Showing posts with label کلکتہ. Show all posts
Showing posts with label کلکتہ. Show all posts

Thursday, October 7, 2010

سر سید اٹھارہ سو ستاون سے پہلے-۲

گذشتہ سے پیوستہ


آئین اکبری کی تدوین ، ترتیب اور تصحیح میں جو محنت اور جاں فشانی سر سید نے دکھائ وہ حیرت انگیز ہے۔ یہ کتاب ابوالفضل نے لکھی تھی.  اس کتاب کا اسلوب نہایت مشکل اور پیچیدہ تھا۔ پھر مزید مشکل یہ کہ  اس میں ہر طرح کے سنسکرت، فارسی، عربی، ترکی اور ہندی الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔۔ مختلف نسخوں میں کاتبوں کی غلطی کی وجہ سے عبارت میں فرق آ گیا تھا۔ سر سید نے مختلف نسخوں کا تقابلی مطالعہ کیا۔  مشکل اور نامانوس الفاظ کی تشریح کی۔ اکبر کے زمانے کی اشیاء کے نام، طرز بو دو باش، رہائیش و استعمال کی اشیا، غرض کہ ہر شے کی تصاویر دلی کے لائق مصوروں سے بنوا کر کتاب میں شامل کیں۔

واقعات کے سن و سال ، اس زمان کی ٹیکس کی رقوم اور محاصل، اکبر کے عہد کی شاہی محاصل کی رقوم آئین اکبری کے مختلف نسخوں میں مختلف درج تھیں۔ سر سید نے انہیں تحقیق کر کے درست کیا۔  ہر طرح کی جدولوں کی تصحیح کی۔ در حقیقت یہ کام سر سید کے علاوہ کسی کے بس کا نہ تھا۔ اس کتاب کو یوروپ میں بڑی پذیرائ ملی۔ اس کتاب میں مسلمانوں کے ایک بادشاہ یعنی اکبر کے کارناموں کو بڑے دلنشیں پیرائے میں بیان کیا گیا تھا جس سے یوروپ آشنا نہ تھا۔۔۔ اس کتاب کی تقریظ سر سید نے مرزا غالب سے لکھوانی چاہی۔ انہوں نے سوچا کہ مرزا غالب ہی انکی اس محنت کی قدر جان سکتے ہیں۔ غالب نے بجائے نثر کے اسکی تقریظ فارسی نظم میں ایک مثنوی کے پیرائے میں لکھی۔
اس تقریظ کے تذکرے سے پہلے  یہ جاننا چاہئیے کہ  یہ وہ زمانہ تھا  جب غالب اپنا مشہور زمانہ پینشن کا مقدمہ لڑ رہے تھے اور اسکے لئے انہیں کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔  کلکتہ شہر کی صفائ، دفتری کاموں کے طریقے اور انتظام اس سے غالب بہت متائثر ہوئے۔ پانی پہ چلتی بھاپ کے انجن سے چلنے والی کشتی نے انہیں حیران کر دیا۔ یہ سب  دیکھ کر غالب  انگریزوں کی ترقی  اور حسن انتظام کے قائل ہو گئے۔  کلکتہ شہر کی اس خوبی کا تذکرہ اپنے دیوان میں اس طرح کرتے ہیں کہ
کلکتہ کا جو تونے ذکر کیا اے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
اس تقریظ کو ڈاکٹر خورشید رضوی کے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے  کہ
اس دفتر پارینہ کو زندہ کرنے کے لئے سر سید جیسے با صلاحیت آدمی کا اس قدر محنت صرف کرنا وقت کا زیاں ہے۔ یہ وقت آئین اکبری پہ نگاہ بازگشت ڈالنے کا نہیں بلکہ انگریزوں کے دستور آئین سے نظر ملانے کا ہے۔ جنہوں نے عناصر فطرت  کو تسخیر کر کے نو بہ نو ایجادات کی ہیں اور بحر و بر پہ اپنا سکہ رواں کر دیا ہے۔
سر سید کو توقع نہ تھی اور اس سے انہیں رنج پہنچا۔ انہوں نے اسے مرزا غالب کو واپس کر دیا کہ یہ مجھے درکار نہیں۔ مگر غالب کو اپنی رائے کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ اسی لئے انہوں نے غالباً اسے نظم میں لکھا تھا۔ اور اسے اپنی کلیات فارسی میں شامل کر دیا۔ غالب نے سر سید کو لکھا۔
ابھی تک آپ اپنے پرانے آئین جہاں بانی کی ترتیب و تصحیح میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ زندگی کا نیا آئین کلکتہ پہنچ گیا ہے اور بہت جلد ہند کی ساری تہذیبی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیگا۔
غالب آخر غالب رہے۔
سر سید ان سے کبیدہ خاطر تو ہوئے۔ لیکن یہ شاید اسی کا اثر تھا کہ انہوں نے اپنی اس کوشش کا زیادہ تذکرہ کبھی نہیں کیا۔ اور شاید یہی چیز ان میں ایک مصلح قوم کو مہمیز دینے باعث بنی۔ مگر تاریخ کہتی ہے کہ اگر اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کا واقعہ نمودار نہ ہوتا تو سر سید اپنے انہی کاموں میں مصروف رہتے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے انکے تصورات کی دنیا کو بدل دیا۔

حوالہ؛
سر سید احمد خان ، شخصیت اور فن۔ اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد
موج کوثر، شیخ محمد اکرام ، سروسز بک کلب، آرمی ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ