Showing posts with label جوش ملیح آبادی. Show all posts
Showing posts with label جوش ملیح آبادی. Show all posts

Saturday, September 8, 2012

شاعر کا پروگرام

شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی نے ایک نہایت غیر انقلابی حرکت کی یعنی کہ مر گئے۔ یہ جملہ پڑھ کر ایک زیر لب مسکراہٹ ابھری اور نظر آگے بڑھ گئ۔  خواجہ احمد عباس نے یہ تحریر جوش صاحب کے متلعق لکھی اور مزے کی تحریر ہے۔  لکھتے ہیں کہ انکی شاعری  اور انکی ذات میں اتنا جوش، جوانی اور تازگی تھی کہ لگتا تھا کہ وہ اپنا برا چاہنے والوں کو مار کر مریں گے۔
شاید اس لئے کہ جوش صاحب نے ایک دفعہ دعا مانگی کی کہ
معشوق کہے کہ آپ ہمارے ہیں بزرگ
وہ دن ہمیں یارب نہ دکھانا ہر گز
بڑے لوگوں کی باتیں بڑی۔ انکا تذکرہ بھی کریں تو بات میں خود بخود گلاب کھلتے ہیں۔ اپنی شعر گوئ کے بارے میں جوش کا خیال تھا کہ شاعری نے خود میرا پیچھا کیا اور نو برس کی عمر میں پکڑ لیا۔ عاشق تھے لیکن انسان دوست زیادہ تھے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ
کہتا ہے کون پھول سے رغبت نہ چاہئیے
کانٹے سے بھی مگر تجھے نفرت نہ چاہئیے
نثر میں اس خیال کو اس طرح ادا کرتے ہیں کہ ' ایک مدت سے میرے سینے میں انسان کے باپ یعنی حضرت آدم کا دل دھڑک رہا ہے'۔ ویسے سنتے ہیں کہ جناب مولانا مودودی انکے ہم نشیں  رہے ہیں۔
:)
یہ ساری تمہید، جوش صاحب کی ایک نظم پڑھانے کے لئے باندھی۔ میں نے یہ نظم اس وقت پڑھی جب آنرز فرسٹ ایئر کی طالب علم تھی۔ شعبہ ء کیمیاء سے ایک سالانہ رسالہ نکلا جس میں یہ شامل تھی۔ اسکے بعد وہ رسالہ شاید دوبارہ نہیں نکلا۔
نظم کا نام ہے 'پروگرام'۔ آئیے پڑھتے ہیں۔
 
پروگرام
اے شخص ، اگر جوش کو تو ڈھونڈھنا چاہے
وہ پچھلے پہر حلقہ ء عرفاں میں ملے گا
اور صبح کو وہ ناظر نظارہ قدرت
طرف چمن و صحن بیاباں میں ملے گا
اور دن کو وہ سرگشتہ ء اسرار و معانی
شہرِ ہنر و کوئے ادیباں میں ملے گا
اور شام کو وہ مرد خدا رند خرابات
رحمت کدہ ء بادہ فروشاں میں ملے گا
اور رات کو وہ خلوتی ء کاکل و رخسار
بزم طرب و کوچہ ء خوباں میں ملے گا
اور ہوگا کوئ جبر تووہ بندہ ء مجبور
مردے کی طرح کلبہ ء احزاں میں ملے گا

واہ واہ، بہت خوب۔

Saturday, February 5, 2011

تخیّل کی تجّلی

ایک بلاگ پہ پڑھا کہ انقلاب کو فیس بک اور ٹیوٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
بنیادی تبدیلی  کے لئے لوگوں کا تبدیلی کی خواہش رکھنا ضروری ہے۔ پھر یہ احساس رکھنا بھی ضروری ہے کہ نظام میں کہاں خرابی ہے اور اسے تبدیل کرنا ہے۔ کس طریقے سے تبدیل کرنا ہے وہ کسی نصاب کا محتاج نہیں، یہ ایک ارتقائ عمل ہوتا ہے۔
 کسی بھی نظام کے لوگوں یا آسان الفاظ میں عوام کو اس چیز کی آگہی ضروری ہے کہ وہ اگر تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں تو انکے اس احساس میں کتنے لوگ انکے ساتھ شامل ہیں۔ یہ انہیں مہمیز کرتا ہے اور اجتماعی احساس کو بڑھاتا ہے یہاں میں دانستہ اجتماعی شعور کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتی۔  یہ علم آج کے زمانے میں ہم آج کے ذرائع تبادلہ ء خیال سے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
  یوں ایک عمل،  ان ذرائع کو استعمال کئے بغیر جتنا وقت لے سکتا ہےغیر مرئ موجوں پہ چل کے وقت سے جیت سکتا ہے اور حیران کن طور پہ بہت کم وقت میں بپا ہو سکتا ہے۔ اس لئے آج کے زمانے میں ہم سنتے ہیں کہ فلاں ملک میں نیٹ یا ٹوئٹر پہ پابندی لگا دی گئ۔ خود ہمارے ملک میں یہ ہو چکا ہے۔
شاعر انقلاب، جوش ملیح آبادی، کے زمانے میں یہ سب کچھ نہ تھا۔ حکومت  لکھنے والوں کے قلم سے ڈرا کرتی تھی۔ اسکی زد پہ ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے شاعر جوش بھی تھے۔ ایک ایسے ہی موقع پہ جب پولیس انکے گھر کی تلاشی لے چکی تھی۔ انکے قلم سے اس نظم نے وجود لیا۔ نظم کا نام ہے تلاشی۔

جس سے امیدوں میں بجلی، آگ ارمانوں میں ہے
اے حکومت، کیا وہ شے ان میز کے خانوں میں ہے
بند پانی میں سفینے کھے رہی ہے کس لئے
تو مرے گھر کی تلاشی لے رہی ہے کس لئے
گھر میں درویشوں کے کیا رکھا ہے بد نہاد
آ مرے دل کی تلاشی لے کہ بر آئے مراد
جس کے اندر دہشتیں پر ہول طوفانوں کی ہیں
لرزہ افگن آندھیاں تیرہ بیابانوں کی ہیں
جس کے اندر ناگ ہیں اے دشمن ہندوستان
شیر جس میں ہونکتے ہیں، کوندتی ہیں بجلیاں
چھوٹتی ہیں جس سے نبضیں افسر و ارژنگ کی
جس میں ہے گونجی ہوئ آواز طبل جنگ کی
جس کے اندر آگ ہے، دنیا پہ چھا جائے وہ آگ
نار دوزخ کو پسینہ آجائے وہ آگ
موت جس میں دیکھتی ہے منہ اس آئینے کو دیکھ
 مرے گھر کو دیکھتی کیا ہے میرے سینے کو دیکھ

ہائے شاعر کے تخیل کی  تجلّیاں اور بجلیاں۔


  اسکے ساتھ ہی چند دنوں کے لئے اجازت۔ کیونکہ اب کچھ دنوں تک اس بستی کے اک کوچے میں رہیں گے جو کراچی سے دور ایک افتادہ مقام پہ بغیر انٹر نیٹ کے بسا ہوا ہے۔ اپنے ساتھ اردو لغت، دیوان غالب، اور چند نا مکمل پڑھی ہوئ کتابیں لے جا رہی ہوں۔ ارادے تو بڑے باندھے ہیں دیکھیں کتنے تکمیل کو پہنچتے ہیں۔ خدا حافظ۔