دو دن سے جتنے فون بیرون ملک سے آرہے ہیں۔ سبھی ہماری خیریت کے بعد کراچی میں 'پیٹ' یعنی آنےوالے سمندری طوفان کے متعلق معلوم کر تے ہیں۔ ادھر کراچی میں لوگوں میں خاصہ جوش و خروش پایا جاتا ہے جو ساحل تک پہنچ سکتے ہیں وہ، روزانہ وہاں کے چکر لگا رہے ہیں۔ وہاں کے رہائیشی اپنی کھڑکیوں سے باہر کے منظر پہ نگاہیں جمائے بیٹھے ہیں کہ دیکھیں کس وقت 'پیٹ' طوفان اپنی پہلی جھلک دکھاتا ہے۔ پیٹ تھائ زبان کا لفظ ہے اور اسکا مطلب ہے 'ہیرا'۔
ہماری ایک عزیزہ کا کہنا ہے کہ ایک دفعہ اسی طرح کے طوفان کی اطلاع پہ وہ بھی کراچی کے ساحل سی ویو پہ اہل خانہ کے ہمراہ پہنچیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ ساحل پہ رینجرز تعینات ہے۔ اور گنوں کا رخ سمندر کی طرف ہے۔ تو کیا گنوں کا رخ شہر کی طرف ہونا چاہئیے تھا۔ پھر آپکو اعتراض ہوتا کہ شہریوں کو ہراساں کر رہے ہیں۔ میں نے کہا تو انہوں نے چبانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگیں تو کیا طوفان ان سے ہراساں ہو رہا تھا۔ انکی برستی ہوئ نظروں کی تاب نہ لاکر ہم فوراً صراط مستقیم پہ رواں ہوئے اور فرماںبرداری سے کہا کہ وہ دراصل لوگوں کو سمندر میں جانے سے روکنے لئے ہوگا۔ اس وقت بھی ساحل پہ دفعہ ایک سو چوالیس لگی ہوئ ہے۔ اور صرف دو افراد ایکدوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالکر چل سکتے ہیں اس سے زیادہ کی ممانعت ہے۔
آپ میں سے کچھ کے بے حد پسندیدہ 'بھائ صاحب' نے بھی شہر میں جنگی بنیادوں پہ طوفان سے نبٹنے کی تیاری پہ زور دیا ہے۔ انکا تذکرہ میں نے بہ احتیاط کر دیا ہے کہ میری پوسٹ پہ انکے نام کے مصالحے کا تڑکا کوئ اور نہ لگا پائے۔ ویسے بھی چونکہ انکا تعلق ہمارے شہر اور ہماری 'برادری' سے ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم انکا تذکرہ کریں۔ کوئ اور کرے تو رقابت کی بو آتی ہے۔
میں بھی گھر میں سبزیوں کا ذخیرہ جماکر کے فارغ ہوئ ہوں۔ ابھی جا کر آٹا چاول لانے کے بارے میں بھی سوچ رہی تھی کہ معلوم نہیں طوفان کے آنے کے بعد کیا ہوگا۔
تین سال پہلے کراچی میں آنے والا طوفان دو سو کلومیٹر کے فاصلے سے گذر گیا۔ شہر میں تین دن تک بجلی غائب ہو گئ، سڑکیں اڑ گئیں اور پگڈنڈیاں باقی رہ گئیں، اگلے دن شہر میں ہو کا عالم تھا۔ لگتا تھا کہ کوہ قاف کا کوئ دیو ابھی سارے آدم زادوں کو کسی بوتل میں بند کر کے لے گیا ہو۔
آج صبح محکمہ ء موسمیات والوں نے اطلاع دی کہ طوفان کا زور عمّان کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد خاصہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس محکمے کی یاد بھی ایسے ہی موسم میں آتی ہے۔ رویت ہلال کے سربراہ اعلی کا پتہ رمضان کے مہینے میں چلتا ہے، نیب کے عالی مقام کا پتہ نئ حکومت کے آنے کے بعد، دیگر اور بہت سے محکموں کا انکے چیئرمین کے گرفتاری کے چھاپوں یا استعفی کے بعد پتہ چلتا ہے۔ محکمہ ء موسمیات والوں کے بھاگ بارش کے موسم میں کھلتے ہیں۔ اطلاع ہو کہ انکے ڈائیریکٹر جنرل کا نام ڈاکٹر قمرالزماں چوہدری ہے۔
ہاں تو جب یہ اطلاع پہنچی کہ طوفان کا زور کم ہو گیا ہے تو لوگوں کو خاصی مایوسی ہوئ۔ اسی وقت ایک فون آِیا۔ انہیں معلوم کرنا تھا کہ طوفان کی آمد کے لئے ہم نے کچھ تیاری کر لی کے نہیں۔ ہم نے انہیں مطلع کیا کہ کراچی میں طوفان ہمیشہ آنے کی اطلاع دیتا ہے۔ اور پھر نجانے کیوں چپ چپاتے پتلی گلی سے نکل لیتا ہے۔ اب ایسے توانائ سے خالی کسی اور کے ساحل پہ الہڑ پن دکھا کر فارغ ہونے والے پھسپھسے طوفان کا کیا استقبال کریں ۔ اس لئے ہم تو چلے ذخیرہ کی ہوئ سبزیوں میں سے آلو پالک پکانے۔
توقع تھی کہ ساحل پہ براجمان لوگ بھی اپنے خیمے اکھاڑ کر گھرواپسی کا رستہ لیں گے۔ اور ساحل کے نزدیک کلفٹن کے مزار میں رہائیش پذیر عبداللہ شاہ غازی کے اور معتقد ہو جائیں گے کہ انکی وجہ سے کراچی میں طوفان آنے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ لیکن نہیں جناب، قمرالزماں صاحب نے نئ اطلاع بھجوادی کہ طوفان اب بھی خطرناک حد میں ہے اور طوفانی بارشوں کا سلسلہ کراچی میں ہفتے سے شروع ہونے کی توقع ہے۔
طوفان نہ ہوا باغیوں کا کوئ گروہ ہو گیا، ادھر کچلا اور دوبارہ تیار۔ یہاں میں جان بوجھ کر طالبان کا نام نہیں استعمال کرنا چاہ رہی کہ میری یہ پوسٹ سیاسی اثرات سے بالا، غیر جانبدار اور آفاقی مزاج کی حامل رہے۔
لوگوں کو اس جذبے سے طوفان کے لئے سرشار دیکھ کر، بس یونہی دل میں ایک شیطانی خیال آیا کہ اگر کبھی کراچی میں سچ مچ کا سمندری طوفان آگیا تو کراچی کا جو ہوگا سو ہوگا، عبداللہ شاہ غازی کے معتقدین کیا کریں گے۔ اب میں اس خیال کو شیطانی خیال کے علاوہ کیا کہہ سکتی ہوں۔ خدا مجھے معاف کرے۔


![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)