اس اتوار کو 'ڈان' اخبار میں دو ملتے جلتے مضامین آئے۔ ملتے جلتے اس لئے کہ دونوں میں پاکستانی سیاست کے رجحانات پہ ایک جیسے حوالے سے بات کی گئ ہے۔
پہلا مضمون ھما یوسف نے لکھا ہے جو کہ ایڈیٹوریل صفحے پہ موجود ہے۔ جہاں ایک طرف انکا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم کو شدت سے ایک ہیرو کی ضروورت ہے وہاں انہوں نے بلوچستان کی مائ جوری کی مثال دیتے ہوئے انہیں پاکستانی سیاست مین تبدیلی کی نشانی قرار دیا ، انکا کہنا ہے کہ پاکستانی سیاست میں اب یہ تبدیلی آرہی ہے کہ لوگ مسائل کو لیکر چلنے والی سیاست کی طرف جا رہے ہیں۔
اس سلسلے میں مجھے اس وقت مایوسی ہوئ جب انہوں نے مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور عمران خان کی سیاست کو مسائل کو سامنے والی سیاست میں شامل کیا۔ دوسری طرف انہیں لگا کہ ایم کیو ایم نے پچھلے چند مہینوں میں یہی پالسی اپنائ ہے اور اسکا ثبوت یہ ہے کہ سندھ کے شہری علاقون سے ایم کیو ایم ملک کے دہگر حصوں کی طرف متوجہ ہوئ ہے۔
مسلم لیگ نون، جماعت اسلامی اور تحریک انصاف انکے کریڈٹ پہ عدلیہ کی جنگ ڈال دینا اور اسے ایشو بیسڈ سیاست کی طرف جانیوالا قدم قرار دینا کہاں تک صحیح ہے۔ اس طرح تو بھٹو کے دور میں اسلامی حکومت کا نفاذ اس وقت کی حزب اختلاف کا نعرہ بن گیا تھا جو جنرل ضیا الحق کی حکومت کی شکل میں منتج ہوا۔ اگر اسے معیار بنا لیا جائے تو تو پاکستان میں ہمیشہ ایشو بیسڈ سیاست ہوئ ہے یہ الگ بات کہ یہ وہ ایشوز ہوتے ہیں جو ان سیاسی جماعتوں کو وقتی طور پہ سہارا دے رہے ہوتے ہیں۔
جہاں تک ایم کیو ایم کی پالیسی تبدیلی کا تعلق ہے ایم کیو ایم اسکی کوششیں پچھلے کافی سالوں سے کر رہی ہے۔ اور وہ اس سلسلے میں مختلف مواقع پہ کام کرتے رہے ہیں یہ دراصل پچھلے چند مہینوں کا کام نہیں ہے اسی وجہ سے سے کئ سال پہلے ایم کیو ایم نے اپنا نام مہاجر قومی مومنٹ کے بجائے متحدہ قومی مومنٹ رکھ لیا تھا۔
انکی ایک بات سے ہر پاکستانی اتفاق کریگا کہ فاٹا کہ علاقے میں سیاسی لیڈران کو کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے روائتی نظام سے نکل کر قومی دھارے میں آ سکیں اور اسکے لئے وہاں تعلیم، صحت اور انفرا اسٹرکچر پہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسرا مضمون ندیم ایف پراچہ کا ہے جس میں انہوں نے پنڈی کے حلقہ پچپن کے نتائج سے اس روئیے کو اخذ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں میں، مسلم لیگ نون اور شیخ رشید کی عوامی لیگ دونوں ہی دائیں بازو کی جماعتیں ہیں۔ انکے مقابل جماعت اسلامی اور تحریک انصاف وہ جماعتیں ہیں جو امریکہ کے اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کے خلاف اور مشتبہ غیر ملکی سیکیوریٹی ایجنسیز کے افراد کی پاکستان کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے ان الیکشنز میں سیاسی وجوہات کی بناء پہ حصہ نہیں لیا۔
ان الیکشنز میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف دونوں کو شکست ہوئ۔ پراچہ صاحب کے خیال میں جماعت اسلامی اپنے طور پہ کبھی بھی دو سے تین فی صد سے زیادہ ووٹ حاصل نہیں کر سکی۔ انکی پالیسی مجموعہ ہے اسلامی راسخ العقیدہ نظریات، امریکہ کے خلاف ہونا اور طالبان کا حامی ہونا۔
انکے کہنے کے مطابق اگرچہ پاکستانی ووٹرز کے نزدیک جماعتوں کے نظریات اہمیت رکھتے ہیں لیکن یہ بات با بار مشاہدے میں آچکی ہے کہ وہ ایسے امیدوار چاہتے ہیں جو بے روزگاری، جرائم، ہنگامہ آرائ اور ملکی ترقی جیسے معاملات کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ دینا چاہتے ہیں۔
انکے خیال میں وہ جماعتیں جو اس طرف توجہ دے رہی ہیں وہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون، ایم کیو ایم اور اے این پی ہیں۔
جبکہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اس سلسلے میں ناکام رہی ہیں۔
ایک مزے کی بات جو پراچہ صاحب کہتے ہیں وہ یہ کہ ایک سیاستدانوں کی کرپشن، عدلیہ کی آزادی اور طالبان کے خلاف جاری جنگ پہ ٹی وی کے اینکر پرسن زیادہ اچھی طرح بول سکتے ہیں مگر کیا وہ ان بنیادوں پہ الیکشن جیت سکتے ہیں۔
دیکھا آپ نے دو مختلف افراد ایک ہی موضوع پہ بات کرتے ہیں مگر ایک کو جو جماعت ایک چیز کرتی نظر آرہی ہے دوسرے کو وہی جماعت وہی چیز کرتی نہیں نظر آ رہی۔
تمہی کچھ بتلاءو اسکو کیا کہتے ہیں؟
حوالہ؛
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)