Showing posts with label کامران خان. Show all posts
Showing posts with label کامران خان. Show all posts

Thursday, May 5, 2011

آج یا کبھی نہیں؟

کل پہلی دفعہ جیو چینل پہ کامران خان کی زبانی سنا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستانی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ آج یا کبھی نہیں۔ 
یہ وہی چینل ہے جو انتہا پسندوں کو ہیرو بنانے کا شاید ہی کوئ لمحہ ضائع جانے دیتا ہو۔ ایک طرف امن کی آشا اور دوسری طرف انتہا پسندوں کی بھاشا۔ میڈیا نے انتہا پسندی کو پھیلانے میں بڑی سرگرمی سے کام کیا۔ اور اب وہی اپنے اوپر لگے اس دھبے کو دھو سکتے ہیں۔
خیر، دیر آید درست آید۔ کامران خان کہتے ہیں کہ اب ہمیں سوچنا چاہئیے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی بڑی کارروائ ہوتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دہشت گرد کا تعلق یا تو پاکستان سے ہوتا ہے یا پھر وہ پاکستان سے پکڑا جاتا ہے۔
اسکی وجہ بالکل سامنے ہے اور وہ یہ کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے سینتالیس کے قریب اسلامی ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پہ عوام ان انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہے۔ یقین نہ ہو تو پچھلے چار مہینے کی بلاگستان کی پوسٹس اٹھا کر دیکھ لیں۔ خاص طور پہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تحاریر اور انکے تبصرے۔
ہر دہشت گرد اور انتہا پسند ہمارا ہیرو۔ ہم اسکے پیش کئے گئے نظرئے پہ جان دینے اور لینے کو بے قرار۔ جب وہ بم مار کر درجنوں لوگوں کو ایک ساتھ موت کی نیند سلا دیتا ہے تو اول ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہمارے ہیرو کے کسی ساتھی نے کیا ہوگا یقیناً کسی نے اسے پھنسایا ہوگا۔ اور اگر دنیا کے دباءو پہ ہم یقین کر لیں تو ہم انا لللہ پڑھ کر دعا کرتے ہیں کہ  اللہ اسکی مغفرت کرے۔ جب وہ کسی کو قتل کر کے سرخرو ہوتا ہے تو ہم اس کا مقدمہ لڑ کر اسے رہا کرانے کو بےتاب۔ جب وہ کسی اور ملک میں گرفتار ہو تو ہم سجدے میں  کہ خدا کوئ چمتکار دکھائے اور وہ رہا ہو جائے۔ آخر کسی دہشت گرد اور انتہا پسند کو کیا چاہئیے۔  یہی عقیدت اور غیر مشروط محبت و وفاداری۔ جس میں دُھت ہمیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ تین سال میں تین ہزار سے زائد پاکستانی امریکیوں کے ہاتھوں نہیں انہی 'محبوبوں' کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے۔ ہمارے مستقبل کے متوقع حکمراں عمران خان بھی ڈرون حملوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مگر ان خود کش بمبار کے لئے کوئ ریلی نہیں نکالتے۔
لیکن دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ آئیے اسکے لئے ایک کہانی کے آخری دو صفحات پڑھتے ہیں۔ کہانی کے لکھنے والے ہیں ڈاکٹر شیر شاہ سید۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے ایک مایہ ناز گائیناکولوجسٹ  ہی نہیں ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے پاکستانی خواتین کی فلاح بہبود کے لئے اپنی زندگی کو ایک مشن بنایا ہوا ہے۔ اگر عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال  بنانے اور چلانے پہ پاکستان کی حکمرانی پیش کی جا سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر شیر شاہ بھی اسکے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔
انکی گوناگوں خوبیوں میں ایک خوبی ایک اچھا ادیب ہونا بھی ہے۔ انکی کہانیوں کے کئ مجموعے منظر عام پہ آچکے ہیں۔ یہ صفحات  انکے تازہ ترین مجموعے 'دل نے کہا نہیں' کی کہانی  'نفرت کی تصویر'  سے لی گئے ہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ اس مجموعے کی تمام کہانیاں حقائق سے جڑی ہوئ ہیں۔ اور نرا فکشن نہیں ہیں۔ تمام کہانیاں ہمارے آجکے پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کتاب کے پبلشر ہیں شہر زاد اور قیمت ہے دو سو روپے۔
یہ دو صفحات حاضر خدمت ہیں۔
بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر کو کلک کریں۔
 

Monday, February 28, 2011

ہرجائ کا لوٹا

آج میں مشعل کو اسکول سے لینے کے لئے جب گھر سے نکلی تو روڈ کی حالت دیکھ کر سمجھ نہیں آیا کہ اتنی افراتفری کیوں ہے۔ جہاں صرف ایک منی بس چلتی ہے وہاں خالی منی بسز کی قطار لگی ہوئ ہے۔ ٹریفک بری طرح جام۔ خیر مجھے زیادہ دور نہیں جانا تھا، اس لئے بچت ہو گئ۔ واپسی میں  بھی صورت حال کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔ گھر پہنچ کر پتہ چلا کہ پٹرول پمپس بند کر دئیے گئے ہیں۔ لوگ شدید احتجاج کی حالت میں ہیں کچھ علاقوں میں فائرنگ بھی ہوئ ہے۔
 چند گھنٹوں بعد اطلاع ملی کہ حکومت کی طرف سے 'دباءو' کے بعد پمپس دوبارہ کھل گئے ہیں۔ ٹریفک جام ختم ہوا۔ لیکن ابھی تک خبر گردش میں ہے کہ پیٹرول مصنوعات کی قیمتوں میں آج کسی بھی وقت تقریباً نو فی صد اضافے کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اور پیٹرول پمپس نے یہ حرکت زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے کی تھی۔
 پیٹرولیئم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اس لئے دل دہلا دیتا ہے کہ اسکے بعد زندگی میں استعمال ہونے والی ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ یعنی اندازاً کم از کم نو فیصد کا اضافہ صرف کار چلانے میں ہی نہیں بلکہ کاروبار حیات چلانے میں بھی۔
مہنگائ کا یہ طوفان کس طرف جا رہا ہے؟ کیا ہم اپنے سیاسی نظام سے یہ توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ اس طوفان کے آگے بند باندھ سکے۔ ایسا لگتا تو نہیں۔
 ابھی تو ایکد وسرے کے آگے بند باندھ رہے ہیں۔ نواز شریف جو اصولوں کی سیاست کرنے میں خاصی 'شہرت' رکھتے ہیں۔ انہوں نے مڈ ٹرم الیکشن کے لئے راہ ہموار کرنی شروع کر دی ہیں۔ اسکے لئے انہیں کچھ اصولوں کی قربانی دینی پڑی۔ اور لوٹا کریسی کی تہمت اٹھانی پڑی۔ لیکن اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ  اپنے شہیدوں کی فہرست گنواتی ہے لیکن اسکے مقابلے میں اصولوں کی قربانی زیادہ بڑی قربانی ہے، شرافت کی شہادت زیادہ بڑی شہادت ہے۔ امید ہے پیپلز پارٹی اس وار کو سہہ نہیں پائے گی۔
 جمہوریت کا کیا ہوگا؟ یہ کہاں جائے گی، کس کو منہ دکھائے گی۔ اس کو چھوڑیں ابھی اس شعر کا مزہ لیں۔
وہ کہیں بھی گیا ، لوٹا تو میرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی میرے ہرجائ کی
ہرجائ کے پاس لوٹا ہو تو دل کو تسلی رہتی ہے۔ آخر میں کچھ تو ملے گا۔ لیکن ہرجائ کون ہے اور لوٹا کس کا ہے؟
جہاں تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ عوام ملک کی دونوں بڑی پارٹیز سے مایوس ہو چکے ہیں وہاں در پردہ قوتوں نے نئ قیادت کے لئے نام سوچنا شروع کر دئیے ہیں۔
مخدوم شاہ محمود قریشی سابق وزیر خارجہ ایجنسیز کے متوقع امیدوار کہے جا رہے ہیں اور عمران خان ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ جیو کے امیدوار۔ شاہ صاحب تو جا کر شہید بے نظیر بھٹو کے مزار پہ حاضری دے کر روحانی آشیر باد بھی لے آئے۔ عمران خان، کامران خان کے ساتھ مل بیٹھے۔ 
ایجنسیز اور میڈیا میں سے جیت کس کی ہوگی؟
یہ سوال عوام سے نہیں ہے۔ عوام تقدیر کی پابند ہے۔ میں یہ سوچتی ہوں کہ کل جب پیٹرول اسی روپے اور ڈیزل چھیاسی روپے ہوگا تو میں کیا ترک کر کے اپنے مالی خسارے پہ قابو پاءونگی۔