Showing posts with label یوم پاکستان. Show all posts
Showing posts with label یوم پاکستان. Show all posts

Friday, March 23, 2012

پاکستان؟

آج جب گھر سے نکلی تو ٹی وی پہ قومی ترانے چل رہے تھے۔ فیس بک پہ لوگ تیئیس مارچ جیسے قومی دن پہ اپنے  جذبات سے فضا کو پرجوش بنائے ہوئے تھے۔  گھر سے باہر نکل کر بس جمعہ بازار تک گئ ، سبزیاں لینے اور یہ طلسم ٹوٹ گیا۔
ہوا یوں کہ جب میں نے امرود والے کے اس دعوے کے رد میں کہ اس نے بقول اسکے بہترین امرود رکھے ہیں۔ ایک بھی داغ دار نہیں ہوگا۔ ایک کے بعد ایک چار داغدار امرود نکال کر واپس رکھے تو بازار ان نعروں کی آواز سے گونج اٹھا جو سڑک سے آرہی تھیں۔ دوکاندار کی داغدار زبان رک گئ اور اسکی توجہ روڈ پہ ہو گئ۔ میں نے بھی مڑ کر دیکھا  بلا کسی خوف کے کہ کوہ قاف میں تو موجود نہیں ہوں۔ ایک کے بعد کئ منی بسیں گذریں جن پہ لوگوں کا ہجوم جئے سندھ نیشنلسٹ پارٹی کے جھنڈے لئے بیٹھا وہ نعرے لگا رہا تھا جنکے مطلب  اور معنی سے وہ خود بھی آگاہ نہیں تھے۔ مجھے بھی سمجھ نہیں آرہے تھے۔ یہ گاڑیاں شہر کے اس حصے کی طرف سے آرہی تھِں جہاں سندھی بلوچ گوٹھ ہیں۔ یہ وہ عوام ہے جو پیچھے پلٹ کر دیکھ نہیں سکتی۔ اس لئے نہیں کہ پتھر کی بن جائے گی اس لئے کہ اسے پیچھے دیکھنا ہی نہیں آتا۔ دیکھنا تو اسے آگے بھی نہیں آتا۔ جو انکے جدی پشتی رہ نما دکھا دیں وہی دِکھنے لگتا ہے۔
گھر آکر شہر کے حالات جاننے کا تجسس ہوا کہ ایک دوست سے ملنے کا وعدہ تھا۔ معلوم ہوا کہ  سندھ کی آزادی کا مطالبہ رکھنے والی اس ریلی کے شرکاء کی وجہ سے شاہراہ فیصل پہ بد ترین ٹریفک جام ہے۔ اور اس رکے ہوئے ٹریفک میں مسلح افراد نے لوٹ مار شروع کی ہوئ ہے۔
یہ جئے سندھ کی اس سلسلے میں پہلی ریلی نہیں تھی۔ ابھی چار دن پہلے بھی میں انکی ایسی ہی ریلی میں پھنسی اور جہاں جانے کا ارادہ تھا اسے ترک کے واپس آگئ۔
میں نے اپنا گھر سے نکلنے کا خیال منسوخ کیا۔ اور سوچنے لگی کہ ایک طرف بلوچستان میں آزادی کی نام نہاد جنگ سردار لندن، فرانس اور امریکہ میں بیٹھ کر لڑ رہے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پختون خواہ میں انتہا پسندوں نے تحریک چلائ ہوئ ہے کہ انکے علاقے کی علاقہ غیر والی حیثیت بحال کر کے اسے حکومت  پاکستان کے رائج قوانین سے نہ صرف نجات دی جائے بلکہ باقی کے ملک میں بھی انکی مرضی کا نظام حکومت لایا جائے۔ جسے وہ شرعی حکومت کا نام دیتے ہیں۔ ادھر خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کی شہہ پہ اچانک جئے سندھ والوں کو سندھ کی آزادی کے نعرے پہ دوبارہ کھڑا کر کے کراچی میں اودھم مچانے کی اجازت دے دی گئ ہے۔ ابھی چند دن پہلے کراچی میں کسی خفیہ ہاتھ نے کراچی کی دیواروں پہ مہاجر صوبے کا مطالبہ بھی لکھنے کی کوشش کی۔  ادھر پنجاب  میں جنوبی پنجاب باقی پنجاب سے اپنا حق مانگ رہا ہے۔ ادھر باقی پنجاب نئے سرے سے مسلمان ہونے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
اب ذہن میں ایک سوال اٹھتا ہے۔ یہ ملک یہاں کی بنیادی اقوام کو چاہئیے یا نہیں؟
مجھ سے ایک بزرگ نے دریافت کیا کہ یوم پاکستان کیوں منایا جاتا ہے؟ میں نے مطالعہ پاکستان میں برسوں پڑھے ہوئے جواب کو طوطے کی طرح دوہرا دیا۔ اس دن دو قومی نظرئیے کی بنیاد پہ پاکستان بنانے کا مطالبہ ایک قرارداد کی صورت میں مسلمانوں کی طرف سے متفقہ طور پہ پیش کیا گیا تھا۔ پھر پاکستان کا پہلا آئین بھی اسی دن پیش ہوا۔
انہوں نے دریافت کیا لیکن جس دن بنگلہ دیش بنا۔ نہ صرف اس قرارداد سے تعلق رکھنے والا  پاکستان اس دن ختم ہو گیا تھا بلکہ واقعی اگر کوئ دو قومی نظریہ تھا تو وہ بھی اس دن غلط ثابت ہوا۔  رہا آئین تو اس  پہلے کے بعد کئ آئین آئے۔ یہ آئین جسکی بگڑی ہوئ شکل اب موجود ہے۔ جو بھٹو نے بنایا۔ اسے قوم کو دینے کے بعد چوبیس گھنٹوں میں اس میں پہلی ترمیم ہوئ، جو بھٹو ہی نے کی تھی مخالفین کو دبانے کے لئے۔ اس لئے ان دونوں وجوہات کی بناء پہ تو اب اس دن کو بالکل نہیں منانا چاہئیے۔ کیوں مناتے ہو تم لوگ یہ دن؟
کیوں مناتے ہیں ہم یہ دن، کیا اس لئے کہ قومی ترانوں کو گانے کی پریکٹس ہو سکے یا اس لئے کہ اپنی منافقت کی ہم مزید مشق کر سکیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اگلی نسلوں میں اپنی پوری آب و تاب سے منتقل نہ ہو سکے؟
ملک کی سیاسی حالات کی ابتری کا اندازہ لگانے کے لئے مزید اشارے دیکھیں۔ گیلانی صاحب عدالت کے زور دینے پہ بھی سوئس حکومت کو خط لکھنے کے لئے تیار نہیں۔ انکے بقول وہ صدر صاحب کی پیٹھ میں چھرا نہیں مار سکتے۔ یہ نہ کر کے وہ  پاکستان کے سینے میں چھرا مار رہے ہیں اسکا انہیں ذرہ برابر بھی احساس نہیں بلکہ پرواہ بھی نہیں۔
 اعتزاز احسن جو ججوں کی بحالی تحریک میں آگے آگے ہو رہے تھے۔ جسکی وجہ اب یہ سمجھ میں آتی ہے کہ وہ بس مشرف کے لکھے کو مٹانا چاہتے تھے۔ اس کیس میں انہوں نے بھی اپنے ضمیر کی شاید صحیح قیمت وصول کر لی ہے۔ کہتے ہیں عدالت کو گیلانی صاحب کے گدی نشیں ہونے کا تو خیال کرنا چاہئیے۔
یہی نہیں، ادھر برہمداغ بگتی کے اوپر سے سارے مقدمات واپس۔ کیوں جناب؟ اس لئے کہ بلوچستان کہیں پاکستان سے الگ نہ ہوجائے۔ پھر پاکستان کے  یہ چھوٹے چھوٹے لوگ کیوں سزائیں بھگتتے ہیں اس لئے کہ وہ کسی نواب خاندان سے نہیں۔ ہم ایسا کیوں نہیں کرتے کہ پولیس اور عدالت کا نظام ہی ختم کر کے اس عذاب سے جان چھڑائیں۔
طالبان سے مذاکرات کر کے انکے مطالبات پہ غور ہونا چاہئیے۔ وہ کس لئے؟ کیونکہ ملک میں امن اسی طرح قائم ہو سکتا ہے کہ جنونیوں سے بھی خوشگوار تعلقات رکھے جائیں۔
ادھر کل زرداری صاحب  کو تاحیات صدر منتخب کیا جائے گا۔ وہ کیوں بھئ؟ کیونکہ اگر وہ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائیں گے تو جئے سندھ والے تو سندھ کو پاکستان سے الگ کر کے لے جائیں گے۔ 
یہ پاکستان کیا کاغذ پہ ایک نقشے کا نام ہے؟ 
پاکستان کیا کسی قرارداد کا نام ہے؟
پاکستان کیا کسی نظرئیے کا نام ہے؟
پاکستان کیا ایک کرکٹ ٹیم کا نام ہے؟
حقیقت کچھ یوں نظر آتی ہے کہ یہاں کے حکمرانوں کو، سرداروں کو، جاگیرداروں کو، نوابوں کو اگر اسکے چھوٹے چھوٹے حصے بنا کر  وہاں کا والی وارث بنادیا جائے تو نہ صرف یہ اسے اپنی خوش قسمتی جانیں گے بلکہ انکے زیر سایہ آنے والے عوام بھی اس نشے میں کئ نسلیں زمین پہ رینگ کر گذار لیں گے۔
آخر ہم یوم پاکستان کیوں مناتے ہیں؟ جبکہ ہم پاکستان پہ یقین نہیں رکھتے۔
جب ہم الگ ہو جائیں گے تو کس حصے کا نام پاکستان ہوگا اور کیا وہاں یوم پاکستان منایا جائے گا؟
اور  اب آخری سوال وہ کیا چیز ہے جو پاکستان کو جوڑ کر رکھ سکتی ہے؟ دائیں بازو والے شاید ایک دفعہ پھر اسکاجواب مذہب دیں لیکن میرے خیال میں شاید ایٹم بم۔ کیونکہ الگ ہوتے ہوئے  ان قوتوں کو یہ بھی تو سوچنا پڑے گا کہ آخر ایٹم بم کس کے حصے میں جائے گا۔ 

Wednesday, March 23, 2011

قصہ کہانی

ٹوئٹر سے پیغام ملا۔  صبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ پیغام انقلاب نہیں تھا۔ ہمم، تو پیغام ملا کہ تیئیس مارچ کو بچوں کو اپنی تاریخ سے واقفیت پیدا کرانے کے لئے قصہ کہانی کے نام سے ایک پروگرام بنایا گیا ہے۔ شرکت کے خواہشمند رجسٹریشن کروالیں۔ دئیے گئے فون نمبر پہ رجسٹریشن کرالی۔ خدا کا شکر ادا کیا  جس نے ان انسانوں کو ہمت اور فکر دی جن سے ہمارے  آج میں یہ آسانیاں ہیں۔ اور اپنی بیٹی کی رجسٹریشن کرالی۔
پروگرام کا وقت صبح ساڑھے دس بجے تھا۔ اور مقام فریئر ہال کراچی تھا۔ منتظمین کا تعلق دی سیٹیزن آرکائیو آف پاکستان سے تھا۔ فریئر ہال کراچی کی ان تاریخی عمارتوں میں سے ہے جو مجھے بے حد پسند ہیں اور ان سے بڑی دلچسپ یادیں وابستہ ہیں۔

یہ پاکستان کے قیام سے پہلے سر ہنری بارٹل ایڈورڈ فریئر کے اعزاز میں تعمیر کی گئ تھی جنہوں نے اپنے عہد میں کراچی کی معاشی ترقی کے لئے بڑا کام کیا۔ اس عمارت کی بے حد شاندار بات یہ ہے کہ اسکی چھت  کو مشہور مصور صادقین نے اپنی مصوری کے شاہکاروں سے سجایا ہے اور اسکی خوبصورتی کو صرف دیکھ کر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اتنی خوبصورت ہے کہ بہت دیر تک سر اٹھائے رکھنے پہ بھی تکلیف نہیں ہوتی۔ نہ جسمانی نہ روحانی۔ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہماری تاریخ میں اب بھی کچھ نام ایسے ہیں جن پہ ہم فخر سے سر اٹھا سکتے ہیں۔ 
مجھے خوشی ہوتی ہے کہ ایسے کئ نام میرے شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے کہ فریئر ہال جیسی منفردعمارت مجھ سے زیادہ دور نہیں۔ جب چاہوں وہاں جا کر سر اٹھا لوں۔
خیر، جناب ہم ماں بیٹی وہاں پہنچے۔  تو انکی ٹیم موجود تھی۔ اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی۔ جس طرح کا انتظام تھا اسکے حساب سے بچوں کی تعداد مناسب تھی۔ اپنے حساب سے یہ ایک مختلف کوشش تھی۔ نہ یہاں بچوں کے جھولے تھے نہ کھیل اور ہلڑ بازی کے دیگر ذرائع۔ بس انہیں ایک جگہ بیٹھ کر باتیں سننی تھیں۔ بچوں میں چارسال سے لیکر تیرہ چودہ سال کے بچے شامل تھے، ساتھ ہی انکے والدین بھی تھے۔
قیام پاکستان کے حوالے سے اور کراچی کے پس منظر سے تعلق رکھتی تصاویر کی نمائیش بھی ساتھ میں تھی کچھ ماڈلز بھی بچوں کی دلچسپی کے لئے رکھے گئے۔



پروگرام کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا۔ روایت سے بغاوت تھی کہ اسے تلاوت قرآن پاک یا نعت رسول مقبول سے نہیں کیا گیا۔ یہاں تو میں اسیے سیمینارز میں شرکت کر چکی ہوں جو کسی غیر ملکی سائینسداں کے سائینسی کام سے متعلق ہوتا ہے اور ایک گروہ کا اصرار ہوتا کہ اس کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے ہو بالخصوص وہ جنہیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اس سائینسداں کا سائینسی کام کس چیز کے متعلق ہے۔
اس ترانے میں موسیقی کے کچھ راگ ڈال کر اسے ذرا انفرادیت دینے کی کوشش کی گئ تھی جس سے ترانے کی موسیقی تو دب گئ اور راگ کھل گیا۔ مجھے تو یہ کوشش کچھ ایسی سمجھ میں نہیں آئ۔
یوم پاکستان کے حوالے سے ایک چھوٹی سی دستاویزی فلم دکھائ گئ۔ پھر بچوں کے ایک رسالے سے ایک نظم پڑھی گئ۔ پھر انہیں مذہبی رواداری کے پس منظر میں ایک کہانی سنائ گئ۔ وقفے وقفے سے بچوں کو دعوت دی گئ کہ وہ اگر کچھ سنانا چاہیں تو سامنے آئیں۔ بچوں نے اس مرحلے میں بڑی دلچسپی لی۔ پھر اسکے بعد بچوں سے ایک سادہ کوئز کیا گیا۔ صحیح جواب بتانے وال بچوں کو انعامات دئیے گئے۔




 اگرچہ مشعل نے ہر اس لمحے ہاتھ اٹھا کر جوش و خروش سے کھڑا کیا جب جب سب بچوں نے اٹھایا۔ لیکن یہ سوالات ابھی انکے لئے تھے نہیں انہیں تو معلوم بھی نہ ہوگا کہ قرارداد پاکستان کس نے پیش کی گئ قسم کے سوالوں کے کیا جواب ہیں۔ بہرحال انکے جذبے کو دیکھ کر مجھے اطمینان رہا۔
پھر اسکے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ یعنی بجلی چلی گئ۔ یوں پروگرام کا اختتام  اچانک ہو گیا۔ نیم اندھیرے میں ہم سب نے ترانہ پڑھا اور میں نے نوٹ کیا کہ بچوں کو زیادہ اچھی طرح یاد تھا۔ بچوں نے خاصی سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ اور یہ محسوس ہوا کہ اگر ایسے پروگرام ہوں جن میں بچوں کو بھی کچھ کرنے کے مواقع حاصل ہوں وہ اس میں دلچسپی لیتے ہیں، چاہے وہ تاریخ جیسا بظاہر خشک نظر آنے والا موضوع ہو۔ شرط یہ ہے کہ ہم انہیں موقع دیں اور ان پہ اعتماد کریں۔ نجانے کیوں مجھے یقین ہے کہ یہ آنے والی نسل پاکستان کی موجودہ نسل سے بہتر ہوگی۔


پاکستان بن گیا، ٹوٹ بھی گیا، مزید شکست و ریخت کے مراحل میں ہے۔ گذشتہ باسٹھ سالوں میں ہم نے اپنے ہی ہم وطنوں سے زبان کی لڑائ لڑی، حقوق کی لڑائ لڑی، مذہب کی لڑائ لڑی۔ ذلت و خواری کی ان لڑائیوں میں بلا مبالغہ لاکھوں  لوگ مارے گئے۔  اتنے بہت سے کام اچانک ہی نہیں نبٹ گئے۔ ہم گذشتہ باسٹھ سالوں سے یہی کچھ کرنے میں مصروف ہیں۔ اور اس سے اکتاتے نہیں۔ ہمارے خون میں سب کو ٹھکانے لگا دینے کی گرمی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ اور ہم تنزلی کے نئے کنوءوں میں گرتے ہی جا رہے ہیں۔
میں گھر واپس آ رہی تھی تو سوچ رہی تھی کہ نجانے وہ دن کب آئے گا جب میرے جیسے والدین کو فسادات اور ہنگاموں کی وجہ سے ہونے والی اچانک چھٹیوں کے لئے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں سے یہ نہیں کہنا پڑے گا کہ روڈ خراب ہو گیا ہے بیٹا آج گاڑی اس پہ چل نہیں پائے گی۔ اس لئے آج اسکول کی چھٹی ہے۔
بچوں کو مرنے کے متعلق بتانا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ بم کیسے پھٹتا ہے۔ کیوں کچھ برے لوگ بار بار بم پھاڑتے ہیں، گاڑیاں جلاتے ہیں، گولی مار دیتے ہیں۔ بچوں کو ہی کیا اکثر خود کو بتانا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ نجانے میرے جیسے لوگوں کی یہ مشکل کیسے آسان ہوگی۔ کیا اسکے لئے کوئ منصوبہ بنایا جا سکتا ہے۔ کوئ قرارداد پاس ہو سکتی ہے۔
کاش وہ دن آئے جب یہ سب باتیں قصہ کہانی ہو جائیں۔ جب ہم اپنی آنے والی نسل کے سامنے شرمندہ کھڑے ہوں کہ ہمارے پاس تمہیں سنانے کے لئے کوئ دل فریب کہانی نہیں۔ کچھ جھوٹ تھے میرے بچوں، ہم نے انہیں مٹانے میں زندگی صرف کی۔  تمہارا دل چاہے تو عبرت کے لئے ہمیں اپنے ماضی کا حصہ بنے رہنے دو اور تمہارا دل چاہے تو حرف مکرر کی طرح مٹا دو۔ ہر داغ ہے اس دل پہ اک داغ ندامت۔