Showing posts with label قرآن. Show all posts
Showing posts with label قرآن. Show all posts

Monday, July 23, 2012

ہے کون سا فرق ایسا؟

سحری، افطار، پھر عید کی تیاریاں اور ساتھ ہی ثواب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہی رمضان کی کشش بڑھانے کو کم نہ تھا کہ اس دفعہ وینا ملک نے اپنے استغفار کا بھی اعلان کر دیا اور وہ بھی عین رمضان میں۔ ہم تو سمجھے، شاید اس لئے کہ رمضان میں ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس استغفار کے خلاف مہم چلا دی اور اب سنتے ہیں کہ یہ استغفار عوام تک نہیں پہنچ پائے گا۔ عوام تک کیا اب خدا تک بھی اسکا پہنچنا مشکل ہےیہ رمضان پیکیج تھا اب اگلے سال تک دیکھتے ہیں  کیا یہ استغفار ہو پائے گا۔ سوری وینا، ٹرائ نیکسٹ ٹائم۔
لوگ کہتے ہیں کہ شیطان کو رمضان میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لیکن عامر لیاقت حسین کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ انہیں لوگ رمضان میں اتنا زیادہ اس لئے پسند کرتے ہیں کہ وہ شیطان کو بہت مِس کرتے ہیں۔ البتہ انکی دعا کرانے پہ لوگوں پہ گریہ کیسے طاری ہوجاتا ہے یہ معمہ حل طلب ہے۔
http://www.youtube.com/watch?v=iiyG1pSlzpo&feature=related
 مجھے عامر لیاقت سے نجانے کیوں عجیب سی مخاصمت ہے حالانکہ ان کے فتوے، فتوے کم اور لطائف زیادہ لگتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا شیعوں کی سنیوں سے شادی ہو سکتی ہے۔ کہنے لگے کیوں نہیں، سین سے سنی، شین سے شیعہ اور شین سے شادی۔ کیا مسئلہ ہے بھئ۔ ان سے پہلے حروف تہجی کو فتوی کے لئے کسی نے استعمال نہیں کیا۔ لیکن اتنا پروگریسو ہونے کے باوجود جب کوئ انہیں برا کہتا ہے تو مجھے یک گونہ تسلی رہتی ہے۔
وینا کے پروگرام پہ احتجاج اور عامر لیاقت کو خوش آمدید پہ جب میں سوال کرتی ہوں تو ایک جواب آتا ہے کہ اسکی وجہ وینا کی عریاں تصاویر ہیں۔ بس یونہی خیال آیا کہ جسم کی عریانیت اور زبان کی عریانیت میں سے کون گھٹیا درجے پہ ہے؟
اس لئے شیطان کا بطور خاص اس مہینے میں بند ہوجانا میرے لئے کم از کم بڑا سوالیہ نشان رکھتا ہے۔ ہم جو کچھ اس مہینے مشاہدہ کرتے ہیں کیا وہ اس روایت پہ پورا اترتا دکھائ دیتا ہے۔ کون سا شیطان بند ہوتا ہے۔ وہ جس نے خدا کے حکم پہ آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جسکا نام عزازیل ہے یا وہ جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور خدا کی طرح ہر لمحے اسکے ساتھ رہتا ہے اور صورت حال اس طرح رہتی ہے، اک طرف اسکا گھر اک طرف میکدہ۔ اک طرف محتسب اور اک طرف رند۔ 
خیر، ابھی کل ہی میں طارق روڈ پہ گاڑی پارک کرنے کی جگہ تلاش کر رہی تھی ایک جگہ ملی اسکے پاس چند سیکنڈ کو کھڑا کر کے سوچا کہ یہاں ذرا سناٹا سا ہے اس لئے مناسب نہیں لگ رہا۔ اتنے میں ایک بڑے میاں نازل ہو گئے کہ یہیں گاڑی پارک کرو۔ آگے کہیں  کروگی تو آجکل تو لوگ گاڑی کے شیشے بھی کاٹ لیتے ہیں۔ میں نے یہ سن کر گاڑی موڑی، بڑے میاں کو ناراض چھوڑا اور شاہراہ عام پہ آگئ۔ دور سہی، لیکن شیشہ کٹنے کا امکان کم ہے۔
ڈکیتیوں اور سر راہ لوٹ لینے کے واقعات میں چشم زدن میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نیا ٹرینڈ یہ ہے کہ لوگ جو شاپنگ کر کے لوٹتے ہیں وہ بھی کوئ لوٹ لیتا ہے۔ چونکہ شیطان بند ہے اس لئے کم از کم اس مہینے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب ہمارے بھائ بندوں میں سے کوئ کرتا ہے وہ بھی مسلمان۔  لیکن ان دونوں میں ہے کون سا فرق ایسا؟
یوں اس مہینے پرچون فروشوں، قصائیوں ، درزیوں، بوتیکس اور کپڑے کی دوکان والوں میں مقابلہ کرایا جائے تو ڈاکو اور چور اچکے سب سے زیادہ مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ ان میں سے شیطان کی دی ہوئ ذمہ داری کون اچھی طرح نبھاتا ہے۔
کیا واقعی شیطان بند ہوتا ہے؟ شاید نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ گوشت کی قیمت میں پہلی رمضان کو نہیں تو دوسرے دن ضرور اضافہ ہوجائے گا۔  قیمت کے اس اضافے سے دودھ اور پھل بھی متائثر ہونگے۔  یہ پیکیج شاید شیطان رمضان کی چھٹیوں سے پہلے طے کر جاتا ہے۔ شیطان، رمضان کی تیاریاں شب براءت میں شروع کرتا ہے جب ہم رات کو جاگ کر اپنے گناہ بخشوا رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے نئے گناہوں کا نصاب تیار کر لیتا ہے۔
کیا واقعی شیطان بند ہوتا ہے؟ شاید ہاں۔ کیونکہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی نصیحتوں اور تبلیغ کا ایک ریلہ داخل ہوچکا ہے۔ ہر ایک اس میں بھی مصروف ہے۔ اسکا بھی بڑا ثواب ہے اور اسکا ثواب الگ جو وہ بتلا رہے ہیں۔  فیس بک وغیرہ کی آمد سے ثواب حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں آسان ہے صرف ایک کلک پہ ثواب کا سلسلہ جاری۔ کیا لفظ کلک قرآن میں آیا ہے؟ کیا انٹر نیٹ کی پیشن گوئ اس میں موجود ہے؟ یہ سب جانے بغیر لوگ دھڑا دھر ثواب کی کلِکس کئے جا رہے ہیں۔ یہ دوڑ عین اس وقت متائثر ہوتی ہے جب شیئر کرنے کا لنک ہم جیسے شیطانوں کے پاس پہنچتا ہے۔
ان تمام نصیحتوں سے الگ جو مذہبی کتابوں کا خلاصہ نکال کر تیار کی جاتی ہیں۔ کل کی ایک نصیحت یاد آرہی ہے۔ ایک خاتون نے نصیحت کی کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ زندگی کو آسان کرو اگر ہر وقت مصروف رہوگے تو خدا کی عبادت کیسے کروگے۔ اگر دن میں اپنی ساری توانائ دنیا کمانے میں لگا دوگے تو رات کو تہجد کیسے پڑھوگے؟  آسان زندگی کے اس فلسفے پہ ایک بزرگ خاتون نے خاصہ احتجاج کیا۔ میں نے کہا ہمارے کراچی میں تو لوگ کاروبار شروع ہی آدھے دن کے بعد کرتے ہیں۔ یہ شاید ڈاکٹر صاحب کی نصیحت کا کمال ہے۔ توانائ دن میں نہیں رات میں خرچ ہونی چاہئیے۔
ادھر رمضان کے لئے وظائف کا چارٹ بھی تیار ہے۔ اگر انسان ان سب پہ عمل کر لے تو سال بھر کے لئے گناہوں کی آزادی صاف نظر آتی ہے۔ مثلاً تین دفعہ قل شریف پڑھ لیں ایک قرآن کا ثواب، میرے جیسے دماغ میں تو آتا ہے کہ بس سارا دن قل شریف ہی پڑھتے رہنا چاہئیے ایکدن میں کتنے ہی قرآنوں کا ثواب ملے گا جبکہ اصل کو ایک دن میں پڑھکر ختم کرنا ہی ناممکن ہوتا، ادھر رمضان میں ایک قرآن ختم کر لیں سال بھر کی تلاوت کا ثواب۔
 چونکہ رمضان میں ثواب کئ گنا بڑھ جاتا ہے اس لئے لوگ عام زندگی کی چھوٹی موٹی نیکیاں بھی رمضان کے لئے چھوڑے رکھتے ہیں۔ مثلاً زکوۃ بچا کر رکھتے ہیں کہ اس مہینے دینے کا ثواب ہے۔ ایک صاحب نے رستے میں ایک پتھر دیکھا اٹھا کر ایک طرف کرنے کا سوچا تھا ہی کے خیال آیا کہ ابھی مغرب کے بعد رمضان کے چاند کا اعلان ہو جائے تو ہٹائیں گے۔ ثواب زیادہ ہوگا۔
کیا شیطان واقعی بند ہوتا ہے؟ تو یہ اوٹ پٹانگ تحاریر کون لکھتا ہے؟ 
رمضان میں ایسی اوٹ پٹانگ تحاریر پڑھنے کا کوئ ثواب نہیں۔ اس لئے آپ جلدی سے اپنی تسبیح پکڑئیے اور یہ بتائیے وہ کون سا اسم یا وظیفہ ہے جسکے پڑھنے سے انسان انٹر نیٹ سے دور رہتا ہے؟ جب تک میں ایک سادہ سا حساب کر لوں وینا ملک اور عامر لیاقت میں ہے کون سا فرق ایسا؟

Wednesday, January 18, 2012

جا چھوڑ دیا

میں انکے پاس خالصتاً کاروباری سلسلے میں موجود تھی۔ لیکن جیسا کہ ہماری روایات ہیں ملنے والے سےپہلے ادھر ادھر کی ایک آدھ بات کر لی جاتی ہے۔ ہمارے درمیان بچوں کی بات آ گئ۔ انکے چار بچے تھے سب سے بڑی پندرہ سال ی بچی اور سب سے چھوٹی سات آٹھ سال کی۔  اپنے اکلوتے بارہ سالہ بچے کے متعلق انہوں نے بتایا کہ وہ قرآن حفظ کر رہا ہے۔ تیسری جماعت تک اسکول میں پڑھا لیکن چونکہ ہم نے اسکی پیدائیش پہ یہ ارادہ کیا تھا کہ اسے قرآن حفظ کرائیں گے اس لئے وہاں سے نکال کر اسے مدرسے میں ڈال دیا۔
حلئیے سے ایک فیشن ایبل خاتون، جنکی بھنوئیں بنی ہوئیں، بال کندھے تک ترشے ہوئے اور رنگے ہوئے، ہونٹوں پہ ہلکی سی لپ اسٹک کی تہہ جمی ہوئ، جدید تراش خراش کے کپڑے پہنے ہوئے، کیا اس خاتون سے کوئ توقع کر سکتا ہے کہ اپنے اکلوتے بیٹے کو ایک جدید اسکول سے نکال کر ایک مدرسے میں ڈال دے گی؟
وہ اکیلی نہیں، میں انگلش ڈپارٹمنٹ میں انگریزی  پڑھانے والی ایک خاتون سے ملی جنہوں نے انگریزی لسانیات میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ انکی بچی ایک انگلش میڈیئم اسکول میں پڑھ رہی تھی ایک ذہین بچی، انکی اکلوتی اولاد۔ اس عرصے میں وہ جماعت اسلامی سے متائثر ہو گئیں۔ خود حجاب لینا شروع کیا اپنی بچی کا اسکول چھڑایا۔ یونیورسٹی سے کئ سال کی چھٹی لی، گھر پہ ایک مولوی صاحب کی خدمات لی گئیں اور بچی کو حفظ کرانے سے لگا دیا۔ اب تیرہ سال کی عمر میں انکی بچی فافظہ قرآن ہے۔ جہاں سے کہیں فر فر سنا دے گی لیکن اسکے معانی کیا ہیں اس سے آگاہ نہیں۔
حفظ کرانے کا فیشن اسّی کی دہائ میں متعارف ہوا۔ اس سے پہلے بہت کم بچے حفظ کرتے تھے۔ حفظ کرانے والے مدرسے اسّی کی دہائ میں مشرومز کی طرح سے ایک دم اگ آئے۔کسی بھی روڈ سے گذر جائیں ایک نہ ایک ایسا مدرسہ ضرور نظر آجائے گا۔ مجھے یقین ہے ساری دنیا میں پاکستان اس معاملے میں اول نمبر پہ ہوگا جہاں بچوں کی ایک کثیر تعداد اس وقت قرآن حفظ کر رہی ہے اور سب سے زیادہ مدرسے اس ضمن میں موجود ہیں۔
لوگ کیوں اتنا زیادہ حفظ قرآن کی طرف راغب ہوئے؟ اسکا جواب بڑھتی ہوئ انتہا پسندی میں ہے۔
اس سے پہلے  مدرسے بہت کم ہوتے تھے اور اکثر بچے خاندان کے کسی بزرگ سے ہی قرآن ناظرہ پڑھا کرتے تھے یا پھر محلے کی کوئ فارغ ضعیف خاتون یہ کام انجام دیتی تھیں یوں عمر کے اس حصے میں انہیں یہ سرگرمی حاصل رہتی۔
یہ ہمارے مرد حق، جنرل ضیاءالحق کا دور تھا۔  ان مدرسوں کے قیام کے لئے فنڈ کہاں سے آئے ہونگے۔ اسکا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ یہ یقیناً ہمارے سعودی کرم فرماءوں کی ہم جیسی گنہاگار قوم پہ نظر عنایت ہوگی کہ حافظ بچوں کی وجہ سے ہی ہم بخشے جائیں۔ کیونکہ زیادہ تر ان مدرسوں کا فقہ سعودی فقہ سے متائثر تھا۔ مثلاً اقراء حفظ مراکز میں بچوں کی ماءوں سے بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اور اصرار ہوتا ہے کہ کسی مرد کو بھیجیں۔
میں نے خود بھی سعودی فنڈ سے چلنے والے ایک مدرسےسے ناظرہ قرآن کی تعلیم لی۔ اور اب مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کیسے ہمارے مدرسے کے منتظمین نے اچانک یہ فیصلہ صادر کیا کہ یا تو اسکول کی تعلیم حاصل کرو یا پھر اس مدرسے میں ناظرہ قرآن پڑھو۔
میں نے ان خاتون سے پوچھا کہ قرآن حفظ کرنے کے بعد آپ نےاپنےبچے کی باقی زندگی کے لئے کیا سوچا ہے۔ جواب ملا ہم نے تو ہمیشہ خدا پہ توکل کیا ہے۔ وہی کوئ راستہ نکالے گا۔
ہمم، میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ یہ جو کاروباری معاہدہ ہم کرنے جا رہے ہیں اس کے لئے بھی تو آپ نے کوئ منصوبہ بندی کی ہے ناں ۔ بغیر منصوبہ بندی کے تو کوئ اتنا بڑا قدم نہیں اٹھاتا۔ اسے تو آپ نے خدا توکل پہ نہیں چھوڑا۔ پھر اپنے بچے کو کیسے آپ نے اس طرح چھوڑ دیا؟
ایک کمزور آواز میں جواب آیا ، ہو سکتا ہے کل وہ کوئ بڑا عالم دین بن جائے۔
میں نے آواز کی اس کمزوری کو جان کر  ان سے پوچھا نہیں کہ مودودی صاحب کے بارے میں کیا خیال ہے وہ حافظ  قرآن نہیں تھے لیکن عالم دین کی صف میں کھڑے ہیں۔ ایک بڑی تعداد میں عالم دین ہیں جو حافظ قرآن نہیں۔ عالم دین بننے کے لئے دین کی سمجھ ہونا ضروری ہے جس کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں اس زبان کا سمجھ میں آنا ضروری ہے اس لئے جو بات ہماری سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ بجائے اسے حفظ کرنے میں وقت لگانے کے عربی زبان سیکھنے میں وقت لگایا جائے تو بات ہے سمجھ کی۔ 
کیا بچوں کو قرآن حفظ کرانے سے دین کی کوئ خدمت ہوتی ہے؟
  ہم ٹیکنالوجی کے اس دور میں ہیں کہ قرآن  با ترجمہ کمپیوٹر پہ اس طرح موجود ہے آپ جب چاہیں کسی حوالے سے کوئ آیت نکال لیں۔ قرآن پہلے سے زیادہ محفوظ ہے۔
کیا واقعی قرآن حفظ کرنے والے بچے کے چالیس یا ستر رشتے دار بخشے جائیں گے یا اسکے والدین کو روز قیامت عام معافی مل جائے گی؟
اگر یہ سچ ہوتا تو قرآن یہ کیوں کہتا کہ ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔
یا اس لئے کہ حافظ قرآن کو معاشرے میں خاص احترام حاصل ہوتا ہے۔ اس لئے کہ شاعر بھی یہ کہتا نظر آتا ہے کہ
اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
جا چھوڑ دیا حافظ قرآں سمجھ کے
لیکن شاعر تو جناب شاعر ہوتا ہے اسکی بات کا کیا بھروسہ۔
اب ایک نیا سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسے ادارے کیوں نہیں اتنی بڑی تعداد میں بن جاتے جہاں عربی زبان سکھائ جائے تاکہ اپنی مذہبی کتاب تک ہر مسلمان کی پہنچ آسان ہو جائے اور خدا کی کتاب کو وہ بغیر کسی ذریعے کے سمجھ پائے۔ ایسے ہی جیسے دنیا کی کسی اور عوامی کتاب کو ہم سجھتے ہیں۔ قرآن حفظ کرنے میں کم از کم پانچ سال لگتے ہیں ، عام طور پہ تین چار سال کے بچے کو مدرسے کے حوالے کیا جاتا ہے۔  اگر اس جذبے سے دن رات عربی زبان سیکھائ جائے تو اس میں بے پایاں مہارت پیدا ہو جائے۔
اسکے جواب کے لئے کسی ذہنی تگ و دو کی ضروت نہیں۔ ہمیں ایک بہتر مسلمان دیکھنے کے خواہشمند خدا اور اور ہمارے درمیان ڈائریکٹ ڈائلنگ پسند نہیں کرتے ورنہ انکا وجود بے مصرف ہو جائے انکی بڑائ جھوٹی قرار پائے  اور انکے روزگار کو بھاری زک پہنچے۔

Thursday, September 22, 2011

تکون سے چوکور تک

صرف چھ سال پہلے ابتدائ جنوری کے ایک سرد دن جو کراچی والوں کو کوئٹہ سے پہنچنے والی سربیائ ہواءووں کے طفیل  مل جاتے ہیں۔ میں کراچی میں ہوٹل پرل کانٹی نینٹل کے لاءونج میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ لاءونج میں کھڑی اپنے دیگر ساتھیوں کا انتظار کر رہی تھی کہ سامنے اوپر سے آنے والی لفٹ کا دروازہ کھلا۔ ایک چھریرے بدن کا شخص تیزی سے برآمد ہوا۔ اس نے ہم رنگ ٹراءوژرز اور شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ بال کچھ گھنگھریالے سے چہرے کی تفصیل میں جانے سے پہلے میری نظر اسکی کمر کے گرد پٹکے پر پڑ گئ۔ اس میں ایک پستول اپنے غلاف میں  لٹک رہا تھا۔ 
اسلحہ نجانے کیوں مجھے سحر زدہ کر دیتا ہے۔ وہ شخص میرے سامنے سے نکلا، ہوٹل کے داخلی دروازے پہ پہنچا وہاں موجود دربان نے ایستادہ ہو کر ماتھے پہ ہاتھ لے جا کر سلام  کا اشارہ کیا۔ وہ اسی بے نیازی سے گذرتا ہوا باہر موجود ایک قیمتی گاڑی میں بیٹھ کر اوجھل ہو گیا۔
میری نظر میں اسکا پستول جھولتا رہا ایسے ہی جیسے عاشق کی نظر میں محبوب کے کان کا بالا ہلتا رہے۔ کسی نے میرے کان میں سرگوشی کی،  'عمران خان کو دیکھا'۔ 'آں'۔ میرا منہ کھل کر بند ہوا۔ یاد آیا، میں نے کیوں اسکے چہرے کی تفصیلات پہ نظر نہیں کی۔ وہ عمران خان تھے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین۔ لعنت ہو مجھ پہ ایک پستول نے مجھے اتنا بے خود کر ڈالا۔ ایک پورے قد کے شخص کو دیکھنے سے محروم رہ گئ۔ جبکہ وہ میرے اتنے قریب سے گذرا۔
ابھی چند دن پہلے ٹی وی سرفنگ کے دوران میں ایک چینل پہ رکی، عمران خان سے مجاہد بریلوی اپنی مشہور زیر لب مسکراہٹ سجائے پوچھ رہے تھے کہ اب جبکہ آپ سیاست میں ہیں اور کراچی کی سیاست میں ہر سیاسی جماعت کے پاس اسلحہ بردار گروپ موجود ہے آپ جب یہاں سیاست کریں گے تو اسلحہ استعمال  نہیں کریں گے۔ عمران نے اپنی روائیتی مسکراہٹ سے اس طرح کا جواب دیا کہ میں کراچی میں اپنے ساتھیوں کو اسلحہ استعمال کرنے کی اجازت بالکل نہیں دونگا۔ میں نے انکی بات سنی اور مسکرا کر آگے بڑھ گئ۔ جدید دنیا میں ایک فائدہ ہے ناں۔ بٹن دباءو، اور آگے نکل جاءو۔ کوئ منظر، جھوٹ، سچ، فریب، بیان، ادا،  تفریح نگاہ میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتی۔ یہاں بہت سی دوکانیں ہیں اور انکے اپنے لبھانے والے انداز۔
اسلحے کی بات آگے چلی تو  ذکر ہمارے ہمارے ایک ساتھی کا    جنکا خیال ہے کہ میڈیا سے بچے ہتھیار چلانا سیکھ رہے ہیں۔ پاکستانی بچوں کے متعلق  یہ کہنا صحیح ہے کیا؟  وہ پاکستان جہاں گذشتہ تیس سال سے جنگ جاری ہے۔
میں نے تو پہلی دفعہ اخبار میں دیکھا کہ کلاشنکوف کوئ ہتھیار ہوتا ہے۔ اس میں اخبار کا کیا قصورپھر سنا کہ افغان جہاد میں کون کون سے ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں پھر خودکار ہتھیاروں کے استعمال کی عینی گواہ بنی۔ پھر آپریشن کلین اپ کے دوران پتہ چلا کہ کون کون سے ہتھیار کہاں کہاں سے برآمد ہوئے۔ پھر اخبارات سے اسلحہ اسمگلنگ کی رپورٹس سے پتہ چلا کہ کس کس قسم کے ہتھیار کی اسمگلنگ ہوتی ہے۔ یہ ملک کے کس رخ سے کس رخ کی طرف ہوتی ہے۔ 
عمران خان کی متائثر کن تصاویر جن میں وہ گولیوں کی بیلٹ لگائے شمالی علاقہ جات میں کہیں بیٹھے ہیں یا پھر پرویز مشرف اپنے کمانڈو کے یونفارم میں ایک پستول کو جانچ پرکھ رہے ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھ کر اور اپنے نام نہاد دشمنوں کی سازشیں جان جان کر میرے اندر بڑی شدت سے یہ خواہش جنم لیتی کہ اے کاش میں بھی دشمن کو ان ہتھیاروں سے تہس نہس کر ڈالوں۔ پھر جیسے جیسے ہم جہاد اور جنگ میں آگے بڑھےمیری ہتھیاروں کے متعلق معلومات میں بھی ماشاءاللہ کافی اضافہ ہوا حالانکہ خدا شاہد ہے کہ میں نے کبھی بھی انکے متعلق سرچ کرنے کی شمہ برابر بھی کوشش نہ کی تھی۔ 
ایک عرصے تک یہی سمجھ میں آیا  کہ پسماندہ معاشرے، قبائلی نظام اور اسلحہ ایک تکون تشکیل دیتے ہیں۔ لیکن آج  روزنامہ ڈان میں ایک دلچسپ خبر پہ نظر پڑی۔ خبر کے مطابق صومالیہ جو کہ اس وقت دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے وہاں قرآن شریف کی تلاوت کے ایک مقابلے میں بچوں کو انعام میں ہتھیار دئیے گئے۔ پہلا انعام اے کے ۴۷ اور جی بی پی ۴۵۰، دوسرے نمبر پہ آنے والے کو اے کے ۴۷ اور جی بی پی ۳۲۰ دئیے گئے۔ تیسرے نمبر پہ آنے والے کو دو ایف ون ہینڈ گرینیڈ دئیے گئے۔ 
جنوبی صومالیہ کا بڑا حصہ الشہاب گروہ کے کنٹرول میں ہے۔  یہ گروہ اپنے علاقے میں میوزیکل رنگ ٹونز، فلموں، فٹبال براڈ کاسٹ ، شادیوں کے موقع پہ ناچ گانے پہ پابندی لگا چکا ہے۔ اسکے علاوہ علاقے میں عربی کے علاوہ کوئ اور زبان دوکانوں کے سائن کے لئے نہیں لکھی جا سکتی۔ سزائووں میں ہاتھ پاءووں کاٹنا یا سنگساری شامل ہیں۔
شاعر نے کہا تھا کہ عشق نے ہم کو تکونا کر دیا، ورنہ ہم بھی آدمی چوکور تھے۔ میں، پسماندہ معاشرے، قبائلی نظام اور اسلحے کی تکون کو سوچتی ہوں چوکور کر دوں پھر خیال آتا ہے کہ چوکور کو تکونا تو عشق نے کر دیا۔ اس تکون کو چوکور کون سا جذبہ کر رہا ہے۔

Tuesday, April 19, 2011

تُف ہے

خبر محض خبر نہیں ہوتی۔ ہر خبر اپنے معاشرے کی بہترین عکاس ہوتی ہے۔ جیسے آدم خور خاندان کی خبر۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صرف دو تین لوگ نہیں بلکہ پورا خاندان مردہ انسانوں کو کھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ عرصے سے یہ فعل انکے یہاں جاری تھا۔   خاندان کے ایک بچے نے کہا کہ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد میرا باپ میرے جسم کے نازک حصوں کو مجروح کرتا تھا۔ بڑے ہو کر اسے لگا کہ اسکی مردانہ قوت کم ہے سو اس نے مردہ انسانوں کا گوشت کھانا شروع کیا۔ بہر حال  رپورٹ لکھنے والے صحافی کے خیال میں ابھی بھی یہ ایک معمہ ہے کہ وہ مردہ انسانی گوشت کیوں کھاتے تھے اور کیوں انکے ارد گرد کے لوگوں نے اتنے لمبے عرصے سے پولیس کو اسکی رپورٹ نہیں کی۔
 دوسری خبر اپنے بلاگستان سے ملی یہ لڑکیوں کے کنوارے ہونے سے متعلق ہے۔ جیسا کہ مجھے توقع تھی کہ یہاں پہ یہ ، یہ لوگ موجود ہونگے اور یہ تبصرے ہونگے۔ عین وہی ہوا۔ لیکن حیرانی مجھے وہاں موجود دو تبصروں پہ ہوئ۔
ایک عبداللہ نامی مبصر، جنہوں نے ایک دلچسپ سوال رکھا کہ خواتین کے کنوارے ہونے پہ جتنی دلچسپی دکھائ جارہی ہے اتنی مردوں کے کنوارے ہونے کے ٹیسٹ کے بارے میں کیوں نہیں ہے۔  یہ مخصوص قبائلی مزاج کا طبقہ اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ کیونکہ بات ہے سمجھ کی یہ وہی طبقہ ہے جو مردوں کی بے راہروی پہ تو فخر فرماتا ہے اور عورت کے حیادار ہونے پہ زور ڈالتا رہتا ہے۔
تف ہے ایسی ذہنیت پہ اور اسکو پروان چڑھانے والوں پہ۔ اور اگر کوئ منصف خدا موجود ہے تو اسے ایسے لوگوں کو انکے قرار واقعی انجام کا مناسب بندو بست کر کے رکھنا چاہئیے۔
خواتین کے کنوارپن کی شادی کے وقت تصدیق ہونی چاہئیے اور مردوں کی نہیں۔ انہیں چھوٹ ہے  وہ جتنے استعمال شدہ ہوں چاہے جائز یا ناجائز طریقے سے انکا کنوارہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ واہ، جناب واہ ، آپکی انہی اداءوں پہ درے لگانے کو دل کرتا ہے۔
دوسرا تبصرہ ایک ڈاکٹر صاحب کا ہے۔ حیرت ہے انہوں نے کس ادارے سے میڈیکل کی ڈگری لی ہے۔ میں پی ایم اے والوں سے گذارش کروں گی کہ وہ ایسے ڈاکٹرز کو جو مسیحا ہونے کے نام پہ دھبہ ہیں اور جو انسانیت تو دور اپنے علم سے ہی پوری طرح واقف نہیں انہیں اس طرح کی اہم ڈگریاں دینے سے گریز کرے۔
در حقیقت یہ بات کوئ بھی ڈاکٹر بتا سکتا ہے کہ خواتین کےکنوارے ہونے کے لئے جو خصوصیت بتائ جاتی ہے وہ جہالت پہ مبنی ہے اور بعض خواتین میں یہ محض معمولی بھاگ دوڑ سے ختم ہو سکتی ہے۔
 میرے علم میں بھی یہ بات داکٹر شیر شاہ کے ایک مضمون کے حوالے سے آئ جو نہ صرف پاکستان کے مایہ ناز گائناکولوجسٹ ہیں بلکہ دنیا کے ان بہترین سو گائناکولوجسٹس میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی کمیونٹی کی خواتین کی صحت اور ترقی کے لئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
اگر ڈاکٹر شیر شاہ جیسے لوگوں سے دنیا واقف نہ ہوں اور صرف اس بلاگ کے لکھنے والے سے یا اس  پہ تبصرہ کرنے والے مردوں سے ملے ہوں تو انکے نزدیک پاکستان صرف ایسے مردوں پہ مشتمل ہوگا جہاں حیوان رہتے ہیں۔
پردہ ءبکارت یا اس سے منسلکہ تمام متھس، قبائلی اقوام کی خصوصیت ہیں۔ صرف یوروپ کے قبائل ہی نہیں ، عرب کے بیشتر قبائل اور پاکستان کے بھی قبائلی علاقوں میں عورت کو اس امتحان سے گذرنا پڑتا ہے۔
البتہ جیسا کہ قبائلی اقوام کی شان ہوتی ہے مردوں کو نیکی کے کسی ایسے امتحان سے نہیں گذرنا ہوتا۔ وہ خدا کے پاس ایڈوانس میں نیکیاں جمع کرا کے آئے ہوتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ تم کنوارے ہوں تو جواب ملے گا کہ ہماری مرضی ہم بتائیں یا نہ بتائیں۔ سوال پوچھنے والا البتہ روشن خیال کی گالی سے نوازا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ ان تمام قبائلی علاقوں کے مرد تو ہر طرح کی عیاشی کر سکتے ہیں مگر انکی عورتیں قابل ترحم زندگی گزارتی ہیں۔ وہ اپنے پوشیدہ امراض کے متعلق کسی عورت تک کو بتانے سے گھبراتی ہیں۔ کیا یہ بات قابل ترحم نہیں کہ ایک عورت اپنے پردء بکارت کا آپریشن کرانے بیٹھی ہو تاکہ اسکی قدر و قیمت برقرار رہے چاہے اسکے حصے میں آنے والا مرد دنیا کا اوباش ترین مرد ہو۔
اگر زانی مرد کسی عورت کے حصے میں آتا ہے تو قرآن کی یہ آیت دہرا دی جاتی ہے کہ زانیوں کے لئے زانی۔ حالانکہ زندگی کا ہلکا سا تجربہ رکھنے والے لوگ بی جانتے ہیں کیسی کیسی پردے دار متقی عورتوں کے شوہر کس قدر آوارہ نکلے۔ اور کیسے کیسے متقی مرد عورت کے معاملے میں آزمائے گئے۔ کیا واقعی یہ لوگ تفیہم قرآن سے واقف ہیں؟
  میں اس بلاگ کو پڑھ کر اسکے تبصروں کو جان کر اب تک حیران ہوں کیا جہالت کی کوئ انتہا ہو سکتی ہے۔ کوئ نہیں ہو سکتی۔ نیکی کی انتہا ہو سکتی ہے مگر بدی کی نہیں۔
حضرت عمر کے پاس ایک صاحب آئے اور کہنے لگے کہ میری بیٹی کنواری نہیں ہے اسکی شادی ہونے جارہی ہے کیا میں اسکے ہونے والے شوہر کے علم میں یہ بات لے آءوں۔ آپ نے فرمایا جس بات کا پردی اللہ نے رکھا اسے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ حتی کہ رسول اللہ نے اپنے آخری خطبے میں کہا کہ بچہ جسکے بستر پہ پیدا ہو گا اس کا کہلائے گا۔
صاحب بلاگ کی اس تحریر اور اسکے اعلی تبصروں کی وجہ سے اگر کسی عورت کی زندگی تباہ ہوتی ہے تو یقیناً اسکا گناہ ان سب لوگوں کے سر ہوگا۔ خدا ہمیں انفرادی دین کی اس برتری کے جذبے سے محروم رکھے جو معاشرے کو بدی کا گڑھ بنادیں۔   اللہ ہمیں لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
یہ وہ دعا ہے جو اکثر اشفاق احمد مرحوم مانگا کرتے تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسکے سنگین تبصرہ نگاروں میں بابا اشفاق احمد کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ ہائے نام نہاد عاشق، عاشق تو دور صرف انسان ہی بن جائیں تو بہت۔
اور ہاں،  اب ہمیں اس بات پہ تو قطعاً حیران نہیں ہونا چاہئیے کہ اس آدم خور گھرانے کی خبر ایک لمبے عرصے تک کیوں نہیں ہو سکی۔