اندھیرا پھیل چلا تھا جب میں مشعل کو رات کا کھانا کھلا کر فارغ ہوئ۔ پتہ چلا کہ محلے سے دو خواتین ملنے کے لئے آئ ہیں۔ عبایہ پہنے ہوئے جب وہ اندر آئیں تو مجھے لگا کہ ان میں سے ایک سے پہلے مل چکی ہوں۔ طیبہ، یہی نام ہے ناں تمہارا۔ میں نے ان میں سے ایک سے کہا۔ وہ ایکدم مسکرائ۔ میں سمجھی تم مجھے بھول گئ۔ ارے نہیں، میں اتنے عرصے بعد یہاں آئ ہوں تم اتنی بڑی ہو گئیں۔
طیبہ، اپنی بڑی بہن اور چھوٹے بہن بھائیوں کے ساتھ آئ تھی۔ اسکی عمر یہی کوئ چودہ پندرہ سال ہوگی۔ اسکی بڑی بہن اس سے کوئ دو تین سال بڑی تھی۔ نام تھا اس کا فرض کریں کہ رخسانہ۔
تم لوگوں کو اردو کیسے آتی ہے؟ ڈارمے دیکھتے ہیں اور فلمیں کیبل پہ۔ اس سے آئی ہے۔ کیبل یہاں کوئ چار سال پہلے آیا ہے۔ اور چار سال کے حساب اردو فرسٹ کلاس۔ جو چینلز یہاں آتے ہیں وہ زیادہ تر انڈین یا ایرانی ہیں۔ ایرانی اس لئے کہ گوادر سے ایرانی سرحد زیادہ دور نہیں۔ اور انڈین کس لئے، یہ نہ معلوم یا معلوم؟ پاکستانی چند چینلز آتے ہیں ان میں سے ایک دو خبروں کے ہیں۔ ڈرامے کا کوئ چینل نہیں ہے۔ لازماً ان لوگوں کی اردو پہ ہندی کا اثر ہے۔ جب ہی ایک بچے نے مجھ سے پوچھا کیا تم پتنی ہو؟
جتنی دیر وہ میرے پاس بیٹھی رہی۔ رخسانہ اپنی دوچ ، خواتین کا خاص بلوچی لباس، کی جیب میں سے موبائل نکال کر دیکھتی رہی۔ یہ مجھے پتہ چل گیا کہ تم ہو بڑی مالدار، موبائل فون ہے تمہارے پاس۔ میں نے اسے چھیڑا۔ لیکن یہ بتاءو، جب تمہیں پڑھنا نہیں آتا تو تم کیسے موبائل کو چیک کرتی ہو۔ ہنسنے لگی۔
ہلکے پھلکے مذاق کے بعد میں نے گفتگو کو قائم رکھنے کو پوچھا ، تو تم لوگ تین بہنیں چار بھائ ہو۔ نہیں ہم چار بہنیں اور چار بھائ تھے۔ بڑی بہن مر گئ۔
میں خاموش ہو گئ۔ اچھا کیسے مر گئ۔ وہ اسکی شادی ہو گئ تھی۔ وہ پھر خاموش ہو گئ۔ ہمم، بچے کی پیدائش کے سلسلے میں مر گئ۔ نہیں اسے میرے گھر والوں نے زہر دے دیا تھا۔ اس نے اتنے سادہ اورعام لہجے میں کہا زہردے دیا تھا، جیسے گھر میں کسی چوہے کے مرنے مارنے کا تذکرہ ہو، میں دنگ رہ گئ۔ ایک سال پہلے وہ مری۔ اندازاً اٹھارہ انیس سال کی ہوگی۔
مگر تمہارے گھر والوں نے اسے زہر کیوں دیا؟ وہ اسے اپنا شوہر پسند نہیں تھا۔ اس نے کچھ سوچ کر کہا۔ کیوں؟ وہ اس سے بہت بڑا تھا۔ پہلے بھی اسکی دو شادیاں ہوئیں تھیں۔ وہ اسکی تیسری بیوی تھی۔
تمہیں کیسے پتہ گھر والوں نے اسے زہر دیا تھا؟ یہاں سب کو یہ بات پتہ ہے۔ وہ ہمارے گھر رہنے آئ ہوئ تھی۔ بس ایک دن مر گئ۔
غیرت بڑی چیز ہے جناب۔ اسکے آگے ایک اٹھارہ انیس سال کی لڑکی کیا اوقات ہے۔ اسی صوبے کے ممبرقومی اسمبلی نے ایک دفعہ کہا تھا کہ غیرت پہ قتل ہماری روایت ہے۔ اور اس بات سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں کہ خواتین کے سلسلے میں روایت توڑی نہیں جا سکتی اور جو جہاں ہے وہاں سے وہ حتی المقدور حصہ لیتا ہے۔ جو عملی طور سے نہیں کر پاتے وہ زبان سے کرتے ہیں۔
بلوچ بغاوت کرنا چاہتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ کس کے خلاف بغاوت کرنی چاہئیے اور یوں کچھ روحیں شب انتظار کے مختصر ہونے کے انتظار میں برزخ میں ہیں۔
میں نے بات بدلنے کو کہا۔ تم دونوں کی منگنی ہو گئ کیا۔ دونوں شرما گئیں، نہیں ابھی تو نہیں۔ اچھا یہ بتاءو تمہارے یہاں لڑکی کو کیسے پسند کرتے ہیں۔ نہیں، ہمارے یہاں پسند کی شادی نہیں ہوتی رخسانہ نے فوراً میری بات کاٹی۔ مجھے معلوم ہے تمہارے یہاں ایسے نہیں ہوتا۔ میں پسند کی شادی کا نہیں کہہ رہی یہ پوچھ رہی ہوں کہ ایک لڑکی کو لڑکے والدین جب دیکھتے ہیں تو وہ کس چیز کو پسند کرتے ہیں۔ شکل صورت، ابا کا کام یا اسکی پڑھائ۔ کیسے انہیں کوئ لڑکی پسند آتی ہے۔
طیبہ کی بڑی بہن نے پہلے سوچا اور پھر بڑے مدبرانہ انداز میں کہنے لگی۔ ہمارے یہاں اس لڑکی کو پسند کرتے ہیں جو عزت میں زیادہ ہو۔ کون عزت میں زیادہ ہوتی ہے؟ میں نے پھر سوال داغا۔ جواب، وہ جسے گھر کے سارے کام آتے ہوں، کڑھائ سلائ آتی ہو، جانوروں کو دیکھ لیتی ہو۔
اس پہ میں نے طیبہ سے کہا، طیبہ تمہارا کیا ہوگا۔ تمہاری شکل تو اچھی ہے لیکن عزت تو تمہاری بڑی بہن کی زیادہ ہے اسے سب کام آتے ہیں اور تمہیں صرف جھاڑو دینا آتی ہے۔ اسکی شادی تو ہو جائے گی تم کیا کروگی۔ میں نے اسکی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بھنوئیں اچکائیں۔ جواباً اس نے بھی اپنی بھنوئیں شرارت میں ہلائیں۔ ہاں میں کیا کرونگی، مجھے تو صرف جھاڑو دینا آتی ہے۔
جب چلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئیں تو اصرار کیا کہ ہمارے گھر بھی ضرور آنا۔ چلتے چلتے، بڑے شوق سے کمرے کے درمیان لٹکے ہوئے جھولے کی طرف دیکھنے لگیں۔ بیٹھنا چاہو تو بیٹھ جاءو۔ ادھر محلّے کے اور بچے بھی اس جھولے میں بیٹھنے کے لئے آتے ہیں۔ مجھے بھی پسند ہے۔
ٹوٹ جائے گا؟ نہیں ٹوٹے گا۔ یہ لوہے کی زنجیر بڑی مضبوط ہے۔ میں نے زنجیر کو ہلایا۔ میں، مشعل اور اسکے ابّا تینوں ایک ساتھ اس جھولے پہ لیٹ جاتے ہیں نہیں ٹوٹتا۔ میں نے حوصلہ دینے کو کہا۔ نہیں، انہوں نے پھر سوچا اور انکار کر دیا شاید شرم مانع تھی۔ پھر کمرے کے دروازے سے باہر نکلتے نکلتے یک لخت طیبہ پلٹی اور آ کر جھولے پہ بیٹھ گئ۔ بچپن اتنی آسانی سے ہاتھ ہلا کراور دامن جھاڑ کر رخصت نہیں ہوتا اور بعض لوگوں سے کبھی نہیں۔
پتہ چلا کہ شافٹ یہاں صحیح نہیں ہو سکتی اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ کراچی سے نئ لا کر لگائیں۔ اب ہمیں واپسی کا پروگرام سیٹ کرنا تھا۔ مکینک صبح کی بس سے واپس جا رہا تھا۔ گاڑی کے بغیر ہم بھی یہاں کچھ کرنے کے قابل نہیں۔ کراچی کی طرح یہاں ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں۔
رات کو کھانے کی میز پہ مکینک صاحب بھی موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ گوادر میں لوگوں نے انہیں بلوچ ماننے سے انکار کردیا۔ کیسا بلوچ ہے، نہ شراب پیتا ہے، نہ افیون چرس لیتا ہے نہ گٹکا کھاتا ہے ۔ چھالیہ بھی نہیں کھاتا۔ تو بلوچی نہیں ہو سکتا۔ مکینک شرماتا ہوا کہہ رہا تھا کہ ادھر کراچی میں بھی لوگ کہتا ہے کہ تم کیسے مکینک ہو کسی قسم کا نشہ نہیں کرتے۔
مجھے چین یاد آگیا۔ چین سے تجارت میں جیتنے کے جذبے میں انگریزوں نے چینیوں کو افیون کی لت لگائ۔ چین نے دو جنگیں لڑیں جو افیون کی جنگیں کہلاتی ہیں۔ ہانگ کانگ کے جزیرے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یوں ایک پوری صدی چین ذلت اور شرمندگی کے نشے میں دھت رہا۔ انیس سو گیارہ میں شہنشاہیت کے خاتمے کے ساتھ چین ری پبلک بنا۔ مزید سیاسی اصلاحات ہوئیں۔ ماءو زے تنگ کی سخت پالیسیز سامنے آئیں۔ اور افیون کے نشے میں دھت قوم جاگی اور ایسی جاگی کہ آج بھی خاموشی سے دنیا کی عظیم قوم بننے سے لگی ہوئ ہے۔
جاری ہے
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)