Showing posts with label Shah Waliullah. Show all posts
Showing posts with label Shah Waliullah. Show all posts

Saturday, May 8, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۱۲

شاہ ولی اللہ نے اجتہاد اور تقلید کے موضوع پہ ایک بڑی مفید کتاب عقد الجید فی احکام الاجتہاد التقلید کے نام سے لکھی۔ شاہ صاحب باب اجتہاد بند ہونے کے قائل نہ تھے لیکن وہ عوام کو حق اجتہاد نہیں دیتے۔ مجتہد کے انہوں نے مدارج مقرر کئے اور اجتہاد کے لئے مناسب شرائط لگائیں۔ انہوں نے جا بجا اس خیال کی نفی کی کہ اب اجتہاد کی گنجائش نہیں رہی۔ وہ اس کتاب کے آغاز میں کہتے ہیں کہ
پھر اب جو گمان کیا جاوے ایسے شخص عالم کے حق میں، جو اکثر مسائل میں اپنے امام کے موافق ہو، لیکن اسکے ساتھ ہی ہر حکم کی دلیل چاہتا ہو کہ وہ مجتہد نہیں تو یہ گمان اس شخص کے حق میں فاسد ہے۔ اور اس طرح جو یہ گمان کرے کہ مجتہد اس زمانے میں نہیں پایا جاتا۔ بلحاظ اعتماد کرنے کے گمان پہ تو یہ گمان بنار فاسد بر فاسد ہے۔
شاہ صاحب رسول اکرم کے طریقے کو دھیان میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جزئیات کے معاملے میں تشدد نہیں کرنا چاہئیے۔ اور معمولی اختلافات سے شارع کا مقصد فوت نہیں ہوتا۔
کچھ لوگوں کو زمانہ روز بروز خراب نظر آتا ہے اور اس طرح وہ قوم میں بے ہمتی پیدا کرتے ہیں۔ اپنی کتاب حجۃ البالغہ میں وہ اپنے عہد کی اہمیت اورخوبیوں کا ذکر کرتے ہیں اور اس نظرئے کی تردید کرتے ہیں اس سلسلے میں وہ رسول اللہ کی دو حدیثوں کا حوالہ دیتے ہیں
ترجمہ؛ میری امت کی صفت بارش کی سی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ پہلا مینہ اچھا ہے یا اخیر کا۔
ترجمہ؛تم میرے صحابہ ہو اور میرے بھائ وہ ہیں جو میرے بعد آئیں گے۔
شاہ صاحب کو احساس تھا کہ مسلمانوں کے زوال کا ایک باعث فرسودہ اقتصادی نظام بھِی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اقتصادی عدم توازن کو معاشرتی برائیوں کی ایک جڑ قرار دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ
اگر کسی قوم میں تمدن کی مسلسل ترقی جاری رہے تو اسکی صنعت و حرفت اعلی کمال پر پہنچ جاتی ہے، اسکے بعد اگر حکمران جماعت آرام و آسائش اور زینت  وتفاخر کی زندگی کو اپنا شعار بنا لے تو اسکا بوجھ قوم کے کاری گر طبقے پہ اتنا بڑھ جائے گا کہ سوسائٹی کا اکثر حصہ حیوانوں جیسی زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہوگا۔
ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ
اقتصادی نظام کے درست اور متوازن ہونے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس زندگی میں انسانی اجتماع کے اخلاق تکمیل پذیر ہو سکیں گے۔
انکے خیال میں چونکہ تمام قوم دولت کی پیداوار میں شامل ہوتی ہے اس لئےدولت کو تمام افرد قوم میں تقسیم ہونا چاہئیے۔ اسکے علاوہ وہ دولت کے استعمال کی اقدار بھی مقرر کرنا چاہتے تھے اسکے لئے انہوں نے کچھ اصول رکھنا چاہے۔
پہلا اصول یہ کہ ایک جغرافیائ سرحد کے اندر رہنے والے لوگ اس علاقے کے وسائل کے مالک ہونگے۔ تمام لوگ اقتصادی نظام میں برابر ہونگے اور دولت کا ارتکاز کسی ایک یا چند مخصوص لوگوں تک نہ ہو۔ اور اس سلسلے میں وہ حضرت ابو بکر صدیق کی اس بات کو دوہراتے کہ مساوات بہتر ہے اقصادیات میں بجائے اسکے کہ ایک گروہ کو دوسرے پہ ترجیح دی جائے۔
دوسرا اصول، ہر شخص کو کچھ نہ کچھ حق ملکیت دینا چاہئیے۔ کیونکہ ہر شخص مختلف صلاحیتیں رکھتا ہے۔ لیکن اس سے مراد یہ نہیں کہ ہر ایک کو ایک جیسی غذا، گھر یا کپڑے ملیں۔
تیسرا اصول یہ کہ دولت کے ارتکاز کو کسی صورت نہ برداشت کیا جائے۔
ایسی متوازن صورت حال اختیار کی جائے کہ معاشرہ میں ہر شخص ترقی کرے۔
اسکے لئے وہ اس بات کے حق میں تھے کہ کوئ ایسی جماعت وجود میں لائ جائے جو ایک نئے نظام کو ترتیب دے سکے۔
یہ تھے کچھ سرسری سے اصول جو انہوں نے دینے کی کوشش کی۔ لیکن عملی طور پہ وہ اسکے لئے کچھ نہ کر سکے۔
مجدد الف ثانی کے بر عکس وہ شیعوں کو کافر نہیں سمجھتے تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنی تحریروں سے سنی شیعہ اختلافات مٹانے کی کوشش کی اور اس موضوع پہ کئ سیر حاصل کتابیں لکھیں۔
چونکہ ہمارا موضوع اس وقت احیائے دین کی کوششیں نہیں ہے اس لئے ہم اس سلسلے میں اس سے صرف نظر کرتے ہیں۔
اپنی اس تمام تر روشن خیال کے باوجود شاہ ولی اللہ ہندوستان  کی دوسری غیر مسلم قوتوں کے لئے نرمی نہ پیدا کر سکے اور وہ کہتے ہیں کہ
تمام مسلمان شہریوں کو حکم دینا چاہئیے  کہ کافر اپنے تہوار کھلے عام نہ منا سکیں جیسے ہولی یا گنگا میں نہانا۔
اسی طرح انہوں نے یہ نظریہ اختیار کیا کہ ہندو ذمی نہیں کافر ہیں لہذا انہیں ذمیوں کے حقوق حاصل نہں ہونے چاہئیں اور انہیں ہر ممکن طریقے سے ذلیل کر کے رکھنا چاہئیے۔
اسی طرح وہ ثقافتی اثرات کو بھی قبول نہ کر سکے۔ ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں کہ
مسلمانوں کو خواہ وہ کسی ملک میں اپنی ابتدائ زندگی گذاریں۔ اپنی وضع قطع اور طرز بو د و باش میں اس ملک کے مقامی باشندوں سے قطعی جدا رہنا چاہئیے اور جہاں کہیں وہ رہیں اپنی عربی شان اور عربی رجحانات میں ڈوبے رہیں۔
شاہ ولی اللہ ، شاعر بھی تھے۔ انکی یہ شاعری فارسی میں ہے اس لئے میں اس میں سے کوئ انتخاب دینے سے قاصر ہوں۔
بہر حال اس تمام گفتگو سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس زمانے میں میسر علم اور اپنی دانش سے انہوں نے مسلمانوں کے اندر موجود خامیوں کو جانچنے اور انہیں دور کرنے میں خاصے تدبر سے کام لیا۔ اسی لئے کچھ لوگ انہیں حکیم الامت کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔

حوالہ جات؛

حریت فکر کے مجاہد، مصنف وارث میر، جنگ پبلشرز
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، انجمن ترقی اردو پاکستان
رود کوثر، مصنف شیخ محمد اکرام، ادارہ ء ثقافت اسلامیہ۔
المیہ تاریخ، مصنف ڈاکٹر مبارک علی

.

Friday, May 7, 2010

نئے افکار انکا حصول اور ترویج-۱۱

برصغیر کے مسلمانوں میں روشن فکری کی تحریک شاہ ولی اللہ سے شروع ہوئ۔ یہ خیال ہے وارث میر کا وہ اپنی کتاب حریت فکر کے مجاہد میں لکھتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ نے کسی سائینٹیفک اقتصادی فکر اور سوچ کی نہج تو تلاش نہ کی تھی لیکن اپنی کتاب حجۃ البالغہ میں مسلمانوں کے زوال پذیر معاشرے کی برائیوں اور قیصریت و کسرویت کے نتائج کے تجزئیے میِ وہ اپنے وقت سے بہت آگے تھے۔ اس سارے تجزئیے  پہ ہم بعد میں بات کریں گے۔ پہلے انکا ایک اہم کارنامہ دیکھتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ کی تحریک کا مخاطب خواص کے بجائے عوام تھے. چونکہ آپکا روئے سخن عوام کی طرف تھا اس لئے یہ ضروری تھآ کہ وہ قرآن کو اسکے صحیح معنوں میں جانیں۔ اسکے علاوہ اکبر کے دربار میں جب مسلمان علماء اور پرتیگیزیوں کے درمیان مباحثے ہوئے تو مشنریوں نے جو قرآن کا لاطینی ترجمہ پڑھے ہوئے تھے کلام مجید کے بعض حصوں پہ اعتراض کیا اس وقت پتہ چلا کہ مسلمانوں کو صحیح سے اسکے مضآمین سے واقفیت نہ تھی حتی کہ ایسا بھی ہوا کہ پادریوں کے کسی اعتراض پہ یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ تو قرآن میں ہے ہی نہیں اور جب قرآن کھولا جاتا تو اس میں اسکے حوالے نکلتے۔
شاہ ولی اللہ نے ان تمام چیزوں کے پیش نظر اسکا فارسی میں ترجمہ کیا جو کہ اس وقت رائج الوقت زبان تھی۔
علماء نے اسکا علم ہونے پہ تلواریں سونت لیں کہ یہ کلام پاک کی بے حرمتی ہے۔ بعض موءرخین نے یہاں تک لکھا کہ اسکی وجہ سے شاہ صاحب کی جان خطرے میں پڑ گئ۔ اور انہیں کچھ عرصَے کے لئے دہلی سے باہر جانا پڑآ۔ لیکن آہستہ آہستہ وہ یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ قرآن میں موجود حقائق کو زندگی کا دستور العمل بنانے کے لئے اسکا رائج الوقت زبانوں میں ترجمہ ضروری ہے۔
انہوں نے علم تفسیر پہ بھی کتابیں لکھیں اپنی ایک کتاب الفوز الکبیر فی اصول التفسیر میں وہ لکھتے ہیں کہ
عام مفسرین نے ہر ایک آیت کو خواہ مباحثہ کی ہو یا احکام کی ایک قصے کے ساتھ جوڑ دیا ہے اور اس قصے کو اس آیت کے لئے نزول کا سبب مانا ہے لیکن حق یہ ہے کہ نزول قرآنی سے مقصود اصلی نفوس بشریہ کی تہذیب اور انکے باطل عقاءید اور فاسد اعمال کی تردید ہے۔
فوز الکبیر کی دوسری خصوصیت شاہ صاحب کی انصاف پسندی اور اخلاقی جرءات ہے۔ مثلاً عام مسلمان زمانہ ء جاہلیت کے عربوں سے فقط برائیاں اور عیب ہی منسوب کرتے ہیں۔ لیکن انہوں نے انصاف کے اصول مدنظر تصویر کے دونوں پہلو پیش کئے ہیں۔
بعض مفسرین نے اہل کتاب سے قصے لیکر انہیں قرآنی تفاسیر اور علوم اسلامی کا جزو بنادیا ہے۔ اسکے خلاف انہوں نے آواز بلند کی۔ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ 
یہاں پہ یہ جان لینا مناسب ہے کہ حضرات انبیاء سابقین کے قصے احادیث میں کم مذکور ہیں اور انکے لمبے چوڑے تذکرے جن کے بیان کرنے کی تکلیف عام مفسرین کرتے ہیں وہ سب ال ماشاءاللہ علمائے اہل کتاب سے منقول ہیں
آگے کہتے ہیں کہ
اسرائیلی روایات کا نقل کرنا ایک ایسی بلا ہے جو ہمارے دین میں داخل ہو گئ ہے۔ حالانکہ صحیح اصول یہ ہے کہ انکی نہ تصدیق کرو نہ تکذیب۔
انہی وجوہات کی بناء پہ شاہ صاحب کی وصیت تھی کہ قرآن اور اسکا ترجمہ تفسیر کے بغیر ختم کرنا چاہئیے۔ اور پھر اسکے بعد تفسیر وہ بھی تفسیر جلالین بقدر درس پڑھائ جاوے۔
ایک اور اہم مسئلہ تقلید کا کا تھآ۔ تقلید جامد کے ماحول میں اجتہاد کے ماحول کو پیدا کرنا اور لوگوں کو مختلف ائمہ کے فہم کے علاوہ کسی بات کو قبول نہ کرنے کی فضا میں قرآن وسنت کی بالادستی کا علم بلند کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ ایک اہم سوال یہ تھا کہ جو مسلمان تقلید کا قائل ہے، فقہ کے چار مذاہب میں سے اسکے لئے کسی ایک کی تقلید لازمی ہے جسے لزوم مذہب معینہ کہتے ہیں یا وہ مختلف معاملات میں  مختلف مذاہب کی پیروی کر سکتا ہے۔ اس مسئلے پرعلماء میں بڑا اختلاف ہے۔ انکی تصانیف سے یوں لگتا ہے کہ وہ ایک عام آدمی کے لئے تو اسی لزوم مذہب معینہ کے ہی قائل ہیں لیکن مجتہدین اور آئمہ کے لئے اسے ضروری نہیں سمجھتے۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ شاہ صاحب کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا تھا۔ وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں 
اور علماء کو درست ہے کہ ہمارے آئمہ میں سے ایک کا قول کسی مصلحت وقت پر عمل کرنے کی وجہ سے اختیار کریں۔
اسی طرح انہوں نے اسی کتاب کے آخیر میں لکھا ہے  کہ
یعنی اگر انسان کسی مجتہد کے، جس کا اجتہاد جائز ہو۔ ایسے قول کی جستجو کرے جو اسکے نفس پہ سہل ہو تو ہم کو نہیں معلوم کہ شرع  نے اس عمل پر اسکی برائ کی ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ جو باتیں آپکی امت پر سہولت ہوں انہی کو دوست رکھتے تھے۔

وہ تقلید کو حد سے زیادہ بڑھانے کے بھی مخالف تھے۔ اور تقلید کی ایک قسم کو تو انہوں نے حرام لکھا جس میں دانستہ یا غیر دانستہ مقلد صریح احادیث پر بھی مفتیوں اور فقیہوں کے اقوال کو ترجیح دیتے ہیں
لکھتے ہیں،
اور تقلید حرام کی صورت یہ ہے کہ کسی فقیہ کو گمان کرے کہ وہ علم میں نہایت کو پہنچ گیا ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ وہ خطا کرے تو ایسے مقلد کو جب کوئ حدیث صحیح  اور صریح پہنچتی ہے کہ مخالف اس فقیہ کے قول کے ہو تو اسکے قول کو نہیں چھوڑتا۔

نوٹ؛ شاہ ولی اللہ پہ یہ تحریر جاری ہے۔

حوالہ جات؛
حریت فکر کے مجاہد، مصنف وارث میر، جنگ پبلشرز
اردو ادب کی تحریکیں، مصنف ڈاکٹر انور سدید، انجمن ترقی اردو پاکستان
رود کوثر، مصنف شیخ محمد اکرام، ادارہ ء ثقافت اسلامیہ۔
شاہ ولی اللہ، ایک تعارف