کل رات مجھے پتہ چلا کہ گوادر میں بھی بسنت کا اہتمام پتنگ اڑا کر کیا گیا۔ اس سلسلے میں سنگھار میں واقع پی سی ہوٹل میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں سات آٹھ خاندانوں نے شرکت کی۔ اسکے علاوہ گوادری بلوچوں نے بھی اپنے میدانوں میں پتنگیں اڑائیں۔ ویسے بلوچیوں کو فٹبال کھیلنا پسند ہے۔ اور میں نے گوادر میں اکثر کھیل کے میدانوں میں اس کے لئیے لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ تو اب چشم تصور سے انہی گوادریوں کو پتنگ اڑاتے دیکھتی ہوں تو بڑا مزہ آتا ہے۔
میں ایک ناکام پتنگ باز ہوں۔ بچپن میں کئ دفعہ پتنگ اڑانے کی کوشش کی۔ لیکن ایک تو پتنگ سطح زمین سے میری بلندی سے زیادہ نہیں اٹھ پاتی تھی جسکی وجہ اسکا میرے ہاتھوں میں ہی رہنا تھا۔ دوسرا مانجھے یا ڈور کی وجہ سے میری انگلیوں کا کٹ جانا تھا۔ یہ ایسا باریک کٹاءو ہوتا ہے جو اوپر سے اتنا نظر نہیں آتا جتنی تکلیف دیتا ہے۔ ان دو وجوہات کی بناء پہ میں نے اس کھیل کو خیر باد کہہ کر کنچے اور گلی ڈنڈا کھیلنا کی کوشش کی لیکن آگے کیا ہوا۔ یہ پھر کبھی سہی۔ البتہ آخر میں جو ہوا وہ آپکے سامنے ہے۔
فروری کا مہینہ ہمارے ملک میں اگرچہ شروع تو کشمیر پر احتجاج سے ہے لیکن بسنت اور ویلینٹائنز ڈے کی وجہ سے منظر ایکدم تبدیل ہو جاتا ہےاور کچھ لوگوں کی عید ہو جاتی ہے۔ جس میں قانون بنانے والے، ،کارڈز بنانے والے، پتنگ نانے والے، کارڈز، پھول , اسٹفڈ ٹیڈی بیئر, چاکلیٹ بیچنے والے، پتنگ بیچنے والے، عشاق اور پتنگ باز سجنا کے علاوہ لکھنے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دینی فتووں کا بھی موسم آجاتا ہے۔
سچ ہے یہ رنگا رنگی اپنے وطن میں ہی نظر آسکتی۔ ایک طرف چھجو کے چوبارے پہ بو کاٹا ہو رہا ہے دوسری طرف شہر کے کسی گمنام گوشے میں کچھ بھاری بھاری ہاتھ کچھ نازک نازک ہاتھوں کو گجرے پہنا رہے ہیں اور سرگوشی کر رہے ہیں کاش میں تیرے حسیں ہاتھ کا کنگن ہوتا، کاش اے کاش میں تیرے کان کا بالا ہوتا۔ جی چاہتا ہے ان نازک نازک ہاتھوں والی گوریوں کے کان میں ایک سرگوشی اور کہوں کہ یہ بالا آخر بلا کیوں بن جاتا ہے۔ مگر نہیں ان خلوت کدوں میں یہ سرگوشیاں اچھی نہیں لگتیں۔ کچھ لوگ اس سودے میں حاصل ہونے والی کمائ گن رہے ہیں۔ اور کچھ قلم اس عوامی ہنگامے کو بدعت قرار دیکر مصروف جہاد۔
ہمارے ملک میں بسنت کی 'بدعت' پنجاب کے پیلے سرسوں سے کھلے میدانوں سے شروع ہوئ اور اسے باقی ملک کے ان لوگوں نے جنکا تذکرہ اوپر موجود فہرست میں ہے اپنے اپنے علاقوں میں رائج کرنے کی بڑی کوشش کی۔ لیکن اسے وہ پذیرائ نہیں مل سکی جتنی کہ ویلینٹائنز ڈے کو ملی۔
آج بھی کراچی میں ڈیفینس کے پوش علاقوں میں شاید کچھ پتنگیں اڑتی نظر آئں۔ لیکن سرخ گلابوں کے کارڈز ہر دوکان پہ سجے ہیں۔ پھول والوں کے درمیان دوڑ لگی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ اسٹاک جمع کر لیں۔ پھولوں کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
کچھ ذہنوں میں خیالی پلاءو پک رہے ہیں۔ کیا پہنیں گے، کیا کہیں گے اب کیا ہوگا۔ دل کو دھڑکانے اور اسے اس طرح مصروف رکھنے کے لئے ہی یہ سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ورنہ شاعر کیوں کہتا
دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
وہ تیری یاد تھی، اب یاد آیا
میں اپنی انگلیوں کو دیکھتی ہوں ان پہ مانجھے کی ڈور سے کٹنے کے نشان موجود نہیں۔ ان پہ گلاب کے پھول کے ساتھ موجود کانٹے کی چبھن کے نشان بھی نہیں، مگر پھر بھی سوچتی ہوں، یہ کیا ہوا دل بے قرار بھر آیا۔
![Validate my Atom 1.0 feed [Valid Atom 1.0]](valid-atom.png)