Showing posts with label بچے. Show all posts
Showing posts with label بچے. Show all posts

Saturday, September 1, 2012

جیت کس کی ہوگی؟

یہ میرا آنرز کا پہلا سال تھا۔ عمر یہی کوئ سترہ سال۔ میں نے اپنا پریکٹیکل ختم کیا اور سامان دھو کر رکھنے لگی۔ اس دن ہم نے رنگ بنانے کا بنیادی طریقہ سیکھا تھا۔ اسکی دلچسپ بات یہ تھی کہ تیزابی پانی میں یہ گلابی رنگ دیتا تو اساسی پانی میں یہ اورنج رنگ کے ساتھ سبز چمک دیتا۔ جو بڑی خوبصورت معلوم ہوتی۔ اسکی ٹیسٹ ٹیوب کو میں نے خوب رگڑا۔ لیکن اس مرکب کا ایک چھوٹا سا غیر محسوس ٹکڑا تہہ میں ایسا چپک گیا تھا کہ نکلنے کا نام ہی نہ لے رہا تھا۔  اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا اور میں نے اس ٹیسٹ ٹیوب کو سکھا کر اوپر سے کاغذ کے ایک گولے سے بند کر کے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔
گھر پہنچتے ہی چھوٹی بہن نے خوشی کا نعرہ مارا۔ اسکی عمر یہی کوئ چار پانچ تھی۔ اور وہ ہر روز اپنی سائینس کی ٹیچر کے فرمودات سنایا کرتی تھیں اورروز کے حساب سے حاصل ہونے والی اپنی  معلومات کو فوری طور پہ شیئر کرنا فرض عین سمجھتی تھیں کہ اس سے ہم سب کے منہ کھلے رہ جاتے۔ ہماری اس بے مثل ایکٹنگ سے وہ اپنے آپکو ایک علامہ سے کم نہیں سمجھتی تھیں۔ لیکن آجکا دن ان کی علمیت ہی کیا انکے مشاہدات  پہ بھاری تھا۔ کیونکہ اس سازش میں قدرت ہی نہیں انکی ہر دلعزیز ہمشیرہ بھی شامل تھیں۔ ہر دلعزیز اس لئے کہ زیادہ اچھی اداکاری کرتی تھیں۔
میں نے کھانے وغیرہ سے جب فراغت پائ تو انہیں بتایا کہ آج میرے پاس ایک جادو ہے انکے لئے۔  بیگ سے ٹیسٹ ٹیوب نکالی۔ ایک پیالے میں صابن کا پانی یعنی اساسی محلول تیار کیا اور اس بظاہر خالی ٹیسٹ ٹیوب میں ڈال دیا۔ انکے تجسس بھرے چہرے پہ ایک گہری سنجیدگی ابھری اور وہ میرے جادو کے سامنے چت ہو گئیں۔ اس خالی ٹیسٹ ٹیوب میں اب اورنج رنگ کا محلول موجود تھا جس میں سبز دلکش چمک موجود تھی۔
تو جناب، مجھے بچپن سے ولی بننے کا بہت شوق تھا۔ لوگوں کے دلوں کے راز جان لوں، جائے نماز کے نیچے سے پیسے بر آمد کر لوں، جو خواب دیکھوں سچ ثابت ہو، جسے جو دعا دوں وہ پوری ہوجائے۔ کائینات کے ہر علم سے آگاہ ہوجاءوں۔ اس کوشش میں اولیاء اکرام کی سوانح حیات پڑھیں۔ تاکہ انکے تجربات سے مستفید ہوں۔ 
تھوڑے بڑے ہونے پہ پتہ چلا کہ صرف تقوی وغیرہ سے کام نہیں چلے گا۔ وظیفوں کا گھوٹا بھی لگانا پڑے گا۔ لیجئِے جناب اب ہر روز کئ ہزار دفعہ درود شریف تو خدا جانے کتنی دفعہ اور اسماء کا ورد بھی شامل ہو گیا۔ ادھر چکی کی مشقت بھی جاری تھی۔ یعنی دنیاوی حقیر علوم , سائینس وغیرہ سے بھی نجات ممکن نہ تھی کہ  اس سلسلے میں تعلیمی اداروں کو روانہ ہوتے، فیس بھرتے، امتحان دیتے۔
 یہ وہ زمانہ تھا جب ہماری سائینس کی کتابوں میں پہلا سبق ان مسلمان سائینسدانوں کا شامل ہوا جنہوں نے سائینس کی دنیا پہ وہ عظیم احسانات کئے جس سے اب کئ ہزار سالوں کے لئے ہماری آنے والی نسلوں پہ سے یہ فرض ہٹ گیا۔
ایک طرف اولیاء اکرام کی سحر ناک ہستیاں ، لیکن انکے وظائف کے ساتھ یہ مسئلہ کہ جسے بخشیں بس اسی کو سمجھ میں آوے اور کرے تو ٹھینگا پاوے بلکہ وظائف کا اثر الٹا ہونے کی صورت میں دماغ میں خلل بھی ہو جاوے اور موکل اور جن ایسا قابو پاوے کہ کسی کو کچھ سمجھ میں نہ آوے۔ دل تو اس خبر سے بھی پگھلا جاتا کہ  خدا کے کلام کی برکت پانے کے لئے، ملک کا حکمراں تک ڈنڈا کھانے کو آوے۔
دوسری طرف سائینس کی کرشمہ سازیاں، تھوڑی بہت تربیت پاویں ، کوشش کرتے جاویں اور ایک دن ایسا آوے کہ خود بھی کوئ وظیفہ ، یعنی فارمولا، نظریہ یا ایجاد  بنانے کے قابل ہو جاویں۔ لیکن حکمران ایسا سامان کر جاویں کہ اسے حاصل کرنے میں ہم خون کے آنسو بہاتے جاویں اور ہرگز نہ حاصل کر پاویں۔
اگرچہ لوگوں نے بڑا زور دیا کہ ہمارا مذہبی تصوف بڑے بڑے کمالات دکھا سکتا ہے۔ اسکے بعد دنیا کو کسی علم کو حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔ مگر جناب ادھر تو لفظ 'سکنا' کے بجائے 'موجود' تھا۔ ادھر بے یقینی اور ادھر آنکھوں دیکھا یقین۔ ادھر جتنا سر مارو اسرار ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے ، ہر چھوٹے سے قدم کے بعد حلق سے نکلنے والے مشکل الفاظ کی بھر مار، ادھر جتنا آگے بڑھو اتنا ہی اسرار کی دنیا کھل کر سامنے چلی آرہی ہے۔ ادھر ہر نعرہ ء تعجب کے بعد سبحان اللہ نکلتا ہے ادھر سبحان اللہ کہنے کے بعد نعرہ ء مستجاب۔
یہی نہیں آنکھوں دیکھی یہ کہ ہمارا تصوف ہی کیا دنیا کے ہر مذہب میں ایسے اسرار موجود۔ دنیا کے ہر مذہب میں خدا سے اپنی مرضِی کے کام کروانے کے وظائف حاضر۔ جیت کس کی ہونی تھی؟ میں بھی اپنی ہمشیرہ کی طرح سائِنس کے سامنے چت ہو گئ۔ فرق یہ تھا کہ وہ لا علمی میں ہوئ اور میں علم کے ساتھ اور علم کے ساتھ ہونا افضل ہے۔
آج بھی اعمال وظائف کی کتاب سرہانے دھری ہے۔ سوچتی ہوں اسکا حشر حضرت سلمان کی لاٹھی والا نہ ہوجائے۔ آخری دفعہ  آزمائیشی طور پہ محبوب کو قابو کرنا چاہا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنا بنا کر چھوڑتا۔ اس سراب سے یوں نکل آئے جیسے بارش کے بعد سورج نکلتا ہے۔ زیادہ واضح ، چمکدار اور گرم۔ ہم قصور انکا سمجھتے تھے  اپنا نکل آیا۔ محبوب اپنے طور پہ سمجھتے ہونگے کہ وہ تاریک راہوں میں مارے گئے لیکن حقیقت میں یہ روشنی کی مار تھی۔
 وظائف کی اس دنیا کے اسیر اتنے ہیں کہ ایک  سے بات شروع کریں دو چار سو اور نکل آئیں گے۔
  مجھے یاد ہے ان دنوں لانڈھی کے علاقے میں خاصے حالات کشیدہ تھے۔ مجھے اپنی ایک عزیزہ کے ساتھ زندگی میں پہلی دفعہ  اس طرف ضروری کام سے جانا پڑا۔ باتوں کا سلسلہ روکنے کے لئے میں نے کہا بس اب چلتے ہیں حالات خراب ہیں، میں اس علاقے سے مناسب طور پہ واقف بھی نہیں اور ہم دو خواتین کو گاڑی خود لے کر جانی ہے۔ اندھیرا ہوجائے گا تو مشکل ہوگی۔ صاحب خانہ کہنے لگے کہ بھئ گھبرانے کی کیا بات ہے آیۃ الکرسی پڑھ کر دم کر لینا۔ میں تو روز صبح آیۃ الکرسی کا دم کر کے نکلتا ہوں آج تک کسی اچکے نے میرے اوپر ہاتھ نہیں ڈالا۔
 معاملات نازک تھے ورنہ کہتی کہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد ہوگی جو آیۃ الکرسی پڑھ کر گھر سے نہیں نکلتی اور آج تک کسی نے ان پہ ہاتھ نہیں ڈالا۔ اگر حفاظت محض آیۃ الکرسی کے پڑھنے سے ہوجاتی تو سزا اور قانون وجود نہ رکھتے اور قاضی صاحب کسی کھاتے میں ہوتے ۔ ایسے میں جو لٹتا تو صاف پتہ چل جاتا کہ یہ ہے وہ ناہنجار جو آیۃ الکرسی نہیں پڑھتا۔ اسی کو درے جڑے جاتے۔ یوں ٹارگٹ کلرز اور طالبان کو منہ چڑا کر بھاگ جاتے۔ ادھر فوجیوں کی سخت تربیت کی ضرورت نہ رہتی بلکہ فوج ہی کی ضرورت نہ رہتی۔ سرحد پہ لائین سے لوگ تسبیح لے کر بیٹھ جاتے اور آیۃ الکرسی پڑھا کرتے۔
ابھی دو سال پہلے مولانا صاحبان نے شہر میں ایک پمفلٹ بٹوایا کہ ملک میں بد امنی اور بے سکونی کی بنیادی وجہ آوارہ عورتیں ہیں۔ ایک تو انکا سد باب کیا جائے دوسرا یہ کہ سورہ والشمس اتنی ہزار دفعہ لوگ گروہ بنا کر پڑھیں۔ ان دنوں ہم جہاں جاتے پتہ چلتا کہ والشّمس کا ورد ہو رہا ہے۔ لیکن پھر بھی آوارہ عورتیں جیت گئیں یعنی ملک اسی طرح بد امنی کا شکار رہا۔
چونکہ آجکل وظائف کا فیشن ہے اس لئے ہر مسئلے کا حل ایک وظیفہ ہے جو ہر کسی کو معلوم ہے۔ جس طرح لوگ پہلے بیمار کو طبی مشورے مفت دیتے تھے اب لوگ مفت وظیفہ بتاتے ہیں۔ یہاں اسی سال کا بوڑھا انسان ہسپتال میں ہو یا خاتون بچے کی ڈلیوری کے سلسلے میں ہسپتال میں، گھر میں یا سلام کا ورد شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد بوڑھآ آدمی مر جاتا ہے۔ یہ کہہ کر تسلی دیتے ہیں کہ انکی تو عمر ہی مرنے کی تھی۔   اور خاتون نارمل ڈلیوری کے بعد گھر میں موجود، جس روح کا آنا ہوتا ہے آکر رہتی ہے، ہم کہتے ہیں۔


مر کر بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے کا سوال بعد میں اٹھتا ہے مرنے کے بعد بھی وظائف کی ایک بھرمار رہتی ہے۔ کسی شخص کی موت کا اعلان ہوتے ہیں سات دفعہ سورہ بقرہ لازمی، اکتالیس دفعہ سورہ یسین، پھر خدا جانے کتنی بار سورہ ء ملک، پھر کئ لاکھ بار کلمہء طیب کا ورد، پھر پچیس ہزار بار قل شریف۔ کس واسطے کہ مرنے والے کی مغفرت ہو اور قبر میں آرام سے رہے۔ چاہے مرنے والا خدا پہ مناسب یقین بھی نہ رکھتا ہو۔ لیکن اس سامان کے بغیر اسکی رخصتی ممکن نہیں۔ یوں وہ لوگ جو دیار غیر میں رہتے ہیں اور وہیں دفن ہوتے ہیں یا وہ جن کا خاندان چھوٹا ہے انکے شدید خسارے میں رہنے کے امکان زیادہ ہیں۔ 
 صفر کا مہینہ آتا ہے تو سورہ مزمل کا وظیفہ، سارے سال کی بیماریوں اور مصائب سے چھٹکارا۔ لیکن پھر بھی احتجاج کے دوائیں مہنگی ہو رہی ہیں، ڈاکٹر لا پرواہ۔ حکومت ناکارہ، مصائب کا کوئ شمار نہیں۔
رجب سے رمضان تک جو وظائف ہیں انکا فوکس گناہوں سے نجات پانا ہے اعمال سے نہیں بلکہ وظائف سے۔ اگرچہ رمضان کے گیارہویں، بارہویں روزے پہ لڑکیوں کے رشتے کرانے کا وظیفہ بھی آتا ہے۔ پھر بھی والدین کو رشتے کرانے والے اداروں کی خاک چھاننی پڑتی ہے۔ لڑکیوں کو سنگھار کر کے چائے لے کر مہمانوں کے سامنے جانا پڑتا ہے اور میٹرک کس سن میں کیا تھا، بتانا پڑتا ہے۔
 شب براءت میں گناہوں کی بخشش کا وظیفہ، لمبی حیات کا وظیفہ، آفات و بلیات کو دفع کرنے کا وظیفہ، قبر کے عذاب سے نجات کا وظیفہ۔ ان سارے وظائف کی وجہ سے گناہوں کے کرنے کا حوصلہ ہے کہ بڑھا جاتا ہے اور مرنے کا خوف دل سے جاتا رہتا ہے۔
  یہی نہیں یا علیم پڑھیں علم حاصل کریں، کراچی گرامر اسکول، ماما پارسی، آئ بی اے یا فاسٹ پہ لعنت بھیجیں۔
 یا اول پڑھیں اور اولاد نرینہ حاصل کریں، سورہ ء واقعہ پڑھیں رزق حاصل کریں، جنت حاصل کرنے کے وظائف بے شمار، خدا کو راضی کرنے کے بھی اتنے ہی وظائف۔ اس سے بھی دل کی تسلی نہیں ہوتی یا یہ کہ آپکا فطری رجحان ریاضی یا شماریات کی جانب ہے تو وہ وظائف اختیار کریں جن میں ثواب کی گنتی بتائ گئ ہے مثلاً تین دفعہ سورہ ء اخلاص پڑھیں سال بھر کے قرآن کی تلاوت کا ثواب۔ باقی کا قرآن کیوں نازل کیا گیا، یہ معمہ حل طلب۔ فلاں دن کا روزہ رکھ لیں سال بھر کے روزوں کا ثواب۔ فلاں مہینے کا عمرہ کر لیں، حج کا ثواب۔ لیجئِے اس مہینے لوگ جوق درجوق عمرے کے لئے جا رہے ہیں۔ سعودیوں کے مزے، زائد آمدنی عمرے کے بہانے ہو رہی ہے۔


میں تو اللہ پاک بے نیاز کا شکر ادا کرتی ہوں۔ بر وقت ولی بننے کا ارادہ موقوف کر دیا۔ ورنہ وظائف کی سیچوریشن کے اس زمانے میں مقابلہ کرنا بڑا مشکل ہوجاتا۔ ہم تو اسی میں خوش، سنگ مر مر پہ تیزابی پانی ڈالو تو کاربن ڈائ آکسائیڈ گیس پیدا ہوتی ہے۔ بچوں، جار کو الٹا کر کے اسے جمع کرو کیونکہ یہ ہوا سے بھاری ہوتی ہے۔
بچے یہ سیکھنے کے لئے کوچنگ سینٹرز کے باہر ہزاروں روپے دے کر ہزاروں کی تعداد میں کھڑے ہیں جبکہ ماں باپ کسی وظیفے کی تسبیح لئے کھڑے ہیں کہ انکا بچہ اے ون گریڈ میں کامیاب ہو اور میڈیکل یا انجینیئرنگ میں داخلہ ہوجائے۔ قارِئین اکرام، اندازہ کریں جیت کس کی ہوگی؟
۔

Monday, August 27, 2012

مسیار نکاح

اپنے پہلے شوہر کے انتقال کے فوراً بعد وہ سعودی عرب میں ایک طویل عرصہ گذار کر پاکستان واپس آگئیں۔ جب گفتگو کے دوران مجھے پتہ چلا کہ انکی دوسری شادی کو بھی پانچ چھ سال کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن انکے شوہر انکے ساتھ نہیں رہتے بلکہ اپنی پہلی مرحوم بیوی کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتے ہیں اور وہ اپنے پہلے شوہر کے بچوں کے ساتھ اپنے گھر میں رہتی ہیں تو مجھے نہایت اچنبھا ہوا۔
 یہ کیسا میاں بیوی کا تعلق ہے؟ میں نے بالکل پاکستانی ذہن سے سوچا۔ ایک تو یہی بات قابل اعتراض ہے کہ پچاس سال سے اوپر کی خاتون دوسری شادی کرے وہ بھی وہ جسکے پانچ بچے ہوں۔ بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہو۔  اور دونوں ساتھ بھی نہ رہیں۔ کیونکہ اگرہمارے  یہاں کوئ خاتون دوسری شادی کرتی ہے تو بنیادی مقصد تحفظ اور پیسہ ہوتا ہے۔
لیکن گھر واپس آ کر میں نے سوچا، کیا شادی محض معاشرتی تحفظ اور معاشی حالات کو مستحکم رکھنے کے لئے کی جاتی ہے؟
 اسکے چند دنوں بعد ایک محفل میں ادھر ادھر کی باتیں ہو رہی تھیں کہ کسی نے تذکرہ چھیڑ دیا کہ یہ جو سنّی، شیعوں کو متعہ نکاح پہ اتنا برا بھلا کہتے ہیں  یہ اپنے سنّی مسیار نکاح کی بابت کیوں نہیں بات کرتے۔ ایک دفعہ پھر میں نے ہونّق ہو کر پوچھا کہ یہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے؟
 جواب ملا یہ بھی متعہ سے ملتی جلتی چیز ہوتی ہے آپ جا کر نیٹ پہ دیکھ لیں یا اپنے کسی اسکالر سے پوچھیں۔ تس پہ کسی اور نے بتایا کہ ایک صاحب نے کئ اسلامی مدرسوں کو مسیار نکاح کی بابت لکھا کہ انہیں معلومات بہم پہنچائ جائیں لیکن انہیں کہیں سے جواب نہیں ملا۔ اس لئے وہ نہیں جانتے کہ مسیار نکاح کیا ہوتا ہے البتہ یہ معلوم ہے کہ یہ سنّی نکاح کی ایک قسم ہے جو کچھ شیعہ متعہ نکاح سے مشابہت رکھتی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس سارے کے بعد میں نے رات گھر واپس آکر نیٹ گردی کی۔ جناب، تو یہ اسلامی نکاح کی ایک قسم ہے۔
 تمام تر مطالعے کے بعد یہ بات سامنے آئ کہ مسیار نکاح اسلام میں حلال ہے۔ نہ صرف مسلمان آپس میں بلکہ اہل کتاب سے بھی کر سکتے ہیں۔ یہ عام نکاح سے کس طرح مختلف ہوتا ہے؟ یہ متعہ نکاح سے کیسے مختلف ہوتا ہے؟
نکاح مسیار، ایسا اسلامی معاہدہء نکاح ہے جس میں ایک خاتون اپنی مرضی سے اپنے بہت سارے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ مثلاً شوہر کے ساتھ رہنا، اگر اسکی ایک سے زائد بیویاں ہیں تو اوقات کی برابر تقسیم، نان نفقہ یعنی شوہر اسے گذر بسر کے لئے کوئ خرچہ نہیں دے گا اگرچہ کہ اسے بھی دونوں فریقین کی مرضی سے معاہدے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ رہائش مہیا کرے گا۔ 
 مہر کی رقم فریقین کی مرضی سے طے کی جاتی ہے۔ مہر اسلامی نکاح میں وہ رقم ہے جو لڑکی کو ادا کی جاتی ہے چاہے نکاح کے وقت یا نکاح کے بعد کسی بھی وقت لڑکی کے طلب کرنے پہ۔
یعنی عورت، اپنے والدین کے گھر یا اپنے ذاتی گھر میں رہتی ہے۔ شوہر اس سے ملنے کے لئے جاتا ہے جیسا وقت دونوں فریقین چاہیں منتخب کریں۔
شادی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے عام طور پہ عورت پالتی ہے۔ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آیا ان بچوں کا باپ کی وراثت پہ حق ہوتا ہے یا نہیں۔
 نکاح کے بعد بیوی اگر ان سب چیزوں کے لئے دعوی کرے تو اسکا دعوی صحیح ہوگا۔ اب اسکا انحصار شوہر پہ ہے کہ وہ اسے نتیجے میں یہ تمام اشیاء دے یا طلاق دے کر چھٹی پائے۔
اس ضمن میں اسلامی علماء کے درمیان اختلاف ہے کچھ اسے اخلاقی طور پہ اچھا نہیں سمجھتے اگرچہ حلال سمجھتے ہیں۔ الالبانی کے نزدیک یہ نکاح اسلامی روح سے متصادم ہے اس لئے ناجائز ہے۔ اسلامی شادی کی روح یہ بیان کی جاتی ہے کہ فریقین ایک دوسرے سے محبت کریں اور ایکدوسرے سے روحانی خوشی حاصل کریں۔  اگرچہ عملی سطح پہ ہم دیکھتے ہیں کہ محبت کی شادی ہمارے یہاں ایک لعنت سے کم نہیں اور ہم بنیادی طور پہ یہی سمجھتے ہیں کہ اسلامی شادی کا مقصد ایک مرد کی جنسی ضروریات کا حلال طریقے سے پورا ہونا ہے اور عورت محض جنس کا ایک ذریعہ ہے۔ 
 الالبانی کے نزدیک اسکے نتیجے میں ایک خاندان تشکیل نہیں پاتا اور نہ ہی عورت کو تحفظ مل پاتا ہے اور نہ ہی بچے ایک مستحکم خاندان سے آگاہ ہو پاتے ہیں۔ 
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہ شادیاں طلاق پہ ختم ہوتی ہیں کیونکہ مرد عام طور پہ یہ شادی اپنی جنسی ضرورت کے لئے کرتا ہے۔
متعہ اور مسیار نکاح میں صرف ایک فرق نظر آتا ہے اور وہ یہ کہ متعہ ایک مقررہ مدت کے لئے کیا جاتا ہے مدت کے اختتام پہ معاہدے کی تجدید کی جا سکتی ہے۔
 اب فقہے سے ہٹ کر ہم دیکھنا چاہیں گے مسیار نکاح کی ضرورت کیسے وجود میں آئ۔ آج کے زمانے میں یہ عرب ریاستوں بالخصوص سعودی عرب اور مصر میں عام ہے۔ جہاں امیر مرد وقت گذاری کے لئے یہ شادیاں کرتے ہیں۔ اسکی وجہ یہ بتائ جاتی ہے کہ یہاں عام اسلامی نکاح کے لئے مرد پہ بہت زیادہ معاشی دباءو ہوتا ہے۔
وہ عورتیں جنکی  شادی اس وجہ سے نہیں ہو پارہی ہو کہ کوئ مرد انکی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں مثلاً  بوڑھی یا بیوہ عورتیں یا وہ عورتیں جن پہ اپنے والدین یا بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہ سب مسیار نکاح سے مستفید ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ اس بات کے امکان زیادہ ہیں کہ یہ مردوں کی زیادہ جنسی آزادی کا باعث بنیں گی اور معاشرے میں خآندانی استحکام کو نقصان پہنچائیں گی۔
یہ عین ممکن ہے کہ یہ نکاح اسلام سے پہلے بھی رائج ہو۔ اسلامی قوانین کی اکثریت عرب کے قبائلی معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں سے بیشتر کو اصطلاحی طور پہ تبدیل کیا گیا ہے۔ 
 پاکستان، ہندوستان کے بر عکس عرب میں شادی کے بعد بیوی کو الگ گھر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں مشترکہ خاندانی نظام ہندءووں کے زرعی معاشرے کی وجہ سے آیا جسکا عرب میں کوئ خاص تصور نہیں۔ اگر کوئ پاکستانی، مشترکہ خاندانی نظام کو بہتر سمجھتا ہے تو اسے جان لینا چاہئیے کہ یہ عرب میں نہیں ہوتا۔ اس لئے اسلامی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔
چونکہ اس نکاح کا بنیادی مقصد صرف جنسی ضرورت کو پورا کرنا ہی نظر آتا ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جنس کی بڑی اہمیت ہے اور اسے بنیادی انسانی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ یوں عام اسلامی نکاح کے ساتھ اس قسم کے نکاح کی بھی گنجائش رکھی گئ ہے۔   یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ عرب معاشرہ جنس کے معاملے میں اتنا ہی کھلا ہے جتنا کہ مغربی معاشرہ جس کی بے حیائ پہ ہم ہر وقت لعن طعن کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عرب میں یہ باہر گلیوں میں نظر نہِں آتا۔ لیکن گھروں میں یہ اس سے کہیں زیادہ شدید حالت میں موجود ہے۔
قرآن پڑھتے ہوئے بھی میں اکثر سوچتی ہوں کہ جب ایک چھ سال کا عرب بچہ اسے پڑھتا ہوگا تو کیا وہ اسکے معنی نہیں سمجھتا ہوگا قرآن ایک ایسی کتاب جس میں جنس اور شادی کے معاملات کو کافی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
اسکے ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ جب بھی ہمارے یہاں یہ مسئلہ سر اٹھاتا ہے کہ ہائ اسکول یا کالج کی سطح پہ بچوں کو جنس سے آگہی دینا ضروری ہے تو سب سے زیادہ مذہبی حلقے اسکے خلاف شور مچاتے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟
آخر ایسا کیوں ہے کہ ویسے تو ہمارے یہاں عرب معاشرتی اقدار کو اسلامی معاشرتی اقدار کہہ کر پیش کیا جاتا ہے۔ عرب ثقافت کو اسلامی ثقافت کا متبادل سمجھا جاتا ہے۔  لیکن جب ان اقدار کی باری آتی ہے جو عرب کے ایک کھلے معاشرے کو پیش کرتے ہیں تو ہم صم بکم ہوجاتے ہیں ۔ اس وقت ہم عرب معاشرے کو پاکستانی معاشرے سے الگ کیوں سمجھتے ہیں؟

Tuesday, July 24, 2012

پولیو کے خلاف جہاد

ہر دفعہ پولیو مہم کے ساتھ ہی خبروں  اور اعتراضات کا ایک سلسلہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ کیوں؟
خبر یہ ہے کہ کراچی میں پولیو مہم سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر کو مار دیا گیا۔  یہ واقعہ سہراب گوٹھ کے علاقے میں موجود الآصف اسکوائرکے نزدیک  پیش آیا جہاں افغان مہاجرین اور پشتونوں کی آبادی زیادہ ہے۔ کراچی میں جن لوگوں نے ان قطروں کو پلانے سے انکار کیا ، وہ بھی عام طور پہ انہی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ میں ہی پولیو کی مہم کو سب سے زیادہ خطرات لا حق ہوتے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ ان گروہوں میں آگہی اور تعلیم کی کمی ہے۔
دوسری طرف اس مہم کو نہایت سنگدلی کے ساتھ مذہب اور جہاد سے جوڑ دیا گیا ہے۔  برین واشنگ اس طرح ہوتی ہے کہ چونکہ ہم کافروں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں اس لئے وہ اس ویکسین کے ذریعے ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ ویکسین کے مقابلے میں سر درد کی گولیوں سے یہ کام کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ دوسری کسی بھی دوا کو چھوڑ کر محض اس ویکسین کو پکڑ لیا گیا ہے۔ شاید یہ کہ عام طور پہ اس ویکسین کی مہم چلانے کے لئے تعلیم یافتہ لوگوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور مخصوص عناصر نہیں چاہتے کہ تعلیم کا کوئ بھی مثبت پہلو سامنے آئے۔ 
 آج ہم اس تحریر میں ویکسین ہی پہ بات کریں گے۔

ویکسین کیا ہوتی ہے؟
ویکسین ایک ایسا مرکب ہوتا ہے جو انسانی جسم کے دفاعی نظام کو مختلف بیماریوں کے لئے بہتر بناتا ہے۔ یہ مرکب جن مختلف طریقوں سے تیار کیا جا سکتا ہے وہ حسب ذیل ہیں۔
نمبر ایک؛ 
جس بیماری کے خلاف دفاع حاصل کرنا ہو اسی کے کمزور یا مردہ جراثیم سے۔ جراثیم کو مردہ  یا کمزور کرنے کے لئے کیمیکلز، حرارت، تابکاری یا اینٹی بائیوٹکس استعمال کی جاتی ہیں۔ پولیو کی ویکسین اسی طریقے سے تیار ہوتی ہے۔
نمبر دو؛
وہ جراثیم جو زہر خارج کرتے ہیں اس زہر سے مشابہت رکھنے والے کسی مرکب سے تیار کی جاتی ہیں۔ ٹیٹنس اور کالی کھانسی کی ویکسین اسی طریقے سے تیار کی جاتی ہے۔
نمبر تین؛
 جراثیم کی بیرونی سطح پہ پائ جانے والی پروٹینز کی ساخت سے مشابہت رکھنے والے مرکبات کی مدد سے۔ ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین اس طریقے سے تیار ہوتی ہے۔
 ویکسین بنانے کے دیگر طریقے بھی استعمال میں آ رہے ہیں جنکی تفصیل میں ہم اس وقت نہیں جا رہے۔

ویکسین انسانی جسم میں کیسے کام کرتی ہے؟
انسانی جسم میں بیماریوں کے خلاف دفاع کے لئے ایک مربوط نظام موجود ہے جسے ہم امیون سسٹم کہتے ہیں۔ یہ نظام اپنے جسمانی خلیوں کو پہچانتا ہے  لیکن جیسے ہی کوئ اور ایجنٹ جسم میں داخل ہوتا ہے جو کہ اس جسم کا نہیں ہوتا وہ اسکے خلاف حرکت میں آجاتا ہے۔ اگر جراثیم طاقتور ہوتے ہیں تو وہ اس نظام پہ حاوی ہو جاتے ہیں اور انسان کو بیمار کر دیتے ہیں اگر ان جراثیم کی تعداد ایک مخصوص مقدار سے کم ہوتی ہے یا انکا زہریلا پن کم ہوتا ہے تو جسم کا دفاعی نظام اسے زیر کر لیتا ہے اور انسان کو بیماری سے بچا لیتا ہے۔
زیادہ تر حالات میں انسان کا یہ دفاعی نظام اس ایجنٹ کو برباد کرنے کے ساتھ اسکی ساخت یاد کر لیتا ہے۔ اس طرح جب وہ جراثیم دوبارہ جسم میں داخل ہوتے ہیں تو انسانی جسم کا یہ دفاعی نظام تیزی سے ایکشن میں آتا ہے اور انہیں فی الفور ختم کر دیتا ہے۔
جب انسان نے جراثیم کے بارے میں جانا اور اسے انسانی جسم کے اس دفاعی نظام کے کام کرنے کے طریقے کے بارے میں پتہ چلا تو اس نے اس سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔ یوں ویکسین وجود میں آئ۔ ویکسین انسانی جسم کو بیمار ہونے سے پہلے ہی تحفظ دیتی ہے اس طرح یہ دیگر ادویات کے مقابلے میں کہیں موءثر ہوتی ہیں۔ محض معمولی سی مقدار زیادہ تر حالات میں تا عمر تحفظ دیتی ہے یا پھر ایک مخصوص عرصے کے لئے تحفظ دیتی ہے۔ زیادہ تر ویکسین سستی ہوتی ہیں۔ چونکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہی اتنے فنڈز ہوتے ہیں کہ لوگوں کی صحت پہ خرچ کئ جا سکیں تو عام طور پہ تحقیقاتی ادارے بھی ان ملکوں میں پھیلی ہوئ بیماریوں پہ توجہ کرتے ہیں اور غریب ملکوں میں عام بیماریوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اس وجہ سے غریب ملکوں کی بیماریوں کے خلاف سستا علاج ڈھونڈھنا مشکل ہوتا ہے۔

 انیس سو چھتیس میں فارملڈی ہائیڈ کے ذریعے پولیو جراثیم کو مردہ کر کے ویکسین بنائ گئ۔ اسے بنانے والے سائینسدان نے اسے اپنے اوپر اپنے کچھ ساتھیوں اور تین ہزار بچوں پہ آزمایا۔ ان میں سے کچھ بچوں کو اس سے الرجی ہو گئ، لیکن کسی بچے کو پولیو نہیں ہوا۔ اس لئے یہ ویکسین کامیاب نہ کہلائ جا سکی۔ کچھ اور تجربات کئے گئے جو کامیاب نہ ہوئے۔
ایک اور گروپ  نے جان اینڈر کی سربراہی میں تحقیقات کی اور اسکے نتیجے میں وہ پولیو کے جراثیم کاشت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ جان اینڈر کو اس سلسلے میں نوبل پرائز بھی ملا۔
انیس سو باون  اور تریپن میں امریکہ میں تقریبا نوے ہزار لوگ پولیو سے متائثر ہوئے۔ جسکی وجہ سے اسکی ویکسین کی تیاری کی طرف خصوصی توجہ کی گئ۔ جو ویکسین ملی اسے پہلی دفعہ انیس سو پچاس میں ایک آٹھ سالہ لڑکے پہ آزمایا گیا۔ کامیابی کے بعد مزید انیس بچوں کو دی گئ۔  انیس سو پچپن میں اسکا اعلان کیا گیا۔

جوناس ساک، سائینسدان جس نے پہلی دفعہ انجیکشن والی پولیو ویکسین بنائ، بے غرض والدین کی بچی جس نے اپنا بازو پیش کیا نئ ویکسین کی آزمائش کے لئے

اور اب اس بیماری کا امریکہ سے خاتمہ ہوچکا ہے۔ سن دو ہزار میں چین اور آسٹریلیا سے اسکے خاتمے کا اعلان ہوا اور دو ہزار دو میں یوروپ میں اسکے خاتمے کا اعلان ہوا۔ اس کے باوجود ان تمام علاقوں میں بچوں کو پولیو کی ویکسین دی جاتی ہے۔ دنیا میں اس وقت صرف چار ملک ایسے ہیں جہاں پولیو موجود ہے ان ملکوں میں نائجیریا، افغانستان، انڈیا اور ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چند عناصر اسے ختم کرنے کی راہ میں حائل ہیں اور نہیں چاہتے کہ بچوں کو اس ویکسین کے قطرے ملیں۔ 
 پولیو ویکسین دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک  انجکشن کے ذریعے دی جاتی ہے اور اس میں پولیو کے مردہ جراثیم استعمال ہوتے ہیں۔ پولیو ویکسین کی دوسری صورت قطروں کی شکل میں استعمال ہوتی ہے یہ کمزور کئے گئے جراثیم سے تیار ہوتی ہے۔ اس دوسری ویکسین کو ایسے علاقوں میں دیا جاتا ہے جہاں پولیو کا وبائ مرض بننے کا امکان ہوتا ہے۔ چونکہ یہ منہ کے ذریعے دی جاتی ہے اصل بیماری پیدا کرنے والے جراثیم بھی منہ کے ذریعے داخل ہوتے ہیں اس لئے زیادہ مءوثر ہوتی ہے۔ جسم سے جب فضلہ خارج ہوتا ہے تو یہ اس فضلے میں بھی خارج ہوتے ہیں جہاں سے یہ دوسرے انسانوں کو بھی پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح سے انہیں بغیر ویکسینیشن کے ہی تحفظ حاصل ہو سکتا ہے۔
پولیو ویسکین کےاجزاء کیا ہوتے ہیں؟
قطروں والی ویکسین کے اجزاء اس طرح ہیں۔ بیماری کے جراثیم کی مختلف اقسام  اور ان کے علاوہ بہت کم مقدار میں اینٹی بائیوٹکس ہوتی ہیں جو عام طور پہ نیو مائسین یا اسٹرپٹو مائسین ہوتی ہیں اس میں کوئ اور محفوظ کرنے والا کیمیکل استعمال نہیں ہوتا۔
OPV is usually provided in vials containing 10-20 doses of vaccine. A single dose of oral polio vaccine (usually two drops) contains 1,000,000 infectious units of Sabin 1 (effective against PV1), 100,000 infectious units of the Sabin 2 strain, and 600,000 infectious units of Sabin 3. The vaccine contains small traces of antibioticsneomycin and streptomycin—but does not contain preservatives.
قطروں والی ویکسین میں چند قباحتیں ہیں۔ سب سے پہلی تو یہ کہ پولیو کے نیم مردہ جراثیم اتنی طاقت حاصل کر لیں کہ تندرست جراثیم کے برابر ہو جائیں اس طرح وہ بیماری پھیلانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ یعنی اندازاً ساڑھے سات لاکھ میں سے ایک بچہ اس کا شکار ہو سکتا ہے  اور یہ بھی ان بچوں میں ہوتا ہے جن کا دفاعی نظام کمزور ہوتا ہے یا اس میں اس بیماری کے جراثیم کے خلاف ایجنٹس بنانے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔
دوسرا سب سے اہم مسئلہ اس ویکسین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہوتا ہے۔ گرم ملکوں میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ نیم مردہ جراثیم کی وجہ سے ویکسین کا درجہ ء حرارت کم رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ 

کیا ویکسین دینے کے باوجود بچے اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں؟
بعض صورتوں میں ویکسین بہت موءثر ثابت نہیں ہوتی۔ مثلاً بعض افراد میں بیماری کے جراثیم کے خلاف اینٹی باڈیز بنانے کی صلاحیت نہیں ہوتی اس لئے وہ ویکسینیشن کے باوجود بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔ دوسری اہم وجہ ٹیکوں کے لگانے کے وقت یعنی ٹائم ٹیبل کا دھیان نہ رکھنا، تیسری اہم وجہ ویکسین کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے وقت انہیں ٹھنڈا رکھنے میں ناکام رہنا۔

کیا پولیو ویکسین سے بانجھ پن پیدا ہوتا ہے؟
جی نہیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اس سلسلے میں نہ صرف سرٹیفیکیٹ جاری کر چکی ہے بلکہ پمفلٹس تقسیم کرا چکی ہے کہ پولیو ویکسین نہ صرف معیاری ہے بلکہ اس طرح کے کوئ امکانات نہیں ہیں۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئیے کہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں یہ ویکسین بچوں کو دی جاتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو بانجھ کر رہے ہوں دوسری طرف یہ ویکسین انیس سو پچاس کی دہائ سے دی جارہی ہیں۔ آج ساٹھ سال بعد بھی ایسی کوئ تحقیق یا مشاہدہ سامنے نہیں آ سکا۔
بانجھ پن کی دیگر متعدد وجوہات ہیں جنکی طرف یہ عناصر کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے اور ان میں سب سے پہلی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے۔ کاشتکاری کے لئے فرٹیلائزرز کا استعمال، کیڑے مار ادویات یہ سب بھی تو بانجھ پن پیدا کر سکتی ہیں حتی کہ ذہنی تناءو بھی بانجھ پن پیدا کر سکتا ہے۔ انکے خلاف کیوں نہیں کوششیں ہوتیں۔

کیا پولیو ویکسین کے لئے بچوں کا خون چاہئیے ہوتا ہے؟
جی نہیں ، پاکستان میں جو ویکسین دی جاتی ہے یہ قطروں کی صورت میں ہوتی ہے اور اس کے لئے کسی بھی قسم کے انجکشن یا خون کے سیمپل کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

  پاکستان میں بچوں کی ویکسینیشن کے لئے دو سال کی عمر تک مندرجہ ذیل چارٹ پہ عمل کیا جاتا ہے۔  پانچ سال کی عمر تک ڈی پی ٹی اور پولیو کے قطروں کا ایک بوسٹر دیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ بچوں کو ٹائیفائڈ کے بوسٹر بھی دئے جاتے ہیں جو ہر تین سال کے وقفے سے لگتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس اے کے بھی ٹیکے میسر ہیں جو لگوانے چاہئیں۔

  اینٹی جن
عمر
 بی سی جی کا ٹیکہ دائیں ہاتھ پہ اوپر کی جانب جلد کے نیچے لگے گا۔ پولیو کے دو قطرے پلائے جائیں گے اور ہیپاٹائیٹس بی سے بچاءو کے انجکش بائیں ران کے گوشت میں لگیں گے۔

 پیدائش کے فوراً بعد
 پانچ بیماریوں کے خلاف ٹیکے لگیں جو اس طرح ہیں، ڈی پی ٹی کا ٹیکہ، ہیپاٹاٹئیس بی کا ٹیکہ اور ایچ آئ بی،  اسکے علاوہ پولیو ویکسین کے دو قطرے۔

 چھ ہفتوں پہ
 وہی پانچ بیماریوں کے ٹیکے جو چھ ہفتوں پہ لگائے گئے اور پولیو ویکسین کے دو قطرے۔

 دس ہفتوں پہ
 وہی پانچ بیماریوں کے ٹیکے جو پہلے لگے تھے اور پولیو ویکسین کے دو قطرے

 چودہ ہفتوں پہ
 نمونیا کا ٹیکہ جو کہ دائیں ران میں لگے گا

 چھ ہفتوں پہ

 نمونیا کا ٹیکہ بائیں ران میں لگے گا
 دس ہفتوں پہ
 نمونیا کا ٹیکہ بائیں ران میں لگے گا

 چودہ ہفتوں پہ
   خسرہ کا ٹیکہ جو الٹے ہاتھ پہ لگے گا

 نو مہینے پہ
 خسرہ کا ٹیکہ اور چکن پاکس کا ٹیکہ
 
 پندرہ مہینے پہ

پولیو کے جراثیم بیمار شخص کے فضلے کے ذریعے ایک شخص سے دوسرے شخص کو پھیل سکتے ہیں۔ بالخصوص ہمارے ملک میں جہاں لوگ ہاتھ دھونے یا صفائ رکھنے سے نا آشنا ہوتے ہیں اور جہاں ایک بڑے علاقے میں بیت الخلاء کا یا سیوریج نظام کا کوئ تصور نہیں ہوتا۔ اس بیماری کے تیزی سے پھیلنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ 
یاد رکھیں پولیو کی بیماری میں اگر بچہ مرنے سے بچ جائے تو بھی اسکے معذور ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ معذوری،  دماغی معذوری سے جسمانی معذوری تک کوئ بھی شکل لے سکتی ہے۔ بچہ ایسی حالت میں بھی جا سکتا ہے کہ بستر پہ کروٹ نہ لے سکے اور اپنا ہاتھ ہلا کر اپنے جسم پہ سے ایک مکھی بھی نہ ہٹا سکے۔ ایسا معذور انسان ایک خاندان کی معیشت پہ نہ صرف بوجھ ہوتا ہے بلکہ چونکہ وہ اپنی کفالت کے لئے کچھ نہیں کر سکتا تو دیگر رشتے دار بھی اس میں دلچسپی نہیں لیتے۔ یہ میں آنکھوں دیکھی بتا رہی ہوں کہ کس طرح والدین بلک بلک کر دعا کرتے ہیں کہ ذہنی طور پہ معذور اولاد کو انکی زندگی ہی میں موت آجائے۔ خاص طور پہ اگر یہ اولاد لڑکی ہو تو دیگر ہزار طرح کی پیچیدگیاں کھڑی ہوتی ہیں۔



پھر کیوں نہ ہم اپنی ساری کوششیں اس بات کی طرف مرکوز رکھیں کہ ہمارے بچے صحت مند رہیں۔
بچوں کو پیدا کرنے کا فریضہ تو جانور بھی انجام دیتے ہیں لیکن انہیں صحت مند زندگی حاصل کرنے میں مدد دینا اور انکے لئے اپنے معاشرے کو محفوظ بنانا یہ عمل ایک ذمہ دار انسان ہی انجام دے سکتا ہے۔

Monday, June 18, 2012

بد نظر کی نذر

ہم ایک تقریب میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک جوڑا داخل ہوا انکے ساتھ انکی دو مہینے کی بچی بھی موجود تھی۔ میں نے اسے گود میں لیا تو دیکھا کہ اسکے ماتھے پہ کاجل سے گول نشان بنا ہوا ہے۔  مجھے معلوم ہے کہ کاجل کا یہ نشان بری نظر سے بچانے کے لئے لگایا جاتا ہے اور اسے نظر بٹّو بھی کہتے ہیں۔ میں نے حیرانی سے اسلامیات میں ماسٹرز کی ہوئ ماں  سے پوچھا کہ آپ بھی  نظر بٹّو پہ یقین رکھتی ہیں۔ 
میز کے ارد گرد بیٹھے ہوئے لوگوں میں بحث شروع ہوئ اور گفتگو اس طرف مڑ گئ  کہ بری نظر ہوتی ہے بعض نے کچھ احادیث اور روایات کا سہارا لیا۔ کچھ نے واقعات سنانا شروع کئے۔
 میں نے تو صرف ایک ہی بات کہی۔ میری بچی  بچپن سے اکثر لوگوں کو بڑی پسند آتی رہی ہے۔ جب بھی گھر سے باہر نکلتے تو لوگ اسکی حرکتیں دیکھ کر یہ ضرور کہتے کہ گھر جا کر اسکی نظر اتار دیجئیے گا۔   میں نے کبھی نظر نہیں اتاری۔ حتی کہ بیمار بھی پڑی جیسا کہ بچے بیمار ہو ہی جاتے ہیں۔ میں ہمیشہ وجہ پہ غور کرتی کہ ایسا کیوں ہوا پھر علاج اور احتیاط۔  یعنی نظر میں نے پھر بھی نہیں اتاری۔
 اس کی وجہ یہ ہے کہ میں ہمشیہ یہی سوچتی رہی کہ گورے جنکی اکثریت مذہب پہ یقین نہیں رکھتی اور انکے بچے بڑے پیارے بھی ہوتے ہیں، بیمار بھی ہوتے ہیں۔  انہیں نظر اتارنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تو ہمارے یہاں ہر شخص کو یہ عارضہ کیوں لاحق ہے۔ مجھے بھی دیکھنا چاہئیے کہ کیا نظر اتارے بغیر چارہ نہیں۔ جواب یہ ہے کہ نظر اتارے بغیر بھی  زندگی کم از کم اس طرح گذر سکتی ہے جس طرح اوروں کی گذرتی ہے۔
کہتے ہیں کہ اچھی صورت بھی کیا بری شے ہے جس نے ڈالی بری نظر ڈالی۔ لیکن ایک سوکھا ساکھا، سست بچہ جو آثار سے ہی لگتا ہے کہ غذا کی کمی کا شکار ہے اسکے ماں باپ بھی کہتے ہیں کہ اسے نظر لگتی ہے۔ بچے کے گلے میں دو چار تعویذ اگر لوگ تعویذ پہ یقین نہیں رکھتے تو کوئ قرآنی آیت یا اللہ کے نام کا دم درود۔ 
بچے تو بچے بڑے افراد بھی  بد نظری کے تعویذ پہنے ہوتے ہیں یا نظر اترواتے ہیں۔ مثلاً بچے کی پڑھائ پہ نظر لگ گئ ہے۔ جیسا پہلے دل لگاتا تھا ویسا نہیں لگاتا۔ لڑکی پہ نظر ہو گئ ہے  اتنی اچھی شکل کی ہے لیکن کہیں شادی کی بات ہی نہیں ٹہرتی۔ لڑکی نے بھاگ کر شادی کر لی، نظر لگ گئ ورنہ تو بڑی فرماںبردار ہوا کرتی تھی۔ کسی نے نظر لگادی شوہر اتنا چاہتا تھا اب کسی اور عورت کے چکر میں پڑگیا ہے۔ مرد کو نظر لگ گئ کیسا بھاگ دوڑ کر کام کرتا تھا اب تو آئے دن بیمار رہتا ہے۔  حتی کہ ایک بڑی بی نے بتایا کہ کولہے کی ہڈی ٹوٹ گئ۔ اب کیا بتائیں، لوگوں کی نظر لگ گئ کہ اس عمر میں بھی کتنا چلتی پھرتی ہیں۔ ورنہ راستے میں پڑا کیلے کا چھلکا کیا ہمیں نظر نہیں آتا۔ چلتا ہوا کاروبار ٹھپ ہو گیا، نظر لگ گئ ہے۔ انسانوں سے ہٹ کر ہر دوسری گاڑی کے پیچھے ایک کالے کپڑے کی لیر لٹکتی نظر آئے گی۔ کس واسطے تاکہ گاڑی بری نظر سے بچی رہے۔ زیر تعمیر عمارات پہ ماشاءاللہ کی تختی پہلی اینٹ کے ساتھ لگ جاتی ہے۔ اکثر کے ساتھ ہمیشہ کے لئے لگ جاتی ہے وغیرہ وغیرہ۔
نظر کا تصور صرف مسلمانوں میں نہیں دنیا میں ہر جگہ پایا جاتا ہے اور ہر مذہب میں اس کے لئے کچھ نہ کچھ کہا گیا ہے۔ اس کی ابتدائ تاریخ مشرق وسطی سے ملتی ہے۔ یونانی فلاسفرز کی تحریروں میں بھی اس حوالے سے تصورات ملتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ بد نظری کا یہ نظریہ سکندر اعظم کے ساتھ مشرقی ملکوں کی طرف سفر کر گیا۔ اس طرح سے اس متائثر زیادہ تر علاقے عرب اور ایشیاء سے تعلق رکھتے ہیں۔  یوروپ میں یہ ان علاقوں سے آیا جو میڈیٹیرینیئن علاقوں سے ملے ہوئے تھے جبکہ امریکہ میں یہ یوروپی تسلط کے ساتھ داخل ہوا۔
آخر لوگ نظر بد پہ کیوں یقین رکھتے ہیں۔ کیونکہ انسان ہمیشہ سے ان دیکھے کے خوف میں مبتلا رہا ہے  اور ساتھ ہی ساتھ وہ کسی بھی قسم کے نقصان سے محفوظ رہنا چاہتا ہے۔ اس لئے کسی برے حادثے یا واقعے کے بعد اگر اسکا تجزیہ صحیح طور پہ کرنے سے قاصر ہو تو اسکا ذہن کسی ماورائ تصور کی طرف جاتا ہے۔  اب اگر یہ برا واقعہ بظاہر خدا کی ناراضگی یا قہر نہیں ہے تو اسکی وجہ لازماً کسی کی بری نظر ہی ہو سکتی ہے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں بری نظر سے بچنے کے مختلف ٹوٹکے ہیں۔ جیسے دروازے پہ گھوڑے کی نعل لٹکانا یا ترکی میں ایول آئ بڑی مشہور چیز ہے۔ جو نیلے شیشے سے بنی آنکھ ہوتی ہے اور ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہے، بازار میں خوب بکتی ہے۔ یہ نیلی آنکھ بد نظر کو واپس اس کے دیکھنے والے پہ بھیج دیتی ہے۔


 ادھر افریقہ کے کچھ حصوں میں ایک ہاتھ کی شبیہہ ملتی ہے جسکے درمیان میں بالعموم ایک آنکھ ہوتی ہے۔ یہ ہمسا کہلاتا ہے۔  یہ بھی بد نظر سے تحفظ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ مسلمان اسے حضرت فاطمہ کا ہاتھ کہتے ہیں اور عیسائ حضرت مریم کا ہاتھ قرار دیتے ہیں۔

جہاں کچھ خطوں میں نیلی، ہری آنکھوں والے لوگ بد نظر قرار پاتے ہیں وہاں کچھ خطوں میں نیلی یا ہری آنکھوں والے لوگ نظر سے سب سے زیادہ متائثر ہونےوالےجانے جاتے ہیں۔
 ایسے مصائب کا  تعلق خدا یا خداءوں کی بھیجی گئ مصیبت سے نہیں بلکہ ایک انسان کی نظر کی مصیبت سے ہوتا ہے۔ یعنی اگر خدا کے عذاب اور قہر سے بچ بھی جائیں تو بھی ہمارے ہم جنس کا صرف دیکھ لینا ہی مار ڈالتا ہے۔ اس طرح دراصل ہم ایک انسان کے اندر ایک عجیب سے برائ تلاش کر لیتے ہیں جسکا اسکے ذاتی اخلاق یا خواہش سے کوئ تعلق نہیں ہوتا۔ کوئ مہمان گھر سے آکر گیا اور اسکے بعد اسے بچے کو بخار ہو گیا تو بس مہمان کی نظر میں ہی کوئ خرابی ہوگی۔ جبکہ اسے معلوم تک نہیں ہوتا کہ اسکے متعلق کیا تصور باندھ لیا گیا ہے۔
اب یقیناً لوگ مقدس تاریخ میں سے حوالے نکال کر لائیں گے کہ فلاں حدیث کے مطابق ایسا ہوا اور فلاں روایت میں یہ کہا گیا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ اس وقت کا عرب معاشرہ جس حد تک انقلاب کو برداشت کرنے کے لئے تیار تھا اتنے ہی انقلابی نظریات پیش کئے گئے۔ اور بہت سے خیالات کو نہیں چھیڑا گیا کہ انکی تفصیلات میں جانا عام لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اور عوام الناس کو بس انکے توڑ کے لئے کچھ مذہبی حل بتا دئیے گئے۔ اسی میں سے ایک تصور نظر بد کا بھی ہے۔
ایسا ہونا بہت مشکل ہے کہ ایک بچہ کبھی بیمار نہ پڑے اسی طرح یہ ہونا بھی بہت مشکل ہے کہ کوئ شخص اپنی زندگی میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرے۔ انسان جتنا چاہے نیک ہو، واقعات اچھے یا برے پیش آتے ہی ہیں۔ اب رسول اللہ نے گیارہ شادیاں کیں لیکن جو اولاد نرینہ ملی وہ ابتدائ عمر میں ہی دنیا سے گذر گئ۔ اس طرح قریش نے انہیں لا ولد ہونے کا طعنہ دیا۔  تو کیا یہ  نظر بد تھی یا خدا کی ناراضگی۔ یقیناً ایسا نہیں تھا۔
سو کوئ اپنے بچے کو نظر بٹو لگائے، مرچیں سات بار گھما کر جلائے، سل کا بٹہ لے کر سات بار گھمائے، یا سورہ کوثر باری باری پڑھ کر دونوں گالوں پہ پیار کر لے، عمارت یا گاڑی پہ ماشاء اللہ لکھ کر لگائے یا ہر اچھی چیز کو دیکھ کر ماشاء اللہ کہے۔ سب کے نتائج عموماً ایک جیسے ہی نکلتے ہیں یعنی اگر فلو کا موسم چلا ہوا ہے تو بچے کو فلو ضرور ہوگا۔
بد نظری سے متعلق یہی سوچ جب آگے بڑھتی ہے تو لوگ دم ، دعا، تعویذ کے چکر میں ایسا الجھتے ہیں کہ پھر زندگی میں کرنے اور سوچنے کو کچھ باقی نہیں رہتا۔ ہاتھوں میں کئ طرح کے پتھر یا اسموں کی انگوٹھیاں ہوتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے رشتے دار کے متعلق اندازے لگائے جاتے ہیں کہ کس کی نظر بری تھی، آخیر میں یہ  بظاہر معمولی نظر آنے والی سوچ انسان کے اندر سے اعتماد ختم کر دیتی ہے۔ 
یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بات نظر بد سے چلتی ہے اور جادو تک جاتی ہے۔ کہتے ہیں جادو برحق ہے۔ اگر ایسا ہی بر حق ہوتا تو دنیا میں بڑے سے بڑے کام اسی کے زور پہ نکال لئے جاتے اور چند جادوگر اس دنیا کے سیاہ و سفید کے مالک بن جاتے۔ مگر ستم ظریفی دیکھئیے کہ دنیا کے سیاہ سفید کے مالک وہ بنے جن کے ہاتھوں میں یا تو تلواریں تھیں یا پھر کتابیں۔ 
کیا جادو کوئ حقیقت رکھتا ہے؟

Monday, April 2, 2012

سنڈریلا

اچھا تو ہوا یوں کہ میں نے اپنی بچی کے لئے بازار سے کافی ساری اردو کی کہانیاں خریدیں۔ لیکن ان سب میں مجھے کچھ مسائل مشترکہ لگے۔ 
الفاظ کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہے کہ ایک بچہ جو ابھی اردو سیکھنے کے بالکل ابتدائ مراحل میں ہے اسے انہیں الگ الگ پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے۔
کہانیوں میں غیر ضروری تفصیلات ہیں ۔ جس سے وہ خاصی لمبی ہوجاتی ہیں۔  چھوٹے بچے اگر کہانی بہت لمبی ہو اسے پڑھنے میں دلچسپی نہیں لیتے۔
ابتدائ کلاس کے بچوں کے حساب سے کہانیوں کی زبان آسان نہیں ہے۔
کہانیوں میں تسلسل کی کمی لگتی ہے۔
الفاظ کا چناءو کم درجے کا ہے۔ 
یہ تو تھیں ان کہانیوں کی بنیاد  خامیاں۔ اس لئے ایک دن مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں یہ کہانیاں اپنی بچی کے لئے خود لکھوں۔ اس سلسلے میں پہلی کہانی سنڈریلا پہ لکھی ہے۔ یہ ان پیج میں لکھی گئ ہے۔ اس لئے کہ میں اسکے پرنٹس نکال کر جب چاہے کسی کو دے سکوں۔ ورڈ میں فونٹ نوری نستعلیق نہیں آتا۔
 الفاظ کے درمیان فاصلہ رکھا ہے تاکہ بچہ ہر لفظ کو الگ پہچان سکے۔ الفاظ کو غیر ضروری طور پہ جوڑنے سے احتراز کیا گیا ہے۔ مثلاً اسکے کو اس کے لکھا گیا ہے۔ یہ لہانی پہلی جماعت کے حساب سے لکھی گئ ہے۔ کہانی میں کچھ ڈرائنگز نیٹ سے لے کر ڈالی گئ ہیں۔ جب بچہ کہانی سن لے تو اس میں رنگ بھرے۔ میری بچی کو تصویروں میں رنگ بھرنے کا بہت شوق ہے۔ اس لئے میں نے یہ کام کیا۔
بے کار کے خیالات سے پرہیز کیا ہے۔ یعنی یہ نہیں لکھا کہ سوتیلی مائیں تو بس ایسے ہی ہوتی ہیں۔ چاہیں تو روز ایک صفحہ کرائیں ، اور اسکے ساتھ تصویر پہ رنگ بھی کروائیں۔ کہانی سنانے کے بعد اپنے بچے سے کہانی کے متعلق سوالات ضرور پوچھیں۔ اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو اسکے تسلی بخش جوابات دیں۔ جن سوالوں کے جواب نہیں دینا چاہتے انکے متعلق یہ نہ کہیں کہ یہ سوال نہیں کرنا چاہئیے۔  انکی عمر کے حساب سے کوئ آسان سا جواب تلاش کریں جو اصل حقائق سے دور نہ ہو۔ اگر وہ سوال نہیں کرتا ، تو اس سے پوچھیں، کوئ سوال؟
چلیں، تو یہ پہلی کہانی ہے ۔ یہ کہانی ایک کلاسک کہانی ہے، سنڈریلا کے متعلق۔ ہم سب نے اپنے بچپن میں سنی۔ اب ہمارے بچوں کی باری ہے۔  پریوں اور کوہ قاف کی دنیا کی کہانیاں نہ صرف بچوں کو پسند آتی ہیں بلکہ یہ انکے تخیل کو مہمیز کرتی ہیں۔ تخیل کی پرواز پہ پھر کبھی گفتگو ا۔ اس وقت سنڈریلا کی روائیتی کہانی اردو میں۔



Sunday, March 25, 2012

باتونی پنکھا

وہ سونے کے کپڑے پہن کر ادھر ادھر ٹہل رہی تھیں۔ پھر میرے کمرے میں چلی آئیں۔ 'ماما آپ سو رہی ہیں'۔ 'نہیں، میں تھوڑا سا تھک گئ ہوں اور انتظار کر رہی ہوں۔ بابا آجائیں تو ہم کھانا کھائیں۔ لیکن آپکے سونے کا وقت ہو چکا ہے۔ اب آپ سو جائیں'۔ 'ماما، مجھے کون سلائے گا'۔ ' ارے یار میں نے انکے کمرے تک جانے کی سستی میں کہا۔ 'اچھا ادھر ہی سو جاءو۔ جب بابا آئیں گے تو تمہیں تمہارے بستر پہ پہنچا دیں گے۔ وہ جلدی سے میرے پہلو میں آگئیں۔ 'اب باتیں بالکل نہیں خاموشی سے آنکھیں بند کرو اور سو جاءو۔ میرا اس وقت بولنے کا موڈ نہیں ہے۔ ہلنا جُلنا نہیں میرا انگوٹھا زخمی ہے۔ اندھیرے میں تم اس پہ اپنا ہاتھ یا ٹانگ مار دوگی'۔ 'ماما، میں تھوڑی سی دیر کے لئے سءوونگی" ٹھیک ہے میں نے جواب دیا۔ جب بچہ ایک دفعہ سو جائے تو پھر تو سوئے گا۔
دس سیکنڈ بعد آواز آئ۔
 'ماما، یہ پنکھا مائے مے، مائے مے بول رہا ہے'، 'ہوں'۔ پھر خاموشی اور کروٹیں لینے کی آوازیں۔ ' ماما ، اب یہ پنکھا بائے باں، بائے باں کر رہا ہے'۔ 'ہاں ، لیکن اب تمہاری آواز نہیں آنی چاہئیے، ورنہ  یہاں سے باہر'۔ میں نے پھر دھمکی دی۔ 
بیس سیکنڈ بعد۔
 ماما، یہ پنکھا، گیں گاں ، گیں گاں بول رہا ہے۔ ماما، یہ پنکھا اپنا مائینڈ بدلتا ہے تو الگ طریقے سے بولنے لگتا ہے'۔ مشعل میں نے آپ سے کہا تھا کہ آپ باتیں نہیں کریں گی اور خآموشی سے آنکھیں بند کر کے سوئیں گی'۔  'ماما، میں باتیں نہیں کر رہی ہوں۔ پنکھا باتیں کر رہا ہے۔ ویسے بھی میں نے کہا تھا کہ میں تھوڑی سی دیر کے لئے سوءونگی۔ میں سو چکی اب جا رہی ہوں'۔ یہ کہہ کر وہ بستر سے پھسلیں اور یہ جا وہ جا۔
میں نے سوچا، چلیں دس منٹ کے لئے اب آنکھیں بند کر کے خاموشی سے پڑی رہونگی۔ سو تکئے میں منہ چھپا کر لیٹ گئی۔ لیکن اب بھی کوئ باتیں کر رہا ہے۔ مائے مے، مائے مے۔ یہ پنکھا تو واقعی باتیں کرتا ہے۔

Monday, January 16, 2012

تہہ جام

سگنل کی لائٹ سرخ ہوئ تو میں نے گاڑی کی رفتار آہستہ کرتے ہوئے روک دیا۔ یہ کرتے ہوئے میری نظر فٹ پاتھ پہ بیٹھی تین لڑکیوں پہ پڑی۔ سات آٹھ سال کی یہ لڑکیاں اپنے درمیان کوئ چیز رکھے کھارہی تھیں اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہی تھیں۔ ان میں سے ایک لڑکی کا چہرہ اور تاثرات مجھے صاف نظر آرہے تھے۔ 
کھانے کے دوران باتیں کرتے ہوئے تھوک نے اسکے گلابی ہونٹوں کو مزید گلابی کر دیا تھا۔ اسکے گال موسم میں خنکی کی وجہ سے لالی لئے ہوئے تھے۔ کسی نے اسکے بالوں کو بلیچ کر دیا تھا اور یہ سنہری کالے بال اسکی نیلاہٹ لئے ہوئ آنکھوں کے ساتھ ایک دل کش منظر تخلیق کر رہے تھے۔ میں بس اسے دیکھتی ہی رہی۔  بہت زور سے ہنستے ہوئے دفعتاً اسکی آنکھیں میری آنکھیں سے چار ہوئیں۔ اب ان میں حیرانی اور شرم بھی گھل گئ تھی۔ اجنبی لوگوں کے دیکھنے پہ بچے اکثر شرما جاتے ہیں۔ میرے ہونٹوں پہ ہنسی ابھر آئ۔ وہ ہنس کر ہاتھ ہلانے لگی۔ میرا ہاتھ بھی اظہار مسرت میں اٹھا اور ہلنے لگا۔
سگنل کھل چکا تھا۔ اسکا ہاتھ اب بھی ہل رہا تھا۔ حالانکہ ہم دونوں میں مسکراہٹ کے تبادے کے علاوہ کوئ دنیاوی کاروبار نہ ہوا تھا۔ سودو زیاں سے لاپرواہ صرف قدرت ہوتی ہے۔ ڈوبتا ہوا  سورج بغیر کسی خراج کے آسمان پہ دھنک بکھیرتا ہے، آبشار کے گرتے پانی میں روشنی بغیر کسی ستائیش کے قوس و قزح بناتی ہے، چاند ، ستارے آسمان کو سجانے کا کوئ کرایہ نہیں لیتے۔ قدرت فیاض ہے۔ کبھی کبھی انسان بھی ایسا ہی فیاض ہوتا ہے۔ میں بھی ایک فیاض  مسکراہٹ کو لئے آگے بڑھ گئ۔ 
میرے برابر بیٹھی تیرہ سالہ بچی نے جو آسٹریلیا میں پیدا ہوئ اور پلی بڑھی ہے مجھ سے پو چھا یہ لڑکیاں یہاں کیا کر رہی تھیں۔ میں چونک کر اس دنیا میں واپس آئ، جہاں ہر پل کیوں  اور کیسے کے سانپ منہ پھاڑے بیٹھے ہوتے ہیں۔ 
وہ یا تو بھیک مانگ رہی ہونگیں یا پھر سگنل پہ کھڑی گاڑیوں کے شیشے صاف کرتی ہونگیں۔ میں نے ڈرائیونگ کے تمام افعال منعکسہ کو بغیر سوچے سمجھے انجام دیتے ہوئے جواب دیا۔
مجھے یہ جان کر بے حد افسوس ہوا کہ اتنی پیاری بچی یہ کام کرتی ہوگی۔ ایسا کیوں ہے؟ اس نے مجھ سے پوچھا۔
میں اسے تیسری دنیا کے ایک غریب ملک پاکستان کی معیشت اور اسکے باشندوں پہ اسکے اثرات سمجھانے لگی۔
اس ساری معاشی فلاسفی کے درمیان ایک سوچ ذہن میں رینگ گئ جب خوب صورتی پہ برا وقت پڑتا ہے تو دیکھنے والوں کے دل  نرم کیوں ہو جاتے ہیں؟

Sunday, December 11, 2011

بچوں سے بڑوں تک

میری بچی نے جیسے ہی سامنے پڑا ہوا کھلونا اٹھایا اسکی ہم عمر میزبان بچی نے لپک کر اسکے ہاتھ سے لینے کی کوشش کی۔ یہ دیکھ کرمشعل نے اس پہ اپنی گرفت اور سخت کر دی۔ 'مجھے یہ اچھا لگ رہا ہے میں اس سے کھیلونگی'۔ اس نے احتجاج کیا۔ میزبان بچی نے کہا نہیں یہ میرا ہے۔ میں اس سے کھیلتی ہوں ۔ ماں نے کہا وہ تمہارے گھر مہمان آئ ہے تھوڑی دیر میں چلی جائے گی۔ تم اسکے ساتھ کھیل لو لیکن بچی نے یہ تسلیم نہیں کر کے دیا۔ میں نے مشعل کو سمجھایا کہ یہ تمہارا نہیں ہے اسکا ہے۔ واپس رکھ دو۔ لیکن اسے یہ بات نہیں سمجھ آ رہی تھی کہ سامنے اتنے سارے کھلونے موجود ہیں تو وہ کیسے ان میں سے کسی کو ہاتھ نہیں لگا سکتی۔
یہ سب کچھ ترقی یافتہ،  پہلی دنیا کے اس حصے میں ہو رہا تھا جہاں ٹی وی پروگرامز میں یہ نصیحت بچوں کو ہی نہیں والدین کو بھی بار بار کی جاتی ہے کہ شیئر کرو، شیئر کرنے کی عادت ڈالیں۔ چاہے وہ بارنی شو ہو یا ڈورا دی ایکسپلورر۔ 
 صرف یہی ایک گھر نہیں،  بلکہ ہم وہاں رہتے ہوئے جس گھر میں بھی گئے وہاں بچوں کا کم و بیش یہی رویہ تھا۔ گھروں میں ہر طرح کے کھلونوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا لیکن میزبان بچے کو یہ فکر کہ آنے والا مہمان بچہ کہیں اسکے کھلونوں سے کھیلنے نہ لگے۔ اکثر بچے اس کے لئے مار پیٹ پہ آمادہ۔ وہ کھیلنے سے زیادہ اس باتکے لئے فکر مند تھے کہ نیا آنے والا بچہ کہیں انکی چیزوں پہ قابض نہ ہو جائے۔ چیزیں انکے لئے بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسکے چند مہینے بعد ہم پاکستان میں گوادر جیسی پسماندہ جگہ پہ موجود تھے۔ نیم دیہاتی سا علاقہ جہاں بچے سارا سارا دن گلیوں میں گھومتے رہتے ہیں ایک دوسرے کے گھروں میں ٹہلتے رہتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم چلتا کہ یہ حقیقتاً کس بچے کا گھر ہے۔  انکی دنیا میں  بہت محدود تعداد میں کھلونے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پہ میں نے یہاں یہ گردان نہیں سنی کہ یہ میرا ہے۔
در حقیقت کسی بچے کو اسکی فکر ہی نہیں تھی کہ کیا میرا ہے۔ وہ صرف کھیلنا چاہتے ہیں آزادی سے، گھر میں، گلیوں میں، سمندر کنارے، مٹی سے، پانی سے، دوسرے بچوں سے۔
مگر دونوں جگہ کے  بڑے اپنے بچوں سے اتنے مختلف کیوں ہیں؟

Saturday, November 19, 2011

مہمان کچھوے

 کیا آپ کراچی کی ایک اہم خوبی سے واقف ہیں جو آپ نہیں جانتے مگر کچھوے جانتے ہیں؟
دنیا کے بڑے شہروں میں کراچی کو ایک امتیازی حیثیت یہ بھی حاصل ہے کہ اسکے ساحل کو سبز سمندری کچھوے انڈے دینے کے لئے پسند کرتے ہیں۔
یہ کچھوے تیزی سے ختم ہوتی ہوئ حیاتیاتی نسل میں شامل ہیں۔ عالمی تحفظ حاصل ہونے کے بعد انہیں بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اور وہ ساحل جہاں یہ انڈے دیتے ہیں وہاں انکے انڈوں اور نکلنے والے بچوں کو بچانے کا معقول انتظام کیا جاتا ہے۔
کراچی کے سینڈز پٹ کے ساحل پہ ایک ایسی ہی حفاظتی حیات گاہ موجود ہے۔
یہاں مجھے چھ سال پہلےدسمبر کی ایک سردرات جانے کا اتفاق ہوا۔ ساحل پہ رات کو دو بجے ہم یہ دیکھنے کے لئے موجود تھے کہ انڈوں سے کچھووں کے بچے کیسے نکلتے ہی سمندر کی طرف دوڑ لگاتے ہیں اور کیسے مادہ کچھوا انڈے دیتی ہے۔ تین بچوں کو مٹی کے ایک گڑھے سے سمندر کی طرف جاتےدوڑ لگاتے دیکھا۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ بآسانی آپکی ہتھیلی پہ سماجائیں۔
ایک کچھوا انڈے دینے کی تکلیف میں مبتلا ایک ریت کا گڑھا بنائے اسکے سرے پہ بیٹھا تھا۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد دسمبر کی سمندری سرد ہواءووں کی چھیڑ چھاڑ ذرا بری نہ لگ رہی تھی۔
جی ہاں، یہ کچھوے اتنی ہی بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں کہ نومبر اور ددسمبر کی راتوں میں آپ بھی وہاں جانے کا منصوبہ بنا سکتے ہیں۔ ان مہینوں میں یہ یہاں آتے ہیں انڈے دینے اور پھر چند دن بعد ساحل انکے بچوں سے بھرا ہوتا ہے کہ ہر مادہ تقریباً سو انڈے دیتی ہے۔  امید ہے کہ آپکو کوئ نہ کوئ کچھوے کی سرگرمی دیکھنے کو مل جائے گی۔ جیسا کہ ہمیں کل ایک بار پھر حاصل ہوئ۔
کل شام کو خبر ملی کہ ایک اسکول کے بچے رات کو وہاں پہنچ رہے ہیں اور ہم اور مشعل چاہیں تو قسرت کی اس فیاضہ سے مستفید ہوسکتے ہیں۔ آتا ہو تو ہاتھ سے جانے نہ دیجیئو۔ ہم نے فوراً ہاں کہا۔
ہم اور مقامی اسکول کے یہ بچے تقریباً سوا آٹھ بجے تک سینڈز پٹ کی ایک ہٹ میں اکٹھا ہوئے۔ بچوں کو انکی ٹیچرز نے پہلے بٹھا کر کھانا کھلایا۔ ہم مشعل کو پہلے ہی کھلا چکے تھے۔ پھر نگراں وائلڈ لائف کے آفیسر نے بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے سوالوں جواب کئے۔ بچوں کی عمر یہی کوئ آٹھ نو سال کے درمیان تھی۔ اس دوران انکا آدمی ساحل پہ یہ پتہ لگا آیا کہ کوئ کچھوا کہاں موجود ہے۔ سمندر جب ہائ ٹائڈ پہ ہو تو کچھووں کو ساحل تک پہنچنے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس لئے توقع ہوتی ہے کہ ہائ ٹائڈ کے وقت وہ ضرور ساحل کا رخ کریں گے۔

لکھنے کے شوقین ہر جگہ قلم کاغذ پکڑ لیتے,

پاکستان کے سمندر میں دو طرح کے سمندری کچھوے پائے جاتے ہیں ایک اولیو ریڈلی کچھوے اور دوسرے سمندر سبز کچھوے۔  اولیو ریڈلی کچھوے چھوٹے ہوتے ہیں، یعنی محض چالیس کلو گرام کے۔ انکا رنگ اولیو یعنی  گہرے زیتون کے رنگ کا ہوتا ہے ان پہ دھاریاں ہوتی ہیں اور انکی موجودگی کو ریڈلی نامی سائینسداں نے معلوم کیا۔
سبز کچھوے بڑے ہوتے ہیں اوسط وزن تقریباً ایک سو پچاس کلوگرام کے لگ بھگ ہوتا ہے۔ انکا رنگ سرمئ ہوتا ہے۔ پھر یہ سبز کچھوے کیوں کہلاتے ہیں؟
اس لئے کہ انکے جسم میں پائ جانے والی چربی خوبصورت سبز رنگ کی ہوتی ہے۔ اسکا یہ رنگ خیال کیا جاتا ہے کہ سمندری پودے کھانے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ سبز کچھوا سمندری پودے اور کائ وغیرہ کھاتا ہے۔
یہ سمندری کچھوے زمینی کچھووں سے مختلف ہوتے ہیں کہ انکے ہاتھ پاءووں کی جگہ تیرنے میں مدد دینے کے لئے چپو سے ہوتے ہیں انہیں فلپرز کہتے ہیں۔ زمینی کچھووں کی طرح سندری کچھوے نہ اپنا سر اپنے خول کے اندر کر سکتے ہیں نہ فلپرز اور نہ دم۔ اس لئے انہیں شارک اور ڈولفنز بڑے آرام سے شکار کر سکتی ہیں۔ یہ سمندری جال میں پھنس کر ہلاک ہو سکتے ہیں یا ٹرالرز اور بوٹس کے نیچے کا بلیڈ انہیں ختم کر سکتا ہے۔
کچھووں کا خول انکی پسلیوں سے بنا ہوتا ہے اور کارٹونز فلموں کی طرح کچھوے اپنا خول چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ یہ اچھا تیر سکتے ہیں لیکن ساحل کی ریت پہ انہیں چلنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑتی ہے اور ہر دو تین گز کے فاصلے پہ رک کرسکون کی سانس لینی پڑتی ہیں۔
سمندر میں بھی سانس لینے کے لئے ان کچھووں کو سمندر کی سطح پہ آنا پڑتا ہے۔ گوادر میں سمندر کی سطح پہ آنے والے کچھووں کو میں نے دیکھا کہ وہ کیسے سطح پہ ڈول رہے ہوتے ہیں۔
چونکہ مادہ کچھوا ہی انڈے دیتے ہیں اس لئے مادہ کچھوا ہی ساحل پہ آتی ہے۔ نر کچھوا کبھی ساحل نہیں دیکھ پاتا اس لحاظ سے مادہ کچھوے کا علم نر کچھوے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن انکے یہاں معلومات عامہ کے امتحانات ہی نہیں ہوتے ہی نہیں ہوتے اس لئے مادہ کچھوا اسکا فائدہ نہیں اٹھا پاتی۔
کہتے ہیں کہ مادہ کچھوہ جس جگہ انڈے دے ، دوبارہ انڈے دینے کے لئے اسی ساحل کا رخ کرتی ہے۔ جب یہ ان ساحلوں پہ پہنچتی ہیں تو وائلڈ لائف کے لوگ انکے فلپرز پہ ایک ٹیگ پیوست کر دیتے ہیں۔ یہ ٹیگ نہ صرف انکی پہچان کے لئے کار آمد ہوتا ہے بلکہ اس کی وجہ سے سمندر میں انکی موجودگی بھی معلوم کی جا سکتی ہے۔
یہ کچھوے آخر کیوں اتنی تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ اسکی وجہ انسان اور اسکی سرگرمیاں ہیں۔ اول تو بعض ممالک میں کچھووں کے بچوں کا سوپ بہت پسند کیا جاتا ہے۔ اور یہ ایک قیمتی خوراک ہوتی ہے۔ کود کچھووں کے گوشت کی بڑی مانگ ہے۔ ہمارے ساحل پہ انہیں پکڑنے کی ممانعت ہے لیکن اطلاع ہے کہ ساحل سے چند میل کے فاصلے پہ ٹرالر انہیں پکڑتے ہیں اور ٹرالر کے اندر ہی انکا گوشت علیحدہ کر کے کیماڑی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پر پھر انہیں کوئ نہیں پوچھتا۔
دوسرا یہ کہ ساحل پہ موجود کتے بلیاں یا تو انکے انڈوں کو کھالیتے ہیں یا پھر نکلنے والے بچوں کا شکار کرتے ہیں۔  ساحل پہ موجود کچرے میں پھنس کر بھی بعض اوقات یہ بچے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ادھر سمندر میں پہنچ جانے والے بچے بھی ایک خاص عمر تک پہنچ کر اپنے شکاریوں سے محفوظ رہ پاتے ہیں۔ یوں ہزار بچوں میں سے ایک ہی بچ پاتا ہے جو بلوغت تک پہنچے۔
کچھوے کی آمد کی اطلاع کے ساتھ ہی بچوں نے لائن بنائ۔ انکی ٹیچرز ان پہ عقابی نظریں رکھے ہوئے تھیں کہ رات کی تاریکی میں کوئ بچہ ادھر ادھر نہ ہو جائے۔ کچھوے روشنی اور شور  سے بھاگتے ہیں۔ اس لئے اتنے بچوں کی موجودگی کے باوجود کامیاب خاموشی برقرار رہی۔


تھوڑا سا فاصلہ طے کر کے ہم وہاں پہنچے۔ سمندر سے اس جگہ تک کچھوے کے رگڑ کر آنے والے نشانات کا راستہ موجود تھا۔  کچھوا اپنا گڑھا بنانے میں مصروف تھا۔ ویڈیو اور کیمرے کی لائیٹس سے گھبرا گیا۔ ادھر وائلڈ لائف والوں نے اسے پکڑ لیا کہ اسے ٹیگ کر لیا جائے۔
بچوں کی چیخیں نکل گئیں۔ مشعل  تیزی سے مشاق فوٹوگرافر کی طرح تصاویر لینے میں مصروف ہو گئ۔ ادھر اسکول کی ٹیچرز انتہائ تشویشناک حالت میں بچوں کو کچھوے سے دور رکھنے کی کوشش میں مصروف تھیں۔ جبکہ کچھوا ایک بے ضرر اور شرمیلا جانور ہے۔



وائلڈ لائف کے عملے نے کچھوے کو قابو کر کے چیک کیا کہ وہ ٹیگ ہوا ہے یا نہیں۔ ٹیگ نہ پاکر انہوں نے اسکے فلپر میں ایک دھاتی ٹیگ پیوست کیا ، اسکی لمبائ نوٹ کی، اکتالیس اعشاریہ تین پانچ۔ پھر اسے آزاد چھوڑ دیا۔
ٹیگ کرنے کے لئے ہشیار


   اس ہنگامے سے گھبرا کر خلوت پسند کچھوے نے انڈے دینے کا ارادہ ترک کیا اور سمندر کی راہ لی۔ جب وہ اپنے کھودے ہوئے گڑھے سے باہر کی طرف چلا تو بچوں اور انکی ٹیچرز نے جلدی سے دور تک اسکے لئے راستہ صاف کر دیا۔ اور لائن بنا کر خود بھی واپسی کے سفر پہ روانہ ہو گئے کہ اس وقت رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہم اسکے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ کچھوے نے بیچ میں دو مرتبہ رک لگا کہ اپنے فیصلے پہ نظر ثانی کرنے کاسوچا لیکن چونکہ دستاویزی فلم بنانے والا عملہ اسکے ساتھ ساتھ تھا اس لئے یہ  سوچ بھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔ پھر وہ آگے بڑھ کر سمندر کی تاریکی میں گم ہو گیا اور ہم روشنیاں بُجھا کر شہر کی تاریکی میں۔
توقع ہے کہ وہ پھر لوٹ کر آئے گا۔ لیکن اپنے ان معصوم اور شرمیلے مہمانوں کے لئے ہمیں اپنے ساحل صاف رکھنے ہونگے۔ اور ان لوگوں پہ کڑی نظر رکھنی ہوگی جو اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے  ان نایاب جانوروں کی نسل کے لئے خطرہ بن رہے ہیں۔

کبھی الوداع نہ کہنا

Monday, November 14, 2011

دس ڈالر میں

ابھی ڈھونڈھ ہی رہی تھی تمہیں یہ نظر ہماری
کہ تم آگئے اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زندگی میں محبوب سے لے کر بس تک پہ یہ بات صادق آسکتی ہے۔ لیکن ہمارے ساتھ یوں ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹہریں پہلے یہ بتادوں کہ قصہ کیا چل رہا تھا۔
ہم گوادر ہی میں تھےرات کو واپسی کے سامان کو صبح کے سفر کے لئے پیک کر کے نادر بلوچ کے یہاں پہنچ گئے کہ ان  کی بھاوج کے یہاں اس دن صبح ایک نئے بچے کی آمد ہوئ تھی۔ خیال تھا کہ انہیں مبارکباد دے کر ، کراچی واپسی کے لئے خدا حافظ کہہ دیں۔
نادر کی بیوی ،خدیجہ بڑے تپاک سے ملی۔  میں نے اسے بتایا کہ اسکا بیٹا بڑا شیطان ہے پچھلی دفعہ اس نے مجھے کیکڑوں کی لڑائ دکھائ تھی۔ اور کیکڑے کے بچے کندھے پہ رکھ کر پھر رہا تھا۔ 'ہاں یہ بہت شیطان ہے۔ اب اسکو گوادر کے سب سے مہنگے اسکول میں داخل کرا دیا ہے۔ فیس اسکا بہت زیادہ ہے۔  نادر کی آمدنی تو زیادہ نہیں کبھی کام ہوتا ہے کبھی نہیں ہوتا۔ میرے بھائ نے کہا کہ وہ اسکا اسکول کا خرچہ اٹھائے گا'۔ 
بڑا اسکول کہتے وقت اسکے چہرے پہ بڑا فخر تھا۔  اسکا بیٹا اویس، دوڑا دوڑا گیا اور اپنی کتابیں کاپیاں اٹھا لایا مجھے دکھانے کے لئے۔ میں نے انہیں بڑے شوق سے دیکھا۔ وہ مونٹیسوری کی لگ رہی تھیں۔  اسے تھوڑا بہت لکھنا آگیا تھا۔ میں نے پوچھا کون سی کلاس میں پڑھتے ہو۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے دانتوں والی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔ 'ایڈوانس میں، ایڈوانس میں'، اسکی مراد شاید مونٹیسوری کا آخری سال تھا۔
اس لمحے اچانک مجھے خیال آیا کہ میری ایک  نو عمر پاکستانی نژاد کینیڈیئن دوست نے چند ماہ پہلے مجھ سے کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ایک بچے کا تعلیمی خرچہ اٹھانا چاہتی ہے ، کیا میں کسی مستحق بچے کی تلاش میں مدد کر سکتی ہوں۔ میں اس وقت سے ایک بچے کو ڈھونڈھ رہی تھی جو پڑھنے لکھنے میں واقعی دلچسپی رکھتا ہو۔ اور اسکی تعلیم کی راہ میں صرف پیسے کی کمی حائل ہو۔
گھر میں آنے والی ماسیوں کے بچوں کو میں نے اس لسٹ سے نکال دیا تھا کہ ان میں سے کچھ مقامی اسکولوں میں پڑھتے ہیں۔ انکے والدین مار مار کر بھیجتے ہیں مگر یہ پڑھ کر نہیں دیتے۔
سو، میں نے خدیجہ سے پوچھا کہ اسکی بیٹی کون سے اسکول میں پڑھتی ہے۔ کہنے لگی یہیں سُر بندر کے گورنمنٹ اسکول میں۔ اس اسکول کے متعلق مجھے اندازہ تھا کہ انتہائ بے کار ہے ۔ متعدد لڑکیاں یہاں سے دوسری تیسری پڑھ کر چھوڑ چکی ہیں۔ اور انہیں دس تک گنتی بھی نہیں آتی۔اس لئے میں نے اس سے کہا تم عائیشہ کو بھی کیوں نہیں بحریہ ماڈل اسکول میں داخل کرا دیتیں۔
'عنیقہ، اسکی فیس بہت زیادہ ہے، چار ہزار داخلہ فیس ہے'۔ اس نے ذرا منہ پھیلا کر کہا تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ کتنی زیادہ ہے۔ چھ سو روپے مہینے کے ہیں' اس دفعہ اس نے چھ سو پہ زور دیا اور  مزید کہا صرف وردی آٹھ سو روپے کی ہے'۔ نادر تو اتنا نہیں کر سکتا'۔  میں خاموش بیٹھی رہی۔ 
یہاں کراچی میں ایسے اسکول ہیں جنکی ماہانہ فیس پچیس ہزار روپے ہے۔ اور ایسے اسکول تو عام ہیں جہاں داخلہ فیس پچاس ہزار سے زائد ہے۔ کیا خدیجہ جیسوں کو معلوم ہے کہ جتنی انکی ماہانہ آمدنی نہیں پاکستان کے کچھ علاقوں میں اتنی ایک بچے کے اسکول کی فیس ہوتی ہے۔
ویسے اچھا ہی ہے اسے معلوم نہیں۔ ورنہ یہ صدمہ شاید اسے زندگی کے سکھ سے دور  کر دے۔
چلو عائشہ کی فیس کا بند و بست ہم کر دیتے ہیں۔ میں نے اس سے کہا۔ 'نئیں نئیں، عنیقہ، تکلیف نہ کرو۔'۔ 'مجھے کوئ تکلیف نہیں ، مجھ سے کسی نے کراچی میں کہا تھا کہ وہ ایک بچے کو پڑھانا چاہتا ہے۔  پیسے وہ دے گا۔ میں نہیں۔  اس لئے مجھے کوئ تکلیف نہیں پہنچ رہی۔ ' نئیں پھر بھی تم ایسا نہ کرو'۔ دیکھو اگر تم نہیں لوگی تو کوئ اور لے لے گا۔ تم چاہتی ہو کہ تمہاری بیٹی ایک اچھے اسکول میں  پڑھے تو موقعے سے فائدہ اٹھا لو۔ یقین رکھو، نہ یہ پیسے میرے ہیں ، نہ میں یہ کسی سے مانگ رہی ہوں اور نہ مجھے اس میں کوئ تکلیف ہے'۔ تھوڑی پس و پیش  کے بعد وہ خاموش ہو گئ۔ خاموشی نیم رضامندی ہوتی ہے۔ اٹھتے وقت میں نے نادر سے بات کی کہ وہ عائشہ کو بھی اسی اسکول میں داخل کرا دے۔ داخلہ فیس اور تین مہینے کی فیس اسکے ہاتھ میں رکھی اور نصیحت کی کہ اسکول کارڈ اور ٹیسٹ رپورٹس سنبھال کر رکھے کہ جو شخص پیسے دے گا وہ انہیں دیکھنا چاہتا ہے۔
میں چلنے لگی تو نادر نے ہاتھ مصافحے کے لئے آگے بڑھا دیا۔ اسکے انداز میں تشکر نمایاں تھا۔ میں جو غیر مردوں سے ہاتھ ملانے سے گریز کرتی ہوں۔ اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیتی ہوں۔ میرے اندر احساس ندامت تھا کہ اس سارے سلسلے میں میرا عملی حصہ نہ ہونے کے برابر ہے پھر بھی انہیں اپنا احسان مند بنا رہی ہوں۔
گھر واپس آکر میں نے سوچا کہ ڈالرز میں داخلہ فیس تقریباً پچاس ڈالر بنتی ہے اور ماہانہ فیس میں  اگر دیگر خرچے بھی ڈال لیں تو دس ڈالر بنتے ہیں۔ میری دوست نے کہا تھا کہ وہ پچاس ڈالرتک مہینے کے اس مد میں دے سکتی ہے۔ اتنے پیسوں میں تو ایک اور بچے کا خرچ نکل سکتا ہے۔ کیونکہ مجھے نادر کی بھانجی کا بھی خیال آیا جو عائشہ کی ہم عمر ہے۔ اسکا باپ اسکی ماں کو بھائ کے پاس چھوڑ گیا ہے نہ طلاق نہ خرچہ۔
کراچی آکر میں نے اپنی دوست کو ای میل کی۔ وہ فوراً تیار ہو گئ۔ اس طرح دو بچیوں کے لئے ایک بہتر اسکول کا بند و بست ہو گیا۔ 
آپ میں سے بیشتر نہیں جانتے ہونگے کہ کینیڈا میں ایک وقت کا اوسط معیار کا کھانا  دس ڈالر میں مل جاتا ہے۔  درحقیقت کراچی کے بہترین ہوٹل میں بھی ایک وقت کا اچھا کھانا اتنے پیسوں میں مل جاتا ہے۔ صرف دس ڈالر میں، میں محسن کی قطار میں اور اگلا احسان مندی کی قطار میں۔
کسی  کے ایک وقت کا کھانا ، کسی دوسرے کے پورے مہینے کے اسکول کا خرچہ۔ قدرت کا مذاق ہے یا انسانوں کا؟

Friday, November 11, 2011

گوادر میں بقر عید

انسان فطرتاً تغیر پسند ہے اسی فطرت کی وجہ سے جنت سے بے دخلی پسند کی اور زمین جیسی پست جگہ کو اپنے تخیل کی اڑان کے لئے مناسب پایا۔ اقبال نے اسی زمین سے خدا سے یہ مکالمہ کیا کہ
تیرے آزاد بندوں کی نہ یہ دنیا ، نہ وہ دنیا
یہاں مرنے کی پابندی، وہاں جینے کی پابندی
وائے افسوس اقبال کی اس آزاد روی کو زمانہ شناس لوگوں نے زنداں کا رخ دکھایا۔ اگر انسان کو اتنی ہی آزادی مل جائے کہ وہ کسی دل پسند موقع سے مستفید ہو لے تو وہ خوش قسمت کہلائے گا۔ سو میں ہوں۔
بقر عید سے محض چار دن پہلے مجھے اطلاع ملی کہ چاہوں تو عید کراچی سے باہر منا سکتی ہوں۔ کتنے باہر؟ یہی کوئ سات سو کلو میٹر۔ موسم کیسا ہوگا وہاں؟ بدلتے موسم کو ذہن میں رکھا۔ جواب ملا ایسا ہی جیسا کراچی کا ہے اور یہی نہیں کراچی جیسا سمندر بھی ملے گا۔ را عقلمند اشارہ کافی است۔ بھئ صاف کیوں نہی کہہ دیتے کہ آئیں چلیں اس دفعہ عید گوادر میں مناتے ہیں۔ ہم بھی یہ کہتے ہیں ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں،اس دفعہ عید ذرا مختلف انداز میں۔
تو جناب، جمعہ کے مبارک دن ہم اپنے جمع جتھہ سامان کے ساتھ کوسٹل ہائ وے پہ رواں دواں تھے۔ شہر سے نکلے تو سڑک پہ اسکول کی بسوں کا رش تو تھا ہی لیکن سوزوکیاں بھی چلتی نظر آئیں جن میں جانور جا رہے تھے۔ یعنی بکرا منڈی رات بھر کھلی رہی جبھی صبح ساڑھے سات بجے لوگ خریداری کر کے لوٹ رہے ہیں۔ شہر کے مکینوں کا یہ فخر بے جا نہیں کہ یہ شہر کبھی نہیں سوتا۔
جانور اندر لوگ باہر

اہل ہوس کے ہزار رستے ہوں مگر گودار جانے کا زمینی رستہ بس ایک ہی ہے اور وہ ہے کوسٹل ہائ وے۔ اس ہائ وے تک کراچی سے پہنچنے کے لئے آر سی ڈی ہائ وے سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے۔ اور آر سی ڈی ہائ وے کا رستہ حب شہر سے نکلتا ہے۔ یوں کراچی، حب، وندر سےہوتے ہوئے جب اوتھل پہنچتے ہیں تو کوسٹل ہائ وے شروع ہوتی ہے۔ یہاں تک پہنچنے میں تقریباً پونے دو گھنٹے لگتے ہیں۔
حب شہر سے نکل کر جب سومیانی کے قریب تھے تو خانہ بدوشوں کی بستیاں نظر آئیں۔ جنکے پاس مٹی کے بڑے بڑے الٹے پیالےسے بنے ہوئے تھے۔ ان پیالوں میں لکڑی کو بند کر کے جلاتے ہیں تاکہ کوئلہ بنے۔ کوئلے کی اس تہوار میں بڑی مانگ ہوتی ہے کہ ہر گھر میں کچھ نہ کچھ بار بی کیو ہوتا ہے۔ میں نے انکی تصویریں بنائیں اس نصیحت کے ساتھ کہ خواتین کی نہ بنائیے گا۔ قبائلی اس پہ بڑا ناراض ہوتے ہیں۔ معلوم ہے، بھئ معلوم ہے۔ تو بھی پاکستان ہے میں بھی پاکستان ہوں۔

کوئلے کی تیاری


رستے میں دو جگہ رکے۔ ایک ہنگول دریا کے مقام پہ مگر مچھ دیکھنے کے لئے جو وہاں نہیں ملے۔ نومبر میں جبکہ ٹھنڈ ابھی ساحلی پٹی پہ شروع نہیں ہوئ۔ مگر مچھ کا دوپہر تک وہاں موجود ہونا ویسے بھی مشکل ہی تھا۔


پہاڑ کی تہہ میں خراماں دریائے ہنگول

آگے ہم ماکولا کے قریب پیٹ پوجا کے لئے رکے۔ سالن ہمارے پاس موجود تھا۔ پانی کی بوتلیں بھی حاضر تھیں بس روٹی چاہئیے تھی وہ گرما گرم مل گئ وہاں موجود ایک جھونپڑا ہوٹل سے۔ جنت کے عوض دانہ ء گندم برا سودا نہیں، میں نے زمین پہ پھیلی چٹائ پہ اپنے پاءوں پھیلاتے سوچا۔
شام کو چھ بجے ہم گوادر کی مضافاتی بستی سر بندر میں اپنا سامان گاڑی سے اتار رہے تھے۔ ابھی سامان اتار کر فارغ ہوئے کہ لوڈ شیڈنگ کے اوقات شروع ہو گئَے۔  اوپر پانی کی ٹینکی میں پانی نہیں، گھر مہینوں سے بند پڑا ہوا۔ ہمارے پاس اسکے علاوہ کوئ چارہ نہیں کہ صبر سے لائٹ آنے کا انتظار کریں۔ لائٹ اس علاقے میں پانچ سال پہلے ہی آئ ہے۔ اس چھوٹے سے قصبے میں ابھی لوگ اسکے اتنے عادی نہیں کہ اس کے یوں چلے جانے پہ خفا ہو کر کہیں کہ یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے، ساتھ چل موج ہوا ہو جیسے۔
چھت کا رخ کیا۔  گھر سمندر کے بالکل کنارے ، کشتیاں دور تک سمندر کے پانی میں ٹہری ہوئیں۔ اگر اقبال ہوتے تو کہتے کہ اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے، سرخ سرخ قمقمے قطار اندر قطار۔ یہ جلتے بجھتے قمقمے ان کشتیوں پہ سمندر میں شکار کے وقت مختلف اشاروں کی زبان کے طور پہ استعمال ہوتے ہیں لیکن اس وقت انہوں نے سمندر اور لوڈ شیڈنگ کی تاریکی میں ایک سماں باندھ  دیا تھا۔ اوپر آسمان  پہ آلودگی نہ ہونے کی وجہ سے ستارے جیسے ہنس رہے تھے۔ ٹمٹماتے، جھلملاتے، نزاکت سے کانپتے اترا رہے تھے۔ ایسی سحر انگیز اترتی رات صرف سُر بندر کے حصے میں ہی آ سکتی ہے۔
دو گھنٹے بعد لائٹ نے درشن کرائے۔ ہم نے یوں پرنام کیا کہ فوراً دوڑ کر پانی کی موٹر آن کی۔ سب نے مل کر جلدی جلدی صفائ شروع کی  تاکہ رات کو سونے کا انتظام ہو سکے۔ پڑوسی نے بھی مدد کی۔ رات کا کھانا انکے یہاں سے آپہنچا۔ حالانکہ کہا بھی تھا کہ ہم کراچی سے دو وقت کا کھانا ساتھ لے کر چلے ہیں۔ لیکن بلوچ اپنی روایت سے مجبور۔
اگلے دن تفصیلی طور پہ صفائ کر کے تمام چیزیں اپنے مقامات پہ پہنچائیں۔ کھانے پینے کے چکر سے فارغ ہوئے۔ بکرے کا دیدار ہوا۔ جو کہ میزبان ہمارے لئے لے چکے تھے۔ یہاں قربانی کے لئے بکرے کا رواج ہے جبکہ کراچی میں گائے پہ زیادہ لوگوں کا دل آتا ہے۔ یہ تو پہاڑی بکرا ہے، میں نے اپنے ساتھی سے کہا۔ 'لوگ کہتے ہیں کہ پہاڑی بکرے کا گوشت سخت ہوتا ہے اور اس میں ہلکی سی بد بو ہوتی ہے'۔ اب اس وقت تو یہی ہے۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ کم عمر ہے اسکا گوشت نرم ہوگا۔ 'چلیں یہی سہی۔ ہمیں تو قربانی کی رسم نبھانی ہے ، میں یونہی ایک خیال بتا رہی تھی'۔
مشعل کو پہلے ہی نادر بلوچ نے ڈرا دیا تھا کہ بکرا بڑا خطرناک ہے ٹکر مارتا ہے اس سے دور رہنا۔ مشعل نے بکرے کے تیور دیکھے تو بالکل اسکے قریب جانے سے انکار کر دیا۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش بھی کہ بیٹا  پہاڑی بکرا اس برج کی علامت ہے جس سے تم اور تمہاری اماں دونوں تعلق رکھتے ہیں۔
شام کو محلے کی خواتین آگئیں۔ انکی بیشتر تعداد کو اردو بالکل نہیں آتی۔ میری ترجمان نازنین تو اپنے شوہر کے پاس مسقط جا چلی گئ۔ لیکن دو ایسی لڑکیاں نکل آئیں جو ٹوٹی پھوٹی اردو بول سکتی تھیں۔ بس وہ دونوں بے چاری ترجمہ کرتی رہیں۔ بلوچی زبان پہ فارسی کا اثر ہے ویسے بھی اردو کی بہن زبان ہے۔ اس لئے کہیں نہ کہیں میں بھی بلوچی پکڑ ہی لیتی۔ اس سے وہ خواتین بڑی متائثر ہوئیں کہ تھوڑی بہت بلوچی مجھے آتی ہے۔
میں ان کے لئے کچھ تحائف لے کر گئ تھی جس سے وہ بڑی خوش ہوئیں۔ چلتے چلتے کہنے لگیں کہ تم عید پہ مہندی لگاتی۔ ہاں، میں نے گردن ہلائ۔ کیا مہندی یہاں ملتی ہے۔ جواب ملا مہندی یہاں ملتی، دس روپے کی ٹیوب ملتی۔ کل ہم لائے گی اور تمہیں اور مشعل کو لگائے گی۔
پتہ نہیں کیا چیز ہوگی اور یہ کیا لگائے گی۔ میں نے دل میں سوچا۔ اگلے دن دوپہر میں ہم گوادر شہر کی طرف چلے گئے۔ وہاں سنگھار پہاڑی کے ساحل کی طرف اترے اور سورج ڈوبنے کا نظارہ کیا۔ ایک خوبصورت اور پر سکون ساحل جو سورج ڈوبنے کے وقت ہر طرف سے جلنے لگا۔ ساحل سے اس آگ کی لپٹیں آسمان کے مرکز کی طرف پہنچے جا رہی تھیں۔ آگ اور پانی کا یہ ملن چاند ایک طرف کھڑا دیکھ رہا تھا۔ سورج اور چاند کا بیک وقت ایسا طلوع اور غروب بھی بس گوادر میں ہی نظر آ سکتا ہے۔ بعض لوگوں کو اپنی خوبیوں اور خوش قسمتی  کا اندازہ نہیں ہوتا اور بعض جگہوں کو بھی۔


غروب آفتاب کے وقت طلوع مہتاب


رات دس بجے جب کھانا کھا کر سُر بندر واپس پہنچے اور میں ابھی سوئ ہوئ مشعل کو سونے کے کپڑوں میں ڈال رہی تھی کہ وہ لوگ مہندی لے کر پہنچ گئیں۔
اوہ، مشعل تو سو گئ۔ اب مجھے ہی اپنے ہاتھوں میں ان سے نقش و نگار بنوانے پڑیں گے۔ وہ اتنے شوق سے آئیں ہیں کیسے منع کر دوں۔ گھر والے میرا المیہ جان کر مسکرا رہے تھے۔ میرا ہاتھ، ہاتھ میں لے کر اس نے مہندی کی کون جیسا کہ ہم کراچی میں کہتے ہیں جب چلانی شروع کی تو خاصہ اچھا ڈیزائین بنا ڈالا۔ یہ تم نے کہاں سے سیکھا؟ میں نے پوچھا۔  اسکول سے۔ اس نے سر جھکائے جھکائے بتایا۔  بڑا اچھا اسکول ہے۔ پڑھنا لکھنا چاہے سکھائے نہ سکھائے مہندی لگانا سکھا دی۔ ہنسنے لگیں۔ کیا میں عید کے کپڑے لائ ہوں اس نے پوچھا۔ ہاں، ہاں سب لائ ہوں اور چوڑیاں بھی؟ ہاں چوڑیاں بھی۔
مشعل کی مہندی رکھ کر وہ چلی گئیں۔
میں عید کی نماز والوں کے کپڑے استری کرنے لگی۔ اور مشعل کے کپڑوں تک اس قدر نیند آ رہی تھی کہ میں نے سوچا کہ صبح اٹھ کر کر لونگی۔
بستر پہ لیٹی تو مسلسل لوگوں کے کچھ زور سے پڑھنے کی آواز آرہی تھی۔ یہ ذکری ہیں۔ گوادر میں مسلمانوں کے دو فرقے پائے جاتے ہیں ایک نمازی اور دوسرے ذکری۔ نمازی نماز پڑھتے ہیں اور ذکری نماز نہیں پڑھتے صرف ذکر کرتے ہیں۔ جس جگہ وہ ذکر کرتے ہیں وہ ذکر خانہ کہلاتی ہے۔ جو کہ ہمارے گھر سے خاصی قریب تھی۔ اس لحاظ سے گوادر میں بڑی مذہبی رواداری پائ جاتی ہے۔
لیکن اپنی تاریخ کو سامنے رکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ یہ مذہبی ہم آہنگی بس کچھ اور سالوں کی بات ہے وجہ یہ کہ اس دفعہ میں نے وہاں ایک بہت بڑا بورڈ دیکھا جس پہ لکھا تھا تبلیغی اجتماع گاہ اور اس پہ ایک تیر کا نشان بنا ہوا تھا۔ یعنی مقام کی نشان دہی۔ کافی ساری کشتیوں پہ اس دفعہ میں نے جماعت اسلامی کے جھنڈے دیکھے۔ آج سے آٹھ سال پہلے جب میں گوادر گئ تو وہاں کوئ بڑا مدرسہ نہیں تھا لیکن اب وہاں ایک بہت بڑا دارالعلوم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کتنے وقت میں گودار کی دیواروں پہ ذکری کافر، نمازی کافر، سنی کافر اور شیعہ کافر جیسے نعرے وجود میں آتے ہیں ابھی تو وہاں، ہندءووں کے ایجنٹوں کے نام ،  پاکستان مردہ باد اور پاکستان زندہ باد جیسے نعروں کی اکثریت ہے۔



بہر حال ذکری  ساری رات ذکر کرنے کے بعد، فجر سے پہلے قربانی کے فریضے سے فارغ ہو جاتے ہیں۔
صبح لوگ قصبے کی عید گاہ میں نماز عید کے لئے جمع ہوئے۔  لائوڈ اسپیکر کا انتظام خاصہ خراب تھا۔ کچھ کو آواز پہنچی اور کچھ نمازیوں کو آواز نہیں پہنچی۔ نماز کی ادائیگی میں مسئلہ ہوا اور نماز کے اختتام پہ کچھ نمازیوں نے مطالبہ کیا کہ دوبارہ نماز پڑھائ جائے یعنی لوٹائ جائے۔ یوں نماز دوبارہ پڑھی گئ۔
یہاں ہمارے ساتھ کیا ہوا کہ آٹھ بجے ہم نے سوچا کہ مشعل ابھی سو رہی ہے اسکے کپڑے استری کر لئیے جائیں۔ لیکن یہ کیا؟ عین اسی وقت لائٹ چلی گئ۔ کوئ بات نہیں ایک دو گھنٹے میں اجائے گی۔ دل کو تسلی دی۔  مگر وہ نہ آئ۔ حتی کہ بارہ بجے دو پہربکرا قربان ہو گیا۔ میں نے احتیاطاً مشعل کے لئے دو زرق برق کپڑے رکھ لئیے تھے جو اس وقت کام آ گئے۔
بکرے کے حصے کیسے بنوانے ہیں آپکو؟ سوال آیا۔  کیسے حصے؟ میں نے دریافت کیا۔'یہاں کا طریقہ یہ ہے کہ سارے گوشت کے تین حصے کر دئیے جاتے ہیں ایک غریبوں اور ہمسایوں کا دوسرا رشتہ داروں کا اور تیسرا اپنے لئے'۔ مزید تفصیل حاصل ہوئ۔  اچھا کراچی میں تو قصائ بس گوشت بنانے کا کام کرتا ہے۔ خیر ہم وہی کریں گے جو یہاں رائج ہے۔ جب روم میں ہو تو وہی کرو جو رومی کرتے ہیں۔
سارے گوشت کو اچھی طرح ملا دیا گیا پھر اسکے برابر کے حصے لگے، اس میں سے غریبوں کا حصہ کر کے وہاں موجود لوگوں نے اسے بھیجنے کے لئےخود ہی حصے بنا کر بھیج بھی دئیے۔ چلیں جی اس ذمہ داری کی بھی چھٹی ہوئ۔  گوادر میں غربت زیادہ ہے۔ لیکن، اچھی بات یہ ہے کہ سمندر کے کنارے ہونے کی وجہ سے کوئ بھوکا نہیں مرتا کہ سمندر سب کو کھانا تو دیتا ہے۔ لیکن مچھلی کے علاوہ کھانے کی دیگر اشیاء عام انسان کی پہنچ سے باہر ہیں۔ دیگر جانوروں کا گوشت ایک عیاشی ہے۔ قربانی بہت کم لوگوں نے کی۔ اس لئے جانوروں کی وہ چہل پہل نہیں تھی جو کراچی میں نظر آتی ہے۔
بکرے کے سری پائے پھینک دئیے گئے اور اوجھڑی کو اسی وقت سامنے سمندر میں لے جا کر دھو کر صاف کر لیا گیا۔ رات کو جب میں نے رخسار سے پوچھا کہ آج کیا پکایا تو جواب ملا اوجھڑی۔ مجھے ایک جھٹکا لگا۔ کراچی میں اوجھڑی پھینک دی جاتی ہے۔ البتہ سری پائے بنوا کر رکھ لیتے ہیں۔ اوجھڑی کی وجہ سے شہر میں آلائیشیں پھیل جاتی ہیں۔ مگر یہاں سب نے پہلے دن اوجھڑی پکائ۔ کہنے لگی نادر بلوچ سے کہا تھا کہ آپکو اوجھڑی کا سالن دے دے۔ لیکن کہنے لگا کہ عنیقہ کہاں اوجھڑی کھائے گی۔
میں ہنسنے لگی۔ میں اوجھڑی کھاتی ہوں۔ اچھی طرح پکی ہو تو بڑے مزے کی ہوتی ہے لیکن عید والے دن، ذبح کئے ہوئے جانور میں اتنا کچھ ہوتا ہے کہ ہم لوگ اوجھڑی بالکل نہیں کھاتے۔ جب بھی کھاتے ہیں خرید کر پکاتے ہیں۔ بعد میں، میں نے اپنی اور انکی اس ادا پہ غور کیا تو خیال آیا  اسکی وجہ شاید اسکی صفائ کی پیچیدگی ہے۔ سمندر ہمارے پاس ہے لیکن ایک تو بڑی دور ہے دوسرا پونے دو کروڑ آبادی کے لوگ اگر اسے عید پہ اوجھڑی دھونے کے لئے استعمال کریں تو سوچ لیں کیا ہوگا۔
اپنے حصے میں آنے والے گوشت پہ سے چربی اچھی طرح صاف کی۔ یوں اس گوشت میں مزید ڈیڑھ دو کلو کی کمی واقع ہو گئ۔ نادر سے ڈرتے ڈرتے بات کی کہ کہیں اسے برا نہ لگے کہ وہ اگر چاہے تو یہ چربی لے سکتا ہے ورنہ ہم اسے پھینک ہی دیں گے۔ چربی کا یہ ڈھیر وہ بخوشی لے گیا۔
سارا دن گھر محلے بچوں سے بھرا رہا یا خواتین وقفے وقفے آتی رہیں۔ بچوں کے لئے تو گھر کے لیونگ روم میں موجود چھ ضرب چار فٹ کا جھولا سب سے بڑی کشش تھا۔ ایک وقت میں آٹھ دس بچے اس پہ لدے مزے لے رہے ہوتے۔ خواتین کے لئے شاید صوفے میں بڑی کشش تھی۔ وہ ایک دن میں دو دو بار آتیں۔ شام تک بچوں کے اس ہنگامے کی وجہ سے تھکن ہو گئ۔ اگرچہ اس دن میں نے ایک بلوچی لفظ سیکھا۔ بورو، مطلب باہر جاءو۔

عید گاہ کی طرف لوگوں کی روانگی





مشعل بچوں کے اس ہجوم میں کہیں غائب تھی۔ کبھی کبھی مجھے اسکی شکستہ بلوچی جملوں کی آوازیں آتیں۔ وہ زبان سیکھنے کے معاملے میں کافی تیز ہے۔ محض دو دن میں بلوچی لہجہ اور جملے سیکھ لئے تھے۔ جہاں الفاظ نہیں آتے وہاں لہجے سے کام چلاتی۔
آنے والی مہمان خواتین کے آگے جب میں نے دودھ سویاں رکھیں تو وہ اسے کھاتے ہوئے بادام کی ہوائیاں نکال کر ایک طرف رکھنے لگیں مجھے اندازہ ہوا کہ وہ اس بات سے واقف نہیں کہ بادام بھی کوئ چیز ہوتی ہے۔ 
لائیٹ اب تک لا پتہ تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ پی ایم ٹی اڑ چکا ہے۔ واپڈا والوں سے بات ہوئ ہے وہ اس پہ کام کر رہے ہیں رات تک آئے گی۔ رات مطلب، گیارہ بجے آئ۔ کبھی آپ نے نوٹ کیا کہ صحیح وقت کے بجائے رات، صبح،  دوپہر کہہ لیا جائے تو ذمہ داریوں کے تناءو سے کیسے نجات مل جاتی ہے۔
رات کے لئے میں نے پلاءو بنانے کے پروجیکٹ پہ کام شروع کیا۔ گوشت کا قورمہ تیار کر لیا اور چاول ابالنے کی باری آئ تو پتہ چلا کہ سلنڈر میں گیس ختم ہو گئ ہے۔ اسے کہتے ہیں غربت میں آٹا گیلا۔ عید کی چھٹی گیس کہاں سے ملے گی۔ یہ ایک الگ کہانی کہ پلاءو کس طرح اپنی منزل کو پہنچا۔ بہر حال ہم نے اسے کھایا بھی اور پڑوسیوں کو بھی دیا۔ اور ہاں نہ گوشت میں بُو تھی اور نہ ہی یہ سخت تھا۔ مزے سے گھنٹہ بھر میں گل گیا۔
بجلی رات کو شکر ہے کہ گیارہ بجے آگئ۔ یوں گوشت  ریفریجریٹر میں گیا۔
رات کو بارہ بجے جب ہم بستر پہ ڈھیر ہوئے تو ذکری ورد کی آوازیں ایک بار پھر آ رہی تھیں۔ یہ شاید تین راتوں تک جاری رہے۔ میں نے سوچا۔  سارا دن کے ہنگامے میں پتہ ہی نہ چلا کہ ہم ایک تہوار پر اپنے شہر، گھر اور رشتے داروں سے دور ایک اجنبی جگہ پر ہیں۔ انسان اگر مختلف کاموں میں شدید مصروف ہو تو ایسے خیالات کیسے راستہ پائیں۔ خالی ذہن چاہے افراد کے ہوں یا قوم کے شیطان کا گھر ہی بنتے ہیں۔


گوادر کے متلعق مزید تحاریر پڑھنے کے لئے اس لنک پہ جائیں۔