Showing posts with label پھول نگر، لاہور۔ بنیادی انسانی حقوق، Lahore. Show all posts
Showing posts with label پھول نگر، لاہور۔ بنیادی انسانی حقوق، Lahore. Show all posts

Saturday, November 14, 2009

آئیے فیس بک پہ اکاءونٹ بنائیے

آپکا کوئ دوست نہیں، سخت بوریت ہے، گھر والے دور ہیں، کیا کریں؟
فیس بک پر ایک اکاءونٹ بنا لیں۔ لیجئیے کچھ دن گذریں گے کہ ہر طرح کے دوست جمع ہو جائیں گے۔ جو دوست بنانے کی آفرز ملتی جا رہی ہیں انہیں اوکے کرتے جائیں۔ یہ کون بے وقوف ہیں جو کہتے ہیں کہ ایک دوست مل جائے تو آپکی قسمت اچھی ہے دو ہوں تو آپ خوش قسمت ہیں اور تین تو ہو ہی نہیں سکتے۔ چند مہینوں میں آپکے پاس کئی سو دوست جمع ہو جائیں گے۔ اب کیجئیے محفل آرائیاں۔
اگر زندگی میں اب تک یہ حسرت پالتے آئے ہیں کہ
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا
تو جان لیجئیے کہ اسی مزے کے لئیے ہی فیس بک اک وجود عمل میں آیا۔ وہ تو زندگی کی ہر چیز میں مقسد تلاش کرنے والوں نے اسے بھی روکھا پھیکا بنانے کے طریقے تلاش کر لئیے لیکن آپ انہیں خاطر میں نہ لائیں اور اپنی خو نہ چھوڑیں۔ یہاں آپ جیسے لوگوں کی ایک لمبی قطار موجود ہے۔ فوراً اکاءونٹ بنائیں۔
فتنے بھی قاعدے سے اٹھتے ہیں جب اٹھتے ہیں
کیا سلیقہ ہے تمہیں انجمن آرائ کا
اگر آپ بھی اس سلیقے سے واقف ہیں تو دیر کس بات کی ہے۔ فیس بک ہے ناں۔ اکاءونٹ بنائیں۔ روزانہ طرح طرح کے پول منعقد کروائیں اور فتنے بنانے کے قاعدے سے مکمل طور پہ لطف اندوز ہوں۔ اگر پول بنانے کے جھنجھٹ میں نہیں پڑنا چاہتے تو کچھ نہ کریں اپنی وال پہ کسی فتنہ انگیز خیال کو چسپاں کر دیں اور دیکھئیے کیا ہوتا ہے۔
آپ اپنے آپ سے محبت کرتے ہیں۔ یہ آپ کا اپنے اوپر پہلا حق ہے۔ لیکن آپ دوسروں کو بھی بتانا چاہتے ہیں کہ آپ کس قدر خوبیوں کے حامل زبردست شخص ہیں جن سے ایک زمانہ واقف نہیں۔ آئیے فیس بک پہ موجود مختلف کوئز کے جوابات دیں اور انکے نتائج کو اپنے پروفائل پہ ڈالیں۔ یہ وہ نتائج ہونگے جن سے آپ خود بھی ناآشنا تھے۔ آئیے انکے لئے ہی سہی فیس بک پہ اپنا اکائونٹ بنائیں۔
آپ کی تصاویر بہت خوبصورت آتی ہیں اور آپ جیسی مارلن منرو سے دنیا واقف نہیں۔ یا آپ فوٹوگرافی اچھی کرتے ہیں یا آپ اپنے دور پرے کے رشتےداروں اور دوستوں کو مزید حسد اور رشک میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔ تو کیوں دیر کر رہے ہیں اپنے کیمرے پر کلک کلک کریں تصویریں بنائیں اور ہر روز ایک تصویر فیس بک پہ ڈالیں۔ ہائے اللہ آپ کتنی خوبصورت لگ رہی ہیں، آپ تو بالکل ٹام کروز لگ رہے ہیں، کیا گاڑی ہے لش پش، کیا گھر ہے زبردست۔ مگر یہ سب پڑھنے کے لئیے فیس بک پہ اکاءونٹ کھولیں۔
دنیا یہاں پہ ختم نہیں ہوتی، اگر آپ انسانوں کی منافقت سے بیزار ہیں،نیرنگئ زمانہ کا شکار ہیں یا ہر وقت کچھ نیا کے چکر میں رہتے ہیں تو یہاں طرح طرح کے گیمز موجود ہیں۔ یہ کہنے کی ضرورت بھی پیش نہ آئے گی کہ ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی ہوس ہے۔ معاملہ کچھ یوں ہوتا ہے کہ وہ آیا، اس نے کھیلا اور پھر کہیں کا نہ رہا۔
تیرا نہیں رہوں تو کسی کا نہیں رہوں
اتنا تلاش کر مجھے اتنا تلاش کر
تو اس بات کو کہنے کی نوبت اب نہیں آئے گی، فوراً فیس بک سے مستفید ہوں اور اپنا اکاءونٹ بنائیں۔ انشاءللہ آپ کسی کے نہیں رہیں گے۔ اپنے بھی نہیں۔
اگر آپ مذہبی شدت پسندوں سے تعلق رکھتے ہیں اور پریشان ہیں کہ یہاں کیا ہو رہا ہے تو فوراً فیس بک پہ اپنا اکاءونٹ بنائیں۔ آپکو پتہ چل جائیگا کہ اس سائٹ کو بین کرنے کی کتنی شدید ضرورت ہے۔ لیجئیے ثواب کمانے کا ایک اور موقع حاصل ہو گیا۔ مگر احتیاط لازم ہے کسی گیم میں نہ الجھ جائیے گا۔ کہیں جنت ہاتھ سے نہ نکل جائے۔
اگر آپکا محبوب دنیا کی اس بھیڑ میں کہیں کھو گیا ہے تو اس بے وفا کی خاطر رکشہ ، منی بس یا ٹرک چلانے کی کوشش نہ کریں۔ فیس بک ہے ناں اکاءونٹ بنائیں۔ انکا کہنا ہے کہ وہ آپکے دوستوں کو ڈھونڈ نکالیں گے۔ برسبیل تذکرہ دشمن خود آپکو ڈھونڈ نکالتے ہیں اس لئیے انہوں نے یہ سہولت نہیں رکھی ہے۔ یہ تو سمجھ میں آگیا ہوگا کہ یہاں رقیب کو تلاش کرنا بیکار ہے۔
اگر آپ کراچی میں اپنے موبائل فون کو بچاتے ہوئے جان سے گذر جاتے ہیں یا لاہور میں کسی خود کش حملے میں اجزائے زندگی کو ترتیب میں رکھنے سے ناکام ہو جاتے ہیں تو
-
-
-

تو کینیڈا کے کسی سرد علاقے کے بیسمنٹ یا اسٹوڈیو فلیٹ میں رہنے والے آپکے دوست کو کچھ دنوں تک آپکے کمنٹس یا آپکے پروفائل میں ہونیوالی تبدیلیوں کا انتظار رہیگا اور پھر یہ انتظار دیگر ساڑھے سات سو دوستوں کی پروفائلز میں ہونے والی تبدیلیوں اور انکے تبصروں میں کہیں کھو جائیگا۔ یار زندہ صحبت باقی۔
سنا ہے فیس بک والے آپکے مردہ دوستوں کے لئیے بھی ایک گوشہ بنانے کا خیال رکھتے ہیں تاکہ آپ وہاں جا کر وقتاً فوقتاً اسے اپ ڈیٹ کر سکیں۔لیکن اسکے لئے بھی آپکو فیس بک پہ ایک اکاءونٹ بنانا پڑیگا۔

Saturday, October 3, 2009

پھول نگر کے کانٹے

ویسے تو ہمارے یہاں انسان کو انسان تسلیم کیا جائے یہی کچھ کم نہیں کہ اس پر انسانی حقوق کا واویلہ بھی مچا دیا جاتا ہے خود ایسے انسان نما انسان بھی حیران ہوتے ہیں کہ وہ بھی انسان ہیں اور انکے بھی حقوق ہیں۔ باقی ہر رویہ روا رکھنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس حقوق کی جنگ نے شاید ہر چیز میں بگاڑ ڈالا ہوا ہے۔
دنیا کے زیادہ ترغریب اور سماجی ناانصافی کے شکار معاشروں کی طرح ہمارے یہاں بھی خواتین کے ساتھ بد ترین مظالم کئے جاتے ہیں اور اس میں ایک شرمناک حرکت جو ہر تھڑے عرصے بعد تواتر سے کی جاتی ہے انہیں برہنہ سر بازار پھرانا، ایک ایسے معاشرے میں جہاں خواتین کے با عصمت ہونے کی نشانی انکے جسم کا کپڑوں سے زیادہ سے زیادہ ڈھکا ہونا سمجھا جاتا ہے وہاں سزاکے طور پر اسی عورت کو نہ صرف تن پر موجود کسی بھی کپڑے سے محروم کر دیا جاتا ہے بلکہ انہیں لوگوں کے سامنے  سر بازار تماشہ بنایا جاتا ہے۔
ریاستی قوانین ایسی تمام عورتوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہتے ہیں ، وہ عدلیہ جسے آزاد کرانے کے دعویداروں کے گلے خشک اور آنکھیں بند ہو چکی ہیں اب وہ عام شخص کیو انصاف دلانے سے معذور ہے۔ ان سب عناصر کو ابھی ملک میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط کرنے سے فرصت نہیں۔
مذہبی جماعتیں جن کے حامی دن رات خواتین کے حجاب کے متعلق بول بول کر اور لکھ لکھ کر تھکتے نہیں۔ وہ اس بات پہ کڑھتے رہتے ہیں کہ یہاں کچھ خواتین کیوں انکے بنائے ہوئے ضابطوں
کے مطابق زندگی نہیں گذارتیں۔ وہ بھی اسے کسی قسم کی زیادتی سمجھنے سے قاصر رہیں گے کیونکہ یہ واقعہ ان عورتوں کے ساتھ پیش آیا جنہیں جسم فروشی کے کاروبار سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
اگر چہ کہ جسم فروشی کا عمل کبھی بھی یکطرفہ نہیں ہوتا لیکن مرد تو ہم جانتے ہیں کہ ترغیب دینے میں آجاتے ہیں اس لئیے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قصور کس کا ہوتا ہے اور ایسی ذلیل کر دینے والی سزائیں کس کے حصے میں آنی چاہئیں۔
ہمارے باقی کے نظام کے پاس مسائل کا انبار ہے انہیں اسے مزید بڑھانے سے فرصت نہیں اور عوام اپنی آفات میں مبتلا ہیں۔ اب ان عورتوں کی دادرسی کون کریگا۔ ان جسم فروش عورتوں کے کیا کوئ انصاف کےحقوق نہیں ہوتے۔یہ بے حیائ کے واقعات آخر کب تک اسی طرح بار بار ہوتے رہیں گے۔ اسکا جواب سادہ ہے اور وہ یہ کہ جب تک اسکے مجرموں کو قابل عبرت سزا نہیں ملتی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے۔ یا پھر اس معاشرے کو ان عورتوں کے اندر انتقام اور بدلے کی آگ بھڑکنے کا انتظار کرنا چاہئیے۔
میرے اور ساتھی بلاگر بھی اس پر لکھ چکے ہیں میں انکے رابطے یہاں دے رہی ہوں۔ قلم کی زکوات اسی طرح ادا کی جا سکتی ہے کہ ان لوگوں کے لئے بھی لکھا جائے جنکا کوئ پرسان حال نہیں۔ ہم انکی زندگی آسان نہیں کر سکتے لیکن یہ ممکن ہے کہ ہم دوبارہ ان واقعات کے رونما ہونے میں رکاوٹ بن جائیں۔