Showing posts with label فیس بک ی بندش، پاکستان، الطاف حسین، عواب علوی،جمشید دستی، انٹر نیٹ،face book banned in Pakistan. Show all posts
Showing posts with label فیس بک ی بندش، پاکستان، الطاف حسین، عواب علوی،جمشید دستی، انٹر نیٹ،face book banned in Pakistan. Show all posts

Monday, May 24, 2010

عام لوگ، خاص باتیں

عدالت کے مشورے پہ مستعفی ہونے والے جمشید دستی دوبارہ الیکشن میں  اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریباً پچپن ہزار عوامی ووٹوں سے جیت کر دوبارہ اسمبلی میں موجود ہیں۔ معلوم نہیں کہ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے کہ نہیں۔ لیکن میرا دل اس پہ بہت کڑھا۔ بہت سارے دیگر لوگوں کو بھی صدمہ ہوا اور انہوں نےبرملا اپنی تحریروں میں اسکا اظہار کیا۔  لیکن عوامی عدالت نے یہ فیصلہ مسترد کر دیا۔ اپنے ایک وکیل ساتھی سے مشورہ لوں کہ اپنے دل کڑھنے کا کیا کروں تو وہ یہی کہیں گے کہ عدالت سے دوبارہ رجوع کریں۔
لیکن میں  ایسا نہیں کر رہی ، اسکی بہت ساری ٹیکنیکل وجوہات ہں جنکا آپکو اندازہ ہوگا۔ اور اس طرح میں بھی  تماش بینوں میں شامل ہوں۔ میں ان تماش بینوں میں بھی شامل ہوں جو ایک بلاگر  کی کراچی پریس کلب میں شامت آتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ انہوں نے توہین عدالت کی اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں عدالتی فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئیے تھا۔
ہمارے ایک اور ساتھی نے اس امرپہ افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں لبرل مسلمان زیادہ ہو گئے ہیں۔ ابھی کل ہی میری سوفٹ ویئر ہائوس میں کام کرنے والے ایک شخص سے بات ہو رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے جو شخص ہمارے یہاں کلین شیو اور پینٹ شرٹ میں ملبوس آیا تھآ۔ آج وہ ایک بالشت کی داڑھی، سر پہ ٹوپی گھٹنوں سے نیچی جبہ نما قمیض اور ٹخنوں سے اوپر شلوار کے ساتھ موجود ہے۔ انکے بقول یہ صرف ایک شخص نہیں بلکہ میرے آفس میں اب ستر فی صد لوگ اس سے ملتے جلتے حلئیے میں ہیں جو نہیں ہیں وہ اندر سے ایسے ہی  ہیں جیسا کہ یہ اصحاب ظاہری طور پہ ہیں۔
انکے اس بیان سے تو لگتا ہے کہ یہ تائثر صحیح نہیں ہے کہ لبرل مسلمان بڑھ رہے ہیں۔ 
مزید انہوں نے کہا کہ لیکن اس ظاہری حلئے کی تبدیلی اور بعض موضوعات میں اپنے شدت پسند نطریات کے علاوہ ان میں وہ ہر برائ موجود ہے جو ایک نالائق، کم محنتی قوم کے افراد میں ہوتی ہے۔  ان میں جو صاحب نوے ہزار روپے ماہانہ لے رہے ہیں انہوں نے امریکہ میں مقیم ہمارے ایک پاکستانی مسلمان کلائینٹ کو جو پروجیکٹ تیار کر کے دیا ۔ اس میں کلائینٹ نے دو چار غلطیاں نکالیں ان صاحب نے دن بھر بیٹھ کر انہیں صحیح کیا اور شام کو اس کلائینٹ کو ای میل کیا کہ ہم نے اس پروجیکٹ کو اچھی طرح دیکھ لیا ہے اس میں ایسی کوئ غلطی نہیں ہے وہ اسے دوبار دیکھے۔ یہ ایک جھوٹ تھا انہوں نے اس غلطی کو درست کیا تھا لیکن سچ کا اعتماد دینے والے اس ظاہری حلئے سے قطع نظر انہوں نے بلا جواز جھوٹ بولا۔ انکے افسر مجاز ان تمام لوگوں کی ایسی غلطیوں اور نااہلیوں کے لئے ڈھال بنے رہتے ہیں کیونکہ انکے رحجانات ملتے جلے ہیں۔ اور نتیجے میں ہماری کمپنی  چھ سال  پہلے جو معیار رکھتی تھی اب اسکا پچاس فی صد بھی نہیں رہا ہے۔
میں ایک عام پاکستانی مسلمان انٹر نیٹ یوزر سے پوچھتی ہوں کسی مسلم ملک میں یہ پابندی نہیںلگائ گئ۔ آپکا کیا خیال ہے یہاں کیوں ہے۔ جواب ملتا ہے کسی اور مسلم ملک میں صدر زرداری نہیں ہے۔ میں ان سے کہتی ہوں کہ لیکن آپکا یہ بیان جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔ وہ فرماتے ہیں۔ بھاڑ میں جائے ایسی جمہوریت۔ لیکن میں اسکے بھاڑ میں جانے سے پہلے ہی اسکی راہ میں دیوار بن جاتی ہوں۔ اگر جمہوریت سے آپکو مطلوبہ نتائج نہیں مل رہے ہیں تو اسکا علاج ہے مور ڈیموکریسی، سمجھے آپ۔ مور ڈیموکریسی۔ دو جوتوں کی کمی تھی ورنہ اسکے بیچ میں مجھے سیج دیتے۔ مور ڈیمو کریسی۔
 ان لوگوں سے ہٹ کر اتوار کا اخبار اٹھاتی ہوں۔ ڈان، جنگ، ایکسپریس، کسی بھی اخبار میں کوئ ایسا ایسا نامی گرامی کالم نگار یاد نہیں آرہا جسکا اتوار کے اخبار میں اسکے متعلق کوئ مضمون ہو۔ حالانکہ اتوار کے اخبار میں کوئ مضمون آنا بڑا اہم ہوتا ہے۔ یہ سب شاید روشن خیال ہو چکے ہیں، یا یہ سب لبرل مسلمان ہو گئے ہیں۔ اور اصلی تے وڈے اور سُچے مسلمان صرف بلاگنگ اور خاص طور پہ اردو بلاگنگ کی دنیا میں نظر آتے ہیں جنہوں نے اپنے روائیتی طریقہ ء کار کو استعمال کرتے ہوئے جلدی سے روشن خیال ، لبرل اور قدامت پسند مسلمانوں کی صف بندی کر کے گنتی کر لی۔ سب پورے ہیں۔ خیر ہے۔ 
یہ اپنی جگہ ایک سوال ہے کہ کیوں ایسا ہوا کہ اس تمام چیز کے لئے جو ریلیاں منعقد کی گئیں ان میں سولہ ، سترہ کروڑ عوام میں سے، سولہ سو لوگ بھی موجود نہ تھے۔
ہمارے ایک ساتھی نے اپنی تحریر میں مصری علماء کا فتوی لگایا کہ فیس بک حرام ہے۔ کیونکہ اسکی وجہ سے میاں بیوی کے درمیان طلاقوں کی شرح میں ا ضافہ ہوا ہے۔
ایک اور فتوی انڈین دیو بندی مسلم علماء کی طرف سے جاری ہوا کہ وہ عورتیں جو ان آفسز میں کام کرتی ہیں جہاں مرد بھی ساتھ کام کرتے ہیں ان عورتوں کی کمائ حرام کی کمائ ہے۔ انہیں فی الفور اپنی ملازمتیں چھوڑ دینی چاہئیں۔ انڈیا وہ ملک ہے جہاں تیس فیصد سے بھی زیادہ عوام غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں۔ اور جہاں مسلمان اس وقت ایک اقلیت میں ہیں۔ اس اقلیت میں مسلمان عوام کی اکثریت جنکے بارے میں مجھے نہیں معلوم کہ وہ  نحوست مارے روشن خیال ہیں، لبرل ہیں یا قابل فخر قدامت پسند انہوں نے اس فتوی کے خلاف نکتہ چینی کی اور ان علماء کو یہ کہنا پڑا کہ یہ انہوں نے فتوی نہیں دیا بلکہ کسی کے پوچھنے پہ مشورہ دیا تھا۔
میرا خیال ہے کہ کسی مسئلے کا سامنا کرنے کے لئے محض ایسے فتاوی کو پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس سے آپ اپنے فتووں کی حیثیت خود ہی کم کر دیتے ہیں۔
میرے سوفٹ ویئر ہاءوس والے ساتھی کا کہنا ہے کہ انکے کولیگ نے جو آئ ٹی کے شعبے سے متعلق ہونے کی وجہ سے نوے ہزار ماہانہ کماتے ہیں کہا کہ فیس بک اور دیگر سائیٹس پہ پابندی اس کرپٹ حکومت کا وہ واحد فیصلہ ہے جو مسلم حکومت کا فیصلہ لگتا ہے اور یہ کہ ایک مسلمان کو ہر وقت اپنا دنیاوی فائدہ نہیں اس سے بڑھ کر بھی دیکھنا چاہئیے۔
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اگر اس بندش کے نتیجے میں کمپنی کو پہنچنے والے معاشی نقصان کو انکی تنخواہ میں سے کاٹ لیا جائے تو کیا وہ یہ قربانی دیں گے۔
 میں جواب دیتی ہوں ان سے پوچھیں۔ وہ حیران ہو کر کہتے ہیں ان سے پوچھوں۔ یہ توایسا ہی ہوگا کہ کسی چرچ میں دہریت کی تعلیم دینے لگوں، ہائیڈل پارک میں طالبان کو برا بھلا کہوں، نائن زیرو میں الطاف حسین کو برا کہوں۔ کیا آپ کو یاد نہیں کراچی پریس کلب میں عواب علوی کے ساتھ کیا ہوا؟
وہی جو ایک شہرت کی خواہش رکھنے  والا دوسرے شہرت کی خواہش رکھنے والے کے ساتھ کرتا ہے۔ جبکہ میدان شہرت ایک ہی ہو۔ کسی اور نے لقمہ دیا۔ یقین رکھیں وہ 'کوئ اور'  میں نہیں تھی۔
ہمارے ایک ساتھی کے خیال میں کتنے لوگ انٹر نیٹ استعنمال کرتے ہیں کہ اسکے بند ہونے سے جہالت پھیل جائے گی۔ میرا حسن ظن ہے کہ انہوں نے مذاقاً کہا ہے۔ جنکے مقدر میں جہالت لکھ دی گئ ہے انکے علاوہ پاکستان کی سولہ کروڑ کی آبادی میں پونے دو کروڑ لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ اگر آپ اس چیز کے حق میں ہیں کہ انٹر نیٹ کی تمام سائیٹس پہ پابندی لگا دی جائے تو آپ کتنے لوگوں کو جاہل بنانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ اسکا اب آپکو علم ہو گیا ہوگا۔  
اب ان ساری باتوں کا یہاں لکھنے کا مقصد ان سب چیزوں کا آموختہ نہ تھا بلکہ اپنے اصل موضوع کی طرف آنے سے پہلے یہ سب بیان کرنا ضروری تھا۔ آگے کی باتیں، آگے کی پوسٹ میں۔