Showing posts with label رمضان. Show all posts
Showing posts with label رمضان. Show all posts

Monday, July 30, 2012

و تعز من تشاء؟

عزت ہمارے خطے میں ایک بہت اہم لفظ ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو کسی بھی معمولی سی بات پہ خطرے میں پڑجاتی ہے اور اگر اسے خطرے میں نہیں پڑنا ہو تو آپ کروڑوں کی کرپشن کر ڈالیں یا منافقت کے جتنے چاہیں لبادے اوڑھ ڈالیں معاشرے میں آپکی عزت کو کوئ نقصان نہیں پہنچتا۔ 
مثلاً پسند کی شادی جسے عام طور سے محبت کی شادی سے ملا دیا جاتا ہے اس سے والدین کی عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ شادی بیاہ پہ اگر خواتین قیمتی کپڑے نہ پہنیں تو مرد کی عزت کم ہونے کا اندیشہ دامنگیر ہوتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی عزت زیادہ خطرے میں رہتی ہے۔ یوں اگر کوئ خاتون بچاءو بچاءو چیخے تو پہلا خیال بھی یہی آتا ہے کہ عزت خطرے میں ہے چاہے وہ چوہے یا چھپکلی کو دیکھ کر چیخ رہی ہو۔
ایک زمانے میں لاچار مرد اپنی عزت بچانے کے لئے پگڑی اتار کر واسطے دیا کرتا تھا۔ خواتین کی عزت دوپٹے کے ساتھ وابستہ تھی اور گبرو مرد اس دوپٹے کی حفاظت کے لئے جان لٹا دیتے تھے۔  دوپٹہ تو اسکارف میں تبدیل ہو گیا لیکن پگڑی سرے سے نا پید ہو گئ۔
ذرا سانس لے کر وضاحت کر دوں کہ یہ تحریر  دوپٹے اور پگڑی  کے بالترتیب ارتقاء اور عنقا ہو جانے کے متعلق نہیں۔ کیونکہ یہاں سے پگڑی کے نایاب ہوجانے کی وجوہات پہ غور کے بجائے دوپٹے اور اسکارف کے تقدس پہ بات جا سکتی ہے۔ جس پہ نہ صرف پہلے بھی سیر حاصل بحث ہو چکی ہے بلکہ مزید سیر کے لئے آئندہ الگ سے بحث ہو سکتی ہے۔
بات ہے عزت کی۔ عزت کیا چیز ہے؟
میں اسکی کوئ جامع تعریف کرنے سے معذور ہوں۔ لیکن لوگوں کو یہ کہتے اکثر سنتی ہوں کہ یہ اسکی دین ہے جسے پروردگار دے۔ یعنی خدا ہی عزت دینے والا ہے حالانکہ خدا کا دعوی ہے کہ وہی ذلت دینے والا بھی ہے لیکن اکثر عناصر اسکا سہرا اپنے سر پہ باندھنا پسند کرتے ہیں تاکہ کچھ لوگ عزت بچانے کے چکر میں ان کے قابو میں رہیں۔ 
عزت پہ شعراء اکرام نے بہت کم لکھا ہے لیکن ذلت کو خوب موضوع بحث بنایا ہے۔ حالانکہ دونوں ہم قافیہ الفاظ ہیں۔  
اب کوئ اس پہ کیا دلیل کرے
جس کو چاہے خدا ذلیل کرے
 عزت کی تعریف کرنا کیوں مشکل ہے؟ اسکی بنیادی وجہ اس کے دعوے دار ہیں۔
اس لئے ایٹم بم کا دھماکا کرنے کے بعد بھی ہم سنتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اس عزت سے نوازا۔ ادھر ایک ڈیرے دار طوائف بھی اپنے لباس کی نوک پلک درست کرتے ہوئے ایک ادا سے کہتی ہے کہ بس آج جو بھی مرتبہ ہےعزت ہے وہ خدا کی عطا ہے۔ دونوں ہی اپنی جگہ درست ہیں اگر ہم اس پہ یقین رکھتے ہیں کہ سبھی کچھ خدا کا دیا ہوا ہے سبھی راحتیں، سبھی کلفتیں۔
لیکن پھر بھی ہم اس طوائف کی بات پہ ہنستے ہیں اور اس سیاستداں کی بات پہ فخر سے سینہ پھلا لیتے ہیں۔
اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ عزت کا تعلق عام طور پہ معاشرے میں موجود اچھائ اور برائ کے معیار سے بڑا تعلق رکھتا ہے۔ طوائف کا پیشہ، نیچ  سمجھا جاتا ہے اس لئے وہ اپنے پیشے میں جتنی بھی کامیابی حاصل کرے۔ چاہے لوگ اسکی ایک جھلک کے لئے اپنا دین اور ایمان لٹا دینے کو تیار ہوں۔ اسکے ابرو کے اشارے پہ عاشق پہاڑ تو کیا آسمان کو زیر کر لے لیکن جب بھی وہ یہ کہے گی کہ یہ سب عزت خدا کی دی ہوئ ہے تو ہم  ہنستے ہیں۔
اسکے بر عکس، ہم ایک ایسا ہتھیار بنا لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جو چشم زدن میں انسانوں کی ایک بڑی آبادی کو ختم کر سکتا ہے تو ہمیں انتہائ فخر اس لئے محسوس ہوتا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اب ہم دشمن پہ سبقت حاصل کر لینے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور میدان جنگ میں وہ ہمیں آسانی سے ہرا نہیں سکتا۔ چونکہ ہم ہار نہیں سکتے اس لئے ہم عزت دار ہونگے۔ جس شخص نے یہ حاصل کرنے میں ہماری مدد کی وہ بھی ہماری عزت کا مستحق ہے۔ وہ شخص بھی یہی کہے گا کہ یہ عزت خدا کی دی ہوئ ہے ۔ ہم اسکا احترام کرتے ہیں۔ ہم اسکی بات کو سچ جانتے ہیں۔
عزت کے دعوے دار اور عزت کے پرستار دونوں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ اہمیت اس نکتے کی ہے جس پہ عزت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
 گاءوں کے چوپال میں درد بھری آواز میں ماہیا گانے والا میراثی کہلاتا ہے اس کا سماجی مرتبہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن جب آواز کا یہ جادو نورجہاں جنگ کے گیتوں میں دکھاتی ہے تو ملکہ ء ترنم کا خطاب پاتی ہے۔ کس میں ہمت کے انہیں میراثن کہہ دے۔   
عزت کے بارے میں آج جاننے کی خواہش اس وقت سوا ہو گئ جب ایک جگہ پڑھا کہ ڈاکٹرعامر لیاقت کو جب خدا نے عزت دی ہے لوگ اسکی بات سنتے ہیں ، لوگوں پہ اسکی بات کا اثر ہوتا ہے تو دوسرے لوگ اسے برا کیوں کہتے ہیں؟  لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ انہیں رمضان میں تبلیغ کے عمل سے روک دیا جائے۔ نہ صرف ان صاحب نے لکھا بلکہ دیگر صاحبان نے اسے شیئر بھی کیا۔
آج پھر میں نے سوچا کہ خدا کی دی ہوئ عزت کیا چیز ہوتی ہے؟  اگر ایسا ہے تو زرداری سے بےزاری کیوں؟ ان کی عزت بھی خدا کی دی ہوئ ہے۔ اس عقیدے کے مطابق یہ مرتبہ انہیں محض لوگوں کے ووٹ سے حاصل نہیں ہوا۔  لوگوں کے ایک بڑے حلقے میں انکا اثر ہے۔ لوگ انکی بات سنتے ہیں ان پہ اثر ہوتا ہے۔ یہی بات الطاف حسین، نواز شریف، عمران خان حتی کہ ملا عمر اور اوبامہ کے متعلق بھی کہی جا سکتی ہے۔ اور چونکہ ان سب کو ملی ہوئ عزت کو خداکی دین سمجھنا چاہئیے تو ہمیں انکی عزت بھی کرنی چاہئیے اور انکے متعلق برا نہیں کہنا چاہئیے۔
کیا ہمیں اس بات کی فکر کرنی چاہئیے کہ یہ سب لوگ جس چیز کی تبلیغ کرتے ہیں اسکے لئے عملی طور پہ کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں یا نہیں؟  یا آسان الفاظ میں جب خدا کسی کو عزت اور مرتبہ دے دے اور لوگوں پہ اس کا اثر قائم ہو جائے تو کیا اسکے خلاف آواز بلند کرنا خدا کے خلاف جانا ہوتا ہے؟
  

Monday, July 23, 2012

ہے کون سا فرق ایسا؟

سحری، افطار، پھر عید کی تیاریاں اور ساتھ ہی ثواب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہی رمضان کی کشش بڑھانے کو کم نہ تھا کہ اس دفعہ وینا ملک نے اپنے استغفار کا بھی اعلان کر دیا اور وہ بھی عین رمضان میں۔ ہم تو سمجھے، شاید اس لئے کہ رمضان میں ہر نیک عمل کا ثواب زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن لوگوں نے اس استغفار کے خلاف مہم چلا دی اور اب سنتے ہیں کہ یہ استغفار عوام تک نہیں پہنچ پائے گا۔ عوام تک کیا اب خدا تک بھی اسکا پہنچنا مشکل ہےیہ رمضان پیکیج تھا اب اگلے سال تک دیکھتے ہیں  کیا یہ استغفار ہو پائے گا۔ سوری وینا، ٹرائ نیکسٹ ٹائم۔
لوگ کہتے ہیں کہ شیطان کو رمضان میں بند کر دیا جاتا ہے۔ لیکن عامر لیاقت حسین کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ انہیں لوگ رمضان میں اتنا زیادہ اس لئے پسند کرتے ہیں کہ وہ شیطان کو بہت مِس کرتے ہیں۔ البتہ انکی دعا کرانے پہ لوگوں پہ گریہ کیسے طاری ہوجاتا ہے یہ معمہ حل طلب ہے۔
http://www.youtube.com/watch?v=iiyG1pSlzpo&feature=related
 مجھے عامر لیاقت سے نجانے کیوں عجیب سی مخاصمت ہے حالانکہ ان کے فتوے، فتوے کم اور لطائف زیادہ لگتے تھے۔ ایک دفعہ مجھے یاد ہے ان سے کسی نے پوچھا کہ کیا شیعوں کی سنیوں سے شادی ہو سکتی ہے۔ کہنے لگے کیوں نہیں، سین سے سنی، شین سے شیعہ اور شین سے شادی۔ کیا مسئلہ ہے بھئ۔ ان سے پہلے حروف تہجی کو فتوی کے لئے کسی نے استعمال نہیں کیا۔ لیکن اتنا پروگریسو ہونے کے باوجود جب کوئ انہیں برا کہتا ہے تو مجھے یک گونہ تسلی رہتی ہے۔
وینا کے پروگرام پہ احتجاج اور عامر لیاقت کو خوش آمدید پہ جب میں سوال کرتی ہوں تو ایک جواب آتا ہے کہ اسکی وجہ وینا کی عریاں تصاویر ہیں۔ بس یونہی خیال آیا کہ جسم کی عریانیت اور زبان کی عریانیت میں سے کون گھٹیا درجے پہ ہے؟
اس لئے شیطان کا بطور خاص اس مہینے میں بند ہوجانا میرے لئے کم از کم بڑا سوالیہ نشان رکھتا ہے۔ ہم جو کچھ اس مہینے مشاہدہ کرتے ہیں کیا وہ اس روایت پہ پورا اترتا دکھائ دیتا ہے۔ کون سا شیطان بند ہوتا ہے۔ وہ جس نے خدا کے حکم پہ آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جسکا نام عزازیل ہے یا وہ جو ہر انسان کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اور خدا کی طرح ہر لمحے اسکے ساتھ رہتا ہے اور صورت حال اس طرح رہتی ہے، اک طرف اسکا گھر اک طرف میکدہ۔ اک طرف محتسب اور اک طرف رند۔ 
خیر، ابھی کل ہی میں طارق روڈ پہ گاڑی پارک کرنے کی جگہ تلاش کر رہی تھی ایک جگہ ملی اسکے پاس چند سیکنڈ کو کھڑا کر کے سوچا کہ یہاں ذرا سناٹا سا ہے اس لئے مناسب نہیں لگ رہا۔ اتنے میں ایک بڑے میاں نازل ہو گئے کہ یہیں گاڑی پارک کرو۔ آگے کہیں  کروگی تو آجکل تو لوگ گاڑی کے شیشے بھی کاٹ لیتے ہیں۔ میں نے یہ سن کر گاڑی موڑی، بڑے میاں کو ناراض چھوڑا اور شاہراہ عام پہ آگئ۔ دور سہی، لیکن شیشہ کٹنے کا امکان کم ہے۔
ڈکیتیوں اور سر راہ لوٹ لینے کے واقعات میں چشم زدن میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ نیا ٹرینڈ یہ ہے کہ لوگ جو شاپنگ کر کے لوٹتے ہیں وہ بھی کوئ لوٹ لیتا ہے۔ چونکہ شیطان بند ہے اس لئے کم از کم اس مہینے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب ہمارے بھائ بندوں میں سے کوئ کرتا ہے وہ بھی مسلمان۔  لیکن ان دونوں میں ہے کون سا فرق ایسا؟
یوں اس مہینے پرچون فروشوں، قصائیوں ، درزیوں، بوتیکس اور کپڑے کی دوکان والوں میں مقابلہ کرایا جائے تو ڈاکو اور چور اچکے سب سے زیادہ مصروف نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں معلوم کہ ان میں سے شیطان کی دی ہوئ ذمہ داری کون اچھی طرح نبھاتا ہے۔
کیا واقعی شیطان بند ہوتا ہے؟ شاید نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ گوشت کی قیمت میں پہلی رمضان کو نہیں تو دوسرے دن ضرور اضافہ ہوجائے گا۔  قیمت کے اس اضافے سے دودھ اور پھل بھی متائثر ہونگے۔  یہ پیکیج شاید شیطان رمضان کی چھٹیوں سے پہلے طے کر جاتا ہے۔ شیطان، رمضان کی تیاریاں شب براءت میں شروع کرتا ہے جب ہم رات کو جاگ کر اپنے گناہ بخشوا رہے ہوتے ہیں وہ ہمارے نئے گناہوں کا نصاب تیار کر لیتا ہے۔
کیا واقعی شیطان بند ہوتا ہے؟ شاید ہاں۔ کیونکہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی نصیحتوں اور تبلیغ کا ایک ریلہ داخل ہوچکا ہے۔ ہر ایک اس میں بھی مصروف ہے۔ اسکا بھی بڑا ثواب ہے اور اسکا ثواب الگ جو وہ بتلا رہے ہیں۔  فیس بک وغیرہ کی آمد سے ثواب حاصل کرنا اب پہلے سے کہیں آسان ہے صرف ایک کلک پہ ثواب کا سلسلہ جاری۔ کیا لفظ کلک قرآن میں آیا ہے؟ کیا انٹر نیٹ کی پیشن گوئ اس میں موجود ہے؟ یہ سب جانے بغیر لوگ دھڑا دھر ثواب کی کلِکس کئے جا رہے ہیں۔ یہ دوڑ عین اس وقت متائثر ہوتی ہے جب شیئر کرنے کا لنک ہم جیسے شیطانوں کے پاس پہنچتا ہے۔
ان تمام نصیحتوں سے الگ جو مذہبی کتابوں کا خلاصہ نکال کر تیار کی جاتی ہیں۔ کل کی ایک نصیحت یاد آرہی ہے۔ ایک خاتون نے نصیحت کی کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے کہا کہ زندگی کو آسان کرو اگر ہر وقت مصروف رہوگے تو خدا کی عبادت کیسے کروگے۔ اگر دن میں اپنی ساری توانائ دنیا کمانے میں لگا دوگے تو رات کو تہجد کیسے پڑھوگے؟  آسان زندگی کے اس فلسفے پہ ایک بزرگ خاتون نے خاصہ احتجاج کیا۔ میں نے کہا ہمارے کراچی میں تو لوگ کاروبار شروع ہی آدھے دن کے بعد کرتے ہیں۔ یہ شاید ڈاکٹر صاحب کی نصیحت کا کمال ہے۔ توانائ دن میں نہیں رات میں خرچ ہونی چاہئیے۔
ادھر رمضان کے لئے وظائف کا چارٹ بھی تیار ہے۔ اگر انسان ان سب پہ عمل کر لے تو سال بھر کے لئے گناہوں کی آزادی صاف نظر آتی ہے۔ مثلاً تین دفعہ قل شریف پڑھ لیں ایک قرآن کا ثواب، میرے جیسے دماغ میں تو آتا ہے کہ بس سارا دن قل شریف ہی پڑھتے رہنا چاہئیے ایکدن میں کتنے ہی قرآنوں کا ثواب ملے گا جبکہ اصل کو ایک دن میں پڑھکر ختم کرنا ہی ناممکن ہوتا، ادھر رمضان میں ایک قرآن ختم کر لیں سال بھر کی تلاوت کا ثواب۔
 چونکہ رمضان میں ثواب کئ گنا بڑھ جاتا ہے اس لئے لوگ عام زندگی کی چھوٹی موٹی نیکیاں بھی رمضان کے لئے چھوڑے رکھتے ہیں۔ مثلاً زکوۃ بچا کر رکھتے ہیں کہ اس مہینے دینے کا ثواب ہے۔ ایک صاحب نے رستے میں ایک پتھر دیکھا اٹھا کر ایک طرف کرنے کا سوچا تھا ہی کے خیال آیا کہ ابھی مغرب کے بعد رمضان کے چاند کا اعلان ہو جائے تو ہٹائیں گے۔ ثواب زیادہ ہوگا۔
کیا شیطان واقعی بند ہوتا ہے؟ تو یہ اوٹ پٹانگ تحاریر کون لکھتا ہے؟ 
رمضان میں ایسی اوٹ پٹانگ تحاریر پڑھنے کا کوئ ثواب نہیں۔ اس لئے آپ جلدی سے اپنی تسبیح پکڑئیے اور یہ بتائیے وہ کون سا اسم یا وظیفہ ہے جسکے پڑھنے سے انسان انٹر نیٹ سے دور رہتا ہے؟ جب تک میں ایک سادہ سا حساب کر لوں وینا ملک اور عامر لیاقت میں ہے کون سا فرق ایسا؟

Saturday, February 18, 2012

اہم تعلیمی مسئلہ، رمضان کی چھٹیاں

فروری کا مہینہ صرف ویلینٹائینز ڈے کا مہینہ نہیں۔ جب کچھ جوڑے سوچتے ہیں کہ انکے آنگن میں بچوں کی صورت پھول کھلیں گے۔ بلکہ ان والدین کے لئے بھی لمحہ ء فکریہ  ہے جن کے بچے موجود ہیں اور انہیں اسکول میں داخلہ چاہئیے۔ جیسے میری بیٹی اب اپنی مونٹیسوری ختم کر کے پہلی جماعت میں جائے گی۔ میرے لئے اہم سوال ہے  کس اسکول میں؟
ابھی مہینہ بھر پہلے میں اپنی بچی کی مونٹیسوری ٹیچر پہ خفا ہوئ کہ یہ کیا طریقہ ہے ایک کے بعد ایک پہاڑے رٹائے جا  رہے ہیں۔ ایک مونٹیسوری کے بچے کے لئے چھ تک پہاڑے یاد کرنا بالکل ضروری نہیں ہے۔  سال کے بارہ مہینوں سے لے کر جانوروں، پھولوں، سبزیوں، پرندوں اور خدا جانے کن کن چیزوں  کے ناموں کے ہجے انگلش اور اردو میں۔ یہ تو زیادتی ہے۔ جواب ملا کیونکہ ماما پارسی اور بی وی ایس میں داخلے کے وقت یہ سب پوچھا جاتا ہے۔  اور پھر وہ پہلی جماعت میں ان بچوں کو جب لے لیں گے تو یہ سب دو سال بعد پڑھائیں گے۔ میں ناراض ہو کر بھی ہنس دی۔ ان سے کوئ نہیں پوچھے گا کہ آپکا پہلی جماعت کا سلیبس کیا ہے اور آپ نے کیوں والدین کو مجبور کیا کہ وہ آپکے داخلہ ٹیسٹ کے لئے اپنے بچوں سے انکا بچپن چھین لیں۔
اچھا وہ والدین کیا کریں جنہیں اپنے بچوں کو ان اسکولوں میں داخل نہیں کروانا ہے۔ وہ بھیڑ چال میں پھنسے ہوئے سر پکڑے بیٹھے ہیں۔
ان مشنری اسکولوں کی طرف والدین کے بھاگنے کی ایک بنیادی وجہ انکا بہتر طریقہ ء تعلیم اور مناسب فیس ہے۔ کہنے کو ہمارے ملک میں لوگوں کا ایک پسندیدہ مشغلہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور جہاد ہے  لیکن تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی اور مناسب فیس جو اسکول دیتے ہیں وہ عیسائ تبلیغیوں کے ہاتھوں چلنے والے اسکول ہیں۔ مذاق؟ میں نہیں کر رہی یہ حقیقت ہے۔
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد میں جنریشنز نامی اسکول ہے جو علاقے میں بڑی اچھی شہرت رکھتا ہے۔ ایک وجہ بہتر تعلیمی معیار اور دوسری وجہ اسکول انتظامیہ کا مذہبی رجحان۔ تمام خواتین اساتذہ کا اسکارف پہننا ضروری ہے۔ فیس ہے اس اسکول کی تقریباً دس  ہزار ماہانہ، داخلہ پیکیج تقریباً پچاس ساٹھ  ہزار بنتا ہے۔
جبکہ ماما پارسی، سینٹ جوزف، سینٹ پال، سینٹ لارنس،  بی وی ایس، سینٹ پیٹرکس ان سب اسکولوں کی ماہانہ فیس تین سے چار  ہزار بنتی ہے اور اس بات کا میں آپکو یقین دلادوں کہ جنریشنز کی تعلیمی کارکردگی ان تمام مشنری اسکولوں سے بہتر نہیں ہے سوائے اسکے کہ یہاں پڑھنے کے بعد آپکا بچہ گھر میں یہ اعلان کرے گا کہ امّاں آپ آدھی آستین کی قمیض نہیں پہن سکتیں، یہ غیر اسلامی ہوتا ہے۔
جنریشنز سے ہٹ کر فاءونڈیشن اسکول بھی فیس کی مد میں اس سے زیادہ مطالبات رکھتا ہے۔ ادھر بیکن ہاءوس اور سٹی اسکول بھی اپنی ابتداء آٹھ ہزار سے کرتے ہیں۔ ہر سال ان اسکولوں کی فیس میں دس فی صد اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی اگر ایک بچہ ان اسکولوں سے میٹرک کر رہا ہے تو دس سال بعد اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اسکی کتنی فیس ہوگی۔
  مشنری اسکولوں کے لئے اتنی کم فیس میں اتنی معیاری تعلیم اور ڈسپلن پیدا کرنا کیسے ممکن ہو جاتا ہے؟ اس میں بھی کوئ کفار کی سازش سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ ہمارے عمران خان بھی جب ایک تعلیمی ادارہ بناتے ہیں تو اسکی فیس کم رکھنا ممکن نہیں ہو پاتا۔
اب ہم اپنے بنیادی مسئلے کہ طرف واپس آتے ہیں۔ ہمارا بچہ کس اسکول میں جائے گا۔ یہ تمام مشنری اسکول میرے گھر سے اتنے فاصلے پہ ہیں کہ ایک اسکول وین کو اسکول شروع ہونے سے تقریباً سوا گھنٹے پہلے اسے گھر سے لینا ہوگا اور جب وہ اسے گھر واپس چھوڑے گی تو دن کے ساڑھے تین بج رہے ہونگے۔ مجھے اپنی بیٹی اس ساری مشقت کے لئے چھوٹی لگتی ہے۔ میں سوچتی ہوں اس ساری محنت کے بعد بچے کے پاس کتنا وقت بچے گا کہ وہ اپنے ماحول پہ بھی ایک نظر ڈال لےاور یہ جانے کے کتاب اور اسکول سے الگ بھی ایک دنیا اسکے اطراف میں بستی ہے۔
اس سارے بحران کی وجہ حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسی ہے اگر کوئ تعلیمی پالیسی ہے تو۔ ہر سال تعلیمی سیشن شروع ہونے سے پہلے حکومت کا سر درد پچھلے کئ سالوں سے صرف ایک مسئلہ لگتا ہے اور وہ یہ کہ رمضان کے پورے مہینے چھٹیاں دی جائیں یا نہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ڈیڑھ ہزار سال کے بعد اب کوئ نئے رمضان آنا شروع ہوئے ہیں۔ یہی قوم رمضان میں پیٹ پہ پتھر باندھ کر جنگیں لڑتی تھی اور اسی قوم کے منتظمین یہ چاہتے ہیں کہ رمضان میں اب اسکول بند رہیں تاکہ قوم زیادہ خشوع خضوع سے رمضان میں روزے رکھ سکے۔  چونکہ تعلیم کے دیگر معاملات پہ سوچنے کے لئے کچھ نہیں رہا۔ اس لئے اس سال پھر صرف ایک مسئلہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں جولائ میں ہوں یا جون میں۔ کیونکہ رمضان جولائ کے اخیر میں شروع ہو رہے ہیں۔
لوگ پھر بھی  ہم سے پوچھتے ہیں کہ جناب جہادی اور تبلیغی سوچ کیسے علمی سرگرمیوں کو متائثر کر سکتی ہے؟
 ہم والدین حکومت سے یہ سوال نہیں کر سکتے کہ اسکے لئے یہ کیوں ممکن نہیں کہ ہر یونین کونسل میں صرف ایک معیاری اسکول بنا دے جس کی فیس غریب طبقے کے لئے ادائیگی کے قابل ہو۔ جہاں میرٹ پہ داخلہ ہو اور ہر امیر یا غریب کا بچہ صرف میرٹ پہ داخلہ پا سکے۔ جہاں اساتذہ بچوں کو تعلیم دینے کے لئے باقاعدگی سے اسکول آ سکیں۔ ہم تو اب یہ عیاشی بھی نہیں چاہ رہے ہیں کہ ہر بچے کو تعلیم دی جائے۔ لیکن جو اپنے آپکو اہل ثابت کر رہے ہیں انکے لئے تو کچھ کیا جائے۔  کچھ کو تو دی جائے۔
اسکی وجہ یہ ہے کہ ابھی ہفتہ بھر پہلے گھر میں صفائ کا کام کرنے والی ماسی نے بتایا کہ اسکا بچہ گورنمنٹ اسکول میں پڑھتا ہے۔ کتنی مشکل سے اسے اسکول بھیجتی ہوں اور ایک ہفتے سے اسکول میں کوئ پڑھائ نہیں ہوئ کیونکہ کوئ ٹیچر ہی نہیں آرہا۔ یہ کراچی میں واقع گورنمنٹ اسکول کا حال ہے۔ دور دراز کے علاقے تو کسی گنتی میں نہیں جہاں اسکول صرف کاغذ پہ موجود ہیں اورانہیں بھوت اسکول کہا جاتا ہے۔
 سر دست پیٹ بھرے لوگوں اور انتظامیہ دونوں کے نزدیک اہم تعلیمی مسئلہ یہ ہے کہ گرمیوں کی چھٹیاں رمضان سے  پہلےیا بعد میں۔ جب تک انتظامیہ اس معاملے پہ سوچ و بچار کر کے فارغ ہو  میں اپنے بیلینس کا حساب ایک دفعہ پھر لگاءوں  میری بیٹی کو اس سال پہلی جماعت میں داخلہ لینا ہے۔

Monday, August 8, 2011

چندہ اور ثواب

 کینیڈا میں ایکدن مجھے ای میل ملی کہ رمضان کا مہینہ ہے مجھے یہاں  کمیونٹی افطار میں شریک ہونے کا تجربہ کرنا چاہئیے۔ اس سلسلے میں دو نام دئیے گئے ایک اثناء اور دوسرا روائیتی مساجد میں ہونے والے افطار کے اجتماعات۔
حسب عادت ادھر ادھر سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ایک خاندان ابھی تین چار دن پہلے ہی اثناء کے کمیونٹی افطار میں شرکت کر کے آرہا تھا اور انتہائ نالاں تھا۔
اثناء یہاں کینیڈا میں مسلمان کمیونٹی کا ایک ادارہ ہے جس نے اپنے اوپر کچھ ذمہ داریاں لی ہوئ ہیں جو آپ انکی ویب سائیٹ پہ دیکھ سکتے ہیں۔ انکی شاخیں مختلف جگہوں پہ قائم ہیں۔ یہ اپنے انداز میں لبرل سمجھے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اثناء کی طرف سے اسلامی کیلینڈر جاری کیا جاتا ہے۔ جس میں چاند کا حساب جدید سائینسی طریقوں پہ کیا جاتا ہے۔ اور پہلے سے اسکی تاریخ مشتہر کر دی جاتی ہے  یعنی شعبان کے مہینے میں معلوم تھا کہ رمضان کس دن شروع ہونگے۔ افسوس یہاں پشاور کی قاسمی مسجد اور اسکے مولانا صاحبان موجود نہیں۔ ورنہ چاند ہمیشہ ایکدن پہلے ہوتا۔
ہاں تو، انکے نالاں ہونے کی بھی وجوہات تھیں۔ اول انہوں نے کہا کہ وہاں کھانے کے وقت انتہائ افراتفری تھی۔ پاکستانی خواتین سب کی سب اسکارف پہنے ہوئے تھیں۔ اور سب کو نماز سے زیادہ افطار اور کھانے کی چیزوں کی فکر تھی۔ آپکو معلوم ہے یہ سب لوگ یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں لیکن کھانے پہ جس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں وہ قابل شرمندگی ہوتا ہے۔ کیا پاکستانی ہونا جینز میں چلتا ہے؟ انہوں نے مجھ سے پوچھا۔
دوسرا اہم شکوہ یہ تھا کہ اثناء کو مسلمانوں کی طرف سے چندے کی مد میں ایک ایک شخص ہزاروں لاکھوں ڈالر دیتا ہے اس حساب سے انکے انتظامات انتہائ بے کار تھے۔ آخر یہ لوگ اتنے پیسوں کا کیا کرتے ہیں۔ اگر انہیں افطار کرانے کا طریقہ سیکھنا ہے تو جا کر کراچی کی سڑکوں کو افطار کے وقت دیکھیں کہ لوگ کتنی فیاضی سے اور قرینے سے سڑک کے کنارے دسترخوان سجائے ہوتے ہیں۔ انکی اس بات پہ مجھے رمضان میں سڑک کنارے عوامی افطار یاد آگئے جو اب کراچی کا ایک ثقافتی نشان بنتے جا رہے ہیں۔

 

اس مقام سے ایک اہم موضوع نے جنم لیا۔ وہ ہیں مساجد اور مدارس کو چندے کی مد میں حاصل ہونے والی خطیر رقومات اور انکا استعمال ہیں۔
ادھر پاکستان میں ہوش سنبھالنے سے اکثر مساجد کو تعمیر ہوتے دیکھتے آرہے ہیں وہ اب تک تعمیر ہو رہی ہیں اور اب تک چندہ چل رہا ہے۔ اکثر مساجد میں چندے کا بکس ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ یہاں کینیڈا میں بھی مساجد میں اور دیگر مذہبی اداروں میں خطیر رقم چندے کے طور پہ جمع کی جاتی ہے۔ لیکن ان تمام اداروں سے یہ حساب کتاب کون رکھتا ہے کہ وہ اس رقم کا کیا کرتے ہیں۔
اچھا، حساب کتاب رکھنا تو ایک موضوع ہے دوسرا موضوع یہ ہے کہ جو لوگ ہزاروں لاکھوں ڈالر ان مدارس اور مساجد کو دیتے ہیں وہ آخر پاکستان میں دیگر شعبوں کے اوپر کیوں خرچ نہیں کرنا چاہتے۔ سمجھ میں آتا ہے یہ سارا ثواب کا پروپیگینڈہ ہے۔ آج اگر کوئ مولانا صاحب حساب کتاب لگا کر بتا دیں کہ ایک شخص کو مستقل روزگار کا ذریعہ مہیا کرنا مسجد یا مدرسے کو چندہ دینے سے زیادہ ثواب رکھتا ہے تو لوگوں کا رجحان اس طرف ہو جائے گا۔ ان لوگوں سے ہٹ کر جو جانتے ہیں ثواب طاعت و زہد ، پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔
وطن عزیز میں تو ہم لوگوں کی جہالت کو روتے ہیں۔  ان ترقی یافتہ ممالک کو ہجرت کر جانے والے  لوگوں کی کثیر تعداد اعلی تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ لیکن جب صدقے زکوات اور دیگر پیسوں کو خرچ کرنے کی بات آتی ہے تو معذرت کے ساتھ یہ لوگ بھی کسی ویژن یا دور اندیشی  کا مظاہرہ نہیں کرتے۔
آج کے پاکستان میں ایک عام شخص کو مساجد یا دینی مدارس کی زیادہ ضرورت ہے یا ہسپتال اور اسکولوں کی، بنیادی ہنر سکھانے والے اداروں کی یا حفظان صحت سکھانے والی مہموں کی یا روائیتی روزگار کے طریقوں سے ہٹ کر نئے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کی۔
غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو ذرا اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئیے۔ آپ  چند لوگ مل کر پاکستان میں ایسے اداروں کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جہاں آپ کے پیسے زیادہ بہترین طریقے سے انسانیت کے کام آ سکتے ہیں۔  کسی نے سینکڑوں سال  پہلے کہا تھا کہ پل بنا ، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا۔ آپ لکیر کے فقیر بننے کے بجائے کچھ الگ راستے بنا سکتے ہیں۔ زمانہ آگے نکل آیا ہے۔ ضروریات مختلف ہو گئ ہیں۔ ثواب کمانے میں بھی اگر جدت طرازی آجائے، تخلیق کاری ہو جائے، تو کیا مضائقہ ہے۔ آخر بیرون ملک رہنے سے آپ کو جو ایکسپوژر حاصل ہوتا ہے اسے آپ اپنے پیسے کے ساتھ جوڑ کر کیوں نہیں اس ملک کو دیتے۔ 

ISNA
ramazan
muslim community
canada
community iftar

Sunday, July 31, 2011

جھوٹ بولے کوا کاٹے

رافعہ میری سینیئر کو لیگ ہیں اور دوست بھی۔ جب تک پاکستان میں رہیں  انکی نظریاتی ہمدردی جماعت اسلامی سے رہی۔ چند سال پیشتر وہ ہجرت کر کے کینیڈا آ گئیں۔ گذشتہ دنوں کینیڈا میں ان سے ملاقات ہوئ۔  یہاں بھی وہ اسکارف اور عبایہ پہنتی
ہیں۔ انکی سترہ سالہ اور چودہ سالہ بیٹی بھی سر پہ اسکارف لیتی ہیں۔
یہاں میں جس پاکستانی سے بھی ملتی ہوں اس سے یہ سوال ضرور کرتی ہوں کہ اسے یہاں کیسا لگتا ہے۔ یہی سوال ان سے بھی پوچھا۔ کہنے لگیں جنت کا تصور بھی کچھ ایسا ہی ہے جیسا ہم یہاں حقیقی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ بچوں کو وظیفہ ملتا ہے ہمارے بیشتر اخراجات تو اس سے ہی طے ہو جاتے ہیں۔ اسکے علاوہ شہریوں کے دیگر حقوق ہیں۔ مثلاً اسکول کی تعلیم مفت ہے۔ مجھے آپنے بچوں کی تعلیم پہ نہیں خرچ کرنا پڑتا۔ یونیورسٹی تعلیم کے لئے حکومت قرضے دیتی ہے۔ روزگار نہ ہو تو وظیفہ ملتا ہے۔ گھر میں کوئ بچہ معذور ہو تو بے شمار رعائیتیں ملتی ہیں۔ فلاحی ریاست کا اگر کوئ تصور ہے تو یہ ریاست اس پہ پوری اترتی ہے۔
ہم کام کرتے ہیں مگر زندگی کی دیگر تفریحات کے لئے وقت ملتا ہے۔ اپنے گھر کے سامنے موجود ہرے بھرے ٹیلے کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے کہا۔ سردی میں اس پہ برف جمی ہوتی ہے میں اور میرے بچے اس پہ اسکیٹنگ کرتے ہیں۔ یہ
گرمی کا موسم ہے آجکل ہم باقاعدگی سے پارک جاتے ہیں مختلف تفریحی مقامات کے لئے رعائیتی پاسز بھی موجود ہیں۔
اب رمضان آنے والا ہے آپکو تو پاکستان اس موقع پہ بڑا یاد آتا ہوگا۔ رمضان منانے کا لطف تو وہاں پہ ہے۔ میں نے پوچھا۔ انکی بچی کہنے لگی نہیں تو یہاں رمضان زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔ ہماری بلڈنگ میں کافی مسلمان ہیں۔ رمضان میں ہم افطاری لے کر مسجد چلے جاتے ہیں۔ وہاں دیگر فیملیز کے ساتھ روزہ افطار کرتے ہیں۔ مسجد میں بھی افطاری کا انتظام ہوتا ہے۔ روزانہ مفت سحری اور افطار ہوتا ہے۔ آخری عشرے میں جاگنے والی راتوں میں محفل شبینہ ہوتا ہے۔ ہم وہیں راتیں
گذارتے ہیں، بڑی رونق رہتی ہے۔
ہاں انہوں نے کہا پاکستان کی ایک چیز بڑی یاد آتی ہے اور وہ رمضان سے پہلے  ، رمضان کی وجہ سے چیزوں کی قمیتوں میں ہوش ربا اضافہ۔ بس یہ یہاں نہیں ہوتا۔  رحمت کی یہ قسم یہاں دستیاب نہیں
پاکستان میں لوگ کہتے ہیں کہ ان مغربی ممالک میں اس وقت تک آپکو قبول نہیں کیا جاتا جب تک آپ ان جیسے نہ ہوجائیں۔ یہاں کینیڈا میں یہ عالم ہے کہ ہجرت کر کے آئے ہوئے مسلمانوں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ یہاں اداروں کی پالیسیز پہ اثر انداز ہونے لگے ہیں۔انکی ایک بچی کے اسکول میں تو پچاس فی صد بچے مسلمان ہیں۔ میں نے اسکے اسکول کے کنووکیشن کی تصویر دیکھی اور ناموں سے اندازہ کیا کہ کون کون مسلمان ہیں۔
اسکول ہی نہیں اکثر ادارے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کی بڑی تعداد ہونے کی وجہ سے وہ اپنی پالیسیز میں تبدیلیاں لائے ہیں۔ کینیڈیئن پارلیمنٹ میں مسلمان ممبران موجود ہیں۔ کیلگیری کا تو میئر بھی مسلمان ہے۔ اسکے علاوہ کینیڈا میں بچوں کے اسلامی اسکول الگ سے ہیں جہاں یہاں کا منظور شدہ اسکول کا کورس بھی ہے اور ساتھ میں اسلامیات اور قرآن کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ ٹورنٹو میں ان اسلامی اسکولوں کی قابل تذکرہ تعداد موجود ہے۔
اگر صورت حال یہ ہو کہ صرف وہی لوگ رہ پاتے ہوں جو اپنے مذہب اور ثقافت کی قربانی دیتے ہیں تو یہ تبدیلی کیسے ممکن ہے کہ جس جگہ آج سے تیس سال پہلے حلال گوشت ملنا تقریباً نا ممکن تھا وہاں اب یہ بآسانی دستیاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پاکستانی خواتین اور مرد شلوار قمیض میں عوامی جگہوں پہ نظر آجائیں۔ سو، یہ کہانی سنانے والے یا تو ان علاقوں سے واقف نہیں یا پھر جان بوجھ کر ڈنڈی مارتے ہیں۔ یہ جھوٹ کیوں بولنے پہ مجبور ہیں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
میرے سامنے موجود ایک چھبیس ستائیس سالہ نوجوان نے جو اٹھارہ سال کی عمر میں پاکستان سے کینیڈا پہنچا ،  جب بڑے جذبے سے کہا کہ دنیا میں کوئ ملک کینیڈا کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ کوئ ایک ایسا ملک ایسا نہیں جہاں اتنی بڑی تعداد میں مختلف قومیتوں اور مذاہب کے لوگ اتنی ہم آہنگی سے رہ رہے ہوں۔ میں اسے رد نہیں کر سکی۔ میں نے اس سے پوچھا یہاں مختلف مذاہب اور قومیتوں کے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پھر بھی ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ پاکستان میں ایک ہی مذہب کے لوگ اکثریت میں ہیں۔ پھر بھی ایسا ممکن کیوں نہیں ہوا؟ اس فخر سے پاکستان میں رہنے والے کیوں محروم ہیں۔
اس نوجوان نے مجھے ایک جانا پہچانا جواب دیا۔ جو پہچان پہ ہے ناز تو پہچان جائیے۔


canada, pakistan, toronto, islam,  culture, islamic school,religion, ramazan, calgary, extremism,