Showing posts with label پاکستان،Rhman Malik. Show all posts
Showing posts with label پاکستان،Rhman Malik. Show all posts

Tuesday, May 18, 2010

نوید شب

نوید سحر تو نئے دن ، نئ امنگوں، نئے توقعات اور نئی زندگی کا پیغام  ہوتی ہیں۔ مگر جو نویدیں آدھی رات کو ملیں۔ ان سے کیا ملتا ہے؟
آدھی رات کو اطلاع ملی کہ رحمان ملک صاحب کو کورٹ کے ذریعے جو سزا ملی تھی وہ صدر صاحب کے ایک دستخط سے معاف ہو گئ۔ 
صبح ناشتے کی میز پہ بس سوالات اور آدھی باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔  کسی نے پوچھا، یہ امریکہ کو پاکستان کا صدر بنانے کے لئے زرداری کے علاوہ کوئ نہیں ملتا؟
پھر سوال اٹھا، یوسف رضا گیلانی چالاک ہے کہ بے وقوف؟
 ایک اور فرد نے انتہائ فلسفیانہ انداز میں کہا۔ یوسف رضا گیلانی بے نظیر کے دور میں اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ جب وہاں سے فارغ ہوئے تو چھ سال کے لئے جیل چلے گئے۔ آجکل وزیر اعظم ہیں جب یہاں سے فارغ ہونگے تو کیا ہوگا؟
پوچھا یہ وزیر داخلہ کے بجائے گیلانی صاحب کو کیوں یاد کیا جارہا ہے۔ اس لئے کہ انہوں ے صدر کو تجویز دی کہ رحمان ملک کو معاف کر دیا جائے۔ زرداری صاحب بالکل بے قصور ہیں۔ اس طرح سے ہم خطا اپنی سمجھتے تھے، قصور انکا نکل آیا۔
کسی نے کہا کہ رحمان ملک رات کو بہت اترا رہے تھے۔ مجھے خیال آیا کہ غالب نے غالباً کسی ایسے موقع کے لئے کہا تھا کہ
بنا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتا
ابھی صرف یہ مصرعہ ہی اپنے رقیب کی شان میں عرض کیا تھا کہ بادشاہ کو خبر ہو گئ۔ دربار بلا کر پوچھا کہ ناہنجار میرے بارے میں کہا یا میرے ممدوح کے بارے میں۔ عقلمند آدمی تھے۔ کہنے لگے حضور یہ تو ایک مصرعہ آپ تک پہنچایا گیا ہے ۔ پورا شعر اس طرح ہے کہ
بنا ہے شہ کا مصاحب ، پھرے ہے اتراتا
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے۔
یہ تو آپ سمجھ گئے ہونگے کہ یہاں 'غالب' سے غالب کی کیا مراد تھی۔
ویسے آپ یہ مت سوچنے لگیں کہ یہاں غالب سے مراد رحمان ملک ہیں۔ یہ فی البدیہہ شعر انہوں نے اپنے شعری رقیب محمد ابراہیم ذوق کی رقابت کے اثر سے بچنے کے لئے کہا تھا۔