Showing posts with label ٹورنٹو. Show all posts
Showing posts with label ٹورنٹو. Show all posts

Sunday, September 25, 2011

قصہ ایک گرم دن کا

ابھی ہمیں وہاں پہنچے کچھ دن  ہوئے تھے کہ ٹورنٹو میں ایسی گرمی پڑی کہ کہ ڈاءون ٹاءون یعنی وہاں کا آئ آئ چندریگر روڈ سنسان ہو گیا۔ نہ بندہ نہ بندے کی ذات۔ یہ سناٹا اس خوف کی وجہ سے تھا جو وہاں کے محکمہء موسمیات نے پھیلایا تھا۔ اس میں چنداں حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ وہاں یہ کام محکمہ ء موسمیات کرتا ہے۔  نہ معلوم کیوں وہاں کے محکمہء موسمیات کی موسم کے بارے میں خبریں ایک دم درست نکل آتی ہیں۔ لگتا ہے کوئ بڑا پہنچا ہوا پیر پکڑ رکھا ہے انہوں نے۔
خوف کے طاری ہونے کی وجہ یہ  ہے کہ مسلسل آسائیشوں میں رہنے  اور خوف سے پاک زندگی گذارنے کی وجہ سے ان مغربی ممالک کے لوگوں کے دل بہت چھوٹے اور ہمت بچپن سے ہی بوڑھی ہوتی ہے۔ جب شاہینوں کے بجائے ممولے پیدا ہوں تو یہی ہوا کرتا ہے۔ کندن تو بھٹی میں تپنے کے بعد ہی بنتا ہے۔ جبکہ یہاں لوگوں کی اکثریت مر کر ہی بھٹی کا منہ دیکھ پاتی ہے۔ اس حالت میں جب تمام اعضاء جواب دے چکے ہوتے ہیں۔ یہ دیکھنا بھی کوئ دیکھنا ہے۔
لیکن رکئِے، ہمارا شاعر کہتا  ہے کہ ہو دید کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر، ہے دیکھنا یہی کہ نہ دیکھا کرے کوئ۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں آج تک کوئ ایسی بیسٹ سیلر بک نہیں دیکھی جو مرنے کے بعد لکھی گئ ہو۔ اس کا اعزاز بھی صرف ہمیں حاصل ہوا کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا جیسی تہلکہ آمیز کتاب ہمارے ہی لوگوں نے پیش کی۔ مغرب دیکھ لے روحانیت میں کون بڑھا ہوا ہے وہ کہ ہم۔
اپنے فخر کے قصے دوہرانے کو کئ نسلیں باقی ہیں، اس لئےمیں خلاف طبیعت قصہ مختصر کرتی ہوں۔ ایک ایسی گرمی میں جبکہ ٹورنٹو میں چیلیں تک اپنے گھونسلوں میں ایئر کنڈیشنڈ لگوا چکی تھیں کہ کینیڈا میں بجلی کی بڑی فراوانی ہے اسکی بہتات کی وجہ سے کئ بجلی پیدا کرنے والے اسٹیشنز بند پڑے ہوئے ہیں۔ جب شام کو لُو چلنا بند ہوئ۔ میں نے کچن کا کچرا سمیٹا اور اسے گھر کے باہر موجود ڈرم میں ڈالنے کے لئے آئ۔ 
ان ڈرمز میں پورے ہفتے کچرا جمع کرنا پڑتا ہے۔  کھانے پینے کی چیزیں ایک  الگ ڈرم میں اور کاغذ گلاس قماش کی چیزیں دوسرے ڈرم میں۔ ہر علاقے کی ایک تاریخ ہوتی ہے اس تاریخ کو وہاں سے کچرا اٹھایا جاتا ہے۔ مکینوں کو یہ کچرے کا ڈرم روڈ کے ساتھ فٹ پاتھ پہ رکھنا ہوتا ہے تاکہ کوڑا اٹھانے والا ٹرک بآسانی اسے اٹھا لے۔ مایا کے تین روپ جبکہ کاہلی کے سو روپ ہوتے ہیں جو ایسے ہی ترقی یافتہ ممالک میں نظر آتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے اوپر کام کا زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈال کر انتظامیہ آرام سے پڑی مکھیاں مارتی ہیں اور مکھیاں مارنے میں اپنی ان کوششوں کو بیان کرنے سے نہیں چوکتی۔ ڈھٹائ کی بھی حد ہوتی ہے۔ مگرنہیں صاحب، یہاں  بے حیائ ہی نہیں ڈھٹائ کی بھی ساری حدیں پار ہو چکی ہیں۔ اسی لئے تو کمبخت مارے اپنا ویزہ آسانی سے نہیں دیتے کہ ہماری ساری پول پٹی کھل کر دنیا کے سامنے آجائے گی۔
اچھا انکی غیبت ایک طرف۔ میں نے پہلا ڈرم کھولا تو اس میں کاغذ  اور گتے موجود تھے۔ سوچا اسی میں ڈالدوں۔ کاہل قوم کچھ تو کیا کرے اور کچھ نہیں تو کھانے پینے کی چیزوں سے کاغذ، گتے اور ٹن الگ کیا کرے۔ پھر ان بھتّوں کا خیال آِیا جو ایسی تمام سبز سوچوں پہ پابندی لگانے کے لئے موجود ہیں انہیں یہاں فائن کہتے ہیں۔ سو دوسرے ڈرم کو کھولا اور ابھی اس میں ڈالنے کا قصد کیا ہی تھا کہ اعصاب منعکسہ نے ایک زور کا جھٹکا دیا اور ہاتھ کیا میں خود ایک فٹ پیچھے ہٹ گئ۔ ڈرم میں تو کوئ عجیب ساجانور دبک کر بیٹھا ہوا تھا۔


یہاں گلہریاں بڑی چھلانگیں لگاتی پھرتی ہیں وہ بھی خوب بڑی بڑی۔ لیکن یہ جانور گلہری سے بڑا تھا۔ بلی یہ ہو نہیں سکتی کیونکہ یہاں بلی اور کتے  کو وہ آزادی نہیں جو ہم نے انہیں دے رکھی ہے۔ بعضے حاسدی تو کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں ایوان حکومت تک میں بٹھا رکھا ہے۔ ویسے یہ قومیں ان جانوروں سے محبت کے بڑے دعوے کرتی ہیں۔ اب کیا کہیں ایسے کھُلے جھوٹ پہ تو تُف بھیجنے کو بھی دل نہیں چاہتا۔
اچھا تو وہ جانور بلی بھی نہیں تھا، پھر دھیان آیا کہ رات ہی کوئ بتا رہا تھا کہ جلا ہوئے پزا  ڈرم کے اوپر رکھ دیں یہاں ایک رکون آتا ہے رات کو وہ کھالے گا۔ یہ رکون تھا اور اسی چکر میں آیا، اس کا شاید توازن خراب ہوا اور وہ اس میں گر گیا۔ ڈرم خاصہ بڑا تھا اس لئے وہ باہر نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے کینیڈا میں بیٹھ کر اپنی سازشی فطرت کو تسکین دینے کے لئے  پوری پاکستانی ذہانت اس واقعے کو سمجھنے میں لگائ۔ امریکہ کا ہاتھ اس میں ہو تو ہو طالبان کا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس واقعے میں نہ اب تک کوئ مرا نہ اسکی ذمہ داری انہوں نے لی ۔ امریکہ کے پڑوس میں رہتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات کو کچلا تو ہمیں صرف ایک ہی بات سمجھ میں آئ کہ رکون کو ان حالات سے نبٹنے کی تربیت کما حقہ نہیں دی گئ۔ 
اس سے اچھے تو ہمارے آزاد کتے بلیاں ہیں۔ ایسی تربیت ہے کہ اول تو دن کے وقت روڈ کراس نہیں کرتے رات کو کرتے ہیں۔ اور رات کو بھی خاصی احتیاط سے کام لیتے ہیں یوں وہ بھی اسی رفتار سے بڑھ رہے ہیں جس رفتار سے ہم۔ سڑک پہ ہفتہ دس دن میں کسی بلی یا کتے کی سو بار کی کچلی لاش نظر آئے تو ہم اسے ایکسیڈنٹ کہتے ہیں۔ حادثہ نہیں۔ حادثے کی پرورش میں وقت برسوں لگاتا ہے جبکہ ایکسیڈنٹ فی الفور ہو جاتا ہے۔ یہاں کیمسٹری کا ایک قانون یاد آرہا ہے۔ لیکن ہم اسے نظر انداز کرتے ہیں۔ رکون کی تربیت کیمسٹری پڑھانے سے نہیں شروع ہو سکتی۔
ہم نے فوراً گھر کے اندر داخل ہو کر ڈرم میں رکون کی موجودگی کا اسی طرح اعلان کیا جس طرح مسجد سے  گمشدہ بچہ ملنے کی اطلاع دی جاتی ہے یعنی گلا پھاڑ کر۔ اندر موجود، پہلے کے پاکستانی اور اب کے کینیڈیئنز میں ایک سراسیمگی پھیل گئ۔ اب کیا ہوگا؟
اب تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ خمار گندم ہی نہیں ہوتا ہر جگہ کی گندم کے اور بھی اثرات ہوتے ہیں جو طبیعتوں پہ انداز ہوتے ہیں اور اس ادا سے کہ گویا ہمیشہ سے ایسے ہی تھے۔ دروازہ بند کر دیا آپ نے، رکون جارحیت پسند ہوتے ہیں؟ خاتون خانہ نے ہمیں  اطلاع دی یعنی کہ ایک پاکستانی کو۔ اسے ہم نے اپنے اوپر یعنی پاکستان پہ حملہ سمجھا۔   'ڈرم کا دروازہ؟ نہیں کیا، رکون بہت بد حال ہو رہا  تھا، میرا تو خیال ہے کی چالیس ڈگری میں ڈرم کے اندر بیک ہو چکا ہے اس نے توایک مسکین سی نظر کی یہ بتانے کو کہ وہ زندہ ہے اور دوبارہ منہ دبا لیا'۔ ہو سکتا ہے کہ اپنے سامنے ایک پاکستانی جارح کو دیکھ کراسکا  یہ حشر ہوا ہو۔ کیونکہ صحیح بات تو یہ ہے کہ رکون کو اپنا سبز پاسپورٹ دکھانے کا ہمیں ذرا خیال تک نہیں آیا تھا۔
نہیں گھر کا دروازہ؟ 'گھر کا دروازہ، کیوں نہ کھلا چھوڑ دیں ہمیں معلوم ہے اس وقت رکون امریکہ بنا ہوا ہے۔ اس کے پاس نہ طاقت ہے نہ وقت  کہ وہ کھلے دروازوں کو جھانکنے کی زحمت کرے۔ قیامت،  سمجھتی ہیں آپ، قیامت کا دن۔ آج ٹورنٹو میں اڑتیس ڈگری درجہ ء حرارت تھا وہ بھی اڑتالیس سال کے بعد۔ اور آج ہر کینیڈیئن نے جو ٹورنٹو میں رہتا ہے کم از کم اڑتیس دفعہ یہ جملہ کہا ہوگا، کتنی گرمی ہے، اٹس ٹو ہاٹ۔ یہ ہے تو اڑتیس ڈگری لیکن محکمہ ء موسمیات نے کہا ہے کہ مرطوب نہ ہونے کی وجہ اڑتالیس ڈگری محسوس ہو گا'۔ میں نے ایک کراچی والے نے اس میں جتنی حقارت ڈال سکتا تھا ڈال کر کہا۔ 
ہم نے آج تک گرمی کو یا تو درجہ ء حرارت میں ناپا یا محسوس کیا۔ کبھی بیان کوبڑھاوا دینے کے لئے ان دونوں کا اختلاط نہیں کروایا۔ ہمیشہ ہر سال تاریخی گرمیوں سے نبٹنے کے بعد ہم نے فخر کیا کہ دیکھا اسے بھی گذار آئے۔ یہ نہیں کہ پہلے سے بے سدھ پڑ گئے محکمہ ء موسمیات پہ۔
طے یہ پایا کہ صاحب خانہ کے آنے کا انتظار کیا جائے۔ اگر اس وقت تک رکون نکلنے میں کامیاب نہ ہوا تو صاحب خانہ کو معلوم ہے کہ گھر میں ایک بڑا ڈنڈا کہاں ہے وہ اس سے ڈرم کو ٹیڑھا کر دیں گے اور اس طرح رکون کے بھاگنے کی کچھ سبیل پیدا ہو گی۔
کچھ منٹ گذرے ہونگے کہ وہ آگئے۔ ڈرم ٹیڑھا ہوا اور رکون اس میں سے اس طرح نکل بھاگا کہ تمام تماشائ یہ منظر دیکھنے کی کوشش ہی کرتے رہ گئے۔
گھر میں کچھ سکون ہوا۔ پورے ٹورنٹو میں یہ واحد گھر تھا جہان ایک دن میں دو مصیبتیں نازل ہوئیں۔ ایک گرمی اور دوسرے رکون۔
اب ہم جادو ٹی و ی پہ بیٹھے وطن عزیز میں اینکرز کی پھیلائ گرمی کا زور دیکھ رہے تھے کہ ایک عزیزہ کی آمد ہوئ۔ بچوں نے انہیں دروازے پہ ہی آج کے دلچسپ قصے کی رننگ کمنٹری سنا ڈالی۔ جائے ایکسیڈنٹ کا معائینہ بھی کر وا ڈالا۔ واقعات کی ترتیب اور گہرائ کو جان کر جب وہ گھر میں داخل ہوئ تو پھٹ پڑیں۔
یہ آپ لوگوں نے کیا کیا؟ رکون کو بھگا دیا؟ تو پھر ہم کیا کرتے؟ میں نے انہیں سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ '۹۱۱ پہ اطلاع کرتے ناں اور ٹی وی والوں کو فون کر دیتے۔ وہ آتے اس سارے واقعے کی فوٹیج بنتی اور اس وقت ہم یہ جادو دیکھنے کے بجائے' انہوں نے  ٹی وی پہ نظر آنے والے پاکستانی چہروں کو بغض سے دیکھتے ہوئے کہا۔ 'ہم اس وقت ٹی وی پہ اپنی فوٹیج دیکھ رہے ہوتے ۔ ہم کیا اس وقت پورا ٹورنٹو اسے دیکھ رہا ہوتا کہ ہم نے کس ذمہ داری سے ایک رکون کی جان بچائ. لوکل میڈیا پہ تاریخی گرمی کے بعد یہ دوسری سب سے بڑی خبر ہوتی جو مسلسل دوہرائ جارہی ہوتی'۔
ہاں، ہم نے سوچا بات تو ٹھیک ہے۔ اس رکون کو تو اب تک یاد بھی نہ ہوگا کہ کہ ہم نے اسکی جان بچائ۔ رکون تو رکون ہاتھی بھی ایسی انسانی نوازشیں یاد نہیں رکھتا جبکہ کہتے ہیں کہ ہاتھی کی یادداشت بڑی اچھی ہوتی ہے۔ ہمارے سیاستداں تک یاد نہیں رکھتے کہ کون انہیں مسند اقتدار پہ لے کر آیا۔ یہ فوٹیج بنتی تو کم از کم لوگوں کو تو یاد رہتا، کینیڈا کے لوگوں کو۔
پھر یہاں وطن میں چینلز کی بھرمار ہے مگر آج تک کسی پہ بھولے سے بھی ہماری باری نہیں آئ۔ مرنے والوں کی ہی باری آتی ہے یا مارنے والوں کی ہم چونکہ کسی میں شامل نہیں اس لئے محروم ہیں۔ آنکھ ایک نہیں کجلوٹیاں نو نو۔
لیکن عین اسی لمحے ہمیں کینیڈیئن میڈیا کی غربت اور عسرت پہ افسوس ہوا۔ انکے نظام  اور سیاستدانوں کی کاہلی  اور عاقبت نا اندیشی پہ حیرت بھی ہوئ۔ میڈیا، ریاست کے پانچویں ستون کو انہوں نے رکونزکے متعلق خبریں بنانے پہ لگایا ہوا ہے۔ چھی چھی۔ استغفراللہ۔
ان سے تو ہم ہی اچھے انسانوں  کو انسانوں کے پیچھے اور حیوانوں کو حیوانوں کے پیچھے ہی لگایا ہوا ہے کبھی کبھی حیوان انسان کے پیچھے لگ جاتے ہیں۔ تو یہ انکا پاگل پن ہوتا ہے میرا مطلب انسان کا کہ وہ حیوان کے سامنے آتا کیوں ہے۔ لیکن کیا  کبھی ایسا سنا کہ انسان حیوان کے پیچھے۔ ایک انسان کی یہ تذلیل صرف انہی ملکوں میں ممکن ہے۔ بس یہ سر زمین ایسے ہی اوٹ پٹانگ واقعات کی زمین ہے اس لئے لوگ کہتے ہیں کہ ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے۔   

Wednesday, August 24, 2011

تکلف بر طرف

کراچی میں حالات اتنے خراب ہیں۔ میں اپنے شوہر صاحب سے  بات کرنا چاہ رہی تھی مگر رابطہ نہ ہو سکا۔ انہیں ای میلز بھیجیں ، جواب ندارد۔ دو دن بعد تنگ آکر  دوبارہ انہیں فون کیا۔
یہاں کینیڈا کی وسعت اتنی ہے کہ ایک ملک میں کئ ٹائم زون ہیں۔ پہلے ہم ٹورنٹو میں تھے تو ٹائم زون الگ تھا۔ جب ہم سسکاچوین پہنچے تو ٹائم زون تبدیل ہو گیا۔ یہ ٹورنٹو سے دو گھنٹے پیچھے ہے۔ جب میں نے فون کیا تو اس وقت یہاں اگرچہ عین دو پہر کا وقت تھا مگر کراچی میں رات کا ایک بج رہا تھا۔
موصوف نے فون اٹھایا تو آواز سے لگ رہا تھا کہ سوتے ہوئے اٹھے ہیں۔ خیریت کے چند جملوں کے بعد میں نے فون بند کر دیا۔  میزبان پاکستانی خاتون وہیں موجود تھیں۔ کہنے لگیں بڑی جلدی بند کر دیا آپ نے۔ میں نے کہا ہاں، جب میں نے ان سے کہا کہ آپ نے تین دن سے پریشان کیا ہوا ہے۔ ادھر شہر کے حالات اتنے خراب ہیں۔ کم از کم انٹر نیٹ تو جاری حالت میں رکھیں۔ فرمانے لگے، انٹر نیٹ کی لائن خراب ہے۔  آپ نے مجھے رات کو ایک بجے نیند سے جگا کر پریشان کر دیا۔ بس میں نے انکی نیند کا خیال کرتے ہوئے خدا حافظ کر دیا۔
میری میزبان خاتون کہنے لگیں۔ یہ آپ دونوں ایکدوسرے سے کچھ زیادہ ریزروڈ نہیں رہتے۔ میں نے حیران ہو کر انکی طرف دیکھا۔ آپکو یہ شبہ کیوں ہوا؟  جواب ملا، کیونکہ آپ دونوں ایکدوسرے سے آپ کر کے بات کرتے ہیں۔ لیکن اس سے یہ نتیجہ کیسے نکل سکتا ہے؟ میں نے حیرانی سے دریافت کیا۔
دیکھیں ناں، میں اپنے شوہر کو آپ کہتی ہوں اور وہ مجھے تم کہتے ہیں۔ لیکن آپ دونوں ایکدوسرے کو آپ کہتے ہیں۔ اوہ، مجھے ہنسی آئ۔ ہم نے اپنی شادی کی ابتداء میں کچھ چیزیں طے کی تھیں۔ مثلاً یہ کہ ایکدوسرے کو بہتر ین  اور برابر کے طریقے پہ مخاطب کریں گے اور یہ کہ ایکدوسرے کو ایکدوسرے کے خاندان کے طعنے نہیں دیں گے اور نہ اپنے رشتے داروں کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑائیاں کریں گے۔ ہمیں جب بھی لڑنے کی خواہش ہوئ تو اپنے زور بازو پہ لڑیں گے۔  بس اس وجہ سے لڑنے کی نوبت نہیں آ سکی۔
اب انہیں لازماً ایک اور سوال کرنا چاہئیے تھا کہ پھر آپ دونوں ایکدوسرے سے کیا باتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح تو ثابت ہوتا ہے کہ آپ لوگ ایک دوسرے سے کافی ریزروڈ ہونگے۔ کیونکہ ایک  مشاہدہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے درمیان زیادہ گہرا رشتہ اور تعلق ہوتا ہے جنکے درمیان کی جانے والی غیبت کسی مشترکہ شخص کے بارے میں ہو۔ اپنے اس مشاہدے سے میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
اگر بات سمجھ نہیں آ رہی ہو تو آزما لیجئیے۔ کوئ شخص، جس سے آپکے تعلقات بس یونہی سے چل رہے ہوں۔ اسکے ساتھ کسی دن گپ شپ کریں اور جان بوجھ کر کسی ایسے شخص کی برائیاں شروع کر دیں جو اسے نا پسند ہو۔ بس چند دنوں میں ہی اسکے اور آپکے درمیان تکلفات کی بڑی دیواریں گر جائِں گی۔
 یہ بھی ایک عام سا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں اکثر شوہر حضرات اپنی بیویوں کو تم کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جبکہ بیویاں اپنے شوہروں کو آپ کہتی ہیں یا کسی احترام کے نام سے مخاطب کرتی ہیں مثلاً شوہر اگر پی ایچ ڈی ہے یا طب سے تعلق رکھتا ہے تو ڈاکٹر صاحب، انجینیئر ہے تو انجینیئر صاحب جیلر ہے تو جیلر صاحب۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ شوہر کی طرف سے زیادہ قربت اور محبت کی وجہ سے ہے یا بیوی کی طرف سے جھجھک ہے  یا  روایت اور رواج یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف نئ نسل کے بیشتر شادی شدہ جوڑے ایسے بھی ہیں۔ جو ایکدوسرے کو تم سے مخاطب کرتے ہوئے بھی ملتے ہیں۔ کیا یہ انکے درمیاں زیادہ قربت کی نشانی ہے۔ ہمم شاید نہیں، کیونکہ لڑتے ہوئے بھی وہ ایکدوسرے کو تم ہی کہتے ہیں بلکہ بعض دفعہ حقارت کے لئے تو سے بھی مخاطب کرتے ہیں۔
میاں بیوی سے ہٹ کر آجکل میں دیکھتی ہوں کہ ہم عمر ٹین ایجر دوست چاہے لڑکے ہوں یا لڑکیاں جب اپنی قربت کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو ایکدوسرے کو تُو سے مخاطب کر کے بڑا خوش ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات تو بے تکلفی میں گالیاں بھی استعمال ہوتی ہیں کہ جیسے گالیاں چاٹ مصالحہ ہیں۔ اور یوں وہ زمانے گئے جب شاعر اپنے محبوب سے شکوہ کرتا نظر اتا تھا کہ یوں ہر بات پہ کہتے ہو کہ تو کیا ہے، تمہی کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے۔ آج کا شاعر مسکراتا ہے اور بتاتا ہے کہ پہلے آپ پھر تم ہوئے پھر تُو کا عنواں ہو گئے۔ 
سو، کیا انداز تخاطب سے لوگوں کے درمیان تعلقات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یا یہ طرز معاشرت اور انسان کے ماحولیاتی رکھ رکھاءو کو ظاہر کرتا ہے۔ ایکدوسرے کو اچھے الفاظ سے مخاطب کرتے ہوئے کیا ہم ایکدوسرے کے قریب نہیں ہو سکتے؟
قومیں آپس میں جب ملتی ہیں تو زبان میں نئے انداز آتے ہیں۔ لیکن زبان کی تہذیب سے ایک قوم کی ذہنی سطح بھی سامنے آتی ہے۔ حضرت علی نے کہا تھا کہ ہر شخص اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے بولو تاکہ پہچانے جاءو۔ جس لمحے ہم بولنا شروع کرتے ہیں چاہے وہ دنیا کا کوئ اعلی ترین موضوع ہو یا گھٹیا ترین۔ ہماری زبان ہمارے پس منظر کو کھول دیتی ہے۔
لیکن اتنی سنجیدہ اور بھاری  بات سے الگ یہاں اصل بات تو یہ پوچھنی تھی کہ کیا ایکدوسرے کو احترام کے الفاظ سے مخاطب کرنے سے اجنبیت پیدا ہوتی ہے، برقرار ہتی ہے  یا بے تکلف الفاظ استعمال کرنے سے قربت جنم لیتی ہے دل کھل جاتے ہیں۔

Sunday, July 31, 2011

جھوٹ بولے کوا کاٹے

رافعہ میری سینیئر کو لیگ ہیں اور دوست بھی۔ جب تک پاکستان میں رہیں  انکی نظریاتی ہمدردی جماعت اسلامی سے رہی۔ چند سال پیشتر وہ ہجرت کر کے کینیڈا آ گئیں۔ گذشتہ دنوں کینیڈا میں ان سے ملاقات ہوئ۔  یہاں بھی وہ اسکارف اور عبایہ پہنتی
ہیں۔ انکی سترہ سالہ اور چودہ سالہ بیٹی بھی سر پہ اسکارف لیتی ہیں۔
یہاں میں جس پاکستانی سے بھی ملتی ہوں اس سے یہ سوال ضرور کرتی ہوں کہ اسے یہاں کیسا لگتا ہے۔ یہی سوال ان سے بھی پوچھا۔ کہنے لگیں جنت کا تصور بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا ہم یہاں حقیقی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ بچوں کو وظیفہ ملتا ہے ہمارے بیشتر اخراجات تو اس سے ہی طے ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ شہریوں کے دیگر حقوق ہیں۔ مثلاً اسکول کی تعلیم مفت ہے۔ مجھے آپنے بچوں کی تعلیم پہ نہیں خرچ کرنا پڑتا۔ یونیورسٹی تعلیم کے لئے حکومت قرضے دیتی ہے۔ روزگار نہ ہو تو وظیفہ ملتا ہے۔ گھر میں کوئ بچہ معذور ہو تو بے شمار رعائیتیں ملتی ہیں۔ فلاحی ریاست کا اگر کوئ تصور ہے تو یہ ریاست اس پہ پوری اترتی ہے۔
ہم کام کرتے ہیں مگر زندگی کی دیگر تفریحات کے لئے وقت ملتا ہے۔ اپنے گھر کے سامنے موجود ہرے بھرے ٹیلے کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا۔ سردی میں اس پہ برف جمی ہوتی ہے میں اور میرے بچے اس پہ اسکیٹنگ کرتے ہیں۔ یہ
گرمی کا موسم ہے آجکل ہم باقاعدگی سے پارک جاتے ہیں مختلف تفریحی مقامات کے لئے رعائیتی پاسز بھی موجود ہیں۔
اب رمضان آنے والا ہے آپکو تو پاکستان اس موقع پہ بڑا یاد آتا ہوگا۔ رمضان منانے کا لطف تو وہاں پہ ہے۔ میں نے پوچھا۔ انکی بچی کہنے لگی نہیں تو یہاں رمضان زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ ہماری بلڈنگ میں کافی مسلمان ہیں۔ رمضان میں ہم افطاری لے کر مسجد چلے جاتے ہیں۔ وہاں دیگر فیملیز کے ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں۔ مسجد میں بھی افطاری کا انتظام ہوتا ہے۔ روزانہ مفت سحری اور افطار ہوتا ہے۔ آخری عشرے میں جاگنے والی راتوں میں محفل شبینہ ہوتا ہے۔ ہم وہیں راتیں
گذارتے ہیں، بڑی رونق رہتی ہے۔
ہاں انہوں نے کہا پاکستان کی ایک چیز بڑی یاد آتی ہے اور وہ رمضان سے پہلے  ، رمضان کی وجہ سے چیزوں کی قمیتوں میں ہوش ربا اضافہ۔ بس یہ یہاں نہیں ہوتا۔  رحمت کی یہ قسم یہاں دستیاب نہیں
پاکستان میں لوگ کہتے ہیں کہ ان مغربی ممالک میں اس وقت تک آپکو قبول نہیں کیا جاتا جب تک آپ ان جیسے نہ ہوجائیں۔ یہاں کینیڈا میں یہ عالم ہے کہ ہجرت کر کے آئے ہوئے مسلمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ یہاں اداروں کی پالیسیز پہ اثر انداز ہونے لگے ہیں۔انکی ایک بچی کے اسکول میں تو پچاس فی صد بچے مسلمان ہیں۔ میں نے اسکے اسکول کے کنووکیشن کی تصویر دیکھی اور ناموں سے اندازہ کیا کہ کون کون مسلمان ہیں۔
اسکول ہی نہیں اکثر ادارے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے وہ اپنی پالیسیز میں تبدیلیاں لائے ہیں۔ کینیڈیئن پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران موجود ہیں۔ کیلگیری کا تو میئر بھی مسلمان ہے۔ اسکے علاوہ کینیڈا میں بچوں کے اسلامی اسکول الگ سے ہیں جہاں یہاں کا منظور شدہ اسکول کا کورس بھی ہے اور ساتھ میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ٹورنٹو میں ان اسلامی اسکولوں کی قابل تذکرہ تعداد موجود ہے۔
اگر صورت حال یہ ہو کہ صرف وہی لوگ رہ پاتے ہوں جو اپنے مذہب اور ثقافت کی قربانی دیتے ہیں تو یہ تبدیلی کیسے ممکن ہے کہ جس جگہ آج سے تیس سال پہلے حلال گوشت ملنا تقریباً نا ممکن تھا وہاں اب یہ بآسانی دستیاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی خواتین اور مرد شلوار قمیض میں عوامی جگہوں پہ نظر آجائیں۔ سو، یہ کہانی سنانے والے یا تو ان علاقوں سے واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ جھوٹ کیوں بولنے پہ مجبور ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
میرے سامنے موجود ایک چھبیس ستائیس سالہ نوجوان نے جو اٹھارہ سال کی عمر میں پاکستان سے کینیڈا پہنچا ،  جب بڑے جذبے سے کہا کہ دنیا میں کوئ ملک کینیڈا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کوئ ایک ایسا ملک ایسا نہیں جہاں اتنی بڑی تعداد میں مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگ اتنی ہم آہنگی سے رہ رہے ہوں۔ میں اسے رد نہیں کر سکی۔ میں نے اس سے پوچھا یہاں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پھر بھی ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی مذہب کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ پھر بھی ایسا ممکن کیوں نہیں ہوا؟ اس فخر سے پاکستان میں رہنے والے کیوں محروم ہیں۔
اس نوجوان نے مجھے ایک جانا پہچانا جواب دیا۔ جو پہچان پہ ہے ناز تو پہچان جائیے۔


canada, pakistan, toronto, islam,  culture, islamic school,religion, ramazan, calgary, extremism,

Friday, July 22, 2011

بلندی سے

محبوب آپکے قدموں میں ہو تو دنیا قدموں کے نیچے لگتی ہے۔ لیکن اس میں کچھ قباحتیں ہیں۔ مثلاً ایک ایسے عامل کامل کی کھوج لگانا جو محبوب کو ان دیکھی بیڑیوں سے باندھ کر آپکے قدموں میں لے آئے۔ لیکن اس سے پہلے یہ کہ خدا نے آپکو اس جگر کے ساتھ پیدا کیا ہوا جس سے رائج الوقت طریقے سے ہٹ کر آپ کسی سیاستداں کے بجائے کسی انسان سے محبت کر سکیں۔
ایسا ہونا مشکل ہے کیونکہ آئینسٹائین کے نظریہ ء اضافیت کی طرح محبت کا بھی ایک نظریہ اضافیت ہے اور وہ یہ کہ اگر آپ کسی سیاستداں کو محبوب بنانے کے سنگین امتحان سے نکل آئیں تو اس بات کے امکانات پیدا ہو جاتے ہیں کہ آپ خود سیاستداں بن جائیں گے۔ محبت اور سیاست میں کیا تعلق ہے یہ جاننا کچھ مشکل نہیں مگر بتانا آسان نہیں۔
اچھا، میں اس پوسٹ میں نہ محبوب کو قدموں میں لانے کے لئے کوئ وظیفہ بتا رہی ہوں اور نہ سیاست میں جائز اور ناجائز کی حدیں مقرر کر رہی ہوں۔ کیونکہ ہر محبوب کی تسخیر کے لئے ایک علیحدہ وظیفہ چاہئیے ہوتا ہے اور سیاست میں جائز اور ناجائز کی حدیں تو بڑے بڑے مفتی مقرر نہ کر سکے۔ چہ پدی چہ پدی کا شوربہ۔
البتہ دنیا قدموں میں لانے کا ایک آسان طریقہ بتا سکتی ہوں۔ اسکے لئے آپکو کینیڈا کے شہر ٹورنٹو آنا پڑے گا۔ اور یہاں موجود سی این ٹاور کے ٹکٹ گھر سے صرف تیس ڈالر یعنی مبلغ ڈھائ ہزار پاکستانی روپوں کا ٹکٹ لینا ہوگا۔ اسکے بعد ٹاور کی بلندی پہ لے جانے والی لفٹ کے لئے ڈیڑھ سے دو گھنٹے قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا۔
بس پھر دنیا آپکے قدموں میں ہوگی۔ کم از کم کچھ وقت کے لئے محسوس یہی ہوگا۔
:)
یہ کچھ مہنگا طریقہ ضرور ہے لیکن جان رکھیں کہ ہر آسان طریقہ مہنگا ضرور ہوتا ہے۔ شوق کا تو کوئ مول نہیں ہوتا۔ ہم بھی دو گھنٹے لائن میں کھڑے رہنے کے بعد اس ٹاور کی بلندی پہ پہنچنے کے قابل ہوئے۔ ٹاور اور بلڈنگ میں ایک معمولی سا فرق ہوتا ہے۔ ٹاور کثیر المنزلہ نہیں ہوتا۔ نہ اس میں آفس ہوتے ہیں نہ اپارٹمنٹس نہ شاپنگ مالز نہ کوئ اور کمرشل سرگرمی۔ تین سال پہلے دنیا کے بلند ترین ٹاور کے عہدے سے ہٹائے جانے والا ٹاور محض چھتیس سال پہلے وجود میں آیا۔
اسکی تعمیر میں تقریباً سوا تین سال لگے۔


اسے ہر سال لاکھوں لوگ اسی طرح قطار میں کھڑے ہو کر اور ٹکٹ لے کر دیکھتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف کینیڈیئن حکومت کو اربوں کی آمدنی ہوتی ہے بلکہ یہ کینیڈا کی ایک پہچان بن گیا ہے۔
کینیڈا کی پہچان بن جانے والے اس ٹاور کو انیس سو پچانوے میں دی امریکن سوسائیٹی آف سول انجینیئرنگ نے جدید دنیا کے سات عجائبات میں شامل کیا۔
کینیڈا کی پہچان بن جانے والے اس ٹاور کی بلندی تقریباً ایک ہزار آٹھ سو پندرہ فیٹ یعنی تقریباً پانچ سو تریپن میٹر ہے۔ یہ ٹاور ریکٹر اسکیل پہ آٹھ اعشاریہ پانچ کے درجے کا زلزلہ برداشت کر سکتا ہے۔ یہ اپنی اصلیت میں ایک ریڈیو ، ٹی وی کمیونیکیشن پلیٹ فارم ٹاور ہے لیکن بنانے والوں نے اسے سیاحت کی نظر سے بھی دیکھا۔ سو، انیس سو چھیئتّرمیں اس پہ آنے والی تعمیری لاگت تریسٹھ ملین کینیڈیئن ڈالر تھی جو کہ اسکی تعمیر کی پندرہ سال کے اندر وصول ہو گئ۔


سیاح اسکی ایک سو سینتالیسویں منزل تک جا سکتے ہیں جو کہ اسکائ پوڈ کہلاتی ہے۔ اوپر جانے کے لئے چھ لفٹس موجود ہیں جن کی بیرونی سطح شیشے کی ہے یوں اوپر جاتے ہوئے باہر کے بدلتے مناظر نظر میں رہتے ہیں۔ لفٹ جب اوپر کی طرف سفر کرتی ہے تو بائیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چند سیکنڈز میں مشاہداتی منزل تک پہنچا دیتی ہے۔ اس دوران اکثر لوگوں کو کانوں سے حلق میں ہلکے ہلکے بلبلے پھٹتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں یا کان میں ہلکا سا دباءو آتا ہے۔ سب سے پہلے مشاہداتی منزل پہ لیجاتے ہیں۔ یہاں دوربینیں لگی ہوئ ہیں جن سے چیزیں زیادہ صاف دکھتی ہیں۔  اس مقام  سے ارد گرد کی بلند عمارتوں کی چھتیں نظر آتی ہیں۔ گاڑیاں کھلونا اور انسان روبوٹ لگتے ہیں

اس سے اوپر اسکائ پوڈ ہے۔ یہاں بھی دائرے میں شیشے کی دیوار بنی ہوئ ہے۔ یہ مشاہداتی سطح سے تینتیس منزلیں اوپر ہے۔ موسم صاف ہو تو ایک سو ساٹھ کلومیٹر تک کا علاقہ دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں نیاگرا آبشار سے اٹھنے والا پانی کا دھواں بھی شامل ہے۔ یہاں کھڑے ہو کر زمین قدموں تلے تھرتھراتی ہوئ محسوس ہوتی ہے۔ اس تھرتھراہٹ میں ایک عجیب سا سرور ہے۔ یوں بلندی پہ پہنچنا آسان سہی لیکن بلندی پہ ٹہرے رہنا آسان نہیں۔
اسکائ پوڈ سے واپس ہوئے تو ایک لفٹ اس سطح پہ لے گئ جسے گلاس فلور کہتے ہیں۔  گلاس فلور زمین سے تین سو بیالیس فیٹ اونچا ہے۔ درحقیقت مجھے اس فرش کو دیکھنے کی خواہش تھی۔

گلاس فلور یعنی شیشے کے فرش سے نظر آنے والا پارک

شیشے کا فرش، اسکا تذکرہ حضرت سلیمان کے قصے میں بھی ملتا ہے۔ جب ملکہ صبا انکے دربار میں داخل ہوتی ہیں تو سمجھتی ہیں کہ فرش پہ پانی پھیلا ہوا ہے اور اپنے لباس کو اوپر اٹھا لیتی ہیں۔ اس وقت انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ فرش شیشے کا بنا ہوا ہے۔ جس سے وہ اس سلطنت کے رعب میں آجاتی ہیں۔ میں بھی اس ملکہ کی اس کیفیت سے گذرنا چاہتی تھی۔
ہزاروں سال پرانے اس قصے کو عملی طور پہ دیکھنے کی خواہش جاگی تو میں نے ایک چیز پہ توجہ نہیں کی اور وہ ٹاور کی بلندی تھی۔ شیشے کا یہ فرش دنیا میں بنائے جانے والے شیشے کے فرشوں میں اس لئے منفرد ہے کہ سب سے زیادہ بلندی پہ ہے۔ یہاں لوگ اس فرش پہ لیٹے ہوئے تصویریں بنا رہے تھے۔ بیٹھے ہوئے کھڑے ہوئے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کس زاوئیے سے اسکی تصویر لیں۔  کچھ لوگ اس پہ پیر رکھنے سے بھی گریز کر رہے تھے۔ حالانکہ یہ فرش یہ مکمل شیشے کا فرش نہیں بلکہ اسٹیل کے فریم میںتقریباً چار ضرب تین فیٹ کے ری انفورسڈ شیشے ایک ترتیب میں لگے ہوئے ہیں جو  تقریباً چوبیس اسکوائر میٹر کا رقبہ بناتے ہیں۔ یہ فرش کئ ٹن وزن برداشت کر سکتا ہے۔
 اس فلور گلاس سے زمین کی سطح پہ واقع پارک کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔ گلاس فلور کے کمرے سے باہر نکلیں تو دائرے میں دھاتی جالی لگی دیوار سامنے آتی ہے۔ اس سے نہ صرف باہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے
بلکہ ہوا کی شدت سے بھی لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔
جالیوں کے باہر وہ جزیرہ جو ایئر پورٹ کے طور پہ استعمال ہوتا ہے

ٹاور کے نزدیک واقع وہ جزیرہ صاف نظر آتا ہے جہاں صرف ایک ائیر پورٹ قائم ہے۔ اس ائیر پورٹ پہ پہنچنے کے لئے
 کشتی سے آنا پڑتا ہے۔ یہاں سے جہاز ملک کی اندرونی پروازوں کے لئے آتے جاتے ہیں۔ ہم نے بھی چند جہازوں کو ٹیک آف کرتے اور لینڈ کرتے دیکھا۔ جزیرے کی لمبائ میں رن وے موجود ہے۔ جہاں پانی جزیرے کو چھوتا ہے وہاں سے رن وے شروع ہوتا ہے اور اگلے سرے پہ جہاں ساحل پانی سے ملتا ہے رن وے ختم ہو جاتا ہے۔ اردگرد بادبانی کشتیاں سمندر میں ڈولتی پھر رہی تھیں۔
ٹاور کی زمینی سطح کے ساتھ ہی ایک اسٹیڈیئم ہے جسے روجرز سینٹر کہتے ہیں۔ اس اسٹیڈیئم پہ حرکت کرنے والی چھت موجود ہے جو اسے ڈھک لیتی ہے۔ ہم اتنی دیر وہاں موجود رہے کہ ایک دفعہ کھلی چھت دیکھی اور دوسری دفعہ بند چھت۔
اس سینٹر کی خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں ٹورنٹو کے مسلمان عیدین کی نماز ادا کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے اسکا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔

اسٹیڈیئم    کی ادھ کھلی چھت

اسٹیڈئم کی بند چھت
واپسی پہ لفٹ ایک شاپنگ سینٹر میں لے جا کر چھوڑتی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ یہ جیب لوٹنے کا ایک شریف بہانہ ہوتا ہے۔ یہاں چار ڈالر میں ملنے والی ٹی شرٹ سترہ ڈالر کی مل رہی تھی۔ اس شرٹ کی خاص بات یہ اس پہ موجود سی این ٹاور کے الفاظ تھے۔ سو اس جگہ اور اس لیبل کی قیمت تیرہ ڈالر میں ادا ہوتی ہے۔ باقی چیزوں کا بھی یہی حال ہے۔
کچھ لوگ زندگی میں آنے والے چیلینجز کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ کچھ آنے والے چیلینجز کا سامنا پامردی سے کرتے ہیں اور کچھ لوگ ان چیلینجز کو خود تخلیق کرتے ہیں اور پھر دنیا کو حیران کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں نے اس ٹاور میں بھی چیلینج ڈھونڈھ لیا۔ یہ لوگ اسکائ پوڈ کی بیرونی سطح  کو فتح کرتے ہیں۔ دھیان رہے اس تھرل کے لئے علیحدہ سے ٹکٹ ہے اور اسکی اجازت ہر روز نہیں ہوتی۔
سی این ٹاور اور روجرز سینٹر رات کے وقت

۔
اس بلندی تک جانے کا کیا فائدہ؟
ایک تو گھنٹوں قطار میں کھڑے رہنے سے صبر کی اعلی صفت پیدا ہوتی ہے۔ یقین جانیں محض قطار میں کھڑے رہنے سے برداشت کی صفت پیدا کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ گھنٹوں کھڑے رہنے اور تیس ڈالر خرچ کرنے کے بعد کچھ لوگ جب حیرانی سے پوچھتے ہیں کیا اسی واسطے چھانے تھے بیابان بہت اور آپ صم بکم کھڑے رہیں تو آپ کی قلندری زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔
فائدہ یہ بھی ہے کہ بلندی کا رعب دل سے ختم ہو جاتا ہےاور زمین اہم لگتی ہے۔ وہ زمین جو ٹھوکرکھا کر گرے ہوئے انسان کو ایک دفعہ پھر کھڑے ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یوں دنیا قدموں تلے پڑے رہنے کے بجائے سنگ سنگ چلتے ہوئے بھلی لگتی ہے۔ خیال آرہا ہے کہ قدموں تلے پڑی دنیا دیکھ کر جو عظیم خیالات پیدا ہوتے ہیں کیا وہی خیالات قدموں تلے پڑے محبوب کو دیکھ کر بھی ہوتے ہیں؟
اگر ہاں تو آپ اپنی ذات میں خود ایک سی این ٹاور ہیں۔ اسے دیکھنے کے لئے یہاں آنے کی کوئ ضرورت نہیں۔