Showing posts with label انور سدید. Show all posts
Showing posts with label انور سدید. Show all posts

Friday, February 5, 2010

نئے افکار کا حصول اور انکی ترویج-۱

مسلمان اکابر فلسفہ کا سلسلہ کندی سے شروع ہوتا ہے اور ابن رشد پہ ختم ہوتا ہے۔ اسلامی تحریک کا دور عروج ابن رشد سے بہت عرصہ پہلے اور عثمانی فتوحات کے فوراً بعد ختم ہو چکا تھا۔ دور زوال یعنی تیرھویں صدی میں ابن خلدون کے بعد یہ پھر نہ اٹھ سکا۔  اگر ان حکماء کا وجود نہ ہوتا تو یوروپ کا کوئ جدید فلسفی عالم وجود میں نہ آسکتا تھا۔  ان علماء  کی کتابوں کے پوروپینز زبان میں ترجمے کئیے گئے اس طرح یوروپینز نے ان افکار کی نشر واشاعت کی اوراپنے اشتیاق سے اس میں مزید اضافہ کیا۔  انکی اس تجارت میں انہیں بے حد نفع ہوا۔
اسلام کے ابتدا ئ دور میں اسلام ایک مدنیت کا نام تھا۔ اور اسی قیاس کی بناء پہ اسرائیلی اور مسیحی فلسفیوں اور دوسرے آزاد خیال مفکرین کو اسلامی تمدن میں پھلنے پھولنے کے مواقع ملے اور عباسی، اموی اور فاطمی خلفاء نے غیر مسلم مصنفین، مفکرین، اور ادیبوں کو اپنا قرب بخشا ۔ انہیں حکومت کے اعلی عہدوں پہ فائز کیا۔اس سلسلے میں کچھ نام لئیے جا سکتے ہیں جیسے سعید بن یعقوب، ہموئیل بن حنفی جو یہودی تھےاور ایک اسرائیلی عالم موسی بن میمون جو میمونید کے نام سے مشہور ہے۔
اسلام کے ابتدائ سوا سو سال عروج کا زمانہ ہے جس میں جمودی فکر ختم ہوا اور لوگوں میں مطالعہ علم اور بحث نظر پیدا ہوا۔ عباسیوں نے اپنے عہد میں علم و ادب کی ترقی کے لئیے بے حد کام کیا۔ اور اس وجہ سے رعایا میں بھی علم سے محبت پیدا ہوئ۔ دور عباسی اس حدیث سے متائثر تھا کہ ایک عالم کے قلم کی سیاہی، مجاہد کے خون سے بہتر ہے۔ انکے عہد میں جو دراصل تین ادوار پہ مشتمل ہے۔  دوسری زبانوں سے مختلف علوم عربی زبان میں منتقل کئیے گئے۔ان خلفاء کے زمرے میں جنہوں نے اجنبی یا داخلی علوم کو یونانی، فارسی، سریانی اور ہندی زبانوں میں سے عربی میں ترجمہ کروایا۔ ایک تو منصور ہے جس نے فلکیات اور طب کی جانب توجہ کی۔ دوسرے ہارون رشید جسکے زمانے میں ریاضیات میں کتاب 'محیطی' کا ترجمہ ہوا۔ پھر مامون نے مختلف علوم بالخصوص فلسفے اور منطق کے ترجمے کا اہتمام کیا۔ اس طرح مختلف ادور میں جن کتابوں کا ترجمہ کیا گیا انکی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئ جن میں سے اکثر یونانی زبان سے منتقل کی گئیں۔ خود ان لوگوں کی تعداد درجنوں تک پہنچتی ہے جنہوں نے ترجمہ کرنے میں حصہ لیا۔
یہ امر واضح ہے کہ مسلمانوں نے اپنے عہد زریں میں تمام مروجہ علوم، فلسفہ، طب، فلکیات، ریاضیات اور اخلاقیات کو عربی میں منتقل کیا اور ہر قوم کا بہترین سرمایہ اپنے قبضے میں کیا۔ان تمام تالیفات، جنکا عربی میں ترجمہ کیا گیا، کی حیثت بیج جیسی تھی۔ ان سے بارآور درخت کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔عباسیوں کے پہلے دور میں ترجمہ کرنیوالوں کی اکثریت غیر مسلم تھی۔ جب ترجمے کا کام مکمل ہو چکا تو مسلمانوں نے اصل کام کی طرف توجہ کی۔  اور اس مرحلے پہ اسلام کے پہلے فلسفی یعقوب کندی کی آمد ہوتی ہے۔ پھر اسکے بعد بہت سے فلاسفہ، حکماء، اطباء،علمائے ریاضیات، فلکیات اور کیمیا نے جنم لیا جنکی شہرت سے تمام عالم گونج اٹھا۔حکمت کا یہ سلسلہ گو کہ گیارہویں صدی تک چلا اور ابن خلدون کو شامل کریں تو تیرہویں صدی تک،  لیکن اسکے اثرات آج بھی موجود ہیں۔

 نوٹ؛ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس کے ، اگلے حصے میں، میں سرسید احمد خاں کی اس تحریک کا تذکرہ کرنا چاہونگی جو ہند کے مسلمانوں میں  اجنبی علوم کی ترویج  کا باعث بنی۔
حوالہ؛
اس تحریر میں موجود مواد کتاب تاریخ 'فلاسفۃ الاسلام' سے لیا گیا ہے جسکے مصنف  عرب عالم 'محمد لطیفی جمعہ' ہیں۔اسکا اردو ترجمہ ڈاکٹر میر ولی الدین پروفیسر جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن نے کیا ہے۔تحریر میں کچھ حصہ ڈاکٹر انور سدید کی کتاب 'اردو ادب کی تحریکیں' سے بھی لیا گیا ہے۔

  عباسی خلفاء

عباسی اور اموی عہد حکومت

Sunday, January 17, 2010

تعلیم کے خلاف مہم یوں

راشد کامران صاحب نے عرصے بعد کچھ تحریر کیا، اور جیسے دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھ دیا۔ انکی پوسٹ کا عنوان ہے۔ تعلیم کے خلاف مہم کیوں۔ اگرچہ کہ انہوں نے اپنی تحریر میں چیدہ چیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔اس سلسلے میں ڈاکٹر انور سدید کی کتاب اردو ادب کی تحریکیں پڑھتے ہوئے کچھ مزید خیالات در آئے۔
وہ اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
'کائنات کے باطن میں قوت کا ایک بڑا خزینہ موجود ہے۔ ہر عہد اپنے علوم کی وساطت سے اس ذخیرے تک رسائ حاصل کرنے اور نئے انکشافات سے انسان کی فکری مفلسی کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نئے انکشاف کا عمل در حقیقت تخلیقی عمل ہے۔ اور بالعموم مفکرین کی ذہنی، تجزیاتی اور تجرباتی سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کسی عہد کا مفکر نہ صرف نئے خیال کو جنم دیتا ہے بلکہ اس خیال سے معاشرے کی قلب ماہیت بھی کرتا ہے چنانچہ معاشرے کی تمام ترقی اس تقلیب کا بدیہی نتیجہ ہوتی ہے۔ معاشرہ جن ذرائع کو بروئے کار لا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان میں سے مندرجہ ذیل کو نسبتاً زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
مذہب؛
جو فرد کو نا معلوم، لا محدود اور ماورا کے بارے میں پختہ عقائد اور یقین کامل کا درس دیتا ہے اور ایک ضابطہ ء حیات دیتا ہے۔
فلسفہ؛
جو نا معلوم کو دانش اور خرد سے دریافت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور معلوم کے لئیے عقلی ثبوت فراہم کرتا ہے۔
سائنس؛
جو فلسفے کی ہی ایک توسیع ہے اور ہر نئ مادی دریافت کو تجربے سے ثابت کرتی ہے
ادب؛
جو مذہبی عقائد، سائنسی ایجادات اور علمی نظریات سے براہ راست استفادہ کرتا ہے اور عامۃ الناس کو تہذیبی اور روحانی ترفع عطا کرتا ہے۔
ایک مفکر اولیں سطح پر ان میں سے بیشتر کے اثرات قبول کرتا ہے اس لئیے وہ معمول ہے لیکن جب نئے انکشافات ان پہ اثر انداز ہوتے ہیں اور انکی مکمل تقلیب کر ڈالتے ہیں تو وہ ایک اہم ترین عامل شمار ہونے لگتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ مفکر نئے خیال کو خلاء سے نہیں پکڑتا بلکہ اس کی تخلیق میں اسکے عہد کے بے شمار سیاسی، معاشرتی اور ذہنی حادثات و واقعات شامل ہوتے ہیں۔ اور اسے جمود کی یک رنگی کو توڑنے اور زندگی کی کوئ نئ جہت دریافت کرنے پر آمادہ کر رہے ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر مفکر کی ذات میں اسکا پورا عہد سمایا ہوا ہوتا ہے اور وہ اس نئے خیال کی کی مدد سے ایک بڑے گروہ کے ذہنی فکری اور مادی تصورات کی تقلیب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
یہاں پہ یہ اقتباس ختم ہوتا ہے۔ لیکن اب ہم دیکھ سکتے ہیں کہ علم کسی ایک جہت میں سفر نہیں کر سکتا۔ تعلیم کا بنیادی مقصد فکر اور دانش کے حامل لوگوں کو فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اور یہ فکر ہم محض ایک سمت سے حاصل نہیں کر سکتے۔
اگر ہم اپنے معاشرے پہ تجزیاتی اور تنقیدی نظر ڈالیں تو یہ امر کچھ پوشیدہ نہیں کہ ہم شدید طور پہ قحط الرجال کا شکار ہے۔ اور ہماری مجموعی ذہانت ہمیں علم کے اس مقام پہ کھڑا نہیں کرتی جو ہمارے معاشرے کو ایک ترقی یافتہ نہیں، پیداواری نہیں بلکہ تخلیق کی کسی بھی سطح پہ کوئ قابل ذکر مقام دے سکے
۔
ایک ایسے عالم میں یہ چیز ایک خطرناک علامت ہی ہے کہ ہم بتدریج مذہب کی اس فارم کی طرف جا رہے ہیں جو ایک عام انسان کو الجھاوے میں ڈال رہی ہے۔  ایک طرف جو گلوکار اسٹیج پہ رقص کرتا انسانی عشق و محبت کی دعوت دیتا نظر آتا ہے اور جسکی دھن پہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد لہراتی ہے دوسری طرف وہی گلوکار اپنا عوامی امیج بہتر رکھنے کے لئیے طالبان کو مجاہدین بھی قرار دیتا ہے۔
تعلیم یافتہ لوگ بھی الجھن میں ہیں۔ وہ کھل کر اس جہاد کو برا نہیں کہہ سکتے کہ نہیں جانتے کہ یہ واقعی جہاد ہے یا سیاست کا ایک اور رخ۔ وہ عافیہ صدیقی سے لا تعلقی ظاہر کریں کہ وہ امریکن ہے اور کہتی ہیں کہ  وہاں ٹیکس کی تنخواہ حاصل کرنے والے عدالتی نظام میں سے یہودیوں کو نکالا جائے کہ انکی موجودگی میں انہیں انصاف نہیں ملیگا۔ یا وہ عافیہ صدیقی کو پاکستانی قوم کی مسلمان بیٹی سمجھتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اور غیر مسلم قوتوں کو للکار دیں۔
آخر لوگوں میں اس الجھن کا ذمہ دار کون ہے؟
 وہ طبقہ جو انہیں  صرف حیات بعد از زندگی دلانا چاہتا ہے  یا وہ طبقہ جو انہیں اب تک زندگی اور انسان کے درمیان تعلق نہیں سمجھا پایا ہے۔
یا وہ تعلیم جو انکے اندر فیصلہ کرنے، اور تمیز کرنے کی قوت دینے سے عاجز ہے۔ اور جسکا کام صرف برین واشنگ ہے۔ کبھی ایک نظرئیے کے لئے اور کبھی دوسرے نظرئے کے لئیے۔ اور کبھی محض پیسے کمانے کا ایک بہتر ذریعہ بننے کے لئیے۔
 
حوالہ؛