Showing posts with label Sufism in Islam. Show all posts
Showing posts with label Sufism in Islam. Show all posts

Monday, March 8, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۷

اسلام کی ابتدا سے اسکے موجودہ زوال تک ایک رو جو ہمیشہ جاری رہی اور جس نے عمل اور رد عمل کی تحریکوں کو یکساں متائثر کیا وہ تصوف کی رو تھی۔ نویں صدی عیسوی سے قبل تصوف محض ایک ذہنی  رویہ تھا۔ جو ظاہری شان و شکوہ، مادی آسودگی اور ظاہری  جاہ و جلال کے خلاف پیدا ہوا۔  اسکے بعد تصوف نے باقاعدہ ما بعد الطبیعیات مرتب کر لی ایک منظم خانقاہی نظام کو فروغ دیا اور ایک فعال تحریک کی صورت میں اسلام کی عظیم تحریک پر اثر انداز ہونے لگی۔ معتزلہ اور امام غزالی کے فلسفے کی بحث نے زندگی کے بہت سے شعبوں کو متاثر کیا۔ اور تصوف کی تحریک دو دبستانوں میں تقسیم ہو گئ۔ ایک تصوف کو شریعت کے تحت رکھنا چاہتا تھا اور دوسرا طریقت کو افضل قرار دیکر قلندری طریق رائج کرنے کا دعویدار.
 پہلا طبقہ مذہبی رسوم میں راسخ الاعتقاد اور موخر الذکر آزادی فکر اور آزادہ عمل تھا۔ قرون وسطی کے شعراء ، ادباء اور فلسفی مثلاً عمر خیام، المعری، فارابی اور ابن سینا وغیرہ جو عجمی روایت سے زیادہ متائثر تھے دوسرے دبستان سے تعلق رکھتے تھے۔
تصوف کی تحریک، فکر کے مقابلے میں باطنی وجدان اور روحانی احساس کی تحریک تھی۔ تتاہم اسکے ماخذات قرآن و سنت میں بھی تلاش کئے گئے۔ چونکہ احکام خداوندی ایک ان دیکھے وسیلے سے نازل ہوئے تھے اس لئے صوفیاء نے رسول اللہ کو بھی صوفی قرار دیا۔ اسلام کے ابتدائ دور میں قرآن پاک کی تلاوت تسلسل سے کی جاتی تھی اور بار بار دہرانے کے نتیجے میں انکے معنی کشف کے ذریعے واضح ہوجاتے تھے۔  لوگ اس کشف سے اپنے اعمال اور افعال کو صحیح کرتے تھے یہ اہل کشف کہلائے جانے لگے۔ کچھ عرصے بعد قرب خداوندی اور تعمیل احکام کے لئے ذکر، فقر اور توکل کے نظریات بھی تصوف میں شامل ہوگئے۔
نو افلاطونی نظریات نے دنیا سے نفرت پیدا کی چنانچہ ترک خواہش کو بھی تصوف میں جگہ دے دی گئ۔ اور نتیجتاً تصوف کی رسوم مذہبی فرائض پہ فوقیت پانے لگیں اور مرشد کی ذات قرب خداوندی کا وسیلہ بن گئ۔
تصوف کے اس روئے کے خلاف راسخ العتقاد حلقے میں رد عمل ظاہر ہوا اور منصور حلاج کو چند غیر محتاط جملوں  کے ادا کرنے پر دار پہ لتکا دیا گیا۔
دسویں صدی میں تصوف پہ شیعیت کے اثرات آ گئے اور نظریہ ء وحدت الوجود پہ وحدت الشہود کو فوقیت ملنے لگی۔ ایک دفعہ پھر صوفی تقسیم ہوئے اور ان میں سے جنیدی، محاسبی اور ملامتی فرقے زیادہ معروف ہوئے۔ بات آگے چلی اور ابو سعید نے فنا اور بقا کی توضیح تصوف کے نکتے سے کی اور اس طرح انتہا پسند صوفیاء منظر عام پہ آگئے۔ جنہوں نے حلول، امتزاج اور نسخ ارواح کے عقائد کو جزو ایمان بنا دیا۔ اور تصوف کی آزاد روی، قید اور پابند ہو گئ۔
راسخ العقیدہ علماء نے جنہیں حکومت وقت کی اعانت حاصل تھی اسلام کی سادگی کو قید کرنے کی کوشش کی اور شخصی حکومت کو جاہ و حشم کی نمائش کا وسیلہ بنا دیا۔ تصوف کی تحریک نے اسکے خلاف رد عمل کا اظہار کیا اور بندہ ء آقا کے درمیان حائل پردوں کو ہتا کر براہ راست قرب الہی  حاصل کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ تصوف میں ریاضت نے مذہب کی جگہ لینا شروع کی۔ محبت خالص جزبہ قرار پایا، رقص و نغمات عبادت کا درجہ پا گئے۔ مطرب و ساقی، ہجر وصال، عشق و عاشقی وغیرہ مشاہدہ ء حق کی اصطلاح بن گئیں۔ اس طرح تصوف میں حرکت و عمل کم اور غنودگی و خود فراموشی کی کیفیت زیادہ تھی۔ چنانچہ مشرقی ممالک میں جہاں فنا اور بقا کے تصورات بدھ، جین اور ہندو مذہب کے زیر اثر پہلے سے موجود تھے تصوف کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئ اور عقلیت کی تحریک جو جذبے کی ماہیت کو بھی تحلیل و تجزیہ سے معلوم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مغرب میں زیادہ پھیلی۔


نوٹ؛ اس سلسلے کی تمام تحریریں، میری ذاتی فکر کا نتیجہ نہیں ہیں۔ان تمام افکار کو میں نے مختلف کتابوں سے اخذ کر کے ایک ترتیب میں، ایک نئے موضوع کے تحت  رکھنے کی کوشش کی۔ سو،  اس سلسلے میں میرے علم کو چیلینج کرنے کے بجائے انہیں ہمارے دانشوروں کی فکر سے منسوب کرنا چاہئیے۔
حوالہ؛
یہ تحریر کلیتاً ڈاکٹر انور سدید کی کتاب 'اردو ادب کی تحریکیں' سے اخذ کی گئ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ کتاب انکا پی ایچ ڈی کا تھیسس ہے۔ انکی عمر اس وقت اسی سال سے زائد ہے اور وہ اس وقت لاہور میں رہائش پذیر ہیں۔