد کو یہ باور کراتا کہ وہی میرے سب سے پسندیدہ لوگ ہیں اور میں عشق کے عشق میں مبتلا ہو کر زندہ رہتا۔
میں مردوں پر یہ ثابت کر دیتا کہ انکا یہ خیال کسقدر غلط ہے کہ وہ بوڑھے ہونے کے ساتھ محبت میں گرفتار نہیں ہو سکتے-----یہ جانے بغیر کہ وہ بوڑھے جبھی ہوتے ہیں جب محبت میں گرفتار ہونا بند کردیتے ہیں۔
ایک ایک بچے کو میں پروں کا تحفہ دیتا مگر انہیں اڑنا خود سیکھنے کے لئے چھوڑ دیتا۔ بوڑھیوں کو میں سکھاتا کہ موت بڑھاپے سے نہیں بلکہ بھول جانے سے آتی ہے۔ میں نے اتنا کچھ سیکھا ہے تم لوگوں سے-----
میں نے یہ سیکھا ہے کہ ہر ایک پہاڑ پر چوٹی پر رہنا چاہتا ہے، یہ محسوس کیے بغیر کہ سچی خوشی اس راستے سے آتی ہے جس سے ہم اونچائ پر چڑھتے ہیں۔
میں نے یہ سیکھا ہے کہ جب ایک نو مولود بچہ اپنے باپ کی انگلی کو اپنی ننھی منی مٹھی میں دباتا ہے تو اسے ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیتا ہے۔
میں نے یہ سیکھا ہےکہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو بلندی سے اسی وقت دیکھنے کا حق رکھتا ہے جب کھڑے ہونے میں اسکی مدد کر رہا ہو۔ میں نے اتنی بہت سی باتیں سیکھی ہیں تم لوگوں سے مگر انجام کار ان میں سے زیادہ تر باتیں میرے کسی کام نہ آئیں گی اسلئے کہ جب وہ مجھے اس سوٹ کیس میں رکھ رہے ہونگے تو بد قسمتی سے میں مر رہا ہوں گا۔
یہ ترجمہ غالباً آصف فرخی نے کیا ہے کیونکہ اس پر انکا نام نہیں لکھا ہے۔ میں نے اسے انکی زیر ادارت چھپنے والے پرچے دنیا زاد کی دوسری کتاب سے لیا ہے۔ آصف فرخی اردو ادب کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اپنی ادبی خدمات کے سلسلے میں تمغہ ء امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔
آصف فرخی
گبرئیل گارسیا مارقیس
نوٹ؛ جاوید گوندل صاحب کی توجہ دلانے پر گبرئیل گارسیا مارقیس کے نام کا تلفظ صحیح کر دیا گیا ہے۔
لفظ پڑھنا تو میری عادت ہے
تیرا چہرہ کتاب سا کیوں ہے
میں اس میں اتنی ترمیم چاہتی ہوں کہ تیرا چہرہ لغات سا کیوں ہے۔ ابھی ابھی مجھے یہ جان کر خوشی ہوئ کہ لاطینی امریکہ کے نوبل انعام یافتہ ادیب گبرئیل گارسیا مارقیس بھی ہر صبح اٹھ کر لغت کےدو تین صفحے پڑھتے تھے۔ یقین آگیا کہ دنیا کے عظیم دماغ ایک طرح سوچتے ہیں۔ اسی یقین پر میں بلاشبہ اگلے تیس سال آرام سے لکھ سکتی ہوں۔
اور آج اس یقین کا پہلا دن ہے۔
گبرئیل گارسیا نے یونیورسٹی میں قانون اور صحافت میں تعلیم حاصل کی۔ صحافی کی حیثیت سے خاصہ کام کیا۔ لیکن انکی وجہ ء شہرت انکی وہ تحریریں بنیں جن کا تعلق فکشن سے ہے۔ تنہائ کے سو سال اور ہیضے کے دنوں میں محبت انکے دو مشہور ناول ہیں۔ جس میں سے انکے ناول تنہائ کے سو سال کو نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔ اس ناول کے اردو میں تراجم ہو چکے ہیں۔ناقدین کی نظر میں زینت حسام کا کیا گیا ترجمہ اصل سے زیادہ قریب ہے۔ اتفاق سے مجھے ان میں سے کوئ ترجمہ پڑھنے کا موقعہ نہیں ملا۔ میں نے اسکا انگریزی ترجمہ پڑھا ہے۔
انکے کام سے قطع نظر میں اس وقت ان سے منسوب ایک ایسی نظم پیش کرنا چاہ رہی تھی جو انکے نام سےلاطینی امریکہ کے اخباروں میں چھپی۔ بعد میں یہ بات ثابت ہوئ کہ یہ کسی غیر معروف ادیب کی نظم ہے۔ مارقیس نے اسکے بارے میں خاموشی اختیار کی۔ نظم کا عنوان ہے۔
کٹھ پتلا
اگر ایک لمحے کے لئے خدا یہ بھول جائے کہ میں کپڑے اور گودڑ کی گڑیا ہوں اور مجھے زندگی کی ایک رمق دے دے تو شاید میں وہ سب نہ کہہ سکوں جو میں سوچتا ہوں، مگر میں جو کہتا ہوں یقیناً سوچ کر کہوں گا۔
میں چیزوں کی قدر اس لئے نہیں کرونگا کہ انکی قیمت کیا ہے، بلکہ اس لئے کہ ان کے معنی کیا ہیں۔
میں کم سوءونگا، خواب زیادہ دیکھوں گا۔ مجھے معلوم ہےکہ ہم ایک منٹ کے لئے بھی آنکھیں بند کرتے ہیں تو روشنی کے ساٹھ سیکنڈ سے محروم ہوجاتے ہیں۔
میں سنوں گا جب دوسرے بولیں گے اور میں عمدہ چوکلیٹ آئس کریم کا کس طرح مزہ لوں گا۔
اگر خدا مجھے زندگی کی ایک رمق بخش دے تو میں سادہ کپڑے پہنوں گا، اپنے آپ کو سورج کے سامنے ڈھیر کر دوں گا، صرف اپنے بدن کو نہیں روح کو بھی کشادہ کروں گا۔
میرے خدا، اگر میرا دل ہوتا تو میں برف پر اپنی نفرت تحریر کر کے سورج نکلنے کا انتظار کرتا۔
وان گاف کے خواب کے ساتھ میں ستاروں پر بینڈیٹی کی ایک نظم مصور کر دیتا اور سیراٹ کا گیت چاند کے لئے رومانی نغمہ ہوتا۔
اپنے آنسوءوں سے میں گلابوں کو پانی دیتا، انکے کانٹوں کا درد محسوس کرتا اور انکی پنکھڑیوں کے مجسم بوسے------میرے خدا اگر میرے پاس زندگی کی بس ایک رمق ہوتی---۔
میں کوئ دن ایسا نہ جانے دیتا جس میں ان لوگوں سے جن سے مجھے محبت ہے، یہ نہ کہتا کہ مجھے ان سے محبت ہے۔
میں ہر عورت اور مرد کو یہ باور کراتا کہ وہی میرے سب سے پسندیدہ لوگ ہیں اور میں عشق کے عشق میں مبتلا ہو کر زندہ رہتا۔
میں مردوں پر یہ ثابت کر دیتا کہ انکا یہ خیال کسقدر غلط ہے کہ وہ بوڑھے ہونے کے ساتھ محبت میں گرفتار نہیں ہو سکتے-----یہ جانے بغیر کہ وہ بوڑھے جبھی ہوتے ہیں جب محبت میں گرفتار ہونا بند کردیتے ہیں۔
ایک ایک بچے کو میں پروں کا تحفہ دیتا مگر انہیں اڑنا خود سیکھنے کے لئے چھوڑ دیتا۔ بوڑھیوں کو میں سکھاتا کہ موت بڑھاپے سے نہیں بلکہ بھول جانے سے آتی ہے۔ میں نے اتنا کچھ سیکھا ہے تم لوگوں سے-----
میں نے یہ سیکھا ہے کہ ہر ایک پہاڑ پر چوٹی پر رہنا چاہتا ہے، یہ محسوس کیے بغیر کہ سچی خوشی اس راستے سے آتی ہے جس سے ہم اونچائ پر چڑھتے ہیں۔
میں نے یہ سیکھا ہے کہ جب ایک نو مولود بچہ اپنے باپ کی انگلی کو اپنی ننھی منی مٹھی میں دباتا ہے تو اسے ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیتا ہے۔
میں نے یہ سیکھا ہےکہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو بلندی سے اسی وقت دیکھنے کا حق رکھتا ہے جب کھڑے ہونے میں اسکی مدد کر رہا ہو۔ میں نے اتنی بہت سی باتیں سیکھی ہیں تم لوگوں سے مگر انجام کار ان میں سے زیادہ تر باتیں میرے کسی کام نہ آئیں گی اسلئے کہ جب وہ مجھے اس سوٹ کیس میں رکھ رہے ہونگے تو بد قسمتی سے میں مر رہا ہوں گا۔
یہ ترجمہ غالباً آصف فرخی نے کیا ہے کیونکہ اس پر انکا نام نہیں لکھا ہے۔ میں نے اسے انکی زیر ادارت چھپنے والے پرچے دنیا زاد کی دوسری کتاب سے لیا ہے۔ آصف فرخی اردو ادب کی دنیا میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اپنی ادبی خدمات کے سلسلے میں تمغہ ء امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔
آصف فرخی
گبرئیل گارسیا مارقیس
نوٹ؛ جاوید گوندل صاحب کی توجہ دلانے پر گبرئیل گارسیا مارقیس کے نام کا تلفظ صحیح کر دیا گیا ہے۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)