Showing posts with label سر سید احمد خان. Show all posts
Showing posts with label سر سید احمد خان. Show all posts

Friday, October 29, 2010

اسباب بغاوت ہند اور لائل محمڈنز آف انڈیا-۲


ہنگامے کے دنوں میں کچھ مسلمان علماء نے ایسے مضامین اور رسالے لکھے جن میں عیسائیوں کو نصاری کہا گیا تھا۔ انگریز حاکموں نے اسکا برا مانا۔ انہوں نے سمجھا کہ جیسے یہودی حقارت میں حضرت عیسی کو ناصری کہتے ہیں اسی طرح مسلمان لکھنے والوں نے عیسائیوں کی توہین کی ہے اور یہ لوگ دل سے مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ انگریزوں کا رد عمل اس سلسلے میں اتنا شدید تھا کہ انہوں نے بعض ایسے علماء اور مصنفین کو پھانسی دے دی۔ سر سید نے فوری طور پہ ایک رسالہ نصاری لفظ کی تحقیق پہ لکھا اور یہ ثابت کیا کہ مسلمانوں نے جو عیسائیوں کو نصاری لکھا ہے تو اسکی مشتق ناصری نہیں بلکہ نصر ہے۔ یہ قرآن سے بھی ثابت ہے۔ قرآن میں کہیں ناصرہ کے قریہ کا تذکرہ نہیں آیا۔ بلکہ حضرت عیسی اور انکے حواریوں کے نصاری ہونے کا بیان اس طرح آیا ہے کہ حضرت عیسی نے کہا من انصاری الی اللہ تو حواریوں نے کہا نحن انصاراللہ۔ سورہ مائدہ میں ارشاد ربانی ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو پائے گا اہل کتاب میں سب سے زیادہ مسلمانوں کا دوست انکو جنکا قول ہے کہ ہم نصاری ہیں انہوں نے اس مضون کا ترجمہ انگریزی میں کروایا اور سب انگریز حاکموں کو اسکی نقل بھیجی۔ یہ مضمون اردو ااور انگریزی اخبارات میں بھی چھپوایا۔ اس مضمون کی اشاعت کے بعد لفظ نصاری کا قصہ ختم ہوا اور اس بناء پہ مسلمانوں کو سزائیں دینے کا سلسلہ بند ہوا۔



اسی وقت انگریز اور ہندو مصنفین نے بھی تحاریر کا سلسلہ شروع کیا ہوا تھا اور ان میں سے اکثر کا مءوقف یہ تھا کہ مسلمان مذہباً عیسائیوں کے دشمن ہیں انکا مذہب انہیں عیسائیوں کے خلاف جہاد کرنے کی تعلیم دیتا ہے بلکہ عیسائیوں کے خلاف جہاد ان پہ مذہباً فرض ہے۔ وہ انگریزی حکومت کے خیر خواہ ہو ہی نہیں سکتے۔ یہ پروپیگینڈہ انتہائ زہریلا تھا اور اس سے مسلمانوں کا ہندوستان میں بطور مسلمان رہنا مشکل نظر آرہا تھا۔ یہ تباہی بالکل سامنے تھی اور واضح ہوتی جارہی تھی۔ سر سید ان الزامات کا اثر زائل کرنے کمر بستہ ہوئے۔ انہوں نے رسائل کا ایک سلسلہ شروع کیا جس کا نام لائل محمڈنز آف انڈیا رکھا۔ اس میں پہلے تو انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ مذہب کی رو سے ہندوستان کی تمام اقوام میں صرف مسلمان ہی ایسی قوم جو انگریزوں کی وفادار ہو سکتی ہے
قرآن اور احادیث کا حوالہ دیا کہ جسطرح مسلمان اپنے رسول پہ ایمان رکھتے ہیں اسی طرح وہ حضرت عیسی اور بائبل پہ یقین رکھتے ہیں. اسلام کسی ایسے گروہ یا جماعت کے خلاف جہاد کی اجازت نہیں دیتا جو انکے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں مخل نہ ہو۔ پھر سر سید نے ہندوستان بھر سے ایسے مسلمانوں کے کوائف اکٹھا کئے جو ہنگامے کے دنوں میں انہی کی طرح انگریزوں سے خیر خواہی اور ہمدردی کا رویہ رکھا اور انکی حفاظت کے لئے اپنی اور اپنے گھر والوں کی جانوں کی قربانی دی۔
انگریزوں کا ایک عام عقیدہ اس وقت یہ تھا کہ اسلام اور تہذیب و شائیستگی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ سر سید نے دلیلیں اور مستند حوالے اکٹھے کرکے یہ ثابت کیا کہ اسلام اور صرف اسلام ہی سب سے بڑھ کر تہذیب و شائیستگی، خوش اخلاقی اور دوسروں سے ہمدردی کا سبق دیتا ہے۔

یہ رسالے ظاہر ہے مسلمانوں کی طرفداری میں لکھے گئے تھے اس لئے سر سید لکھتے ہیں کہ۔
ہاں یہ بات تو مجبوری کی ہے کہ میری پیدائیش ہندوستان میں ہوئ اور میں بلاشبہ مسلمان ہوں اور مسلمانوں کا ذکر خیر اس کتاب میں لکھتا ہوں۔

سر سید کی ہمہ گیر اور مختلف النوع قومی جد وجہد کے لئے مولانا صلاح الدین احمد اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں
ایک معرکہ ء عظیم ہے جس کے مختلف محاذوں پہ بیک وقت یورش جاری ہے اور دفاع بھی۔ اور بڈھا سپہ سالار ایک ہاتھ میں دوربین اور دوسرے میں شمشیر عمل لئے ہر مورچے پر مثل برق پہنچتا اور مثال ابر گرجتا ہے۔

جاری ہے

Tuesday, October 19, 2010

سر سید اور اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی-۱

سر سید کو بجنور میں بطور صدر امین دو سال چار ماہ گذرے تھے کہ دس مئ اٹھارہ سو ستاون کو یکایک وہ خوں ریز لڑائ شروع ہوئ جسے انگریزوں نے بغاوت اور غدر کا نام دیا اور مسلمان مورخین نے جنگ آزادی کا۔ ہنگامے کی وجوہات ایسی تھیں کہ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں انگریز حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں کی نفرت زیادہ شدید تھی۔ مقامی لوگ بے قابو ہو کر ان انگریز مردوں اور بچوں کو بھی موت کے گھاٹ اتارنے لگے جو انگریزی فوج کا حصہ نہ تھے اور جن کا جنگ سے تعلق نہ تھا۔ اس طرح کے تقریباً بیس گھرانے بجنور میں تھے۔ سر سید نے انکی حفاظت کی ٹھان لی۔ بجنور کے کلکٹر مسٹر شیکسپیئر کی متفکر بیگم سے سر سید نے کہا کہ
جب تک ہم زندہ ہیں آپکو گھبرانا نہیں چاہئیے۔ جب آپ دیکھیں کہ میری لاش کوٹھی کے باہر پڑی ہے اس وقت گھبرانے میں مضآئقہ نہیں۔
اس مصیبت میں انہوں نے کئ راتیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جاگ کر  ، اور مسلح پہرہ دیتے ہوئے گذاریں۔ایک دن جب سب کا باغیوں کے ہاتھوں مارا جانے کا پورا یقین تھا۔ سر سید تنہا اس جماعت کے پاس گئے اور نواب محمود خان جو انکا سرغنہ تھا اس سے  کی اور کہا کہ چند انگریزوں کے مارے جانے سے کیا ہاتھ آئے گا۔ بہتر ہے کہ انہیں صحیح و سالم یہاں سے جانے دو۔ اور تم ملک کے مالک بن جاءو۔
سر سید ان دنوں کا احوال لککھتے ہیں کہ
مجھ سے اگر کچھ اچھی خدمت یا وفاداری گورننٹ کی ہوئ تو وہ بالکل میں نے اپنے مذہب کی پیروی میں کی۔ میں نے جو کچھ کیا اپنے خدا اور رسول کی اطاعت کی۔
نواب محمود خان بجنور پہ قابض ہو گیا۔ لیکن اس سے پہلے انگریز خاندانوں کو بحفاظت نکالا جا چکا تھا۔ اس نے سر سید کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا جس پہ اس نے انہیں انکی سرکاری رہائیش گاہ سے نکال دیا۔ سر سید یہاں سے کسی طرح جان بچا کر نکلے اور میرٹھ پہنچے تو پاس چھ پیسے اور پہنے ہوئے پھٹ کرتے کے سوا کچھ نہ تھا۔ پانچ ماہ تک سر سید میرٹھ میں رہے اتنے میں دہلی سے خبریں آئیں کہ انگریزی فوج نے شہر پہ قبضہ کر لیا۔ مسلمانوں کو بے دریغ مارا جا رہا ہے۔ سر سید کے ماموں اور ماموں زاد بھائ مارے گئے۔ انکے انتہائ عزیز دوست امام بخش صہبائ گولی کا نشانہ بن گئے۔ خود سرسید کا گھر لوٹ لیا گیا۔
انکی بوڑھی والدہ نے گھر سے بھاگ کر اپنی ایک پرانی جاننے والی عورت زیبن کے گھر میں پناہ لی۔ جسکی دیکھ بھال وہ کیا کرتی تھیں۔ سر سید جب مہینوں بعد اپنی والدہ سے ملے تو انہیں دیکھتےہی والدہ نے کہا۔ تم کیوں یہاں چلے آئے یہاں تو لوگوں کو مارے ڈالتے ہیں۔ تم جاءو۔ ہم پہ جو گذرے گی گذر جائے گی۔ سر سید نے انہیں تسلی دی کہ وہ قلعے کے انگریزوں سے مل کر آرہے ہیں۔ اور انکے پاس حاکموں کی چٹھیاں ہیں۔ معلوم ہوا کہ دو دن سے پانی نہیں پیا۔ تو پانی کی تلاش میں نکلے۔ قلعے سے پانی لے کر دوبارہ وہاں پہنچے تو راستے میں زیبن ملی۔ وہ سڑک پہ بیٹھی ہوئ تھی۔ اور پاس مٹی کا آب خورہ اور صراحی تھی۔ وہ پانی کی تلاش میں نکلی تھی۔ ہاتھ سے اشارہ کر کے گھر کی طرف کہا کہ بیوی یعنی والدہ پیاسی ہیں۔ سر سید نے انہیں پانی پلایا اور پھردوڑے ہوئے گھر گئے۔ وہاں خالہ اور والدہ کو پانی دیا۔ گھر سے باہر سواری کا انتظام کرنے نکلے تو دیکھا کہ زیبن مری پڑی ہے۔ آخر سرکاری ڈاک لے جانے والی شکرم میں اپنی والدہ اور خالہ کو لے کر میرٹھ آئے۔
وہاں چند روز بیماری کے بعد انکی والدہ کا انتقال ہو گیا۔

Thursday, October 7, 2010

سر سید اٹھارہ سو ستاون سے پہلے-۲

گذشتہ سے پیوستہ


آئین اکبری کی تدوین ، ترتیب اور تصحیح میں جو محنت اور جاں فشانی سر سید نے دکھائ وہ حیرت انگیز ہے۔ یہ کتاب ابوالفضل نے لکھی تھی.  اس کتاب کا اسلوب نہایت مشکل اور پیچیدہ تھا۔ پھر مزید مشکل یہ کہ  اس میں ہر طرح کے سنسکرت، فارسی، عربی، ترکی اور ہندی الفاظ استعمال کئے گئے تھے۔۔ مختلف نسخوں میں کاتبوں کی غلطی کی وجہ سے عبارت میں فرق آ گیا تھا۔ سر سید نے مختلف نسخوں کا تقابلی مطالعہ کیا۔  مشکل اور نامانوس الفاظ کی تشریح کی۔ اکبر کے زمانے کی اشیاء کے نام، طرز بو دو باش، رہائیش و استعمال کی اشیا، غرض کہ ہر شے کی تصاویر دلی کے لائق مصوروں سے بنوا کر کتاب میں شامل کیں۔

واقعات کے سن و سال ، اس زمان کی ٹیکس کی رقوم اور محاصل، اکبر کے عہد کی شاہی محاصل کی رقوم آئین اکبری کے مختلف نسخوں میں مختلف درج تھیں۔ سر سید نے انہیں تحقیق کر کے درست کیا۔  ہر طرح کی جدولوں کی تصحیح کی۔ در حقیقت یہ کام سر سید کے علاوہ کسی کے بس کا نہ تھا۔ اس کتاب کو یوروپ میں بڑی پذیرائ ملی۔ اس کتاب میں مسلمانوں کے ایک بادشاہ یعنی اکبر کے کارناموں کو بڑے دلنشیں پیرائے میں بیان کیا گیا تھا جس سے یوروپ آشنا نہ تھا۔۔۔ اس کتاب کی تقریظ سر سید نے مرزا غالب سے لکھوانی چاہی۔ انہوں نے سوچا کہ مرزا غالب ہی انکی اس محنت کی قدر جان سکتے ہیں۔ غالب نے بجائے نثر کے اسکی تقریظ فارسی نظم میں ایک مثنوی کے پیرائے میں لکھی۔
اس تقریظ کے تذکرے سے پہلے  یہ جاننا چاہئیے کہ  یہ وہ زمانہ تھا  جب غالب اپنا مشہور زمانہ پینشن کا مقدمہ لڑ رہے تھے اور اسکے لئے انہیں کلکتہ کا سفر کرنا پڑا۔  کلکتہ شہر کی صفائ، دفتری کاموں کے طریقے اور انتظام اس سے غالب بہت متائثر ہوئے۔ پانی پہ چلتی بھاپ کے انجن سے چلنے والی کشتی نے انہیں حیران کر دیا۔ یہ سب  دیکھ کر غالب  انگریزوں کی ترقی  اور حسن انتظام کے قائل ہو گئے۔  کلکتہ شہر کی اس خوبی کا تذکرہ اپنے دیوان میں اس طرح کرتے ہیں کہ
کلکتہ کا جو تونے ذکر کیا اے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
اس تقریظ کو ڈاکٹر خورشید رضوی کے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے  کہ
اس دفتر پارینہ کو زندہ کرنے کے لئے سر سید جیسے با صلاحیت آدمی کا اس قدر محنت صرف کرنا وقت کا زیاں ہے۔ یہ وقت آئین اکبری پہ نگاہ بازگشت ڈالنے کا نہیں بلکہ انگریزوں کے دستور آئین سے نظر ملانے کا ہے۔ جنہوں نے عناصر فطرت  کو تسخیر کر کے نو بہ نو ایجادات کی ہیں اور بحر و بر پہ اپنا سکہ رواں کر دیا ہے۔
سر سید کو توقع نہ تھی اور اس سے انہیں رنج پہنچا۔ انہوں نے اسے مرزا غالب کو واپس کر دیا کہ یہ مجھے درکار نہیں۔ مگر غالب کو اپنی رائے کی اہمیت کا اندازہ تھا۔ اسی لئے انہوں نے غالباً اسے نظم میں لکھا تھا۔ اور اسے اپنی کلیات فارسی میں شامل کر دیا۔ غالب نے سر سید کو لکھا۔
ابھی تک آپ اپنے پرانے آئین جہاں بانی کی ترتیب و تصحیح میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ زندگی کا نیا آئین کلکتہ پہنچ گیا ہے اور بہت جلد ہند کی ساری تہذیبی زندگی کو اپنی گرفت میں لے لیگا۔
غالب آخر غالب رہے۔
سر سید ان سے کبیدہ خاطر تو ہوئے۔ لیکن یہ شاید اسی کا اثر تھا کہ انہوں نے اپنی اس کوشش کا زیادہ تذکرہ کبھی نہیں کیا۔ اور شاید یہی چیز ان میں ایک مصلح قوم کو مہمیز دینے باعث بنی۔ مگر تاریخ کہتی ہے کہ اگر اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کا واقعہ نمودار نہ ہوتا تو سر سید اپنے انہی کاموں میں مصروف رہتے۔ یہ وہ لمحہ تھا جس نے انکے تصورات کی دنیا کو بدل دیا۔

حوالہ؛
سر سید احمد خان ، شخصیت اور فن۔ اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد
موج کوثر، شیخ محمد اکرام ، سروسز بک کلب، آرمی ایجوکیشن ڈائریکٹوریٹ


سر سید اٹھارہ سو ستاون سے پہلے-۱

گذشتہ سے پیوستہ

اٹھارہ سو اٹھارہ میں سر سید کے والد کا انتقال ہوا۔ اس وقت انکی عمر اکیس سال تھی۔ تب انہوں نےملازمت کا ارادہ  کیا۔ اپنے خالو کے پاس جا کر کام سیکھنا شروع کیا جوکہ دہلی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے صدر امین تھے۔ اور وہیں سر رشتےدار ہو گئے۔ بعد میں جب دہلی کے سیشن جج نے انہیں سیشن کورٹ میں سر رشتے دار لگانا چاہ تو انکار کر دیا کہ ابھی اس کام کے لائق نہیں۔ اٹھارہ سو انتیس میں رابرٹ ہیملٹن کمشنر آگرہ مقرر ہوئے تو سر سید کو نائب منشی کا کام سپرد کر دیا۔ سر سید نے اس دوران دل لگا کر کام سیکھا اور دیوانی قوانین کا ایک خلاصہ تیار کر لیا۔ اسے دیکھ کمشنر بہت متائثر ہوا اور اسکی ایک کاپی اعلی حکام کو بھیج کر سفارش کی کہ انہیں منصف کے عہدے پہ تعینات کیا جائے۔اس عہدے کے لئے منصفی کا ایک امتحان ہوتا تھا جس میں سر سید پہلی کوشش میں کامیاب ہو گئے۔ یہ خلاصہ قوانین منصفی کے امتحان کے امیدواروں کے لئے بڑا مجرب نسخہ ثابت ہوا۔ اسکا نام سر سید نے انتخاب الاخوین تجویز کیا۔۔ چند ہی روز میں تمام صوبوں سے شائع ہو گیا اور کئ امیدواروں نے اسکی بدولت منصفی حاصل کی۔ اٹھارہ سو چوراسی میں انجمن اسلامیہ لاہور نے انکی لاہور آمد پہ استقبالیہ دیا اور بطور خاص اسکا تذکرہ کیا۔
ملازمت میں آنے سے پہلے وہ اپنے بڑے بھائ کے ساتھ اخبار 'سید الخبار' نکالا کرتے تھے اٹھارہ سو بیالیس میں وہ فتح پور سیکری میں منصف مقرر ہوئے۔ یہاں مولانا نور الحسن کی صحبت رہی اور انکے توجہ دلانے پہ شاہ عبدالعزیز کی شیعیت کے متعلق کتاب 'تحفہ اثنا عشریہ کے دو باب ترجمہ کئے۔ اس دوران میلاد کی مجلسوں کے لئے تین رسالے لکھے۔ اسکا خیال اس لئے آیا کہ اس وقت رسول اللہ کی ولادت، حالات زندگی اور وصال کے بارے میں موجود عام کتابچوں میں صحیح روایات نہ تھیں۔ اور ان میں بہت سی بے بنیاد اور توہم پرست باتیں راہ پا گئ تھیں۔ دوسرا رسالہ تحفہ حسن  کے نام سے لکھا۔ جس میں اہل تشیع کے حضرت ابو بکر صدیق  پہ بے جواز طعن و تشنیع کا جواب لکھا اور تولا اور تبرہ پہ عقلی نکتہ چینی  کر کے انکی اصلیت واضح کی۔ ایک تیسرا رسالہ تسہیل فی جرالثقیل کے نام سے لکھا جو ایک عربی رسالے کا ترجمہ تھا۔ سید احمد بریلوی، شاہ اسمٰیل شہید اور شاہ عبد العزیز محدث دہلوی سے عقیدت و محبت رکھتے تھے۔ اس زمانے میں اپنے آپکو علی الاعلان وہابی کہتے تھے جب سب وہابی باغی سمجھے جاتے تھے۔ سید احمد کی تحریک اصلاح سے متائثر تھے۔ انہوں نے سید احمد اور شاہ اسمعیل کی تائید میں کئ کتابیں لکھیں۔ ان میں راہ سنت و رد بدعت بھی شامل ہے۔ یہ کتاب اٹھارہ سو پچاس میں لکھی۔ ڈاکٹر ہنٹر کی کتاب کا جواب لکھتے ہوئے سر سید لکھتے ہیں کہ
مولانا سید احمد اور ٹھیک ٹھیک سمجھو تو شاہ اسمعیل کی تمام کوشش اس بات پہ مبذول تھی کہ ہندوستان میں اپنے مذہب اسلام کی تہذیب اور اصلاح کرنی چاہئیے۔
سر سید کے عقائد میں بعد میں تبدیلیاں ہوئیں لیکن مولانا سید احمد بریلوی کا اصلاحی جوش ان میں تمام عمر باقی رہا۔
اٹھارہ سو چھیالیس میں انہیں دہلی شہر کے نواح میں موجود پرانی عمارتوں کی تحقیق کا شوق ہوا۔۔ انہوں نے بڑے ذوق و شوق سے اس پہ کام کیا اور ایسی شاید ہی کوئ دستاویز اس موضوع پر میسر ہو۔ انہوں نے سو کے قریب پرانی عمارتوں کا بغور جائزہ لیا۔ انکے کتبے پڑھے۔ پھر انکی نقلیں تیار کیں اور یہ اہتمام کیا کہ ان میں وہی رسم الخط رکھا جائے جس میں کتبے کی اصل عبارت موجود تھی۔ ہر عمارت کے بنانے والے کے حالات، عمارت کی تعمیر کا مقصد،، اسکی مختصر تاریخ، عمارت کا اسکیچ، اسکی شکست و ریخت اور اس میں اضافوں کا حال، اسکے نقشے اور تعمیر کی فنی باریکیاں غرض ہر ممکنہ تفصیل انہوں نے اس میں ڈالی۔
سر سید لکھتے ہیں کہ
قطب صاحب کی لاٹ کے بعض کتبے جو زیادہ بلند ہونے کے سبب پڑھے نہیں جا سکتے تھے انکے پڑھنے کو ایک چھینکا دو بلیوں کے بیچ میں ہر ایک کتبے کے محاذی بندھوا  لیا کرتے تھے۔ میں خود اوپر چڑھ کر ہر کتبے کا چربہ اتارتا تھا۔
یہ کتاب صرف ڈیڑھ سال کے عرصے میں مکمل کی گئ اور طبع بھی ہو گئ۔۔
اس کتاب کا چوتھا باب دلی کے مشہور اور نامور لوگوں کے ذکر پہ ہے جس میں ایک سو بیس مشائخ، علماء، فقراء، مجذوبوں، اطباء، قراء، شعراء، خوش نویسوں یا خطاطوں، مصوروں اور موسیقاروں  کا تذکرہ ہے۔
کتاب کا پہلا ایڈیشن امام بخش صہبائ کے زیر اثر ادق اور پیچیدہ  تھا۔ جس کا جلد ہی سرسید کو اندازہ ہو گیا اور دوسرا ایڈیشن انہوں نے  ازسرنو لکھا اور مطالب کو آسان زبان میں بیان کیا۔
دہلی کے ڈپٹی کمشنر کو یہ کتاب اتنی پسند آئ کہ وہ اسے اپنے ساتھ لندن لے گیا۔ واپسی پہ اس نے سر سید کے ساتھ بیٹھ کر اسکا ترجمہ انگریزی میں کیا۔ لیکن یوروپ میں جو انگریزی ترجمہ پھیلا وہ موسیو گارسن دتاسی کا فرانسیسی ترجمہ تھا جو انہوں نے اٹھارہ سو ساٹھ میں کیا تھا۔ یہ کتاب یوروپ کے علمی حلقوں میں بڑی سراہی گئ اور اسکی وجہ سے لندن کی رائل ایشیاٹک سوسائٹی نے سرسید کو اپنا آنریری  فیلو بنا لیا۔
سر سید نے ایک اور رسالہ لکھا جس میں انہوں اس موضوع پہ دلائل جمع کئیے کہ زمین حرکت نہیں کرتی مگر بعد میں اپنے اس خیال سے رجوع کر لیا ور حرکت زمین کے قائل ہو گئے۔ اس کتاب کا نام ہے قول متین و رابطال حرکت زمین۔
پیری مریدی کے مروجہ طریقے کے خلاف ایک رسالہ کلمۃ  الحق لکھا۔  سلسلہ نقشبندیہ میں تصور شیخ کے حق اور اسکی وضاحت میں ایک رسالہ اٹھارہ سو تریپن میں لکھا۔ سلسلۃ الملوک کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس میں پانچ ہزار سال تک کے ان راجاءوں، فرماں رواءوں اور سلاطین اور بادشاہوں کی فہرست مرتب کی جو دہلی کے حکمران رہے۔  اور انکی تعداد راجہ یدہشٹر سے لیکر ملکہ  قیصر ہند تک تقریباً دو سو دو بنتی ہے۔ انکے مختصر کوائف بھی اس میں موجود ہیں۔
اٹھارہ سو پچپن میں انہیں بجنور میں صدر امین مقرر کیا گیا تو تو انہوں نے بجنور کی مفصل تاریخ لکھنا شروع کی اور آئین اکبری پہ کام شروع کیا۔

جاری ہے

Wednesday, September 15, 2010

سر سید کا عہد-۲


اب ان تمام باتوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ 1870 میں مسلمانوں کی کیا حالت تھی۔ ملازمتوں میں وہ نہ ہونے کے برابر تھے۔ سرکاری ملازمتوں کے ہاتھ میں کئ طرح کا اختیار ہوتا ہے اس لئے یہ کمی انہیں مہنگی پڑ رہی تھی۔ شمالی ہندوستان کے مسلمانوں نے تجارت میں کبھی امتیاز حاصل نہیں کیا اور زمینیں قرضے کی وجہ سے انکے ہاتھ سے نکلی جا رہی تھیں۔
حالات اتنے خراب تھے کہ سر سید نے خود ہندوستان چھوڑ کر مصر کی سکونت اختیار کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے بعد میں اپنے ایک لیکچر میں کہا
میں اس وقت ہرگز نہیں سمجھتا تھا کہ قوم پھر پنپے گی اور عزت پائے گی۔ اور جو حال اس وقت قوم کا  تھا، مجھ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔
لیکن بعد ازاں انہوں نے اپنا یہ ارادہ ترک کیا اور فیصلہ کیا کہ
نہایت نا مردی اور بے مروتی کی بات ہے کہ اپنی قوم کو اس تباہی کی حالت میں چھوڑ کر خود کسی گوشہ ء عافیت میں جا بیٹھوں۔ نہیں، اس مصیبت میں شریک رہنا چاہئیے اور جو مصیبت پڑے اسکے دور کرنے کی ہمت باندھنی قومی فرض ہے۔

اس وقت مسلمانوں کے تمام تر مسائل اقتصادی نہ تھے بلکہ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق تھے۔ یہ اقتصادی اور ذہنی پستی ایک ہی ذریعے دور ہو سکتی تھی اور وہ یہ کہ مسلمان تعلیم  حاصل کریں اور وہ تعلیم حاصل کریں جو انہیں حکمرانوں کی زبان اور مزاج سمجھنے میں آسانی دے۔ کیونکہ انگریز اپنی حکمرانی میں اپنا ذریعہ ء تعلیم نہیں تبدیل کرنے والے تھے۔  اس لئے مسلمانوں کے لئے یہ لازمی عنصر ہو چلا تھا کہ وہ انگریزی تعلیم میں دلچسپی لیں۔  
علی گڑھ کی تحریک نے یہ سب ذمہ داری اٹھائ۔ ایک ایسے دور بیں مصلح کی حیثیت سے سر سید احمد خان آگے بڑھے  جبکہ مسلمانوں کی اس حالت زار کے باوجود علماء  کی اکثریت انگریزی تعلیم کو حرام قرار دے رہی تھی انہوں نے مسلمانوں کو اس چیز کے لئے تیار کیا کہ اپنی بقاء کے لئے یہ کام کرنا ہی پڑے گا۔
انہیں اس چیز کا ادراک اس قدر زیادہ تھا کہ تحریک پاکستان کے وجود میں آنے سے بھی کئ دہائیاں پہلے وہ، وہ پہلے شخص تھے جنہوں نےاس ہندوستان کا تصور کیا جو انگریزوں کے ہندوستان سے رخصت ہو جانے کے بعد ہو جاتا۔
وہ لکھتے ہیں کہ
فرض کریں کہ تمام انگریز انڈیا چھوڑ جاتے ہیں تو کون انڈیا کی حکمرانی کرے گا۔ ان موجودہ حالات میں کیا یہ ممکن ہے کہ دو قومیں مسلمان اور ہندو ایک ساتھ حکمرانی کر سکیں اور طاقت میں برابر کے شراکت دار ہوں۔ ایسا یقیناً نہیں ہوگا۔ یہ بالکل ضروری ہوگا کہ ان میں سے ایک دوسرے کو فتح کرے اور اسے ہٹا دے۔
یہ وہ نکتہ تھا جسے انکی وفات کے چالیس سال بعد قیام پاکستان کی تحریک کی بنیاد بنایا گیا۔ سر سید کی دور بیں بصارت نے اس منظر کو اس وقت دیکھا جب انگریزوں کے ملک سے جانے کے متعلق عام شخص سوچ بھی نہ سکتا تھا۔

اسی موضوع پہ پچھلی تحاریر یہاں دیکھئیے۔ 

سر سید کا عہد-۱

سر سید پہ مزید بات  کرنے سے پہلے ہمیں اس زمانے کے حالات پہ ضرور ایک نظر ڈالنی چاہئیے۔ جب سر سید احمد خان نے بر صغیر کے مسلمانوں کے جمود کو توڑنے کی کوشش کی۔ کیونکہ ہر بڑی شخصیت پہ اپنے عہد کا عکس ہوتا ہے اور وہ اپنے عہد کے مسائل کو اسی عہد میں میسر علمی اور ذہنی وسائل سے دیکھتا اور انکے حل تلاش کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اٹھارہویں صدی کے ایک شخص پہ ہم حیران ہوں کہ اس نے کمپیوٹر کیوں نہیں بنایا۔ انسانی عقل نے بتدریج ترقی کی اور اسے ہی ارتقاء کہتے ہیں۔
جب مغل سلطنت اپنے انحطاط کا شکار تھی تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔ بنگال میں  1757 میں پلاسی کی جنگ ہوئ اور میر جعفر کی  حکمرانی میں کمپنی کی  حکومت قائم ہوئ۔  ادھر پنجاب می، رنجیت سنگھ نے مسلمان حکمرانوں کو شکست دے کر انکا  تقریباً ہزار سال کا دور اقتدار ختم کیا اور ملتان سے لے کر پشاور تک اپنی حکومت قائم کی۔ اپنی حکومت کا صدر مقام اس نے لاہور کو منتخب کیا۔ 1839 میں اسکے انتقال کے بعد وہاں انگریزوں کو قدم جمانے کا موقع ملا۔ اٹھارہ سو پینتالیس میں یہ علاقہ بھی انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔سندھ 1843 میں اور اودھ 1856 میں کمپنی نے ملحق کئے۔ اسکے بعد بھی اگر کوئ علامتی اقتدار مسلمانوں کا باقی تھا تو اسے جنگ آزادی اٹھارہ سو ستاون کے ہنگامے نے مٹا دیا۔
اس سیاسی انقلاب کے ساتھ مسلمانوں کا اصل اقتصدای اور تمدنی انحطاط شروع ہوا۔
ڈاکٹر ویلیئم ہنٹر کی کتاب ' آور انڈین مسلمانز' میں اس وقت مسلمانوں کی حالت زار کی ایک تصویر موجود ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ
مسلمانوں کو حکومت سے بہت سی شکایات ہیں۔ ایک تو یہ کہ تمام اہم عہدوں کا دروازہ ان پہ بند کر دیا گیا ہے۔ طریقہ ء تعلیم ایسا ہے کہ ان میں انکی قوم کے لئے کوئ انتظام نہیں۔ قاضیوں کا نظام ختم کر کے جو انگریزی نظام عدلیہ آیا ہے اس سے ہزاروں خاندانوں کو جو فقہ اور اور اسلامی علوم کے پاسبان تھے بے کار اور محتاج کر دیا ہے۔ انکے اوقاف کی آمدنی، جو انکی تعلیم پہ خرچ ہونی چاہئیے تھی وہ غلط مصارف پہ خرچ ہو رہی ہے۔  وہ مسلمان جو پہلے جاگیروں کے مالک تھے وہ اب قرض کی دلدل میں ڈوبے ہوئے ہیں اور کوئ ہندو قرض خواہ ان پہ نالش کرتا ہے اور اور وہ رہی سہی جمع پونجی سے بھی جاتے ہیں۔
وہ لکھتا ہے کہ
مسلمانوں کی بد قسمتی کا صحیح نقشہ ان محکموں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ جن میں ملازمتوں کی تقسیم پر لوگوں کی اتنی نظر نہیں ہوتی۔ 1869 میں ان محکموں کا یہ حال تھا کہ اسسٹنٹ انجینیئروں کے تین درجوں میں چودہ ہندو اور مسلمان صفر۔ امیدواروں میں چار ہندو، دو انگریز اور مسلمان صفر۔ سب انجینیئروں اور سپر وائزروں میں چوبیس ہندو اور ایک مسلمان۔ اوور سیئروں میں تریسٹھ ہندو اور دو مسلمان۔ اکائونٹس ڈیپارٹمنٹ میں پچاس ہندو اور مسلمان معدوم۔
سرکاری ملازمتوں کے علاوہ ہائ کورٹ کی فہرست بڑی عبرت آموز تھی۔ ایک زمانہ تھا کہ یہ پیشہ بالکل مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا۔ اسکے بعد 1851 تک بھِ مسلمانوں کی حالت اچھی رہی اور مسلمان وکلاء کی تعداد ہندءووں اور انگریزوں کے مقابلے میں کم نہ تھی۔ لیکن اسکے بعد تبدیلی شروع ہوئ۔ نئ طرز کے آدمی آنا شروع ہوئے اور امتحانات کا طریقہ بدل دیا گیا۔ 1852 سے ۱868 تک جن ہندوستانیوں کو وکالت کے لائسنس ملے۔ ان میں 239 ہندو تھے اور ایک مسلمان۔
ڈاکٹر ہنٹر مزید لکھتے ہیں کہ
اگلے دن ایک بڑے سرکاری محکمے میں دیکھا گیا کہ سارے ڈیپارٹمنٹ میں ایک بھی اہلکار ایسا نہ تھا جو مسلمانی زبان سے واقف ہو اور حقیقتاً اب کلکتے میں شاید ہی کوئ سرکاری دفتر ایسا ہوگا، جس میں کسی مسلمان کو دربانی، چپڑاس یا دواتیں بھرنے اور قلم درست کرنے کی نوکری سے زیادہ کچھ ملنے کی امید ہو سکتی ہو۔' چنانچہ انہوں نے کلکتہ کے ایک اخبار کی شکایت نقل کی ہے کہ  تمام ملازمتیں اعلی ہوں یا ادنی آہستہ آہستہ مسلمانوں سے چھینی جا رہی ہیں اور دوسری قوموں بالخصوص ہندءووں کا بخشی جاتی ہیں۔ حکومت کا فرض ہے کہ رعیت کے تمام  طبقوں کو ایک نظر سے دیکھے۔ لیکن اب یہ عالم ہے کہ حکومت سرکاری گزٹ میں مسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے علیحدہ رکھنے کا کھلم کھلا اعلان کرتی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ ملک جب ہمارے قبضے میں آیا تو مسلمان سب قوموں میں بہتر تھے۔ نہ صرف وہ دوسروں سے زیادہ بہادر اور جسمانی طور پہ زیادہ توانا اور مضبوط تھے بلکہ سیاسی اور انتظامی قابلیت کا ملکہ بھی ان میں زیادہ تھآ۔ لیکن یہی مسلمان آج سرکاری ملازمتوں اور غیر سرکاری اسامیوں سے یکسر محروم ہیں۔


جاری ہے

Saturday, September 4, 2010

سر سید احمد خان-تعلیم۔ ۱

گذشتہ سے پیوستہ

سر سید کا نام انکے والد کے پیر و مرشد ، شاہ غلام علی نے احمد خان رکھا تھا۔ وہ پیدائیش کے وقت بڑے تندرست اور صحت مند تھے۔ جب انکے نانا نے انہیں پہلی دفعہ دیکھا تو کہا ' یہ تو ہمارے گھر میں جاٹ پیدا ہوا ہے'۔
وہ اپنے بچپن میں شوخ، شرارتی اور مستعد تھے۔ ایک دفعہ اپنے ہمجولی کو مکا دے مارا اس نے ہاتھ پہ روکا تو اسکی انگلی اتر گئ۔ بچپن میں وہ پڑھائ لکھائ میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے تھے، نہ انہوں نے تعلیم کے دوران کسی غیر معمولی ذہانت یا طباعی کا مظاہرہ کیا۔لیکن وہ اپنا سبق باقاعدگی سے یاد کرتے تھے۔ گھر میں پڑھنے لکھنے کا ماحول تھا۔ انکی والدہ اور نانا انکی تدریس اور تعلیم کا خیال رکھتے تھے۔اپنے نانا کے ساتھ کھانے کا تذکرہ سر سید اس طرح کرتے ہیں۔
میرے نانا صبح کا کھانا اندر زنانہ میں کھاتے تھے۔ بچوں کے آگے خالی رکابیاں ہوتی تھیں۔ نانا صاحب ہر ایک بچے سے پوچھتے تھے کہ کون سی چیز کھاءوگے؟ جو کچھ وہ بتاتا وہی چیز چمچے میں لے کر اپنے ہاتھ سے اسکی رکابی میں ڈال دیتے۔ تمام بچے  بہت ادب اور صفائ سے انکے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ سب کو خیال رہتا تھا کہ کوئ چیز گرنے نہ پائے۔ ہاتھ کھانے میں زیادہ نہ بھرے اور نوالہ چبانے کی آواز منہ سے نہ نکلے۔ رات کا کھانا وہ دیوان خانے میں کھاتے تھے ہم سب لڑکے انکے ساتھ بیٹھتے تھے۔ ہم کو بڑی مشکل پڑتی تھی۔ نہایت سفید چاندنی کا فرش بچھا ہوا ہوتا تھا کسی کے پاءوں کا دھبہ سفید چاندنی پر لگ جاتا تھا تو اسکو بھگا دیتے تھے کہ کتے کے پاءوں کیوں رکھتا ہے۔ روشنائ وغیرہ کا دھبا کسی کے کپڑے پر ہوتا تھا تو اس سے بھی نا خوش ہوتے تھے۔
سر سید میں اظہار بیان کا ایک قدرتی جوہر تھا۔ جو بعد میں انکی شخصیت کا وصف بن کر سامنے آیا۔ اسکا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے۔
سر سید ایک دن اپنے نانا حضور کو سبق سنا رہے تھے کہ اس مصرعے پہ پہنچے۔ طمع را سہ حرف است، ہر سہہ تہی۔
سر سید نے ترجمہ کیا طمع کے تین حرف تینوں خالی۔ وہ خفا ہوئے بولے۔ 'بے پیر، سبق یاد نہیں کرتا۔'۔ سر سید کہتے ہیں مجھے اتنا رنج ہوا کہ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔  بعد میں خیال آیا کہ است کا ترجمہ نہیں کیا۔ ورنہ فقرہ یوں ہوتا۔ طمع کے تین حرف ہیں تینوں خالی۔ لیکن دیکھا جائے تو سر سید کا بے ساختہ ترجمہ زیادہ رواں، فصیح اور اردو محاورے کے قریب ہے۔