Showing posts with label کراچی یونیورسٹی. Show all posts
Showing posts with label کراچی یونیورسٹی. Show all posts

Monday, April 11, 2011

تعلیم کے لئے جنگ

 یہ صرف چار سال پہلے کی بات ہے , مجھے وفاقی اردو یونیورسٹی میں  پڑھانے کا اتفاق ہوا۔ یہ یونیورسٹی پہلے کالج تھی جہاں پوسٹ گریجوایٹ کی سطح پہ تعلیم دی جاتی تھی۔ بعد میں شاید اسے یہ سوچ کر یونیورسٹی کی سطح تک ترقی دی گئ کہ یہ پاکستان کی واحد یونیورسٹی ہوگی جہاں ذریعہ ء تعلیم اردو میں ہوگا۔
مگر ہوا کیا؟  یونیورسٹی کے بیشتر اساتذہ وہی تھے جو کالج کے زمانے سے پڑھا رہے تھے۔ تقریباً سبھی ماسٹرز کی ڈگری رکھتے تھے۔ تقریباً سبھی کسی علمی تحقیق سے وابستہ نہ تھے، کسی نے کبھی کسی سیمینار یا کانفرنس میں شرکت نہیں کی تھی۔ انکا کوئ تحقیقی مقالہ موجود نہ تھا۔ در حقیقت انکی اکثریت اس بات سے واقف ہی نہ تھی کہ تحقیقی مقالہ ہوتی کیا بلا ہے۔ انہیں صرف اس بات پہ ناز تھا کہ انکی مدت ملازمت کو اتنا عرصہ ہو چکا ہے۔
یونیورسٹی کے اوپر چند مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کا راج بلکہ قبضہ تھا۔ انکی پسند کے شخص کے علاوہ کسی کا ٹہرنا نا ممکن تھا۔ یہ اساتذہ تدریسی سرگرمیوں میں کم اور سازشی سرگرمیوں میں زیادہ مصروف رہتے۔ اس مذہبی گروہ کے افراد بات بے بات پہ خدا کو یاد کرتے اور اخلاقی حالت یہ کہ یونیورسٹی کے پتے پہ اگر کسی کا کوئ خط آتا تو انکے پاس  سے گذر کر آتا۔ وہ اسے کھولتے، پڑھتے اور مناسب سمجھتے تو وہ متعلقہ شخص کو ملتا ورنہ جیسے دل چاہے اسکی اطلاعات کو استعمال کرتے۔
 اسے یونیورسٹی کا درجہ ملے ہوئے پانچ سال کا عرصہ ہو رہا تھا۔ مگر فارمیسی کی پریکٹیکل لیبز ہونے کا سامان نہ تھا۔  کیمسٹری کی لیب میں کیمیکلز نکالنے کے وہ چھوٹے چھوٹے چمچے موجود نہیں تھے جو اسپےچولا کہلاتے ہیں حقیر ترین چیز جن کی قیمت اس وقت دس پندرہ روپے ہوگی۔ ساٹھ اسٹوڈنٹ کی لیب میں دو اسپے چولا اور تین برنرز۔ باقی سامان کا بھی یہی حساب، لٹمس پیپر جیسی روز کے استعمال کی سستی ترین شے کیمسٹری کے چیئر مین سے مانگ کر لائ جاتی۔ 
میری اس طرف بار بار توجہ دلانے پہ ہماری چیئر پرسن جو کیمسٹری ڈپارٹمنٹ سے لا کر یہاں مقرر کی گئ تھیں۔ اور جو کسی بھی قسم کی تحقیق تو دور تدریسی عمل میں بھی کئ سالوں سے شامل نہ تھیں۔ سخت آگ بگولہ ہوئیں اور کہنے لگیں کہ پچیس سال سے ہم پڑھا رہے ہیں ہمیشہ کیمیکلز نکالنے کے لئے کاغذ پھاڑ کر اسکی ڈوئ بنائ آپکے بڑے نخرے ہیں اسپے چولا ہونا چاہئیے۔ میرے جیسے جونیئر استاد نے یہ احمقانہ دلیل سنی اور خاموش ہو گیا۔
ماں باپ اپنی جان مار کر اپنے بچوں کو ان یونیورسٹیز میں بھیجتے ہیں۔ یونیورسٹی میں پڑھنے والے کراچی کے بیشتر نوجوان  گھر واپس جا کر ٹیوشن پڑھاتے ہیں اور تب اپنے تعلیمی اخراجات کو پورا کرنے کے قابل ہو پاتے ہیں۔ لیکن میں آپکو یہ بات وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ جس طرح کا معیار تعلیم میں نے اس یونیورسٹی میں دیکھا اور جو لیبز کی حالت تھی۔ یہاں  دی جانے والی ڈگری، جعلی ڈگری کے برابر ہی تھی۔ 
ماسٹرز ڈگری کے حامل یہ اساتذہ، اپنے سالوں پرانے لیکچرز پڑھا رہے تھے۔ شعبے کے ایک سینیئر ٹیچر نے انتہائ ناقص کتابچہ کیمسٹری کی رہنمائ کے لئے تحریر کر رکھا تھا اور نئے آنے والے تمام ٹیچرز پہ فرض تھا کہ وہ اسی کتابچے سے تجربات کی تھیوری اور طریقہ لکھوائیں۔  میں نے اسے ایک طرف رکھا اور ذاتی طور پہ اپنی لیب کے لئے ایک کتابچہ خود تیار کیا اس اطلاع پہ ان سینیئر ٹیچر نے فوری ایکشن لیا۔ چیئر پرسن نے فوراً طلب کر کے  کہا، آپ اپنے کتابچے کو ابھی رہنے دیں۔ اگلے سال اسے دیکھیں گے۔ ابھی پرانے کتابچے  کو ہی استعمال کروائیے۔ انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ بحیثیت یونیورسٹی ٹیچر وہ اس بات کا حق نہیں رکھتیں کہ سلیبس کے علاوہ میرے طریقہ ء تدریس میں دخل دیں اور مجھے کسی خاص کتاب کے استعمال پہ مجبور کریں۔ مجھے معلوم تھا لیکن ہر دفعہ کی طرح پھر خاموش ہوئے۔
یونیورسٹی کا نام اگرچہ اردو یونیورسٹی تھا مگر یہاں اردو میں تعلیم نہیں دی جا سکتی تھی۔ کیونکہ اردو میں سائینس کی کتب ہی کتنی موجود ہیں۔ سو اسکے قیام کا بہانہ، دراصل بش کے اس بہانے کی طرح تھا جو اس نے عراق پہ حملے کے لئے کیا تھا۔
خیر، ایک ایسی ناگفتہ بہ حالت میں جبکہ  تعلیمی سرگرمیوں پہ خرچ کرنے کے لئے پیسے نہ تھے۔  ہمارے مذہبی ٹولے کی ملی بھگت سے یونیورسٹی میں انکے پسندیدہ با ریش وائس چانسلر کی آمد ہوئ تو انہوں نے پہلا اور آخری کام اپنی سوابدید پہ   یہ کیا کہ  وائس چانسلر آفس کے لئے نئے گلاس منگوائے کیونکہ پرانے گلاسوں کی شکل انکے خیال میں ان گلاسوں سے مشابہ تھی جن میں شراب پی جاتی ہے۔ یعنی وہ جام جیسے تھے۔ ان گلاسوں کی تبدیلی کے بعد وائس چانسلر اپنی عاقبت سنوارنے کے مشکل مرحلے سے نکل کر عالم سکون میں آگئے۔ باقیوں کا رقص بے خودی بھی شروع ہوا، اس دھن پہ، سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا۔
ایسا نہیں ہے کہ صرف مذہبی طبقہ ہی ایسی کرپشن کرتا ہے ۔ غیر مذہبی بھی کرتے ہیں۔ لیکن یہ چیز اس وقت اتنی بد تر مذاق کی صورت لگتی ہے جب ایک شخص اپنے آپکو زیادہ مذہبی ثابت کر رہا ہو، اس پہ فخر کرتا ہواور دوسروں پہ نفرین بھیج رہا ہو پھر اس ساری نفرین کے بعد وہ وہی کرپشن زور و شور سے کرے جو دوسرے لوگ بغیر مذہبی و اخلاقی پند و نصائح کے کرتے ہیں۔
اب لیبز تو سامان کی کمی کی وجہ سے ہو نہیں پاتی تھیں۔ لے دے کر تھیوری کی کلاسز ہی منعقد ہوتیں اس کے بعد ہمارے پاس خاصہ وقت ہوتا۔ گیارہ بارہ گھنٹے ہر ہفتے کے کریڈٹ آرز کے بعد تو خاصہ وقت ہوتا ہے۔  ایکدن میں نے اپنی چیئر پرسن سے کہا کہ میرے پاس خاصہ وقت ہوتا ہے اور میں سوچتی ہوں کہ فارغ ہونے کے بعد کچھ اس طرح ورک شیڈول ترتیب دوں کہ کراچی یونیورسٹی جا کر کسی تحقیقی پروجیکٹ پہ کام شروع کردوں۔ اس طرح جو پبلیکیشن بنے گی اس میں اردو یونیورسٹی کا نام بھی آئے گا۔ میری ماسٹرز کی ہوئ پچیس سالہ تجربے کی حامل سینیئر استاد نے اپنے سر کا اسکارف صحیح کیا اور کہنے لگیں جب آپکو اپائینٹمنٹ لیٹر ملا تو اس پہ کیا لکھا تھا؟ پھر میرے سوالیہ تائثر پہ انہوں نے بیان کیا کہ اس میں  یہ لکھا تھا کہ یونیورسٹی کو ایک استاد چاہئیے یا یہ لکھا تھا کہ انہیں ایک تحقیق داں چاہئیے۔ یہ ایک تحقیقی ادارہ نہیں یونیورسٹی ہے۔ اب آپ ریسرچ  کو بھول جائیں۔
آپ میں سے کچھ لوگوں کو اب  سمجھ آئے گا صرف بلاگی دنیا میں ہی اس قبیل کے لوگوں  نہیں بلکہ اس مملکت خداداد میں جہاں نکل جائیں وہاں یہ اسپی شی موجود ہے۔
ایک مایہ ناز یونیورسٹی کی، ایک اہم ڈپارٹمنٹ کی چیئر پرسن، یہ کہتی ہے کہ یونیورسٹی کا تحقیق سے کیا تعلق تو اس چیئر پرسن کو کسی کالج یا اسکول میں ہونا چاہئیے، یونیورسٹی میں نہیں۔  یونیورسٹی کی بنیاد کا مقصد ہی تحقیق کو تعلیم سے جوڑنا ہوتا ہے۔
آخر یونیورسٹی کی اس دگرگوں حالت کا کون ذمہ دار تھا۔ کون اس بات کا ذمہ دار تھا کہ وہ یونیورسٹی کے معیار پہ نظر رکھے، وہ اس بات کو جانچے کہ یونیورسٹی اپنے طلبہ کو جن سہولیات کو پہنچانے کا دعوی کر رہی ہے آیا وہ ایسا کر پا رہی ہے یا نہیں، اتنے عرصے میں یہاں سے جتنے طالب علم اپنی تعلیم مکمل کر کے نکلے یقیناً وہ تعلیمی سطح پہ انتہائ گھٹیا معیار رکھتے تھے۔ بیرون ملک تو کیا اپنے ہی ملک کی کسی بہتر یونیورسٹی کے طالب علم سے مقابلہ نہ کر پاتے۔ لیکن اس میں کس کا قصور تھا۔ کیا اس طالب علم کا یا اس بات کا کہ اس یونیورسٹی کے اندر موجود لوگوں کے ایک گروہ کو پتہ تھا کہ وہ جو دل چاہے کرتے رہیں۔ ان سے پوچھ گچھ کرنے والا کوئ نہ ہوگا۔
یہ کوئ واحد یونیورسٹی نہ ہوگی، مشرومز کی طرح اگ آنے والی یونیورسٹیز کی ایک تعداد اسی قطار میں کھڑی ہوگی۔
یونیورسٹیز کے معیار کو کیسے جانچنا چاہئیے؟ یونیورسٹیز کو کیسے اس بات کا پابند بنانا چاہئیے کہ وہ بہتر نتائج دیں؟ یونیورسٹیز کے اساتذہ کو کیسے مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے آپکو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں؟ یونیورسٹیز کو آزاد تعلیمی ماحول دینا کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ امر کیسے باور کرایاجائے کہ یونیورسٹیز کو سچی اور معیاری تحقیق سے جڑا رہنا چاہئیے؟
میں نے کچھ ہنگامہ بپا کرنے کے بعد یونیورسٹی چھوڑ دی۔ اس دوران بارہا مختلف صاحب علم لوگوں سے پوچھا اور یہ سوال میں اب بھی اپنے ملک کے اس دانشور طبقے سے پوچھنا چاہتی ہوں جو اس ملک میں تعلیم کی حالت پہ  فکر مند رہتے ہیں۔ کیا آپ واقعی تعلیمی زبوں حالی پہ فکر مند ہیں؟
آج ایچ ای سی کو ختم کرنے پہ احتجاج جاری ہے۔
ایچ ای سی کے دامن پہ داغ بھی ہیں اور کامیابیاں بھی۔ 
ملک میں زیادہ تعداد میں یونیورسٹیز کھولنے اور زیادہ سے زیادہ طلباء کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دینے کے چکر میں معیار کا کوئ خیال نہیں رکھا گیا۔  یونیورسٹیز میں تحقیقی سہولیات مہیا کرنے کے بارے میں کوئ دلچسپی نہیں لی گئ۔ جہاں تھوڑی بہت ہو رہی ہے،  انہیں اس بات پہ مجبور کرنے کے لئے کوئ منصوبہ نہیں بنایا گیا کہ وہاں ایسی تحقیق کو پذیرائ ملے جو ہمارے ملک کے لئے کار آمد ثابت ہو۔ باہر سے آنے والی فنڈنگ بشمول اسکالر شپس کو منظور نظر افراد اور اداروں کی نذر کیا گیا۔ ملک میں پی ایچ ڈی کرنے والے افراد کو کھپانے کے لئے کوئ منصوبہ بندی نہیں کی گئ۔
ان میں سے بیشتر باتوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کیا جا سکتا ہے کہ کرپشن ہمارے ملک کا مزاج ہے۔ بہت کم ایسا ہو پاتا ہے کہ حق دار کو اسکا حق ملے۔ اور کچھ  نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ غریب ممالک میں، تبدیلی یک لخت نہیں آتی۔ ادارے جیسے جیسے پختگی کی طرف بڑھتے ہیں زیادہ بہتر ہو جاتے ہیں۔
 اسکے ساتھ ایچ ای سی کے حصے میں تمغے جاتے ہیں۔ بیرون ملک سے پاکستانی طلباء طالبات کے لئے اسکالر شپس حاصل کی گئیں، ریسرچ کے لئے فنڈنگ ملی۔ سب سے بڑھکر یہ کہ بیرون ملک سے غیر ملکی اساتذہ آئے جنکی وجہ سے یہاں طلباء طالبات کو مہمیز ملی اور اندازہ ہوا کہ باہر کس طرح اساتذہ اپنی تدریسی سرگرمیوں کو دلچسپ بناتے ہیں اور کیسے انہیں اپنی تحقیق کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
پاکستان سے کثیر تعداد میں طلباء طالبات باہر گئے، انہیں ایک نئ، مختلف دنیا دیکھنے کو ملی۔  وہ نئ ثقافتوں کو دیکھ کر
 واپس آئے اور لازماً یہ صورت  ملک میں پھیلتی ہوئ انتہا پسندی کو روکنے میں سازگار ہو سکتی ہے اور کسی قوم کی بالغ نظری کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ان اسکالرشپس سے  ملک کے دوردراز کے علاقوں کے لوگ بھی مستفید ہوئے۔ ایسے لوگ بھی باہر اعلی تعلیم کے لئے گئے جو کبھی تصور بھی نہ کر سکتے تھے کہ وہ وظیفے پہ اتنی اعلی تعلیم حاصل کر پائیں گے۔
اب بجائے یہ کہ ایچ ای سی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے اقدامات کئیے جاتے۔ حکومت نے ہمیشہ کی طرح اپنی ناعاقبت اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اسے صوبوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی جو اپنے آپکو ایک وفاقی جماعت کہتی ہے وہ خدا جانے دن بہ دن ایسےفیصلے کیوں کر رہی ہے جو اسے ایک وفاقی جماعت کے بجائے ایک علاقائ جماعت بنائے دے رہے ہیں۔
اب شاید وہ لمحہ آن پہنچا ہے کہ ہم اپنے کچھ مسئلوں کو جنگی نوعیت کا قرار دے کر ان پہ پورے جذبے کے ساتھ کام کریں اور ان میں سب سے پہلا مسئلہ تعلیم کا ہے اسلام کا نہیں۔ صوبوں کو اسکول کی تعلیم کا حق حاصل ہے انہیں اسکی ترویج کے لئے جان لگانی چاہئیے۔
پولیو کے ٹیکوں کی طرح پرائمری سطح کی تعلیم کے لئے ایک ٹارگٹ مقرر کرنا چاہئیے کہ آئیندہ پانچ  سال میں ہمارا ہر بچہ اسکول کی اتنی تعلیم حاصل کرے گا اخبار پڑھ سکے اور اپنی زبان میں خط لکھ سکے۔ جب صوبے اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں تو انہیں ہائیر ایجوکیشن کی ذمہ داری دی جائے۔ فی الوقت تو یہ فیصلہ صرف دو پس منظر رکھتا ہوا لگ رہا ہے۔ ایک جعلی ڈگری کی شناخت کی وجہ سے ایچ ای سی پہ عتاب اور دوسرے صوبوں کو تعلیم کی مد میں ملنے والے فنڈ میں زیادہ خرد برد کے آسان مواقع حاصل کرنا۔ صوبوں کی سطح پہ جہاں علاقائ اثر زیادہ گہرا ہو گا، خرد برد اور غبن کے مواقع زیادہ آسان ہونگے۔

Thursday, March 4, 2010

رقیب سے

بارے کچھ اپنی تعلیمی قابلیت کا تذکرہ ہو جائے کہ اس سے اردو بلاگنگ کی دنیا میں کچھ لوگوں کو 'کچھ کچھ' ہوتا ہے۔ اور عالم یہ ہو گیا ہے کہ
ذکر میری پی ایچ ڈی کا، اور پھر بیاں انکا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
تو ان سب رقیبوں کو نئے راستے دیتی ہوں۔ دل کے بہلانے کو کچھ نہ کچھ تبدیلی لاتے رہنا چاہئیے کہ یہ دل مانگے مور۔  اسکی وجہ یہ ہے کہ سب کے پاس جو اطلاعات ہیں وہ خاصی ادھوری ہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ لوگ میری پی ایچ ڈی کو اپنے لئیے ایک تازیانہ سمجھتے ہیں۔ لیکن چونکہ یہ کارنامہ میں نے بلاگنگ کی دنیا میں آنے سے پہلے کیا تھآ اس لئے اس میں میرا قصور اتنا نہیں جتنا کہ لوگوں کی نیت میں فتور ہے۔
میں نے بیچلرز آنرز، کراچی یونیورسٹی سے کیا اور پھر وہیں سے نامیاتی کیمیاء میں ماسٹرز کیا۔ اور ابھی ہمارے ماسٹرز کا آخری سمسٹر ختم بھی نہ ہوا تھآ کہ یونیورسٹی میں واقع تھرڈ ورلڈ کے سینٹر آف ایکسیلینس کے اینٹرنس ٹیسٹ اور انٹرویو میں جا پہنچے۔ خدا کا کرنا یوں ہوا کہ دونوں مرحلوں سے بخیر و عافیت گذر گئے۔ اور بس ماسٹرز کے آخری پیپر کے بعد تمام تر مخالفتوں اور نا مساعد زمینی حالات  کے باجود ریسرچ شروع کر دی۔
پی ایچ ڈی کا مطلب ہے ڈاکٹر آف فلاسفی۔ اگر آپ اسکی تمام شرائط کو پورا کریں تو یہ محض ایک کاغذ کی ڈگری نہیں ہوتی بلکہ یہ آپکے روئیے، نظریات اور زندگی کی طرف دیکھنے کی صلاحیتوں میں واضح تبدیلیاں لے آتی ہے۔ اگر میں ماسٹرز کرنے کے بعد اس راہ پہ قدم نہ رکھتی تو آج کی نسبت بہت مختلف ہوتی۔ اسکی وجہ ریسرچ کے مطالبات ہیں۔۔ 
 چونکہ دراصل پی ایچ ڈی فلسفے کی طرف لیجاتی ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا کو عقل کی عینک سے دیکھنے کا نام ہے۔ اسکا بنیادی مقصد کسی انسان میں آزاد سوچ کو پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ماسٹرز تک کی سطح پہ ہم ایک کورس پہ عمل کرتے ہیں اسی میں سے ہمارا امتحان ہوتا ہے۔ لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پہ اس بات کی تربیت ہوتی ہے کہ ہم اپنے طور پہ مسائل پہ قابو پانے اور انکے حل کی طرف اپنی صلاحیتیں خود سے استعمال کرنے کے قابل ہوں اور اس سے بھی ایک قدم آگے کہ ہم مسائل کے پیدا ہونے سے قبل یہ کامیاب اندازہ لگانے کے قابل ہو جائیں کہ آنیوالے مسائل یہ ہونگے۔ انگریزی میں اسے ویژن کا پیدا ہونا کہتے ہیں۔ ویژن کا اردو ترجمہ مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیت  کر سکتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب اس طرح کی اسناد نہیں ہوتی تھیں لوگ اپنے تجربے، مشاہدے اور علم سے یہ قوت حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہ ایک مشکل بات ہوتی تھی کہ ہر شخص اپنے محدود ذرائع کی وجہ سے صحیح بات تک پہنچنے کے قابل نہ ہو پاتا تھا۔ وقت کے ساتھ آسانیاں آئیں، یونیورسٹیز کی صورت میں ان تمام طریق ہائے کو ایک جگہ کر دیا گیا۔ اور سکھانے کے طریقے نکالے گئے اور یوں اب اہل طلب کے لئے مشکلات پہلے سے کم ہیں۔
لیکن سیکھنے کا عمل اتنا ہی وقت لیتا ہے جتنا آج سے ہزار سال پہلے لیتا تھا۔ اب زندگی اس لئے مشکل ہو گئ کہ مجھے اپنے کسی تحقیقی مضمون پہ تحقیق کرتے وقت گذشتہ ہزار سال میں جو کچھ ہوا اسے بھِی نظر میں رکھنا پڑتا ہے ۔ جبکہ آج سے ہزرا سال پہلے کسی شخص کی الجھنیں یہ نہیں کچھ اور تھیں۔
 اب سائینسی سطح پہ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران مختلف مرحلے ہوتے ہیں۔ پہلا مرحلہ ریسرچ پروجیکٹ تیار کرنا ہوتا ہے، اس میں ایک سپر وائزر یہ مدد کر سکتا ہے کہ وہ مختلف موضوعات بتا دے جسکے تحت اس ادارے میں سہولیات موجود ہوں اور وہ خود بھی اسے کرانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس پروجیکٹ پہ کام کرنے سے پہلے یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ اب تک کی ریکارڈڈ تاریخ میں اس پہ کس نوعیت کا کام ہوا ہے۔ اس ساری تاریخ کو مختلف جرنلز سے کھنگالا جاتا ہے اور اس مِں ذرا سی غلطی یا صرف نظر کی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ اس صورت میں آپکا کام نقل کہلائے گا اور کوئ بھی اچھا ادارہ اس پہ یہ سند نہیں دیگا۔
 دوسرے مرحلے پہ اس تمام پروجیکٹ کو تجرباتی سطح پہ کر کے ایسے نتیجے نکالنے ہوتے ہیں جو آپ سے پہلے کبھی کسی نے نہ نکالے ہوں، آپکا نتیجہ بالکل نیا نکور ہونا چاہئیے۔ تیسرے مرحلے پہ آپ ان تمام نتائج کو جو آپ نے اخذ کئے ہوتے ہیں انکے لئیے دلیلیں تلاش کرنی ہوتی ہیں اور ان پہ جو کام پہلے کیا گیا تھا۔ چاہے وہ سو سال پہلے ہی کیوں نہ کیا گیا ہو۔ اپنی دلیلی کو ان تمام نتائج کی رو سے ثابت کرنا ہوتا ہے۔ اچھا، یہ تمام کام تو چلتا رہتا ہے۔ لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ کورسز ہوتے ہیں اور انکے امتحانات بھی جنہیں پاس کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ نظریات طور پہ بھی اپنے میدان کے علاوہ بھی باقی چیزوں کی معلومات رہے۔ وہ تمام نتائج جو آپ نے انپے تجربات کے دوران حاصل کئے انہیں چھوٹے چھوٹے تحقیقی مضامین کی شکل میں شائع کرانا ضروری ہوتا ہے۔ ان مضامین کو تحقیقی مقالہ کہتے ہیں۔ ان مقالوں میں  کسی نئ معلومات کو بیان کیا جاتا ہے، اسکے ثبوت اور اس پہ موجود حقائق کی داستان دی جاتی ہے۔ کسی بھی سائینسی جریدے میں چھپنے سے پہلے انکا تفصیلی مطالعہ ریفریز کرتے ہیں۔ جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا تھا۔ وہاں کی شرط غیر ملکی سائینسی جریدے تھے۔ انکے ریفریز بھی غیر ملکی ہوتے ہیں ایک پی ایچ ڈی کے لئیے کم سے کم شائع ہونے والےتحقیقی مقالوں کی تعداد مقرر ہوتی ہے۔
اسکے ساتھ ہی ساتھ، ہر پی ایچ ڈی کرنے والے کو اپنی تمام تربیت کے دوران سیمینارز کی ایک مخصوص تعداد دینی ہوتی ہے۔  جس میں تمام فیکلٹی اور ادارے کے تمام طالب علم اور اگر باہر سے کوئ مہمان سائنسداں موجود ہو سب شریک ہوتے ہیں اور ہر ایک سوال کرنے کا حق رکھتا ہے جسکا تشفی جواب دینا ضروری ہوتا ہے۔ ہر سیمینار کی طوالت ایک گھنٹہ ہوتی ہے۔ اسکی تیاری کسی طرح ایک تحقیقی مقالے سے کم نہیں ہوتی البتہ اس میں آپکی کوئ نئ تحقیق نہیں بلکہ پرانے کام کو استعمال کیا گیا ہوتا ہے۔ پرانے کام سے میری مراد  وہ کام ہے جو تحریری سطح پہ  دنیا میں کہیں بھی موجود ہے۔
اسکے علاوہ گروپ میٹنگز اور گروپ ڈسکشنز ہر ہفتے ہوتے ہیں، کانفرنسز میں شرکت اور ورکشاپس میں تربیت بھی شامل ہیں۔ اگر ہم باہر کے کسی سائنسداں کے ساتھ مل کر کسی پروجیکٹ پہ کام کر رہے ہوں تو اسے بھی رپورٹ دینی ہوتی ہے۔ اور اپنے روزانہ کے کام کی رپورٹ بھی تیار کرنا ہوتی ہے۔
پی ایچ ڈی کے آخری مرحلے میں ایک پینل کے سامنے آپ نے جو کچھ دوران پی ایچ ڈی کیا اسکا دفاع کرنا ہوتا ہے۔ اسکا ایک اور اہم مرحلہ، اپنے تمام نتائج اس پہ گفتگو، اسکی پچھلی تاریخ اور اسے تیار کرنے کے لئیے جتنے بھی حوالے آپ نے استعمال کئیے، جنکی تعداد کءی سو تک جا پہنچتی ہے سب اس تھیسس میں جمع کرنے ہوتے ہیں۔  جس پہ سند ملتی ہے۔
یہ تھیسس ، اس ادارے سے جہاں سے میں نے پی ایچ ڈی کیا وہاں سے پاکستان سے باہر کسی بھی کیمسٹری کے اعلی ادارے میں کام کرنے والے  دو مختلف تحقیق دانوں کو بھیجا جاتا ہے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ تحریر اس قابل ہے کہ اس کو پی ایچ ڈی کی سند دی جا سکے۔
 تو محترم قارئین، چاول کے دانے پہ تحریر لکھنے والا یقیناً بہت بڑا آرٹسٹ ہے، میرے کمپیوٹر کے ہارڈ وئیر پہ کام کرنے والا اپنے کام کا بے حد ماہر ہے، حتی کہ وہ میکینک جس  سے میں اپنی گاڑی صحیح کراتی ہوں وہ اس سلسلے میں مجھ سے کہیں زیادہ بہتر معلومات رکھتا ہے، شیف ذاکر مجھ سے اچھا کھانا پکاتے ہونگے، طاہرہ سید، مجھ سے اچھا گا تی ہیں ۔ ریما مجھ سے کہیں بہتر ڈانس کر سکتی ہیں۔  ایشوریا رائے مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے۔ لیکن ان سب نے وہ نہیں کیا جو میں نے کیا ہے۔ 
مزے کی بات یہ ہے کہ میں تو کسی پہ اپنا علم جتاتی بھی نہیں نہ کسی بھی شخص کے بارے میں یہ جاننے کی کوشش کرتی ہوں کہ اسکی تعلیمی استطاعت کیا ہے۔ آج تک میں نے کسی کے بلاگ پہ اسکا پروفائل نہیں چیک کیا۔ میں تو لوگوں کو انکے لکھے ہوئے سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں۔  اب کسی کا اس بات پہ اپنا دل جلانے کا کیا فائدہ۔ کیا فائدہ کہ آپ ہر وقت اس چیز پہ اپنی انگلیاں تھکاتے رہیں کہ دراصل پی ایچ ڈی کی کوئ اہمیت نہیں اور اس چیز کی اہمیت ہے اور اس چیز کی ہے۔ اس سے صرف ایک بات مجھے پتہ چلتی ہے اور وہ یہ کہ آپ کو اپنے اوپر اعتماد نہیں۔  ایسا کہنے والا مجھے اس ٹین ایجر بچے کی طرح لگتا ہے جو اپنے ارد گرد کی دنیا سے ہر صورت بغاوت کرنا چاہتا ہے۔ بغیر اپنی صلاحیتوں کو آزمائے۔
آپ میری بیان کی ہوئ کسی چیز میں غلطی نکالنا چاہتے ہیں بصد شوق۔ مگر میری پی ایچ ڈی پہ تبرہ بھیجنے سے آپکے الفاظ کی اہمیت میں کوئ اضافہ نہیں ہوگا۔ اگر آپ میری کسی دی ہوئ معلومات کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو کسی مستند لکھنے والے کا حوالہ دیجئیے اور پھر اپنی بات کریں۔ میری پی ایچ ڈی کی تربیت مجھ سے یہی کہتی ہے۔ کسی سنی سنائ بات پہ یقین نہ کریں جب تک اسے ایسے تجربے کی کسوٹی پہ پرکھ نہ لیں جوکوئ دوسرا کرے تو اسے بھی وہی نتیجہ ملے جو آپکو ملا ہے۔ یا اگر ایسا نہ کر سکیں تو کسی مستند ذریعے سے اسکی تصدیق نہ کر لیں۔ اور یہ مستند ذریعہ لکھے ہوئے الفاظ ہوتے ہیں۔ اس لئیے ہم اپنی مذہبی کتاب کو اتنی اہمیت دیتے ہیں۔ اب اعتماد سے بات کرنی ہے تو یہی طریقہ لگانا ہوگا۔ ورنہ دوسری صورت یہی ہوگی کہ آپ کسی کی علمی قابلیت کے بارے میں جان لیں گے تو اپنی سطح بلند کرنے کے بجائے اس میں خامیاں نکالتے رہیں گے۔ جو لوگ اپنی عمر گذار چکے انہیں چھوڑ کر باقی سب  تو ابھی عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں ہر لحظہ کچھ نئے کی امنگ سے بھرا رہنا چاہئیے۔ پھر یہ رویہ کیوں؟
میری باتوں پہ آپکا عمل کرنا بالکل ضروری نہیں۔ کیونکہ آپ  کہہ  سکتے ہیں کہ  آپکی بات پہ کیوں عمل کیا جائے آپ تو کتاب لئیے گھڑے میں بٹھی ہیں اور لوگ بالائ چاٹ چاٹ کرایک گھڑے سے نکل کر دوسرے میں جا چکے ہیں۔

Thursday, August 13, 2009

برسبیل تذکرہ


میں اپنے کمرے میں آنیوالی لیب کی تیاری کر رہی ہوں کہ کمرے کے دروازے پہ دستک ہوتی ہے۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا۔ یہ فرسٹ ائیر آنرز کی دو لڑکیاں ہیں۔ ایک برقعہ پہنتی ہے اور دوسری برقعے کے بغیر۔ میری ایک سو بیس اسٹوڈنٹس کی کلاس میں یہ لڑکیاں ان پانچ چھ اسٹوڈنٹس میں شامل ہیں جو کلاس کے بعد مجھ سے ملتے ہیں، اس لیکچر کو ڈسکس کرتے ہیں، مزید حوالے چاہتے ہیں اور ان سے منسلک سوالات کو حل کر کے مجھے دکھانے بھی ضرور آتے ہیں۔ انکی اس ساری مشق کے پیچھے نہ صرف انکی علم حاصل کرنے کی لگن شامل ہے۔ بلکہ میرا وہ رویہ ہے جو میرے بیشتر سینئیر استادوں کو جو کچھ عرصہ پہلے میرے بھی استاد رہ چکے ہیں ایک نظر نہیں بھاتا۔
میں نے ٹیچرز کی ایک غیر رسمی میٹنگ میں اپنے کچھ سینئیر اساتذہ کو یہ بات کہتے سنا کہ یہ کتنا عجیب ہے کہ جونئیر اساتذہ کے کمرے میں اسٹوڈنٹس بغیر کسی جھجھک کے چلے جاتے ہیں۔ اس طرح تو استاد کی کوئ عزت اور احترام اور رعب دبدبہ نہیں رہتا۔ اور اس طرح سے اسٹوڈنٹس میں کتنا بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ یہ سینئیر اساتذہ اپنے ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں اور میں نے ابھی آغاز کیا ہے۔انکے اور میرے درمیان ایک نسل کا ہی نہیں اس لامتناہی علم کا بھی فرق ہے جو ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی کی وجہ سے ایک آتش فشاں پہاڑ کی طرح پھوٹ پڑا ہے۔ آج استاد ہونےکی تعریف کچھ مختلف ہو گئ ہے۔
ہاں، میری ان اسٹوڈنٹس میں سے برقعہ پوش خاتون کا نام نزہت اور دوسری کا نام سائرہ ہے۔ ناموں سے آسانی رہتی ہے اور مخاطب کرنے کے مناسب القاب ڈھونڈنے کے تردد سے بچ جاتے ہیں جو بعض اوقات خاصہ خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ وہ موٹی، چھوٹی فٹبال نما لڑکی اور وہ کالا سا زرافہ مخنچو، یہ نہ صرف ان افرادکی بلکہ مخاطب کرنے والے کی صحت کےلئے بھی مفید نہیں ہوتا۔
ان لوگوں نے دستک دینے کے ساتھ سلام کیا اور کہنے لگیں میم عید مبارک۔ کیسی گذری آپکی عید۔ جواباً میں نے ان سے ان کی عید کے بارے میں پوچھا۔ سائرہ مذہباً عیسائ ہے یہ مجھے اسکے نام کے بقیہ حصے سے پتہ چلا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ مجھے حیرت ہوئ جب وہ امتحان کے زمانے میں اسلامیات یاد کر رہی تھی۔ آپ لوگوں کے لئے تو اخلاقیات کا مضمون ہوتا ہے۔ پھر اسلامیات کیوں پڑھی جا رہی ہے۔ میم سب اسکی تیاری کر رہے ہوتے ہیں اب میں کیا الگ سے ایک مضمون کی تیاری کروں۔ لیکن ہمیشہ اسلامیات پڑھنے کے باوجود وہ عیسائ ہے۔ وہ نہ صرف میرے مضمون کے دونوں حصوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کر چکی ہے بلکہ دیگر مضامین میں بھی اسکی کارکردگی نمایاں ہے۔ ان سے کچھ رسمی بات کرنے کے بعد میں پھر اپنے کام میں مشغول ہو گئ۔ پھر انہیں اسی استقامت سے کھڑا دیکھ کر مجھے کچھ شبہ ہوا۔ کوئ خاص بات ہے۔ میں نے دریافت کیا۔ میم عیدی چاہئیے۔ یہ لیجئیے میرا خرچہ آگیا ۔
میں مسکرا دی۔ روزے رکھےتھے۔ نزہت نے بڑے جوش میں جواب دیا سب رکھے تھے۔ اور عید بھی اتنی اہتمام سے منائ۔ سائرہ خاموش کھڑی آہستہ سے مسکراتی رہی۔ میں نے اپنا بیگ چھانا اور دس روپے کا ایک تازہ نوٹ ٹوکن عیدی کے طور پر نزہت کو دیا۔ وہ چیخ پڑی۔ میم اسے تو میں پلاسٹک کوٹنگ کرواکے رکھ لونگی۔ سائرہ نے آواز نکالی اور میری عیدی۔ عیدی روزے رکھنے والوں کو ملتی۔ میں نے اسے چھیڑا۔ اب آپ لوگ بھاگیں میری لیب شروع ہونے میں دس منٹ رہ گئے ہیں۔ وہ خامشی سے چلے گئے۔ میں اپنا لیب کوٹ پہننے لگی کہ دفعتاً مجھے لگا کہ میرا دل اندر سے خالی ہو گیا ہے۔ میں نے کوٹ میں سے ہاتھ نکالااور دروازے کی طرف دوڑ لگائ۔ وہ لوگ کوریڈور کے آخری سرے پہ پہنچ کر مڑنے والی تھیں۔ تہذیب کے برخلاف میں نے وہاں سے آواز لگائ۔ سائرہ۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں کمرے میں آنے کا کہا۔اب وہ کمرے میں موجود ہیں۔ میں نے ایک اور تازہ نوٹ نکالا اور سائرہ کو دیا۔ یہ آپکی عیدی ہے میں تو آپ کو چھیڑ رہی تھی۔ اسکے خاموش چہرے پہ وہی مدھم مسکراہٹ پھیل گئ جو مجھے بےحد پسند ہے۔
وہ لوگ جا چکی ہیں۔ میں آخری پانچ منٹ گذرنے کے انتظار میں کھڑکی کے ساتھ کھڑی ہوں۔ ذرا سی بلندی پر آجانے سے چھوٹی چھوٹی بدصورتیاں ختم ہوجاتی ہیں۔زمین کتنی وسیع اور آسمان کتنا کھلا لگتا ہے۔ میں نے کبوتروں کی غٹر غوں کے ساتھ سوچا۔

Thursday, June 11, 2009

میں نہ مانوں

میں پاکستان سے باہر چند پاکستانی خواتین کے ساتھ بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھی کہ کسی نے ٹکڑا لگایا۔' یار پاکستانی لڑکیاں بہت میک اپ کرتی ہیں۔ معلوم ہے ان کے کمروں میں جا کر دیکھو تو ڈریسنگ ٹیبل پہ طرح طرح کا سامان بھرا پڑا ہوتا ہے اسکے باوجود پاکستانی اپنے آپ کو غریب کہتے ہیں۔' وہاں موجود ہر ذی روح نے اس کی تائید کی، سوائے میرے۔ کتنی پاکستانی لڑکیوں کے پاس اپنے ذاتی کمرے اور ان میں ڈریسنگ ٹیبل موجود ہوتا ہے چہ جائیکہ بھانت بھانت کا میک اپ کا سامان۔ ہم اس خطے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں ایک کمرے میں پانچ چھے لوگ سوتے ہیں۔لوگوں کے پورے گھر ایک کمرے پہ مشتمل ہوتے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی کی حد تک میں نے یہ دیکھا کہ نوے فی صد لڑکے اور لڑکیاں شام کو ٹیوشن پڑھاتے ہیں۔ جواب ملا لیکن یونیورسٹی کی نوے فیصد لڑکیاں لپ اسٹک لگاتی ہیں۔ اتنی ٹیوشن پڑھا کہ چھ مہینے میں سو روپے کی ایک لپ اسٹک لگا لینا نہ کوئ عیاشی ہےاور نہ وہ اس جملے کی حقدار ٹھیرتی ہیں۔یہ تو بس ایک شوق ہے۔ کوئ اور زندگی میں تبدیلی نہیں لا سکتے چلو لپ اسٹک لگا لی۔ یہاں میں یہ وضاحت کردوں کہ اپنی اسٹوڈنٹ لائف میں اور اب بھی، میں کبھی لپ اسٹک کی شوقین نہیں رہی لیکن کسی کےایسے بے ضرر شوق کو برا بھی نہیں کہتی۔ خیر تمام تر غربت کے ڈیٹا اور کاسمیٹکس کے استعمال کی شرح کی معاشیات کے ان سب نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ غلط کہہ رہے ہیں۔ اس لئیے کہ وہ سب پاکستانی معاشرے کے اعلی طبقات سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے اپنی محدود دنیا کے علاوہ پاکستان کے بیشتر حصے کو نہ دیکھا تھا نہ محسوس کیا تھا۔

اب یہ ایک اور منظر ہے میں اپنے دوستوں کو اندرون سندھ اپنے قیام کے بارے میں بتا رہی تھی۔ 'یار سانگھڑ کے اطراف میں بڑی خوبصورت جھیلیں ہیں۔ اور بعض جو کنول کے پھولوں سے ڈھکی ہوئ ہیں بہت زبردست لگتی ہیں۔' میرے ایک دوست جن کا تعلق سندھ سے نہیں تھا ایکدم بول اٹھے۔ 'دیکھا پھر بھی سندھ والے شور مچاتے ہیں کہ ہمارے لئیے پانی نہیں ہے'۔ میں نے ان کی طرف حیرانی سے دیکھا ۔ ' مگر آپ نے دریائے سندھ کا ڈیلٹا شاید نہیں دیکھا ۔ ایکدم خشک ہے اور اسے صحرائے سندھ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ اس میں تو خشک ریت کے ٹیلے جا بجا نظر آتےہیں۔' 'ارے نہیں ابھی مشرف نے اپنی تقریر میں کہا کہ سالانہ کتنا پانی ڈیلٹا سے گر کے ضائع ہوتا ہے۔' مشرف کا مخالف ہونے کے باوجود انہوں نے اس کا حوالہ دیا۔'ہاں میں نے بھی انکی یہ تقریر سنی اور مجھے حیرانی ہے کہ کون انہیں یہ ڈیٹا پیش کرتا ہے اگر وہ ہیلی کاپٹر سے ایک دفعہ ڈیلٹا کا چکر لگا لیں سب لگ پتہ جائے۔ اور جو ان جھیلوں کی میں آپ سے بات کر رہی ہوں ان میں سے بیشتر پانی کی کمی کی وجہ سے نمکین ہو گئ ہیں۔ میرے پاس ان نمکین جھیلوں کی کافی تصویریں موجود ہیں اور آپ کو ضرور دکھاءونگی'۔ مگر انہوں نے میری بات تسلیم نہیں کی وہ ہمیشہ کراچی جہاز سے آتے جاتے رہے اور انہوں نے کبھی دریا کے ڈیلٹا پہ سے گذر کر نہیں دیکھا تھا۔ بس ان کا خیال تھا کہ جو بات انہوں نے اپنے جیسے لوگوں سے سنی ہے وہی صحیح ہے۔

یہاں ایک اور خاتون کا تذکرہ جن سے میری ایک تقریب میں اتفاقاً ملاقات ہو گئ ۔ انہیں معروف انگریزی صحافی ارد شیر کاءوس جی بہت پسند ہیں۔ مجھے بھی ان کی بے باک تحریر پسند ہے۔ تو میں نے ان سے کہا۔'آپ کو معلوم ہے کاءوس جی نے ایک دلچسپ بات کہی اور یہ بات وہی کہہ سکتے تھے ۔ ٹی وی پہ ان کا انٹرویو آرہا تھا اور میزبان بضد تھے کہ وہ بتائیں اگر انہیں وزیر اعظم بنا دیا جائے تو وہ کیا کریں گے۔ انہوں نے جواب دیا۔ میں کیوں بنوں چودہ کروڑ جٹوں کا وزیر اعظم۔' ان خاتون نے اس بیان کو ماننے سے انکار کردیا۔ کیونکہ وہ ان چودہ کروڑ لوگوں میں شامل تھیں اور سمجھتی تھیں کہ وہ کاءوس جی کو پسند کرتی ہے اور وہ اس پسندیدگی کے بدلے میں انکے بارے میں ایسی بات نہیں کہہ سکتے۔ حالانکہ میں بھی ان چودہ کروڑ لوگوں میں شامل تھی مگر مجھے مزہ آیا۔ میں صرف یہ کہہ سکتی تھی کہ آپ کو اس پروگرام کی ریکارڈنگ کہیں سے مل جائے یا آپ خود انہیں میل کرسکتی ہوں تو ضرور ان سے پوچھ لیں۔ میں نے یہ پروگرام اپنے گھر والوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ کہیں تو ان سب کی گواہی دلوادوں۔ مگر ادھر وہی بات۔ میں نہ مانوں۔

یہ تو چند چیدہ چیدہ واقعات تھے جو میری یاد داشت میں رہ گئے۔

لیکن ان جیسے واقعات کی یاد تب تازہ ہوئ جب میں نے کچھ حقیقی واقعات کے حوالے اپنی تحریروں میں دئیے اور لوگوں نے کچھ ایسے ہی تبصرے دئیَے ۔ مثلاً پٹھانوںکا خواتین کو ہراس کرنا۔ کہا گیا کیایہ حسن اتفاق ہے کہ آپ کو پٹھان ملتے ہیں۔ اے کاش آپ کو خدا عورت کی حیثیت سے کراچی میں پیدا کرے اور آپ کا گھر یا آفس یا تعلیمی ادارہ ان کی کسی بستی کے آس پاس ہو۔تو آپ کو پتہ چل جائے گا کہ خواتین ان سے اتنا کیوں بدکتی ہیں۔ ورنہ آپ کے لئیے مشکل ہےسمجھنا۔ گھبرائیے نہیں، خدا اپنی سنت کے حساب سے ایسا کریگا نہیں۔ اس لئیے میں بس ہنس دیتی ہوں۔

یہ ایک اور حیران صاحب ہیں انہیں حیرت ہے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ خاندان میں اتنے لوگ بھی نہ ہو کہ خاندان کے مردوں میں سے دو گواہ نہ نکل سکیں۔ اب میں کیا کروں۔ قسم تو کھا نہیں سکتی کہ جو کچھ کہتی ہوں سچ کہتی ہوں۔اگر آپ سے بھی ڈرنے لگی تو پھر یہ بھی کوئ زندگی ہے۔۔اگر وہ کراچی میں رہائش پذیر ہیں تو مجھ سے رابطہ کریں۔ میں انہیں اس تجاہل عارفانہ سے نکالنا چاہوں گی اور کراچی میں واقع ایسے لا تعداد گھروں میں لیجا ءونگی جہاں گھروں میں آسٹیوپوریسس کی ماری خواتین یا ضعیف جوڑے اکیلے رہتے ہیں۔ اور سارا دن اپنے کمپیوٹر پہ بیٹھے اپنے ہزاروں میل پر موجودبچوں اور پوتا پوتیوں سے چیٹنگ کرتے رہتے ہیں۔ مگر وہ تبصرہ نگار ، خود بھی چونکہ دن رات کمپیوٹر پہ مصروف رہتے ہیں اس لئیے انہیں معلوم نہیں کہ ان کے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔کمپیوٹر اتنی ہی بری چیز ہے۔ اور یہ انٹر نیٹ ایج کا المیہ ہے۔ اس کا بھی کوئ حل نکالنا ہوگا۔

کیا ایسا ممکن نہیں کہ ہم اپنی لا علمی کو کھلے دل سے تسلیم کریں۔ ہر انسان ہر چیز تو نہیں جان سکتا۔ ہہر شخص بہترین مشاہداتی قوت نہیں رکھتا اور جو رکھتے ہیں وہ صحیح نتیجہ نہیں نکال پاتے۔ مگر محض یہ سوچنا کہ نہیں جناب، اگر ہم نے آپ کی بات تسلیم کر لی تو ہم آپ کے مقابلے میں کم علامہ ثابت ہو جائیں گے۔ ہم اپنے نظرئیے سے الگ ہوجائِں گے ہمارے وہ ساتھی جن کے ساتھ ہم نے نظریاتی طور پہ ساتھ جینے اور مرنے کی قسمیں کھائیں ہیں ہم ان سے بیوفائ کریں گے۔ یقین جانیں ایسا کچھ نہیں ہوگا کم از کم میرے ساتھ اب تک ایسا نہیں ہوا۔بلکہ آپ حقائق سے زیادہ قریب ہونگے۔اور بہت سارے ایسے لوگوں سے قریب ہونگے جن سے آپ کا نظریاتی اختلاف ہوگا اور پھر اختلاف کی نئ راہیں نکلیں گی۔ زندگی میں کچھ تو نیا ہونا چاہئیے۔

اب میں ایک ایسی پوسٹ لکھنے والی ہوں جس میں ، میں یہ بتاءونگی کہ مجھے کتنی سادہ سادہ باتیں پہلے نہیں معلوم تھی جومیرے ساتھیوں کی وجہ سے میرے علم میں آئیں۔ ان سب کا پیشگی شکریہ۔