Showing posts with label پنجاب اسمبلی. Show all posts
Showing posts with label پنجاب اسمبلی. Show all posts

Wednesday, July 14, 2010

ورنہ

پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے خلاف قرار داد پاس ہوئ جس میں میڈیا کی مذمت کی گئ۔  پنجاب جو ہمارے ملک کی آبادی کا ساٹھ فی صد ہے۔ اس ساٹھ فی صد آبادی کے اقتدار میں موجود نمائندوں نے میڈیا کے روئیے کی مذمت کی ہے۔
کیوں؟ 
اس کی نمایاں وجوہات میں یہ کہ میڈیا نے جعلی ڈگریوں کے ضمن میں غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔  میڈیا ، حکومت مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہے۔ یہ جعلی ڈگریوں اور جمہوریت والا مسئلہ چونکہ عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آتا اور نہ یہ انکا 'روزمرہ' ہے۔ تو اس میں عوام کو بھی شامل رکھنے کے لئے ایک وجہ اور بیان کی گئ ہے وہ پارلیمنٹ کی خواتین کے حوالے سے میڈیا میں ایک فضول  ویڈیو کی تشہیر، جو میں نے ابھی تک نہیں دیکھی۔
یہ اس پنجاب اسمبلی کی قرارداد مذمت ہے جس نے ایک آمر کی حکومت کو گرانے کے لئے میڈیا کی پیٹھ ٹھونکی۔ جس نے لال مسجد کو ایک سانحے میں تبدیل کرنے کے لئے میڈیا کو شاباش کہا۔ اور جس نے انتہا پسند گروہوں کو عوامی ہیرو بنانے میں میڈیا کے تعاون خیر پہ انہیں بھی جنت میں اپنے ساتھیوں میں شامل کہا ہوگا۔
آج پنجاب ، جبکہ سیاسی ماحول کے حساب سے ایک گرم صورت حال میں ہے۔ جناب نواز شریف اور شہباز شریف پہ الزام ہے کہ وہ انتہا پسند گروپوں کی حمایت حاصل کرنے اور انہیں تحفظ دینے میں سرگرم عمل ہیں۔   یہی نہیں بلکہ جھوٹی جعلی ڈگریوں کے بل بوتے پہ سیاسی طاقت حاصل کرنے والے، ملک کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے دعوے دار اور معاشرے کو عدل اور انصاف کی صبح نو کا پیغام دینے والے ہیں۔ یقیناً، میڈیا کو اس چیز کو بے نقاب کرنے اور اس پہ شور وغوغا کرنے پہ، مذمت کا سامنا کرنا چاہئیے۔ 
کیوں؟
اس لئے کہ اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس جمہوریت کو جس کے نتیجے میں ہماری اسمبلیوں میں، ملک کے امیر ترین اشخاص اپنے غلیظ ترین ذہنوں کے ساتھ ہمارے مستقبل کا سہارا لے کراسکی لگامیں تھامتے ہیں۔ جب کہ انہیں  یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارا مستقبل انکے مستقبل سے کتنا الگ ہے۔ کیونکہ وہ اس خزانے پہ جسے ہمارے مستقبل کے تحفظ پہ خرچ ہونا چاہئیے۔ اپنی اور اپنی نسل کے مستقبل کی بقا کے  لئے وقف سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس ملک کے عوام کا فرض ہے کہ وہ اس اقتدار کے مسند پہ براجمان گروہ کی حفاظت کے لئے اپنے مسائل بھول جائے اور اپنے وسائل ان پہ نچھاور کرتا رہے۔ جسکے نتیجے میں، نسل در نسل بادشاہی خاندان جنم لیتے ہیں۔ چند شاہی خاندان آپس میں حکومتی طاقت کو مل بانٹ کر استعمال کرنے کے عمل کو جمہوریت کا نام دیتے ہیں۔ اور جب انکی یہ پول پٹی کھلنے لگتی ہے تو لازماً اس سے اس جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہر وہ عمل جس سے انکے اثر و رسوخ کو ذرہ برابر بھی نقصان پہنچے، وہ جمہوریت کی راہ میں حائل ہے۔
وہ تمام لوگ جو اس ملک میں عوام کی حاکمیت اعلی دیکھنا چاہتے ہیں۔ جو سمجھتے ہیں کہ  جمہوریت اسکا نام ہے کہ عوام کی حکومت، عوام کے لئے عوام کے ذریعے سے۔  وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس طرح طاقت کے سہارے پہ میڈیا سنسر ہونا چاہئیے؟ کیا کسی کو یہ حق ہونا چاہئیے کہ جب تک اسکے مفادات کے حق میں کوئ چیز جا رہی ہو تو وہ ہر غلط اور صحیح چیز کی حمایت کرتا رہے اور جب اسے اسی طرز عمل سے نقصان پہنچنے لگے تو وہ قرار داد مذمت پاس کرے؟ کیا ہمیں ایک ایسی جمہوریت کی حفاظت کی تگ و دو میں لگا رہنا چاہئیے جو تمام مجرمین کو، جھوٹے اور کرپٹ لوگوں ، نظام کو محض با اثر لوگوں کی بقاء اور انکی نسلوں کی فلاح کے لئے استعمال کرنے والوں کو تحفظ دینے کے لئے قوانین بناتا رہے؟
مجھ سے پوچھیں، جوتے پڑنے چاہئیے انہیں۔ ان سب کو۔ اور انہیں ان اسمبلیوں سے گندے انڈوں کی طرح نکال کر باہر پھینک دینا چاہئیے۔  انہیں وہاں ہم نے اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے، اپنے مسائل کے حل کے لئے بھیجا ہے اور یہ ہمارا بنیادی حق ہونا چاہئیے کہ وہ اگر ہم سے جھوٹ بولتے ہیں، وہ اپنے ذاتی مفادات کو ہمارے مفادات پہ ترجیح دیتے ہیں، وہ حکومتی مصارف کو ادا کرنے کے لئے ہمارے ٹیکس کی صورت میں جمع کردہ چندے کو اپنی اور اپنے خاندانوں کی عیاشی پہ خرچ کر کے ہمیں دن بہ دن حقیر فقیر بنا کر ہمارا مذاق اڑانے پہ تلے ہوئے ہیں تو ہم اپنی طاقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے کہہ سکتے ہیں۔ اب بہت ہو گیا، اب دفع ہو جاءو ہمیشہ کے لئے۔ جان چھوڑو ہماری، ورنہ-----------۔  


Sunday, February 21, 2010

اجازت ہے؟

میری اماں بہت ناراض ہو رہی تھیں۔ کہنے لگیں یہ جو ہم اس مسجد میں ہر جمعرات کو درس سننے جاتے ہیں تو آجکل یہاں جماعت اسلامی کی خواتین درس دے رہی ہیں۔ بالکل دماغ خراب ہو گیا ہے انکا۔ میں نے تو جانا چھوڑ دیا۔ میں اطمینان سے انکے روحانی ڈائجسٹوں کے مجموعے کی ورق گردانی کرتی رہی کہ روحانی ڈائجسٹ انہیں بہت پسند ہے۔  اور ویسے بھی ہم سب جانتے ہیں کہ وہ جب ایک دفعہ بولنا شروع کریں تو پھر وہی بولتی ہیں۔
کہنے لگیں یہ ان لوگوں نے اب ایک نیا تماشہ نکالا ہے۔ میں نے سر اٹھا کر انکی طرف دیکھا۔ اب یہ لوگ کہنے لگے ہیں کہ اپنے شوہروں کی دوسری اور تیسری چوتھی شادی کراءوو جبھی یہ شادی کا مسئلہ حل ہوگا۔ ارے انکی عقل تو ہمیں لگتا ہے کہ گھاس چرنے چلی گئ ہے۔
یہ وہ پہلا دن تو نہیں تھا جب میں نے یہ نظریہ سنا  اس سے پہلے بھی میں نے اس طرح کی بات سنی کہ یہ اسلامی احکامات سے رو گردانی کی وجہ سے ہے۔ حالانکہ اسلام میں دوسری شادی ک حکم نہیں اجازت ہے۔ البتہ یہ پہلا رد عمل ضرور تھآ جو مجھے ڈائریکٹ حاصل ہوا۔
اور اب جناب  پنجاب اسمبلی میں ہماری ایک محترم خاتون ممبر نے اس نظرئیے کی ترویج کی اور وہ بھی اسمبلی کے پلیٹ فارم سے کہ مردوں کی ایک سے زائد شادیوں پہ انکی بیگمات کو انہیں ترغیب دینا چاہئیے۔ یہی شادی کے مسئلے کا حل ہے۔ اور میں اپنی اماں کے الفاظ استعمال نہ کرنا چاہوں تو کہوں کہ انکی عقل کولہو کے بیل کی طرح ایک کولہو پہ گھومے جارہی ہے۔ یہ تو اتنی معذور ہیں کہ انکی عقل گھاس تک چرنے نہیں جا سکتی۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جن  سے قوم یہ توقع کرتی ہے کہ وہ ملک کے بہتر مستقبل کے لئیے قانون سازی کریں گے۔ کچھ ساز کرنے کے لئیے محض آواز کا ہونا کافی نہیں اس کے لئیے انسانی دماغ کو اسکی متوازن حالت میں استعمال کرنا  آنا ضروری ہے۔
اب میں بغیر کسی حدیث اور قرآنی حوالوں کے کے اس بات کو اس طرف لیجاتی ہوں جو آجکے پاکستان کے بنیادی حقائق ہیں۔ اور حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی انیس سو اٹھانوے کی مردم شماری کے نتائج کے مطابق مردوں کی تعداد عوتوں سے زیادہ ہے اور سو عوتوں کے لئیے تقریباً ایک سو آٹھ مرد موجود ہیں۔ جبکہ اسلامی رواج کے مطابق ایک عورت اور ایک مرد کی شادی ہوتی ہے تو دراصل پاکستان میں خواتین کی قلت ہو گئ ہے۔ اس قلت کے اپنے اسباب ہیں جو اس وقت ہمارا موضوع نہیں ہے۔ لیکن جہاں پہلے ہی خواتین کی تعداد کم ہو وہاں مردوں کو ایک سے زائد شادی کے مشورے دینا اور اسے شادی نہ ہونے کی وجہ سمجھنا، سوائے جہالت کے اور کسی چیز کو ظاہر نہیں کرتی۔ یہاں یہ بھی جاننا چاہئیے کہ قدرتی حیاتیاتی نظام میں تقریباً ہر اسپیشی میں مادہ کی تعداد عام طور سے زیادہ ہوتی کہ اسی میں نظام کی بقا ہوتی ہے۔
یہ وہ شدت پسند روئیے ہیں جو مسائل کے صحیح اسباب جاننے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ کسی نہ کسی طور اسے مذہب سے منسلک کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ اس سے ثواب جو حاصل ہوتا ہے۔ شاید پاکستانی عوام کو ایک لمبے عرصے تک انتظار کرنا پڑیگا کہ کب ہمارے قانون سازی کرنیوالے ادارے اور لوگ اتنا شعور حاصل کر پائیں کہ گناہ اور ثواب کے دائروں سے نکل کر مسائل کی اصل وجوہات کو جانیں اور لوگوں کی فلاح کے لئیے کچھ کر پائیں۔
معاشرے میں شادی نہ ہونا اور خاص طور پہ خواتین کی شادی کا مسئلہ، ہمارے حرص، لالچ، نمو د و نمائش اور انسانی قدرتی ضروریات کو نظر انداز کرنے سے جڑا ہوا ہے۔ اور اسے اسکے صحیح تناظر میں دیکھ کر ہی اس مسئلے کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ ورنہ تو ہم عوام حکومت سے اس بات کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ اسمبلی کی سطح  سے ایسے لطیفوں کی آمد روکی جائے اور اس قسم کے احمقانہ مشوروں کو پیش کرنے سے پہلے ممبران پہ یہ پابندی عائد کی جائے کہ وہ اعداد و شمار کو ان میں ضرور شامل کریں۔ معزز ارکان پارلیمنٹ وہاں اپنا وقت خوشگوار طریقے سے گذارنے نہیں جاتے۔ بلکہ ایک لمبے چوڑے خرچے کے بعد انہیں وہاں اس لئیے عیاشی کرائ جاتی ہے کہ وہ ملکی مسائل کا اجتماعی طور پہ کوئ حل نکالیں۔

حوالہ جات؛