جہاں تین سو لوگ ایک دن میں جل کر مرجائیں اور کوئ سنوائ نہ ہو کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ مزدوروں کے حق میں کوئ تحریک نہ چلے۔ محنت کشوں کے لئے موجود ہمارے پالیسی سازوں کے اونچے اونچے محلوں پہ پتھر مارنے کے لئے ایک ہاتھ حرکت میں نہ آئے۔ جہاں ایک فلم بننے کے ایک سال بعد اااس وقت اس پہ احتجاج شروع ہو جس وقت اسکا عربی ورژن ریلیز ہو۔ یہی نہیں بلکہ لوگ سوشل میڈیا پہ یہ پیغام شیئر کر رہے ہوں کہ توہین پیغمبر کی سزا ، بس سر سے تن جدا، بس سر سے تن جدا، بس سر سے تن جدا۔ جہاں اس بات پہ خوشی منائ جارہی ہو کہ کراچی میں سفارت خانے پہ حملے میں ضائع ہونے والی جان، دراصل بازی لے جانے والے شخص کی ہے۔
ایسے زمانے میں چھٹی کا دن اور اس سے منسلکہ تفریح اسکے علاوہ کیا رہ جاتی ہے کہ آپ گھر میں سوئیں اور سوتے ہی رہیں۔ مر جائیں مرنے سے پہلے۔
لیکن اس اتوار میں نے یہ نہیں کیا۔ میں کسی بھی اتوار کو یہ کرنا پسند نہیں کرتی۔ جب سے مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ زندگی انسان کی وہ سب سے قیمتی شے ہے جو اسے دوبارہ نہیں ملے گی۔ صرف ایک بارملے گی۔ اس احساس کے بعد سونا کافی مشکل لگتا ہے۔ ذرا سوچیں اس ایک زندگی میں وہ کیا دلچسپ کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ جن سے کسی کو کوئ نقصان نہیں۔ جن سے کسی کی توہین نہیں ہوتی، جن سے دل تشکر کے احساس سے بھر جاتا ہے کہ خدا نے ہمیں زندگی جیسی نعمت سے نوازا۔
میں کتابوں کی ایک دوکان پہ چلی گئ۔ یہاں نئ کتابیں کم اور پرانی زیادہ ہوتی ہیں۔ کتنی پرانی؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ علامہ راشد الخیری کے ایک رشتے دار کے ہمراہ اس دوکان پہ موجود تھے۔ وہاں انیس سو تیس میں چھپنے والی انکی سوانح عمری مل گئ۔ جس میں ان صاحب کے دادا کے بچپن کی تصویریں بھی شامل تھیں۔
ایسے زمانے میں چھٹی کا دن اور اس سے منسلکہ تفریح اسکے علاوہ کیا رہ جاتی ہے کہ آپ گھر میں سوئیں اور سوتے ہی رہیں۔ مر جائیں مرنے سے پہلے۔
لیکن اس اتوار میں نے یہ نہیں کیا۔ میں کسی بھی اتوار کو یہ کرنا پسند نہیں کرتی۔ جب سے مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ زندگی انسان کی وہ سب سے قیمتی شے ہے جو اسے دوبارہ نہیں ملے گی۔ صرف ایک بارملے گی۔ اس احساس کے بعد سونا کافی مشکل لگتا ہے۔ ذرا سوچیں اس ایک زندگی میں وہ کیا دلچسپ کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ جن سے کسی کو کوئ نقصان نہیں۔ جن سے کسی کی توہین نہیں ہوتی، جن سے دل تشکر کے احساس سے بھر جاتا ہے کہ خدا نے ہمیں زندگی جیسی نعمت سے نوازا۔
میں کتابوں کی ایک دوکان پہ چلی گئ۔ یہاں نئ کتابیں کم اور پرانی زیادہ ہوتی ہیں۔ کتنی پرانی؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ علامہ راشد الخیری کے ایک رشتے دار کے ہمراہ اس دوکان پہ موجود تھے۔ وہاں انیس سو تیس میں چھپنے والی انکی سوانح عمری مل گئ۔ جس میں ان صاحب کے دادا کے بچپن کی تصویریں بھی شامل تھیں۔
کتابیں چھانتے ہوئے، ایک کتاب نظر آئ جس پہ مصنف کا نام لکھا تھا، مرزا غلام احمد۔ میں نے سوچا یہ تو کچھ سنا سنا سا نام لگتا ہے۔ ہاتھ میں اٹھا کر دیکھا تو یاد آیا کہ فیس بک پہ روزانہ ہی ان کے دین سے ہشیار کروایا جاتا ہے۔ اور میں انہی کا نام بھول گئ۔ مجھے یقین ہے کہ میں آخری عمر میں الزائمر کا شکار ہونگی۔ اسے اٹھا کر رکھ دیا۔ اپنے مذہب کی تفصیلات یاد نہیں رہتیں، انہیں پڑھ کر کیا کرونگی جبکہ دنیا میں ہر روز کے حساب سے دلچسپ باتیں علم میں آتی ہیں۔
اسی ڈھیر میں میں ایک اور کتاب مرزا بشیر احمد کی تھی۔ یہ بھی ایک دم خستہ حال ہو رہی تھی۔ جسے ان کتابوں کے حوالے دینا ہوں وہ خریدے۔ یہ سوچ کر ہنسی آئ کہ قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو معلوم نہیں انکا لٹریچر، لوگوں کی لا علمی کی وجہ سے ابھی تک دوکانوں پہ موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دوکاندار نے بھی کبھی ان کتابوں میں دلچسپی نہ لی ہوگی۔ شاید اسے معلوم ہی نہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کا لٹریچر رکھتا ہے۔ اور اگر معلوم ہوا بھی تو اس نے سوچا ہوگا کہ جیسے اور لوگ اپنا دینی لٹریچر خریدتے اور پڑھتے ہیں ایسے ہی کوئ قادیانی بھی خرید لے گا۔ اسے کیا، یہ اس کا کاروبار ہے۔ جیسے فیکٹری میں کام کرنے والوں کو اس علم سے کیا غرض تھی کہ اگر آگ لگی تو وہ وہاں سے زندہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونگے یا نہیں۔ انہیں کام چاہئیے تھا اور اسکے بدلے میں پیسے۔
وہاں ایک اور کتاب موجود تھی جس میں بتایا گیا تھا کی آغا خان اسمعیلیوں کے خدا کیسے؟ میں نے ایک نظر اس پہ ڈالی۔ آغا خانی ہمارے یہاں کی امیر ترین اقلیت ہیں۔ کوئ انکو کافر قرار دے کر مار سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا؟ اس میں بھی آغا خانیوں کے دین پہ لعنت بھیجی گئ تھی۔ لیکن شاید ننانوے فی صد آغا خانیوں کو اردو لٹریچر پڑھنے سے کوئ شغف نہیں۔
نئ کتابوں پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے میری نظر ایک کتاب پہ رکی۔ یہ خوشگوار اسلامی ازدواجی تعلقات پہ تھی۔ مجھے خیال آیا کہ ایک دوست کی شادی ہونے والی ہے انہیں تحفے میں دی جا سکتی ہے۔ لیکن پہلے اسے کھول کر تو دیکھوں کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ایسی کتابوں میں اسلام کے حوالے سے کیا لکھا ہوتا ہے۔ اسلام کس طرح ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔
میں نے کتاب درمیان سے کھول لی۔ کس قسم کی عورت سے شادی کرنی چاہئیے؟ یہ صفحہ میرے سامنے تھا۔ احادیث اور قرآنی آیات کے حوالے موجود۔ مصنف نے جو کوئ مولانا تھے حدیث سے ثابت کیا کہ ویسے تو رسول اللہ نے دیندار عورت کو ترجیح دینے کو کہا ہے لیکن عورت کا خوب صورت ہونا ضروری ہے اگر عورت خوب صورت نہ ہو تو شوہر کا دل دوسری عورتوں میں لگا رہے گا۔ جسے سفید رنگت اور خوب صورت آنکھوں والی عورت دنیا میں مل گئ جو اپنے شوہر کا خیال رکھتی ہو اسے گویا دنیا ہی میں حور مل گئ۔
ان کے نزدیک عورت کا کنوارہ ہونا ضروری ہے۔ بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دل اپنے پہلے شوہر کے خیال میں ڈوبا رہتا ہے اور وہ دوسرے شوہر کے حقوق خوشدلی سے پورے نہیں کر سکتی۔ بکواسو، میں نے سوچا۔ جس پیغمبر نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک بیوہ عورت کے ساتھ اپنی نوجوانی کے پچیس سال گذارے ہوں اور جسکی صرف ایک بیوی کنواری اور باقی سب پہلے سے شادی شدہ ہوں اسکے نام پہ یہ بات کرنا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ آگے صفحے پلٹتی ہوں۔
بانجھ عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئیے۔ رسول اللہ سے منسوب ایک حدیث کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر کسی عورت کے متعلق پہلے سے پتہ ہو کہ وہ بانجھ ہے تو اس سے شادی نہ کرو۔ میرا دل ٹوٹ سا گیا۔ میں نے وہ کتاب بند کر کے وہیں واپس رکھ دی۔
میں ایک عورت ہونے کے ناطے سوچتی ہوں۔ کیا میں صرف بچے پیدا کرنے کا ایک آلہ ہوں۔ کیا میرے جذبات نہیں، خواہشات نہیں۔ کیا بانجھ عورت کو شادی کا حق نہیں جبکہ وہ جسمانی طور پہ ایک دم درست ہو؟
کیا یہ منسلکہ حدیث صحیح ہو سکتی ہے؟ آخر ہمیں کیوں تامل ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں بہت غلطیاں ہیں جن سے لوگ اس ہستی کا مذاق اڑاتے ہیں جس کے لئے آپ کو کسی کا سر تن سے جدا کرنے میں کوئ عار نہیں۔
اسی ڈھیر میں میں ایک اور کتاب مرزا بشیر احمد کی تھی۔ یہ بھی ایک دم خستہ حال ہو رہی تھی۔ جسے ان کتابوں کے حوالے دینا ہوں وہ خریدے۔ یہ سوچ کر ہنسی آئ کہ قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو معلوم نہیں انکا لٹریچر، لوگوں کی لا علمی کی وجہ سے ابھی تک دوکانوں پہ موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دوکاندار نے بھی کبھی ان کتابوں میں دلچسپی نہ لی ہوگی۔ شاید اسے معلوم ہی نہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کا لٹریچر رکھتا ہے۔ اور اگر معلوم ہوا بھی تو اس نے سوچا ہوگا کہ جیسے اور لوگ اپنا دینی لٹریچر خریدتے اور پڑھتے ہیں ایسے ہی کوئ قادیانی بھی خرید لے گا۔ اسے کیا، یہ اس کا کاروبار ہے۔ جیسے فیکٹری میں کام کرنے والوں کو اس علم سے کیا غرض تھی کہ اگر آگ لگی تو وہ وہاں سے زندہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونگے یا نہیں۔ انہیں کام چاہئیے تھا اور اسکے بدلے میں پیسے۔
وہاں ایک اور کتاب موجود تھی جس میں بتایا گیا تھا کی آغا خان اسمعیلیوں کے خدا کیسے؟ میں نے ایک نظر اس پہ ڈالی۔ آغا خانی ہمارے یہاں کی امیر ترین اقلیت ہیں۔ کوئ انکو کافر قرار دے کر مار سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا؟ اس میں بھی آغا خانیوں کے دین پہ لعنت بھیجی گئ تھی۔ لیکن شاید ننانوے فی صد آغا خانیوں کو اردو لٹریچر پڑھنے سے کوئ شغف نہیں۔
نئ کتابوں پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے میری نظر ایک کتاب پہ رکی۔ یہ خوشگوار اسلامی ازدواجی تعلقات پہ تھی۔ مجھے خیال آیا کہ ایک دوست کی شادی ہونے والی ہے انہیں تحفے میں دی جا سکتی ہے۔ لیکن پہلے اسے کھول کر تو دیکھوں کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ایسی کتابوں میں اسلام کے حوالے سے کیا لکھا ہوتا ہے۔ اسلام کس طرح ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔
میں نے کتاب درمیان سے کھول لی۔ کس قسم کی عورت سے شادی کرنی چاہئیے؟ یہ صفحہ میرے سامنے تھا۔ احادیث اور قرآنی آیات کے حوالے موجود۔ مصنف نے جو کوئ مولانا تھے حدیث سے ثابت کیا کہ ویسے تو رسول اللہ نے دیندار عورت کو ترجیح دینے کو کہا ہے لیکن عورت کا خوب صورت ہونا ضروری ہے اگر عورت خوب صورت نہ ہو تو شوہر کا دل دوسری عورتوں میں لگا رہے گا۔ جسے سفید رنگت اور خوب صورت آنکھوں والی عورت دنیا میں مل گئ جو اپنے شوہر کا خیال رکھتی ہو اسے گویا دنیا ہی میں حور مل گئ۔
ان کے نزدیک عورت کا کنوارہ ہونا ضروری ہے۔ بیوہ یا طلاق یافتہ عورت کا دل اپنے پہلے شوہر کے خیال میں ڈوبا رہتا ہے اور وہ دوسرے شوہر کے حقوق خوشدلی سے پورے نہیں کر سکتی۔ بکواسو، میں نے سوچا۔ جس پیغمبر نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک بیوہ عورت کے ساتھ اپنی نوجوانی کے پچیس سال گذارے ہوں اور جسکی صرف ایک بیوی کنواری اور باقی سب پہلے سے شادی شدہ ہوں اسکے نام پہ یہ بات کرنا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ آگے صفحے پلٹتی ہوں۔
بانجھ عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئیے۔ رسول اللہ سے منسوب ایک حدیث کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر کسی عورت کے متعلق پہلے سے پتہ ہو کہ وہ بانجھ ہے تو اس سے شادی نہ کرو۔ میرا دل ٹوٹ سا گیا۔ میں نے وہ کتاب بند کر کے وہیں واپس رکھ دی۔
میں ایک عورت ہونے کے ناطے سوچتی ہوں۔ کیا میں صرف بچے پیدا کرنے کا ایک آلہ ہوں۔ کیا میرے جذبات نہیں، خواہشات نہیں۔ کیا بانجھ عورت کو شادی کا حق نہیں جبکہ وہ جسمانی طور پہ ایک دم درست ہو؟
کیا یہ منسلکہ حدیث صحیح ہو سکتی ہے؟ آخر ہمیں کیوں تامل ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں بہت غلطیاں ہیں جن سے لوگ اس ہستی کا مذاق اڑاتے ہیں جس کے لئے آپ کو کسی کا سر تن سے جدا کرنے میں کوئ عار نہیں۔
میں کتاب کی دوکان سے واپس آئ، اور اب میرے دماغ میں آگ سے پیچھا چھڑانے والے لوگوں کی چیخوں کے ساتھ اس عورت کا غم بھی شامل ہے جو بانجھ ہے، بچے پیدا نہیں کر سکتی اور کوئ اس سے شادی بھی نہیں کر سکتا۔ گو غم اور چیخ، سانجھے ہیں لیکن کچھ انسان اپنی توہین کروا کر غمزدہ رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟






![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)