کل پہلی دفعہ جیو چینل پہ کامران خان کی زبانی سنا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم پاکستانی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ آج یا کبھی نہیں۔
یہ وہی چینل ہے جو انتہا پسندوں کو ہیرو بنانے کا شاید ہی کوئ لمحہ ضائع جانے دیتا ہو۔ ایک طرف امن کی آشا اور دوسری طرف انتہا پسندوں کی بھاشا۔ میڈیا نے انتہا پسندی کو پھیلانے میں بڑی سرگرمی سے کام کیا۔ اور اب وہی اپنے اوپر لگے اس دھبے کو دھو سکتے ہیں۔
خیر، دیر آید درست آید۔ کامران خان کہتے ہیں کہ اب ہمیں سوچنا چاہئیے کہ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی بڑی کارروائ ہوتی ہے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ دہشت گرد کا تعلق یا تو پاکستان سے ہوتا ہے یا پھر وہ پاکستان سے پکڑا جاتا ہے۔
اسکی وجہ بالکل سامنے ہے اور وہ یہ کہ دنیا بھر میں پائے جانے والے سینتالیس کے قریب اسلامی ممالک میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں پہ عوام ان انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہے۔ یقین نہ ہو تو پچھلے چار مہینے کی بلاگستان کی پوسٹس اٹھا کر دیکھ لیں۔ خاص طور پہ سلمان تاثیر کے قتل کے بعد تحاریر اور انکے تبصرے۔
ہر دہشت گرد اور انتہا پسند ہمارا ہیرو۔ ہم اسکے پیش کئے گئے نظرئے پہ جان دینے اور لینے کو بے قرار۔ جب وہ بم مار کر درجنوں لوگوں کو ایک ساتھ موت کی نیند سلا دیتا ہے تو اول ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ ہمارے ہیرو کے کسی ساتھی نے کیا ہوگا یقیناً کسی نے اسے پھنسایا ہوگا۔ اور اگر دنیا کے دباءو پہ ہم یقین کر لیں تو ہم انا لللہ پڑھ کر دعا کرتے ہیں کہ اللہ اسکی مغفرت کرے۔ جب وہ کسی کو قتل کر کے سرخرو ہوتا ہے تو ہم اس کا مقدمہ لڑ کر اسے رہا کرانے کو بےتاب۔ جب وہ کسی اور ملک میں گرفتار ہو تو ہم سجدے میں کہ خدا کوئ چمتکار دکھائے اور وہ رہا ہو جائے۔ آخر کسی دہشت گرد اور انتہا پسند کو کیا چاہئیے۔ یہی عقیدت اور غیر مشروط محبت و وفاداری۔ جس میں دُھت ہمیں یہ خیال تک نہیں آتا کہ تین سال میں تین ہزار سے زائد پاکستانی امریکیوں کے ہاتھوں نہیں انہی 'محبوبوں' کے ہاتھوں زندگی سے محروم ہوئے۔ ہمارے مستقبل کے متوقع حکمراں عمران خان بھی ڈرون حملوں کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں مگر ان خود کش بمبار کے لئے کوئ ریلی نہیں نکالتے۔
لیکن دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ آئیے اسکے لئے ایک کہانی کے آخری دو صفحات پڑھتے ہیں۔ کہانی کے لکھنے والے ہیں ڈاکٹر شیر شاہ سید۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان کے ایک مایہ ناز گائیناکولوجسٹ ہی نہیں ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے پاکستانی خواتین کی فلاح بہبود کے لئے اپنی زندگی کو ایک مشن بنایا ہوا ہے۔ اگر عمران خان کو شوکت خانم ہسپتال بنانے اور چلانے پہ پاکستان کی حکمرانی پیش کی جا سکتی ہے تو مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر شیر شاہ بھی اسکے مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں۔
انکی گوناگوں خوبیوں میں ایک خوبی ایک اچھا ادیب ہونا بھی ہے۔ انکی کہانیوں کے کئ مجموعے منظر عام پہ آچکے ہیں۔ یہ صفحات انکے تازہ ترین مجموعے 'دل نے کہا نہیں' کی کہانی 'نفرت کی تصویر' سے لی گئے ہیں۔
ڈاکٹر شیر شاہ کا کہنا ہے کہ اس مجموعے کی تمام کہانیاں حقائق سے جڑی ہوئ ہیں۔ اور نرا فکشن نہیں ہیں۔ تمام کہانیاں ہمارے آجکے پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ کتاب کے پبلشر ہیں شہر زاد اور قیمت ہے دو سو روپے۔
یہ دو صفحات حاضر خدمت ہیں۔
بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر کو کلک کریں۔

![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)