Showing posts with label اسکول. Show all posts
Showing posts with label اسکول. Show all posts

Sunday, October 14, 2012

مختار کا اسکول

مختار ، صفائ کرنے والی کا بیٹا ہے۔ وہ پانچویں جماعت میں پڑھتا ہے۔  ماسی کا کہنا تھا کہ اس کا بچہ خاصہ ذہین ہے کلاس میں ہمیشہ فرسٹ آتا ہے لیکن اسکول میں ٹیچر دو دو ہفتوں تک نہیں آتے اور بچے اسکول جا کر کھیل کود کر واپس آجاتے ہیں۔ بچہ اس وجہ سے اسکول جانے میں دلچسپی نہیں لیتا۔ میں اسے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرانا چاہتی ہوں۔ میں نے اس سے کہا کہ تم اسے پڑھنے کے لئے صبح میرے پاس چھوڑ دو۔ دوپہر میں وہ اسکول چلا جائے گا۔ لیکن پرائیویٹ اسکول میں داخل مت کرانا۔ اس وقت تم جوش میں کرادوگی۔ چند مہینے کے بعد تمہارے پاس پیسے نہیں ہونگے تو تم اسے وہاں ہٹا لوگی اور اس طرح اسکی تعلیم ختم ہوجائے گی۔
ویسے بھی غریب بستیوں میں کھلے پرائیویٹ اسکولوں میں ٹیچرز خود بمشکل میٹرک پاس ہوتے ہیں۔ انہیں برائے نام تنخواہ ملتی ہے وہاں پہ بھی یہی ہوگا جو یہاں ہوتا ہے، لوگ تمہاری جہالت کا فائدہ اٹھائیں گے۔  میرے اس مشورے کے دو مہینے بعد مختار میرے پاس پہلی دفعہ پڑھنے کے لئے آیا۔
گرمیوں کی چھٹیاں ختم ہوئے ایک مہینہ ہو چکا تھا لیکن اردو کی کتاب کے ابھی صرف تین سبق پڑھائے گئے تھے۔ حساب کا پہلا باب جیسے تیسے ہوا تھا۔ انگریزی کی حالت سب سے بری تھی۔ اس کے باوجود کہ اب گورمنمنٹ اسکولز میں انگریزی پہلی جماعت سے پڑھائ جاتی ہے۔ بچہ انگریزی کے سادہ ترین جملے مثلاً دز از آ ڈاگ اور دیٹ از ہر پینسل تک نہیں بول سکتا۔ یاد رہے مختار اپنی کلاس کا سب سے تیز بچہ ہے۔
ہفتہ بھر پڑھانے اور یہ جاننے کے بعد کہ دس دن سے انہیں کوئ استاد پڑھانے نہیں آیا۔ میں نے مختار کے اسکول جا کر خود صورت حال جاننے کا فیصلہ کیا۔ یہ اسکول میرے گھر کے نزدیک ہی ہے۔
اسکول کے باہر تو ایک اسکول کا نام لکھا تھا لیکن اندر داخل ہونے پہ چوکیدار نے استفسار کیا کہ کس اسکول جانا ہے اس احاطے کے اندر تین اسکول موجود ہیں۔ ایک عمارت میں تین مختلف اسکول، مجھے یہ سن کر اتنا ہی تعجب ہوا جتنا کہ یہ جان کر ہوتا ہے کہ ایک عورت نے ایک ساتھ پانچ  بچے جنم دئیے۔ ایسی کیا مصیبت ہے کہ گورنمنٹ ایک ہی علاقے میں ایک ہی عمارت میں تین مختلف اسکول چلا رہی ہے۔ یقیناً کچھ مال پانی کا چکر ہوگا۔
ان تینوں اسکولوں کے آفس اور اسٹاف الگ ہیں۔ وہاں کھڑے ہو کر میں نے اندازاً اشارہ کر دیا کہ اس اسکول جانا ہے لیکن آفس تک فاصلہ طے کرتے ہوئے میں یکسو ہو چکی تھی۔ پہلا آفس سیکنڈری اسکول کا تھا۔ اسکا نام کچھ اور تھا۔ وہاں سے میں دوسرے اسکول گئ جو کہ پرائمری تھا معلوم ہوا کہ یہی مختار کا اسکول ہے۔  ہیڈ مسٹریس صاحبہ سے ابتدائ معلومات لیں تو مزید معلوم ہوا کہ انکے اسٹاف میں پانچ اساتذہ ہیں۔ ہر استاد کے ذمے ایک کلاس ہے وہی سارے مضمون پڑھاتا ہے۔ ان میں سے بھی ایک استاد کا حال مہیں تبادلہ ہو گیا ہے اس لئے مختار کی کلاس باقاعدگی سے نہیں ہو پا رہی ہے۔ الیکشن متوقع ہیں اور الیکشن کے سلسلے میں اساتذہ کی ڈیوٹی لگتی ہے اس لئے بچے کھچے اساتذہ بھی اس کام میں لگنے کا امکان ہے۔ یعنی الیکشن کمیشن الگ سے اپنے لئے عارضی کارکن نہیں رکھ سکتا۔ اسکے لئے بچوں کی تعلیم قربان کی جاتی ہے۔
میرے سوال پہ کہ استاد تو حال ہی میں گئے ہیں جبکہ یہی حالت گرمیوں کی چھٹی سے پہلے بھی تھی۔ انکے پاس کوئ جواب نہ تھا۔ جب میں نے کہا کہ نئے سیشن کو شروع ہوئے دو مہینے سے زیادہ ہو گئے ہیں اور ایک ڈیڑھ مہینے بعد ششماہی امتحان شروع ہونگے جبکہ سلیبس اپنی ابتدائ حالت میں ہے تو جواب ملا کہ آپ کو اطلاع غلط ہے۔ ہم تو انیس سبق پڑھا چکے ہیں۔ یہ کہہ کر ایک استانی جی اٹھیں اور باہر چلی گئیں پھر اردو کی کتاب لےکر واپس داخل ہوئیں۔ اس میں کتاب کے فہرست والے صفحے پہ انیس اسباق میں نشان لگے ہوئے تھے۔ میں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔ میں ان نشانات کو تسلیم نہیں کر سکتی۔ اگر پڑھایا ہوتا تو اس بچے کو تین سبق کے علاوہ کچھ تو آتا جبکہ وہ فرسٹ آتا ہے۔ جن تائثرات کے ساتھ اس گیارہ سال کے بچے نے مجھے سب بتایا وہ جھوٹ نہیں ہو سکتے۔
 جناب، اسکے بعد بیانات کا سلسلہ چلا۔ یہ لوگ تو اپنے بچوں کو پرائیویٹ اسکول میں پڑھانا چاہتے ہیں۔ میں نے کہا اس لئے کہ وہ جاہل ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ اسکول میں تو پڑھائ ہوتی نہیں اس لئے محلے کے پرائیویٹ اسکول میں داخل کرا دیں۔ ورنہ خود سوچیں جس کے پاس کحانے کو پیسے نہیں وہ پرائیویٹ اسکول میں کیسے پڑھائے گا۔ پھر آپ نے اپنے اسکول میں بچوں کے لئے کوئ تحرک نہیں رکھا وہ یہاں آکر کیا کریں۔ استاد تک تو انہیں ملتا نہیں۔
ایک استاد نے کہا کہ بچے اتنے گندے حلئیے میں آتے ہیں۔ اتنے گندے بچوں کو کیسے پڑھایا جائے۔ اور میں صفائ دیتی ہوں کہ یہ کچی بستی میں نالے کے کنارے رہنے والے، جنکے ماں باپ گھروں صفائ کا کام کر کے بمشکل اپنا کھانے پینے کا خرچہ اٹھاتے ہیں وہ کیسے انہیں صاف ستھرے یونیفارمز اور جوتوں میں بھیج سکتے ہیں۔
او جی آپکو نہیں معلوم یہاں تو کسی بچے کو ایک تھپڑ مار دو تو انکے ماں باپ یہاں ہنگامہ کرنے کو کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس پہ میں کہتی ہوں ، وہ بیچارے ویسے ہی ماں باپ سے بری طرح پٹتے رہتے ہیں اب انکو مار کر کیا کرنا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ انہیں یتیم بچے سمجھ کر پڑھا لیا کریں۔ یہی سوچ کر پڑھا لیا کریں کہ کل آقپکا معاشرہ آجکے مقابلے میں اس لئے بہتر ہوگا کہ یہ بچے سمجھدار ہونگے۔لیکن آپ دیکھیں اتنے بچوں کو کوئ کب تک پیار سے پڑھا سکتا ہے؟ ایک اور بہانہ سامنے آتا ہے۔
میں نے مسکراتے ہوئے انہیں دیکھا، میری اطلاع کے مطابق مختار کی کلاس میں کل سات بچے ہیں جن میں سے دو تین تو روز غیر حاضر ہوتے ہیں۔  آپکے اسکول میں شاید کل سو بچے ہیں۔ ایک کلاس میں چار بچوں کو ہینڈل کرنا کیا مشکل ہے۔ میں یونیورسٹی میں ایک وقت میں سوا سو بچوں کو پڑھاتی رہی ہوں یہی نہیں میں نے خود گورنمنٹ اسکول سے پڑھا ہے اور ہماری کلاس میں پچاس اسٹوڈنٹس تھے۔ حتی کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایک استاد کے پاس پندرہ سے بیس اسٹوڈنٹ ہوتے ہیں اس لحاظ سے آپ کے پاس تو کافی گنجائش ہے جبکہ اگر آپ یہ دیکھیں کہ اس اسکول کے ساتھ ایک اتنی بڑی کچی آبادی ہے۔ غریب لوگ ہیں گورنمنٹ اسکول کی کوئ فیس ہی نہیں، آپکے پاس تو کافی بچے ہونے چاہئیں لیکن ایسا ہے نہیں۔ آپ کو تو کوشش کرنی چاہئیے کہ آپکے اسکول میں زیادہ سے زیادہ بچے آئیں۔ دل میں سوچا کہ کوشش کرنی چاہئیے کہ اپنی تنخواہ کو حلال کریں۔
اس پہ ایک کھسیانی مسکراہٹ۔
معاملے کا اہم پہلو یہ ہے کہ گورنمنٹ پرائمری اسکول کے ایک استاد کی تنخواہ سولہ سترہ ہزار ہوتی ہے۔ جبکہ ادھر سٹی یا بیکن ہاءوس جیسے پرائیویٹ اسکولز میں بھی تقریباً  اتنی ہی تنخواہ ہوتی ہے۔ وہ اپنے اساتذہ سے خوب کام لیتے ہیں۔ دن کا ایک لمحہ ضائع نہیں جانے دیتے۔ کلاس رومز میں کیمرے تک موجود ہوتے ہیں تاکہ پرنسپل اپنے کمرے سے تمام کلاس رومز کو چیک کرتی رہے کہ اساتذہ آرام سے بیٹھے ہیں یا پڑھا رہے ہیں۔ ان اسکولوں کے مقابلے میں گورنمنٹ اساتذہ پہ کام کا سرے سے کوئ دباءو ہی نہیں۔ ان اساتذہ  سے  نتیجہ خیز کام لینے والا کوئ نہیں۔ کوئ اس چیز کا ذمہ دار نہیں کہ یہ اساتذہ اسکول کی چار دیواری میں کیا کر رہے ہی  
قارئین ، اب یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پورے تعلیمی نظام میں کون کتنا سنجیدہ ہے۔ 
میرے وہاں جانے سے یہ ہوا کہ مختار کی کلاس کو ایک استاد نے توجہ دینا شروع کی۔ انگریزی میں اسے دو مضامین لکھوائے گئے۔ یہ دونوں مضامین نہ صرف ناقص تھے بلکہ استاد نے اسکول کے موضوع پہ جو مضمون لکھوایا اس کے لئے یہ بھی زحمت نہ کی کہ لفظ سیکنڈری کی جگہ پرائمری ہی کر دیتا کہ مختار پرائمری اسکول میں پڑھتا ہے۔  ناءون، پروناءون اور ایجیکٹو کی تعریفیں اور مثالیں لکھوائ گئیں البتہ انکی کسی بھی قسم کی مشق ندارد۔ حالانکہ یہ سب اساتذہ، ایجوکیشن میں بیچلرز کی اضافی ڈگری رکھتے ہیں۔ میتھس کی کتاب کچھ آگے بڑھی۔
چند دنوں بعد میں پھر جاءونگی۔ اور اب میں سوچتی ہوں کہ اگر ہم صرف اتنا کر لیں کہ اپنے علاقے میں موجود گورنمنٹ اسکولز کو جا کر چیک کریں اور انکے اساتذہ سے گفتگو کریں تو ان پہ دباءو پڑتا ہے کہ وہ اپنے کام کے معیار کو بہتر کریں۔ اس تحریر کا مقصد بھی یہی ہے کہ آپ بھی اس مہم میں شامل ہو جائیں۔  اس بات سے قطع نظر کہ آپکے خاندان کے بچے اس میں ہیں یا نہیں۔  اپنے علاقے  کے گورنمنٹ اسکول کےا ساتذہ  سے ملیں، کلاسز کو دیکھیں اور اگر موقع ملے تو یہ سب کام کسی بچے سے پہلے سے معلومات حاصل کر کے کریں۔ آپ میں سے جسے موقع ملتا ہے وہ جائے یا پھر علاقے میں نوجوانوں کی ایک ٹیم بنا لیں جو اسکولوں کا جائزہ لے۔
گورنمنٹ اسکول میں پڑھنے والے بچے بھی ہمارے ہی بچے ہیں اگر غریب بچوں کو بہتر تعلیم ملے تو ہی ہم معاشرے میں تبدیلی کی امید رکھ سکتے ہیں۔  

Saturday, February 18, 2012

اہم تعلیمی مسئلہ، رمضان کی چھٹیاں

فروری کا مہینہ صرف ویلینٹائینز ڈے کا مہینہ نہیں۔ جب کچھ جوڑے سوچتے ہیں کہ انکے آنگن میں بچوں کی صورت پھول کھلیں گے۔ بلکہ ان والدین کے لئے بھی لمحہ ء فکریہ  ہے جن کے بچے موجود ہیں اور انہیں اسکول میں داخلہ چاہئیے۔ جیسے میری بیٹی اب اپنی مونٹیسوری ختم کر کے پہلی جماعت میں جائے گی۔ میرے لئے اہم سوال ہے  کس اسکول میں؟
ابھی مہینہ بھر پہلے میں اپنی بچی کی مونٹیسوری ٹیچر پہ خفا ہوئ کہ یہ کیا طریقہ ہے ایک کے بعد ایک پہاڑے رٹائے جا  رہے ہیں۔ ایک مونٹیسوری کے بچے کے لئے چھ تک پہاڑے یاد کرنا بالکل ضروری نہیں ہے۔  سال کے بارہ مہینوں سے لے کر جانوروں، پھولوں، سبزیوں، پرندوں اور خدا جانے کن کن چیزوں  کے ناموں کے ہجے انگلش اور اردو میں۔ یہ تو زیادتی ہے۔ جواب ملا کیونکہ ماما پارسی اور بی وی ایس میں داخلے کے وقت یہ سب پوچھا جاتا ہے۔  اور پھر وہ پہلی جماعت میں ان بچوں کو جب لے لیں گے تو یہ سب دو سال بعد پڑھائیں گے۔ میں ناراض ہو کر بھی ہنس دی۔ ان سے کوئ نہیں پوچھے گا کہ آپکا پہلی جماعت کا سلیبس کیا ہے اور آپ نے کیوں والدین کو مجبور کیا کہ وہ آپکے داخلہ ٹیسٹ کے لئے اپنے بچوں سے انکا بچپن چھین لیں۔
اچھا وہ والدین کیا کریں جنہیں اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل نہیں کروانا ہے۔ وہ بھیڑ چال میں پھنسے ہوئے سر پکڑے بیٹھے ہیں۔
ان مشنری اسکولوں کی طرف والدین کے بھاگنے کی ایک بنیادی وجہ انکا بہتر طریقہ ء تعلیم اور مناسب فیس ہے۔ کہنے کو ہمارے ملک میں لوگوں کا ایک پسندیدہ مشغلہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور جہاد ہے  لیکن تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی اور مناسب فیس جو اسکول دیتے ہیں وہ عیسائ تبلیغیوں کے ہاتھوں چلنے والے اسکول ہیں۔ مذاق؟ میں نہیں کر رہی یہ حقیقت ہے۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں جنریشنز نامی اسکول ہے جو علاقے میں بڑی اچھی شہرت رکھتا ہے۔ ایک وجہ بہتر تعلیمی معیار اور دوسری وجہ اسکول انتظامیہ کا مذہبی رجحان۔ تمام خواتین اساتذہ کا اسکارف پہننا ضروری ہے۔ فیس ہے اس اسکول کی تقریباً دس  ہزار ماہانہ، داخلہ پیکیج تقریباً پچاس ساٹھ  ہزار بنتا ہے۔
جبکہ ماما پارسی، سینٹ جوزف، سینٹ پال، سینٹ لارنس،  بی وی ایس، سینٹ پیٹرکس ان سب اسکولوں کی ماہانہ فیس تین سے چار  ہزار بنتی ہے اور اس بات کا میں آپکو یقین دلادوں کہ جنریشنز کی تعلیمی کارکردگی ان تمام مشنری اسکولوں سے بہتر نہیں ہے سوائے اسکے کہ یہاں پڑھنے کے بعد آپکا بچہ گھر میں یہ اعلان کرے گا کہ امّاں آپ آدھی آستین کی قمیض نہیں پہن سکتیں، یہ غیر اسلامی ہوتا ہے۔
جنریشنز سے ہٹ کر فاءونڈیشن اسکول بھی فیس کی مد میں اس سے زیادہ مطالبات رکھتا ہے۔ ادھر بیکن ہاءوس اور سٹی اسکول بھی اپنی ابتداء آٹھ ہزار سے کرتے ہیں۔ ہر سال ان اسکولوں کی فیس میں دس فی صد اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی اگر ایک بچہ ان اسکولوں سے میٹرک کر رہا ہے تو دس سال بعد اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسکی کتنی فیس ہوگی۔
  مشنری اسکولوں کے لئے اتنی کم فیس میں اتنی معیاری تعلیم اور ڈسپلن پیدا کرنا کیسے ممکن ہو جاتا ہے؟ اس میں بھی کوئ کفار کی سازش سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ ہمارے عمران خان بھی جب ایک تعلیمی ادارہ بناتے ہیں تو اسکی فیس کم رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔
اب ہم اپنے بنیادی مسئلے کہ طرف واپس آتے ہیں۔ ہمارا بچہ کس اسکول میں جائے گا۔ یہ تمام مشنری اسکول میرے گھر سے اتنے فاصلے پہ ہیں کہ ایک اسکول وین کو اسکول شروع ہونے سے تقریباً سوا گھنٹے پہلے اسے گھر سے لینا ہوگا اور جب وہ اسے گھر واپس چھوڑے گی تو دن کے ساڑھے تین بج رہے ہونگے۔ مجھے اپنی بیٹی اس ساری مشقت کے لئے چھوٹی لگتی ہے۔ میں سوچتی ہوں اس ساری محنت کے بعد بچے کے پاس کتنا وقت بچے گا کہ وہ اپنے ماحول پہ بھی ایک نظر ڈال لےاور یہ جانے کے کتاب اور اسکول سے الگ بھی ایک دنیا اسکے اطراف میں بستی ہے۔
اس سارے بحران کی وجہ حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسی ہے اگر کوئ تعلیمی پالیسی ہے تو۔ ہر سال تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے حکومت کا سر درد پچھلے کئ سالوں سے صرف ایک مسئلہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ رمضان کے پورے مہینے چھٹیاں دی جائیں یا نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال کے بعد اب کوئ نئے رمضان آنا شروع ہوئے ہیں۔ یہی قوم رمضان میں پیٹ پہ پتھر باندھ کر جنگیں لڑتی تھی اور اسی قوم کے منتظمین یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں اب اسکول بند رہیں تاکہ قوم زیادہ خشوع خضوع سے رمضان میں روزے رکھ سکے۔  چونکہ تعلیم کے دیگر معاملات پہ سوچنے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ اس لئے اس سال پھر صرف ایک مسئلہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں جولائ میں ہوں یا جون میں۔ کیونکہ رمضان جولائ کے اخیر میں شروع ہو رہے ہیں۔
لوگ پھر بھی  ہم سے پوچھتے ہیں کہ جناب جہادی اور تبلیغی سوچ کیسے علمی سرگرمیوں کو متائثر کر سکتی ہے؟
 ہم والدین حکومت سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ اسکے لئے یہ کیوں ممکن نہیں کہ ہر یونین کونسل میں صرف ایک معیاری اسکول بنا دے جس کی فیس غریب طبقے کے لئے ادائیگی کے قابل ہو۔ جہاں میرٹ پہ داخلہ ہو اور ہر امیر یا غریب کا بچہ صرف میرٹ پہ داخلہ پا سکے۔ جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے کے لئے باقاعدگی سے اسکول آ سکیں۔ ہم تو اب یہ عیاشی بھی نہیں چاہ رہے ہیں کہ ہر بچے کو تعلیم دی جائے۔ لیکن جو اپنے آپکو اہل ثابت کر رہے ہیں انکے لئے تو کچھ کیا جائے۔  کچھ کو تو دی جائے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہفتہ بھر پہلے گھر میں صفائ کا کام کرنے والی ماسی نے بتایا کہ اسکا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھتا ہے۔ کتنی مشکل سے اسے اسکول بھیجتی ہوں اور ایک ہفتے سے اسکول میں کوئ پڑھائ نہیں ہوئ کیونکہ کوئ ٹیچر ہی نہیں آرہا۔ یہ کراچی میں واقع گورنمنٹ اسکول کا حال ہے۔ دور دراز کے علاقے تو کسی گنتی میں نہیں جہاں اسکول صرف کاغذ پہ موجود ہیں اورانہیں بھوت اسکول کہا جاتا ہے۔
 سر دست پیٹ بھرے لوگوں اور انتظامیہ دونوں کے نزدیک اہم تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں رمضان سے  پہلےیا بعد میں۔ جب تک انتظامیہ اس معاملے پہ سوچ و بچار کر کے فارغ ہو  میں اپنے بیلینس کا حساب ایک دفعہ پھر لگاءوں  میری بیٹی کو اس سال پہلی جماعت میں داخلہ لینا ہے۔

Saturday, November 19, 2011

مہمان کچھوے

 کیا آپ کراچی کی ایک اہم خوبی سے واقف ہیں جو آپ نہیں جانتے مگر کچھوے جانتے ہیں؟
دنیا کے بڑے شہروں میں کراچی کو ایک امتیازی حیثیت یہ بھی حاصل ہے کہ اسکے ساحل کو سبز سمندری کچھوے انڈے دینے کے لئے پسند کرتے ہیں۔
یہ کچھوے تیزی سے ختم ہوتی ہوئ حیاتیاتی نسل میں شامل ہیں۔ عالمی تحفظ حاصل ہونے کے بعد انہیں بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اور وہ ساحل جہاں یہ انڈے دیتے ہیں وہاں انکے انڈوں اور نکلنے والے بچوں کو بچانے کا معقول انتظام کیا جاتا ہے۔
کراچی کے سینڈز پٹ کے ساحل پہ ایک ایسی ہی حفاظتی حیات گاہ موجود ہے۔
یہاں مجھے چھ سال پہلےدسمبر کی ایک سردرات جانے کا اتفاق ہوا۔ ساحل پہ رات کو دو بجے ہم یہ دیکھنے کے لئے موجود تھے کہ انڈوں سے کچھووں کے بچے کیسے نکلتے ہی سمندر کی طرف دوڑ لگاتے ہیں اور کیسے مادہ کچھوا انڈے دیتی ہے۔ تین بچوں کو مٹی کے ایک گڑھے سے سمندر کی طرف جاتےدوڑ لگاتے دیکھا۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ بآسانی آپکی ہتھیلی پہ سماجائیں۔
ایک کچھوا انڈے دینے کی تکلیف میں مبتلا ایک ریت کا گڑھا بنائے اسکے سرے پہ بیٹھا تھا۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد دسمبر کی سمندری سرد ہواءووں کی چھیڑ چھاڑ ذرا بری نہ لگ رہی تھی۔
جی ہاں، یہ کچھوے اتنی ہی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں کہ نومبر اور ددسمبر کی راتوں میں آپ بھی وہاں جانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ ان مہینوں میں یہ یہاں آتے ہیں انڈے دینے اور پھر چند دن بعد ساحل انکے بچوں سے بھرا ہوتا ہے کہ ہر مادہ تقریباً سو انڈے دیتی ہے۔  امید ہے کہ آپکو کوئ نہ کوئ کچھوے کی سرگرمی دیکھنے کو مل جائے گی۔ جیسا کہ ہمیں کل ایک بار پھر حاصل ہوئ۔
کل شام کو خبر ملی کہ ایک اسکول کے بچے رات کو وہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم اور مشعل چاہیں تو قسرت کی اس فیاضہ سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ آتا ہو تو ہاتھ سے جانے نہ دیجیئو۔ ہم نے فوراً ہاں کہا۔
ہم اور مقامی اسکول کے یہ بچے تقریباً سوا آٹھ بجے تک سینڈز پٹ کی ایک ہٹ میں اکٹھا ہوئے۔ بچوں کو انکی ٹیچرز نے پہلے بٹھا کر کھانا کھلایا۔ ہم مشعل کو پہلے ہی کھلا چکے تھے۔ پھر نگراں وائلڈ لائف کے آفیسر نے بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے سوالوں جواب کئے۔ بچوں کی عمر یہی کوئ آٹھ نو سال کے درمیان تھی۔ اس دوران انکا آدمی ساحل پہ یہ پتہ لگا آیا کہ کوئ کچھوا کہاں موجود ہے۔ سمندر جب ہائ ٹائڈ پہ ہو تو کچھووں کو ساحل تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس لئے توقع ہوتی ہے کہ ہائ ٹائڈ کے وقت وہ ضرور ساحل کا رخ کریں گے۔

لکھنے کے شوقین ہر جگہ قلم کاغذ پکڑ لیتے,

پاکستان کے سمندر میں دو طرح کے سمندری کچھوے پائے جاتے ہیں ایک اولیو ریڈلی کچھوے اور دوسرے سمندر سبز کچھوے۔  اولیو ریڈلی کچھوے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی محض چالیس کلو گرام کے۔ انکا رنگ اولیو یعنی  گہرے زیتون کے رنگ کا ہوتا ہے ان پہ دھاریاں ہوتی ہیں اور انکی موجودگی کو ریڈلی نامی سائینسداں نے معلوم کیا۔
سبز کچھوے بڑے ہوتے ہیں اوسط وزن تقریباً ایک سو پچاس کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ انکا رنگ سرمئ ہوتا ہے۔ پھر یہ سبز کچھوے کیوں کہلاتے ہیں؟
اس لئے کہ انکے جسم میں پائ جانے والی چربی خوبصورت سبز رنگ کی ہوتی ہے۔ اسکا یہ رنگ خیال کیا جاتا ہے کہ سمندری پودے کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سبز کچھوا سمندری پودے اور کائ وغیرہ کھاتا ہے۔
یہ سمندری کچھوے زمینی کچھووں سے مختلف ہوتے ہیں کہ انکے ہاتھ پاءووں کی جگہ تیرنے میں مدد دینے کے لئے چپو سے ہوتے ہیں انہیں فلپرز کہتے ہیں۔ زمینی کچھووں کی طرح سندری کچھوے نہ اپنا سر اپنے خول کے اندر کر سکتے ہیں نہ فلپرز اور نہ دم۔ اس لئے انہیں شارک اور ڈولفنز بڑے آرام سے شکار کر سکتی ہیں۔ یہ سمندری جال میں پھنس کر ہلاک ہو سکتے ہیں یا ٹرالرز اور بوٹس کے نیچے کا بلیڈ انہیں ختم کر سکتا ہے۔
کچھووں کا خول انکی پسلیوں سے بنا ہوتا ہے اور کارٹونز فلموں کی طرح کچھوے اپنا خول چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ یہ اچھا تیر سکتے ہیں لیکن ساحل کی ریت پہ انہیں چلنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے اور ہر دو تین گز کے فاصلے پہ رک کرسکون کی سانس لینی پڑتی ہیں۔
سمندر میں بھی سانس لینے کے لئے ان کچھووں کو سمندر کی سطح پہ آنا پڑتا ہے۔ گوادر میں سمندر کی سطح پہ آنے والے کچھووں کو میں نے دیکھا کہ وہ کیسے سطح پہ ڈول رہے ہوتے ہیں۔
چونکہ مادہ کچھوا ہی انڈے دیتے ہیں اس لئے مادہ کچھوا ہی ساحل پہ آتی ہے۔ نر کچھوا کبھی ساحل نہیں دیکھ پاتا اس لحاظ سے مادہ کچھوے کا علم نر کچھوے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن انکے یہاں معلومات عامہ کے امتحانات ہی نہیں ہوتے ہی نہیں ہوتے اس لئے مادہ کچھوا اسکا فائدہ نہیں اٹھا پاتی۔
کہتے ہیں کہ مادہ کچھوہ جس جگہ انڈے دے ، دوبارہ انڈے دینے کے لئے اسی ساحل کا رخ کرتی ہے۔ جب یہ ان ساحلوں پہ پہنچتی ہیں تو وائلڈ لائف کے لوگ انکے فلپرز پہ ایک ٹیگ پیوست کر دیتے ہیں۔ یہ ٹیگ نہ صرف انکی پہچان کے لئے کار آمد ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے سمندر میں انکی موجودگی بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔
یہ کچھوے آخر کیوں اتنی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اسکی وجہ انسان اور اسکی سرگرمیاں ہیں۔ اول تو بعض ممالک میں کچھووں کے بچوں کا سوپ بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک قیمتی خوراک ہوتی ہے۔ کود کچھووں کے گوشت کی بڑی مانگ ہے۔ ہمارے ساحل پہ انہیں پکڑنے کی ممانعت ہے لیکن اطلاع ہے کہ ساحل سے چند میل کے فاصلے پہ ٹرالر انہیں پکڑتے ہیں اور ٹرالر کے اندر ہی انکا گوشت علیحدہ کر کے کیماڑی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پر پھر انہیں کوئ نہیں پوچھتا۔
دوسرا یہ کہ ساحل پہ موجود کتے بلیاں یا تو انکے انڈوں کو کھالیتے ہیں یا پھر نکلنے والے بچوں کا شکار کرتے ہیں۔  ساحل پہ موجود کچرے میں پھنس کر بھی بعض اوقات یہ بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ادھر سمندر میں پہنچ جانے والے بچے بھی ایک خاص عمر تک پہنچ کر اپنے شکاریوں سے محفوظ رہ پاتے ہیں۔ یوں ہزار بچوں میں سے ایک ہی بچ پاتا ہے جو بلوغت تک پہنچے۔
کچھوے کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ہی بچوں نے لائن بنائ۔ انکی ٹیچرز ان پہ عقابی نظریں رکھے ہوئے تھیں کہ رات کی تاریکی میں کوئ بچہ ادھر ادھر نہ ہو جائے۔ کچھوے روشنی اور شور  سے بھاگتے ہیں۔ اس لئے اتنے بچوں کی موجودگی کے باوجود کامیاب خاموشی برقرار رہی۔


تھوڑا سا فاصلہ طے کر کے ہم وہاں پہنچے۔ سمندر سے اس جگہ تک کچھوے کے رگڑ کر آنے والے نشانات کا راستہ موجود تھا۔  کچھوا اپنا گڑھا بنانے میں مصروف تھا۔ ویڈیو اور کیمرے کی لائیٹس سے گھبرا گیا۔ ادھر وائلڈ لائف والوں نے اسے پکڑ لیا کہ اسے ٹیگ کر لیا جائے۔
بچوں کی چیخیں نکل گئیں۔ مشعل  تیزی سے مشاق فوٹوگرافر کی طرح تصاویر لینے میں مصروف ہو گئ۔ ادھر اسکول کی ٹیچرز انتہائ تشویشناک حالت میں بچوں کو کچھوے سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ جبکہ کچھوا ایک بے ضرر اور شرمیلا جانور ہے۔



وائلڈ لائف کے عملے نے کچھوے کو قابو کر کے چیک کیا کہ وہ ٹیگ ہوا ہے یا نہیں۔ ٹیگ نہ پاکر انہوں نے اسکے فلپر میں ایک دھاتی ٹیگ پیوست کیا ، اسکی لمبائ نوٹ کی، اکتالیس اعشاریہ تین پانچ۔ پھر اسے آزاد چھوڑ دیا۔
ٹیگ کرنے کے لئے ہشیار


   اس ہنگامے سے گھبرا کر خلوت پسند کچھوے نے انڈے دینے کا ارادہ ترک کیا اور سمندر کی راہ لی۔ جب وہ اپنے کھودے ہوئے گڑھے سے باہر کی طرف چلا تو بچوں اور انکی ٹیچرز نے جلدی سے دور تک اسکے لئے راستہ صاف کر دیا۔ اور لائن بنا کر خود بھی واپسی کے سفر پہ روانہ ہو گئے کہ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہم اسکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ کچھوے نے بیچ میں دو مرتبہ رک لگا کہ اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کرنے کاسوچا لیکن چونکہ دستاویزی فلم بنانے والا عملہ اسکے ساتھ ساتھ تھا اس لئے یہ  سوچ بھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔ پھر وہ آگے بڑھ کر سمندر کی تاریکی میں گم ہو گیا اور ہم روشنیاں بُجھا کر شہر کی تاریکی میں۔
توقع ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئے گا۔ لیکن اپنے ان معصوم اور شرمیلے مہمانوں کے لئے ہمیں اپنے ساحل صاف رکھنے ہونگے۔ اور ان لوگوں پہ کڑی نظر رکھنی ہوگی جو اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے  ان نایاب جانوروں کی نسل کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔

کبھی الوداع نہ کہنا

Monday, November 14, 2011

دس ڈالر میں

ابھی ڈھونڈھ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
کہ تم آگئے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں محبوب سے لے کر بس تک پہ یہ بات صادق آسکتی ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹہریں پہلے یہ بتادوں کہ قصہ کیا چل رہا تھا۔
ہم گوادر ہی میں تھےرات کو واپسی کے سامان کو صبح کے سفر کے لئے پیک کر کے نادر بلوچ کے یہاں پہنچ گئے کہ ان  کی بھاوج کے یہاں اس دن صبح ایک نئے بچے کی آمد ہوئ تھی۔ خیال تھا کہ انہیں مبارکباد دے کر ، کراچی واپسی کے لئے خدا حافظ کہہ دیں۔
نادر کی بیوی ،خدیجہ بڑے تپاک سے ملی۔  میں نے اسے بتایا کہ اسکا بیٹا بڑا شیطان ہے پچھلی دفعہ اس نے مجھے کیکڑوں کی لڑائ دکھائ تھی۔ اور کیکڑے کے بچے کندھے پہ رکھ کر پھر رہا تھا۔ 'ہاں یہ بہت شیطان ہے۔ اب اسکو گوادر کے سب سے مہنگے اسکول میں داخل کرا دیا ہے۔ فیس اسکا بہت زیادہ ہے۔  نادر کی آمدنی تو زیادہ نہیں کبھی کام ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ میرے بھائ نے کہا کہ وہ اسکا اسکول کا خرچہ اٹھائے گا'۔ 
بڑا اسکول کہتے وقت اسکے چہرے پہ بڑا فخر تھا۔  اسکا بیٹا اویس، دوڑا دوڑا گیا اور اپنی کتابیں کاپیاں اٹھا لایا مجھے دکھانے کے لئے۔ میں نے انہیں بڑے شوق سے دیکھا۔ وہ مونٹیسوری کی لگ رہی تھیں۔  اسے تھوڑا بہت لکھنا آگیا تھا۔ میں نے پوچھا کون سی کلاس میں پڑھتے ہو۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے دانتوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ 'ایڈوانس میں، ایڈوانس میں'، اسکی مراد شاید مونٹیسوری کا آخری سال تھا۔
اس لمحے اچانک مجھے خیال آیا کہ میری ایک  نو عمر پاکستانی نژاد کینیڈیئن دوست نے چند ماہ پہلے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک بچے کا تعلیمی خرچہ اٹھانا چاہتی ہے ، کیا میں کسی مستحق بچے کی تلاش میں مدد کر سکتی ہوں۔ میں اس وقت سے ایک بچے کو ڈھونڈھ رہی تھی جو پڑھنے لکھنے میں واقعی دلچسپی رکھتا ہو۔ اور اسکی تعلیم کی راہ میں صرف پیسے کی کمی حائل ہو۔
گھر میں آنے والی ماسیوں کے بچوں کو میں نے اس لسٹ سے نکال دیا تھا کہ ان میں سے کچھ مقامی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انکے والدین مار مار کر بھیجتے ہیں مگر یہ پڑھ کر نہیں دیتے۔
سو، میں نے خدیجہ سے پوچھا کہ اسکی بیٹی کون سے اسکول میں پڑھتی ہے۔ کہنے لگی یہیں سُر بندر کے گورنمنٹ اسکول میں۔ اس اسکول کے متعلق مجھے اندازہ تھا کہ انتہائ بے کار ہے ۔ متعدد لڑکیاں یہاں سے دوسری تیسری پڑھ کر چھوڑ چکی ہیں۔ اور انہیں دس تک گنتی بھی نہیں آتی۔اس لئے میں نے اس سے کہا تم عائیشہ کو بھی کیوں نہیں بحریہ ماڈل اسکول میں داخل کرا دیتیں۔
'عنیقہ، اسکی فیس بہت زیادہ ہے، چار ہزار داخلہ فیس ہے'۔ اس نے ذرا منہ پھیلا کر کہا تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ کتنی زیادہ ہے۔ چھ سو روپے مہینے کے ہیں' اس دفعہ اس نے چھ سو پہ زور دیا اور  مزید کہا صرف وردی آٹھ سو روپے کی ہے'۔ نادر تو اتنا نہیں کر سکتا'۔  میں خاموش بیٹھی رہی۔ 
یہاں کراچی میں ایسے اسکول ہیں جنکی ماہانہ فیس پچیس ہزار روپے ہے۔ اور ایسے اسکول تو عام ہیں جہاں داخلہ فیس پچاس ہزار سے زائد ہے۔ کیا خدیجہ جیسوں کو معلوم ہے کہ جتنی انکی ماہانہ آمدنی نہیں پاکستان کے کچھ علاقوں میں اتنی ایک بچے کے اسکول کی فیس ہوتی ہے۔
ویسے اچھا ہی ہے اسے معلوم نہیں۔ ورنہ یہ صدمہ شاید اسے زندگی کے سکھ سے دور  کر دے۔
چلو عائشہ کی فیس کا بند و بست ہم کر دیتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا۔ 'نئیں نئیں، عنیقہ، تکلیف نہ کرو۔'۔ 'مجھے کوئ تکلیف نہیں ، مجھ سے کسی نے کراچی میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کو پڑھانا چاہتا ہے۔  پیسے وہ دے گا۔ میں نہیں۔  اس لئے مجھے کوئ تکلیف نہیں پہنچ رہی۔ ' نئیں پھر بھی تم ایسا نہ کرو'۔ دیکھو اگر تم نہیں لوگی تو کوئ اور لے لے گا۔ تم چاہتی ہو کہ تمہاری بیٹی ایک اچھے اسکول میں  پڑھے تو موقعے سے فائدہ اٹھا لو۔ یقین رکھو، نہ یہ پیسے میرے ہیں ، نہ میں یہ کسی سے مانگ رہی ہوں اور نہ مجھے اس میں کوئ تکلیف ہے'۔ تھوڑی پس و پیش  کے بعد وہ خاموش ہو گئ۔ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔ اٹھتے وقت میں نے نادر سے بات کی کہ وہ عائشہ کو بھی اسی اسکول میں داخل کرا دے۔ داخلہ فیس اور تین مہینے کی فیس اسکے ہاتھ میں رکھی اور نصیحت کی کہ اسکول کارڈ اور ٹیسٹ رپورٹس سنبھال کر رکھے کہ جو شخص پیسے دے گا وہ انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
میں چلنے لگی تو نادر نے ہاتھ مصافحے کے لئے آگے بڑھا دیا۔ اسکے انداز میں تشکر نمایاں تھا۔ میں جو غیر مردوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرتی ہوں۔ اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتی ہوں۔ میرے اندر احساس ندامت تھا کہ اس سارے سلسلے میں میرا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی انہیں اپنا احسان مند بنا رہی ہوں۔
گھر واپس آکر میں نے سوچا کہ ڈالرز میں داخلہ فیس تقریباً پچاس ڈالر بنتی ہے اور ماہانہ فیس میں  اگر دیگر خرچے بھی ڈال لیں تو دس ڈالر بنتے ہیں۔ میری دوست نے کہا تھا کہ وہ پچاس ڈالرتک مہینے کے اس مد میں دے سکتی ہے۔ اتنے پیسوں میں تو ایک اور بچے کا خرچ نکل سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے نادر کی بھانجی کا بھی خیال آیا جو عائشہ کی ہم عمر ہے۔ اسکا باپ اسکی ماں کو بھائ کے پاس چھوڑ گیا ہے نہ طلاق نہ خرچہ۔
کراچی آکر میں نے اپنی دوست کو ای میل کی۔ وہ فوراً تیار ہو گئ۔ اس طرح دو بچیوں کے لئے ایک بہتر اسکول کا بند و بست ہو گیا۔ 
آپ میں سے بیشتر نہیں جانتے ہونگے کہ کینیڈا میں ایک وقت کا اوسط معیار کا کھانا  دس ڈالر میں مل جاتا ہے۔  درحقیقت کراچی کے بہترین ہوٹل میں بھی ایک وقت کا اچھا کھانا اتنے پیسوں میں مل جاتا ہے۔ صرف دس ڈالر میں، میں محسن کی قطار میں اور اگلا احسان مندی کی قطار میں۔
کسی  کے ایک وقت کا کھانا ، کسی دوسرے کے پورے مہینے کے اسکول کا خرچہ۔ قدرت کا مذاق ہے یا انسانوں کا؟

Monday, October 10, 2011

اف جوئیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اسکول جانے والوں بچوں کے والدین کے جہاں دیگر مسائل ہوتے ہیں وہاں سب سے خوفناک ، دل دھڑکا دینے والی وجہ  جس سے انہیں اور انکے بچوں دونوں کو سخت شرمندگی ہوتی ہے وہ سر کی جوئیں ہیں۔


ویسے تو جوئیں ساری دنیا میں لوگوں کے ہوتی ہیں لیکن گرم ممالک کی آب و ہوا انہیں خوب راس آتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ گھریلو سطح پہ جتنی چاہے احتیاط کی جائے ایسا ہو ہی جاتا ہے کہ ہم کسی دن دیکھتے ہیں کہ ہمارا بچہ بری طرح سے اپنا سر کھجا رہا ہے۔ یہ ایک اہم علامت ہے کہ سر میں جوءووں نے جگہ بنا لی ہے۔ اگر اب بھی نظر انداز کریں تو یہ جوئیں گرمی کی وجہ سے کسی دن سر کے اوپر مٹر گشت کرتی نظر آئیں گی۔ اور ہلکی سی ہوا بھی بالوں میں چپکے انکے  سفید انڈوں کی ایسی نمائیش کرے گی کہ لوگ گھبرا کر آپکے بچے کو خود سے دور کر دیں گے۔
یہاں کراچی میں کچھ پرائیویٹ اسکولوں نے یہ پالیسی بنا لی ہے کہ سر میں جوءووں کی موجودگی کے شک کی بناء پہ اسی وقت بچے کو گھر واپس بھیج دیتے ہیں۔ جو نہ صرف بے جا سختی ہے، بلکہ بچے کی سبکی اور دیگر بچوں کی طرف سے اسکی چھیڑ کا باعث بن جاتی ہے۔
یہاں میں فی الوقت ان اسکولوں کے تذکرے میں نہیں جانا چاہتی جو کہ اس قسم کے قوانین کا نفاذ کر کے یہ تائثر دینا چاہتے ہیں کہ انکا اسکول ڈسپلن اور قواعد کے لحاظ سے کس قدر بہترین ہے۔ انسانی قدر و قیمت بھی کوئ چیز ہے۔ لیکن یہ ضرور کہنا چاہونگی کہ کسی اسکول انتظامیہ کو یہ حق نہیں ہونا چاہئیے کہ وہ محض اس وجہ سے بچے کو کلاس سے نکال کر گھر واپس بھیج دیں۔ بچہ بہرحال وہاں تعلیم کے لئے ہے اور اس طرح سے اسکی تدریس کا جو نقصان ہوتا ہے اسکی ذمہ داری اسکول پہ عائد ہوتی ہے اور محکمہ ء تعلیم کو اس سلسلے میں نوٹس لینا چاہئیے کہ وہ کون سی اہم وجوہات ہو سکتی ہیں جنکی بناء پہ ایک اسکول اپنے کسی صحت مند طالب علم کو کمرہ ءجماعت میں بیٹھنے سے روک دے۔
جوئیں، کسی کی جمالیاتی حس کو ناگوار گذر سکتی ہیں، صفائ پسند طبیعت کو بری لگ سکتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مچھر،  یا کچھ اور حشرات کی طرح کوئ بیماری نہیں پھیلاتیں۔
اگر اسکول انتظامیہ چاہے تو وہ پہلے سے احتیاطی تدابیر کروا سکتی ہیں مثلاً وہ والدین کو یہ نوٹس بھیج سکتی ہے کہ  ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران بچے کے سر کو کسی جوئیں مار شیمپو سے دھویا جائے اور گیلے بالوں میں باریک کنگھی پھیری جائے۔ اس طرح سے اگر کوئ جوں اتفاقاً چڑھ جائے تو وہ نکل جائے گی۔  پوری جماعت ایکدن اس طرح کے عمل سے گذرے گی تو جوءوں کے پھلنے کے امکانات خاصے کم ہو جائیں گے۔
بچیوں کے لئے یہ لازمی کیا جائے کہ اگر انکے بال بڑے ہیں تو وہ انہیں باندھ کر رکھیں اس طرح بندھے ہوئے بالوں سے جوءوں کی منتقلی مشکل ہو جاتی ہے۔ بچوں کو آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنے سے منع کریں۔
والدین کو بتایا جائے کہ ہفتے کے آخری دن جو کہ پاکستان کے زیادہ تر اسکولوں میں جمعہ کا دن ہوتا ہے بچوں کی صفائ کے سلسلے میں معائنہ ہوگا۔ اس طرح ان پہ دباءو رہے گا کہ وہ اپنے بچوں کی صفائ کا خیال رکھیں۔ یہ نوٹس انہیں تعلیمی سال شروع ہونے کے ساتھ ہی دیا جائے نہ کہ معائنہ ہونے سے ایک دن پہلے۔
بچوں کو وقتاً فوقتاً جسمانی صفائ کے متعلق بتانے کے لئے استاد کو اہتمام کرنا چاہئیے۔

اسکولوں سے ہٹ کر والدین اکثر پریشان نظر آتے ہیں کہ وہ  جوءوں سے نجات پانے کے لئے کیا کریں؟

اس سلسلے میں، میں نے انٹر نیٹ سے مدد لی ۔ مزید یہ کہ اس میں میرے ذاتی تجربات بھی شامل ہیں کیونکہ میں خود ایک بچی کی ماں ہوں۔ اس لئے امید ہے کہ یہ طریقے کارآمد ہونگے۔
شیمپو سے؛
سب سے پہلے یہ واضح کر دوں کہ ایک دفعہ جوئیں سر میں داخل ہو جائیں تو ماں کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ جوئیں مارنے والے شیمپو چاہے وہ کتنا ہی دعوی کریں کہ لیکھوں اور جوءوں سے مکمل نجات وہ مکمل صفائ نہیں کرتے۔
جوئیں مارنے والے شیمپو میں عموماً میلاتھائیاون، کیڑے مار دوا ایک مخصوص مقدار میں شامل ہوتی ہے۔ تاکہ وہ سر کے بالوں یا جلد کو زیادہ نقصان نہ پہنچائے۔ یہ دوا لیکھوں یعنی جوءوں کے انڈوں کا خاتمہ نہیں کرتی۔ جوءوں کا خاتمہ بھی صرف چھتیس فی صد تک کرتی ہے۔ بعض جوءوں میں ان دواءوں کے لئے مزاحمت بھی ہوتی ہے اور وہ اس سے نہیں مرتیں۔ اگر مر جائیں تو کچھ عرصہ بعد باقی رہ جانے والے انڈوں سے نئ جوئیں پیدا ہوجاتی ہیں اور ایک دفعہ پھر بچہ سر کھجا رہا ہوگا۔
اسلئے جوئیں مارنے کے لئے کوئ بھی طریقہ استعمال کریں ایک روائیتی طریقہ ہر صورت استعمال کرنا پڑے گا اور وہ ہے باریک کنگھی کا استعمال۔

یہ باریک کنگھی ذرا دیکھ بھال کر لیں عام پلاسٹک کی کنگھیاں جو نرم دانتوں کی ہوتی ہیں اور دانتوں کے درمیان فاصلہ زیادہ ہوتا ہے آپکا مسئلہ حل نہیں کریں گی۔ دانتوں کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہونا چاہئیے اور پلاسٹک کو سخت ہونا چاہئیے۔ پلاسٹک کے علاوہ، یہ کنگھیاں لکڑی اور دھات کی بھی مل جاتی ہیں۔ مسلسل استعمال سے دانتوں کے درمیان فاصلہ پیدا ہو جاتا ہے انہیں پھینک کر دوسری لے لیں۔ یہاں کراچی میں انڈیئن باریک کنگھیاں مل جاتی ہیں یہ پاکستانی کنگھی سے مہنگی ہوتی ہیں مگر کام میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ 
اگرچہ میں پاکستانی مصنوعات کو ترجیح دیتی ہوں لیکن اس نکتے پہ انڈیئن کنگھی ہی لینا پسند کرتی ہوں۔ اس کنگھی کے سلسلے میں ایک بات اور بتادوں کے جب بھی دور دراز کے سفر کو نکلیں اپنے سامان میں یہ کنگھی رکھنا مت بھولیں۔
اب طریقہ ء استعمال دیکھ لیں۔ بچے کو نہلانے سے پہلے بالوں میں ہلکا سا تیل لگا کر کنگھا کر کے بال اچھی طرح سلجھا لیں۔ اب شیمپو کو  بالوں میں لگا لیں۔ بالوں کو سر کے آگے نہ لٹکائیں۔ بلکہ جس طرح آپ نے کنگھا کیا تھا اسی سمت رہنے دیں۔ دی ہوئ ہدایات کے مطابق اتنی دیر رہنے دیں۔ اب اسی طرح بالوں کو پریشان کئے بغیرپیچھے کی سمت رکھے ہوئے بالوں کو نرمی سے پانی سے دھو ڈالیں۔ اب دوبارہ بالوں میں پہلے موٹا کنگھا یا برش پھیر کر انہیں سلجھا لیں۔ اگر آپ نے ان ہدایات پہ عل کیا تو بال بہت زیادہ الجھے ہوئے نہیں ہونگے۔
جب بال خوب اچھی طرح سلجھ جائیں اور کنگھے کو ان میں چلنے میں ذرا دشواری نہ ہو تو سر کےحصے کر لیجئیے اور ہر سمت سےباریک کنگھی کوسر کی جلد سے لے کر بالوں کے آخری سرے تک  پھیرتے چلے جائیں۔ ہر دفعہ کنگھی پھیرنے کے بعد اسے اچھی طرح اپنے سنک پہ جھٹک لیں تاکہ اگر دانتوں کے درمیان کوئ جوں پھنس گئ ہو تو وہ نکل جائے۔ یہ عمل تین سے چار بار کریں، کانوں کے اوپری حصے کی طرف خاص طور پہ کہ جوئیں زیادہ تر یہاں پہ یا گدی کے پاس جمع ہو جاتی ہیں۔
شیمپو دو تین دن کے وقفے سے استعمال کریں لیکن کنگھی آپ ہر روز نہلانے کے دوران پھیر سکتی ہیں۔ بچہ لازمی طور پہ چیخے چلائیں گا۔ لیکن اپنا دل کڑا رکھیں۔ بعد میں ہیئر ڈرائیر کی گرم ہوا سے بال خشک کر لیجئیے۔ یہ گرم ہوا امید ہے بچ جانے والی جوءوں کا کاتمہ کر دے گی مگر اسے اتنا زیادہ استعمال نہ کریں کے بالوں کو مردہ ہی کر دے۔ ایک خاص فاصلے پہ رکھ کر استعمال کیجئیے۔
قدرتی طریقہ؛
جو لوگ بالوں کے معاملے میں حساس ہیں وہ پوچھتے ہیں شیمپو کے علاوہ کوئ قدرتی طریقہ نہیں۔ بالکل ہے۔  ہمارے ملک میں کچھ لوگ تارا میرا کا تیل استعمال کرتے ہیں۔ باہر کے ممالک میں ٹی ٹری آئل یا اس میں زیتون کا تیل ملا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ مجھے ان طریقوں کی افادیت کے متعلق نہیں پتہ۔
لیکن تیل کے علاوہ بھی طریقے ہیں۔
عام شیمپو سے بال شیمپو کرنے کے بعد بالوں میں تھوڑا سا منہ صاف کرنے والا لسٹرین جروں سے سارے بالوں میں لگا لیں چند منٹ لگا رہنے دیں بالوں کو ہلکے سے پانی سے دھوئیں اور باریک کنگھی پھیر لیں۔ لسٹرین سے جوئیں نیم بے ہوش ہو جاتی ہیں۔
ایک اور طریقہ ہے میونیز بالوں میں اچھی طرح لگا کر چھوڑ دیں۔ جی وہی میونیز جو کھانوں میں استعمال کرتے ہیں۔اس سے بھی جوئیں گھٹن کا شکار ہو جاتی ہیں۔ لیکن  میونیز کو صاف کرنے کے لئے بالوں کو اچھی طرح شیمپو کرنا پڑے گا۔  گیلے بالوں میں باریک کنگھی پھیرنا مت بھولیں۔
اگر بال روکھے ہیں تو شیمپو کرنے کے بعد بالوں کے سرے پہ کنڈیشنر لگا لیں ۔ یاد رکھیں کنڈیشنر کو کبھی بھی بالوں کی جڑوں میں نہ لگائیں۔ نہ وہ شیمپو استعمال کریں جن میں کنڈیشنر بھی ہوتا ہے۔ کنڈیشنر آپکے بالوں کی جڑوں کو کمزور کرتا ہے۔
ایک دفعہ یہ یقین ہونے کے بعد کہ اب بالوں میں جوئیں نہیں رہیں۔ آرام سے نہ بیٹھ جائیں دس دن کے بعد دوبارہ اس عمل کو دوہرائیں اور کنگھی کو چیک کریں اگر اس میں کوئ جُوں آتی ہے تو اسے پھر دوہرائیں تاکہ اسکے دئے ہوئے انڈوں سے جو نئ جوئیں بنی ہیں وہ نکل جائیں۔ ایک جوں روزانہ دس انڈے دے سکتی ہے۔  انڈے سے جوئیں نکلنے میں تقریباً ایک ہفتہ اور ان جوءوں کو انڈے دینے کے قابل بننے میں دس دن لگتے ہیں۔ 
بچے کے سر میں جوئیں ہونے کا مطلب یہ کہ گھر کے ہر فرد کو جوئیں ہو سکتی ہیں۔ احتیاظاً گھر کے سب افراد اس عمل کو کریں۔ تاکہ ایک دفعہ سارا گھر صاف ہو جائے ورنہ پھر کسی شخص کی جوئیں نا پسندیدہ پھیلاءو کا باعث بن جائیں گی۔  اسکے لئے آپکو گھر والوں کو مطلع کرنا پڑے گا کہ گھر پہ کس طرح کا حملہ ہو چکا ہے۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ بری اطلاع دینا آسان کام نہیں۔ لیکن  زندگی میں مسائل کم رکھنے کے لئے اس سے مفر ممکن نہیں۔ اب آپکے سر میں کھجلی شروع ہو چکی ہے تو سب سے پہلے ایک باریک کنگھی خریدئیے، وہی دشمنوں کی بنی ہوئ۔
 :)
 Malathion
Antilice shampoo

Sunday, July 31, 2011

جھوٹ بولے کوا کاٹے

رافعہ میری سینیئر کو لیگ ہیں اور دوست بھی۔ جب تک پاکستان میں رہیں  انکی نظریاتی ہمدردی جماعت اسلامی سے رہی۔ چند سال پیشتر وہ ہجرت کر کے کینیڈا آ گئیں۔ گذشتہ دنوں کینیڈا میں ان سے ملاقات ہوئ۔  یہاں بھی وہ اسکارف اور عبایہ پہنتی
ہیں۔ انکی سترہ سالہ اور چودہ سالہ بیٹی بھی سر پہ اسکارف لیتی ہیں۔
یہاں میں جس پاکستانی سے بھی ملتی ہوں اس سے یہ سوال ضرور کرتی ہوں کہ اسے یہاں کیسا لگتا ہے۔ یہی سوال ان سے بھی پوچھا۔ کہنے لگیں جنت کا تصور بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا ہم یہاں حقیقی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ بچوں کو وظیفہ ملتا ہے ہمارے بیشتر اخراجات تو اس سے ہی طے ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ شہریوں کے دیگر حقوق ہیں۔ مثلاً اسکول کی تعلیم مفت ہے۔ مجھے آپنے بچوں کی تعلیم پہ نہیں خرچ کرنا پڑتا۔ یونیورسٹی تعلیم کے لئے حکومت قرضے دیتی ہے۔ روزگار نہ ہو تو وظیفہ ملتا ہے۔ گھر میں کوئ بچہ معذور ہو تو بے شمار رعائیتیں ملتی ہیں۔ فلاحی ریاست کا اگر کوئ تصور ہے تو یہ ریاست اس پہ پوری اترتی ہے۔
ہم کام کرتے ہیں مگر زندگی کی دیگر تفریحات کے لئے وقت ملتا ہے۔ اپنے گھر کے سامنے موجود ہرے بھرے ٹیلے کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا۔ سردی میں اس پہ برف جمی ہوتی ہے میں اور میرے بچے اس پہ اسکیٹنگ کرتے ہیں۔ یہ
گرمی کا موسم ہے آجکل ہم باقاعدگی سے پارک جاتے ہیں مختلف تفریحی مقامات کے لئے رعائیتی پاسز بھی موجود ہیں۔
اب رمضان آنے والا ہے آپکو تو پاکستان اس موقع پہ بڑا یاد آتا ہوگا۔ رمضان منانے کا لطف تو وہاں پہ ہے۔ میں نے پوچھا۔ انکی بچی کہنے لگی نہیں تو یہاں رمضان زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ ہماری بلڈنگ میں کافی مسلمان ہیں۔ رمضان میں ہم افطاری لے کر مسجد چلے جاتے ہیں۔ وہاں دیگر فیملیز کے ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں۔ مسجد میں بھی افطاری کا انتظام ہوتا ہے۔ روزانہ مفت سحری اور افطار ہوتا ہے۔ آخری عشرے میں جاگنے والی راتوں میں محفل شبینہ ہوتا ہے۔ ہم وہیں راتیں
گذارتے ہیں، بڑی رونق رہتی ہے۔
ہاں انہوں نے کہا پاکستان کی ایک چیز بڑی یاد آتی ہے اور وہ رمضان سے پہلے  ، رمضان کی وجہ سے چیزوں کی قمیتوں میں ہوش ربا اضافہ۔ بس یہ یہاں نہیں ہوتا۔  رحمت کی یہ قسم یہاں دستیاب نہیں
پاکستان میں لوگ کہتے ہیں کہ ان مغربی ممالک میں اس وقت تک آپکو قبول نہیں کیا جاتا جب تک آپ ان جیسے نہ ہوجائیں۔ یہاں کینیڈا میں یہ عالم ہے کہ ہجرت کر کے آئے ہوئے مسلمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ یہاں اداروں کی پالیسیز پہ اثر انداز ہونے لگے ہیں۔انکی ایک بچی کے اسکول میں تو پچاس فی صد بچے مسلمان ہیں۔ میں نے اسکے اسکول کے کنووکیشن کی تصویر دیکھی اور ناموں سے اندازہ کیا کہ کون کون مسلمان ہیں۔
اسکول ہی نہیں اکثر ادارے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے وہ اپنی پالیسیز میں تبدیلیاں لائے ہیں۔ کینیڈیئن پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران موجود ہیں۔ کیلگیری کا تو میئر بھی مسلمان ہے۔ اسکے علاوہ کینیڈا میں بچوں کے اسلامی اسکول الگ سے ہیں جہاں یہاں کا منظور شدہ اسکول کا کورس بھی ہے اور ساتھ میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ٹورنٹو میں ان اسلامی اسکولوں کی قابل تذکرہ تعداد موجود ہے۔
اگر صورت حال یہ ہو کہ صرف وہی لوگ رہ پاتے ہوں جو اپنے مذہب اور ثقافت کی قربانی دیتے ہیں تو یہ تبدیلی کیسے ممکن ہے کہ جس جگہ آج سے تیس سال پہلے حلال گوشت ملنا تقریباً نا ممکن تھا وہاں اب یہ بآسانی دستیاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی خواتین اور مرد شلوار قمیض میں عوامی جگہوں پہ نظر آجائیں۔ سو، یہ کہانی سنانے والے یا تو ان علاقوں سے واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ جھوٹ کیوں بولنے پہ مجبور ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
میرے سامنے موجود ایک چھبیس ستائیس سالہ نوجوان نے جو اٹھارہ سال کی عمر میں پاکستان سے کینیڈا پہنچا ،  جب بڑے جذبے سے کہا کہ دنیا میں کوئ ملک کینیڈا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کوئ ایک ایسا ملک ایسا نہیں جہاں اتنی بڑی تعداد میں مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگ اتنی ہم آہنگی سے رہ رہے ہوں۔ میں اسے رد نہیں کر سکی۔ میں نے اس سے پوچھا یہاں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پھر بھی ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی مذہب کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ پھر بھی ایسا ممکن کیوں نہیں ہوا؟ اس فخر سے پاکستان میں رہنے والے کیوں محروم ہیں۔
اس نوجوان نے مجھے ایک جانا پہچانا جواب دیا۔ جو پہچان پہ ہے ناز تو پہچان جائیے۔


canada, pakistan, toronto, islam,  culture, islamic school,religion, ramazan, calgary, extremism,

Thursday, June 24, 2010

الٹا سیدھا

میری ایک عزیزہ ایک دن صبح صبح ہی تشریف لے آئیں۔ معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو ہمارے گھر کے نزدیک ایک مونٹیسوری میں داخل کرادیا ہے اور چونکہ آج پہلا دن ہے تو وہ اسے چھوڑنے آئ تھیں۔ لگے ہاتھوں ہماری باری بھی آ گئ۔ ناشتے میں انکی گپیں بھی شامل ہو گئیں۔ پوچھا کہ اپنے گھر سے اتنی دور یہاں کیوں داخل کرایا ہے۔ کہنے لگیں۔ کافی لوگوں سے اسکی تعریف سنی تھی کہ اسلامی ماحول رکھتے ہوئے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ پوچھا، لیجئِے اسلامی جمہوریہ ملک بنانے کے بعد  اب اس میں بھی اسلامی اسکول کی ڈیمانڈ آگئ۔ سوچ لیں، اسکا آغاز تو خوشنما ہے، اسکا انجام اچھا نہیں ہے۔ ویسے اک بات بتائیں موبٹیسوری کی تعلیم اسلامی ہے کہ غیر اسلامی۔ کوئ جواب دئیے  بغیرمسکرا دیں۔

وہ کچھ عرصے پہلے سعودی عرب میں تین مہینے گذار کر آئی تھیں اوروہاں انہیں احساس ہوا کہ وہ ایک بہتر مسلمان نہیں ہیں۔ تو اپنے آپ کو بہتر مسلمان بنانے کے لئے انہوں نے اسکارف  پہننا شروع کیا۔ اور اپنے سب سے چھوٹے چار سالہ بچے کو اسلامی مونٹیسوری میں ڈالنے کا فیصلہ۔
خیر، ہلکی پھلکی باتوں کے ساتھ وہ کچھ دیر رکیں اور چلی گئیں۔ اسکے تین چار مہینے بعد ایک خاندانی تقریب میں ملاقات ہوئ۔ میں نے شکوہ کیا ۔ آپکے بچے کا اسکول ہمارے گھر کے پاس آگیا مگر پھر بھی آپ دوبارہ نہیں آئیں۔ کیسا چل رہا ہے اسکا اسکول۔ کہنے لگیں کہ  کہاں، ہم نے تو اسے ایک مہینے بعد ہٹا لیا۔ وہ کیوں؟ میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ اب انکے پاس ایک کہانی موجود تھی۔
ہوا یوں کہ اس بچے کے ساتھ انکے محلے کا ایک اور بچہ بھی وہاں داخل ہوا تھا۔ اسکول آتے جاتے جب اس بچے کو پندرہ دن ہو گئے تو ایکدن وہ اس دوسرے بچے کے گھر گئیں۔ دیکھا تو وہ بچہ اپنا اسکول ہوم ورک کرنے میں مصروف تھا۔ معلوم ہوا کہ اس بچے کو روزانہ ہوم ورک ملتا ہے۔ انہوں نے سوچا میرے بچے کو تو کوئ ہوم ورک نہیں ملتا اگلے دن اسکے اسکول گئیں۔ اسکول والوں نے کہا کہ آپکے بچے کو تو ہم ابھی پینسل پکڑنا سکھا رہے ہیں ابھی تو اسے پینسل پکڑنا ہی نہیں آتی۔ انہوں نے کہا ، نہیں تو وہ تو اچھا خاصہ لکھ لیتا ہے۔ جواب ملا نہیں، وہ تو پینسل بھی ٹھیک سے نہیں پکڑتا۔ اب انہوں نے دل میں سوچا کہ ہو سکتا ہے ابھی اسکول کے ماحول سے شناسا نہ ہوا ہو اور ہچکچاتا ہو۔ زیادہ اصرار کرنے پہ ایسا نہ ہو کہ بچہ سب کے سامنے سبکی کرادے۔ واپس آگئیں۔
اسی طرح مزید پندرہ دن گذر گئے۔ پھر جی کڑا کر کے  اسکول گئیں۔ وہی جواب ملا، ابھی تو اسے پینسل پکڑنا ہی نہیں آتی۔ ماں تھیں۔ اس دن اپنے بچے کے اس احساس محرومی سے شدید دلبرداشتہ تھیں کہ اسے ہوم ورک نہیں ملتا۔  کہنے لگیں بلائیے ذرا میرے بیٹے کو اور میرے سامنے لکھوائیے۔ گھر پہ تو آرام سے لکھتا ہے آپ کہتی ہیں اسے لکھنا تو الگ پینسل پکڑنا  نہیں آتی۔ بچے کو بلایا گیا۔ اسکے ہاتھ میں پینسل کاغذ دیا گیا۔ ماں نے چمکارا بیٹا الف ب لکھ کر دکھاءو۔ اس نے پینسل پکڑی اور الف ب لکھنا شروع کر دیا۔

اب عزیزہ کا اعتماد بحال ہوا تو پرنسپل کے کمرے میں موجود ٹیچر کو شعلہ برساتی نظروں سے دیکھا کہ دیکھ لیں پینسل بھی پکڑی ہوئ ہے اور لکھ بھی رہا ہے۔ جواب ملا۔ یہ تو الٹے ہاتھ سے لکھ رہا ہے۔ آپ نے اپنے بچے کو یہ نہیں سکھایا کہ اسے سیدھے ہاتھ سے لکھنا چاہئیے۔ الٹا ہاتھ استعمال کرنا غیر اسلامی ہے۔
بس اسکے اگلے دن سے انہوں نے اسے وہاں نہیں بھیجا۔

باز آئے ایسی محبت سے 
اٹھا لو پاندان اپنا
یہاں اس شعر میں پاندان کی جگہ کامران کر دیجئیے کہ یہی اس بچے کا نام ہے۔