Showing posts with label صحافی، آزادی. Show all posts
Showing posts with label صحافی، آزادی. Show all posts

Sunday, June 5, 2011

دروغ دروغ

کہتے ہیں جھوٹ کے پاءوں نہیں ہوتے اس لئے یہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتا لیکن کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ ایک سچ اپنے تسمے باندھ ہی رہا ہوتا ہے کہ جھوٹ ساری دنیا کی سیر کر کے آجاتا ہے۔ اب ایمانداری سے بتائیے آپکو کونسا کنکشن پسند آئے گا۔
جھوٹ بولا ، بنایا یا بَکا ہی نہیں جاتا بلکہ پکڑا بھی جاتا ہے۔ مگر کچھ لوگ اسے گھر پہنچا کر بڑا خوش ہوتے ہیں اور ہرجگہ سینہ پھلائے پھرتے ہیں کہ جھوٹے کو اسکے گھر تک پہنچایا، جھوٹا نہ ہوا محلے کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو گیا۔
خوبصورت لوگ وہ بھی جنس مخالف کے اگر جھوٹ بولیں تو بالکل برا نہیں لگتا۔ خواتین کے معاملے میں جتنی کم عمر ہوں جھوٹ بولتے ہوئے اتنی حسین لگتی ہیں۔ مشرقی خواتین کو ماچو مردوں کا جھوٹ پسند آتا ہے۔ منمناتے ہوئے جھوٹے سے ڈپارٹمنٹ کے پیچھے والی دوکان سے صرف چھولوں کی پلیٹ منگوائ جا سکتی ہے۔ وہ بھی اسی کے خرچے پہ۔
یوں
بولے تو سہی جھوٹ ہی بولے وہ بلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے
اس ظالم اور اسکے جھوٹ پہ اردو شاعری میں دیوان کے دیوان لکھے جا چکے ہیں۔ جو لگتا ہے کہ سب کے سب جھوٹ کے پلندے ہونگے۔ لیکن شاعر انہیں نسخہ ہائے وفا کہتے ہیں۔
جھوٹ کے پتلے بھی ہوتے ہیں۔ یہ  صرف جھوٹ سے بنے ہوتے ہیں اور جھوٹ کے پل بناتے رہتے ہیں۔ اگر وہ جھوٹ نہ بولیں تو پیٹ اپھر جائے۔ انکا نہیں پل بنوانے والوں کا۔ یہ دوسروں کو اتنی آسانی سے جھوٹا بناتے ہیں کہ بننے والے کو اپنے جھوٹا ہونے پہ صداقت کا احساس ہوتا ہے۔ انکا نعرہ ہوتا ہے کہ جھوٹ اتنا بولو کہ سچ معلوم ہونے لگے۔ ایسے لوگ اچھے درباری موءرخ ثابت ہوتے ہیں۔ اپنے زمانے میں بڑا نام کماتے ہیں۔ مگر بعد کے زمانے کے موءرخ ان سے دشمنی دکھاتے ہیں۔ اس طرح یہ سراب کی مانند مٹ جاتے ہیں۔ یوں ایک جھوٹا موءرخ دوسرے جھوٹے موءرخ کے حق میں سم قاتل ہوتا ہے۔  اس قتل و غارت گری کے بعد  تاریخ کا مضمون پڑھنے میں آسانی بھی ہوتی ہے اور دشواری بھی۔کیوں اس لئے کہ کس کا یقیں کیجئیے کس کا نہ کیجئیے۔ لائے ہیں اسکی بزم سے یار خبر الگ الگ۔  اس لئے ہم کتابوں کے بجائے سینہ بہ سینہ اور منہ بہ منہ چلی آنے والی تاریخ کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ سینہ اور منہ وہ جو ہمارے قبیلے کا ہو۔
حیران کن طور پہ، جھوٹ کے دفتر بھی ہوتے ہیں۔ جبکہ ایک عمر ہم یہی سمجھتے رہے کہ دفتر میں جھوٹ ہوتا ہے۔ دیکھا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا۔ ایسے موقعوں پہ یقین آتا ہے کہ لا علمی کتنی بڑی نعمت ہوتی ہے۔ آخر کو ہم اس آگ کے دریا کو آگ کا دریا پڑھتے ہوئے پار کر آئے۔
مگر گھبرائیے نہیں جھوٹ ایکدم خالص نہیں ہوتا زیادہ تر باتیں جھوٹ سچ کے زمرے میں آتی ہیں۔ یعنی تھوڑا سا پگلا تھوڑا سیانا۔ اسی میں عافیت ہے۔
کسی زمانے میں  لوگ باگ عاجز تھے کہ جھوٹا مرے نہ شہر پاک ہو۔ بعد میں نہ معلوم وجوہات کی بناء پہ شہر پاک کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں۔  کچھ لوگوں کو اس روایت سے اختلاف ہے کہتے ہیں کہ شہر نہیں ایک ملک تھا اور ایک نہیں سب ہی جھوٹے تھے۔   اللہ کی باتیں اللہ ہی جانے ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جھوٹے کے آگے سچا روتا ہے۔  جہاں سچا روتا ہوا واپس آتا ہے وہاں جھوٹا ہنستا ہوا نکل جاتا ہے۔
اگر آپ اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ جھوٹے کا منہ کالا اور سچے کا بول بالا تو  اس جھوٹ کی ناءو نہیں چل سکتی۔  اس جھوٹ کی پوٹ اس دن کھلے گی جس دن جھوٹا بات بنا لے گا اور پانی میں آگ لگا لے گا۔ اس لئے کہنے والوں نے اڑائ کہ سچے مر گئے جھوٹوں کو تاپ بھی نہ آئ۔ یہاں مرنے والوں سے میری مراد وہ صحافی سلیم شہزاد نہیں ہے، اور جھوٹے کون ہیں اس بارے میں ، میں اشارتاً بھی بات نہیں کرنا چاہتی۔ جسکو ہو دین و دل عزیز اسکی گلی میں جائے کیوں۔
ہم اور تیری گلی سے سفر، دروغ دروغ
کہاں  دماغ ہمیں اس قدر، دروغ دروغ


وضاحت؛
اس تحریر کی انسپیریشن فیروز اللغات سے حاصل کی گئ، سچی مچی۔