Showing posts with label اسما محفوظ. Show all posts
Showing posts with label اسما محفوظ. Show all posts

Thursday, February 24, 2011

خواتین اور بلاگنگ

مصر میں تبدیلی کا سہرا جن لوگوں کے سر جاتا ہے ان میں خواتین بلاگرز بھی شامل ہیں۔ بلاگستان کے ایک طبقے کی زبان میں وہ خواتین  نان کمیٹڈ ہیں جو اپنی گھر میں رہتے ہوئے کسی بھی ایسی چیز سے تعلق رکھنا چاہیں جو ان میں کسی بھی سطح کا شعور پیدا کرنے کے قابل ہو مثلاً بلاگنگ جیسی مفت شے۔ وہ خواتین جو  شادی شدہ ہیں انہیں  چاہئیے کہ ڈائجسٹ پڑھیں یا اسٹار پلس کے ٹی وی پروگرام  مثلاً ساس بھی کبھی بہو تھی دیکھ کر زندگی کے باقی دن پورے کریں۔  لیکن خواتین اگر خدا انہیں ہمت دے تو بلاگنگ نہ کریں جناب۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
مزید دلچسپ ٹرینڈز بھی ہمارے یہاں ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ مثلاً ہمارے یہاں احترام کے لائق کون خواتین ہوتی ہیں؟ جی نہیں وہ خواتین نہیں جو کسی علمی مرتبے پہ یا کسی مقام پہ اپنی صلاحیت کی بناء پہ پہنچی ہوں نہ ہی وہ جو اپنی صلاحیتوں سے اپنے ارد گرد کے لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا چاہ رہی ہوں یا دوسروں میں تحرک ہی پیدا کر دیں، نہیں وہ بھی نہیں جو کسی دباءو کا شکار اور کمزور شخص کی آواز بن جائیں اور وہ بھی نہیں جو صرف یہ کام انجام دینے لگیں کہ ایک جگہ کا کار آمد علم دوسری جگہ پہنچانے لگ جائیں۔
ہمارے یہاں کسی خاتون کو اگر احترام حاصل کرنا ہے تو ایک بالکل آسان سا نسخہ ہے حجاب پہننا شروع کر دے۔ اور ابھی اندازہ ہوا کہ سب سے کم سطح پہ یہ کہ اپنا نام ہی حجاب رکھ لے۔ بس اسکے بعد ان خاتون کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو کچھ کریں گے دوسرے کریں گے۔ احترام اور ستائیش  اس طرح نکل کر بہے گا کہ اس میں دھل کرعام مٹی بھی زم زم کی گیلی ریت بن جائے گی۔

 میں ان تمام ملکوں میں چلنے والی تحریکوں کی تصاویر دیکھتی ہوں جہاں مردوں کے دوش بدوش عورتیں کھڑی نعرہ زن ہیں۔ سوچتی ہوں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ان احتجاج کرنے والی عورتوں کو ہمارے یہ مرد کس فہرست میں رکھتے ہونگے قابل احترام یا نا قابل احترام۔ اس نیچے والی تصویر میں یقیناً وہ خواتین قابل احترام ہونگیں جنہوں نے اسکارف پہنا ہوا ہے اور جس خاتون نے نہیں پہنا ہوا وہ ناقابل احترام۔



اسماء محفوظ ایک بلاگر جو مصر میں تبدیلی کے بہاءو کو تیز تر کرنے میں شامل رہی۔ وہ اپنے گھر سے کمیٹڈ ہے یا نان کمیٹڈ، گھر اور گھریلو رشتوں کو اہمیت دینے والی ہے یا خود غرض۔  ہمارے یہاں ابھی پیٹ بھرے خیالات کا بہاءو اس طرح ہے۔

انکے دوست نے اپنی گھریلو مصروفیات کی وجہ سے بلاگنگ اور نیٹ سرفنگ سے معذرت کی ہے اس تحریر کے تبصروں میں لوگوں نے انکے اس اقدام کو ان لوگوں نے بہت سراہا جو گھر اور گھر میں بسنے والے لوگوں کی اہمیت سے واقف ہیں اور ان لوگوں نے اس فعل کو غیر اہم اور دقیانوس قرار دیا جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے انکے لئے انکا اپنا آپ ہی سب کچھ ہوتا ہے

چلیں جناب، اگر آپ گھر اور گھر میں بسنے والوں کی اہمیت سے واقف ہیں تو فوراً بلاگنگ جییسے قبیح فعل سے جان چھڑائیں ورنہ آپ ان لوگوں میں شامل ہونگے جو دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتے اور آپکا اپنا آپ ہی آپ کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تبصرہ لکھنے والے اور اس پہ واہ واہ کرنے والے اس سے مستثنی ہیں۔ اگر انہوں نے  بلاگنگ چھوڑ دی اور دوسروں نے واہ واہ کرنا  تو بلاگنگ کی دنیا کو راہ راست پہ کون رکھے گا۔