Showing posts with label پیپلز پارٹی. Show all posts
Showing posts with label پیپلز پارٹی. Show all posts

Tuesday, October 9, 2012

مفاد سے آگے

شادی کے کارڈز بانٹنا اور شاپنگ ، اس میں اتنی مصروف رہی کہ مجھے یاد ہی نہ رہا کہ آج آسٹریلیا اور پاکستان کا ٹی ٹوئنٹی میچ ہے۔ میں اپنی ساتھی خاتون کو نارتھ ناظم آباد چھوڑنے کے لئے جب فائیو اسٹار کے سگنل پہ پہنچی تو ٹریفک رکا ہوا تھا۔ رات کے سوا دس بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ شادیوں کی ٹریفک کا رش ہے۔ کیونکہ اس طرف درجنوں شادی ہالز ایک قطار میں موجود ہیں۔ لیکن سگنل کھل کے ہی نہ دے رہا تھا۔
 پندرہ منٹ بعد مجھے فضا میں پاکستان کے جھنڈَے لہراتے نظر آئے اور کچھ لڑکے ادھر ادھر بھاگتے دکھائ دئیے۔  تھوڑی دیر بعد ہماری گاڑی چوک پہ لڑکوں کے ایک ہجوم کے درمیان، دوسری گاڑیوں کے ساتھ پھنسی ہوئ تھی۔ لڑکوں کی تعداد یہی کوئ ایک ڈیڑھ ہزار ہوگی۔ آتشبازی ہو رہی تھی، لڑکے ہارن بجا رہے تھے۔ صاف لگ رہا تھا کہ انکے ذہن میں کوئ خاص پروگرام نہیں۔ بس ٹریفک کو روک کر انہیں مزہ آرہا تھا۔ اس اثناء میں ایک لڑکے نے عین گاڑی کے سامنے آکر پستول نکالا اور ہوائ فائرنگ شروع کر دی۔ آج بچ جائیں تو بڑی بات ہے۔ میں نے سوچا، اگر ذرا بھی اندازہ ہوتا تو اس طرف کا رخ نہ کرتے۔
چالیس منٹ کے اس ہنگامے میں پھنسے رہنے کے بعد نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ واپسی پہ میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایک چیز جس نے میری توجہ لی وہ یہ کہ نوجوانوں کے اس منتشر، چارجڈ لیکن بے مقصد ہجوم میں کسی بھی سیاسی جماعت کا جھنڈا نہیں تھا۔ صرف پاکستان کے تین چار جھنڈے نظر آئے۔ عجیب یوں لگی کہ اس سے پہلے نوجوان کوئ بھی موقع ہو ایم کیو ایم کا جھنڈا لانا فرض عین سمجھتے تھے۔
یہی نہیں اس سے دو دن بعد جب میں عزیز آباد کے قریبی علاقے میں گئ تو وہاں ایک پارک میں لوگوں کا ہجوم ایک بڑی سی اسکرین پہ میچ دیکھ رہا تھا۔ ہر تھوڑی دیر بعد ہجوم نعرے لگاتا اور جھنڈے لہراتا لیکن یہ جھنڈے صرف پاکستان کے جھنڈے تھے۔
کیا کوئ تصور کر سکتا ہے کہ کراچی میں ایسا ہو گا۔ ایسا کیوں ہوا؟
الیکشن ، مستقبل قریب میں متوقع ہیں۔ اس لئے اکثر لوگوں سے اس حوالے سے بات ہوتی ہے۔ کس جماعت کو ووٹ دینا چاہئیے اور کیوں؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ سب سیاستداں چور ہیں اس لئے ہم الیکشن والے دن بیلٹ پیپر پر مہر اس طرح لگائیں گے کہ وہ خراب ہو جائے اور کوئ ہماری جگہ جعلی ووٹ نہ ڈال سکے۔
میں نے پوچھا کہ اس سے کیا ہوگا؟ ووٹ کی گنتی ہوگی تو وہ امیدوار جیت جائے گا جسکے سب سے زیادہ ووٹ ہونگے چاہے اسے پانچ سو ووٹ ملیں۔
ایم کو ایم کو اس صورت حال کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟
 اس کی وجوہات اتنی واضح ہیں کہ  عقل و خرد سے عاری شخص بھی بتا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم کے حامی کو اب ایم کیو ایم اور دیگر سیاسی جماعتوں میں کوئ فرق نظر نہیں آتا۔  سب چور ہیں ، سب اپنی تجوریاں بھرنا چاہتے ہیں۔ ہر سیاسی جماعت پہ مفاد پرست طبقے کا قبضہ ہے۔ یہ مفاد پرستی، ذاتی مالی مفاد سے جڑی ہے۔  جب ایم کیو ایم کا نام آتا ہے تو بابر غوری جیسے نام آتے ہیں جو پارٹی میں شامل ہوئے تو کیا تھے اور آج انکی جائدادیں امریکہ میں موجود ہیں۔ 
یوں جاگیرداری اور معاشرے کے استحصال کے خلاف آواز اٹھانے والے خود جاگیر داری کے نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اسکی بنیادی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستان کی ہر دوسری سیاسی جماعت کی طرح، ایم کیو ایم نے بھی اپنے تھنک ٹینک یعنی حلقہ ء دانشوراں کو مضبوط کرنے کے بجائے شخصی سیاست کی راہ اپنا لی۔ یہ سیاست کا اگرچہ ایک آسان راستہ ہے لیکن بھونڈا راستہ ہے اور جمہوری روح سے دورہے۔ مفاد پرست طبقہ ایک شخصیت کو خوش کر کے فائدے اٹھاتا ہے۔ اس طرح سے جمہور کی آواز کہیں دور رہ جاتی ہے۔
تنظیم نے جس شخصیت کومرکزی شخصیت کے طور پہ چنا وہ اس ملک کی سرحدوں میں ایک طویل عرصے سے نہیں آیا۔ انہیں یہاں کے بارے میں جو بھی اطلاع ملتی ہے وہ کسی کے ذریعے سے ملتی ہے انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ مصطفی کمال کے بنائے ہوئے پلوں نے شہر کا نقشہ تبدیل کر کے کیا سے کیا کر دیا ہے۔ اڑتی خبریں ملتی ہیں کہ وہ خود ہوش و خرد سے عاری ہو چکے ہیں۔ اور در حقیقت اس وقت تنظیم کو پاکستانی ایجنسیز چلا رہی ہیں۔
اس وقت تنظیم کو لائق اور عالم افراد کے قحط کا سامنا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت میں ایسے لوگوں کی شمولیت کو دیکھا جانا چاہئیے جو کہ زندگی کے مختلف میدانوں مِن مہارت رکھتے ہوں تاکہ ہمیں امید ہو کہ افراد کا یہ مجموعہ ہمارے مسائل سے کیسے نبرد آزما ہوگا۔  زیادہ تر افراد جو تنظیم کی سیکولر پالیسی کی وجہ سے اس سے بہتر امیدیں رکھتے تھے اب اس سے دور ہو چکے ہیں۔ اس طرح سے ایم کیو ایم بحیثیئت ایک سیاسی جماعت کراچی کے نوجوانوں کو کوئ مثبت امید ، راستہ اور سرگرمی دینے میں آہستہ آہستہ ناکام ہو رہی ہے۔ اور اسکی یہ ناکامی، نوجوانوں کو دوسری انتہا کی طرف لے جارہی ہے جو کہ مذہبی انتہا پرستی ہے۔
تنظیم کو اس حقیقت کو تسلیم کرکے مثبت سمت میں کام کرنا چاہئیے۔ انہیں اب اس چیز کو بھی تسلیم کرنا چاہئیے کہ محض پیپلز پارٹی سے اچھے تعلقات استوار کر کے یا صدر زرداری کو خوش رکھ کر یہ ممکن ہے کہ وہ آئیندہ الیکشن میں اسمبلی کے اندر اپنا وجود قائم رکھنے میں کامیاب ہو جائیں، ممکن ہے انہیں مالی مفادات مل جائیں لیکن اس سے وہ عوامی سطح پہ اپنی حیثیئت کم کرتے جا رہے ہیں۔
مجھے اپنے سیاستدانوں کی اس کوتاہ اندیشی پہ حیرت ہوتی ہے کہ وہ محض اپنے مالی مفاد کو محفوظ کرتے ہوئے اپنے  زیادہ فائدہ مند مستقبل کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر وہ اپنے مالی مفاد میں تھوڑی سی کمی لے آئیں اور اسے عوامی فلاح پہ خرچ کریں تو وہ ایک لمبی مدت تک عوامی پذیرائ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں اور زیادہ کما سکتے ہیں۔
بہر حال، باقی سب سے قطع نظر ایم کیو ایم کو یہ سمجھ لینا چاہئیے کہ ایسے ملک میں جہاں سیاست پہ جاگیردار کا سب سے بڑا حق ہے اور جہاں یہ جاگیردار، ملک کی مضبوط طاقت یعنی فوج سے بھی مضبوط روابط رکھتا ہے۔ وہاں وہ اپنی بقاء کی جنگ عوام کی حمایت کے بغیر نہیں لڑ سکتی۔ لیاری امن کمیٹی، اسکا سب سے بڑا ثبوت ہے۔  جو منظر پہ اچانک ابھری اور اب کراچی کے امن و امان میں اپنا حصہ رکھتی ہے یعنی جب چاہے اس شہر کا امن ہلا سکتی ہے حالانکہ اسکا اثر لیاری سے آگے نہیں۔ 
سو انہیں عوام کے لئے کام کرنا پڑے گا، انہیں ترجیح دینی ہوگی اور تنظیم کو مفاد پرست طبقے سے ہی نہیں شخصی سیاست سے بھی باہر نکالنا ہوگا۔ انہیں دلجمعی سے ایک حلقہ ء دانشوراں قائم کرنا ہوگا جسے سوچ وبچار کی آزادی دینی ہوگی۔ لیکن  اگر وہ ریاستی قوتوں سے ہڈی لے کر اس سے خوش ہیں تو یاد رکھیں کہ کل وہ باہر ہونگے جبکہ دیگر طاقتیں اسی طرح کھیل میں شامل رہیں گی جیسے وہ پچھلے تریسٹھ سال سے ہیں۔

 

Monday, July 11, 2011

زمین اور زبان

جو ستارے ہم دیکھتے ہیں وہ لاکھوں برس پہلے ختم ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں وہاں ایک تارہ دمک رہا ہے مگر حقیقتاً وہاں اس وقت شاید اسکی راکھ ہوتی ہے جو نئ کائیناتوں کی تشکیل میں حصہ لینے کو تیار ہوتی ہے۔  ہر عروج اپنے زوال سے دو چار ہوتا ہے ۔ مگر ایسی بھی اشیاء ہیں جو بغیر کسی عروج کو دیکھے زوال کی نظر ہو جاتے ہیں۔ پاکستان ان میں سے ایک ہے۔ کوئ دن جاتا ہے کہ ہم اس طرح کی خبریں سنیں گے۔
پاکستان میں عدالتی نظام ختم کر کے جرگہ نظام قائم کر دیا گیا۔ یہ زیادہ موئثر اور پاکستانیوں کے قومی مزاج سے زیادہ قریب ہے۔ اس میں ہر مسئلے کا حل خواتین کی لین دین یا انکی لباسی اور بے لباسی سے بآسانی  نکالا جا سکتا ہے۔ جیل وغیرہ کا خرچہ بچے گا۔ عدالتی کارروائیوں اور انتظام پہ جو خرچہ آتا ہے وہ الگ ختم ہو گا۔
پاکستان میں جدید تہذیب کے اسکولوں کو ختم کر کے مدرسوں کا نظام ترتیب دیا جا رہا ہے۔ اس سے زیادہ بہتر اور با اخلاق انسان وجود میں آئیں گے۔ جو معاشرے کی بنیادیں ہلانے سے پرہیز کریں گے۔ مدرسے برین واشنگ کی تیکنیک سے زیادہ بہتر طور پہ واقف ہیں۔
پاکستان میں جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتالوں کو ختم کر کے ہزاروں سال پرانے حکمت خانے کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔ انکی دواءووں کے اجزاء مقامی درختوں یا جانوروں سے حاصل کئے جائیں گے اور یوں مغرب کی دواءووں کی حکمرانی ختم ہوگی۔ کیا ہوا اگر شرح اموات بڑھ جائیں گی۔ مرنے والوں کی موت اسی طرح لکھی ہوگی۔ ان حکمت خانوں میں بنیادی طور پہ مردوں کی قوت بڑھانے پہ توجہ دی جائے گی۔ 
پاکستان میں جدید ٹرانسپورٹ کی سہولتیں ختم کی جارہی ہیں۔ سوائے صدر مملکت اور وزیر اعظم کے کسی کو باہر کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ بیرون ملک لوگوں سے میل جول پاکستانی معاشرے کے لئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ اپنے گھر سے دس میل دور سفر کے لئے حکومت سے خصوصی اجازت نامہ لینا ہوگا۔ جس میں اس سفر کی وجوہات بیان کی جائیں گی۔ اگر وہ قابل قبول ہوئیں تو اجازت ملے گی۔ اس طرح سے پیٹرول وغیرہ کی بچت ہوگی اور ہم پیٹرول میں زیادہ خود کفیل ہونگے۔ جو ہمارے حکمرانوں کے کام آئے گا۔ تاکہ وہ مکمل ذہنی عیاشی کے ساتھ حکومت کر سکیں۔
پاکستان میں زراعت اور چند بنیادی صنعتوں کے بعد باقی سب کی چھٹی کی جارہی ہے۔ وہ بنیادی صنعتیں کون سی ہونگیں اسکا انحصار اس بات پہ ہوگا کہ ہمارے صدر، وزیر اعظم اور حکومت کے اہم اراکین کن کن صنعتوں کے مالک ہیں۔
یہ سارے خیالات پڑھنے میں کچھ عجیب و غریب لگیں گے۔ لیکن اگر آپ ایسے پاکستانی ہیں جو ابھی تازہ تازہ کسی ترقی یافتہ ملک میں وارد ہیں ۔ اور اپنی آمد کے بعد پاکستان سے جو خبریں وصول کرتا ہے اس میں شہر کراچی میں تین چار  دنوں کے اندر سو سے زائد افراد کی ایک گروہ سے دوسرے گروہ پہ دستی بموں اور راکٹ لانچر سے ہلاکت کی خبریں سنتا ہے۔ پھر سنتا ہے کہ کراچی میں کمشنری نطام بحال کر دیا گیا ہے۔ وہ کمشنری نظام جسے تخلیق کرنے والے ممالک نے اسے اپنے ملک سے نکال باہر کیا۔ وہ اسے انتظامی معاملات چلانے کے لئے مناسب نہیں سمجھتے۔ 
پھر سنتا ہے کہ حکومت کے وڈے بد معاشوں میں سے ایک بدمعاش یعنی ذوالفقار مرزا اس قتل و غارت گری کے منصوبے میں شامل رہے۔ یہ وہی صاحب ہیں جن پہ اس سے پہلے بھی شہر کے غنڈوں ، اسمگلرز اور مافیا کے دیگر عناصر سے اس شہر کے سکون کو تہہ و بالا کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ اور صدر زرداری نے اس وقت تناءو کو کم کرنے کے لئے مرزا صاحب کو کچھ وقت کے لئے انڈر گراءونڈ ہونے کا مشورہ دے کر حالات کو اپنے قابو میں کیا۔ اور پھر دوبارہ اپنے شیطانی کارندے کو آزادی دے دی۔ 
 میں ایسا کیوں سوچتی ہوں ؟
اسکی وجہ شاید جینیٹک ہے۔ میرے والدین نے اس پاکستان کی زمین سے جنم نہیں لیا۔ میں  اس زمین سے صرف پیدائشی تعلق رکھتی ہوں۔  میں تعریف کے لحاظ سے وہ مہاجر ہوں، جسکی تہذیب میں لڑائ جحگڑوں میں اسلحے کا استعمال شرفاء کا دستور نہیں۔ میرے یہاں مردوں کے کئے کی سزا میں نہ عوتوں کو ونی کیا جاتا ہے نہ کاروکاری ہوتی ہے نہ ان کی شادی قرآن سے ہوتی ہے، نہ انہیں ذہنی لحاظ سے بنجر سمجھا جاتا ہے۔  
میری تہذیب میں جھگڑوں اور تنازعوں کے فیصلے جرگے میں نہیں ہوتے۔ میرے آباء کسی اور نسل سے نفرت میں اتنے نہیں بڑھے کے ان پہ راکٹ لانچر سے حملے کرتے ہوں اور انکے گھر جلا دیتے ہوں۔ یاد رہے کہ میں انیس سو چھیاسی میں اسی طرح کے واقعات دیکھ چکی ہوں جو آج دو ہزار گیارہ میں دوہرائے گئے۔
سو مجھے ان تمام چیزوں سے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ اور جب میں اپنی تکلیف کا اظہار کرتی ہوں تو دیگر لوگوں کو اس اظہار سے بڑی تکلیف ہوتی ہے۔
انکے اور میرے درمیان  ایک بڑا فرق ہے اور وہ یہ کہ میں اور وہ تہذیباً دو مختلف ثقافتوں کے نمائندے ہیں۔ وہ قبائلی نظام اور سوچ و فکر کے پروردہ ہیں اور میں  ترقی پسند سوچ کی پروردہ ۔
جب آپ یہ خبر سنتے ہیں کہ کراچی میں ایک گروہ نے دوسرے گروہ پہ دستی بموں اور راکٹ لانچر سے حملہ کر دیا۔ پھر سنتے ہیں کہ کراچی میں کمشنری نظام بحال کر دیا گیا، پھر سنتے ہیں کہ سندھ میں فنکشنل لیگ اور پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی چھوڑی ہوئ وزارتوں پہ بندر بانٹ کر رہی ہیں۔ یہ دونوں پارٹیز بنیادی طور پہ سندھی لسانی گروہ کی نمائیندگی کرتے ہیں۔ پھر سنتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور اے این پی نے مفاہمت کی سیاست پہ اتفاق کیا ہے یعنی کراچی میں پیپلز پارٹی خود تو جو کچھ کرے گی وہ کرے گی اے این پی کو بھی کھلی چھوٹ دے گی اس طرح  کراچی کی سب سے بڑی لسانی آبادی کا دماغ درست رکھا جائے۔ اے این پی، پشتون لسانی گروہ کی نمائیندگی کرتی ہے۔ پھر اسکے بعد لازماً ایم کیو ایم کے اندر موجود عناصر بھی انتقامی کارروائ کریں گے۔ یہ وہی ایم کیو ایم ہے جو کراچی میں لسانی عصبیتوں کی حکمرانی کی وجہ سے وجود میں آئ۔
تو اسکے بعد آپ کچھ بھی سوچیں، میں یہ سوچتی ہوں کہ پاکستان کے لئے سب سے مناسب نظام قبائلی نظام ہے۔ یہ یہاں کی اکثریت کا قومی مزاج ہے۔ اور جو لوگ اس نظام سے مطابقت میں مشکل محسوس کرتے ہیں انہیں پاکستان چھوڑ کر کسی اور ملک کی شہریت اختیار کرنی چاہئیے۔ لیکن اپنی بَک بَک سے باز رہنا چاہئیے۔ 
یا خدا، کیا میں ایسا کر سکتی ہوں؟ کیا میں اس زمین سے اتنی لا تعلق رہ سکتی ہوں جس میں میرا جنم ہوا؟ 

Wednesday, April 13, 2011

الم نشرح

ایم کیو ایم  کے پنجاب میں جلسہ کرنے کے بارے میں مختلف قیاسات جاری تھے۔ میں اتوار بازار میں سبزی لے رہی تھی جب دو دوکانداروں کو جوش و خروش سے اس پہ  بات کرتے سنا کہ آج دیکھو پنجاب میں کیا ہوتا ہے۔ دماغ پہ زور ڈالا ، پنجاب میں ایسا کیا ہونے جا رہا ہے جس سے کراچی کے سبزی فروشوں کو دلچسپی ہو۔
جلسہ ہو گیا۔ اس بارے میں بھی مختلف خیالات ہیں۔ کچھ کے نزدیک ناکام تھا اور کچھ اسے کامیاب کہتے ہیں۔ ناکام کہنے والوں کے نزدیک اس میں لوگوں کی تعداد اتنی نہ تھی اور کامیاب کہنے والوں کے نزدیک اس جلسے سے ایم کیو ایم نے اپنی آواز تو پنجاب تک پہنچا دی ہے اور دوسرا یہ کہ ایک ایسے وقت میں جبکہ ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں اپنے علاقوں میں محدود ہوتی جارہی ہیں اور وفاق کی ترجمانی کرنے کے بجائے لسانی طبقوں کی نمائمندگی کرتی ہوئ نظر آتی ہیں۔ یہ ایک مثبت قدم ہے کہ ایم کیو ایم اپنی جنم بھومی سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بھی قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے دلچسپ امر یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے دوسری سیاسی جماعتوں کے بر عکس  لسانی سیاست سے آغاز کیا تھا۔
میں اس جلسے کی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کچھ کہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی میں ایم کیو ایم کی اس حالیہ سرگرمی میں کوئ خاص دلچسپی رکھتی ہوں ۔ لیکن بحیثیت ایک  پاکستانی میں یہ ضرور جاننا چاہتی ہوں کہ ایم کیو ایم نے اپنے اس جلسے میں ایسی کون سی کشش  اپنے نئے متوقع ووٹروں کے لئے رکھی ہے جس سے وہ اپنے پرانے نظام کے پرانے گھاگ اور لسانی طور پہ قریب رہ نماءووں کو چھوڑ کر انکے پیچھے ہو لیں۔
سیاسی پارٹیاں ایسی کشش اپنے منشور کے ذریعے پیش کرتی ہیں۔
 پارٹی مینیفیسٹو یا منشور ایک بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جس کی بد قسمتی سے ہمارے یہاں کوئ شناخت نہیں۔ ہماری سیاست، پارٹی منشور کے گرد گھومنے کے بجائے شخصیات کے گرد گھومتی ہے۔ سیاست کی اس طرز کی بناء پہ ہم جمہوریت کی اصل روح سے اب تک دور ہیں اور اس چلن پہ ہمیشہ دور رہیں گے۔
عوام کے ذہن کو چند رہ نماءووں کی شخصیت کا اسیر بنا لیا جاتا ہے اور اسکے بعد عوام کے  لئے ہر دروازہ بند اور رہنماءووں کے لئے ہر دروازہ کھلتا جاتا ہے۔
پاکستانی سیاست میں یہ چلن شاید ذوالفقار علی بھٹو کی 'شہادت' کے بعد زیادہ واضح طور پہ شروع ہوا۔ اس سے پہلے تحریک پاکستان میں قائد اعظم کی شخصیت  مرکز بنی رہی۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے پاس واضح طور پہ ایک منصوبہ موجود نہ تھا کہ نئ مملکت کس طرح کام کرے گی۔ قائد اعظم موجود تھے۔  نئ مملکت کے قیام کے تقریباً تیرہ ماہ بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور اسکے ساتھ ہی ہمارا شیرازہ بکھرگیا۔
آج کے پاکستان میں ہم اس بات سے واقف نہیں کہ مختلف پارٹیز کے منشور کیا ہیں۔ لیکن ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اس پارٹی کا کون سا شخص وہ طوطا ہے جس میں پارٹی کی جان ہے۔
یہ پیپلز پارٹی ہے۔ اسکے سربراہ زرداری ہیں جو سب پہ بھاری ہیں۔ انکا پلہ بھاری ہے کیونکہ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے جسکا فیصلہ ہم آسانی سے نہیں کر سکتے انکے پچھلے تمام بڑے رہنما شہید ہو چکے ہیں۔ ان شہید رہنماءووں کے مزار پہ نئ سیاسی امنگیں رکھنے والے آشیرباد کے لئے حاضریاں دیتے ہیں۔ عوام اپنے ازلی مسائل کے حل کے لئے ان مزاروں پہ حاضر ہوتے ہیں شاید انہیں یاد دلاتے ہیں کہ کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ میرا اندازہ تو کہتا ہے کہ مردہ لوگ اپنے جسم کے ساتھ اپنی یادداشت بھی بھلا دیتے ہیں۔ لیکن اس بات کے لئے میرے پاس  کوئ ثبوت نہیں۔ وہ شاید یہ بھی یاد دلانا چاہتے ہیں کہ  جو مسائل اپنی زندگی میں حل نہیں کر سکے اسکے لئے اب آپکے پاس وقت ہوگا اب ذرا کوشش کر لیں۔ اس سے بہرحال ایک بات ثابت ہوتی ہے، عوام موت کے بعد کی زندگی پہ یقین رکھتے ہیں جبکہ رہ نما نہیں رکھتے۔
یہ مسلم لیگ ہے، اسکے اتنے ٹکڑے ہیں اوریہاں، وہاں، جہاں، تہاں گرے ہوئے ہیں کہ انہیں بھی شخصیات کی وجہ سے پہچانا جاسکتا ہے منشور کی وجہ سے نہیں۔ یہ مسلم لیگ نون ہے اسے پہلے ابا جی چلایا کرتے تھے آجکل سعودی حکومت کے تعاون سے چل رہی ہے۔ خوف خدا کوٹ کوٹ کر بھر دیا گیا ہے اس لئے پنجاب کی مڈل کلاس جو کہ مذہبی رجحان زیادہ رکھتی ہے انکی طرف مائل ہے۔ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماعات کی برکت سے یہ جماعت اب تک پاکستان میں جمہوریت کا عمل سازگار رکھنے کی کوششوں میں سرگرداں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار بحسن و خوبی ادا کر رہی ہے یہ جماعت  اپنے دو شریف بھائیوں کے اتحاد کا اعلی نمونہ پیش کرتی ہے۔ اس لئے ان سے امیدیں لگانے میں اتحاد پاکستان کی امید نظر آتی  ہے۔
یہ مسلم لیگ قاف ہے۔ پہلے اسے مشرف کی جماعت سمجھا جاتا تھا۔ پھر مشرف کو اڑنگا لگا کر گرانے والی جماعت سمجھا گیا، پھرقاتل لیگ کے نام سے مشہور ہوئ۔ آجکل نہ تین میں ہے نہ تیرہ میں۔ اسکی پہچان الہی خاندان کے دو سپوت ہیں۔ مشاہد حسین صاحب نے بڑی کوشش کی کہ انکا نام بھی ہوجائے، لیکن انکی گوری رنگت اور اچھے خاصے نین نقش کے باوجود دلہن وہی جو پیا من بھائے۔ ہر کسی کو خدا ایسی سحر انگیز شخصیت نہیں دیتا کہ لوگوں کا دماغ ماءوف ہو جائے۔ یہ امتحان بھی کسی کسی کا ہوتا ہے۔
یہ مسلم لیگ فنکشنل ہے، اسکے اس نام کی وجہ شاید پیر پگارا صاحب کی ذات ہے۔ اسّی سال کی عمر میں انکے سب سے چھوٹے جڑواں بچوں کی عمریں شاید پانچ چھ سال ہیں اس لئے اس کا نام فنکشنل رکھا گیا ہے۔ اپنے مریدوں کو جب زیارت کا موقع دیتے ہیں تو دیدار کا ٹیکس لیتے ہیں۔ مرید تحفوں سے لدے پھدے آتے ہیں اور دعاءووں سے سر سبز جاتے ہیں۔ اپنے بنیادی مسائل کو وہ پیر صاحب کی کرامت سے خدا کا لکھا سمجھ کر آسانی سے جھیل جاتے ہیں۔ جبکہ پیر صاحب نئے تعلقات استوار کرتے ہیں۔ مرید پیج پگارا کے نعرے لگاتے ہیں۔
یہ اے این پی ہے۔ کسی زمانے میں بائیں بازو کی سیاست کرنے والوں میں شامل تھی آج اسمگلرز اور مافیا کے مفاد کی نگرانی کرتی ہے۔  انکے پاس باچہ خان کی یادوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔ سب اسمگلرز اور مافیا سمیٹ لے گئے۔ افسوس، باچہ خان شہید نہ ہوئے۔ اب انکی تصویر کسی رقّت آمیز نعرے کے بغیر استعمال ہوتی ہے۔
یہ تحریک انصاف ہے، سنا ہے کہ پنجاب کے نوجوانوں میں مقبول ہونے والی جماعت ہے۔ اگرچہ کہ اسکے لیڈر پنجاب یونیورسٹی میں پنجاب کے نوجوانوں کے ہاتھوں دھوکے سے پٹ گئے۔ لیکن  پھر بھی اپنی والدہ کی یاد میں بنائے جانے والے ہسپتال کو کامیابی سے چلانے اور کرکٹ میں پاکستان کو ایک دفعہ ورلڈ کپ دلانے کے احسان میں ان سے یہ مضبوط امید کی جاتی ہے کہ وہ پاکستان کی سیاست کا بھی نقشہ بدل دیں گے۔ انکا منشور تو دور انکی جماعت کے کسی اور عہدے دار سے بھی ہم واقف نہیں۔ عمران خان کی سحر انگیز شخصیت نے کسی اور کو سامنے آنے کا موقع ہی نہیں دیا۔
یہ ایم کیو ایم ہے، کراچی میں مڈل کلاس کی نمائیندہ جماعت۔ یہ پہلے مہاجر قومی مومنٹ تھی۔ اسکے وجود میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ اس مملکت خداداد  کے جتنے بھی فرزند زمین تھے وہ وقتاً فوقتاً اپنی اپنی باری پہ یہ کہہ چکے تھے اور کہتے ہیں  کہ یہ ہم تھے جنہوں نے ان مہاجروں کو پاکستان میں جگہ دی، پناہ دی، احسان کیا۔ ان سب کو یہ یاد دلانے کے لئے کہ پاکستان اپنے وجود میں آنے سے پہلے ہندوستان تھا۔ اور اسے پاکستان بنانے کے لئے ایک لمبی جنگ لڑی گئ۔ ان علاقوں میں جہاں پاکستان نہیں بنا۔ تو اس بھولی بسری یادداشت کا ایک حصہ اس جماعت کی شکل میں آگیا۔  جب اسلحے، دنگے فساد اور طاقت میں یہ جماعت پاکستان کے دیگر فرزند زمین کے برابر آ گئ تو اب یہ چکر شروع ہوا کہ یہ تو لسانی جماعت ہے اور ہم تو سیاست کے ڈگری ہولڈرز۔  ایک دفعہ پھر اس جماعت کے مہاجروں نے قربانی دی اور اسکا نام متحدہ رکھنے پہ متحد ہو گئے۔ مسئلہ اب بھی حل نہیں ہوا۔ فریقین کے درمیان اب جھگڑا اس بات کا اٹھ کھڑا ہوا کہ نشانہ کس کا اچھا ہے۔ استاد کا یا شاگرد کا۔
اس جماعت کے اس نعرے سے مجھے بالکل تکلیف نہیں ہوتی کہ جفا کروگے، جفا کریں گے، وفا کروگے، وفا کریں گے، ہم آدمی ہیں تمہارے جیسے جو تم کروگے وہ ہم کریں گے۔ کیونکہ سماجی سائینسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ انسان سماجی جانور ہے۔  لیکن جب میں یہ نعرہ دیکھتی ہوں کہ ہم کو منزل نہیں رہنما چاہئیے۔ تو پھر یہ کہنے کو دل چاہتا ہے کہ اتنے وزن  کا نہیں چاہئیے۔ بات میں وزن ہونا چاہئیے، لیڈر میں نہیں۔ دوسرے یہ کہ جب تقریر کرے تو یہ فرق واضح ہونا چاہئیے کہ کوئ شیعہ ذاکر وعظ کر رہا ہے یا پاکستان میں انقلاب کی بات ہورہی ہے۔ تقریر کے درمیان دو جملوں میں اتنا لمبا وقفہ ہوتا ہے کہ لوگ کہتے ہیں قدرتی ضرورت سے فارغ ہونے گئے تھے۔ مجھے امید ہونے لگتی ہے اگلے جملے تک انقلاب برپا ہو چکا ہوگا۔ اس لئے فوراً رفو چکر ہو جاتی ہوں۔ ہمیشہ اگلے دن کے اخبار سے تقریر کا متن پتہ چلتا ہے۔  یوں دستک انقلاب، صرف الطاف پہ میں راضی نہیں۔ خیر،  آجکل انہیں بھی نعرہ انقلاب لگانے سے فرصت نہیں۔ انقلاب کیسے آئے گا اسکی کیا ترجیحات ہونگیں ، اس سے ہم لا علم ہیں۔
اچھا، یہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں ہیں، ان کی خوشش قسمتی یہ ہے کہ انہیں منشور بنانے کی قطعاً کوئ ضرورت نہیں انکا منشور صرف اسلام ہے۔ بجلی کی کمی ہو، تعلیم کا بحران ہو، بے روزگاری ہو،، عوام کے لئے کسی صحت پالیسی کی عدم موجودگی، فضائ آلودگی، سیلاب و زلزلہ، پاکستانی خواتین کی بڑھتی ہوئ فحاشی، پاکستانی مردوں کا لمحہ ء فکر و پریشانی،    پاکستانی خواتین کا کاروکاری میں مرنا ہو  یا ایک بڑی تعداد کا چھاتی کے کینسر سے مرنا ہر مسئلے کا ایک جواب۔ الحمد للہ ہم نے ماضی میں بھی، ماشاللہ سے حال میں بھی اور انشاءاللہ مستقبل میں بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے، کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے کہ صرف اسلام ہمارے تمام مسائل کا حل ہے۔ الحمد للہ، غیرت مند مسلمان ہمارے ساتھ ہیں۔
خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے وطن عزیز میں صرف طالبان ایسے ہیں جن کے منشور سے ہمیں آگہی حاصل ہے یعنی ہم تو دھماکے سے مر جائیں گے صنم تجھ کو بھی نہ چھوڑیں گے۔ یہ وہ ہیں جس پہ مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔ انکی اس ادا پہ ایک طبقہ نثار ہے۔ لیکن ایک دفعہ پھر خوش قسمتی سے یا بد قسمتی سے طالبان اس سیاسی عمل پہ یقین نہیں رکھتے جسکے لئے منشور کی ضرورت پڑے۔
یہ سب باتیں آپکو پہلے سے پتہ ہونگیں۔ اپنے اپنے رجحان کے باعث کچھ کم ، کچھ زیادہ۔ لیکن اس مختصر جائزے کے بعد یہ اندازہ لگانے میں مشکل نہیں ہوتی کہ پاکستانی عوام کے بھولپن کی وجہ سے شخصیات کا تسلط قائم ہے اور اس طرح وہ چیز جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئ سیاسی پارٹی عوام کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لئے کیا اسٹرٹجی اپنانا چاہتی ہے اسکی طرف جانے سے ان پارٹیز کی بچت ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی آج خیال آیا کہ کہ پارٹیز تو منشور بتانے سے قاصر ہیں کیوں نہ ہم عوام ہی ایک منشور ترتیب دے ڈالیں اور انکے حضور پیش کریں کہ جناب سوئیمبر رچانے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ ہمیں کیا چاہئیے۔ اس لئے شروع کرتے ہیں خدا کے با برکت نام سے۔  ایک دو تین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Friday, March 11, 2011

ایک سونامی چاہئیے

اطلاع  ملی کہ جاپان میں شدید زلزلے کے ساتھ سونامی آگئ۔  نیوکلیئر پاور پلانٹ سمیت متعدد مقامات شدید نقصان سے دوچار۔ پاکستان میں کچھ لوگ کف افسوس مل رہے ہونگے کہ یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ یہ سب کچھ ہمارے یہاں ہوتا۔  قدرتی آفات کے نام پہ ہمارے یہاں کچھ لوگوں کی رال ٹپکنے لگ جاتی ہے۔ امداد جو ملتی ہے۔
خیر، اس وقت تو میں یہ خبر پڑھ کر سر دھن رہی ہوں کہ  وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا آج سب سندھ اسمبلی میں داخل ہوئے تو ان کا ڈیسکیں بجا کر گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔  اسکی وجہ یہ نہ تھی کہ انہوں نے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کے لئَ کوئ موءثر قدم اٹھا ڈالا تھا، یہ انکا سر درد نہیں۔ اسکی وجہ یہ بھی نہیں تھی کہ وہ موجودہ عہد حکومت کے دوران ہونے والے کراچی میں سنگین واقعات مثلاً پچھلے سال محرم میں ہونے والی دہشت گردی اور لوٹ مار،  کے مجرمین کو وصل جہنم کر آئے تھے اور نہ ہی اسکی وجہ یہ تھی کہ وہ بحیثیت وزیر داخلہ سندھ میں جرائم کی سرکوبی کرنے میں کامیاب رہے اور کراچی سمیت پورے سندھ میں انہوں نے جرائم پیشہ لوگوں لو اپنے انجام تک پہنچادیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے کراچی میں پچھلے تین سالوں میں نہ صرف  ڈکیتیوں سے لے کر اغواء برائے تاوان کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔
تو پھر انکی پذیرائ کی وجہ کیا ہے؟  اسکی وجہ یہ ہے کہ لیاری کے جرائم پیشہ عناصر کو پیپلز پارٹی کی حفاظت کی چادر اوڑھائ۔ یہ یقیناً سندھ میں پیپلز پارٹی کی ایک بڑی کامیابی ہے۔ یوں ، پچھلے سال شیر شاہ میں ہونے والے قتل و غارت گری کے مجرموں کو پہلے امن کمیٹی کا تحفظ دیا گیا  اور پھر پیٹھ تھپک کر شاباش دے دی گئ۔ اور اس عمل کو پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل رہی۔ انکا کہنا کہے کہ اس طرح وہ لیاری کے جرائم پیشہ افراد کو مین اسٹریم میں لا رہے ہیں۔ مرنے والے جائیں جہنم میں۔ ویسے بھی انکی اکثریت اردو بولنے والوں سے تعلق رکھتی ہے۔ انکی پرواہ اگر کسی کو کرنی چاہئیے تو وہ ایم کیو ایم ہے۔ پیپلز پارٹی کیوں کرے۔ سب کو اپنے تعصب کی جنگ لڑنی ہے۔
اپنی ایک عوامی تقریر میں وہ فرماتے ہیں کہ
یہ بات بھی کوئ ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ کراچی میں اغواء برائےتاوان اور لوٹ مار کی وارداتیں اب صوبائ حکومت کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔ اغواء برائے تاوان اور ڈاکے، فیوڈل سسٹم کے کرتا دھرتاءوں کا نشان امتیاز رہے ہیں۔ اور اب شاید ایم کیو ایم سے متائثر ہو کر انہوں نے بھتے کو بھی اپنے منشور میں شامل کر لیا ہے۔ ایم کیو ایم اپنے اس امیج کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے تو پیپلز پارٹی نے اسے حاصل کر لیا۔   
اس روئیے کے بعد پاکستانی معاشرے کے مختلف لوگ خدا جانے کس منہ سے یہ بات کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم تعصب کی سیاست کرتی ہے فاشسٹ ہے۔ اور ہم نہیں ہیں۔ یہاں سب ایک حمام میں ننگے ہیں۔
ہماری حکمراں جماعت کے حصے میں یہ کارنامہ بھی آیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے خلاف انہوں نے سندھ میں ہڑتال کال کی اور اسے کامیاب بنانے کے لئے ایکدن میں نو سے زائد افراد مارے گئے۔ شہر میں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا۔ اور انتہائ دلچسپی کی بات یہ کہ ہمارے محبوب صدر کے گھر بلاول ہاءس کے سامنے ہی ایک بس کو جلایا گیا۔ یہ بات تو ہمارے قارئین کو ضرور پتہ ہوگی کہ صدر صاحب، پیپلز پارٹی کے کو چیئر مین ہیں۔ یوں جیالوں کی آزادی، عدلیہ کی آزادی پہ سبقت لے گئ۔
یہ بات ہمارے علم میں نہیں کہ  سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہڑتال کی 'دانشمندانہ، جیالی اور جوسی تجویز' پہ ملکی کال دینے کے بجائے کراچی کو کیوں چنا گیا؟
 خیر، ملکی سیاست پہ ایک ہلکی سی نظر سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ پاکستان میں آزاد غنڈوں کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ہر غنڈہ ، بدمعاش شخص کام پہ لگا ہوا ہے۔ کسی نہ کسی سیاسی یا مذہبی تنظیم سے وابستہ ہے۔ مذہبی جماعتوں نے انہیں مجاہد کا نام دیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے کارکنوں کا۔
میری عزیز دوست نے اپنے جواں العمر بھائ اور  چار چھوٹی بچیوں کے باپ کے ایسے ہی قتل پہ  آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ جو لوگ سیاسی غنڈوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں۔ انکے لئے انصاف کی داد رسی کس سے چاہیں؟
میرے پاس اس کا جواب نہیں۔ میں تو خوداپنے ملک میں کسی سیاسی سونامی کی منتظر ہوں۔

Thursday, March 3, 2011

شرمندگی کے بول

حالیہ کچھ سالوں نے ہمیں ٹریجڈیز کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ ایک نیا المیہ۔ پاکستان میں اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو سورج کی روشنی میں قتل کردیا گیا۔ یعنی اب قتل کرنے کے لئے کسی کرامت کی ضرورت نہیں۔ قاتل کو کف آستین اور دامن کے داغ چھپانے کی بھی ضرورت نہیں۔ 
اہل طاقت کے پاس مذمتی بیانات کا وہی پرانا سلسلہ اور اہل فکر کے پاس مستقبل کی پریشان کن تصاویر اور وسوسے۔ یقین نہیں آتا کہ یہ ہے وہ پاکستان جہاں ایک سال میں تین ہزار کے لگ بھگ لوگ دہشت گردی کے حملوں کا شکار ہوئے اور اڑسٹھ خود کش حملے ہوئے۔ اور اہل طاقت اسی طرح طاقت کی رسہ کشی میں مصروف ہیں۔ کوئ اس آگ اور خون اگلنے والی عفریت کو قابو نہیں کرنا چاہتا۔
شہباز بھٹی کے قتک کے ساتھ ہی مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ایک دفعہ پھر شروع ہو گیا۔ مذہبی علماء نے اس قتل کی حسب معمول مذمت کی اور پھر سے نجانے کتنی لاکھویں دفعہ یہ جملہ دوہرایا گیا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر اس قتل کے تانے بانے امریکہ سے جوڑے۔
 اس دفعہ ہم اس حلقے میں شامل ہیں جو مذہبی علماء سے یہ سوال کرنا چاہتا ہے کہ پاکستان میں کیا مذہب کو اپنے جنون کے اظہار کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا؟  اگر وہ سمجھتے ہیں کہ بیرونی طاقتیں ملک میں فرقہ واریت کی بنیاد پہ فساد کو جنم دینے کی کوشش کر رہی ہیں تو وہ اس بات کی وضاحت بھی کریں کہ اب تک مذہبی انتہا پسندی کو ختم کرنے کے لئے انہوں نے کیا کیا؟ انہوں نے لوگوں کے اندر قوت برداشت پیدا کرنے کے لئے کیا کیا؟ انہوں نے مذہبی رواداری پیدا کرنے کی جو عملی کوششیں کی ہیں ان سے ہمیں آگہی کیوں نہیں اور ہم اب تک اسکے ثمر سے کیوں محروم ہیں؟
ایک اور سیاسی نکتہ رکھنے والا گروہ بھی ہے جو اس قتل کی ذمہ داری حکمراں طبقے کی اعلی قیادت پہ ڈالتا ہے۔ کیونکہ اب تک یہ مسئلہ لا ینحل ہے کہ سلمان تاثیر کے باڈی گارڈز میں قادری کی شمولیت کیوں کی گئ جبکہ اسکے خیالات کسی سے چھپے ہوئے نہ تھا۔ دوئم سلمان تاثیر کے قتل کی شہادتیں صحیح قانونی طریقے سے کیوں نہیں جمع کی گئیں۔ 
اب یہی مسئلہ شہباز بھٹی کے قتل کے ساتھ نظر آرہا ہے۔ قتل کی دھمکیوں کے باوجود قتل کے وقت، سیکیوریٹی انکے پاس موجود نہ تھی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شہباز بھٹی ان لوگوں میں شامل ہیں جو سلمان تاثیر کے قتل کی تفتیش میں دلچسپی لے رہے تھے۔
 اسکے باوجود کہ تحریک طالبان نے اسکی ذمہ داری لی ہے یہ حسب توقع ایسے  پیچیدہ سیاسی قتل میں شامل ہو جائے گا جس کے مجرمین کے بارے میں ہمیں کبھی نہیں پتہ چلتا۔ 

ہردو نکتے سے الگ، اگر پاکستان میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے، اور اسے کسی بھی مثبت سمت کی طرف لے جانا ہے تو ایک طرف ہمیں  آزادی فکر کو ترویج دینی ہوگی جس کے لئے برداشت بنیادی چیز ہے۔ اس کے لئے مذہبی جماعتوں کو اپنے یوٹوپیا سے باہر آنا ہوگا۔ کیونکہ اسکے بغیر اصل مسائل کو کارپٹ کے نیچے چھپایا جاتا رہے گا۔
دوسرے ہمیں اپنے سیاسی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہوگا جہاں واقعی عوام کی حکومت عوام کے ذریعے سے ہو، جہاں اہل اقتدار، دولت کی ہوس میں اقتدار سے چمٹے نہ رہیں اور ایکدوسرے کے خلاف سازشوں کے جال بنتے رہیں اس طرح کہ انہیں ملکی اور عوامی مفادات کی ذرہ بھر فکر نہ ہو۔ اور جہاں تبدیلی کے لئے فوج کی حمایت درکار نہ ہو۔


شہباز بھٹی، ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔ ہم پاکستان کے کمزورعوام آپکو بچانے کے لئے کچھ نہ کر سکے۔

Wednesday, March 10, 2010

اختلاف نظر

اس اتوار کو 'ڈان' اخبار میں دو ملتے جلتے مضامین آئے۔ ملتے جلتے اس لئے کہ دونوں میں پاکستانی سیاست کے رجحانات پہ ایک جیسے حوالے سے بات کی گئ ہے۔
 پہلا مضمون ھما یوسف نے لکھا ہے جو کہ ایڈیٹوریل صفحے پہ موجود ہے۔ جہاں ایک طرف انکا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم کو شدت سے ایک ہیرو کی ضروورت ہے وہاں انہوں نے بلوچستان کی مائ جوری کی مثال دیتے ہوئے انہیں پاکستانی سیاست مین تبدیلی کی نشانی قرار دیا ،  انکا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اب یہ تبدیلی آرہی ہے کہ لوگ مسائل کو لیکر چلنے والی سیاست کی طرف جا رہے ہیں۔
 اس سلسلے میں مجھے اس وقت مایوسی ہوئ جب انہوں نے مسلم  لیگ نون، جماعت اسلامی اور عمران خان کی سیاست کو مسائل کو سامنے والی سیاست میں شامل کیا۔ دوسری طرف انہیں لگا کہ ایم کیو ایم نے پچھلے چند مہینوں میں یہی پالسی اپنائ ہے اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقون سے ایم کیو ایم ملک کے دہگر حصوں کی طرف متوجہ ہوئ ہے۔
مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف انکے کریڈٹ پہ عدلیہ کی جنگ ڈال دینا اور اسے ایشو بیسڈ سیاست کی طرف جانیوالا قدم قرار دینا کہاں تک صحیح ہے۔ اس طرح تو بھٹو کے دور میں اسلامی حکومت کا نفاذ اس وقت کی حزب اختلاف کا نعرہ بن گیا تھا جو جنرل ضیا الحق کی حکومت کی شکل میں منتج ہوا۔ اگر اسے معیار بنا لیا جائے تو تو پاکستان میں ہمیشہ ایشو بیسڈ سیاست ہوئ ہے یہ الگ بات کہ یہ وہ ایشوز ہوتے ہیں جو ان سیاسی جماعتوں کو وقتی طور پہ سہارا دے رہے ہوتے ہیں۔
جہاں تک ایم کیو ایم کی پالیسی تبدیلی کا تعلق ہے ایم کیو ایم اسکی کوششیں پچھلے کافی سالوں سے کر رہی ہے۔ اور وہ اس سلسلے میں مختلف مواقع پہ کام کرتے رہے ہیں یہ دراصل پچھلے چند مہینوں کا کام نہیں ہے اسی وجہ سے سے کئ سال پہلے ایم کیو ایم نے اپنا نام مہاجر قومی مومنٹ کے بجائے متحدہ قومی مومنٹ رکھ لیا تھا۔
انکی ایک بات سے ہر پاکستانی اتفاق کریگا کہ فاٹا کہ علاقے میں سیاسی لیڈران کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے روائتی نظام سے نکل کر قومی دھارے میں آ سکیں اور اسکے لئے وہاں تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر پہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ 
دوسرا مضمون ندیم ایف پراچہ کا ہے جس میں انہوں نے پنڈی کے حلقہ پچپن کے نتائج سے اس روئیے کو اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔  ان میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں میں، مسلم لیگ نون اور شیخ رشید کی عوامی لیگ دونوں ہی دائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ انکے مقابل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف وہ جماعتیں ہیں جو امریکہ کے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف اور مشتبہ غیر ملکی سیکیوریٹی ایجنسیز کے افراد کی پاکستان کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ان الیکشنز میں سیاسی وجوہات کی بناء پہ حصہ نہیں لیا۔
 ان الیکشنز میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف دونوں کو شکست ہوئ۔ پراچہ صاحب کے خیال میں جماعت اسلامی اپنے طور پہ کبھی بھی دو سے تین فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکی۔ انکی پالیسی مجموعہ ہے اسلامی راسخ العقیدہ نظریات، امریکہ کے خلاف ہونا اور طالبان کا حامی ہونا۔
 انکے کہنے کے مطابق اگرچہ پاکستانی ووٹرز کے نزدیک  جماعتوں کے نظریات اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بات با بار مشاہدے میں آچکی ہے کہ وہ ایسے امیدوار چاہتے ہیں جو بے روزگاری، جرائم، ہنگامہ آرائ اور ملکی ترقی جیسے معاملات کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ دینا چاہتے ہیں۔
انکے خیال میں وہ جماعتیں جو اس طرف توجہ دے رہی ہیں وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں۔
جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اس سلسلے میں ناکام رہی ہیں۔
ایک مزے کی بات جو پراچہ صاحب کہتے ہیں  وہ یہ کہ ایک سیاستدانوں کی کرپشن، عدلیہ کی آزادی اور طالبان کے خلاف جاری جنگ پہ ٹی وی کے اینکر پرسن زیادہ اچھی طرح بول سکتے ہیں مگر کیا وہ ان بنیادوں پہ الیکشن جیت سکتے ہیں۔
 دیکھا آپ نے دو مختلف افراد ایک ہی موضوع پہ بات کرتے ہیں مگر ایک کو جو جماعت ایک چیز کرتی نظر آرہی ہے دوسرے کو وہی جماعت وہی چیز کرتی نہیں نظر آ رہی۔
تمہی کچھ بتلاءو اسکو کیا کہتے ہیں؟

 حوالہ؛

Tuesday, January 12, 2010

کیا لیاری کراچی کا حصہ ہے؟

میری اس  لڑکی سے ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا۔ یونہی نو دس مہینے پہلے مجھے خیال آیا کہ میں اپنے مضمون  پر اگر لوگوں کو ٹیوشن دینے لگون اور اپنی فیس  اسوقت چلنے والی فیس کے مقابلے میں آدھی رکھوں تو اس سے مجھے اور پڑھنے والے دونوں کو دلچسپی ہوگی۔ میں نے اخبار میں اشتہار دے دیا۔ اسکے نتیجے میں میرے پاس پانچ فون آئے۔ ان میں سے چار لوگوں کی خواہش تھی کہ انہیں گھر پہ پڑھایا جائے۔ جسے میں نے منع کر دیا
لیکن ایک فون مجھے لیاری سے ایک لڑکی کا آیا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھی۔ وہ بی ایس سی کی طالبہ تھی۔ مجھے حیرانی ہوئ۔ 'مگر آپ تو میرے گھر سے خاصی دور رہتی ہیں اور ہفتے میں تین دن آنا بھی آپکے لئیے بہت مشکل ہوگا'۔  یہ سن کر اس نے مجھ سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اس سے ایکدفعہ مل کر اسے جو مشکلات پیش آرہی ہیں وہ دیکھ لوں اور انکے لئیے اسے کچھ ٹپس دیدوں۔۔ اسکی یہ لگن دیکھ کر میں نے اسے اگلے دن بلالیا۔
 وقت مقررہ پہ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ آگئ۔ اس نے برقعہ پہنا ہوا تھا۔ اسکے والد صاحب اپنی عمر کی پانچویں دھائ میں تھے اور نیوی مرچنٹ کی نوکری کرتے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ بیٹھے رہے۔ ہم دونوں جب اس ساری ڈسکشن سے فارغ ہو گئے  تو میں ان سے بات کی۔
انہیں میرے گھر پہنچنے کے لئیے دو بسیں اور ایک ٹیکسی لینی پڑی تھی اور انکے مبلغ دو  سو روپے خرچ ہوئے تھے۔ وہ سات بہنیں اور ایک بھائ تھے۔ میں نے جب ان سے انکے علاقے کے حالات جاننے چاہے تو اس سوال پہ اس آدمی کا چہرہ بالکل بجھ گیا۔ آپکو کیا بتاءووں۔ میرا ایک بیٹا ہے اور وہ جب گھر سے پڑھنے کے لئیے نکلتا ہے تو جب تک واپس نہیں آجاتا ہم پریشان رہتے ہیں۔ ہمارا پورا علاقہ غنڈوں اور بدمعاشوں کا علاقہ ہے۔ ہمارا نوجوان لوگ زیادہ تر نشہ کرتا ہے یا ہنگامہ۔ آپ کبھی ہمارا علاقہ آکر دیکھو۔ انسانوں کی رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ ابھی آپ دیکھو میری بیٹی کو پڑھنے کا اتنا شوق ہے لیکن ہمارے علاقے میں کوئ اچھا پڑھنے کی جگہ نہیں ہے یہ جہاں جاتا ہے وہاں کتنی مشکل سے جاتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں  کیا ہم اسی طرح جانوروں کی طرح زندگی گذارتا رہیگا۔
اب آپ اردو اسپیکنگ والوں کی پارٹی ہے۔ لوگ کہتا ہے وہ بدمعاشی کرتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں وہ اپنے شہر اور اپنے لوگوں کی بھلائ کے لئیے کچھ تو کرتا ہے۔ ہمارے علاقے سے ہر دفعہ ایک پارٹی آتی ہے مگر آپ وہاں جا کر دیکھیں۔ ہمارا بچہ لوگ کیا کرتا ہے۔ ہم لوگوں کا کیا بنے گا۔ یہ حکومت جب سے آیا ہے اس نے تو تھانہ بانٹ لیا ہے۔ ہمارے لیاری میں کوئ پولیس نہیں ہے صرف غنڈوں کا راج ہے۔ کوئ دن نہیں ہوتا کہ ان بدمعاشوں کی آپس میں جنگ نہ ہوتی ہو۔ ہم تو اپنے گھر کے صحن میں نہیں کھڑے ہو سکتے۔
جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ان تمام مشوروں کی فیس کیا ہوگی جو میں نے اس دوران انہیں دئیے۔ میں نے ان سے کہا کہ اسکی کوئ فیس نہیں ہے۔ میں نے بغیر کسی تیاری کے سرسری طور پہ کچھ چیزیں بتادی ہیں۔ اسکی کیا فیس ہو سکتی ہے۔ میں اگر باقاعدہ پڑھاتی تو کچھ فیس ہوتی۔ مگر وہ پھر بھی بصد اصرار کچھ پیسے میز پہ رکھ گئے۔ جب وہ نکنلے لگے تو وہ لڑکی مجھ سے کہنے لگی کہ باجی آپکا علاقہ مجھے بہت اچھا لگا۔ میں بالکل شرمندہ ہو گئ۔ معلوم نہیں کیوں۔
یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے جب کراچی کے کسی علاقے کے تعلیمی اوسط کا اندازہ لگانا ہوتا تو یونیورسٹی سے وہاں کے لئیے چلنے والے بسز سے لگاتے جو پوائنٹس کہلاتی تھیں۔ کراچی کے تمام علاقوں جن میں لانڈھی، کورنگی، عزیز آباد اور اورنگی ٹاءون بھی شامل ہیں انکے لئیے باقاعدگی سے پوائنٹس لگتے تھے مگر ان میں کبھی لیاری کے لئے بس نہ دیکھی۔
آج جب میں نے ایک بلاگ پہ نبیل گبول صاحب کا بیان دیکھا کہ لیاری میں کیوں آپریشن ہوتا ہے لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں کیوں نہیں ہوتا۔ تو ان سے صرف ایک سوال پوچھنے کو دل چاہا کہ پچھلےتیس پینتیس سالوں میں لیاری والوں نے شاید پیلپز پارٹی کے علاوہ کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ کیا انہوں نے سوچا کہ لیاری میں ایک بھی اچھا اسکول اور کالج نہیں جسیا کہ لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں ہیں، وہاں چھوٹے بچوں اور عورتوں میں کیوں منشیات کا استعمال زیادہ ہے۔  شہر بھر میں کیوں جوا  سب سے زیادہ وہاں کھیلا جاتا ہے۔
لیاری کے مختلف محلے وہاں کے ڈکیتوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جو ایک دو نہیں کئ ہیں۔  ایسا کوئ عمل لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں نہیں ہوتا۔۔ میں ان علاقوں میں اکیلے گاڑی میں بے دھڑک گھومتی ہوں لیکن میں لیاری میں اس طرح پھرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
پچھلے کئ سالوں میں شہر کے باقی علاقے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ لیاری اب تک اتنا پسماندہ کیوں ہے۔ کیوں کراچی یونیورسٹی والوں کو لیاری کے لئیے کبھی ایک بس چلانے کی نوبت نہ آئ۔ کیوں یونیورسٹی میں اتنا لمبا عرصہ گذارنے کے باوجود میری کبھی ایسے طالب علم سے ملاقات نہ ہوئ جو لیاری سے تعلق رکھتا ہو۔  کیوں لیاری کراچی کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔کیا نبیل گبول صاحب اس بات کا جواب دیں گے۔ کیا ابو سعد کبھی اس چیز کے بارے میں لکھیں گے کہ لیاری کیوں کراچی کا حصہ نہیں لگتا۔ اور کراچی کی رونقوں کے غم میں گھلنے والے جانتے بھی ہیں کہ لیاری بھی کراچی میں واقع ہے۔