امریکیوں نے آزاد بلوچستان کے لئے اپنی سینیٹ میں ایک قرارداد پاس کی۔ وجہ یہ ہے کہ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے وہ ہیں، سارے جہاں کا درد انکے جگر میں ہے۔ اسکی دوسری وجہ یہ ہے کہ جنگ ہو یا دوسرے ممالک کے حصے بخرے کرنے کا معاملہ یہ دونوں ہی مشغلے انہیں بھاتے ہیں۔ انکے جنگی بحری بیڑے سمندروں پہ حاضر رہتے ہیں اور انکے مقاصد میں آسانی پیدا کرنے والے صحافی اور سیاستداں اپنی زمینوں میں سرنگیں بنائے انکے منتظر۔
بی بی سی اردو سروس میں وسعت اللہ خان صاحب کا ایک مضمون بلوچستان کے متعلق پڑھ رہی تھی۔ جسے پڑھ کر مجھ جیسے پاکستانی کو لگتا ہے کہ یا تو باغی بلوچ سرداروں نے املا کرایا ہے یا پھر امریکی کانگریس مین نے اپنی قرارداد کے ساتھ اس قسم کے مضامین بھی نتھی کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ بلوچستان کے ساتھ سیاسی غلطیاں اور زیادتیاں ہوئ ہیں لیکن کیا ان سیاسی غلطیوں اور زیادتیوں میں وہ سردار شامل نہیں جو آج آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔
پچھلے چونسٹھ سال میں اگر حکومت پاکستان کی ملی بھگت سے بلوچستان میں سڑکوں کا جال نہیں بچھا، انگریزی میڈیم اسکول نہیں بنائے گئے، ہسپتال قائم نہیں ہوئے تو کیا پچھلے چونسٹھ سال میں مری، بگتی اور مینگل سردار اس جہد مسلسل میں اپنی جانیں گنواتے رہے کہ انکے ہم قوموں کو یہ زندگی کی سہولیات مل جائیں۔ یہ بات سوچتے ہوئے بھی ہمیں شرمندگی ہوتی ہے کہ آزاد بلوچستان کا نعرہ بلند کرنے والے یہ سردار آزادی صرف اپنے لئے چاہتے ہیں۔ اور اسکے لئے انہوں نے کیا امریکہ اور کیا لندن ہر جگہ ان لابیز سے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے جو انکے مقاصد تک انہیں پہنچا سکیں۔
یہ سب سردار ااور انکی نسلیں پاکستان ہی نہیں پاکستان سے باہر بھی عیاشی کرتی رہیں اور رونا اس بات کا رہا کہ بلوچستان کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی ہے۔ جس بلوچ کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے اس سے کیا مینگل، کیا بگتی اور کیا مری ان سب سرداروں میں سے کسے دلچسپی ہے؟
ان لوگوں کی دلچسپی اگر کسی چیز میں ہے تو وہ یہ کہ بلوچستان میں قدرتی دولت کے جو بھی ذخائر ہیں اسکی آمدنی ان میں اس طرح تقسیم ہو جائے کہ کسی اور کے حصے میں آنے نہ پائے۔ یہ 'کسی اور' جسے وہ اپنی قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں ہر وہ شخص ہوتا ہے جو بلوچ نہیں ہے۔ دوسری قومیتوں کا خوف پیدا کر کے اپنے خوفزدہ لوگوں کو کس چیز سے خوفزدہ کرتے ہیں۔ کیا ایک عام بلوچ کو اس بات سے ڈرنا چاہئیے کہ وہ اپنے سردار کی گولی کھا کر بے گناہ مرنے کے اعزاز سے محروم ہوگا اور فوج کی گولی سے مارا جائے گا۔ فوج کی گولی سے مرنا حرام موت اور سردار کی گولی سے مرنا رتبہ ء عالی ہے۔
اختر مینگل صاحب جو اس وقت کسی ترقی یافتہ ملک میں بیٹھے گلچھرے اڑا رہے ہونگے کیا انکے منصوبوں میں کبھی بلوچستان میں سڑک بنانے، اسکول بنانے اور ہسپتال بنانے کے منصوبے شامل رہے۔ کیا انکے مطالبات میں کبھی یہ چیز شامل رہی کہ انکے صوبے کے عوام کو یہ سہولیات دی جائیں۔ نواب بگتی کے پوتے براہمداغ بگتی فرماتے ہیں کہ آزاد بلوچستان ایک اٹل حقیقت ہے۔ ذرا وہی اپنے دادا کے بلوچوں پہ احسان گنوا دیں۔ کوئ ایک اسکول، کوئ ایک روڈ، کوئ ایک ہسپتال ، کوئ ایک عوامی فلاح کا کام جو ایڈوینچر کے شوقین انکے دادا نے بلوچوں کو عظیم قوم بنانے کے لئے انجام دیا۔ بخدا، مجھ جیسا ہر پاکستانی ان سے نا آشنا ہے۔ چلیں وسعت اللہ خان صاحب ہی بتا دیں کہ سرداروں نے اپنی قوم پہ جو احسانات کئے یا کرنے کی کوشش کی۔ جسکی بنیاد پہ آج بلوچ قوم کو انکے پیچھے کھڑے ہو کر آزاد بلوچستان کی جنگ لڑنی چاہئیے۔ جی وسعت اللہ خان صاحب، ہم سب ان کارہائے نمایاں کو جاننے کے لئے بے تاب ہیں۔
اس وقت بھی بلوچستان کی صورت حال کا نقشہ ایسا کھینچا جاتا ہے جیسا کہ بنگلہ دیش کا سقوط کے وقت تھا۔ حالانکہ بنگلہ دیش اور بلوچستان اور بنگلہ دیش میں ایک واضح فرق موجود ہے اور وہ یہ کہ بنگلہ دیش میں آزادی کے لئے عوامی شعور موجود تھا اور انہیں معلوم تھا کہ انہیں آزادی کے بعد کیا کرنا ہے۔ بلوچستان میں عوام اس بات سے واقف ہی نہیں کہ انسان شعور رکھتا ہے۔ انکی بڑی تعداد گٹکے اور چرس کے کے نشے میں گم ہے۔ یہی نہیں بنگالی ، بنگالی قومیت کا مضبوط تصور رکھتے تھے، انکی زبان اور ادب موجود تھا۔ بلوچستان میں بلوچ قومیت کا تصور ہی چند سرداروں تک محدود ہے جو کہ اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپنی مٹی یا اپنے لوگوں سے وفاداری کی جنگ انہیں کیا معلوم۔ بھلا کوئ کیڑے مکوڑوں کی خود مختاری کے لئے لڑتا ہے۔
دوسری ظالمانہ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ تو پشتون ہیں۔ پھر یہاں کی آبادی کا دوسرا بڑا حصہ ان قبائل سے تعلق رکھتا ہے جو لاسی کہلاتے ہیں اور اپنی بنیاد میں یہ سندھی بلوچ ہیں۔ اسکے بعد یہاں پنجابیوں کی باری آتی ہے جو کہ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ایک ایسے بلوچستان کو کس آزاد ملک میں تخلیق کیا جائے گا۔
اچھا ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ یہ خود غرض، ظالم سردار عوامی حمایت کے ساتھ آزاد بلوچستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. کیونکہ فوج نے ان کو آزادی سے محروم کر رکھا ہے۔ تو انکے آزاد ملک کا انتظام کون چلائے گا۔ وہ کیڑے مکوڑے تو نہیں چلا پائیں گے جو انہوں نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں اپنی غلامی کے کوکون میں محفوظ کر کے اپنی بادشاہت کی تسکین کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ پھر یقیناً یہ امریکی سینیٹرز یا لندن کے صحافی آکر ہی انکی مدد کریں گے۔ ایک دفعہ پھر قدرتی دولت میں انہیں ساجھے دار بنانا پڑے گا۔ تو اب کیا مسئلہ ہے؟
اچھا ہم یہ تصور کر لیتے ہیں کہ یہ خود غرض، ظالم سردار عوامی حمایت کے ساتھ آزاد بلوچستان حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے. کیونکہ فوج نے ان کو آزادی سے محروم کر رکھا ہے۔ تو انکے آزاد ملک کا انتظام کون چلائے گا۔ وہ کیڑے مکوڑے تو نہیں چلا پائیں گے جو انہوں نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں اپنی غلامی کے کوکون میں محفوظ کر کے اپنی بادشاہت کی تسکین کے لئے رکھے ہوئے ہیں۔ پھر یقیناً یہ امریکی سینیٹرز یا لندن کے صحافی آکر ہی انکی مدد کریں گے۔ ایک دفعہ پھر قدرتی دولت میں انہیں ساجھے دار بنانا پڑے گا۔ تو اب کیا مسئلہ ہے؟
مجھ جیسے پاکستانیوں کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ سردار اپنی رعایا پہ زندگی تنگ کر دے انہیں انسان تسلیم کرنے سے انکار کر دے، انکے خاندان کے خاندان ختم کر دے تو کوئ نکتہ ء اعتراض نہیں ابھرتا۔ کوئ اللہ کا بندہ نہیں کہتا کہ انسانی حقوق کی پاسداری کی جائے اور ان زمینی فرعونوں کے خلاف کارروائ کی جائے۔ لیکن جب سیاسی بساط پہ چالیں چلی جاتی ہیں , فوج یا حکومتی ایسے رد عمل پہ امریکی کانگریس مین قرار دادیں پاس کرتے ہیں تو کیا مینگل، کیا بگتی اور کیا وسعت اللہ خان سب ہی ایک آواز ہو جاتے ہیں۔
جس طرح پاکستانیوں کو کسی چیز سے نفرت دلانے کے لِئے ایک ہی نعرہ کافی ہے کہ یہ امریکیوں نے کیا ہے اسی طرح یوں معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان سے باہر ایک حلقہ صرف یہ نعرہ لگانے میں دلچسپی رکھتا ہے کہ یہ ظلم پاکستانی فوج کا کام ہے۔ کیا ان دو انتہائ صورتوں کے درمیان پاکستانی عوام کے لئے کوئ امید موجود ہے؟
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)