یہ ہماری ایک نو عمر شاعرہ ہیں انکی ایک شعری کاوش آپ پہلے بھی پڑھ چکے ہیں۔ آج دوسری پر نظر ڈالیں۔
سوچوں میں، گھبراءوں میں، کیسے بات بناءووں
اس نے بھیجا ہے سندیسہ میں ملنے کو آءووں
سیپی کے ہیں رنگ نیارے، موتی کے ہیں مول
کھڑی کنارے سوچ رہی ہوں، کیا کھوءوں کیا پاءووں
تتلی کے ہیں اجلے رنگ، جگنو میں ہے آگ
تتلی کے میں رنگ چراءووں یا برہن کہلاءووں
دریا دریا بہتی ہوں، قطرہ قطرہ رستی ہوں
رستہ رستہ بکھر رہی ہوں کاش اسے مل جاءووں
ہاتھوں میں نہ کنگن میرے، نہ پیروں میں پائل
گجرا نہیں ہے بالوں میں کیسے اسے جگاءووں
من کی آگ کون بجھائے، نیر نہ کوئ آنکھوں میں
اندر اندر سلگے جاءووں اور جوگن کہلاءووں
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)