Showing posts with label liyari. Show all posts
Showing posts with label liyari. Show all posts

Thursday, February 4, 2010

کراچی میں رینجرز

تازہ ترین احکامات کے مطابق کراچی میں رینجرز کو پولیس کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں۔  اس سے قبل انیس سو چھیاسی سے لیکر نوے کی دہائ تک کراچی میں رینجرز کا راج رہا۔ اور انہوں نے اس سونے کی چڑیا سے خوب کمایا۔ اس وقت کراچی کا ہر نوجوان ایم کیو ایم کا غنڈہ تھا۔ جسکے ساتھ رینجرز جو دل چاہے سلوک کرتی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت کراچی کے نوجوانوں کو یہ کرنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔ اس عرصے میں رینجرز کے اختیارات اتنے زیادہ تھے کہ وہ جسکو چاہتے پکڑ کر لیجاتے۔ اور عام لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ پولیس تو ایک دو ہزار میں مک مکا کرتی ہے۔ رینجرز کے پاس جانے کا مطلب بیس پچیس ہزار سے کم نہیں ہوتا۔ 
انہی وقتوں میں مجھے یاد ہے ایک دفعہ ڈبل سواری پہ پابندی ہٹائ گئ تو ٹی وی پہ یہ اعلان سننے کے بعد  میرا ایک انیس بیس سالہ رشتےدارلڑکا موٹر سائیکل پہ اپنے دوست کے ساتھ نکل گیا۔ رینجرز والوں نے اسکا پیچھا کیا، اور پکڑ کر بیچ روڈ پہ اتنا مارا کہ اسکی کلائ کی ہڈی ٹوٹ گئ۔ اور بیہوشی کی حالت میں وہیں پھینک کر آگے روانہ ہوگئے۔ اسکا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہوا اور تب گھر والوں کو اسکی زبانی اطلاع ملی۔
ایسا اگر مقبوضہ کشمیر میں ہوتا تو تمام پاکستانی لیڈران مذمتی بیانات جاری کرتے۔ کیونکہ وہ انکے مسلمان بھائ ہیں۔ قصور ان مسلمان بھائیوں کا یہ تھا کہ رینجرز والوں کو اس حکم کی کاپی نہیں ملی تھی۔ یہ تو ایک معمولی سا قصہ ہے۔ جانے کتنے نوجوانوں کو روندا گیا کہ اب ان جوانوں کو ہتھیار اٹھاتے کوئ افسوس نہیں ہوتا۔ اور اب اس حکم کے بعد مزید کتنوں کی باری آتی ہے۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے جیو پہ حامد میر کا پروگرام دیکھا۔ جس میں ایم کیو ایم کے حیدر رضوی، پی پی کے نبیل گبول اور اے این پی کے شاہی سید صاحب سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بات ہو رہی تھی۔ نبیل گبول صاحب نے اپنے جیالے انداز میں ایک نہایت'کارآمد' تجویز پیش کی کہ کراچی کے سب منتخب ممبرز کو اپنے علاقوں کا ذمہ لینا چاہئیے۔ اور میں لیاری اور ملیر کا ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں ایسا نہیں ہوگا۔
میرے ایک جاننے والے کو نبیل گبول صاحب کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہوئے بیس دن پہلے مار دیا گیا۔ وہ صاحب اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ دوران سفر انکے علاقے کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے مسجد سے نکلے تو چار افراد انہیں پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور شام کو ایدھی والوں کا فون آیا کہ آکر لاش پہچان لیں۔ 
پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹرز کے حلقوں کو کچھ نہیں دیا سوائے مجرمانہ سرگرمیوں کی پشت پناہی کے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دوسرے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ ہتھیار ہاتھ میں اٹھائیں۔ اور آج بھی وہ اپنی داداگیری میں مصروف ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے راول پنڈی میں مرنیوالی بے نظیر کا بدلہ کراچی کو جلا کر لیا۔ اس سارے واقعے میں کراچی والوں کا کیا قصور تھا۔ اور کیوں اس وقت پکڑے جانیوالے ملزمان چھوڑ دئیے گئے۔ اس وقت نبیل گبول یا انکی پارٹی نے اپنے علاقے کا ذمہ نہیں لیا تھا۔ یا شاید زرداری صاحب پاکستان کھپے کا نعرہ تخلیق کرنے کے مراحل میں تھے۔
 وہ لوگ جو ایم کیو ایم کے وجود پہ ناک منہ چڑاتے ہوئے اہل کراچی پہ پھٹکاریں بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں کیوں سپورٹ کرتے ہیں کیا انہیں اب بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اپنے ہاتھوں میں ہتھیار کیوں اٹھاتے ہیں۔ 
کل رات کو ساڑھے نو بجے جب میں شہر کی سڑک سے گذر رہی تھی تو اس مصروف ترین سڑک پہ پھیلے ہوئے سناٹے اور اندھیرے کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جیسے آپکے دوست ہوں آپ بھی ویسے ہی ہوجاتے ہیں یا جیسے آپکے دشمن ہوں ویسا ہی بننا پڑتا ہے۔ کیا اس شہر کے رہنے والوں کو مجبور کر کے اپنا جیسا بنانے کی سازشیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ کیا ہمیں بھی اب ہتھیار کی بالادستی کو مان لینا چاہئیے۔
میرے آگے ایک ٹھیلے پہ کینو سنبھالتا ہوا ایک مایوس پٹھان جا رہا تھا ۔ عام دنوں میں وہ شاید رات بارہ بجے تک کھڑا رہتا لیکن اس وقت ایسا ممکن نہیں تھا۔ کچھ پٹھان بھی تو مارے گئے ہیں۔ اسلحے کی سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئ نہیں بچتا۔  
کراچی میں ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ کی عدالتی تفتیش ہونی چاہئیے۔  نہ صرف یہ بلکہ عدالت کو ازخود اس بات کا نوٹس لینا چاہئیے کہ یوم عاشور پہ آگ لگانے والے لوگ کون تھے۔ جبکہ ایک بڑی تعداد عینی شایدین کی یہ کہتی ہے کہ لوٹ مار کرنیوالے لیاری سے تعلق رکھتے تھے۔ رینجرز کو یہ اختیار دینے کا مطلب ایک اور مکروہ تاریخ لکھنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

حوالہ؛

Tuesday, January 12, 2010

کیا لیاری کراچی کا حصہ ہے؟

میری اس  لڑکی سے ملاقات کو زیادہ عرصہ نہیں گذرا۔ یونہی نو دس مہینے پہلے مجھے خیال آیا کہ میں اپنے مضمون  پر اگر لوگوں کو ٹیوشن دینے لگون اور اپنی فیس  اسوقت چلنے والی فیس کے مقابلے میں آدھی رکھوں تو اس سے مجھے اور پڑھنے والے دونوں کو دلچسپی ہوگی۔ میں نے اخبار میں اشتہار دے دیا۔ اسکے نتیجے میں میرے پاس پانچ فون آئے۔ ان میں سے چار لوگوں کی خواہش تھی کہ انہیں گھر پہ پڑھایا جائے۔ جسے میں نے منع کر دیا
لیکن ایک فون مجھے لیاری سے ایک لڑکی کا آیا۔ وہ مجھ سے ملنا چاہتی تھی۔ وہ بی ایس سی کی طالبہ تھی۔ مجھے حیرانی ہوئ۔ 'مگر آپ تو میرے گھر سے خاصی دور رہتی ہیں اور ہفتے میں تین دن آنا بھی آپکے لئیے بہت مشکل ہوگا'۔  یہ سن کر اس نے مجھ سے کہا کہ کیا یہ ممکن ہے کہ میں اس سے ایکدفعہ مل کر اسے جو مشکلات پیش آرہی ہیں وہ دیکھ لوں اور انکے لئیے اسے کچھ ٹپس دیدوں۔۔ اسکی یہ لگن دیکھ کر میں نے اسے اگلے دن بلالیا۔
 وقت مقررہ پہ وہ اپنے والد صاحب کے ساتھ آگئ۔ اس نے برقعہ پہنا ہوا تھا۔ اسکے والد صاحب اپنی عمر کی پانچویں دھائ میں تھے اور نیوی مرچنٹ کی نوکری کرتے تھے۔ وہ ہمارے ساتھ بیٹھے رہے۔ ہم دونوں جب اس ساری ڈسکشن سے فارغ ہو گئے  تو میں ان سے بات کی۔
انہیں میرے گھر پہنچنے کے لئیے دو بسیں اور ایک ٹیکسی لینی پڑی تھی اور انکے مبلغ دو  سو روپے خرچ ہوئے تھے۔ وہ سات بہنیں اور ایک بھائ تھے۔ میں نے جب ان سے انکے علاقے کے حالات جاننے چاہے تو اس سوال پہ اس آدمی کا چہرہ بالکل بجھ گیا۔ آپکو کیا بتاءووں۔ میرا ایک بیٹا ہے اور وہ جب گھر سے پڑھنے کے لئیے نکلتا ہے تو جب تک واپس نہیں آجاتا ہم پریشان رہتے ہیں۔ ہمارا پورا علاقہ غنڈوں اور بدمعاشوں کا علاقہ ہے۔ ہمارا نوجوان لوگ زیادہ تر نشہ کرتا ہے یا ہنگامہ۔ آپ کبھی ہمارا علاقہ آکر دیکھو۔ انسانوں کی رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ ابھی آپ دیکھو میری بیٹی کو پڑھنے کا اتنا شوق ہے لیکن ہمارے علاقے میں کوئ اچھا پڑھنے کی جگہ نہیں ہے یہ جہاں جاتا ہے وہاں کتنی مشکل سے جاتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں  کیا ہم اسی طرح جانوروں کی طرح زندگی گذارتا رہیگا۔
اب آپ اردو اسپیکنگ والوں کی پارٹی ہے۔ لوگ کہتا ہے وہ بدمعاشی کرتا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں وہ اپنے شہر اور اپنے لوگوں کی بھلائ کے لئیے کچھ تو کرتا ہے۔ ہمارے علاقے سے ہر دفعہ ایک پارٹی آتی ہے مگر آپ وہاں جا کر دیکھیں۔ ہمارا بچہ لوگ کیا کرتا ہے۔ ہم لوگوں کا کیا بنے گا۔ یہ حکومت جب سے آیا ہے اس نے تو تھانہ بانٹ لیا ہے۔ ہمارے لیاری میں کوئ پولیس نہیں ہے صرف غنڈوں کا راج ہے۔ کوئ دن نہیں ہوتا کہ ان بدمعاشوں کی آپس میں جنگ نہ ہوتی ہو۔ ہم تو اپنے گھر کے صحن میں نہیں کھڑے ہو سکتے۔
جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ان تمام مشوروں کی فیس کیا ہوگی جو میں نے اس دوران انہیں دئیے۔ میں نے ان سے کہا کہ اسکی کوئ فیس نہیں ہے۔ میں نے بغیر کسی تیاری کے سرسری طور پہ کچھ چیزیں بتادی ہیں۔ اسکی کیا فیس ہو سکتی ہے۔ میں اگر باقاعدہ پڑھاتی تو کچھ فیس ہوتی۔ مگر وہ پھر بھی بصد اصرار کچھ پیسے میز پہ رکھ گئے۔ جب وہ نکنلے لگے تو وہ لڑکی مجھ سے کہنے لگی کہ باجی آپکا علاقہ مجھے بہت اچھا لگا۔ میں بالکل شرمندہ ہو گئ۔ معلوم نہیں کیوں۔
یونیورسٹی میں پڑھتے ہوئے جب کراچی کے کسی علاقے کے تعلیمی اوسط کا اندازہ لگانا ہوتا تو یونیورسٹی سے وہاں کے لئیے چلنے والے بسز سے لگاتے جو پوائنٹس کہلاتی تھیں۔ کراچی کے تمام علاقوں جن میں لانڈھی، کورنگی، عزیز آباد اور اورنگی ٹاءون بھی شامل ہیں انکے لئیے باقاعدگی سے پوائنٹس لگتے تھے مگر ان میں کبھی لیاری کے لئے بس نہ دیکھی۔
آج جب میں نے ایک بلاگ پہ نبیل گبول صاحب کا بیان دیکھا کہ لیاری میں کیوں آپریشن ہوتا ہے لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں کیوں نہیں ہوتا۔ تو ان سے صرف ایک سوال پوچھنے کو دل چاہا کہ پچھلےتیس پینتیس سالوں میں لیاری والوں نے شاید پیلپز پارٹی کے علاوہ کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ کیا انہوں نے سوچا کہ لیاری میں ایک بھی اچھا اسکول اور کالج نہیں جسیا کہ لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں ہیں، وہاں چھوٹے بچوں اور عورتوں میں کیوں منشیات کا استعمال زیادہ ہے۔  شہر بھر میں کیوں جوا  سب سے زیادہ وہاں کھیلا جاتا ہے۔
لیاری کے مختلف محلے وہاں کے ڈکیتوں کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ جو ایک دو نہیں کئ ہیں۔  ایسا کوئ عمل لانڈھی، کورنگی اور عزیز آباد میں نہیں ہوتا۔۔ میں ان علاقوں میں اکیلے گاڑی میں بے دھڑک گھومتی ہوں لیکن میں لیاری میں اس طرح پھرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔
پچھلے کئ سالوں میں شہر کے باقی علاقے کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ لیاری اب تک اتنا پسماندہ کیوں ہے۔ کیوں کراچی یونیورسٹی والوں کو لیاری کے لئیے کبھی ایک بس چلانے کی نوبت نہ آئ۔ کیوں یونیورسٹی میں اتنا لمبا عرصہ گذارنے کے باوجود میری کبھی ایسے طالب علم سے ملاقات نہ ہوئ جو لیاری سے تعلق رکھتا ہو۔  کیوں لیاری کراچی کا پسماندہ ترین علاقہ ہے۔کیا نبیل گبول صاحب اس بات کا جواب دیں گے۔ کیا ابو سعد کبھی اس چیز کے بارے میں لکھیں گے کہ لیاری کیوں کراچی کا حصہ نہیں لگتا۔ اور کراچی کی رونقوں کے غم میں گھلنے والے جانتے بھی ہیں کہ لیاری بھی کراچی میں واقع ہے۔