Showing posts with label لکھنوء. Show all posts
Showing posts with label لکھنوء. Show all posts

Sunday, December 4, 2011

کراچی میں محرم

اب یہ تو دینیات والے جانیں یا سوشیالوجی والے کہ کیسے مختلف رسوم و رواج مذاہب میں نہ صرف شامل ہوجاتے ہیں بلکہ اسکے جوش و خروش میں اضافے کا باعث بن جاتے ہیں مثلا میٹھی عید پہ سویاں یا شیر خورمہ بننا اور محرم میں حلیم بنانا۔
محرم میں حلیم کیوں بنایا جاتا ہے؟
اسکے بارے میں جو روایت ہم تک پہنچتی ہے وہ کچھ یوں ہے کہ قافلہ ء حسین  جب ظلم یزید کا شکار دریائے فرات کے کنارے خیمہ زن تھا تو غذا کی کمی کو پورا کرنے کے لئے بچا کھچا تمام اناج ملا کر کھانا پکایا گیا تھا۔ اب یہ ارتقاء ہی کہلائے گا کہ شدید الم کے عالم میں بنایا جانے والا کھانا ہزار سال بعد حلیم جیسی لذیذ شے میں تبدیل ہو گیا اور آج ہم حلیم نائٹ مناتے ہیں۔
میری ایک جاننے والے خاتون ایک دن کہنے لگیں کہ سنّی مذہب میں ایک بنیادی بات بڑی اچھی ہے۔ وہ کیا؟ ہم نے استفسار کیا ۔ جواب ملا، وہ یہ کہ تمام مذہبی رسومات کھانے پینے سے تعلق رکھتی ہیں۔ گیارہویں شریف ہو، عید، بقر عید ہو یا رمضان شب براءت۔ ہر ایک کے ساتھ کھانا پینا جڑا ہوا ہے۔ اب محرم ہی کو دیکھ لو سنّی اس میں بھی حلیم پکاتے ہیں، کھلاتے ہیں اور کھاتے ہیں۔ حلیم تو حلیم، شربت کتنا بانٹتے ہیں۔
مگر یہ کام تو شیعہ بھی کرتے ہیں۔ ہم نے تو شیعوں کا حلیم بھی خوب کھایا ہے۔ میں نے انکی بات پہ حیرانی کا اظہار کیا۔ کہنے لگیں ارے پہلے انکے جتنی محنت تو کرو۔ پورے ڈھائ مہینے مجلسوں میں پے در پے شرکت کرنا، ڈھائ مہینے سوگ کے کرب میں مبتلا رہنا اور پھر کھانا پینا کرنا۔ اگر ایک دفعہ اس سارے عمل سے گذر جاءو تو پتہ لگ جائے گا۔ کتنا جان جوکھوں کا کام ہے۔ اس کے مقابلے میں سنّی ہونا آسان اور مزے کا کام ہے۔
اچھا تو پھر یہ بات آپ بھی تسلیم کریں کہ صدیوں سے اس واقعے کو تصوراتی طور پہ قائم کرنا اور پھر اسکی منظر کشی میں سننے والوں کو شامل کرنا اس فعل نے انکی تخلیقی سلاحیتوں کو اتنی جلا دی ہے کہ آج پاکستان، ہندوستان میں نمایاں لکھنے والوں کی بڑی تعداد شیعہ مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔ میں نے ان سے کہلوانا چاہا۔ لیکن اسکے بعد تخیل اور تخلیق پہ ایک الگ گفتگو چلی۔ جو اس تحریر کے دائرے سے باہر ہے۔
بہر حال ایک سوال یونہی ذہن میں آگیا کہ کیا عقیدہ اپنے ماننے والوں پہ کوئ بنیادی اثر چھوڑتا ہے؟
 سنی اور شیعہ دونوں ہی محرم الحرام مناتے ہیں گو کہ الگ نظریات کے ساتھ لیکن اس سے شہر میں بڑی ہمہ رنگیت اور رونق  رہتی ہے۔ بقر عید کے مہینے سے ہی دوکانوں پہ کالے کپڑوں کا اسٹاک لگ جاتا ہے۔ اس دفعہ میرے ذہن سے بالکل نکل ہی گیا تھا اور بازار جا کر میں نے سوچا کہ اس دفعہ سردیوں میں لگتا ہے کہ کالا رنگ فیشن کے افق پہ چھایا رہے گا ہر دوکان پہ یہ رنگ ڈھیروں ڈھیرہے۔ لیکن نہیں یہ محرم کی تیاری تھی۔
ہم جہاں رہتے ہیں یہاں قریبی ہر نکڑ پہ امام بارگاہ موجود ہے۔ محرم  سے لے کر ربیع الاول تک ان امام بارگاہوں میں بڑی رونق رہتی ہے۔ امام بارگاہوں پہ روشنی کا خاص انتظام ہوتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ اب سیکیوریٹی کا بھی۔ اگرچہ قریبی امام بارگاہ تقریباً ایک کلومیٹر کے فاصلے پہ ہے لیکن رات کو ایک بجے بھی میں نعرہ ء حیدری سن سکتی ہوں۔
اب سے چند سال پہلے تک سنّی بھی ان جلوسووں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔ پانچ چھ سال پہلے مجھے بھی نو محرم کو صدر کے علاقے میں جسے شاید محلہ خراساں کہتے ہیں رات گذارنے کا موقع ملا۔ ایک شیعہ دوست ساتھ میں تھے۔ سبیلیں لگی ہوئ ہیں۔ شربت بٹ رہا ہے۔ لوگ ایک قافلے کی صورت کالے کپڑے پہنے رواں ہیں۔  زنجیروں کا ماتم ہو رہا ہے۔ تعزئیے آ جا رہے ہیں۔ بچے ،خواتین ، بوڑھے جوان سب ان میں شریک ہیں۔  ساری کمیونیٹی اکٹھا ہے۔ سب اپنی سرگرمیوں میں مصروف۔ باہر نکلے تو  قائد اعظم کے مزار کے پاس دیگیں لائن سے لگی ہوئیں جانے کتنی۔ حلیم کی تیاری زوروں پہ۔
اب اس سارے قصے میں حلیم پھر سے آگیا۔ حالانکہ  محرم کا بنیادی الم کا موضوع پانی کی عدم دستیابی وہ بھی ایسی کہ دریا کا پانی چند گز کے فاصلے پہ موجیں مار رہا ہے مگر اس تک پہنچنے کے لئے خون کا دریا پار کرنا ہے۔
اور جبکہ ہمارے شیعہ دوست بتا رہے تھے کہ کس طرح انکا سلسلہ ء نسب کس امام سے جا کر ملتا ہے۔ میں اپنی والدہ کا بچپن دیکھ رہی تھی جو لکھنوء میں گذرا۔ اور جہاں انکے بقول محرم میں چاہے گھر والے جائیں یا نہ جائیں ہم بہن بھائ مجلسوں میں جاتے تھے تبرکات کھانے کے لئے چپکے سے گھر سے فرار ہو کر۔
اس وقت ایسی کوئ منادی نہیں تھی کہ  شیعہ مجالس میں سنّی نہیں جائیں گے۔ لکھنوء میں تعزئیے بڑے خوبصورت بنائے جاتے تھے اور انکے والد یعنی ہمارے نانا اپنے بچوں کو تعزئیے دکھانے بھی لے جاتے تھے۔ان تعزیوں اور جلوسوں کا تذکرہ رجب علی بیگ نے بڑے اہتمام سے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے۔ یہ تقسیم ہندوستان کے خاصے بعد کی بات ہے۔ آجکل تو وہاں بھی ان جلوسوں پہ پابندی ہے۔ 
البتہ یہ کہ میرے والد صاحب ہجوم والی جگہوں پہ بچوں کو نہیں جانے دیتے۔ انہیں اس بات  کی پریشانی رہتی تھی کہ بچے ادھر ادھر نہ ہو جائیں۔ ہم   نےبھی مختلف پالے ہوئے خوف کی بناء پہ کبھی والدین کی آنکھوں میں دھول جھونک کر  ان جلوسوں کو دیکھنے کی کوشش نہ کی۔
ادھر لکھنوء میں تو تعزئیے سنّی بھی بنایا کرتے تھے۔ خود میرے بچپن میں، یہاں کراچی میں ایک دوست کے گھر میں محرم میں اجرت پہ تعزئیے بناتے تھے۔ انکے گھر میں، میں نے بڑے خوبصورت تعزئیے رکھے دیکھے۔ مجھے تو وہ اس وقت پریوں کے گھر لگا کرتے تھے۔
وقت گذر گیا، ہر طرح کا وقت گذر ہی جاتا ہے۔ اب بھی اس شہر میں حلیم کی دیگیں چڑھتی ہیں، بچے سبیلوں کے چندے مانگتے ہیں، شربت بانٹا جاتا ہے۔ لیکن اب دل میں یہ خوف رہتا ہے کہ دیکھیں کہاں سے کس وقت دھماکے کی یا فساد کی خبر آتی ہے۔
روڈ پہ میں نے بڑے بڑے بینرز لگے دیکھے عشرہ ء عمر و حسین۔ مذہبی رواداری پیدا کرنے کی ایک اچھی مثبت کوشش۔ اس بات کو دوہراتے ہوئے کہ نہ ایک نظریہ مکمل طور پہ ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ دوسرا نظریہ مکمل طور پہ چھا سکتا ہے۔ اختلاف میں خوبصورتی ہے۔ ہم  نعرہ ء حیدری کے درمیان حلیم کھاتے ہیں۔ پانی کے لئے یہ کہ پانی پیو تو یاد کرو پیاس حسین کی۔

Friday, September 16, 2011

دھتکارا ہوا شاعر

وارننگ؛ یہ تحریر خاصی حد تک ناشائستہ مواد پہ مشتمل ہے۔ صرف شائستہ تحاریر پڑھنے والے اگر اسے پڑھتے ہیں تو مزاج میں پیدا ہونے والی کراہت کے ذمہ دار وہ خود ہونگے۔  حساس طبیعت رکھنے والے اس سے گریز کریں۔

اس وارننگ کے بعد میں خود کو اخلاقی طور پہ آزاد سمجھتی ہوں اور موضوع کی طرف آتی ہوں ۔ یہ ایک ایسے شاعر کے متعلق ہے جس نے اپنی شاعری کے لئے ایک نہایت دھتکارا ہوا موضوع چنا، جس پہ شاعر تو کجا عام افراد بھی اشاروں کنایوں میں ہی بات کرنا چاہتے ہیں۔ دنیا کے معیاری ادب میں اسکے لئے کوئ جگہ نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اردو کے اس شاعر کو شاعرانہ خوبیاں رکھنے کے باوجود آج شاید ہی کوئ جانتا ہو۔ انکے اشعار زیادہ تر سینہ بہ سینہ چلے آنے والے اشعار ہیں۔
  جب ، میں نے جاننا چاہا کہ انکا کوئ  دیوان موجود ہے تو معلوم ہوا کہ امریکہ کی واشنگٹن ڈی سی کی لائبریری میں اسکا ایک نسخہ موجود ہے۔ یہ جان کر کہ امریکہ کی ایک لائبریری میں انکے دیوان کا ایک  نسخہ موجود ہے آتش شوق بھڑک اٹھی۔ میں نے کوشش کی کہ کوئ اس نسخے کی نقل کروا کر وہاں سے لے آئے۔ لیکن ہوا یوں کہ مجھے کراچی میں ہی انکے دو مختلف دیوان مل گئے۔ جو کہ بھارت میں شائع ہوئے۔
برازیات کا یہ شاعر شیخ باقر علی یا جعفر علی قصبہ رودلی کا رہنے والا چرکین تخلص کرتا تھا اور اسی نام سے مشہور ہوا۔ چرکین کا کیا مطلب ہے اسکے لئے اردو کی کوئ بہتر لغت دیکھئیے۔
 اس سے آپکی وسعت الفاظ بہتر ہوگی۔
:)
مرزا قادر بخش صابر انکے بارے میں لکھتے ہیں کہ 
چرکین تخلص ایک شخص ظریف، شوخ مزاج، ساکن لکھنوء کا۔ وہ ہمیشہ سخن پاکیزہ کا دامن نجاست معنوی سے آلودہ رکھتا ۔ یعنی مضامین بول و بزار  اس طرح شعر میں باندھتا کہ زمین سخن کو گُوہ گڑھیا بنا دیتا۔ اسکی قوت شامہ یک قلم باطل ہو گئ تھی کہ اس غلاظت سے بے دماغ نہ ہوتا تھا۔ انصاف تو یہ ہے کہ ابیات میں ہر چند گوہ اچھالتا اور کاغذ کے ہر گوشے میں پیشاب کی نالی بہاتا تھا لیکن کوئ لطیف مزاج اس سے دماغ بند نہ کرتا تھا اور کوئ پاکیزہ طبع اس سے گھن نہ کھاتا تھا۔ گویا بحر شعر نے اس نجاست کو بہا دیا تھا۔
شرط سلیقہ ہے ہراک امر میں
عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئیے

انکے بارے میں خاصی کہانیاں مشہورہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میاں چرکین بہت بلند پایہ شاعر تھے۔ کلام بہت عمدہ اور پاکیزہ ہوتا تھا۔ مگر لوگ آپکا کلام چرا کر اپنے نام سے پڑھا کرتے تھے۔ جسکی وجہ سے میاں چرکین نے عاجز آ کر اپنی شاعری کا رنگ بدل دیا اور ایسے اشعار کہنے لگے جس میں گندگی کا ذکر ضرور ہوتا۔ لیکن اس کلام میں بھی تمام شاعرانہ صفات بدرجہ ء اتم موجود ہوتی تھیں۔ یہ بہرحال ایک کہانی ہی ہے مکمل صداقت نہیں۔ شاعرانہ خوبیوں کے لئے کچھ نمونہ ء کلام حاضر ہے۔

سلسل البول کی مانند رہے ڈاک رواں
اتنے خط لکھوں زمانے سے ہو کاغذ عنقا

رو زو شب ہگنے سے تم اسکے خفا رہتے تھے
مہترو خوش رہو، چرکیں نے وطن چھوڑا ہے

روک کر گھوڑے کو اس نے مری تربت پہ کہا
لید کرنی ہو تو کرلے تُو یہی تھوڑی سی

قبر پہ آکے بھی اس بت نے نہ مُوتا افسوس
کام کچھ اپنے  نہ مرگ شب ہجراں آئ

اپنے ہی سڑے ٹکڑوں پہ کی ہم نے قناعت
چکھا نہ متنجن کسی نواب کے خواں کا

مقصود عالم مقصود جو کہ ایک طرح سے غالب کے شاگرد تھے انہیں چرکین کی نادر ترکیبوں ، الفاظ، فقرے اور محاوروں نے کھینچا ہوگا جو اب نہیں بولی جاتی اور انہوں نے چرکین کے مرنے کے پچیس سال بعد انکا کلام ایک جگہ اکٹھا کر کے اسے دیوان کی شکل دی۔ یوں یہ محفوظ ہوا مگر لوگوں کی لائبریریوں میں نمایاں جگہ نہ پا سکا۔
انکی بولی دیوان خانے یا شائستہ آنگن کی نہیں نالی، کوڑا گھر، سنڈاس، بول و بزار وغیرہ کی ہے۔ بول و بزار کے علاقے کے الفاظ جنکے سلسلے میں لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ انکو چرکین نے اپنے کلام میں محفوظ کیا اور بیت الخلاء کے آداب کی ایک اہم دستاویز چھوڑی۔
چرکین نے بول و بزار کے مضامین کے لئے سوقیانہ یا کوئ خراب زبان نہیں لکھی۔انکا کلام معیاری اردو میں ہے۔ یہ وہی زبان ہے جو اس زمانے میں آتش، ناسخ اور مصحفی وغیرہ کی تھی۔ایک ایک مصرعہ تراشا ہوا، شعر میں چستی اور زائد یا بھرتی کے الفاظ سے پاک مضامین آلودہ لیکن کلام میں غضب کی روانی ہے۔ چرکین کے کلام کو بلا تعصب، صبر اور برداشت سے پڑھے بغیر انکے فن کی قدر نہیں جانی سکتی۔ 
بقول اردو کے مایہ ناز ادیب شمس الرحمن فاروقی، اگر کلام کے ذریعے جنسی لذت پیدا کرنے یا حاصل کرنے کی شرط کو اہم قرار دیں تو چرکین کا کوئ شعر مشکل سے فحش کہلائے گا۔خلاف تہذیب ہونا اور بات لیکن کوئ شعر ایسا نہیں کہ اسے بچوں یا بہو بیٹیوں کے سامنے پڑھایا نہ جا سکے یا انکے سامنے پڑھا نہ جا سکے۔
لیکن ہمیں پھر بھی کلام کی اس نوعیت پہ حیرت یا تعجب ہوتا ہے۔ کچھ اور لوگوں کو کچھ اور باتوں پہ ہوتا ہے مثلاً بائرن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نوالہ منہ میں ڈالنے، چبانے اور حلق سے اتارنے کو اس قدر غیر نفیس فعل سمجھتا تھا کہ کسی عورت کو کچھ کھاتے پیتے نہ دیکھ سکتا تھا۔ جبکہ جرمن ناول نگار پیٹرک سسکنڈ لکھتے ہیں کہ 
میں اپنے بچپن میں یہ سوچ سوچ کر حیران رہ جاتا تھا کہ ناولوں کے کرداروں کو کبھی بیت الخلاء جاتے کیوں نہیں دکھایا جاتا۔ اسی طرح پریوں کے قصے ہوں یا اوپرا، ڈراما ہو یا فلمیں یا پھر بصری آرٹ کی مختلف شکلیں ان میں کسی کو بھی رفع حاجت کی ضرورت کیوں نہیں پیش آتی۔ انسان کی زندگی میں پیشاب یا پاخانے کا عمل جو زندگی کا سب اہم اور انتہائ ضروری معمول ہے وہ آخر آرٹ کی دنیا میں اپنی جگہ کیوں نہیں بنا سکا۔
قادر بخش صابر مزید لکھتے ہیں کہ
اوائل حال میں تو اس نے یہ وضع ہزل سمجھ کر اختیار کی یعنی مذاق میں۔ لیکن رفتہ رفتہ اس قال کو حال بنا لیامدام لباس چرک پہنتا اور ایسی میلی کچیلی وضع رکھتا کہ اجنبی اس کو سچ مچ کا حلال خور سمجھتے۔حق یہ ہے کہ جو ابتداء میں کہتا تھا وہ آخر میں کر دکھایا۔ آخر الامر لال بیگ کی صحبت اور گوگا پیر کی ہم نشینی کے شوق میں شہر کے پاکیزہ مقامات سے بھاگ کر صد ہا آرزو کا ٹوکرا سر پر رکھے ہوئے بہ طریق پا تراب کے جنگل کے کسی کوڑے پر اول منزل کی۔

مزید شعر حاضر ہیں
خیال زلف بتاں میں جو پیچ کھاتے ہیں
مروڑے ہو ہو کے پیچش کے دست آتے ہیں

کسی کے پاد سے اڑتے نہ کنکری دیکھی
اڑائے دیتا ہے چرکیں پہاڑ پھسکی سے

وہ جنتی ہے مرے جو مرض سے دستوں کے
ہے یہ ثواب تو باز آئے اس صواب سے ہم

عبث بدنامیوں کا ٹوکرہ سر پر اٹھانا ہے 
لگانا دل کا بس جھک مارنا اور گُو کا کھانا ہے

چرکین سے کسی نے ایک دفعہ کہا کہ دنیا کے ہر موضوع کوبول و بزار کی زبان میں بیان کر سکتے ہو تو ذرا حضرت علی کی بہادری کو بیان کر دکھاءو۔ شعر ملا۔
رن میں جس دم تیغ کھینچی حیدر کرّار نے 
ہگ دیا دہشت کے مارے لشکر کفار نے
یہ مصرعہ اس طرح بھی ملتا ہے،  ہڑبڑا کر ہگ دیا ، لشکر کفار نے۔

نوٹ اس تحریر کا ماخذ ابرار الحق شاطر گورکھپوری کا مرتب کردہ دیوان چرکین ہے جس میں انہوں نےچرکین کا ادبی پس منظر اور تاریخ بھی دی ہے اور جس کا مقدمہ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ۔

Monday, May 9, 2011

یاد کا جادو

ہمارے گھر کے مسائل کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پہ جنات کا سایہ ہے'۔ 'تو آپ اسے بدل کیوں نہیں دیتے'۔ نجمہ خالہ نے اپنے ماموں کی اس بات کو جیسے کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا۔ 'ارے بھئ، ہمارے دادا کا گھر ہے وہ۔ اب اس میں ہماری چوتھی پشت رہ رہی ہے'۔ ماموں نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی۔ 'ائے چھوڑیں، ہردوسرا شخص کسی بیماری کا شکار ہے ہر تیسرا شخص ذہنی طور پہ بیمار ہے چوتھی پشت رہ رہی ہے۔ پانچویں پشت باقی بچے گی تو رہے گی۔ ہمیں دیکھیں، تیس سال کے عرصے میں چار گھر خریدے اور ان میں رہے پھر بدل دئیے'۔  خالہ نے پرس میں اپنا موبائل فون تلاش کرتے ہوئے کہا۔
'یہ جائیداد کا خریدنا بڑا مشکل کام ہے'۔  ماموں نے جان چھڑانی چاہی۔ 'ماموں آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں ایک عورت ہوں، شوہر کے انتقال کو بھی سترہ سال ہو گئے۔ انکے بعد بھی دو گھر میں نے  یکے بعد دیگرے خریدے۔ انہیں تلاش کیا، اس چکر میں اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ درجنوں گھر دیکھے۔ پھر جا کر پسند آئے۔ اسکے بعد وہاں جانے سے پہلے انکی مرمت، رنگ و روغن اور ان میں کچھ تبدیلیاں بھی کرائیں۔ یہ سب کام میں نے اکیلے کیا'۔ خالہ نے فخر سے کہا۔ 'کرنے پہ آئے تو انسان کیا نہیں کر سکتا'۔ میں خاموشی سے گفتگو سنتی رہی۔ خیال تھا کہ بات کسی طرح گھوم کر جنات پہ پہنچے گی۔ اور ہم جان سکیں گے کہ اس گھر میں جنات کا کیسے پتہ چلا؟ وہ کیا کرتے ہیں؟ کس نے انہیں دیکھا؟ اور یہ سارے مصائب انکی وجہ سے کیوں ہیں؟؟؟؟؟؟
یہ خالہ ہماری سگی خالہ نہیں۔ بس ہماری اماں سے کچھ بچپن کی دوستی کا تعلق  ہے۔ سو ہمارے بچپن میں بھی ساجھا کر لیا ۔
تو تم بڑی عقلمند سمجھتی ہو اپنے آپکو'۔ ماموں نے ایک بھولپن سے اپنی بھانجی سے کہا۔
اس مرحلے پہ کسی نے گفتگو کا رخ موڑ دیا۔ 'ہماری اماں کا انتقال ایک سو سات سال کی عمر میں ہوا'۔ ماموں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ بس اب میری باری تھی۔ جنات ہاتھ نہیں آئے تو کیا ہوا عمر کا حساب بھی کچھ کم نہیں۔ 'ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟'  'ہاں آپ لوگوں کو کیسے یقین آ سکتا ہے آپ نے انہیں کہاں دیکھا؟ پھر آجکی نسل کو ایسی باتوں پہ یقین کہاں آتا ہے' 'میں نے انہیں دیکھا تھا۔ اپنے بچپن میں، وہ ایک بہت کام کاجو خاتون تھیں'۔ میں نے نکتہ ء اعتراض کو واضح کرنے کی کوشش کی۔ 'پہلی دفعہ لکھنوء سے پاکستان آئیں تو گھر بھر کی رضائیاں کھلوا کر بیٹھی ہوئیں تھیں۔ اتنی تندرست اور صحیح تھیں کہ  خود بیٹھی ان میں ڈورے ڈال رہی تھیں یا ڈلوا رہی تھیں۔ میں تو یقین نہیں کر سکتی کہ وہ ایک سو سات سال کی تھیں'۔
ہم ہیں ان کے بیٹے اور بتا رہ ہیں کہ ایک سو سات سال کی تھیں۔ ہم صحیح ہوں گے یا آپ'۔ وہ اپنے دھیمے لہجے میں گویا ہوئے۔
انکی سب سے بڑی بیٹی یعنی خالہ کی امی کی عمر اس وقت پچھتر سال کے قریب ہے۔  آپکی امی یعنی خالہ کی نانی ، انکی شادی میں نے سنا ہے کہ اس وقت کے مروجہ طریقے کے مطابق چودہ پندہ سال کی عمر میں ہو گئ تھی۔ اب اگر آپکی امی زندہ ہوتیں تو زیادہ سے زیادہ نوے سال کی ہوتیں۔ اب جبکہ انکے انتقال کو پانچ سال ہو گئے ہیں میرا اندازہ ہے کہ انکی عمر پچاسی سال ہوگی'۔ میں نے حساب کتاب کے تیز رفتار گھوڑے دوڑا دئیے۔
یہ تم سے کس نے کہا کہ انکی بیٹی کی عمر اس وقت پچھتر سال ہے۔ وہ میری بہن ہیں۔ مجھ سے پندرہ سال بڑی۔ میں اس وقت پچھتر سال کا ہو چکا ہوں۔ ماموں نے ایک اور اعتراض کیا۔
لیجیئے جناب عمر کا ایک نیا چکر شروع ہوا۔ میں نے کہا خالہ آپکی بھانجی ہیں۔ یہ لوگ سن چونسٹھ میں پاکستان آئے ہیں ۔ خالہ کی امی یعنی آپکی بڑی بہن کہتی ہیں کہ جس وقت وہ یہاں آئیں تو آپ گیارہ بارہ سال کے تھے۔ اب یہ بات تو ہم نے اتنی تسلسل سے سنی ہے کہ  غلط نہیں ہو سکتی' ۔ تائید کے لئے میں نے انکی بھانجی اور بڑی بہن کی طرف دیکھا ان لوگوں نے گردن ہلائ، تائید میں۔' اب آپ بتائیے ، اگر آپ اس وقت پچھتر سال کے ہیں تو سن چونسٹھ میں آپکی عمر، ایک سادہ سے حساب سےپچیس سال کے قریب بنتی ہے۔ پھر تو آپکو ہر چیز  خاصی  یاد ہونی چاہئیے'۔
ماموں ، میری شکل دیکھنے لگے۔ بہن کی ہجرت کے حوالے سے انکا خاکہ زیادہ واضح نہیں تھا۔ یہ بات تو ماننی پڑتی کہ ایک پچیس سال کے شخص کو یہ چیزیں درستی سے یاد ہوں۔ خاص طور پہ اپنی بڑی بہن کے متعلق۔' نہ آپ پچھتر سال کے ہیں اور نہ آپکی امی کا انتقال ایک سو سات کی عمر میں ہوا۔ آپکی عمر اس وقت ساٹھ سال کے قریب ہے، آپکی بڑی بہن پچھتر سال کی اور امی کا انتقال پچاسی سال کی عمر میں ہوا'۔
بڑی عجیب خواتین ہیں آپ۔  یہ کراچی میں گندم کہاں سے آتا ہے؟'۔ یہ کہہ کر ایک بھولپن سے مسکرانے لگے۔ شاید سوچ رہے ہوں کہ عمر رفتہ کا حساب تو بڑا آسان ہے پھر ہم کاہے کو ایک گورکھ دھندے میں پھنسے رہے۔
دو ہفتے بعد میں نے سنا کہ واپس جا رہے ہیں اپنے وطن بھارت۔ 
سوچا ایک دفعہ پھر ملاقات کی جائے۔ ایک دفعہ پھر اسی کمرے میں لیکن اس دفعہ مختلف لوگ بیٹھے تھے۔ گفتگو کچھ ماضی اور مستقبل کے دو نہ چھونے والے دائروں میں گھوم رہی تھی۔ کبھی چھلانگ کر اس طرف کبھی چھلانگ لگا کر اس طرف۔ ایسے میں اسے حال کے کرداروں کی انگلی پکڑنی پڑتی۔ ماموں نے ایک آہ بھری۔ 'پینتالیس سال ہو گئے ہماری بہن کو ادھر آئے تو ہم پہلی دفعہ آنے میں کامیاب ہوئے۔ اب دیکھیں آ پاتے ہیں یا نہیں'۔ 'ارے نہیں صاحب، خدا آپکو لمبی عمر دے۔ سنا ہے آپکی والدہ  نے بھی کافی لمبی عمر پائ تھی'۔
اسی بچوں جیسی سادگی سے کہنے لگے، 'جی ہاں ماشاءاللہ ایک سو سات سال کی عمر میں انتقال ہوا انکا'۔
وہ جھوٹ نہیں کہہ رہے تھے۔ یادداشت کے طلسم ہوش رُبا میں کہیں کہیں انسان پتھر کا ہو جاتا ہے۔ نہ اس سے آگے دیکھ پاتا ہے نہ پیچھے۔

Thursday, July 1, 2010

دیر آید

اگرچہ کہ میں کھانا دن میں ضرورتاً ہی کھاتی ہوں مگر تیسری دنیا کے ایک پسماندہ اور اپنے ہوش و حواس کی دنیا بحال ہونے کے بعد سے اسے حالت جنگ میں دیکھ دیکھ کر میں سارا سارا دن بھی لکھتی رہوں تو اس میں اچنبھے یا حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہئیے۔ تیسری دنیا کا ایک غریب ملک، حالت جنگ، نامساعد سیاسی حالات، جہالت، دقیانوسیت, جذباتیت، اور ترقی کے لئے کام کرنے کے بجائے کام کرنے والوں سے حسد،  یہ سب مل کر ایک ایسا جادوئ جوہر بناتے ہیں  کہ جو شخص معمولی سی بھی حساسیت رکھتا ہو یہ اسے تخلیق کی سطح پہ خاصہ سرگرم کر دیتی ہے۔ ایسے حالات سے گذرنے کے بعد اگر کسی لکھنے والے کو لکھنے کے موضوعات کی قلت کا سامنا ہے تو یہ یقیناً وہ ہونگے جو صاحبان تسلیم و رضا سے ہیں۔
اس ہفتے دو دلچسپ خبریں سامنے آئیں۔ پہلی خبر کا تعلق سندھ سے ہے۔ جہاں ایک پینتالیس سالہ خاتون شہزادی چانڈیو  نے ایک سترہ سالہ لڑکے کو شادی کرنے کی غرض سے اغواء کر لیا۔ پولیس اسٹیشن میں لڑکے نے بیان دیا کہ وہ تو اسے جانتا تک بھی نہیں۔ یہ زیادتی ہے کوئ آپکو جانتا بھی نہ ہو اور اسے اغواء کر لیا جائے۔ مگر پھر بھی صد شکر کے اجتماعی زیادتی نہیں ہے۔
دوسری خبر  انڈیا کے شہر لکھنوء سے ہے ایک مسلم خاتون نشاط فاطمہ نے شہر میں واقع ایک شریعت کورٹ میں فتوی دینے مولوی صاحب کی پٹائ لگادی۔ یقیناً پڑھی لکھی نہیں ہونگیں ورنہ صرف لفّاظی کرتی رہ جاتیں۔ اور اسی فلسفے پہ غور کرتی رہتیں کہ جب اس خبیث شوہر نے ہی خباثت دکھا ڈالی تو کسی مولوی کا اس میں کیا قصور۔ اس تمام تر ہاءو ہو کے بعد  پھر انہوں نے  جو کچھ کہا  اسکا مطلب یوں نکلتا ہے کہ  ٹھنڈ پے گئ۔ 
دل کو کتنا سکون ملا ہے ان لوگوں کو پیٹ کر بتا نہیں سکتی۔
خاتون شیعہ فقہے سے تعلق رکھتی ہیں اور پڑوسیوں کی زبانی یہ جان کر کہ انکے شوہر نے انہیں طلاق دے دی ہے وہ سخت صدمے میں تھیں۔ شیعہ قوانین کے مطابق بیوی کو صفائ کا موقع دئِے بغیر طلاق نہیں ہو سکتی۔  خاتون کے شوہر صاحب عرصہ ء دو سال سے ایک اور خاتون کے ساتھ عارضہ ء قلب میں مبتلا تھے۔ اسکا علاج انہوں نے یہ نکالا کہ ان سے شادی کر لی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں ماضی کی غلطی کو ان ڈو کرنے کے لئے انہیں مولوی صاحب سے خدمت لینی پڑی۔  تاکہ زمانہ ء حال میں یہ غلطی دوبارہ کر سکیں۔  لکھنوء کے سلطان المدارس کے مولوی صاحب نے مبلغ ڈھائ ہزار روپے انہیں پہلی بیوی سے علیحدگی کا سرٹیفیکیٹ دیا۔  نشاط آپا نے یہ سنتے ہی آءو دیکھا نہ تاءو کہ اب اسکا وقت نہیں رہا تھا اس شریعت عدالت میں گھس کر مولوی صاحب کی پٹائ لگا دی۔  نہ رہے بانس اور نہ ہی بانسری۔  ہماری خاتون نے اسی پہ بس نہیں کی بلکہ مزید خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ جو ان مولویوں کے قوانین سے تنگ آئی ہوئ ہیں وہ بھی باہر نکلیں اور انہیں سبق سکھائیں۔
باقی مسلمان خواتین چاہے انکے مشورے پہ عمل کریں یا نہ کریں ایک خیال یہ  آتا ہے کہ بچپن میں اماں جان و ابا جان سے پٹنے کے بعد عین بڑکپن میں دوسرے کی بیگم سے پٹنے کے انوکھے تجربے کے بعد مولوی صاحب کی  ذہانت میں بیش بہا اضافہ ہوا ہوگا اور اب وہ مولوی صاحبان یقیناً اس کار خیر کی فیس بڑھا دیں گے کہ اس میں بعد از پٹائ علاج معالجہ کا خرچہ بھی شامل ہوگا۔
میری ہمدردیاں مولوی صاحب کے ساتھ ہیں اس لئے برائے مہربانی اس پوسٹ کے سلسلے میں مجھ پہ دین کے خلاف جانے کا الزام نہ لگایا جائے۔ حالات کہہ رہے ہیں کہ مبینہ شوہر صاحب نے بھی اسی طرح باری باری اماں، ابا اور بیگم سے پِٹ پِٹ کر ذہانت استعمال کرنا سیکھی ہوگی۔ بہر حال دیر آید درست آید۔