Showing posts with label Ghalib. Show all posts
Showing posts with label Ghalib. Show all posts

Saturday, March 6, 2010

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

بہانہ بنانا آنا ایک خدا داد صلاحیت ہی نہیں اسکا تعلق ضرورت سے بھی ہے۔ ورنہ ایسا کیوں ہوتا کہ شوہر بیوی سے، شاگرد استاد سے، عاشق معشوق سے ، حزب اقتدار حزب اختلاف سے زیادہ اچھے بہانے بناتی ہے۔
جو لوگ محنت کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ بہانوں پہ بھی بڑی محنت کرتے ہیں۔ غالب کو دیکھئیے بہانے سے ملاقات کے لئے مصوری تک سیکھنے کو تیار تھے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لئیے ہم مصوری
تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہئیے۔
زمانے کے چلن بدلے گئے۔ لا حول ولا قوت۔ مصوری جائز نہیں کہہ کر ایک بہانہ حاصل کیا اور دوسرا بہانہ کیا بناتے سر پہ ٹوپی جمائ اور دست دعا دراز کیا
خدا کرے کہ حسینوں کے نانا مر جائیں
بہانہ موت کا ہو ہم بھی انکے گھر جائیں
جنہیں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے سے بھی کاہلی آتی ہے انکے لئے اہل کفار نے جگہ جگہ اپنے فرنچائز ریسٹورنٹس کھول دئیے  ہیں۔ کے ایف سی کی ڈیل، تین گھنٹے تک ایک ٹیبل پہ بیٹھ کر باتیں بنانے کے لئے، تین سو روپے میں سودا برا نہیں۔ لیکن اس قدر بھیڑ میں ہوتی ہے ملاقات کہاں۔ اوپر سے اکثر محبوب کو اپنی گلی سے نکلنے کے لئیے کوئ ساتھی بھی چاہئیے ہوتا ہے۔ یوں روز ملتے ہیں مگر بات نہیں ہوتی ہے۔  ایسی ہی خواہشوں کے لئیے کہا گیا کہ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دُم نکلے۔ لیکن جب ڈارون کا نظریہ ء ارتقا پڑھا تو دل چاہا کہ صفحہ ء ہستی سے اسکا نام ہی مٹادیں۔ بد بخت کہتا ہے کہ پہلے دم تھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئ۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ پہلے نہیں تھی خواہشوں کے اسیر ہوئے تو ہو گئ۔  اور عالم یہ ہوا کہ
ہزاروں لڑکیاں ایسی کہ ہر لڑکی پہ دُم نکلے
مگر خدا بھلا کرے ہمارے یہاں دُمیں عام نہ ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جس لڑکی پہ دُم نکلے وہ اپنے گھر سے کم نکلے۔ دم کے نقصان تو کچھ  اتنے زیادہ نہیں جب بھی دیکھے فائدے ہی دیکھے لیکن ایک تو اسے اسمارٹ رکھنے کے لئیے، ہمہ وقت ہلانا پڑتا ہے کیونکہ قدرت نے اسے رکھنے کے لئے دماغ کی طرح ایک کاسہ نہیں دیا جہاں وہ محفوظ رہ سکے۔  اور دوسرے یہ کہ جب کبھی بھاگنے کا ارادہ کریں تو اسےساتھ  دبا کر بھاگنا پڑتا ہے۔ پھر یہ کہ دم ہو تو چھلہ بھی ضرور ہوتا ہے۔ یوں  جو کام رستم سے نہ ہوا وہ آپ کر بھی ڈالیں یعنی انکے آنگن میں دھم سے کود بھی جائیں تو بعد کے حالات سے نبٹنے کے ساتھ ساتھ اسکی فکر بھی کرنی پڑ جاتی ہے۔
یوں محبت میں صوفیت کے قائل احباب اب اپنے آگے بالٹی بھر پانی لیکر بیٹھے رہتے ہیں
بالٹی کے پانی میں تیرا عکس دیکھتے ہیں
پھر اسکو ہلا کر تیرا رقص دیکھتے ہیں۔
دیکھا آپ نے رند رند کے رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئ۔ لوگ سمجھتے ہیں وضو کی تیاری ہے یہ نہیں معلوم کہ عشق کی بیماری ہے۔ لیکن ہوا یوں کہ پہلے تو پانی کی کمی کا رونا تھا مگر بروز ابر مل بھی جاتا تو مہنگائ اتنی کہ بالٹی ہی نہ رہی۔ بس ادھر ادھر پھسلنے کے بہانے بنتے رہتے۔
بھلا ہو کمیونیکشن میں تیز رفتار ترقی کا، اب اپنوں سے بات ساری ساری رات۔ پہلے تکیوں کے نیچے
تصویر یار یا حسینوں کے خطوط ملتے تھے۔ اب موبائل فون ہوتا ہے۔ وہ بھی وائبریشن موڈ میں۔ اور ہلکی سی تھر تھراہٹ پہ بھی گماں ہوتا ہے کہ یہ پڑوسیوں کے خراٹے ہیں، پنکھے کی ہوا سے اڑنے والا کیلینڈر ہے کہ وہ ہیں۔ نہ میں عشق کے خلاف ہوں، نہ بہانوں کے اور نہ موبائل فون کے بس جھک کے دیکھتا ہوں جوانی کدھر گئ۔



Monday, February 1, 2010

غالب اور بہتّر حوریں

غالب نے کہا کہ سو پشت سے ہے پیشہ آباء سپہ گری، کچھ شاعری ذریعہ عزت نہیں مجھے۔   تحریراً، انہوں نے بھی مغل بچہ ہونے کی وجہ سےاسی بات پہ اکتفا کیا کہ یا تو مارو یا مار رکھو۔ لیکن افسوس تلوار اپنے ہاتھ میں کبھی نہ اٹھائ کہ خانہ ء دل میں مژگاں کی تلواریں تو گڑی رہتی ہیں، دستی تلواروں کا کام نہیں۔ ویسے بھی جو گڑ سے مر رہاہو اسے تلوار سے کیا مارنا۔ اگرچہ کہ فی زمانہ گڑ سے مارنے کا طریقہ بھی استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن اس زمانے کے بارے میں کیا کہیں ہر غیر مستعمل طریقہ مرنے اور مارنے کے لئیے استعمال ہو رہا ہے۔ جدت شاید اسے ہی کہتے ہیں۔ خیر بات غالب کی ہو رہی تھی۔ایک واضح وجہ جو سمجھ میں آتی ہے اپنے  آباء کے پیشے سے انحرف کی۔وہ انہوں نے کچھ اس طرح پیش کی کہ،
ایسی جنت کا کیا کر ے کوئ
جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں
قیاس کہتا ہے کہ وہ سمجھتے تھے کہ میدان جنگ میں مارے جانے کے بعد انعام میں جو حوریں ملیں گی وہ اسٹاک میں ایک دفعہ بنا لی گئ ہیں اور بس ان میں سے ہی بہتّر  اب ہر مرد مجاہد کے حصے میں آتی رہیں گی۔ ایسی بہتّر حوروں کے اپنے پہلو میں رہنے سے وہ اتنے خائف تھے کہ شاعری اور شوق خمار کے بعد انکساری سے کچھ اور تدبیروں پہ غور کیا کرتے تھے۔
مرنے کی اے دل، اور ہی تدبیر کر کہ میں
شایان دست و بازوئے قاتل نہیں رہا
لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسی ہی ایک تدبیر کے نتیجے میں انہوں نے قرض کی مے پینے کی لت پالی۔ لیکن  بعد میں اس معاملے کو بروز ابر مہتاب کبھی کبھی پہ چھوڑ کے  علم بغاوت بلند کیا اور  شدت جذبات میں حوروں کی تحقیر کرنے میں کوئ کسر نہ چھوڑی۔ کچھ بی جمالو صفت لوگوں کا کہناہے کہ معاملہ کو اس نوعیت پہ پہنچا دیا کہ خاکی خواتین اور حوروں کو آمنے سامنے کر کے خاکی خواتین کے پاءوں دھوتے رہے اور اہل تماشہ کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کی کوشش میں اس طرح کی اطلاعات پہنچائیں کہ
میں جو کہتا ہوں کہ ہم لینگے قیامت میں تمہیں
کس رعونت سے وہ کہتے ہیں کہ ہم حور نہیں
یوں ایسی مغرور خاکی خواتین سے بیزار ہونے والوں کا  ایک حلقہ وجود میں آگیا جو آج حیرانی سے پوچھتا ہے کہ خاکی ناپاک عورتوں کا دنیا میں کیا کام ہے۔ انہی لگائ بجھائ کرنے والوں کا فرمانا ہے کہ محترم شاعر نے اپنی شاعری کے ہنر کو اس جنگ میں بخوبی استعمال کیا اور خاکی خواتین کا دماغ خراب کرنے میں کو ئ کسر نہ چھوڑی۔
تسکیں کو ہم نہ روئیں جو ذوق نظر ملے
حوران خلد میں تیری صورت مگر ملے
ان عناصر کا یہ بھی کہنا ہے کہ آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے انہوں نے آج پیش آنیوالے واقعات کا میں دخل اندازی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جنت کو بھی بس ایسی ویسی جگہ قرار دینے کی کوشش کی، اور کہا
کم نہیں جلوہ گری میں، ترے کوچے سے بہشت
یہی نقشہ ہے، ولے اسقدر آباد نہیں
یہاں میں اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ وہ دوزخ کی آبادی کو جنت میں تلاش کر رہے تھے ، اور اسکا سرا کسی کے کوچے سے ملا دیا۔ لیکن یہ بھی انکی ادا ہی تھی ورنہ وہ یہ کیوں کہتے کہ
سنتے ہین جو بہشت کی تعریف، سب درست
لیکن خدا کرے، وہ ترا جلوہ گاہ ہو
انکی اس قسم  کی باتوں پہ کچھ بد بختوں نے جب  انہیں کافر قرار دینے کی کوشش کی تو انہوں نے اس الزام کو ایک جنبش قلم سے پرے کر دیا کہ ہوں ولی پوشیدہ اور کافر کھلا۔ امتداد زمانہ سے اب اس بات پہ فخر کیا جانے لگا ہے کہ پوشیدہ طور پہ کافر ہوں مگر کھلے ولی ہوں۔ جناب گئے زمانے کے بزرگ بھی کیا طبیعت رکھتے تھے۔
کچھ دشمنوں نے یہ بھی پھیلانے کی کوشش کی یہ سب انہوں نے پریزادوں سے انتقام لینے کے لئیے کیا تھا۔ اور اسی لئیے انہوں نے کہا کہ
ان پریزادوں سے لینگے خلد میں ہم انتقام
قدرت حق سے یہی، حوریں اگر واں ہو گئیں
لیکن جیسا کہ کوئ بھی دیکھ سکتا ہے کہ اس شعر میں بھی حوروں سے انکی مراد یہی خاکی خواتین ہیں۔انکی خاکی خواتین سے یہ انس و محبت دیکھ کر یہ حقیر، انجمن آزدی ء نسواں سے یہ التماس کرنا چاہتی ہے کہ انہیں حقوق خاکی خواتین کے علمبرداروں میں سے ایک سمجھا جائے اور تمام رپورٹس اورخبروں میں انکی شاعری کی ترویج کی جائے۔مملکت خداداد میں جہاد کیخلاف چلنے والی تحریکوں میں اس بات کا تذکرہ بار بار کیا جائے کہ حاصل ہونے والی بہتّر حوریں کس قدر پرانی ہیں کہ اماں حوا کی نانی ہیں۔ انہیں بتایا جائے کہ دنیا میں ایک مخلوق عورت نامی بھی بستی ہے اور اسکے ساتھ رہنے سے لڑائ بھڑائ کی صلاحیتیں گھر کی گھر میں ہی خرچ ہو جاتی ہیں۔ اور انہیں قابو میں رکھنے کی فکر میں،مرنے کے بعد کیا ہوگا کی فکر سے نجات مل جاتی ہے۔
مخالفین سے درخواست ہے کہ اس قسم کے شعر لا کر غالب کے صحیح الدین ہونے اور جانبداریت پہ مسئلہ نہ کھڑا کریں کہ
چھوڑونگا نہ میں بت کافر کو پوجنا
چھوڑے نہ خلق گو مجھے کافر کہے بغیر
یہ سب دشمنوں کی اڑائ ہے۔ وہ بہرحال خاکی مسلمان خواتین کے قدردانوں میں سے تھے اور  اپنی اس غلطی سے یہ کہہ کر رجوع کر چکے  تھے کہ
دل دیا جان کے کیوں اسکو وفادار اسد
غلطی کی جو کافر کو مسلماں سمجھا
تو پیاری بہنوں ہمیں مرد حق غالب کے خلوص نیت پہ شک نہیں کرنا چاہئیے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مردتھا۔

حوالہ؛

Sunday, September 6, 2009

رقیب اور جدید ٹیکنالوجی

 دعوی محبت ایک اچھا شغل ہے۔ ورنہ یہ سننے میں نہ آتا کہ
ہزار کام مزے کے ہیں داغ الفت میں
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
اگر اس میدان میں بھی روکھی پھیکی گذر رہی ہے تو امکان غالب ہے کہ ابھی وہ مرحلہ نہیں آیا جہاں رقیب رو سیاہ کی اینٹری ہوتی ہے۔ کچھ نا معلوم وجوہات کی بناء پر رقیب کس قدر بھی گورا ہو اسے کہا رو سیاہ ہی جاتا ہے۔ اگر اب نہیں ہے تو یقیناًآپ کا سامنا ہونے پہ اسکا چہرہ ایسا ہی ہو جائے گا۔
رقیب کی یہ اینٹری عام طور پر اس قدر غیر متوقع ہوتی ہے کہ آپ  دہل جاتے ہیں اور ہر شخص پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہےاور پھر ایسی پیاری اور معصوم باتیں سننے میں آتی ہیں کہ
ناصح بھی ہے رقیب، یہ معلوم ہی نہ تھا
کس کو صلاح کار کیا، ہم نے کیا کیا
بعض اوقات آپ کو بعد میں پتہ چلتا ہے کہ  دوسروں سےاپنے محبوب کی زیادہ تعریفیں بھی کوئ اچھی بات نہیں، لیکن اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب آپ لاکھ اپنی سادگی  کی داستان کسی کو  سناتے پھریں کہ
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا
 سب لوگ آپکو اول درجے کا بے وقوف ہی سمجھیں گے
یہاں یہ مت بھولیں کہ چونکہ آپ دونوں کے درمیان رشتہ ءرقابت ہے اس لئے آئنسٹائن کےنظریہ ء اضافیت کے تحت آپ بھی اسکے رقیب قرار پائیں گے۔ رقابت کی اس جنگ میں سب جائز ہے۔ اس لئے کافی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ رقیب اگر آپ کو ایک اچھا کمپیوٹر ایک اچھے انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ لیکر تحفتاً دینے پر بضد ہے تو آپ کو اسکی نیت کا فتور فوراً سمجھ لینا چاہئیے۔
رقیب کے داخل ہوتے ہی زندگی کے شب وروز تبدیل ہو جاتے ہیں۔ رقیب اور محبوب کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے احوال جاننے کے لئے مختلف لوگوں سے دوستی گانٹھنی پڑتی ہے۔ اس سے سوشل ریلیشنز خوب پھلتے پھولتے ہیں۔  یہاں گر کی بات یہ بھی ہے کہ ان مخبروں کی وجہ سے آپکی محبت کی شہرت جتنی دور تک جائے اتنا ہی رقیب کے پیچھے ہٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ 
وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حال دل سب سے برملا کہئیے
یہاں وضاحت کے لئے یہ بتا دوں کہ یہ شعر ہمارے کسی بلاگ کے عنوان کے بارے میں نہیں کہا جارہا۔ کیونکہ داغ کے زمانے میں بلاگنگ کا وجود نہ تھا اور بس کچھ ایسے ویسے طریقے ہی آزمانے پڑجاتے تھے۔
کچھ  مخبروں کو تو لین دین کے بعد راضی کرنا پڑتا ہے کہ بالکل مصدقہ خبر ملے۔ اس بہانے آمدنی کے دیگر ذرائع بھی تلاش کرنے پڑجاتے ہیں۔ کچھ مخبروں کو پیار اور محبت سے راضی رکھنا پڑتا ہے اور صورت حال ایسی ہو جاتی ہے کہ تجھ سے کی ہے کہ زمانے سے محبت میں نے۔
اگر محبوب کوئ مشہور شخصیت ہے تو آپ  رقیب اور انکے تعلقات کی تفصیلات جاننے کے لئے روزانہ باقاعدگی سے اخبار پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ کوئ اچھی علامت نہیں اس سے کسی بھی دن اگر نظریں پھسلتے ہوئے ملکی حالات کی خبروں پر چلی گئیں تو آپ اچانک تلوار سونت کر رقیب کے دئیے ہوئے کمپیوٹر پر  بلاگ لکھنے بیٹھ جائیں گے، اور حاصل ہونے والے تبصروں کی تابڑ توڑ لہر آپکو اس کنارے پر لے جائے گی جہاں آپ ہونگے اور آپکا کی بورڈ اور آپکی حب الوطنی کی شان میں کہے گئے الفاظ کا سرور۔ اسی کے لئے تو رقیب نے اتنی منصوبہ بندی کی تھی۔   رقیب اس مرحلے پر بلاگنگ سے سخت بیزاری کے باوجود اسکی تعریف میں دو حرف لکھوا کر دوبارہ پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ڈالکر بیٹھ جائے گا وقتاً فوقتاً وہ آپکے تبصرہ نگاروں کو ہوا دینے کے لئے اپنا تبصرہ بھی فرضی نام سے ڈالتا رہے گا۔۔ اور آپ کاٹھ کے الو بنے ساری ساری رات کھٹ کھٹ کرکے کی بورڈ بجاتے رہیں گے۔
اسکے علاوہ رقیب اگر گورا ہے تو آپکو گورا کرنے والی کریموں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی پڑجائیں گی۔ بعد از بسیار خرابی جب محبوب امریکہ والی مصیبت کے ساتھ روانہ ہوجائے گا تو آپ جمع کی ہوئ معلومات کو کام میں لاتے ہوئے اسکا کاروباکر سکتے ہیں۔ محبت ایک شغل ہو سکتی ہے لیکن علم کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔
رقیب اگر ہر وقت آئنسٹائن  اور غالب کے حوالے دیتا ہو۔ تو ان دو افراد پر ہزار لعنتیں بھیجنے کے بعد بھی آپ کو انکے متعلق پڑھنا پڑ جاتا ہے لیکن خیال رہے کہ رقیب کے سامنے اپنی علمیت بگھارنے کی کبھی کوشش نہ کریں۔ مرفی کا قانون اس موقعے کے لئیے اچھی پیشن گوئ نہیں کرتا۔ اور ہو سکتا ہے کہ رقیب اس موقع پر کارل ساگاں اور فرائڈ کے محفوظات سے آپکا بھرتہ بنادے۔ ثانی الذکر دو افراد بھی اول الذکر سے کچھ کم پیچیدہ نہیں۔
رقیب کو کھلا خط بھیجنے سے گریز کریں وہ اسے محبوب کے آگے ڈالدے گا اور کہے گا
تمہیں رقیب نے بھیجا کھلا ہوا پرچہ
نہ تھا نصیب لفافہ بھی آدھ آنے کا
اس سے آپ کی بیستی بڑی خراب ہوگی۔
  رقیب میں ہر وہ عادت ہونے کے امکانات ہوتے ہیں جن سے آپکی جان جاتی ہے اور آپ حیران ہوتے رہتے ہیں کہ اس چمپو میں کیا ہے جس پر محبوب اسے اپنے حلقہ احباب میں رکھتے ہیں۔ وہ اللہ کی شان تنکے میں جان اور ہم تیغوں کے سائے میں پلے جوان۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ اس میں رقیب کا کوئ قصور نہیں یہ سب کچھ محبوب کے دل اور آپکی قسمت اور محبوب اور آپکے  دماغ کی خرابی سے جڑا ہوا ہے۔
رقیب کا مکمل سماجی بائیکاٹ آپکے عشق کے لئے اچھا نہیں۔اس سے وہ آپکے عشق کی جڑیں کاٹنے میں تندہی سے مصروف رہے گا۔  اسکی توجہ بانٹے رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اسکے ساتھ لگے رہیں اور اسکا حربہ اسی پہ لگا دیں۔ اگر اسے بلاگنگ سے دلچسپی نہیں تو فیس بک یا دیگر کمیونٹی سائیٹس کی افادیت کے بارے میں پوشیدہ و غیر پوشیدہ معلومات بہم پہنچا ئیں۔ اور کوئ آپ سے اتنی قربت کی وجہ دریافت کرے تو کہہ دیں آپ درست کہہ رہے ہیں
گو محفل رقیب میں جانا نہ چاہئیے
دیکھیں گے ہم بلا سے تماشہ تو کچھ نہ کچھ
جہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد رقیبوں سے بھنائ ہوئ رہتی ہے۔ وہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رقیب سے مل کر ایک پریشر گروپ بنا لیتے ہیں۔اور محبوب کوبد دعائیں دینے لگتے ہیں کہ
اللہ کرے تو بھی ہو بیمار محبت
صدقے میں چھٹیں گے تیرے گرفتار محبت
کچھ کاہل اتنا بھی بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہوتے اور پٹھان کے ہوٹل پر رقیب کے ساتھ پڑے دودھ پتی کی چائے کی سڑکیاں لگاتے ایکدوسرے سے یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ
ہم پہ مشترکہ ہیں احسان غم الفت کے
اتنے احسان کہ گنواءوں تو گنوا نہ سکوں
ہم نے اس عشق میں کیا کھویا ہے کیا سیکھا ہے
جز ترے اور کو سمجھاءوں تو سمجھا نہ سکوں
اور اگر دنیا انہیں اٹھتے بیٹھتےکچھ ایسے طعنے دینے لگے جس میں لفظ غیرت بھی آتا ہو تو وہ ہونٹوں پہ بعد از نروان حاصل ہونے والی مسکراہٹ سجائے بے نیازی سے کہتے ہیں
دنیا میں دو ہی تو با ذوق آدمی ہیں عدم
ایک میں اور ایک میرا رقیب
 
   رقیب کی تاریخ اتنی پرانی ہے جتنی کہ ہابیل اور قابیل کا قصہ۔ یعنی کہ بہت پرانی ہے۔ اور تب سے اب تک کسی بھی عشق کو اسکے بغیر مکمل نہیں سمجھا گیا ۔اگرآپ کی اب تک اس راستے پر رقیب سے ملاقات نہیں ہوئ تو یا تو راستہ بدل ڈالیں یا قاصد۔ تاکہ آپ بھی محبوب کی  محفل میں بآوز بلند یہ کہہ سکیں کہ
تیری محبت نے مار ڈالاہزار ایذا سے مجھ کو ظالم
رلا رلا کر، گھلا گھلا کر،جلا جلا کر، مٹامٹا کر
محبوب کو مار ڈالا والے اشعار کافی پسند آتے ہیں۔ امید ہے آپکا رقیب فیس بک پر مصروف ہوگا۔ لیکن یہ کیا،
  آپ ایک عدد نیا بلاگ لکھنے بیٹھ گئے۔ دھت ترے کی۔
ریفرنس؛

Thursday, August 6, 2009

قصہ ایک دودھ والے کا

ِ
پہلے تو میں آپ کو اطمینان دلادوں کہ اس قصے کا دودھ والوں کی ملاوٹ سے کوئ تعلق نہیں۔ نہ ہی آپ مجھے اس قسم کے جملے لکھ کر بھیجنے میں اپنا وقت ضائع کریں کہ باجی، دودھ والوں سے کہیں کہ وہ کوٹری کے اسطرف والی نہر سے پانی ملایا کریں۔ وہاں پلا مچھلی بھی آتی ہے۔ اور اکثر مینڈک نکلنے کے بجائے کبھی کبھی مچھلی بھی نکل آئے تو کیا حرج ہے۔ تو ان باجی کادودھ والوں تک ایسی کوئ فرمائش پہنچانے کا ارادہ نہیں۔ بعد میں وہ پلا مچھلی کی قیمت بھی دودھ میں شامل کر دیں گے تو یہ سب لوگ کہیں گے کہ ہم دودھ والوں سے کمیشن کھارہے ہیں۔
جیسا کے عنوان سے ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک دودھ والے کا قصہ ہے اور انکی باقی کمیونٹی سے اسکا کوئ تعلق نہِں۔ مزید یہ کہ اگر آپ کو دودھ والے اور طوطے کےدرمیان ہونےوالی گفتگو سن کر بڑی ہنسی آتی ہے تو میں معذرت کے ساتھ یہ کہنا چاہونگی کہ پوسٹ کے لمبا ہوجانے کے ڈر سے اسے یہاں پھرنہیں لکھا جا سکتا۔ آج آپ کچھ نئ باتوں پر ہنسنے کی کوشش کریں۔ زیادہ کمزور دل احباب کا دل بھر آئے تو رو بھی سکتے ہیں۔ لیکن اس سے پہلے میں یہ بھی واضح کردوں کہ میں روشن خیال ہونے کے باعث صرف ڈسپوزیبل ٹشو پیپر استعمال کرتی ہوں اور اس نازک موقع پر جیسا کہ روایت ہے آپ کو کوئ بھی رومال عطا کرنے سے قاصر ہوں۔ ویسے بھی مجھے معلوم ہے کہ آپ اس سے صرف آنسو نہیں صاف کریں گے بلکہ سڑکیاں بھی ماریں گے۔کیا کہا، مگرمچھ کے آنسو بہانے میں ناک سڑکتی نہیں ہے۔ میں اس وقت بحث نہیں کرنا چاہتی۔ کیونکہ اس ساری بحث سے پہلے ہی اس قصے کا حسن ختم ہو رہا ہے۔کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کوئ محکمہ ء تحفظ حسن و جمالیات بھی ہونا چاہئیے۔
وہ کراچی کی ایک حسین جولائ کی سہ پہر تھی۔ کراچی میں جولائ ہمیشہ حسین ہوتا ہے اس وقت بھی جب جولائ نہیں ہوتا تھا۔ خیر، موسم کی دلداری کے لئیے میں نے سوچا کہ کچھ دوستوں سے ملا جائے۔قرعہ ءفال ایک ایسی دوست کے نام نکلا جن کی دو بہینیں اور تھیں۔ اتنی ساری لڑکیاں ہونگیں۔ ادھر کی غیبت، ادھر کے تبصرے، کچھ نئ خبرِیں، کچھ پرانی خبریں تازہ بگھار کے ساتھ، خوب چیں پیں ہوگی کتنا مزہ آئے گا۔ میں نے تصور میں ایسے ہی معصوم سپنے سجائے۔ نہیں معلوم تھا کہ ایک دودھ والا ان سب سپنوں کو روندنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اب وہاں پہنچتی ہوں تو کیا دیکھتی ہوں ۔ ساری قوم جیسےایک عالم خواب میں ہے۔سب سے پہلے سب سے چھوٹی والی داخل ہوئیں۔ بنّا کہہ رہی ہیں آج انکی باری ہے۔ اور میں بتا دوں میں تیار ہوں اور اب میرے علاوہ کوئ دودھ لینے نہیں جائے گا۔ مجھے ذرا جھٹکا لگا۔ دل میں اپنے گھر والوں کو برا بھلا کہا۔ ایک ہمارا گھر ہے، بیچارا بیل بجا بجا کر تنگ آجاتا ہے ہر
شخص جو کام کر رہا ہوتا ہے اسی میں مصروف رہتا ہے زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔ ابھی دو دن
پہلے وہ دھمکی دے چکا تھا کہ اگر اب دوسری بیل پر کوئ نہ آیا ےتو وہ قیامت تک اپنی شکل نہیں دکھائے گا۔ اتنی بھیڑ میں کسے انکی شکل دیکھنے سے دلچسپی ہوگی۔ کسی گل محمد نے یہ دھمکی بھی اڑادی۔

چلیں، اتنی دیر میں بنّا بھی لال پیل ہوتی آگئیں۔ چھوٹے ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم دوسروں کی باری نہ آنے دو۔ میری دوست نے دونوں کو دیکھا اور دانت پیسے۔ اور بڑے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ہر دفعہ میں قربانی کا بکرا بنی رہوں۔ میں ہکا بکا ایک کے بعد ایک کی صورت دیکھتی ہوں۔ ہم بھی اپنے گھر میں اسی طرح ہر تھوڑے دن بعد حقوق کی جنگ لڑتے ہیں۔ لیکن اس سے بالکل الٹ مقصد کے لئے۔ 'میں جاتی ہوں ہر دفعہ دودھ لینے کے لئے'۔ 'تین دن سے تو میں لے رہی ہوں۔ آپ نے روز ازل ہی یہ فریضہ انجام دیا ہوگا'۔ 'یہ آپ کس روز ازل کی بات کر رہی ہیں۔ ابھی پچھلے پورے ہفتے یہ میں تھا جو خدمت کرتا رہا ہوں'۔ اس قسم کے سارے ڈائیلاگ ذہن میں گڈ مڈ ہونے لگے۔
بیساختہ منہ سے نکلا تم لوگ کتنے عظیم ہو اور ایک ہم ہیں خودغرض، ایکدوسرے کو طعنوں سے مار ڈالنے والے، ذرا جو ہمارے اندر مل بانٹ کر کام کرنے کی عادت ہو۔ یا احساس ذمہ داری۔ آخر ہم ایسے کیوں ہیں۔ چندا میری دوست ایک ادا سے بولیں، تمھارا دودھ والا کیا اتنا گلفام ہے جتنا ہمارا ہے۔ کیا اسے دیکھ کر آپ کے چہرے پر اتنی رونق آجاتی ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے۔اور جس کے بعد غالب کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ
لو، ہم مریض عشق کے بیماردار ہیں
اچھا اگر نہ ہو تو مسیحا کا کیا علاج
میرا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا اگر انہوں نے توجہ نہ دلائ ہوتی کہ کہ جولائ اتنا حسین ہوتا ہے کہ مکھیاں بھی بڑی سیلانی ہوجاتی ہیں، کچرے کے ڈھیر اور ہمارے منہ میں خاص فرق روا نہیں رکھتیں۔بنّا نے چندا سے کہا کہ آج وہ کھڑکی سے دیکھ لیں کیونکہ آج کے دن بنّا کے حق پر کوئ ڈاکا نہیں ڈال سکتا۔ چندا کو شدید غصہ آیا، کھڑکی سے کیا نظر آتا ہے 'پیٹھ۔' ۔ اور وہ غصے میں بھری کچن میں چلی گئیں غصہ خالی کر کے کچھ کھانا بھرنے کے لئے۔ بعض لوگ کچھ کھا کر غم غلط کرتے ہیں بالخصوص وہ جو دوسروں کو کچھ ایسا کھلانے کی سکت نہیں رکھتے مثلاً مار، جوتے، ڈانٹ۔ بیل بجی، بنّا دروازے پر دودھ کی بالٹی پکڑے تیار کھڑی تھیں۔ 'آج اس نے پیلا کرتا پہنا ہوا ہے'۔ انہوں نےدروازے میں موجود سوراخ سے جھانکتے ہوئے سرگوشی کی اور دروازے کا پٹ تھوڑا سا کھول دیا۔ چھوٹی نے اپنا سوجا ہوا چہرہ دیوار کی طرف کر لیا۔میں کھڑکی پر جا کر کھڑی ہوگئ، یہاں سے منگھوپیر کی پہاڑیوں پر آباد گھروں کی روشنیاں بہت اچھی لگتی ہیں۔ لیکن دن کے وقت کہاں یہ منظر نظر آسکتا ہے۔ویسے چندا ٹھیک کہہ رہی تھی کھڑکی سے تو اسکی صرف پیٹھ نظر آتی ہے۔ ایک بات اور، جولائ کے حسین مہینے میں پیلا رنگ اتنا برا نہیں لگتا۔
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں کہ محکمہء تحفظ حسن و جمالیات بھی ہونا چاہئیے۔ پھر خیال آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ
ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا
بن گیا رقیب آخر تھا جو رازداں اپنا