گذشتہ سے پیوستہ
سر سید کہتے ہیں کہ جو کچھ آمدنی ہوتی تھی اس میں سے پانچ فی صد کے حساب سے میری والدہ ہمیشہ الگ رکھتی جاتی تھیں۔ اور اس سرمایہ کو حسن انتظام کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں۔ کئ جوان لڑکیوں کا انکی امداد سے نکاح ہوا اکثر پردہ پوش عورتیں جو معاش سے تنگ ہوتیں انکی ہمیشہ خبر گیری کرتیں۔ غریب خاندانوں کی جوان لڑکیاں جو بیوہ ہو جاتیں انکو دوسرا نکاح کرنے کی نصیحت کرتیں۔ دوسرے نکاح کو برا سمجھنے والوں سے نفرت کرتیں۔ غریب رشتے داروں کے یہاں جاتیں اور خفیہ حیلے بہانے سے انکی مدد کرتیں۔ بعض رشتے دار مردوں نے ایسی عورتوں سے شادی کر لی تھی جن سے ملنا معیوب سمجھا جاتا مگر وہ برابر انکے گھر جاتیں اور انکی اولاد سے شفقت سے پیش آتیں۔
سر سید کہتے ہیں کہ جو کچھ آمدنی ہوتی تھی اس میں سے پانچ فی صد کے حساب سے میری والدہ ہمیشہ الگ رکھتی جاتی تھیں۔ اور اس سرمایہ کو حسن انتظام کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں۔ کئ جوان لڑکیوں کا انکی امداد سے نکاح ہوا اکثر پردہ پوش عورتیں جو معاش سے تنگ ہوتیں انکی ہمیشہ خبر گیری کرتیں۔ غریب خاندانوں کی جوان لڑکیاں جو بیوہ ہو جاتیں انکو دوسرا نکاح کرنے کی نصیحت کرتیں۔ دوسرے نکاح کو برا سمجھنے والوں سے نفرت کرتیں۔ غریب رشتے داروں کے یہاں جاتیں اور خفیہ حیلے بہانے سے انکی مدد کرتیں۔ بعض رشتے دار مردوں نے ایسی عورتوں سے شادی کر لی تھی جن سے ملنا معیوب سمجھا جاتا مگر وہ برابر انکے گھر جاتیں اور انکی اولاد سے شفقت سے پیش آتیں۔
انکی والدہ کو شاہ غلام علی سے عقیدت تھی اور وہ ان سے بیعت تھیں۔ لیکن انہوں نے کبھی کوئ منت یا نذر یا نیاز نہیں مانی۔ تعویذ یا گنڈے پر تاریخوں یا دنوں کی سعادت یا نحوست پر انکو مطلق یقین نہ تھا۔ لیکن اگر کوئ کرتا تو اسکو منع نہ کرتیں اور یہ کہتیں کہ اگر انکو منع کیا جائے اور اتفاق سے وہی امر پیش آجائے جسکے خوف سے وہ ایسا کرتے ہیں تو انکو یقین ہو جائے گا کہ ایسا نہ کرنے سے یہ ہوا۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو نہ ہوتا۔
سر سید کے ننہیال والے شاہ عبدالعزیز سے عقیدت رکھتے تھے۔ شاہ عبدالعزیز کے یہاں بچوں کو ایک گنڈا دیا کرتے تھے۔ جس میں ایک ہندسہ یا حرف سفید مرغ کے خون سے لکھا ہوتا۔ اور جس بچے کو دیا جاتا اسے بارہ برس تک انڈہ یا مرغی کھانے کی ممانعت ہوتی۔ سرسید کے صاحبزادوں کو بھی انکے ننہیال والوں نے یہ گنڈے پہنائے۔ اسکے باوجود جب یہ بچے انکی والدہ کے ساتھ کھانا کھاتے تو وہ کھانے میں موجود انڈہ یا مرغی بلا تامل کھلا دیتیں۔
سر سید کو بچپن میں باہر تنہا جانے کی اجازت نہ تھی اور ہر چند کے نانا کی اور انکی والدہ کی حویلی میں صرف ایک سڑک درمیان میں تھی جب کبھی وہ نانا کے یہاں جاتے تو ایک آدمی ساتھ میں جاتا۔ اس لئے بچپن میں گھر سے باہر عام صحبتوں میں بیٹھنے یا آوارہ پھرنے کا بالکل اتفاق نہ ہوا۔
سر سید کو انکی ایک خادمہ نے جیسا کہ صاحب حیثیت خاندانوں کا دستور تھا، پالا تھا اور وہ اسے ماں بی کہہ کر بلاتے تھے۔
انہیں ان سے بہت محبت تھی۔ جب وہ پانچ برس کے تھے تو انکا انتقال ہو گیا۔ انہیں اسکے مرنے کا بہت رنج ہوا۔ والدہ نے سمجھایا کہ وہ خدا کے پاس گئ ہے۔ بہت اچھے مکان میں رہتی ہے۔ بہت سے نوکر چاکر اسکی خدمت کرتے ہیں اور اسکی بڑے آرام سے گذرتی ہے تم مطلق فکر نہ کرو۔ مدت تک اسکی ہر جمعرات کو فاتحہ ہوتی۔ مرتے وقت اس نے کہا تھا کہ میرا سارا زیور سید کا ہے۔ مگر والدہ اسکو خیرات کرنا چاہتی تھی۔ ایکدن انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر تم کہو تو یہ گہنا ماں بی بی کے پاس بھیج دوں۔ میں نے کہا ہاں بھیج دو۔ والدہ نے وہ سب گہنا مختلف طرح سے خیرات کر دیا۔
سر سید کا بیان ہے کہ
میں جب دلّی میں منصف تھا تو میری والدہ کی یہ نصیحت تھی کہ جہاں تم کو ہمیشہ جانا ضرور ہے وہاں کبھی سواری پہ جایا کرو اور کبھی پیادہ پا جایا کرو۔ زمانے کا کچھ اعتبار نہیں۔ کبھی کچھ ہے اور کبھی کچھ۔ پس ایسی عادت رکھو کہ ہمیشہ اسے نبھا سکو۔
ایک دفعہ کا ذکر بتاتے ہیں کہ وہ ایک زیبن نامی بڑھیا کی خبر گیری کرتی تھیں۔ اتفاق سے وہ دونوں ایک ساتھ بیمار پڑ گئیں۔ حکیم نے افاقے کے لئے والدہ صاحبہ کے لئے ایک معجون کا نسخہ تیار کیا جو قیمتی تھا مگر مقدار میں صرف اتنا ہوا کہ ایک شخص اسے استعمال کر لے۔ انہوں نے وہ اپنی والدہ کو پہنچا دی۔ انکی والدہ کو خیال آیا کہ زیبن کو کون تیار کروا کے دے گا تو انہوں نے وہ معجون پابندی سے زیبن کو کھلا دیا۔ چند دنوں بعد جب میں نے ان سے پوچھا کہ معجون نے آپکو بہت فائدہ کیا تو ہنسیں اور کہا کہ کیا بغیر دوا کے خدا صحت نہیں دے سکتا۔ معلوم ہوا کہ دوا تو صرف زیبن نے کھائ لیکن صحت خدا نے دونوں کو دی۔
اب اس آخری واقعے کے بعد، محترم قارئین، دوا علاج کرنا مت چھوڑ دیجئیے گا۔ خدا توکلی اچھی چیز ہے مگر اونٹ کو رسی ڈالنا ضروری ہے۔ تو یہ تھا سر سید کی والدہ کا ایک اجمالی خاکہ، ایک ایسی مسلمان خاتون جو آج سے دو سو سال پہلے موجود تھیں۔ سرسید کی طبیعت اور مزاج پر اپنی والدہ کی عادات و خصائل کا خاصہ اثر تھا۔
مندرجہ بالا واقعات حالی کی حیات جاوید سے لئے گئے ہیں۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)