Showing posts with label عورت. Show all posts
Showing posts with label عورت. Show all posts

Monday, September 17, 2012

توہین کا غم

جہاں تین سو لوگ ایک دن میں جل کر مرجائیں اور کوئ سنوائ نہ ہو کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ مزدوروں کے حق میں کوئ تحریک نہ چلے۔ محنت کشوں کے لئے موجود ہمارے پالیسی سازوں کے اونچے اونچے محلوں پہ پتھر مارنے کے لئے ایک ہاتھ حرکت میں نہ آئے۔  جہاں ایک فلم  بننے کے ایک سال بعد اااس وقت اس پہ احتجاج شروع ہو جس وقت اسکا عربی ورژن ریلیز ہو۔ یہی نہیں بلکہ لوگ  سوشل میڈیا پہ یہ پیغام شیئر کر رہے ہوں کہ توہین پیغمبر کی سزا ، بس سر سے تن جدا، بس سر سے تن جدا، بس سر سے تن جدا۔ جہاں اس بات پہ خوشی منائ جارہی ہو کہ کراچی میں سفارت خانے پہ حملے میں ضائع ہونے والی جان، دراصل بازی لے جانے والے شخص کی ہے۔
ایسے زمانے میں چھٹی کا دن اور اس سے منسلکہ تفریح اسکے علاوہ کیا رہ جاتی ہے کہ آپ گھر میں سوئیں اور سوتے ہی رہیں۔ مر جائیں مرنے سے پہلے۔
لیکن اس اتوار میں نے یہ نہیں کیا۔ میں کسی بھی اتوار کو یہ کرنا پسند نہیں  کرتی۔ جب سے مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ زندگی انسان کی وہ سب سے قیمتی شے ہے جو اسے دوبارہ نہیں ملے گی۔ صرف ایک بارملے گی۔ اس احساس کے بعد سونا کافی مشکل لگتا ہے۔ ذرا سوچیں اس ایک زندگی میں وہ کیا دلچسپ کام ہیں جو ہم کر سکتے ہیں۔ جن سے کسی کو کوئ نقصان نہیں۔ جن سے کسی کی توہین نہیں ہوتی، جن سے دل تشکر کے احساس سے بھر جاتا ہے کہ خدا نے ہمیں زندگی جیسی نعمت سے نوازا۔ 
میں  کتابوں کی ایک دوکان پہ چلی گئ۔ یہاں نئ کتابیں کم اور پرانی زیادہ ہوتی ہیں۔ کتنی پرانی؟ اسکا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ایک صاحب نے بتایا کہ وہ علامہ راشد الخیری کے ایک رشتے دار کے ہمراہ اس دوکان پہ موجود تھے۔ وہاں انیس سو تیس میں چھپنے والی انکی سوانح عمری مل گئ۔ جس میں ان صاحب کے دادا کے بچپن کی تصویریں بھی شامل تھیں۔
کتابیں چھانتے ہوئے، ایک کتاب نظر آئ جس پہ مصنف کا نام لکھا تھا، مرزا غلام احمد۔ میں نے سوچا یہ تو کچھ سنا سنا سا نام لگتا ہے۔ ہاتھ میں اٹھا کر دیکھا تو یاد آیا کہ فیس بک پہ روزانہ ہی ان کے دین سے ہشیار کروایا جاتا ہے۔ اور میں انہی کا نام بھول گئ۔ مجھے یقین ہے کہ میں آخری عمر میں الزائمر کا شکار ہونگی۔ اسے اٹھا کر رکھ دیا۔ اپنے مذہب کی تفصیلات یاد نہیں رہتیں، انہیں پڑھ کر کیا کرونگی جبکہ دنیا میں ہر روز کے حساب سے دلچسپ باتیں علم میں آتی ہیں۔
اسی ڈھیر میں  میں ایک اور کتاب مرزا بشیر احمد کی تھی۔ یہ بھی ایک دم خستہ حال ہو رہی تھی۔ جسے ان کتابوں کے حوالے دینا ہوں وہ خریدے۔  یہ سوچ کر ہنسی آئ کہ  قادیانیوں کے خلاف تحریک چلانے والوں کو معلوم نہیں انکا لٹریچر، لوگوں کی لا علمی کی وجہ سے ابھی تک دوکانوں پہ موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ دوکاندار نے بھی کبھی ان کتابوں میں دلچسپی نہ لی ہوگی۔ شاید اسے معلوم ہی نہ ہوگا کہ وہ قادیانیوں کا لٹریچر رکھتا ہے۔ اور اگر معلوم ہوا بھی تو اس نے سوچا ہوگا کہ جیسے اور لوگ اپنا دینی لٹریچر خریدتے اور پڑھتے ہیں ایسے ہی کوئ قادیانی بھی خرید لے گا۔ اسے کیا، یہ اس کا کاروبار ہے۔ جیسے فیکٹری میں کام کرنے والوں کو اس علم سے کیا غرض تھی کہ اگر آگ لگی تو وہ وہاں سے زندہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہونگے یا نہیں۔  انہیں کام چاہئیے تھا اور اسکے بدلے میں پیسے۔
وہاں ایک اور کتاب موجود تھی جس میں بتایا گیا تھا کی آغا خان اسمعیلیوں کے خدا کیسے؟ میں نے ایک نظر اس پہ ڈالی۔ آغا خانی ہمارے یہاں کی امیر  ترین اقلیت ہیں۔ کوئ انکو کافر قرار دے کر مار سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا؟  اس میں بھی  آغا خانیوں کے دین پہ لعنت بھیجی گئ تھی۔ لیکن شاید ننانوے فی صد آغا خانیوں کو اردو لٹریچر پڑھنے سے کوئ شغف نہیں۔  
نئ کتابوں پہ ایک نظر ڈالتے ہوئے میری نظر ایک کتاب پہ رکی۔ یہ خوشگوار اسلامی ازدواجی تعلقات پہ تھی۔ مجھے خیال آیا کہ ایک دوست کی شادی ہونے والی ہے انہیں تحفے میں دی جا سکتی ہے۔ لیکن پہلے اسے کھول کر تو دیکھوں کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ مجھے نہیں معلوم ایسی کتابوں میں اسلام کے حوالے سے کیا لکھا ہوتا ہے۔ اسلام کس طرح ازدواجی تعلقات کو خوشگوار بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔
میں نے کتاب درمیان سے کھول لی۔ کس قسم کی عورت سے شادی کرنی چاہئیے؟ یہ صفحہ میرے سامنے تھا۔ احادیث اور قرآنی آیات کے حوالے موجود۔  مصنف نے جو کوئ مولانا تھے حدیث سے ثابت کیا کہ ویسے تو رسول اللہ نے دیندار عورت کو ترجیح دینے کو کہا ہے لیکن عورت کا خوب صورت ہونا ضروری ہے اگر عورت خوب صورت نہ ہو تو شوہر کا دل دوسری عورتوں میں لگا رہے گا۔ جسے سفید رنگت اور خوب صورت آنکھوں والی عورت دنیا میں مل گئ جو اپنے شوہر کا خیال رکھتی ہو اسے گویا دنیا ہی میں حور مل گئ۔
ان کے نزدیک عورت کا کنوارہ ہونا ضروری ہے۔ بیوہ  یا طلاق یافتہ عورت کا دل اپنے پہلے شوہر کے خیال میں ڈوبا رہتا ہے اور وہ دوسرے شوہر کے حقوق خوشدلی سے پورے نہیں کر سکتی۔ بکواسو، میں نے سوچا۔ جس پیغمبر نے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک بیوہ عورت کے ساتھ اپنی نوجوانی کے پچیس سال گذارے ہوں اور جسکی صرف ایک بیوی کنواری اور باقی سب پہلے سے شادی شدہ ہوں اسکے نام پہ یہ بات کرنا جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے۔ آگے صفحے پلٹتی ہوں۔
بانجھ عورت سے شادی نہیں کرنی چاہئیے۔  رسول اللہ سے منسوب ایک حدیث کے حوالے سے بتایا گیا کہ اگر کسی عورت کے متعلق پہلے سے پتہ ہو کہ وہ بانجھ ہے تو اس سے شادی نہ کرو۔ میرا دل ٹوٹ  سا گیا۔ میں نے وہ کتاب بند کر کے وہیں واپس رکھ دی۔
میں ایک عورت ہونے کے ناطے سوچتی ہوں۔ کیا میں صرف بچے پیدا کرنے کا ایک آلہ ہوں۔ کیا میرے جذبات نہیں، خواہشات نہیں۔ کیا بانجھ عورت کو شادی کا حق نہیں جبکہ وہ جسمانی طور پہ ایک دم درست ہو؟
کیا یہ منسلکہ حدیث صحیح ہو سکتی ہے؟ آخر ہمیں کیوں تامل ہے کہ حدیثوں کے ذخیرے میں بہت غلطیاں ہیں جن سے لوگ اس ہستی کا مذاق اڑاتے ہیں جس کے لئے آپ  کو کسی کا سر تن سے جدا کرنے میں کوئ عار نہیں۔  
میں کتاب کی دوکان سے واپس آئ، اور اب میرے دماغ میں آگ سے پیچھا چھڑانے والے لوگوں کی چیخوں کے ساتھ اس عورت کا غم بھی شامل ہے جو بانجھ ہے، بچے پیدا نہیں کر سکتی اور کوئ اس سے شادی بھی نہیں کر سکتا۔ گو غم اور چیخ، سانجھے ہیں لیکن کچھ انسان اپنی توہین کروا کر غمزدہ رہنا کیوں پسند کرتے ہیں؟  

Tuesday, October 4, 2011

حال کا قال

محبت ایک معمہ ہے۔ جو سمجھ کر بھی سمجھایا نہیں جا سکتا۔ دنیا میں  کتنے ہی لوگوں نے اسکی تعریف بیان کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جب بھی کوئ انسان اس جذبے کی شدت سے گذرتا ہے وہ اسے ناکافی خیال کرتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسکا علم کسی کو نہیں کہ یہ کس ساز پہ گایا جا سکتا ہے اور کس پہ نہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ محبت اپنا اپنا تجربہ ہے مگر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جب کوئ اپنے پیارے کو یاد کرتا ہے تو باقی سب اپنے پیاروں کی یاد میں گم ہوجاتے ہیں۔ یوں کیوں ہوتا ہے کہ کسی ایک سے محبت کرتے ہیں مگر پھر خود پوچھتے ہیں کہ تجھ سے کی ہے کہ زمانے سے کی ہے محبت میں نے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک محبت میں ہیر رانجھن رانجھن کرتے خود ہی رانجھن ہو جاتی ہے اور یہی محبت انسان  میں ایسا غرور پیدا کر دیتی ہے کہ شعلہ خاک ہوجاتا ہے مگربکھرتا نہیں۔ نہ تپش ، نہ دھواں یوں جیسے کچھ ہوا نہیں۔
میں جب پندرہ سولہ سال کی تھی تو سسّی پنہوں اور سوہنی مہینوال کی عشق کی داستانوں سے بڑا متائثر تھی۔  اب بھی ہوں، اسکی وجہ مجھے یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ان داستانوں میں عورت عزم واستقلال کی تصویر نظر آتی ہے۔ میں بہادر اور پر عزم خواتین سے اُنسیت رکھتی ہوں۔
خیر، اگر ان داستانوں میں سے انتخاب کو کہیں تو میرے لئے شاید سسّی، سوہنی پہ فوقیت رکھتی ہوگی۔ اسکی وجہ شاید یہ ہوگی کہ میں نے بلوچستان کے بیکراں دہشت بھرے دشت دیکھے ہیں جہاں سوہنی، پنہوں کی تلاش میں نکلی تھی لیکن چڑھا ہوا چناب نہیں دیکھا۔ مگر یہ کہ میں سمندر کے کنارے رہتی ہوں مجھے تو دریا بھی وہی سمجھ آتا ہے جو پہاڑوں کو کاٹ کر ریزہ کر رہا ہو۔ پتھروں سے ٹکرانے کی جراءت کررہا ہو۔ 
 محبت کے ان تمام قصوں پہ جو قصہ راج کرتا ہے۔ وہ واقعہ ء معراج ہے۔ یاد نہیں آرہا کس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم آسمان تک گئے اور واپس آگئے۔ خد ا کی قسم اگر میں ہوتا تو اس بلندی سے کبھی واپس نہ آتا۔
اس کیفیت کے لئے ناصر کاظمی نے کہا کہ
بس ایک منزل ہے ابولہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے
یہی تو فرق ہے مجھ میں اس میں گذر گیا میں، ٹہر گیا وہ
محبت ایک مقام پہ نہیں رکتی اسلئے یہ کائینات اور اس میں موجود ہر ذرہ گردش میں ہے۔ واقعہ ء معراج سے متعلق صابری برادران کی ایک قوالی ہے۔ جو میری پسندیدہ ہے۔ اپنے بچپن سے لیکر آج تک اسکی پسندیدگی میں کوئ کمی نہیں آئ۔  محفل سماع کے متعلق جو بھی نظریات ہوں ان سے قطع نظر، نجانے کیوں ایسا ہوتا ہے کہ اس قوالی کو سن کر میرے روئیں بھی سنسنانے لگتے ہیں۔  خدا بہتر جانتا ہے یہ عقیدت ہے، محبت ہے، اسرار کی انتہا ہے، شاعری کی خوبی ہے یا انتہائے وصل کا تصور۔ لیکن اس  کیفیت سے گذرتے ہوئے مجھے ان لوگوں کی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے جو مست ہو کر ناچنے لگتے ہیں۔ جسے حال کہتے ہیں۔
کیفیت چشم اسکی مجھے یاد ہے سودا
ساغر کو میرے ہاتھ سے لیجیئو کہ میں چلا



Friday, June 17, 2011

زر، زمین، زن

کہتے ہیں  دنیا میں تمام جھگڑوں کا باعث تین چیزیں ہیں۔ زر، زمین اور زن۔ مجھے نہیں معلوم کہ نظریاتی اور مذہبی جھگڑے انکے درمیان کہاں فٹ ہوتے ہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ یہ مقولہ، معاشرتی جھگڑوں پہ زیادہ جچتا ہو۔ 
آپ میری اس رائے سے اختلاف کریں یا انکار، اس سے فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ جھگڑے اپنی رفتار سے جاری ہیں اور جاری رہیں گے۔ آج ایک وجہ کو ختم کریں کل کسی اور نام سے اٹھ کھڑے ہونگے۔ اس لئے عقلمند لوگ، پرانے جھگڑے نہیں نبٹاتے۔  یہ جتنے پرانے ہوں، اتنی ہی مہارت سے لٹکائے رکھے جا سکتے ہیں۔ یوں بہت سے لوگوں کی دانش اور مہارت کا سکہ جما رہتا ہے۔ اگر پرانے جھگڑے  فی الفور نبٹا دئیے جائیں۔ تو ہر نئے جھگڑے پہ نئ مہارت حاصل کرنی پڑے گی۔ اس سے ارتقاء کی رفتار بڑھ جانے کا اندیشہ ہوگا۔ جس سے نئ مخلوقات سامنے آئیں گی۔ وہ دعوی کریں گی کہ یہ  جھگڑا ہمارا ہے اور ہم اسے بہتر طور پہ حل کر سکتے ہیں۔ لیجئیے  پھر نسلی تفاخر کی جگہ بننا مشکل ہو جائے گی۔ اس طرح، معاشرے کے تارو پود بکھر جانے کا خطرہ پیدا ہو جائے۔
تارو پود کے بکھرنے  سے ، غریب، ترقی پذیر معاشروں کو سب سے زیادہ ڈر لگتا ہے۔ کیونکہ ان تاروں کے بکھرنے میں  تبدیلی کا کرنٹ بہتا ہے۔ انہیں واپس انہی بنیادوں پہ ایستادہ نہیں کیا جا سکتا۔ جس سے پرانے جھگڑے مر جاتے ہیں۔ اتنے مانوس صیاد سے ہو گئے ہیں اب رہائ ملی تو مر جائیں گے۔  اور پود کے متعلق مجھے بھی کچھ اندیشہ ہائے دراز لا حق ہیں۔ پورب جاءو یا پچھم، وہی کرم کے لچھن۔

اس سلسلے کو یہیں فل اسٹاپ لگا کر اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ زر، زمین اور زن۔
پچھلے دنوں میں نے دوتحریریں پڑھیں۔ ایک مصری  ادیب علاء الاسوانی کی کہانی اور دوسرے ایک پاکستانی ادیب محمد اقبال دیوان کی کہانی۔ ایک کے پیچھے مصر  کا پس منظر اور اسکے سیاسی، معاشی و معاشرتی حالات جھانک رہے ہیں اور دوسرے میں پاکستان اپنی انہی تلخ حقیقتوں کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن ان دو تحریروں میں ایک چیز مشترک لگتی ہے وہ مرد کا عورت سے رشتہ۔ اور یوں لگتا ہے دنیا کا  ہر انقلاب ان دونوں کے اس رشتے سے ہو کر گذرتا ہے۔ تو کیا دنیا کا ہر جھگڑا زر، زمین اور زن کے گرد گھومتا ہے۔
میری تو خواہش تھی کہ اقبال دیوان کی کہانی کو پورا ڈال دیتی ہے۔ کہ اس میں آجکا پاکستان جھلکتا ہے۔ لیکن یہ تیس صفحوں پہ مشتمل ہے۔
علاء الاسوانی کی تحریر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی مسئلہ ہے۔ اس لئے دونوں کہانیوں کے کچھ صفحات کے اسکین شدہ حصے ہی مل پائیں گے۔ آج مصری ادیب کو پڑھیں۔ مصر کی تہذیب میں ویسے ہی  بڑی سحر انگیزیاں ہیں اسکے ادیب کا سحر دیکھیں۔ یہ حصہ انکے ناول عمارت یعقوبیان کے  دوسرے باب سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ مترجم ہیں محمد عمر میمن۔  شائع ہوا ہے دنیا زاد میں۔ اب دنیا زاد والوں کو مجھے اپنے ایڈورٹائزنگ سیکشن کاحصہ سمجھنا چاہئیے۔
:)




یہ اسکین شدہ صفحات ہیں۔ بہتر طور پہ پڑھنے کے لئے تصویر پہ کلک کیجئیے۔

Tuesday, April 19, 2011

تُف ہے

خبر محض خبر نہیں ہوتی۔ ہر خبر اپنے معاشرے کی بہترین عکاس ہوتی ہے۔ جیسے آدم خور خاندان کی خبر۔ رپورٹ کہتی ہے کہ صرف دو تین لوگ نہیں بلکہ پورا خاندان مردہ انسانوں کو کھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ عرصے سے یہ فعل انکے یہاں جاری تھا۔   خاندان کے ایک بچے نے کہا کہ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد میرا باپ میرے جسم کے نازک حصوں کو مجروح کرتا تھا۔ بڑے ہو کر اسے لگا کہ اسکی مردانہ قوت کم ہے سو اس نے مردہ انسانوں کا گوشت کھانا شروع کیا۔ بہر حال  رپورٹ لکھنے والے صحافی کے خیال میں ابھی بھی یہ ایک معمہ ہے کہ وہ مردہ انسانی گوشت کیوں کھاتے تھے اور کیوں انکے ارد گرد کے لوگوں نے اتنے لمبے عرصے سے پولیس کو اسکی رپورٹ نہیں کی۔
 دوسری خبر اپنے بلاگستان سے ملی یہ لڑکیوں کے کنوارے ہونے سے متعلق ہے۔ جیسا کہ مجھے توقع تھی کہ یہاں پہ یہ ، یہ لوگ موجود ہونگے اور یہ تبصرے ہونگے۔ عین وہی ہوا۔ لیکن حیرانی مجھے وہاں موجود دو تبصروں پہ ہوئ۔
ایک عبداللہ نامی مبصر، جنہوں نے ایک دلچسپ سوال رکھا کہ خواتین کے کنوارے ہونے پہ جتنی دلچسپی دکھائ جارہی ہے اتنی مردوں کے کنوارے ہونے کے ٹیسٹ کے بارے میں کیوں نہیں ہے۔  یہ مخصوص قبائلی مزاج کا طبقہ اس بات کا جواب دینے سے قاصر ہے۔ کیونکہ بات ہے سمجھ کی یہ وہی طبقہ ہے جو مردوں کی بے راہروی پہ تو فخر فرماتا ہے اور عورت کے حیادار ہونے پہ زور ڈالتا رہتا ہے۔
تف ہے ایسی ذہنیت پہ اور اسکو پروان چڑھانے والوں پہ۔ اور اگر کوئ منصف خدا موجود ہے تو اسے ایسے لوگوں کو انکے قرار واقعی انجام کا مناسب بندو بست کر کے رکھنا چاہئیے۔
خواتین کے کنوارپن کی شادی کے وقت تصدیق ہونی چاہئیے اور مردوں کی نہیں۔ انہیں چھوٹ ہے  وہ جتنے استعمال شدہ ہوں چاہے جائز یا ناجائز طریقے سے انکا کنوارہ ہونا ضروری نہیں ہے۔ واہ، جناب واہ ، آپکی انہی اداءوں پہ درے لگانے کو دل کرتا ہے۔
دوسرا تبصرہ ایک ڈاکٹر صاحب کا ہے۔ حیرت ہے انہوں نے کس ادارے سے میڈیکل کی ڈگری لی ہے۔ میں پی ایم اے والوں سے گذارش کروں گی کہ وہ ایسے ڈاکٹرز کو جو مسیحا ہونے کے نام پہ دھبہ ہیں اور جو انسانیت تو دور اپنے علم سے ہی پوری طرح واقف نہیں انہیں اس طرح کی اہم ڈگریاں دینے سے گریز کرے۔
در حقیقت یہ بات کوئ بھی ڈاکٹر بتا سکتا ہے کہ خواتین کےکنوارے ہونے کے لئے جو خصوصیت بتائ جاتی ہے وہ جہالت پہ مبنی ہے اور بعض خواتین میں یہ محض معمولی بھاگ دوڑ سے ختم ہو سکتی ہے۔
 میرے علم میں بھی یہ بات داکٹر شیر شاہ کے ایک مضمون کے حوالے سے آئ جو نہ صرف پاکستان کے مایہ ناز گائناکولوجسٹ ہیں بلکہ دنیا کے ان بہترین سو گائناکولوجسٹس میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی کمیونٹی کی خواتین کی صحت اور ترقی کے لئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔
اگر ڈاکٹر شیر شاہ جیسے لوگوں سے دنیا واقف نہ ہوں اور صرف اس بلاگ کے لکھنے والے سے یا اس  پہ تبصرہ کرنے والے مردوں سے ملے ہوں تو انکے نزدیک پاکستان صرف ایسے مردوں پہ مشتمل ہوگا جہاں حیوان رہتے ہیں۔
پردہ ءبکارت یا اس سے منسلکہ تمام متھس، قبائلی اقوام کی خصوصیت ہیں۔ صرف یوروپ کے قبائل ہی نہیں ، عرب کے بیشتر قبائل اور پاکستان کے بھی قبائلی علاقوں میں عورت کو اس امتحان سے گذرنا پڑتا ہے۔
البتہ جیسا کہ قبائلی اقوام کی شان ہوتی ہے مردوں کو نیکی کے کسی ایسے امتحان سے نہیں گذرنا ہوتا۔ وہ خدا کے پاس ایڈوانس میں نیکیاں جمع کرا کے آئے ہوتے ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ تم کنوارے ہوں تو جواب ملے گا کہ ہماری مرضی ہم بتائیں یا نہ بتائیں۔ سوال پوچھنے والا البتہ روشن خیال کی گالی سے نوازا جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ ان تمام قبائلی علاقوں کے مرد تو ہر طرح کی عیاشی کر سکتے ہیں مگر انکی عورتیں قابل ترحم زندگی گزارتی ہیں۔ وہ اپنے پوشیدہ امراض کے متعلق کسی عورت تک کو بتانے سے گھبراتی ہیں۔ کیا یہ بات قابل ترحم نہیں کہ ایک عورت اپنے پردء بکارت کا آپریشن کرانے بیٹھی ہو تاکہ اسکی قدر و قیمت برقرار رہے چاہے اسکے حصے میں آنے والا مرد دنیا کا اوباش ترین مرد ہو۔
اگر زانی مرد کسی عورت کے حصے میں آتا ہے تو قرآن کی یہ آیت دہرا دی جاتی ہے کہ زانیوں کے لئے زانی۔ حالانکہ زندگی کا ہلکا سا تجربہ رکھنے والے لوگ بی جانتے ہیں کیسی کیسی پردے دار متقی عورتوں کے شوہر کس قدر آوارہ نکلے۔ اور کیسے کیسے متقی مرد عورت کے معاملے میں آزمائے گئے۔ کیا واقعی یہ لوگ تفیہم قرآن سے واقف ہیں؟
  میں اس بلاگ کو پڑھ کر اسکے تبصروں کو جان کر اب تک حیران ہوں کیا جہالت کی کوئ انتہا ہو سکتی ہے۔ کوئ نہیں ہو سکتی۔ نیکی کی انتہا ہو سکتی ہے مگر بدی کی نہیں۔
حضرت عمر کے پاس ایک صاحب آئے اور کہنے لگے کہ میری بیٹی کنواری نہیں ہے اسکی شادی ہونے جارہی ہے کیا میں اسکے ہونے والے شوہر کے علم میں یہ بات لے آءوں۔ آپ نے فرمایا جس بات کا پردی اللہ نے رکھا اسے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں۔ حتی کہ رسول اللہ نے اپنے آخری خطبے میں کہا کہ بچہ جسکے بستر پہ پیدا ہو گا اس کا کہلائے گا۔
صاحب بلاگ کی اس تحریر اور اسکے اعلی تبصروں کی وجہ سے اگر کسی عورت کی زندگی تباہ ہوتی ہے تو یقیناً اسکا گناہ ان سب لوگوں کے سر ہوگا۔ خدا ہمیں انفرادی دین کی اس برتری کے جذبے سے محروم رکھے جو معاشرے کو بدی کا گڑھ بنادیں۔   اللہ ہمیں لوگوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
یہ وہ دعا ہے جو اکثر اشفاق احمد مرحوم مانگا کرتے تھے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسکے سنگین تبصرہ نگاروں میں بابا اشفاق احمد کے چاہنے والے بڑی تعداد میں ہیں۔ ہائے نام نہاد عاشق، عاشق تو دور صرف انسان ہی بن جائیں تو بہت۔
اور ہاں،  اب ہمیں اس بات پہ تو قطعاً حیران نہیں ہونا چاہئیے کہ اس آدم خور گھرانے کی خبر ایک لمبے عرصے تک کیوں نہیں ہو سکی۔

Friday, April 1, 2011

شکریہ

دیکھیں لکھنے تو جا رہی تھی سلسلہ، ساحل کے ساتھ، کی اگلی قسط۔ لیکن جتنی دیر میں نئی پوسٹ کے لئے صفحہ کھلتا میں نے سوچا اردو سیارہ دیکھ لوں۔ بس وہاں سے ایک بلاگ پہ گئ۔ اور جب اسکی آخری سطروں تک پہنچی تو لگا کہ میری انگلیوں میں دوران خون اتنا تیز ہو چکا ہے کہ اب میں آج کچھ اور نہیں لکھ سکتی۔ لیجئیے یہ چند لائنیں آپ کے لئے بھی حاضر ہیں۔

جب کسی معاشرے سے عورت کو غائب کردیا جاتا ہے تو زندگی بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ آہستہ آہستہ تحلیل ہونا شروع ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں اس معاشرے کا تمدن بھی زندگی کے ساتھ ساتھ تحلیل ہوتا رہتا ہے اور آخر کار ایسی قوم دوسری قوموں کے لیے ” آفت ” بن جاتی ہے، عورت ہر معاشرے کی زندگی کی نبض ہے، جہاں عورت نہیں، وہاں معاشرہ  نہیں۔
یہ لائینز آپ نے پڑھیں۔ اسکے لکھنے والے مصنف مکی صاحب ہمارے مایہ ناز اردو بلاگر ہیں۔ انہوں نے اپنے بلاگ پہ تبصرے کا آپشن بند کر دیا ہے۔  اس لئے مجھے اپنے بلاگ پہ لکھنا پڑ رہا ہے۔ 
تو جناب مکی، آپ اس  کمزور اور خوفزدہ پاکستانی معاشرے  میں زندگی کی بچی کھچی علامتوں میں سے ایک ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔ 

Sunday, March 6, 2011

ساحل کے ساتھ-۶

صبح میکینک واپس چلا گیا۔ ہم نے طے کیا کہ آج بدھ ہے جمعے کی صبح ہم بھی نکل جائیں گے بس سے۔ گاڑی یہیں چھوڑ دیں گے۔ کم از کم گھر میں کھڑی ہے۔ یہاں ایک صاحب دیکھ بھال کے لئے موجود ہیں۔ یوں اس مسئلے کا ایک عارضی حل نکل آیا۔ تھوڑا وقت ملا تو ہم ایک دفعہ پھر پہاڑ کے اس طرف چکر لگا آئے۔ واپس آ کر کھانے کے بعد کا پلان یہ بنا کہ میں اور مشعل محلے کے ایک دو گھروں کا چکر لگا لیں۔

ایک اور خوبصورت منظر ساحل، سمندر اور افق کے پہاڑ اور ایک ڈولتی ناءو
ایک گھر سے ایک دن صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا آیا تھا۔ وہاں نہ جانا تو بد اخلاقی ہوگی۔ شام کو چار بجے ہم دونوں نکلے۔ ایک مقامی صاحب سے مدد چاہی۔ قصبہ، یونہی اٹکل پچو انداز میں بنا ہوا ہے۔ گلی وغیرہ کا تصور بالکل خام حالت میں ہے پانچ  ہزار سال پرانے موئن جو داڑو کا جو نقشہ بیان کیا جاتا ہے وہ اس سے بہتر ہوگا۔ اب بھی دوبارہ اس گھر میں جانا چاہوں تو کسی کی مدد درکار ہوگی۔
گھر میں داخل ہوئ تو بکری کے پیشاب کی بدبو نے استقبال کیا۔ چھوٹے سے گھر میں تین کمرے اور انکے آگے برآمدہ تھا۔بالکل چھوٹے سے کچے صحن میں چار پانچ بکریاں بندھی ہوئیں تھیں۔ خوشحالی کی ایک نشانی۔ یہ ایک خوشحال گھر تھا جہاں علیحدہ سے باورچی خانے موجودتھا۔
ہم میزبان کے کمرے میں داخل ہوئے جو بیک وقت خوابگاہ اور ڈرائینگ روم اور ٹی وی کے کمرے کے طور پہ بھی استعمال ہوتا ہوگا۔ بہر حال یہاں ایسے گھر بھی موجود ہیں جہاں ایک ہی کمرے میں پندرہ لوگ سوتے ہیں۔ خواتین بچے، بوڑھے، شادی شدہ، غیر شادی شدہ سب۔
تین بچیاں تیرہ چودہ سال کی عمر کی بیٹھی ہوئیں تھیں اور تین خواتین۔ میرے گھر میں داخل ہوتے ہی دو اور خواتین آگئیں۔ ایک عورت کشیدہ کاری میں مصروف تھی اور باقی سب خوش گپیوں میں انکے درمیان میں حقہ موجود تھا۔ جس سے وہ سب باری باری کش لے رہی تھیں۔ یوں حقہ محفل میں گردش میں تھا۔ ان میں سے کسی کو اردو نہیں آتی تھی۔ ان بچیوں کو آتی تھی مگر انہیں بولنے میں بہت ہچکچاہٹ تھی۔
دس منٹ بھی نہ گذرے ہونگے کہ ایک اورعورت ایک بے حد اسمارٹ برقعے میں اندر داخل ہوئ۔ یہ نازنین تھی ہماری مترجم۔ پانچ سال پہلے جب میری اس سے ملاقات ہوئ تھی تو وہ پندرہ سال کی ہوگی۔ پانچ جماعتیں پڑھنے کے بعد شادی ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔تم نے پڑھنا کیوں چھوڑ دیا۔ میں نےاس سے پوچھا۔ ابا نے کہا بس اتنا کافی ہے۔ تو تم نے ابا سے یہ کیوں نہیں کہا کہ میں آگے پڑھونگی اور الیکشن میں کھڑے ہو کر زبیدہ جلال کی طرح اسمبلی میں لیڈر بنونگی۔  تھپڑ مارے گا، ابا۔ اس نے ہتھیلی کو کھڑآ کر کے تھپڑ کی شدت بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔  بلوچی اسٹائل میں سیدھا، کھڑا جواب۔ وہ زبیدہ جلال کو سخت نا پسند کرتا ہے۔ کیوں؟ وہ کہتا ہے عورت کو یہ سب نہیں کرنا چاہئیے۔ اچھا میں خاموش ہو گئ تھی۔
آج وہی نازنین میرے سامنے موجود تھی شادی کو تین سال ہو گئے۔ بچہ نہیں ہے کوئ۔ کیسے ہوگا، میں اپنے شوہر کے پاس بہت کم رہی ہوں۔ وہ مسقط میں ہوتا ہے اسکا سارا خاندان مسقط میں ہے۔
یہ بھی دلچسپ تھا کہ باوجود اسکے کہ وہاں چھوٹی عمر کی بچیاں بھی موجود تھیں۔ انہیں کسی بھی طرح کی گفتگو کرنے میں کچھ مسئلہ نہ تھا۔ انکا یہ تصور نہ تھا کہ یہ باتیں بچوں کے سامنے کرنے کی نہیں۔ 
ہمم، مگر شادی اس نے گوادر میں کی۔ میں نے اس سے کرید کی۔  ہاں کہتا ہے رشتے دار تو سب ادھر ہے۔
گوادر، ایک لمبے عرصے تک عمان کے زیر تسلط رہا۔ انیس سو اٹھاون میں حکومت پاکستان نے بعوض تیس لاکھ امریکن ڈالر اسے عمان سے خریدا۔  اس وجہ سے یہاں کے طرز بودو باش پہ عربی ثقافت کا اثر ہے۔ اکثر لوگوں کے عزیز اقارب مسقط میں ہیں۔ اور آنا جانا رہتا ہے۔
 تمہارے شوہر نے تمہیں اب تک مسقط نہیں بلایا؟ ویزہ نہیں دے رہے وہ لوگ۔ میرے شوہر کو بڑا غصہ ہے۔ ویسے میں دو دفعہ وہاں گئ ہوں۔ دو تین مہینوں کے لئے۔  عربی ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میں نے اس سے ہمدردی کی۔ فون آتا ہے اس کا؟ ہاں دن میں کئ دفعہ۔ اس نے کئ دفعہ پہ زور دیا۔ اچھا،  میں تو سمجھتی تھی کہ بلوچی مرد بہت کم رومینٹک ہوتے ہیں۔ لو،  اس نے بلوچی میں ایک عورت کو میری بات کا ترجمہ کر کے بتایا، اور ہنسنے لگی۔ پاکستان میں جتنی قومیتیں بستی ہیں ان میں سب سے زیادہ رومینٹک بلوچی مرد ہوتے ہیں، نازنین نے دعوی کیا۔ مجھے نجانے کیوں لگا کہ یہ دعوی، شماریات کے ان نتائج کی طرح تھا جو موقع پہ ہی بنائے جاتے ہیں۔ نازنین شاید یہ کہہ رہی تھی کہ بلوچی عورت بڑی حساس ہوتی ہے۔ مگر عورتیں تو سبھی بڑی حساس ہوتی ہیں۔ جب ہی تو خداوند نے تخلیق کی ذمہ داری انہیں دی۔
اچھا، میں نے اسے مزید چھیڑا۔ تو تمہارارومینٹک شوہر تمہیں دن میں کتنی دفعہ آئ لو یو کہتا ہے؟ کوئ گنتی نہیں۔ اس نے ہاتھ اٹھا کرجھٹکا۔ اسکے ہاتھ کی جنبش میں ایک فخر تھا۔ دن میں کتنی دفعہ لکھ کر ایس ایم ایس کرتا ہےاور رات کو جب فون پہ بات کرتا ہے تو دس دفعہ کہتا ہے۔ میں ہنس رہی تھی۔ باقی لڑکیاں اور عورتیں بھی صرف آئ لو یو سمجھ کر مسکرا رہی تھیں۔ انہیں آئ لو یو سمجھ میں آرہا تھا۔
میں نے رفیق بلوچ کی بیوی کی طرف اشارہ کیا اچھا اس سے پوچھ کر بتاءو اسکا شوہر کہتا ہے اسے آئ لو یو۔  اس نے بلوچی میں اس سے پوچھا اور پھر کہنے لگی اسکا شوہر کیوں کہے گا۔ آئ لو یو۔
کیا مطلب، تمہارا شوہر کیوں کہتا ہے؟ میرا شوہر اس لئے کہتا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آئ لو یو کا کیا جواب ہے۔
سچ پوچھیں تو مجھے گفتگو اب ایک فلسفے کی طرف جاتی ہوئ لگی فلسفہ ء رومانس۔ آئ لو یو کا کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دماغ کو ٹٹولا۔
آپ بھی سوچیں۔
یہاں میں اس کہانی کو ذرا سسپنس میں رکھنے کے لئیے کچھ ادھر ادھر کی اطلاعات ڈالتی ہوں۔ مثلاً نازنین کا برقعہ۔ وہ دبلی پتلی لمبی لڑکی تھی۔ جسکے نین نقش تو تھے ہی خوب کٹیلے، لیکن ان سب پہ اس کا انداز گفتگوبھاری تھا۔ جس میں ایک بانکپن اور غرور تھا۔ ایسا غرور جو الجھنے کی دعوت دیتا ہے۔ اور جب الجھ جائیں تو مزہ آنے لگتا ہے۔ 
ہاں تو اس کا برقعہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ برقعہ، اس فیوڈل نظام میں اعلی طبقے کی خواتین کی نشانی ہے۔ یہاں جتنے اعلی خاندان سے تعلق، اتنا ہی خواتین پردے میں ہونگیں۔ اسلام سے پہلے بھی برقعہ موجود تھا مگر صرف طبقہ ء اشرافیہ یعنی دولتمند گھرانوں کی خواتین پہنتی تھیں۔ نچلے طبقے کی خواتین اسکا استعمال نہیں کرتی تھیں۔ یوں انسانوں کی خوشحالی انکی خواتین کے رہنے سہنےسے پتہ چل جاتی تھی اب بھی بیشتر اوقات خواتین سے ہی مردوں کی کمانے کی استطاعت پتہ چلتی ہے۔
خیر اسکا برقعہ بڑا اسٹائلش تھا۔
کالے رنگ کا خوبصورت فال کا کپڑا، جو جسم کی تراش کے حساب سے اوپر سے فٹنگ میں تھا اور نیچے سے گھیردار، تنگ آستینیں جن پہ فیروزی ستاروں اور ریشم کا نفیس کام کیا ہوا تھا۔ اسکے اسکارف کے ایک سرے پہ بھی وہی کام بنا ہو تھا۔ جو منہ سے لپٹنے کے بعد گردن پہ پھیل جاتا۔ اور جس میں سے اسکی قاتل سرمہ لگی ہوئ آنکھیں جھانکتی رہتیں۔
 میں نے اس سے پوچھا، کیا یہ برقعہ تم نے کراچی سے لیا ہے۔ جواب ملا نہیں مسقط سے۔ اوہ لگ رہا ہے۔ کراچی میں، میں نے کبھی اتنا خوبصورت برقعہ نہیں دیکھا۔ میں نے اسے سراہا۔
خیر ہم کہاں تھے، آئ لو یو کے جواب پہ۔ سو میں نے اس سے پوچھا کہ آئ لو یو کا کیا جواب ہوتا ہے؟ سر پہ ہاتھ رکھ کر اس نے ایک بے نیازی سے اسے جھٹکا پھر بلوچی حسینہ  مسکرائ اور ایک ادا سے منہ پھیر کر بولی۔ آئ لو یو کا جواب ہوتا ہے آئ لو یو ٹو۔
مار ڈالا۔
وہ تیرہ چودہ سالہ بچیاں دوپٹے میں منہ گھسا کر ہنسنے لگیں ان میں سے ایک نے جلدی سے حقے کی نے تھامی اور زور زور سے دو تین کش لے ڈالے۔
تمہیں تو بڑی انگریزی آتی ہے۔ میں لاجواب ہو گئ۔ تمہیں کیسے پتہ چلا کہ آئ لو یو کا جواب آئ لو یو ٹو ہوتا ہے۔ کہنے لگی، جہاں سے اردو سیکھی ہے وہیں سے اس کا جواب بھی پتہ چلا۔ یعنی انڈین  ڈراموں سے؟ ہاں وہیں سے۔ اس نے بلوچی لہجے میں ہاں پہ زور دیا۔ یہ رفیق کی بیوی بالکل ٹی وی نہیں دیکھتی، نہ اسے اردو آتی ہے اور نہ آئ لو یو کا جواب۔
زندگی کے اس لمحے تک، میں اسٹار پلس کے ڈراموں میں کبھی کوئ مثبت پہلو نہیں نکال سکی تھی۔ لیکن اس دن میں نے تسلیم کیا کہ ان ڈراموں میں ایک خوبی تو ہے اور وہ یہ کہ تمدن کی دنیا سے دور رہنے والے بھی ایک دوسرے کو آئ لو یو کہہ سکتے ہیں۔ غیرت میں عورت کے  قتل  پہ فخر کرنے والے بھی محبت کے اس ظاہری اظہار کی سمجھ رکھنے لگے ہیں اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے ساتھی کو پیار بھری کوئ بات کہنی چاہئیے۔ یہ تبدیلی کتنی غیر محسوس طریقے سے آئ ہے، کتنی آہستگی سے کہ بہت سارے لوگوں کو اسکی خبر بھی نہ ہو سکی۔ شاید آئ لو یو اور آئ لو یو ٹو کہنے والے بھی اپنی اس تبدیلی سے نا آشنا ہیں۔
۔
۔
۔
خیال آیا کہ کیا میں اپنے مرد قارئین سے صرف یہ پوچھ سکتی ہوں کہ انہوں نے اپنی قریبی خواتین کو جس میں انکی مائیں ، بہنیں، بیویاں اور بیٹیاں اور دیگر رشے دار  خواتین شامل ہیں، انکو آخری دفعہ کب کہا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں؟

جاری ہے

Friday, July 9, 2010

محافظ

مظفر گڑھ، میر والا میں دو خواتین جو کہ ماں بیٹی تھیں۔ چودہ افراد نے برہنہ کر کے سر بازار پھرایا اور پھر انکی اچھی طرح پٹائ لگائ۔ ماں کی عمر پچاس کے قریب اور بیٹی کی عمر محض چودہ سال تھی۔
یہ واقعات یا اس سے ملتے جلتے واقعات تیسری دنیا کے غریب ممالک میں پیش آتے رہتے ہیں۔
 اس قسم کا پہلا واقعہ جس نے شہرت حاصل کی ضیاء الحق کے زمانے میں نواب پور میں پیش آیا۔ پچھلے چند سالوں میں اس قسم کے واقعات کی شدت میں اضافہ ہو اہے۔ آخر خواتین کے ساتھ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس ضمن میں اگر ہم دیکھیں تو  بھارت میں بھی ایسے واقعات پیش ہوتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پہ ان ممالک میں جہاں زمینداری کا نظام قائم ہے ہے یا کچھ عرصے پہلے تک قائم تھا۔ خواتین کے ساتھ اس ہتک آمیز سلوک کی بنیادی وجہ انہیں مال مویشی کی طرح جائداد کا حصہ سمجھنا ہوتا ہے۔ جس طرح ایک زمیندار اپنی زمین کے بارے میں، اپنے مویشیوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی عورتوں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور ٹھیک اسی طرح اگر کسی زمیندار کو اسکی زمین پہ کھڑی فصل کو تباہ کر کے نقصان سے دوچار کیا جا سکتا ہے اسی طرح ایک مرد کو زیادہ بہتر طور پہ ذلت سے دوچار کرنے کے لئے انکی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی سے لیکر برہنہ پھرانے کے واقعات سمیت تک ہر چیز روا رکھنا جائز ہے بلکہ افضل ہے کہ مخالف پہ ایسی چوٹ لگتی ہے جس کے عذاب سے وہ ساری زندگی کیا کئ نسلیں نہیں نکل سکتا۔
ہمارے یہاں اسے غیرت اور عزت کے ساتھ وابستہ قرار دیا جاتا ہے اور یوں قبیلے اور خاندان کی عزت کی ضامن عورتیں ہو جاتی ہیں۔ اغوا ہونے والی عورت اگر رہائ بھی پالے تو اسکا احسن انجام موت ٹہرتا ہے کہ اسکی زندگی پورے قبیلے اور خاندان کی غیرت کی موت ہوتی ہے۔ عصمت کا تصور خالصتاً ایک عورت کے ساتھ وابستہ ہے، مرد اس سے مبرا ہیں۔ اور اس وجہ سے مرد جتنے چاہے ناجائز جنسی تعلقات رکھیں،یہ انکی امارت کی علامت یا مردانگی کی تعریف تو ہو سکتا ہے مگر اس سے خاندان کی نیک نامی پہ دھبہ نہیں آتا۔ اسکی شادی کے مسائل یا معاشرے میں با عزت زندگی گذارنے کے خواب چکنا چور نہیں ہوتے۔  اسکے اس جرم کی وجہ سے کوئ اور قبیلہ یا قوم انہیں موت کے گھاٹ اتار سکتی ہے لیکن اسکے اپنے قبیلے والے ایسا نہیں کریں گے۔ وہ جواں مرد اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہوتا ہے۔
یہ سوچ، زمینداری کے نظام سے اس لئے جنم لیتا ہے کہ ایک جسمانی طور پہ طاقتور مرد اپنی زمین سے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتا ہے۔ جسمانی طور پہ زیادہ طاقتور مرد، زیادہ خوشحالی کا باعث بنیں گے جبکہ خواتین نئے مرد بچے پیدا کر کے زیادہ خوشحال میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اس لئے ایک مثالی زمیندار نظام میں اس عورت کی آءو بھگت بھی زیادہ ہوتی ہے جو زیادہ مرد بچوں کو پیدا کر چکی ہو۔ یا کم از کم ایک وارث مرد بچہ تو رکھتی ہو۔
اگر افریقی ممالک کی طرف نظر کریں ۔ جہاں کچھ قبائل میں عورت اور مرد کی تخصیص نہیں ہے وہاں مجھے ایک افریقن ملک کیمرون کی خاتون نے بتایا کہ شادی کے لئے ہمارے یہاں اس لڑکی کو ترجیح دی جاتی ہے جسکے شادی سے پہلے بچے ہوں۔ چاہے کسی بھی مرد سے ہوں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بچے پیدا کر سکتی ہے۔ اس طرح اس سوچ سے متائثرہ نظام میں ایک ایسی عورت کی اہمیت نہیں رہتی جو بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ کسی بھی قدرتی وجہ سے۔ خیر یہ اایک الگ موضوع ہے۔
سر دست، ہمیں معاشرے کے اس اٹھان پہ غور کرنا ہے جہاں خواتین کو بھی انسان تصور کیا جائے۔ ایسا انسان جسے سر بازار، بقائمی ء ہوش و حواس، بزور قوت برہنہ گھمائے جانے پہ نفسیاتی اور روحانی تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ صرف عورت کے اوپر عزت اور غیرت کی بھاری ذمہ دریاں نہ ڈالی جائیں  جسکے نتیجے میں اسے زندگی جیسی مسحور کن نعمت سے محروم کر دیا جائے۔ زندگی کی مسرتوں پہ ہر ایک کا حق ہے۔ انسان ہونے کا احترم اور شرف ہر ایک کو حاصل ہے۔