Showing posts with label وکی لیکس. Show all posts
Showing posts with label وکی لیکس. Show all posts

Wednesday, May 25, 2011

شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں

اسی طرح رات کو ٹی وی چلا کر کسی بلاگ پہ تبصرہ لکھ رہی تھی کہ اطلاع ملی  شاہراہ فیصل پہ دھماکہ ہو گیا۔ آدھ گھنٹے بعد معلوم ہوا کہ پی این ایس مہران میں بارہ ، پندرہ دہشت گرد گھس گئے۔ س سے آگے اب ایک دنیا واقف ہے کہ کیا ہوا؟
وہ بارہ پندرہ دہشت گرد جو ایک وقت میں بیس بائیس ہو گئے تھے محض تین نکلے باقی کے سب بھاگ گئے۔ انکی تعداد دو سے لیکر آٹھ تک ہے۔ اربوں روپے مالیت کے قیمتی جہاز تباہ ہوئے۔ دس فوجی اہلکار شہید ہوئے۔ 
ایک طبقہ خوش ہے کہ  فوج نے پاکستانی عوام کو جس طرح تیس سال پہلے بے وقوف بنا کر ایک جنگ میں دھکیلا، ملک کی ثقافت اور مستقبل کو  داءو پہ لگایا آج اسے خود مزہ چکھنے کو ملا۔ دوسرا طبقہ خوش ہے کہ جس طرح ہمارے مجاہدین کے خلاف مہم چلائ گئ ، انہیں شہید کیا گیا، نتیجے میں اچھا تھپڑ پڑا۔ ایک اور طبقہ خوش ہے کہ کیونکہ لگتا ہے بالآخر ہمیں امریکہ سے دو بدو لڑنے کا موقع ملے گا۔ آہا، کندن بننے کے دن آنے والے ہیں۔ کندن بننے کے بعد یقیناً اقوام عالم میں ہم سونے کے بھاءو تولے جائیں گے۔
یہاں ہمارے کچھ ساتھی ایسے ہیں جو دو سال پہلے اس خیال کے شدید مخالفین میں سے تھے کہ کراچی میں طالبان اپنی جڑیں پھیلا رہے ہیں۔ آج وہ سب خاموش ہیں۔ یہاں ہمارے کچھ ساتھی ایسے بھی ہیں جنہیں پنجابی طالبان کی اصطلاح پہ کف آنے لگتا تھا۔ آج وکی لیکس کہہ رہی ہیں کہ پنجاب میں طالبان کو جمانے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ ہوئے۔ آج وہ بھی  خاموش ہیں۔
ایسے ہر واقعے کے بعد ٹی وی پہ مبصرین کی ایک بڑی فوج دستیاب ہو جاتی ہے۔
 ایسے ہی ایک ٹاک شو میں ، فوج کے ایک اعلی ریٹائرڈ افسر اتنے جذباتی ہوئے، فرمانے لگے پاکستان کی حفاظت دو قوتیں کر رہی تھیں۔ پھر کچھ سوچ کر انہوں نے اس میں ایک اور قوت کا اضافہ کیا ۔ یہ قوتیں فوج، پٹھان اورخدا ہیں۔  اندازہ ہے کہ آخر میں شامل ہونے والی قوت خدا کی ہوگی۔ لیکن پچھلے دس سال میں فوج اور پٹھان کو لڑا دیا گیا اور اس طرح ملک کے دفاع کو کمزور کر دیا گیا۔ 
چلیں فوج تو پاکستانی انسٹی ٹیوشنز میں شامل ہے۔ لیکن کسی قوم کو جاہل اور معاشی طور پہ کمزور رکھ کر۔ ملک میں بسنے والی دیگر قوموں سے الگ کر کے دین و ملت کی حفاظت پہ معمور کر دینا، کہاں تک درست ہے؟
اگر ہم اس بات کو  من وعن تسلیم کر لیں کہ دہشت گردی کی اس فضا کی ساری جڑ امریکہ ہے۔  تب بھی یہ بات تسلیم کرنا پڑے گی کہ اس میں جو لوگ حصہ لیتے ہیں اور استعمال ہوتے ہیں وہ ہمارے ہی لوگ ہیں۔ کیا امریکہ میں ہونے والی کسی دہشت گردی میں کوئ امریکی شامل ہوتا ہے۔ حتی کہ ممبئ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے میں بھی پاکستانی یہاں سے وہاں پہنچے۔ لیکن افسوس، ہمارے یہاں دہشت گردی کے ہر واقعے کوانجام دینے والا ایک پاکستانی ہی ہوتا ہے۔ اسکے باوجود کہ یہاں ہزاروں کی تعداد میں امریکی موجود ہیں یہ فریضہ سر انجام دینے کے لئے انہیں پاکستانی مل جاتے ہیں۔ آج تک کسی خود کش حملے میں کوئ امریکی نہیں پھٹا نہ ہی کوئ انڈین۔
یہ لوگ کیوں ان لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے ہیں۔ اسکی دو واضح بنیادی وجوہات ہیں۔ تعلیم کی کمی اور بے روزگاری۔ اسکی تیسری سب سے اہم وجہ ہمارے شمالی علاقہ جات کے عوام کو اس فریب میں مبتلا رکھنا کہ وہ بہادر اور جنگجو ہیں۔ ان پہ دین اور ملک کی کڑی ذمہ داری ہے۔  اس خوبی کے بعد انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، وہ بہادر ہیں بچے کے کان میں اذان سے پہلے گولی کی آواز جاتی ہے۔
کیا ایک قوم بننے کے عمل کے لئے یہی نظریات کارآمد ہوتے ہیں؟ یہ بات ہمیں آدھا پاکستان گنوانے کے بعد بھی سمجھ نہِیں آسکی۔ بنگالیوں کو انکی جسامت اور مذہب کے بارے میں  کے طعنے دینے والے ان سے شکست کھا گئے۔
آزاد علاقوں کے پشتونوں کو ایک پر فریب احساس برتری میں مبتلا کر دیا گیا۔ اور اپنی اس آزادی میں وہ کسی قانون کے پابند نہیں رہے۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ آزادی کے بعد انہیں پاکستان کی دیگر اقوام کے ساتھ مین اسٹریم میں لانے کی کوششیں غیر محسوس طریقے سے شروع کی جاتیں۔ تاکہ تبدیلی کا عمل آہستگی سے شروع ہو جاتا۔ لیکن کسی نے اس صورت کو تبدیل کرنے میں دلچسپی نہیں لی۔  البتہ انکی اس حالت سے لوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ اس طرح کے انہیں  کوئ دور رس  فائدہ نہیں پہنچا۔  حتی کہ جنت تک پہنچے اور پہنچانے کے لئے بھی یہی راستہ استعمال کیا گیا۔
انکی اس آزاد حیثت کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے جنگجو وہاں پہنچ کر اکٹھا ہوتے ہیں۔ اسلحہ کا آزادنہ استعمال ، آزادنہ تیاری، اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ اگر اس میں کوئ کمی تھی تو وہ عوامی پذیرائ کی۔ وہ ماشااللہ سے پچھلے تیس سالوں کی شبانہ روز محنتوں سے انہیں ایسی ملی کہ ، تیس سال کی داستان تو ایک طرف، پچھلے دس سالوں میں پینتیس ہزار عام پاکستانیوں کے انکے ہاتھوں ختم ہونے کے باوجود ختم نہ ہوئ۔
وہ کہتے ہیں کہ امریکہ دہشت گردی کروا رہا ہے۔ یہ نہیں سوچتے کہ امریکہ لیبیا میں تو القاعدہ کے ہاتھ مضبوط کر رہا ہے دوسرے ملک میں کیسے اسکے خلاف جنگ کر رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اگر ایک ملک میں وہ اسکی مدد کر رہا ہے تو دوسرے ملک میں القاعدہ کے رہنما اس کے دشمن ہونگے۔
آج سے تیس سال پہلے فوج نے امریکہ کا ساتھ دینے کے لئے جہاد کا فلسفہ پھیلایا، اور جہادی کاروبار میں خوب پھلی پھولی، آج سے پندرہ سال پہلے فوج کی سرپرستی میں، امریکہ کی آشیرباد سے طالبان کو افغانستان میں داخل کیا گیا، آج سے دس سال پہلے فوج کی مرضی سے پاکستان امریکہ کی مدد کر کے جنگ کے کاروبار میں شامل ہوا۔ دراصل ہماری فوج اور امریکہ ایک دوسرے کے حلقہ ء اثر میں تین دہائیوں سے چلے آرہے ہیں۔ کس لئے ایک اپنے رسوخ کے لئے دوسرا ڈالرز کے لئے۔ 
اس لئے جب جنرل کیانی نے کہا کہ خوشحالی کے لئے عزت و وقار پہ سودانہیں کریں گے تو مجھے یہ سوچنا پڑا کہ انکا مخاطب فوج کے اعلی عہدے دار ہیں۔ عوام کے پاس نہ خوشحالی ہے نہ عزت اور نہ وقار۔
آج مرنے والا بھی شہید ہے مارنے والا بھی شہید ہے۔ پی این ایس مہران ، کراچی کے واقعے میں  دس شہید فوج کے اور تین شہید دہشت گردوں کے۔ عام پاکستانی  کنفیوز ہے۔ اسے خودکش حملہ آور کا کاز انتہائ نیک لگتا ہے۔ مرنے والوں کا بھی کوئ قصور نہیں۔ یوں شہیدوں کا قافلہ نہ تھمتا ہے نہ رکتا ہے۔

اس سارے واقعے کے بعد جس چیز سے مجھے شدید تکلیف پہنچی وہ لیفٹیننٹ یاسر عباس کی والدہ کی حکومت سے یہ درخواست کہ انکے شہید بیٹے کو نشان حیدر دیا جائے۔
یہ صحیح ہے کہ نوجوان اکلوتے بیٹے کی موت والدین کے لئے ایک بڑا سانحہ ہوتی ہے۔ لیکن ایک ایسے واقعے میں جس میں مزید نو لوگ شہید ہوئے ہیں جد وجہد کرتے ہوئےآخر وہ بھی تو کسی کے بیٹے ہیں۔ یاسر عباس شہید کا خاندان فوج کے اعلی افسران کے لوگوں پہ مشتمل ہے۔ انہیں معلوم ہوگا کہ اس راستے میں یہ کڑے امتحان آتے ہیں۔ پھر ایسی کم بات کیوں کی؟ مجھے نجانے کیوں یقین سا ہے کہ انکی والدہ کو کسی اور نے یہ درخواست کرنے کے لئے کہا ہے۔ ایک ماں کا دل اتنا چھوٹا اور خود غرض نہیں ہو سکتا کہ وہ صرف اپنے بیٹے کے بارے میں سوچے۔
ابھی اس واقعے کی انکوئری نہیں ہوئ۔ ہم تک جو میڈیا کے ذریعے اطلاعات پہنچی ہیں۔ اگر ان سب کو درست تسلیم کیا جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ اس میں فوج کے اعلی افسران کی کوتاہی شامل نہیں، اس واقعے کا باعث انکی کوتاہ اندیشی  اور نکما پن نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم سمجھ رہے ہیں اسکے بر عکس انہوں نے  دہشت گردوں کو ناکام کر دیا۔ اور انہیں لعنت ملامت کرنے کے بجائے انکا مورال بلند کرنے کی ضرورت ہے۔  اسکے بعد بھی اگر نشان حیدر کا مستحق کوئ شخص نظر آتا ہے تو ایک کرنل کا بیٹا یاسر عباس شہید نہیں بلکہ وہ رینجراہلکار خلیل ہے جس نے یہ جان کر بھی کہ دہشت گرد کے ہاتھوں میں گرینیڈ موجود ہیں اسے اپنی گرفت سے آزاد نہیں کیا۔
کیا ہم اسکی اس قربانی اور جوانمردی سے اس لئے گریز کریں کہ وہ اعلی  دولت مند خاندان سے تعلق نہیں رکھتا اور اپنی حیثیت میں کم رینک پہ تھا۔
شہید تیرا قافلہ تھما نہیں رکا نہیں۔ مگر اسے اب رکنا چاہئیے، شہادت سے پہلے مقام بصیرت پہ۔




Friday, December 17, 2010

ایک سودے کا سواد

کارا فلم فیسٹیول والوں کی طرف سے کراچی میں بین الاقوامی فلموں کا میلہ جاری تھا کہ ایک دن ہمیں ایک دوست کی دستاویزی فلم میں شرکت کا دعوت نامہ ملا۔ حالات کچھ ایسے بنے کہ  کچھ مراعات کی وجہ سے ہمیں ایکدن کی فلمیں دیکھنے پہ رعایت بھی مل گئ۔ انکی دستاویزی فلم دیکھ کر فارغ ہوئے اور پھر کچھ اور فلمیں لگاتار دیکھ ڈالیں۔ اب ایک ایسا شخص جو دو ڈھائ گھنٹے کی فلم ٹکڑوں میں یا ٹہل ٹہل کر دیکھتا ہواسکے لئے سارا دن سینما اسکرین کے آگے گذار دینا ایک درد سر ہی بننا تھا۔ شام کو چار بجے جب ایک اور فلم دیکھنے کے لئے بیٹھے تھے تو میں نے دل میں فیصلہ کر لیا تھا کہ لائیٹس بند ہوتے ہی آنکھیں بند کر کے پڑ جاءونگی۔ یہ ایک دستاویزی فلم تھی اور نام بھی ایسا غیرروائیتی سا۔ باءولنگ فار کولمبائین۔  کون دیکھے گا۔ خدا جانے اس  میلے کے منتظمین کن بنیادوں پہ  فلمیں منتخب کرتے ہیں۔  صبح سے اب تک میں وہ بنیاد تلاش کرنے میں ناکام ہو چکی تھی۔
فلم شروع ہوئ اور لائیٹس بند ہونے کے بعد بھی میری آنکھیں بند نہ ہو سکیں۔
 کیا مزے کی فلم ہے۔ میلے کی منتظمین کی تمام خامیاں پس پردہ چلی گئیں۔ اور یوں لگا کہ سارے دن کی قیمت وصول ہو گئ۔ دستاویزی فلم اور اس قدر دلچسپ، کیا ممکن ہے اگر یہ دیکھنا ہو تو یہ فلم ضرور دیکھیں۔  جہاں فلم میکر امریکہ میں مار دھاڑ کے بڑھتے ہوئے جحانات کی چھان پھٹک کرتا ہے وہاں وہ اسے اتنے پر مزاح انداز میں پیش کرتا ہے کہ پردے پہ سے نظر ہٹانا ممکن نہیں۔  یہ جگتیں نہیں، نہ پھبتیاں بلکہ اس ساری چیز کے لئے خاصی ریسرچ کی گئ ہے جو فلم کا مواد دیکھ کر ہی پتہ چلتی ہے۔ جہاں فلم میکر اپنے موضوع کو اپنی گرفت میں رکھتا ہے وہاں وہ اس چیز کا پروپیگینڈہ کرتا بالکل نظر نہیں آتا کہ امریکی عظیم قوم ہیں۔ یہ فلم میکر مائیکل مور سے میرا پہلا تعارف تھا۔
 وہ ایک دستاویزی فلم میکر ہے اور انکے کریڈٹ پہ اسکے علاوہ بھی دیگر فلمیں جن میں وہ امریکن معاشرے کی سرجری کرتے نظر آتے ہیں۔
تو کیا میں مائیکل مور کا تعارف یا اس فلم کا ریویو لکھنے جا رہی ہوں۔ نہیں جناب ، ایسا کچھ نہیں ہے۔ بلکہ ہوا یوں کہ جب میں نے یہ خبر سنی کہ وکی لیکس کے بانی اسانژ نے خود کو  گرفتاری کے لئے پیش کر دیا ہے اس مقدمے کا سامنا کرنے کے لئے جسکے متعلق خیال یہی کیا جاتا ہے کہ انکی لیکس کو لگام دینے کے لئے گھڑا گیا ہے۔ تو ساتھ ہی یہ خبر بھی آگئ کہ اسانژ کی ضمانت ہو گئ ہے۔ اور اس  ضمانت  میں حصہ ڈالنے والے مائیکل مور بھی ہیں۔ بیس ہزار ڈالر ضمانت کی رقم میں ڈالتے ہوئے آخر مائیکل مور نے کیا سوچا؟
 مائیکل مور کہتا ہے کہ
I am publicly offering the assistance of my website, my servers, my domain names and anything else I can do to keep WikiLeaks alive and thriving as it continues its work to expose the crimes that were concocted in secret and carried out in our name and with our tax dollars. 
یعنی میں اپنی ویب سائیٹ، اپنے سرور، اپنے ڈومین اور ہر وہ چیز جو وکی لیکس کو زندہ اور متحرک رکھے اسکی پیش کش کرتا ہوں جب تک کہ یہ، ان جرائم کو سامنے لانے کا کام کرتی رہے گی جو کہ ہمارے نام اور ہمارے ٹیکس کے ڈالرز سے خفیہ طور پہ کئے جاتے رہے۔

وکی لیکس کیا چاہتے ہیں؟
WikiLeaks states that its "primary interest is in exposing oppressive regimes in Asia, the former Soviet bloc, Sub-Saharan Africa and the Middle East, but we also expect to be of assistance to people of all regions who wish to reveal unethical behaviour in their governments and corporations." 
 وکی لیکس کا کہنا ہے کہ انکی بنیادی دلچسپی   ایشیا، سابق سوویئت بلاک، صحرائ افریقہ اور مشرق وسطی کی جارحانہ حکومتوں کا پول کھولنے میں ہے۔ لیکن ہم تمام خطوں کے لوگوں کی مدد کرنے کی توقع کرتے ہیں جو کہ اپنی حکومتوں اور کارپوریشنز کے غیر اخلاقی رویوں کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔

یہ سائیٹ وکی پیڈیا کی طرح ہے جس پہ کوئ بھی جا کر راز افشاء کر سکتا ہے اور افشا شدہ رازوں کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ چاہے تو ایڈٹ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن انکا وکی پیڈیا سے کوئ تعلق نہیں۔
 اسکے بانی جولین اسانژ کے بارے میں امریکی اراکین پارلیمنٹ اور سینیٹ اور امریکی معاشرے کے دیگر معززین کے بیانات اگر ہم پڑھیں تو حیران رہ جاتے ہیں۔ یہ بیان ویسے ہی ہیں جن سے بچنے کے لئے ہم اپنے بلاگ کے تبصروں میں کچھ اخلاقی نصیحتیں یا دھمکیاں لکھتے ہیں۔مثلاً اس کتیا کے بچے کو  غیر قانونی طور پہ شوٹ کر دینا چاہئیے۔ مزید یہ کہ وہ ایک ذہنی، نفسیاتی مریض ہے، دماغ چلا ہوا ہے اسکا، وہ ایک دہشت گرد ہے۔ اسکے ساتھ بالکل اسی طرح نبٹنا چاہئیے جیسا کہ القاعدہ اور طالبان کے ساتھ کیا گیا۔ وکی لیکس دہشت گردوں کی تنظیم ہے۔ 
مائیکل مور کے خیال میں وہ یقیناً دہشت گردہے جو ان  جھوٹے امریکیوں پہ دہشت لائے ہوئے ہے جنہوں نے امریکی قوم  کو تباہ کردیا اور دوسروں کو بھی۔ اب جنگ کے ان شیدائیوں کے لئے  اگلی جنگ کرنا اتنا آسان نہیں رہا۔ جھوٹ بولنا اب آسان نہیں رہا۔ مائیکل کے خیال میں وکی لیکس وجود میں آئ اس لئیے کہ امریکی مین اسٹریم جرنلزم نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ حیرت ہے دنیا بھر کی صحافتی دنیا وہ کچھ نہیں کر سکی جو وکی لیکس نے کیا۔
وہ سمجھتے ہیں کہ اگر آج سے دس سال پہلے وکی لیکس کا وجود ہوتا تو صدر بش عراق پہ اس بہانے سے حملہ نہ کر پاتے کہ وہاں بڑی تباہی کے اسلحہ کا ذخیرہ ہے۔
مجھے تویوں لگتا ہے امریکی سفیر ہالبروک پہ بھی وکی لیکس کی دہشت تھی۔ وکی لیکس کے دباءو کی وجہ سے انکے دل کی بڑی شریان سے خون لیک کر گیا۔ اور وہ چٹ پٹ چلے گئے۔
ادھر روسی میڈیا میں خبر گرم ہے کہ امن کا نوبل پرائز جولین اسانژ کو دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس سال کسی صحیح شخص کو یہ انعام ملے گا۔
جولین اسانژ کو دنیا بھرکےپچاس با اثر لوگوں میں شامل کیا گیا ہے جبکہ اسے ان پچیس افراد میں بھی رکھا گیا ہے جو اپنی مستقبلیاتی ذہانت کی وجہ سے دنیا کو بدل کر رکھ سکتے ہیں۔
کیا دنیا کی تاریخ اور ترجیحات بدلنے کو ہیں؟ کیا جولین اسانژ اس بدلی ہوئ دنیا کا ایک نمائندہ ہے؟ کیا دنیا بھر کے انسانوں کو اب جنگ کی معیشت سے نجات مل جائے گی؟
اگر ان سب سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تو مائیکل مور نے بیس ہزار ڈالر میں بڑا سستا سودا کیا۔ کیا خیال ہے؟