مہنگائ کا عفریت ہم سب کو نگلنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ مگر سلام ہے ہماری قوم پہ کہ نہایت استقامت سے تقدیر پہ راضی بہ رضا ہے۔ حالانکہ شاعر مشرق فرما کر جا چکے کہ تقدیر کے پابند ہیں نباتات، جمادات۔ اب ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم نباتات ہیں یا جمادات۔
ویسے تو ہر تھوڑے دنوں میں ہی چیزوں کی قیمتیں بدل جاتی ہیں۔ اور پچھلے سال کی قیمتوں کا بیان معلوم ہوتا ہے کہ قصہ ء پارینہ ہے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گوشت ڈھائ سو روپے کلو تھا اب سوا تین سو روپے کلو ہے۔
عید کے فوراً بعد ، گھر میں کچھ ایسے مسائل آ کھڑے ہوئے کہ میں فوری طور پہ بازار نہ جا سکی۔ تقریبا آٹھ دن بعد جب فرج نے اعلان کیا کہ ذخیرہ کی ہوئ تمام سبزیاں ختم ہو گئیں ہیں تو میں نے جمعہ بازار کا رخ کیا۔
لیکن وہاں داخل ہوتے ہی حیرت کا دھچکہ لگا۔ پیاز پچاس روپے کلو، آلو چالیس روپے، ٹماٹر اسی روپے، بھنڈی اسّی روپے، اور لوکی جیسی معصوم سبزی بھی پچاس روپے کلو۔
سوچا، قوم عید منا رہی ہے۔ منڈی میں مال پہنچا نہیں ہوگا۔ لیکن اگلے پانچ دن بعد بھی جب حالات یہی رہے اور دوکاندار کلو کے بجائے پاءو میں بھاءو بتاتے نظر آَئے۔ پندرہ روپے پاءو ٹنڈے اور پندرہ روپے پاءو بیگن۔ تو کیا اب ہم سبزی بھی پاءو کے حساب سے خریدیں گے؟
میں نے اپنے خیال پہ نظر ثانی کی۔ قوم عید نہیں منا رہی، خود کشی کرنے کو تیار بیٹھی ہے۔ لیکن قوم پہ نوحہ پڑھنے کے علاوہ میں کیا کر سکتی ہوں۔ میں نے گھر آ کر سوچا اور اسی دن مالی کو اس بات کا احساس دلاتے ہوئے کہ اسکی لاپرواہی سے گھاس میں چھوٹے چھوٹے جنگلی پودے نکل آئے ہیں۔ مجھے خیال آیا کہ یہ سب محنت کیوں۔ کیا اس لئے کہ گرمیوں میں کچھ موتئیے کے پھول آجائیں اور سردیوں میں رات کی رانی مہکے۔ اس چھوٹے سے لان کی ہری بھری گھاس دیکھ کر لوگ کہیں گھاس تو بڑی اچھی ہے آپ کی۔ یا فرن کے ایک قطار میں لگے پودوں کی خوش نمائ دیکھوں اور منی پلانٹ کے بڑے بڑے پتوں پہ نثار ہوتی رہوں۔
اسی دن میں نے فیصلہ کیا کہ پانی کی عظیم نعمت اور زمین کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا ، اپنے صحیح استعما ل میں آنا چاہئیے۔ ترجیحات کا تعین نئے سرے سے ہونا چاہئیے۔ اگر ہمارے حکمراں، ہمارے رہ نما، ہمارے دانشور، ہمارے بوڑھے اور ہمارے جوان اس بات کو محسوس نہیں کر پا رہے تو مجھے تو اپنے طور پہ اپنی ترجیحات متعین کر نے کی آزادی ہے۔
میں اسی وقت نیٹ پہ بیٹھی کہ کراچی میں اچھے بیج کہاں ملیں گے۔ کیونکہ اس سے پہلے ایک دفعہ کیا گیا میرا تجربہ بیج اچھے معیار کے نہ ہونے کی وجہ سے فیل ہو گیا تھا۔
زیادہ تر پتے جو حاصل ہوئے وہ پرانے شہر کے تھے۔ جہاں کی گلیوں سے میری اتنی واقفیت نہیں اور وہاں گاڑی کی پارکنگ کا سنگین مسئلہ بھی رہتا ہے۔ ایک بلاگ پہ سرچ کرتے ہوئے مجھے ایک موبائل نمبر ملا جو کسی توفیق پاشا کا تھا۔
اگلے دن صبح میں نے انہیں فون کیا۔ انگیج تھا۔ پھر میں سوچنے لگی باقی کے نمبروں میں سے کس سے بات کروں کہ میرا فون بج اٹھا۔ یہ توفیق پاشا تھے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ کیا میں نے انہیں فون کیا تھا۔ میں انکے اخلاق سے متائثر ہوئ، انہیں اپنا مسئلہ بتایا۔
معلوم ہوا کہ وہ ٹی وی کے کسی چینل سے جس کا نام میں اس وقت بھول گئ ہوں باغبانی کا ایک پروگرام باقاعدگی سے کرتے ہیں۔ خیر، انہوں نے مجھے ایمپریس مارکیٹ اور سبزی منڈی کے قریب ایسی دوکانوں کے بارے میں بتایا۔ جہاں سے وہ بیج لیتے ہیں۔ اسکے علاوہ ڈیفینس میں لوٹیا کی دوکان موجود ہے۔
![]() |
| ایمپرہس مارکیٹ کراچی |
میں نے ڈیفینس والا پتہ نظر انداز کیا کہ چیزیں امکان یہی ہے کہ زیادہ قیمتوں کی ہونگیں۔
اگلے دن ایمپریس مارکیٹ صدر کا رخ کیا، وہاں پہ عبداللہ سیڈ اسٹور تلاش کرنا مشکل نہ تھا۔ ایمپریس مارکیٹ اپنے ماحول کی وجہ سے مجھے خاصی پسند ہے۔ حالانکہ اس مارکیٹ میں پہلی دفعہ میں اپنی شادی کے بعد گئ۔
جناب وہاں سے مجھے بیج مل گئے۔ شملہ مرچ ہری اور لال، کھیرا، ٹماٹر، تورئ، سیم، بروکلی، سلاد پتہ،ہرا دھنیا، اسکے علاوہ موسمی پھولوں کے بیج۔ اگلے دن صبح مشعل کو اسکول چھوڑا اور واپسی پہ کھاد والے کے پاس سے دو طرح کی کھاد لی۔ ایک گٹر کی کھاد کہلاتی اور دوسری اوجھڑی والی۔ اور ایک بوری ریت کی بھی۔ یہ سب سامان لے کر گھر لوٹی۔ گھر آ کر خالی گملوں کو نکال کر انہیں پنیری کے لئے تیار کیا یعنی مٹی اور کھاد ڈالی۔ باقی گملوں کے بارے میں کڑا فیصلہ کیا کہ کس میںسے پودے ہٹانے ہیں۔ لان میں ایک موتئیے کا جھاڑ ایک کونے سے نکلوایا۔ ایک پودا کافی ہے۔ یہ یاد رکھنے کو کہ موتئیے کا پھول ایسا ہوتا ہے۔ اسکی جگہ تورئ کے بیج ڈالدئیے۔ایک کیاری سے للّی کے پھول کے پودے سارے نکلوا دئیے۔ گملے میں ایک پودا کافی ہے۔ اور اسکی جگہ ہرا دھنیا لگا دیا۔ایک تین فٹ اونچے گملے میں سیم کے بیج لگا دئیے ہیں اور ایک پلاسٹک کی ڈھائ فٹ اونچی بالٹی میں کھیرے کے بیج۔ پھر مالی سے کہا کہ فرن کے سارے پودے ہٹانے ہیں اسکی جگہ سلاد پتہ اور بروکلی لگا دیں گے۔ فرن کے تذکرے پہ اسکا دل ٹوٹا۔ کہنے لگا باجی، اب سارا لان ایسا مت کر دیجئیے گا۔ دل میں سوچ رہا ہوگا کہ کیا لان کے اوپر ہلاکو خان بنی ہوئ ہیں۔ لیکن اسے خبر ہونی چاہئیے کہ جب ملک میں اندہیر نگری چوپٹ راج ہو تو ہلاکوءوں کی عید ہوتی ہے۔ اچھا، باقی سارے بیجوں کو گملوں میں لگا دیا کہ انکی پنیری تیار ہو جائے۔ پھر سوچیں گے کہ انہیں کہاں فٹ کرنا ہے یا انکے لئے مزید گملے لے کر پچھلے صحن میں ڈال دئیے جائیں۔
کچھ پودے نکل آئے ہیں۔ اب آگے کے مسائل شروع ہو رہے ہیں۔ ایک بلی کہیں سے رات کو آجاتی ہے جو مختلف جگہوں پہ گملوں اور زمین کو کھود دیتی ہے۔ بغیر یہ خیال کئیے کہ اس میں ننھے ننھے پودے ہیں۔ اپنی غلاظت کو چھپانے کے لئے مناسب مقام تلاش کرتی پھرتی ہے۔ ایک دفعہ پھر میں نے پھر نیٹ پہ سرچ کی کہ بلی کو کیسے بھگایا جائے۔ اور نتیجے میں اگلے دن زمیں پہ پسی ہوئ کافی کا پوڈر پھیلا دیا۔ اس کے لئے میں اپنے شوہر صاحب کی کافی پینے کی عادت کی شکر گذار ہوں۔ وہ روز اپنی کافی پیستے ہیں اور پھر ایک لمبا کپ بلیک کافی کا تیار کرتے ہیں۔ بغیر دودھ اور شکر کی یہ کافی نہ صرف اچھی کھاد ہے بلکہ بلیاں بھی اسکی بو سے بھاگتی ہیں۔
آجکل روزانہ صبح اٹھ کر اپنے ننھے پودوں کی قامت میں ا ضافے اور صحت کو دیکھتی ہوں اور اس دن کے خواب سجاتی ہوں جب کم از کم سبزی میں خود کفالت کو حاصل کرونگی۔
رہے ملکی حالات تو اس پہ بعد میں گفتگو ہوگی۔ تھرڈ ورلڈ ملک میں رہنے کا فائدہ ہے کہ آپکو دنیا کی بے ثباتی پہ سوچنے کا یا تو موقع نہیں ملتا یا پھریقین نہیں رہتا۔



![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)