تازہ ترین احکامات کے مطابق کراچی میں رینجرز کو پولیس کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں۔ اس سے قبل انیس سو چھیاسی سے لیکر نوے کی دہائ تک کراچی میں رینجرز کا راج رہا۔ اور انہوں نے اس سونے کی چڑیا سے خوب کمایا۔ اس وقت کراچی کا ہر نوجوان ایم کیو ایم کا غنڈہ تھا۔ جسکے ساتھ رینجرز جو دل چاہے سلوک کرتی تھی۔ حقیقت یہ تھی کہ اس وقت کراچی کے نوجوانوں کو یہ کرنے کی تربیت دی جا رہی تھی۔ اس عرصے میں رینجرز کے اختیارات اتنے زیادہ تھے کہ وہ جسکو چاہتے پکڑ کر لیجاتے۔ اور عام لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ پولیس تو ایک دو ہزار میں مک مکا کرتی ہے۔ رینجرز کے پاس جانے کا مطلب بیس پچیس ہزار سے کم نہیں ہوتا۔
انہی وقتوں میں مجھے یاد ہے ایک دفعہ ڈبل سواری پہ پابندی ہٹائ گئ تو ٹی وی پہ یہ اعلان سننے کے بعد میرا ایک انیس بیس سالہ رشتےدارلڑکا موٹر سائیکل پہ اپنے دوست کے ساتھ نکل گیا۔ رینجرز والوں نے اسکا پیچھا کیا، اور پکڑ کر بیچ روڈ پہ اتنا مارا کہ اسکی کلائ کی ہڈی ٹوٹ گئ۔ اور بیہوشی کی حالت میں وہیں پھینک کر آگے روانہ ہوگئے۔ اسکا دوسرا ساتھی موقع سے فرار ہوا اور تب گھر والوں کو اسکی زبانی اطلاع ملی۔
ایسا اگر مقبوضہ کشمیر میں ہوتا تو تمام پاکستانی لیڈران مذمتی بیانات جاری کرتے۔ کیونکہ وہ انکے مسلمان بھائ ہیں۔ قصور ان مسلمان بھائیوں کا یہ تھا کہ رینجرز والوں کو اس حکم کی کاپی نہیں ملی تھی۔ یہ تو ایک معمولی سا قصہ ہے۔ جانے کتنے نوجوانوں کو روندا گیا کہ اب ان جوانوں کو ہتھیار اٹھاتے کوئ افسوس نہیں ہوتا۔ اور اب اس حکم کے بعد مزید کتنوں کی باری آتی ہے۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے میں نے جیو پہ حامد میر کا پروگرام دیکھا۔ جس میں ایم کیو ایم کے حیدر رضوی، پی پی کے نبیل گبول اور اے این پی کے شاہی سید صاحب سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بات ہو رہی تھی۔ نبیل گبول صاحب نے اپنے جیالے انداز میں ایک نہایت'کارآمد' تجویز پیش کی کہ کراچی کے سب منتخب ممبرز کو اپنے علاقوں کا ذمہ لینا چاہئیے۔ اور میں لیاری اور ملیر کا ذمہ لیتا ہوں کہ وہاں ایسا نہیں ہوگا۔
میرے ایک جاننے والے کو نبیل گبول صاحب کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہوئے بیس دن پہلے مار دیا گیا۔ وہ صاحب اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ دوران سفر انکے علاقے کی مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے مسجد سے نکلے تو چار افراد انہیں پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور شام کو ایدھی والوں کا فون آیا کہ آکر لاش پہچان لیں۔
پیپلز پارٹی نے اپنے ووٹرز کے حلقوں کو کچھ نہیں دیا سوائے مجرمانہ سرگرمیوں کی پشت پناہی کے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دوسرے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ ہتھیار ہاتھ میں اٹھائیں۔ اور آج بھی وہ اپنی داداگیری میں مصروف ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے راول پنڈی میں مرنیوالی بے نظیر کا بدلہ کراچی کو جلا کر لیا۔ اس سارے واقعے میں کراچی والوں کا کیا قصور تھا۔ اور کیوں اس وقت پکڑے جانیوالے ملزمان چھوڑ دئیے گئے۔ اس وقت نبیل گبول یا انکی پارٹی نے اپنے علاقے کا ذمہ نہیں لیا تھا۔ یا شاید زرداری صاحب پاکستان کھپے کا نعرہ تخلیق کرنے کے مراحل میں تھے۔
وہ لوگ جو ایم کیو ایم کے وجود پہ ناک منہ چڑاتے ہوئے اہل کراچی پہ پھٹکاریں بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں کیوں سپورٹ کرتے ہیں کیا انہیں اب بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ اپنے ہاتھوں میں ہتھیار کیوں اٹھاتے ہیں۔
کل رات کو ساڑھے نو بجے جب میں شہر کی سڑک سے گذر رہی تھی تو اس مصروف ترین سڑک پہ پھیلے ہوئے سناٹے اور اندھیرے کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ جیسے آپکے دوست ہوں آپ بھی ویسے ہی ہوجاتے ہیں یا جیسے آپکے دشمن ہوں ویسا ہی بننا پڑتا ہے۔ کیا اس شہر کے رہنے والوں کو مجبور کر کے اپنا جیسا بنانے کی سازشیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ کیا ہمیں بھی اب ہتھیار کی بالادستی کو مان لینا چاہئیے۔
میرے آگے ایک ٹھیلے پہ کینو سنبھالتا ہوا ایک مایوس پٹھان جا رہا تھا ۔ عام دنوں میں وہ شاید رات بارہ بجے تک کھڑا رہتا لیکن اس وقت ایسا ممکن نہیں تھا۔ کچھ پٹھان بھی تو مارے گئے ہیں۔ اسلحے کی سیاست میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئ نہیں بچتا۔
کراچی میں ہونیوالی ٹارگٹ کلنگ کی عدالتی تفتیش ہونی چاہئیے۔ نہ صرف یہ بلکہ عدالت کو ازخود اس بات کا نوٹس لینا چاہئیے کہ یوم عاشور پہ آگ لگانے والے لوگ کون تھے۔ جبکہ ایک بڑی تعداد عینی شایدین کی یہ کہتی ہے کہ لوٹ مار کرنیوالے لیاری سے تعلق رکھتے تھے۔ رینجرز کو یہ اختیار دینے کا مطلب ایک اور مکروہ تاریخ لکھنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
حوالہ؛
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)