Showing posts with label Nazir Akbar Abadi. Show all posts
Showing posts with label Nazir Akbar Abadi. Show all posts

Sunday, May 23, 2010

خوشامد -۲

دل خوشامد سے ہر ایک کا راضی ہے
آدمی جن و پری بھوت بلا راضی ہے
بھائ فرزند بھی خوش باپ چچا راضی ہے
شاہ مسرور غنی شاد گدا راضی ہے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
اپنا مطلب ہو تو مطلب کی خوشامد کیجئیے
اور نہ ہو کام تو اس ڈھب کی خوشامد کجیئیے
انبیاء اولیا اور رب کی خوشامد کیجئیے 
اپنے مقدور غرض سبکی خوشامد کیجئیے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
چار دن جسکو خوشامد سے کیا جھک کے سلام
وہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کام
 بڑے عاقل بڑے دانا نے نکالا ہے یہ دام
خوب دیکھا تو خوشامد ہی کی آمد ہے تمام
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
مفلس ادنی و غنی کی بھی خوشامد کیجئِے
یا بخیل اور سخی کی بھی کوشامد کیجیئے
اور جو شیطاں ہو تو اسکی بھی خوشامد کیجیئے
گر ولی ہو تو ولی کی بھی خوشامد کیجیئے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
پینے اور پہننے کھانے کی خوشامد کیجیئے
ہیجڑے بھانڈ زنانے کی خوشامد کیجیئے
مست و ہشیار و دوانے کی خوشامد کیجیئے
بھولے نادان سیانے کی خوشامد کیجیئے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
خوب دیکھا تو خوشامد کی بڑی کھِتی ہے
غیر کیا اپنے ہی گھر بیچ یہ سکھ دیتی ہے
ماں خوشامد کے سبب چھاتی لگا سیتی ہے
نانی دادی بھ خوشامد سے بلا لیتی ہے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
بی بی کہتی ہے میاں آ ترےصدقے جاءوں
ساس بولے کہیں مت جا ترے صدقے جاءوں
خالہ کہتی ہے کہ کچھ کھا ترے صدقے جاءوں
سالی کہتی ہے بھیّا ترے صدقے جاءوں
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
آپڑا ہے جو خوشامد سے سروکار اسے
ڈھونڈھتے پھرتے ہیں الفت کے خریدار اسے
آشنا ملتے ہیں اور چاہتے ہیں سب یار اسے
اپنے بیگانے غرض کرتے ہیں سب پیار اسے
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
جو کہ کرتے ہیں خوشامد وہ بڑے انساں 
جو نہیں کرتے وہ رہتے ہیں ہمیشہ حیراں
ہاتھ آتے ہیں خوشامد سے ہزاروں ساماں
جس نے یہ بات نکالی ہے میں اسکے قرباں
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے
ہم نے ہر دل میں خوشامد کی محبت دیکھی
پیار اخلاص و کرم مہر ومحبت دیکھی
دل بروں میں بھی خوشامد ہی کی الفت دیکھی
عاشقوں میں بھی خوشامد ہی کی چاہت دیکھی
جو خوشامد کرے خلق اس سے سدا راضی ہے
سچ تو یہ ہے کہ خوشامد سے خدا راضی ہے

اس نظم کے خالق نظیر اکبر آبادی ہیں۔

حوالہ جات؛

کلیات نظیر، مولانا عبدالباری صاحب آسی نے مرتب و مدون کیا، پبلشر، مکتبہ ء شعر و ادب لاہور۔

Wednesday, May 19, 2010

تربوز اور محبوب

نظیر اکبر آبادی، اردو شاعری میں عوامی شاعر کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ اتنے عوامی ہیں کہ انکی کلیات مرتب کرنے والے مولانا صاحب کو اس میں کئ اشعار میں خالی جگہ یا ڈیش ڈیش لکھنا پڑا۔ خیر یہ زمانہء قدیم کے مولانا صاحب تھے کیونکہ اسکا پہلا ایڈیشن انیس سو اکیاون کا ہے۔ اس بیان کے بعد امید ہے کہ انکی کلیات کو 'کچھ نوجوانوں'  میں  خاصی پذیرائ ملے گی۔
لیکن نظیر اکبر آبادی کی شاعری کی اہمیت جو مجھے نظر آتی ہے وہ الفاظ کا بے پناہ استعمال ہے۔ایسی ایسی ردیفیں اور قافئیے استعمال کئے گئے ہیں کہ ان کی زبان دانی پہ رشک آتا ہے۔ اس طرح بیت بازی سے دلچسپی رکھنے والوں کو اس میں اپنے حریف کو چت کرنے کے لئے کافی اشعار مل جائیں گے۔ آزمائش شرط ہے۔ ساتھ ہی ساتھ موضوعات کا تنوع بھی بھرپور ہے۔ عام زندگی کے بے پناہ موضوعات کا احاطہ انہوں نے کیا ہے۔
انکی اس کلیات سے منتخب اشعار پھر کبھی سہی۔ آج موسم کی مناسبت سے انکی ایک  نظم ملی۔ اسکا نام ہے تربوز۔ تربوز کا یہ احسان ہی کم نہیں ہے کہ جب تک گرمیوں کی سوغات آم نہیں آجاتے یہ اپنے گلابی رس سے ہمارا دل ٹھنڈا کرتے  ہیں۔
آئیے پڑھتے ہیں، نظم 'تربوز' کے چند بند۔

 کیوں نہ ہو سبز زمرد کے برابر تربوز
کرتا ہے خشک کلیجے کے تئیںتر تربوز
دل کی گرمی کو نکالے ہے یہ اکثر تربوز
جس طرف دیکھئیے بہتر سے ہے بہتر تربوز
اب تو بازار میں بکتے ہیں سراسر تربوز

مجھ سے کل یار نے منگوایا جو دے کر پیسہ
اس میں ٹاکی جو لگائ تو کچّا نکلا
دیکھ تیوری کو چڑھا ہو کے غضب طیش میں آ
کچھ نہ بن آیا تو پھر گھور کے یہ کہنا لگا
کیوں بے لایا ہے اٹھا کر یہ مرا سر تربوز

جب کہا میں نے میاں یہ تو نہیں ہے کچا
اور کچّا ہے تو میں پیٹ میں بیٹھا تو نہ تھا
اسکے سنتے ہی غضب ہو کے وہ لال انگارا
لاٹھی پاٹی جو نہ پائ تو پھر آخر جھنجھلا
کھینچ مارا مرے سینے  پہ اٹھا کر تربوز

پیار سے جب ہے وہ تربوز کبھی منگواتا
چھلکا اسکا مجھے ٹوپی کی طرح دے ہے پہنا
اور یہ کہتا ہے کہ پھینکا تو چکھاءوں گا مزہ
کیا کہوں یارو میں اس شوخ کے ڈر کا مارا
دو دو دن رکھے ہوئے پھرتا ہوں سر پہ تربوز

حوالہ جات؛
کلیات نظیر، مولانا عبدالباری صاحب آسی نے مرتب و مدون کیا، پبلشر، مکتبہ ء شعر و ادب لاہور۔