میں اپنی ایک عزیزہ سے ملنے انکے گھر رات کو نو بجے پہنچی پتہ چلا کہ ابھی تک آفس سے واپسی نہیں ہوئ۔ وہ ایک سوفٹ ویئر انجینیئر ہیں اور ایک سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں۔ رات کو دس بجے انکی واپسی ہوئ۔ لیکن آفس ٹائم ختم نہیں ہوا تھا کہ اب وہ گھر میں رات کو دیر تک بیٹھ کر کام کریں گی۔ وہ بتانے لگیں کہ اگر چار گھنٹے کی بھی نیند مل جائے تو عیاشی سمجھی جاتی ہےاور یہ انکا روز کا معمول ہے۔ اسکی وجہ سے صحت پہ جو اثرات ہیں وہ الگ ہیں۔ آپ تصور کر سکتی ہیں کہ جو شخص میرے ما تحت کام کرتا ہے وہ آفس چھ بجے چھوڑدیتا ہے اور اسکی تنخواہ مجھ سے بیس ہزار روپے زیادہ ہے۔ انہوں نے جھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ در حقیت میرے ماتحت پانچ لڑکے کام کرتے ہیں۔اور وہ سب شام کو چھ بجے کے بعد نہ صرف کام کرنے کو تیار نہیں ہوتے بلکہ کام کا معیار ایسا ہوتا ہے کہ مجھے ہی اسے بھگتنا پڑتا ہے۔ لوگ بڑے بڑے ادروں سے پڑھ کر آرہے ہیں بڑے مطالبات ہیں انکے مگر کام کے نام پہ ایک چھوٹے سے مسئلے سے نہیں نبٹ سکتے ایک پریزینٹیشن کا کہہ و جان نکل جاتی ہے انکی اور یہ سب میرے ہم عمر لوگ ہیں۔ میں ٹیم لیڈر ہوں اور نتیجے میں کام کا سارا لوڈ میرے اوپر پڑ جاتا ہے۔
میری ایک اور دوست جو کہ کسی اور سوفٹ ویئر ہاءوس میں کام کرتی ہیں انکی کہانی بھی یہی کہ رات کو نو دس بجے گھر سے واپسی ہوتی اور صبح ساڑھے سات بجے تک گھر سے نکل جاتی ہیں۔ یہ بتاءو تمہاری اب شادی ہونے والی ہے تب یہ سب کیسے چلے گا۔ میں نے پوچھا۔ ایسے ہی چلتا ہے۔ جو شادی شدہ کولیگز ہیں وہ بھی تقریباً اسی وقت تک جا پاتی ہیں۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کی جاب کا کوئ تصور نہیں رہا۔ سوائے سرکاری داروں کے تمام غیر سرکاری ادارے اپنے تنخواہ دار طبقے کا خون چوس لینا چاہتے ہیں۔ مقررہ وقت سے الگ رک کر زیادہ کام کرنے والوں کے لئے یعنی اوور ٹآئم کا کوئ تصور نہیں اور یوں اب زائد کام، زائد تنخواہ کا کوئ تصور نہیں رہا۔ ان کام کرنے والوں کے کوئ بنیادی حقوق نام کی چیز نہیں۔
حتی کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ جو معاشرے کی زبوں حالی کا رونا روتے نہیں تھکتے۔معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنے کا عزم دوہراتے ہیں، نا انصافیوں کو دور کرنے کی باتیں کرتے ہیں وہ خود بھی ان سوفٹ ویئر ہاءوسز کو چلا رہے ہیں مگر انکے یہاں کام کرنے والوں کے ایسے کسی حق کا خیال نہ کرنا انکی شخصی دوہریت کو ظاہر کرتا ہے جو ماشااللہ ہمارے معاشرے میں کثرت سے پائ جاتی ہیں۔ چار لوگوں کے سامنے بیٹھ کر اخلاقی تقاریر کرنے میں کسے مزہ نہیں آتا۔ عملی طور پہ وہ انہی اخلاقی اصولوں کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔
خاص طور پہ جب وہ خواتین کو اتنے طویل وقت کے لئے روک رکھتے ہیں تو کیا انہیں خیال ہوتا ہے کہ یہ عورت ایک ماں بھی ہے، اسے اپنی گھریلو ذمہ داریاں بھی دیکھنا ہونگیں اور دیکھنا چاہئییں۔ گھر کسی معاشرے کی اکائ ہوتا ہے۔ اس اکائ کی ساخت کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لئے ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ جواب یہ ہے کہ کچھ نہیں۔ خواتین کو ملازمت میں ترجیح دی جاتی ہے اس لئے کہ وہ خاموشی سے گدھے گھوڑے کی طرح کام کرتی رہیں گی۔ ادھر خواتین کے لئے سب سے زیادہ اہمیت نوکری اور تنخواہ ہی کی نہیں ہوتی بلکہ ادارے میں اگر انہیں ماحول محفوظ لگے تو وہ جاب سوئچ کرنے سے گریز کرتی ہیں کہ اگلی جگہ خدا جانے کیسا ماحول ملے یوں وہ رسک لینے سے گھبراتی ہیں۔ دوسری طرف ہماری خواتین کو پیشہ ورانہ میدان میں داخل ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گذرا تو وہ اپنی حق تلفی کے سلسلے میں بلکہ کسی بھی سلسلے میں زبان کھولنے سے گھبراتی ہیں۔ یوں کام کا ایک غیر ضروری بوجھ اٹھاتی ہیں اور دب کر بھی رہتی ہیں۔ تیسری طرف جب سے عالمی مارکیٹ میں کساد بازاری کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ آجر، اپنے اجیروں کی تعداد کو کم سے کم رکھتے ہوئے اتنا ہی کام کروانا چاہ رہے ہیں۔تاکہ انکا سرمایہ زیادہ خرچ نہ ہو اور منافع کی شرح برقرار رہے یوں انکی اس ڈریکولا والے انداز کے خلاف بولنا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہے۔
کیا ترقی یافتہ ممالک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ مجھے آسٹریلیا میں کچھ وقت گذارنے کا موقع ملا اور یہ دیکھ کر حیرانی ہوئ کہ تقریباً تمام مارکیٹ سات بجے شام کو بند ہوجاتی ہے۔ آفس کے اوقات صبح نو سے پانچ۔ کبھی ہی ایسا موقع ہوتا ہے کہ دیر تک رکنا پڑے۔ ہفتے میں دو دن کی چھٹی۔ جس میں ایک خاندان کے تمام لوگ سیر و تفریح کا پروگرام بناتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے یہ سب کچھ کیوں۔ اس لئے کہ خاندان کو ایک ساتھ وقت گذارنے کا موقع ملے اور اس طرح معاشرے کی اکائ یعنی ایک خاندان مطمئن اور توازن سے بھر پور زندگی گذارے۔
میری وہی عزیزہ، ابھی چند مہینے پہلے امیگریشن کے بعد کینیڈا چلی گئیں۔ ایک چیز سے خوش ہیں کہ وہ شام کو چھ بجے اپنے گھر میں ہوتی ہیں، کھانا بناتی ہیں، ٹی وی دیکھتی ہیں۔ رات کا کھاناہم سب مل کر کھاتے ہیں۔ یہاں زندگی بہت ریلیکس ہے۔ ہر ہفتے کو ہم کہیں نہ کہیں گھومنے جاتے ہیں۔
حتی کہ تھائ لینڈ جیسے ملک میں جو کہ ترقی یافتہ ممالک مِں شامل نہیں اور شہروں میں شاید ہر عورت کام کرتی ہوگی۔ اس بات پہ توجہ دی جاتی ہے کہ خواتین اپنے آپکو آفس میں ہی نہ خرچ کر ڈالیں بلکہ اپنے گھر کے لئے بھی خود کو بچا کر رکھیں۔
ہمارے یہاں ایسا کوئ تصور نہیں۔ کوئ ایسی دستاویز جس میں کام کرنے کے زیادہ سے زیادہ اوقات بیان کئے گئے ہوں۔ کسی کو اس بات کی چنداں فکر نہیں کہ ملازمت پیشہ خواتین کے مسائل کی طرف بھی نظر کرے۔ ظاہر ہے جہاں بات روٹی کے گرد ہی گھوم رہی ہو وہاں اس قسم کے مسائل میں کس کو دلچسپی ہو سکتی۔ اور خواتین کے مسائل کو تو کسی گنتی میں ہی نہیں رکھا جاتا، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جائے گا کہ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ خواتین کام نہ کریں انہیں گھر کی ملکہ بن کر رہنا چاہئیے۔ یہ انکا کام نہیں۔ حالانکہ ملازمت پیشہ خواتین کا بڑا حصہ اپنے خاندان کی معاشی کمزوریوں کی بناء پہ کام کرنے پہ مجبور ہوتا ہے۔مگر یہ سب کہنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ جب روٹی نہیں خرید پاتے تو کیک خریدنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ جب زراعت کا زمانہ تھا عورت گھر کی کھیتی باڑی میں اپنے حصے کا کام کرتی تھی اور برابر سے کرتی تھی۔ اب انڈسٹریئل زمانہ ہے اس میں بھی کسی کے لئے رعایت نہیں اور سب کو کام کرنا پڑتا ہے۔
کس کو فکر کہ ایک کام کرنے والے پہ کام کا کتنا بوجھ ڈالا جا سکتا ہے۔ ان پریشان لوگوں کا کوئ پر سان حال نہیں اور نہ شاید کوئ اسکا احساس کرتا ہے۔ حکومتی عناصر اور ہمارے پالیسی ساز ذہن معاشرے کے استحکام کے لئے پالیسیاں بنانا کب شروع کریں گے۔جس طرح معاشرے میں اور ظلم اور زیادتیوں کو قبول کر کے بس زندہ رہنے کی رسم نبھانے کی عادت ڈال لی گئ ہے وہیں اس ظلم کے خلاف بھی کوئ آواز اٹھانے والا نہیں ۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)